Explained with ayahs 55–57
کثرت مال و دولت عذاب بھی ہے
ان کے مال و اولاد کو للچائی ہوئی نگاہوں سے نہ دیکھ۔ ان کی دنیا کی اس ہیرا پھیری کی کوئی حقیقت نہ گن یہ ان کے حق میں کوئی بھلی چیز نہیں یہ تو ان کے لئے دنیوی سزا بھی ہے کہ نہ اس میں سے زکوٰۃ نکلے نہ اللہ کے نام خیرات ہو۔ قتادہ کہتے ہیں یہاں مطلب مقدم موخر ہے یعنی تجھے ان کے مال و اولاد اچھے نہ لگنے چاہئیں اللہ کا ارادہ اس سے انہیں اس حیات دنیا میں ہی سزا دینے کا ہے پہلا قول حضرت حسن بصری کا ہے وہی اچھا اور قوی ہے امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ اس میں یہ ایسے پھنسے رہیں گے کہ مرتے دم تک راہ ہدایت نصیب نہیں ہوگی۔ یوں ہی بتدریج پکڑ لئے جائیں گے اور انہیں پتہ…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 56
“ مدینہ کے یہ منافق زیادہ تر بلکہ تمام تر مالدار اور سن رسیدہ لوگ تھے۔ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں ان کی جو فہرست دی ہے اس میں صرف ایک نوجوان کا ذکر ملتا ہے اور غریب ان میں سے کوئی بھی نہیں۔۔ یہ لوگ مدینہ میں جائیدادیں اور پھیلے ہوئے کاروبار رکھتے تھے اور جہاندیدگی نے ان کو مصلحت پرست بنادیا تھا۔ اسلام جب مدینہ پہنچا اور آبادی کے ایک بڑے حصہ نے پورے اخلاص اور جوش ایمانی کے ساتھ اسلام قبول کرلیا، تو ان لوگوں نے اپنے آپ کو ایک عجیب مخمصہ میں مبتلا پایا۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک طرف تو خود ان کے اپنے قبیلوں کی اکثریت بلکہ ان کے بیٹوں اور بیٹیوں تک کو اس نئے دین نے ایمان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
معارف و مسائل
سابقہ آیات میں منافقین کی بداخلاقی اور بد اعمالی کا ذکر تھا، مذکورہ تمام آیات میں بھی یہی مضمون ہے(آیت) اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا، میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ منافقین کے مال و اولاد ان کے لئے نعمت نہیں عذاب ہیں، وجہ اس کی یہ ہے کہ دنیا کی محنت میں انہماک انسان کیلئے اس دنیا ہی میں ایک عذاب و مصیبت بن جاتا ہے، اول مال دنیا کے حاصل کرنے کی تمناؤں اور پھر تدبیروں میں کیسی کیسی محنت، مشقت اور کوفت جسمانی اور روحانی اٹھانی پڑتی ہے، نہ دن کا چین نہ رات کی نیند، نہ اپنے تن بدن کی خبر، نہ اہل و عیال ہی میں دل بہلانے کی فرصت، پھر اگر ذرا سا نقصان ہوگیا یا کوئی بیماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
56۔ 57: منافقین کی نفسیاتی بیماریاں : وَيَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ۔ لفظ حلف بالعموم اچھے معنوں میں نہیں آتا۔ ہم دوسرے مقام میں یہ نفسیاتی حقیقت واضح کرچکے ہیں کہ جن لوگوں کے پاس کردار کی حجت نہیں ہوتی وہ اپنے آپ کو معتبر ثابت کرنے کے لیے اکثر جھوٹی قسموں کا سہارا لیتے ہیں۔ چناچہ قرآن منافقین کے متعلق جگہ جگہ یہ واضح کیا ہے کہ یہ اپنے اخلاقی خلا کو جھوٹی قسموں سے پر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو مطمئن رکھنے کے لیے ان کو قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے کہ ہم آپ ہی لوگوں میں سے ہیں۔ ہمارے باب میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ قرآن نے فرمایا کہ َمَا هُمْ مِّنْكُمْ…
Read the full tafseer →57۔ 1 یعنی نہایت تیزی سے دوڑ کر وہ پناہ گاہوں میں چلے جائیں، اس لئے کہ تم سے ان کا جتنا کچھ بھی تعلق ہے، وہ محبت و خلوص پر نہیں، عناد، نفرت اور کراہت پر ہے۔
