At-Tawba 9:58

At-Tawba · from ayah 58

9:58

وَمِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ ۚ— فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ ۟وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّلۡمِزُكَ فِى الصَّدَقٰتِ‌ ۚ فَاِنۡ اُعۡطُوۡا مِنۡهَا رَضُوۡا وَاِنۡ لَّمۡ يُعۡطَوۡا مِنۡهَاۤ اِذَا هُمۡ يَسۡخَطُوۡنَ‏

اور ان میں سے بعض اسے بھی ہیں کہ (تقسیم) صدقات میں تم پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ اگر ان کو اس میں سے (خاطر خواہ) مل جائے تو خوش رہیں اور اگر (اس قدر) نہ ملے تو جھٹ خفا ہو جائیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And among them are some who criticize you concerning the [distribution of] charities. If they are given from them, they approve; but if they are not given from them, at once they become angry.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 7 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:58

اے نبیؐ، ان میں سے بعض لوگ صدقات کی تقسیم میں تم پر اعتراضات کرتے ہیں اگر اس مال میں سے انہیں کچھ دے دیا جائے تو خو ش ہو جائیں، اور نہ دیا جائے تو بگڑنے لگتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان میں سے بعض اسے بھی ہیں کہ (تقسیم) صدقات میں تم پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ اگر ان کو اس میں سے (خاطر خواہ) مل جائے تو خوش رہیں اور اگر (اس قدر) نہ ملے تو جھٹ خفا ہو جائیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان میں وه بھی ہیں جو خیراتی مال کی تقسیم کے بارے میں آپ پر عیب رکھتے ہیں، اگر انہیں اس میں سے مل جائے تو خوش ہیں اور اگر اس میں سے نہ ملا تو فوراً بگڑ کھڑے ہوئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور انہی (منافقین) میں وہ بھی ہیں جو صدقات (کی تقسیم) کے بارے میں آپ کو طعنہ دیتے ہیں۔ چنانچہ اگر انہیں صدقات میں سے (ان کی مرضی کے مطابق) دے دیا جائے تو راضی ہوجاتے ہیں، اور اگر ان میں سے انہیں نہ دیا جائے تو ذرا سی دیر میں ناراض ہوجاتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان میں کوئی وہ ہے کہ صدقے بانٹنے میں تم پر طعن کرتا ہے تو اگر ان میں سے کچھ ملے تو راضی ہوجائیں اور نہ ملے تو جبھی وہ ناراض ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان ہی میں سے بعض ایسے ہیں جو صدقات (کی تقسیم) میں آپ پر طعنہ زنی کرتے ہیں، پھر اگر انہیں ان (صدقات) میں سے کچھ دے دیا جائے تو وہ راضی ہو جائیں اور اگر انہیں اس میں سے کچھ نہ دیا جائے تو وہ فوراً خفا ہو جاتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو تجھ پر صدقات کے بارے میں طعن کرتے ہیں، پھر اگر انھیں ان میں سے دے دیا جائے تو خوش ہوجاتے ہیں اور اگر انھیں ان میں سے نہ دیا جائے تو اسی وقت وہ ناراض ہوجاتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ان میں کوئی ایسا ہے جو صدقات (کی تقسیم) میں آپ پر الزام لگاتا ہے۔ اگر انہیں کچھ مل جائے تو خوش ہوجاتے ہیں اور اگر نہ ملے تو فوراً ناراض ہوجاتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان میں وہ بھی ہیں جو تم پر صدقات کے بارے میں عیب لگاتے ہیں۔ اگر اس میں سے پاتے ہیں تو راضی رہتے ہیں اور اگر نہیں پاتے تو برہم ہوجاتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو آپ پر (اے پیغمبر !) عیب لگاتے ہیں صدقات کے بارے میں، اگر ان کو ان میں سے (ان کی مرضی کے مطابق) کچھ مال جائے تو یہ خوش ہوجاتے ہیں اور اگر نہ ملے تو یہ لوگ یکایک بگڑجاتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان میں ایسے بھی ہیں جو آپ ﷺ پر صدقات کے بارے میں طعن کرتے ہیں لیکن اگر انہیں ان میں سے مل جاتا ہے تو راضی ہوجاتے ہیں اور اگر انہیں ان میں سے نہیں ملتا تو بس ناراض ہوجاتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان میں سے وہ بھی ہیں جو آپ پر الزام لگاتے ہیں صدقات کے بارے میں تو اگر اس میں سے انہیں (خاطر خواہ) دے دیا جائے تو یہ راضی رہتے ہیں اور اگر اس میں سے انہیں (اس قدر) نہ دیا جائے تو فوراً ناراض ہوجاتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں کہ زکوٰۃ تقسیم کرنے کی وجہ سے تم پر طعنہ زنی کرتے ہیں اگر انکو اس میں سے خاطر خواہ مل جائے تو خوش رہیں اور اگر اس قدر نہ ملے تو فوراً خفا ہوجائیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Prophet), some of them find fault with you in the distribution of alms. If they are given something of it they are pleased, and if they are given nothing they are angry.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And among them there are those who find fault with you in (the distribution of) Sadaqat (alms). So, if they are given something out of it, they are quite happy, and if they are given nothing from it, they at once get annoyed.

— Muhammad Taqi Usmani

And among them there are those who find fault with you in (the distribution of) Sadaqat (alms). So, if they are given something out of it, they are quite happy, and if they are given nothing from it, they at once get annoyed.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And of them are some who accuse you concerning (the distribution of) the alms. If they are given part thereof, they are pleased, but if they are not given thereof, behold! They are enraged!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And of them is he who defameth thee in the matter of the alms. If they are given thereof they are content, and if they are not given thereof, behold! they are enraged.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And among them are some who criticize you concerning the [distribution of] charities. If they are given from them, they approve; but if they are not given from them, at once they become angry.

— Saheeh International

They blame you about the distribution of the welfare funds. They are pleased when you give them something from it, but if they receive nothing, they become angry with you.

— Muhammad Sarwar

And of them there are those who blame you with respect to the alms; so if they are given from it they are pleased, and if they are not given from it, lo! they are full of rage.

— Muhammad Habib Shakir

And of them are some who traduce thee in respect of alms. Then if they are given thereof they are pleased and if they are not given thereof, lo! they are enraged.

— Abdul Majid Daryabadi

And among them are men who slander thee in the matter of (the distribution of) the alms: if they are given part thereof, they are pleased, but if not, behold! they are indignant!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:58

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 58–59

مال ودولت کے حریص منافق بعض منافق آنحضرت ﷺ پر تہمت لگاتے کہ آپ مال زکوٰۃ صحیح تقسیم نہیں کرتے وغیرہ۔ اور اس سے ان کا ارادہ سوائے اپنے نفع کے حصول کے اور کچھ نہ تھا انہیں کچھ مل جائے تو راضی راضی ہیں۔ اگر اتفاق سے یہ رہ جائیں تو بس ان کے نتھنے پھولے جاتے ہیں۔ حضور ﷺ نے مال زکوٰۃ جب ادھر ادھر تقسیم کردیا تو انصار میں سے کسی نے ہانک لگائی کہ یہ عدل نہیں اس پر یہ آیت اتری اور روایت میں ہے کہ ایک نو مسلم صحرائی حضور ﷺ کو سونا چاندی بانٹتے ہوئے دیکھ کر کہنے لگا کہ گر اللہ نے تجھے عدل کا حکم دیا ہے تو تو عدل نہیں کرتا۔ آپ نے فرمایا تو تباہ ہو اگر میں بھی عادل نہیں تو زمین پر اور کون عادل ہوگا ؟ پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّوْبَة 57 عرب میں یہ پہلا موقع تھا کہ ملک کے تمام ان باشندوں پر جو ایک مقرر مقدار سے زائد مال رکھتے تھے، باقاعدہ زکوٰۃ عائد کی گئی تھی اور وہ ان کی زرعی پیداوار سے ان کے مویشیوں سے ان کے اموال تجارت سے ان کے معدنیات سے اور ان کے سونے چاندی کے ذخائر سے 2-1/2 فی صدی، 5 فی صدی، 100 فی صدی کی مختلف شرحوں کے مطابق وصول کی جاتی تھی۔ یہ سب اموال زکوٰۃ ایک منظم طریقہ سے وصول کیے جاتے اور ایک مرکز پر جمع ہو کر منظم طریقہ سے خرچ کیے جاتے۔ اس طرح نبی ﷺ کے پاس ملک کے اطراف سے اتنی دولت سمٹ کر آتی اور آپ کے ہاتھوں خرچ ہوتی تھی جو عرب کے لوگوں نے کبھی اس سے پہلے کسی ایک شخص کے ہاتھوں جمع اور تقسیم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–59

معارف و مسائل سابقہ آیات میں منافقین کی بداخلاقی اور بد اعمالی کا ذکر تھا، مذکورہ تمام آیات میں بھی یہی مضمون ہے(آیت) اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا، میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ منافقین کے مال و اولاد ان کے لئے نعمت نہیں عذاب ہیں، وجہ اس کی یہ ہے کہ دنیا کی محنت میں انہماک انسان کیلئے اس دنیا ہی میں ایک عذاب و مصیبت بن جاتا ہے، اول مال دنیا کے حاصل کرنے کی تمناؤں اور پھر تدبیروں میں کیسی کیسی محنت، مشقت اور کوفت جسمانی اور روحانی اٹھانی پڑتی ہے، نہ دن کا چین نہ رات کی نیند، نہ اپنے تن بدن کی خبر، نہ اہل و عیال ہی میں دل بہلانے کی فرصت، پھر اگر ذرا سا نقصان ہوگیا یا کوئی بیماری…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 58–59

58۔ 59: غیر مال دار منافقین کا حال : اوپر کی آیات میں مالدار منافقین کا حال بیان ہوا تھا۔ اب یہ غیر مالدار منافقین کا حال بیان ہورہا ہے۔ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِي الصَّدَقٰتِ ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ يُعْطَوْا مِنْهَآ اِذَا هُمْ يَسْخَطُوْنَ۔ کہ جس طرح ان کو خوف نے مسلمانوں کے ساتھ باندھ رکھا ہے اسی طرح ان کو طمع نے باندھ رکھا ہے۔ ان کا حال یہ ہے کہ اگر تم (خطاب پیغمبر سے ہے) ان کو صدقات کی مد سے خوب دیتے رہو۔ تو یہ راضی رہتے ہیں اور اگر ذرا کمی کرو تو روٹھ کر تمہاری عیب چینی شروع کردیتے ہیں کہ دوسروں کو تو فیاضی سے دیا جارہا ہے لیکن ان کو ان کے حق سے محروم کیا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 58–59

58۔ 1 یہ ان کی ایک اور بہت بڑی کوتاہی کا بیان ہے کہ وہ نبی ﷺ کی ذات اچھی صفات کو ﷺ کو (نعوذ باللہ) صدقات و غنائم کی تقسیم میں غیر منصف باور کراتے، جس طرح ابن ذی الخویصرہ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ ﷺ ایک مرتبہ تقسیم فرما رہے تھے کہ اس نے کہا ' انصاف سے کام لیجئے ' آپ ﷺ نے فرمایا، افسوس ہے تجھ پر، اگر میں ہی انصاف نہیں کروں گا تو پھر کون کرے گا ؟ (صحیح بخاری)۔ 58۔ 2 گویا اس الزام تراشی کا مقصد محض مالی مفادات کا حصول تھا کہ اس طرح ان سے ڈرتے ہوئے انہیں زیادہ حصہ دیا جائے، یا وہ مستحق ہوں یا نہ ہوں، انہیں حصہ ضرور دیا جائے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 58–59

47: تفسیر ابن جریر میں کئی روایات اس قسم کی نقل کی گئی ہیں۔ جن میں مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے صدقات تقسیم فرمائے تو کچھ منافقین نے آپ پر اعتراض کیا کہ یہ تقسیم (معاذ اللہ) انصاف کے مطابق نہیں ہے۔ وجہ یہ تھی کہ ان منافقوں کو ان کے مطلب کے مطابق نہیں دیا گیا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان آیات میں بھی منافقین پر تبصرہ جاری ہے۔ اور ان کے اقوال اعمال اور نیات پر کلام ہے۔ ان کی نیتوں کے بارے میں انکشافات ہیں جن کو چھپانے کا انہوں نے بہت ہی احتیاط کے ساتھ اہتمام کیا تھا۔ لیکن وہ پھر بھی چھپا نہ سکے۔ کیونکہ وہ حضور کی جانب سے تقسیم صدقات کے بارے اعتراض کرتے ہیں حضور اکرم ﷺ کی عدالت پر نکتہ چینی آخر ایک مسلمان کیسے کرسکتا ہے۔ آپ تو معصوم ہیں اور خلق عظیم کے مالک ہیں۔ پھر ان میں سے بعض حضور کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ یہ شخص کانوں کا کچا ہے۔ ہر شخص کی بات سنتا ہے اور ہر شخص کو سچا سمجھتا ہے۔ حالانکہ حضور نبی اور صاحب بصیرت ہیں ، مفکر و مدبر ہیں اور ان کو حکمت کے خزانے دیے گئے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 بعض منافقین اور بعض اعراب (بدو) صدقات و غنائم کی تقسیم کے وقت دنیاوی حرص اور خود غرضی کی راہ سے حضور ﷺ کی نسبت زبان طعن کھولتے تھے کہ تقسیم میں انصاف کا پہلو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔ مگر یہ اعتراض اسی وقت تک تھا جب تک ان کی خواہش کے موافق صدقات وغیرہ میں سے حصہ نہ دیا جائے۔ اگر انہیں خوب جی بھر کر خواہش و حرص کے موافق دے دیا گیا تو خوش ہوجاتے اور کچھ اعتراض نہیں رہتا تھا گویا ہر طرح مال و دولت کو قبلہ مقصود ٹھہرا رکھا تھا۔ آگے بتلاتے ہیں کہ ایک مدعی ایمان کا مطمح نظر یہ نہیں ہونا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 58 وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّلْمِزُکَ فِی الصَّدَقٰتِ ج زکوٰۃ و صدقات کا مال رسول اللہ ﷺ خود تقسیم فرماتے تھے۔ ایک دفعہ یوں ہوا کہ مال کی تقسیم کے دوران ایک منافق نے آپ ﷺ کو ٹوک دیا : یَا مُحَمَّدُ اعْدِل اے محمد ﷺ انصاف کے ساتھ تقسیم کیجیے ! اس کی مراد یہ تھی کہ آپ ناانصافی کر رہے ہیں۔ اس پر حضور ﷺ کو غصہ آیا اور آپ ﷺ نے فرمایا : وَیْلَکَ وَمَنْ یَعْدِلُ اِذَا لَمْ اَکُنْ اَعْدِلُ۔۔ 1 تم برباد ہوجاؤ ‘ اگر میں عدل نہیں کروں گا تو اور کون کرے گا ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

62 صدقات کی تقسیم میں منافقوں کا الزام :۔ سیدنا ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ سیدنا علی نے رنگے ہوئے چمڑے میں کچھ سونا، جس سے مٹی علیحدہ نہیں کی گئی تھی۔ یمن سے رسول اللہ کی خدمت میں بھیجا۔ آپ نے اسے چار آدمیوں عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید الخیل اور علقمہ یا عامر بن طفیل کے درمیان تقسیم کردیا۔ آپ کے اصحاب میں سے کسی نے کہا : اس مال کے تو ہم ان لوگوں سے زیادہ حقدار تھے۔ آپ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا : کیا تم لوگوں کو مجھ پر اطمینان نہیں حالانکہ میں آسمان والے کا امین ہوں۔ میرے پاس صبح و شام آسمان کی خبریں آتی ہیں۔ ایک آدمی جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی، رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئی،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

106 ۔ اسی سے ظاہر ہے کہ ان کے اغراض کی بنیاد تمام تر خود غرضی پر تھی۔ (آیت) ” منھم من یلمزک فی الصدقت “۔ یعنی یہ منافقین آپ ﷺ کی شکایت کرتے ہیں کہ تقسیم میں عدل کی رعایت نہیں کرتے۔ (آیت) ” فان اعطوا منھا “۔ یعنی اگر خود انہی کو ان کی حسب مرضی و خواہش مل جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 58–59

ومنھم مَنْ یَلمِزُکَ فی الصدقات، اس آیت کے شان نزول کا واقعہ صحیح بخاری میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے اس طرح بیان ہوا ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کچھ مال لوگوں میں تقسیم فرما رہے تھے کہ بنی تمیم کا ایک شخص جس کا نام حرقوص تھا اور ذوالخویصرہ کے لقب سے مشہور تھا آپ کی خدمت میں آیا اور کہا تقسیم میں ذرا عدل و انصاف سے کام لیجئے، آپ نے فرمایا اگر میں ہی ناانصافی کروں گا تو انصاف کون کرے گا ؟ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا اگر ارشاد ہو تو میں ابھی اس شخص کی گردن ماردوں آپ نے فرمایا جانے دو اس کی نسل سے واجب القتل لوگ پیدا ہوں گے چناچہ اسی شخص کی نسل سے خارجی لوگ پیدا ہوئے، اگرچہ بعض مفسرین نے اس آیت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومنھم من یلمزک فی الصدقات اور ان (منافقوں) میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو (تقسیم) صدقات کے بارے میں آپ پر نکتہ چینی کرتے ہیں ‘ عیب لگاتے ہیں۔ لَمزَہٗاور ھَمَزَہٗاس پر طعن کیا ‘ نکتہ چینی کی۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ آپ تقسیم صدقات انصاف کے ساتھ نہیں کرتے۔ شیخین اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا ہے کہ فتح حنین کے دن قبیلۂہوازن سے چھینا ہوا مال جب رسول اللہ ﷺ نے تقسیم کیا تو سرداران عرب (میں سے بعض) کو تقسیم کے وقت ترجیح دی۔ یہ بات دیکھ کر قوم انصار میں سے ایک شخص بولا : یہ بےانصافی کی تقسیم ہے۔ یا یہ کہا کہ یہ تقسیم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے نہیں کی گئی ہے۔ حضرت ابن مسعود نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(58) اور یہ منافقین ابو الاحوص اور اس کے ساتھی ایسے ہیں کہ صدقات تقسیم کرنے میں آپ پر طعن وتشنیع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے درمیان برابری کے ساتھ کیوں نہیں تقسیم کرتے، اگر ان صدقات میں سے ان کو ان کی خواہش کے مطابق بہت زیادہ حصہ مل جاتا ہے تو پھر تقسیم پر راضی ہوجاتے ہیں اور اگر بہت زیادہ ان کو حصہ نہیں ملتا، تو پھر تقسیم پر ناراض ہوتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”ومنہم من یلمزک“۔ (الخ) حضرت امام بخاری ؒ نے حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ مالوں کو تقسیم فرما رہے تھے، اتنے میں ذو یصرہ آیا اور کہنے لگا انصاف کرو، آپ نے فرمایا تیرے لیے ہلاکت ہو، اگر میں انصاف نہ کروں گا تو پھر…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِي الصَّدَقٰتِ :”لَمَزَ (ض)“ سامنے عیب نکالنا، طعن کرنا، یہ بھی منافقین کا شیوہ تھا کہ غنائم و صدقات کی تقسیم میں وہ رسول اللہ ﷺ پر طعن کرنے اور عیب لگانے سے باز نہیں آتے تھے۔ یہ نہیں کہ صرف صدقات کی تقسیم میں طعن کرتے ہوں، بلکہ یہ ان کے لگائے ہوئے الزامات میں سے ایک تھا، چناچہ آپ غنائم یا صدقات تقسیم فرماتے تو کہتے دیکھو کیسی خویش پروری اور دوست نوازی ہو رہی ہے، انصاف نہیں ہو رہا۔ مطلب یہ کہ ہمیں کیوں نہیں ملا، ان کے ہاں انصاف کا پیمانہ بس اتنا تھا کہ انھیں مل جائے تو وہ خوش ہیں اور آپ ﷺ زبردست انصاف کرنے والے ہیں، لیکن اگر اسلام کی مصلحت کے پیش نظر یا کسی دوسرے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قولہ تعالیٰ : ومنھم من یلمزک فی الصد قت یعنی ان میں سے بعض آپ پر طعن کرتے ہیں ‘ یہ حضرت قتادہ ؓ سے مروی ہے۔ حسن نے کہا ہے : وہ آپ پر عیب لگاتے ہیں۔ حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا : وہ آپ کا امتحان لیتے ہیں اور آپ سے سوال کرتے ہیں۔ نحاس نے کہا ہے : اہل لغت کے نزدیک وہی قول ہے جو حضرت قتادہ اور حسن رحمۃ اللہ علیہما کا قول ہے۔ کہا جاتا ہے : لمزہ یلمزہ جب وہ اس کو عیب لگائے۔ اور اللمزلغت میں وہ عیب ہے کو سراً اور خفیہ طور پر لگایا جائے (1) ۔ جوہری نے کہا ہے : اللمز کا معنی عیب ہے اور اس کا اصل معنی تو آنکھ وغیرہ کے ساتھ اشارہ کرنا ہے۔ اور لمزہ یلمزہ اور یلمزہ دونوں طرح (یعنی باب ضرب یضرب اور باب نصر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 58–59

رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ انصاف فرمانے والے ہیں : 1:۔ بخاری و نسائی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ نبی کریم ﷺ کچھ تقسیم فرما رہے تھے۔ اچانک ان کے پاس ذوالخویصرہ التیمیمی آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ انصاف کیجئے آپ نے فرمایا افسوس ہے تجھ پر کون انصاف کرے گا جب میں بھی انصاف نہ کروں ؟ عمر بن خطاب نے فرمایا یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجئے اس کے بارے میں اس کی گردن مار دوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کو چھوڑ دو کیونکہ اس کے کئی ساتھی ہیں کہ تم میں سے ہر کوئی اپنی نمازوں کو اور روزوں کے مقابلہ میں حقیر جانتا ہوگا۔ لیکن وہ دین سے اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمِنْهُمْ مَّنْ [ اور ان میں وہ بھی ہیں جو ] يَّلْمِزُكَ [ نکتہ چینی کرتے ہیں آپ پر ] فِي الصَّدَقٰتِ ۚ [ صدقات (کے بارے ) میں ] فَاِنْ [ پھر اگر ] اُعْطُوْا [ عطا کیا جائے ان کو ] مِنْهَا [ ان میں سے ] رَضُوْا [ تو وہ راضی ہوں ] وَاِنْ [ اور اگر ] لَّمْ يُعْطَوْا [ عطا نہ کیا جائے ان کو ] مِنْهَآ [ ان میں سے ] اِذَا [ تو جب ہی ] هُمْ [ وہ ] يَسْخَطُوْنَ [ غصہ کرتے ہیں ] ل م ز : (ض) لمزا ۔ عیب جوئی کرنا ۔ نکتہ چینی کرنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 58 ۔ لمزۃ ۔ صفت ہے اور اس پر تائے مبالغہ ہے۔ بہت عیب جوئی کرنے والا ۔ وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ [ تباہی سے ہر ایک غیبت کرنے والے عیب جوئی کرنے والے کی ]…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

منافقین کا صدقات کے بارے میں طعن کرنا اور اللہ اور اس کے رسول کی تقسیم پر راضی نہ ہونا درمنثور (ص 250 ج 3) میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ حنین کے موقعہ پر غنیمت کے اموال تقسیم فرمائے تو میں نے ایک شخص کو یہ کہتے سنا کہ یہ تو ایسی تقسیم ہے جس کے ذریعہ اللہ کی رضا کا ارادہ نہیں کیا گیا (العیاذ باللہ) میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کا تذکرہ کیا آپ نے فرمایا کہ اللہ موسیٰ (علیہ السلام) پر رحم فرمائے انہیں اس سے زیادہ تکلیف دی گئی پھر بھی انہوں نے صبر کیا، اور آیت (وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّلْمِزُکَ فِی الصَّدَقٰتِ ) نازل ہوئی۔ جن لوگوں کے دلوں میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 58–59

تقسیم صدقات وغنائم پر بعض منافقین کا طعن اور اس کا جواب قال اللہ تعالیٰ ومنھم من یلمزک فی الصدقات۔۔۔ الی۔۔۔ انا الی اللہ راغبون (ربط) ان آیات میں تقسیم صدقات کے باے میں منافقین کے ایک طعن ک اذکر کرتے ہیں۔ جس کا منشاء صرف حرص اور طمع تھا۔ بعض منفاقین نے تقسیم صدقات کے بارے میں آپ پر ناانصافی کا الزام لگایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ لوگوں کا یہ طعن محض حرص اور طمع پر مبنی ہے کہ اگر ان لوگوں کو ان کی خواہش اور حص کے مطابق دیدیا جائے تو خوش ہوجاتے ہیں اور کوئی اعتراض نہیں کرتے اس لیے آئندہ آیات میں صدقات کے مصارف بیان فرمائیں گے تاکہ معلوم ہوجائے کہ کون صدقہ دینے کے قابل ہیں اور کون نہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

56: اس میں ان منافقین کا ذکر ہے جو آں حضرت ﷺ پر تقسیم صدقات میں انصاف نہ کرنے کا طعن دھرتے تھے۔ ایک دفعہ آپ ہوازن سے حاصل شدہ اموالِ غنیمت تقسیم فرما رہے تھے تو ایک منافق معتب بن قشیر نامی بول اٹھا کر یہ تقسیم انصاف پر مبنی نہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا :“ اگر اللہ اور اس کا رسول انصاف نہیں کرینگے تو پھر کون انصاف کرے گا ”۔ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی۔ اصل بات یہ تھی کہ یہ لوگ محض جان و مال کے ڈر اور مال غنیمت کے لالچ کی وجہ سے اسلام کا اظہار کرتے تھے۔ اگر ان کو وافر مال مل جاتا تو خوش رہتے اور اگر نہ ملتا یا کم ملتا تو ناراض ہو کر اس قسم کی باتیں بنانے لگتے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 55–59

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے منافقین کا رد فرمایا کہ وہ جہاد میں شریک ہونے سے گریز کرتے ہیں اور اس کے لیے حیلے بہانے بناتے ہیں اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ منافقین جو مال خرچ کرتے ہیں وہ اس لیے قبول نہیں ہوتا کہ ان میں توحید و رسالت کے متعلق کفر پایا جاتا ہے اور وہ نماز بھی صحیح طریقے سے ادا نہیں کرتے۔ نیز یہ کہ ان کی طرف سے خرچ بادل نخواستہ ہوتا ہے اور وہ اس معاملہ میں دل سے راضی نہیں ہوتے۔ بعض منافقین عذرلنگ پیش کرتے تھے اور اس بنا پر جہاد میں شمولیت سے رخصت چاہتے تھے کہ شوریدہ مزاج ہونے کی وجہ سے انہیں فتنے میں پڑجانے کا احتمال تھا البتہ انہوں نے مالی تعاون کی پیش کش کی جسے اللہ نے مسترد کردیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمِنْہُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِي الصَّدَقٰتِ۝ 0 ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْہَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ يُعْطَوْا مِنْہَآ اِذَا ہُمْ يَسْخَطُوْنَ۝ 58 لمز اللَّمْزُ : الاغتیاب وتتبّع المعاب . يقال : لَمَزَهُ يَلْمِزُهُ ويَلْمُزُهُ. قال تعالی: وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقاتِ [ التوبة/ 58] ، الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ [ التوبة/ 79] ، وَلا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ [ الحجرات/ 11] أي : لا تلمزوا الناس فيلمزونکم، فتکونوا في حکم من لمز نفسه، ورجل لَمَّازٌ ولُمَزَةٌ: كثير اللّمز، قال تعالی: وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] . ( ل م ز ) لمزہ ( ض ن ) لمزا کے معنی کسی کی غیبت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 55–62

ترکیب : تزھق منصوب ہے معطوف ہے یعذب پر ان مقدر ہے لویجدون شرط لولوا جواب منہم خبر مقدم ہے من یلمزک کی اذا مفاجات کے لئے ظرف زماں یہکی جگہ جواب شرط میں واقع ہے۔ ھم مبتدا ویسخطون خبر اور یہ اذا کا عامل ہے للفقراء الصدقات کی خبر والمساکین ومابعدھا اس پر معطوف اذن خبر ہے مبتداء محذوف کی ھو ویقرء بالاضافۃ والتنوین۔ تفسیر : ان کے قبائح اور دار آخرت سے محرومی کا ذکر فرما کر ان کے مال و اولاد کا انجام کار ذکر کرتا ہے کہ جس پر بیشتر دنیا داروں کو ناز و افتخار ہوتا ہے کہ اے دیکھنے والے ! تو ان کے مال و اولاد کو دیکھ کر تعجب و حیرت نہ کر۔ یہ ان کے لئے دنیا میں باعث عذاب ہوگا یا بایں معنی کہ اس کی محبت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 58–59

وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّلْمِزُکَ فِی الصَّدَقٰتِ ج فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْھَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْھَآ اِذَا ھُمْ یَسْخَطُوْنَ وَلَوْاَنَّھُمْ رَضُوْا مَآ اٰتٰـھُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ لا وَقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَرَسُوْلُہٗٓ لا اِنَّآ اِلَی اللّٰہِ رٰغِبُوْنَ ع ( التوبۃ : 58 تا 59) (ان میں سے وہ بھی ہیں جو آپ پر طعن کرتے ہیں صدقات کے بارے میں اگر انھیں دے دیا جائے ان سے تو خوش ہوجاتے ہیں اور اگر انھیں نہ دیا جائے ان سے تو برہم ہوجاتے ہیں۔ اگر وہ اس پر قانع رہتے جو ان کو اللہ اور اس کے رسول نے دیا ہے اور کہتے کہ ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 58–59

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ دنیا میں ذلیل ہونے کے باوجود مال کے بارے میں منافق کی حرص و ہوس کا حال۔ مدینہ کے منافقین چاروں طرف سے مایوس اور ہر سہارے سے بےسہارا ہونے کے باوجود دنیا کے مال میں اس قدر حریص تھے کہ جب بھی اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ کے حکم اور اس کی حکمت کے مطابق مال غنیمت تقسیم فرمایا اور اس میں منافقوں کو مخلصین کے مقابلے میں کم حصہ دیا تو وہ اللہ کے رسول کی امانت و دیانت پر یقین رکھنے کے باوجود ہرزہ سرائی پر اتر آتے اور دیانت و امانت کے پیکر رسول کریم ﷺ کو الزام دیتے کہ یہ نبی غنائم کی تقسیم میں عدل و انصاف کا خیال نہیں رکھتا۔ حالانکہ ظالم کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھتے تھے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

صدقات میں طعنہ زنی : آیت 58: وَمِنْھُمْ (اور ان میں سے بعض وہ لوگ ہیں) منافقین میں سے مَّنْ یَّلْمِزُکَ فِی الصَّدَقٰتِ (جو صدقات کے بارے میں آپ پر طعن کرتے ہیں) صدقات کی تقسیم میں آپ پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْھَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْھَآ اِذَا ھُمْ یَسْخَطُوْنَ (پس اگر ان صدقات میں سے ان کو مل جاتا ہے تو وہ راضی ہوجاتے ہیں اور اگر ان کو نہیں ملتا تو وہ ناراض ہوجاتے ہیں) اِذَا، مفاجات کیلئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان کو نہ ملے تو اچانک ناراض ہوجاتے ہیں۔ منافقین کی یہ حالت بیان کی کہ ان کی ناراضگی یا رضا مندی ذاتی ہے۔ دینی نہیں اور نہ ہی اہل اسلام کیلئے ہے۔ آپ ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

58۔” ومنھم من یلمزم فی الصدقت “ یہ آیت ذوالخویصرۃ تمیمی کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس کا نام حرقوص بن زھیر ہے۔ یہی خوارج کی بنیاد ہے۔ آیت کا شان نزول حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے اور آپ (علیہ السلام) مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے تو آپ (علیہ السلام) کے پاس ذوالخویصرہ آیا ۔ یہ بنو تمیم کا آدمی ہے کہنے لگا اے اللہ کے رسول ! آپ انصاف کریں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو برباد ہو ، میں انصاف نہ کروں گا تو کون انصاف کرے گا ، میں خسارہ والا ہوگیا ، اگر میں انصاف نہ کروں تو حضر ت عمر ؓ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں تو آپ (علیہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 58–59

58۔ 59۔ اس آیت کی شان نزول وہی قصہ ہے جس کا ذکر صحیحین میں حضرت ابوسعید خدری ؓ کی روایت سے ہے جس کا حاصل یہ ہے ایک شخص نے کہا آپ کچھ مال لوگوں کو تقسیم میں ذرا انصاف فرمائیے آپ نے فرمایا میں ہی ناانصافی کر ونگا تو پھر انصاف کون کرے گا حضرت عمر ؓ نے عرض کیا حضرت ارشاد ہو تو ابھی میں اس شخص کی گردن ماردوں آپ نے فرمایا جانے دو اس کی نسل میں سے واجب القتل لوگ پیدا ہوں گے چناچہ پھر ویسا ہی ہوا اسی قبیلہ اور اسی شخص کی نسل میں خارجی لوگ پیدا ہوئے اگرچہ بعضے مفسروں نے اور شان نزول بھی اس آیت کی بیان کی ہے مگر ان کے مطلب یہ ہے کہ دوسرے قصوں پر بھی اس آیت کا مضمون صادق آتا ہے ورنہ صحیح شان نزول کا یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 58–59

آیت 58 یعنی ان منافقین میں ایسے لوگ بھی ہیں جو صدقات کی تقسیم میں آپ کی عیب جوئی اور اس بارے میں آپ پر تنقید کرتے ہیں اور ان کی تنقید اور نکتہ چینی کسی صحیح مقصد کی خاطر اور کسی راجح رائے کی بنا پر نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد تو صرف یہ ہے کہ انہیں بھی کچھ عطا کیا جائے۔ (فان اعطوا منھا رضوا وان لم یعطوا منھآ اذاھم یسخطون) ” پس اگر اس میں سے ان کو دیا جائے تو راضی ہوجاتے ہیں اور اگر نہ دیا جائے ان کو تو جب ہی وہ ناخشو ہوجاتے ہیں۔ “ حالانکہ بندے کے لئے مناسب نہیں کہ اس کی رضا اور ناراضی، دنیاوی خواہش نفس اور کسی فاسد غرض کے تابع ہو، بلکہ مناسب یہ ہے کہ اس کی خواہشات اپنے رب کی رضا کے تابع ہوں جیسا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (ومنھم من یلزمک فی الصدقات۔ اے نبی ! ان میں سے بعض لوگ صدقات کی تقسیم میں تم پر اعتراضات کرتے ہیں) حسن کے قول کے مطابق ” یعیبک “ (آپ پر عیب لگاتے ہیں) ۔ ایک قول ہے کہ (لمز خفیہ طور پر عیب لگانے کو کہتے ہیں اور ھمز (میم کی زیر کے ساتھ) عیب لگانے کو کہتے ہیں۔ قتادہ کے قول کے مطابق ” یطعن علیک “ (آپ پر اعتراضات کرتے ہیں) ایک قول کے مطابق یہ منافقین کا ایک گروہ تھا جو یہ چاہتا تھا کہ حضور ﷺ صدقات یعنی زکوٰۃ کے مال میں سے انہیں بھی دیں جبکہ انہیں زکوٰۃ کا مال دینا جائز نہیں تھا کیونکہ وہ زکوٰۃ کے مستحقین میں شامل نہیں تھے۔ جب یہ لوگ اس طرف سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے صدقات کی تقسیم میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 57–59

119 منافقوں کی گھٹن اور ان کے باطن کی کیفیت کا ذکر : سو ان لوگوں کے باطن کی گھٹن کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ان کو کوئی پناہ گاہ مل جائے یا کوئی غار یا کہیں گھس بیٹھنے کی کوئی جگہ ہی میسر آجائے تو یہ سرپٹ اس کی طرف دوڑ پڑیں۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلامی معاشرے کے درمیان یہ لوگ کس قدر گھٹن اور تنگی کی زندگی گزارتے ہیں اور اسلام کو پھلتا پھولتا دیکھ کر ان کے دل و دماغ پر کیا گزرتی ہے اور ان کو ذہنی طور پر کس قدر کوفت و کرب میں مبتلا رہنا پڑتا ہے۔ یہ بھی قرآن حکیم کا ایک عظیم معجزہ ہے کہ اس نے ان کے باطن کی کیفیت کو اس طرح واضح و آشکارا کردیا۔ اور یہ اسی ذات اقدس و اعلیٰ کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 47–59

منافقوں کے فتنوں سے بچنے کی تدابیر تشریح : ان آیات میں پہلے تو ان منافقین کا غزوہ تبوک میں شامل نہ ہونا باعث رحمت بتایا گیا ہے کیونکہ یہ لوگ اگر ساتھ چلے جاتے تو ان کا مقصد نہ تو جہاد کرنا ہوتا اور نہ ہی یہ مخلص ہوتے، اس لیے اگر یہ چلے جاتے تو صرف غلط سلط افواہوں سے مجاہدین میں بددلی، نااتفاقی اور کمزوری ہی پیدا کرنے کا کام انہوں نے کرنا تھا اور اس طرح فوج کو کمزور کرنے کا مقصد حاصل کرتے کیونکہ اگرچہ مسلمان ہوتے تو انسان ہی ہیں بعض ان کی باتوں میں آکر گھبرا بھی سکتے تھے اور ان کو اپنے خفیہ راز لاعلمی میں بتا دیتے اس لیے اچھا ہوا یہ جہاد میں ساتھ نہ گئے۔ یہ لوگ پہلے بھی اس قسم کا فساد پھیلا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 43–59

آیات 43 تا 59 اللہ نے آپ کو معاف تو کردیا مگر آپ ﷺ نے انھیں جہاد سے رہ جانے کی اجازت ہی کیوں دی ؟ اگر آپ ایسانہ کرتے تو بھی یہ جہاد میں شامل ہونے سے تو رہے ہاں سب لوگوں پہ ان کی اصلیت کھل جاتی اور نفاق واضح ہوجاتا ۔ رشتہ قلبی کے انداز یہاں اگر چہ بات ایک مشورے کے انداز میں ارشاد ہے کہ اگر آپ اجازت نہ دیتے تو ان کے پاس بہانہ نہ ہوتا مگر نبی اکرم ﷺ کے قلب اطہر کو جو تعلق ذات باری سے تھا وہ اس قدربات بھی برداشت نہ کرپاتا ۔ لہٰذ اسوالیہ انداز میں بات ارشاد فرمانے سے پہلے فرمایا عفا اللہ عنک اللہ نے آپ کو معاف فرمادیا کوئی نارزضگی یا خفگی کی بات نہیں مگر آپ نے ایسا کیوں کیا یہ معافی گناہ کی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 یہ بھی منافقین کا شیوہ تھا کہ صدقات کی تعظیم میں وہ پیغمبر ( علیہ السلام) پر عیب لگانے سے بھی باز نہیں آتے تھے۔ حضرت الشیخ فرماتے ہیں یعنی منجملہ دوسرے اسباب طعن کے ایک سبب یہ بھی تھا نہ کہ صرف یہی ایک سبب تھا بلکہ کہی وجوہ سے طعن کرتے تھے، ( کبیر) چناچہ صدقات تقسیم فرماتے تو کہتے دیکھئے کیسی خویش پر وری ہے اور دوست نوازی ہو رہی ہے۔ مطلب یہ ہوتا کہ ہمیں کیوں نہیں ملتا۔ ) ابن کثیر ) 1 حضرت ابو دسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کچھ مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک شخص مقداد بن خویصرہ تمیمی ( حرقوص بن دمیر) آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ ! انصاف سے کام لیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اگر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:58) یلمزک۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ طعن کرتا ہے۔ وہ عیب لگاتا ہے ۔ تجھ پر (باب ضرب) لمز۔ مصدر لمزۃ۔ عیب چین۔ پیٹھ پیچے برائی کرنے والا۔ صیغہ مبالغہ۔ لماز کی بھی یہی معنی ہیں قرآن مجید میں ہے۔ ویل لکل ھمزۃ اور لمزۃ دونوں ہم معنی ہیں۔ فی الصدقت۔ صدقات کی تقسیم کے بارے میں۔ اعطوا۔ اعطی یعطی اعطاء سے ماضی مجہول کا صیغہ جمع مذکر غائب ۔ ان کو دیا گیا۔ ان کو دیا جائے۔ یسخطون۔ سخط یسخط (سمع) سخط سے مضارع جمع مذکر غائب۔ وہ ناراض ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 58–59

لغات القرآن آیت نمبر 58 تا 59 یلمز (طعنے دیتا ہے) اعطوا (دیا گیا) رضوا (خوش ہوگئے) یسخطون (وہ ناراض ہوتے ہیں) حسبنا اللہ (ہمیں اللہ کافی ہے) سیوتینا (جلد ہی ہمیں دے گا) رعبون (رغبت کرنے والے، مائل ہونے والے) تشریح : آیت نمبر 58 تا 59 ہر دور میں اللہ کے دشمنوں کا طریقفہ یہ رہا ہے کہ وہ اپنے دلی بغض و عدات اور دشمنی کا اظہار اس طرح کرتے ہیں جس سے عام لوگوں کے دلوں میں شک و شبہ پیدا ہوجائے اور جو بھی مرکزی شخصیت ہو اس پر ایسے الزامات لگا دیئے جائیں جس سے تحریک اور اس کے کام چلانے والے بدنام ہوجائیں اور آپس میں پھوٹ پڑجائے۔ نبی کریم ﷺ سے منافقفین کو ایک خاص بغض تھا اس لئے اس موقع کی تلاش میں رہتے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 58–59

گستاخ اور بےادب رسول فرقہ کا آغاز شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ حضور ﷺ کچھ مال لوگوں کو تقسیم فرماتے تھے کہ بنی تمیم کے قبیلہ میں سے ایک شخص جس کا نام حرقوص تھا اور ذو الخویصرہ کے لقب سے وہ شخص مشہور تھا۔ حضور ﷺ سے کہا :'' تقسیم میں ذرا انصاف فرمایئے ''۔ آپ نے فرمایا :'' میں ہی ناانصافی کراوں گا تو پھر انصاف کون کرے گا '' حضرت عمر ؓ نے عرض کیا :'' حضرت ارشاد ہو تو ابھی میں اس شخص کی گردن مار دوں '' آپ نے فرمایا :'' جانے دو اس کی نسل میں سے واجب القتل لوگ لوگ پیدا ہوں گے '' چناچہ ویسا ہی ہوا اور اسی قبیلہ اور اس شخص کی نسل میں خارجی لوگ پیدا ہوئے اور لڑائی میں خارجی فرقہ کے لوگ یہاں تک قتل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 55–59

[31] مطلب یہ ہے کہ کفار و منافقین کے مال و اولاد ان کے لئے نعمت نہیں عذاب ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ دنیا کی محبت میں انہماک ان کے لئے ایک مستقل عذاب اور مصیبت بن جاتا ہے کیونکہ اول تو مال و دولت جمع کرنے میں بیحد کوفت اٹھاتے ہیں پھر ذرا سا نقصان یا صدمہ پہنچ گیا تو جس قدر محبت ان چیزوں سے ہے اسی قدر غم ہوتا ہے حتیٰ کہ بعض اوقات دماغی توازن برقرار نہیں رہتا۔ پھر جب موت ان محبوب چیزوں سے جدا کرتی ہے اس وقت کے صدمے اور حسرت کا تو اندازہ مشکل ہے۔ غرض دنیا کے عاشق اور حریص کو کسی وقت بھی چین و آرام میسر نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 58–59

(ف 1) منافقین کے مصائب میں ایک بڑا عیب یہ بھی ہے کہ غلط تنقید کرتے ہیں اگر انہیں صدقات وغیرہ میں کچھ نہ ملے تو بات بات پر اعتراض ہے اور اگر کچھ مل جائے تو پھر خوش ہیں ، گویا ان کی زندگی کا مقصد محض حب نفس ہے ، غور فرمائیے ، قومی اداروں میں انجمنوں میں اور ہماری اسلامی ودینی جمیتوں کیا بالکل یہی کیفیت نہیں ؟ جہاں طعم وغرض ہو ، پردہ داری ہے بددیانتی ہے اور جہاں ایثار کرنا پڑے تنقدات کا طوار ہے اور عدل و انصاف کے نام پر قوم کے جذبات کو ابھارا جاتا ہے حالانکہ غرض محض انتقام کی آگ کو بھڑکانا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

58 اور ان میں سے بعض لوگ وہ بھی ہیں جو صدقات کی تقسیم کے بارے میں آپ پر طعن کرتے ہیں پھر اگر ان صدقات میں سے ان کو ان کی خواہش کے مطابق مل جائے تو خوش ہوجاتے ہیں اور راضی ہوجاتے ہیں اور اگر ان کے حسب منشاء ان کو نہ دیا جائے تو وہ ناراض ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 58–59

ف 3۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل منشاء ان کے اعتراض اور حرف گیری کا محض حرص دنیا اور خود غرضی ہے پس ایسے اعتراض کا باطل ہونا ظاہر ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان میں کچھ ایسے ہیں کہ مال زکوٰۃ کی غلط تقسیم کا آپ ﷺ پر عیب لگاتے ہیں : 80: مال دار منافقین کا معاملہ تو وہ تھا جو پچھلی آیت میں گزر چکا اب یہ ان منافقین کا حال ہے جو کمزور قسم کے تھے یعنی جن کے ہاں مالی ریل پیل نہیں تھی ان کو صرف اس حالت ہی نے مسلمانوں کے ساتھ باندھ رکھا تھا ان کا حال یہ تھا کہ اگر ان کو مال زکوٰۃ اور صدقات کی دوسری مددوں میں سے خوب مال مل جاتا تو خوش ہوتے اور ہاں میں ہاں ملاتے رہتے اور اگر کسی وجہ سے جتنا مال مل جانے کی ان کو امید ہوتی اتنا نہ مل سکتا تو روٹھ جاتے اور دوسرے مسلمانوں کے علاوہ خود نبی کریم ﷺ کی ذات پر بھی الزام تھوپ دیتے اور عیب چینی شروع کردیتے کہ دوسروں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 55–60

Commentary Recipients of Sadaqat Objection raised by some hypocrites against the Holy Prophet s, and the answer to that, was given in verses previous to this. It will be recalled that the hypocrites had blamed the Holy Prophet ﷺ that he (God forbid) does not observe justice while disbursing Sadaqat and gives whatever he wishes to whomsoever he chooses. In the present verse, by listing the recipients of Sadaqat categorywise, Allah Ta` ala has removed their misunderstanding and told them that He has himself determined as to who should receive Sadaqat. The Holy Prophet ﷺ only complies with the…

Read the full tafseer →