Read the full tafseer →46: مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے مسلمان ہونے کا جو اعلان کیا ہے، وہ مسلمانوں کے ڈر سے کیا ہے، ورنہ ان کے دل میں ایمان نہیں ہے، چنانچہ اگر ان کو کوئی ایسی پناہ گاہ مل جاتی جہاں یہ بھاگ کر چھپ سکتے تو یہ مسلمان ہونے کا اعلان کرنے کے بجائے وہاں جا چھپتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
اس قسم کے منافقین اسلامی صٖوں میں اپنے لیے مقام پیدا کر رہے تھے۔ وہ اسلامی صفوں میں اپنے اعتقادات اور اپنے ایمان کی وجہ سے نہیں گس رہے تے بلکہ وہ نفاق کے مرض میں مبتلا تے اور خوف کی وجہ سے بھی وہ مسلمانوں کے ساتھ ہاں میں ہاں ملاتے تھے۔ ان کے کچھ مفادات اور نظریات کی وجہ سے ایمان کا اظہار کیا ہے۔ لیکن اس سورت نے ان کے اندرون کو ظاہر کردیا ہے۔ اسی وجہ سے اسے " کاشفہ " اور " فاضحہ " بھی کہا جاتا کہا جاتا ہے۔ اس نے منافقین کا پردہ چاک کرکے انہیں اچھی طرح شرمندہ کردیا ہے۔
وَيَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ ۭوَمَا هُمْ مِّنْكُمْ وَلٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَّفْرَقُوْنَ : " وہ خدا کی قسم کھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
2 یعنی محض اس خوف سے کہ کفر ظاہر کریں تو کفار کا سا معاملہ ان کے ساتھ بھی ہونے لگے گا۔ قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم تو تمہاری ہی جماعت (مسلمین) میں شامل ہیں۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے اگر آج ان کو کوئی پناہ کی جگہ مل جائے یا کسی غار میں چھپ کر زندگی بسر کرسکیں یا کم ازکم ذرا سر گھسانے کی جگہ ہاتھ آجائے، غرض حکومت اسلامی کا خوف نہ رہے، تو سب دعوے چھوڑ کر بےتحاشا اسی طرف بھاگنے لگیں، چونکہ نہ اسلامی حکومت کے مقابلہ کی طاقت ہے نہ کوئی پناہ کی جگہ ملتی ہے اس لیے قسمیں کھا کھا کر جھوٹی باتیں بناتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 57 لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلاً لَّوَلَّوْا اِلَیْہِ وَہُمْ یَجْمَحُوْنَ
جیسے کوئی جانور خوف کے مارے اپنی رسی تڑا کر بھاگتا ہے ‘ اسی طرح کی کیفیت ان پر بھی طاری ہے۔ اس اضطراری کیفیت میں اگر جزیرہ نمائے عرب میں انہیں کہیں بھی کوئی پناہ گاہ مل جاتی یا کسی بھی طرح کا کوئی ٹھکانہ جان بچانے کے لیے نظر آجاتا تو وہ خوف کے مارے یہاں سے بھاگ گئے ہوتے۔
Read the full tafseer →61 یعنی جس بےچارگی اور ذلت کے عالم میں یہ اپنی زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے یہ ہیں کہ کوئی چھوٹی موٹی پناہ گاہ انہیں مل جائے جہاں وہ اسلامی حکومت کے تسلط سے آزاد رہ سکیں۔ اور اگر انہیں کوئی ایسی پناہ گاہ مل جائے خواہ یہ کتنی ہی تنگ جگہ کیوں نہ ہو یہ لوگ ایک منٹ کی تاخیر نہ کریں اور فوراً دوڑتے ہوئے وہاں چلے جائیں۔
Read the full tafseer →105 ۔ (اور اظہار اسلام کی کوئی ضرورت بھی نہ محسوس کرتے) یعنی یہ تو اظہار اسلام پر اپنے کو مجبور پا رہے ہیں جب ہی اتنی ظاہر داری بھی ہے۔ اگر انہیں کہیں پناہ گاہ مل گئی ہوتی تو یہ اتنی پروا بھی نہ کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
شان نزول : ویحلفون باللہ اِنَّھم لمنکم، مدینہ میں منافقین زیادہ تر مالدار اور سن رسیدہ تھے ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں ان کی فہرست دی ہے اس میں صرف ایک نوجوان کا ذکر ملتا ہے یہ لوگ مدینہ میں جائداد اور پھیلے ہوئے کاروبار رکھتے تھے اور جہاندیدگی نے ان کو مصلحت اندیش اور موقع پرست بنادیا تھا اسلام جب مدینہ پہنچا تو آبادی کے ایک بڑے حصہ نے پورے اخلاص اور ایمانی جوش کے ساتھ قبول کرلیا تو ان لوگوں نے اپنے آپ کو ایک عجیب مخمصہ میں مبتلا پایا، انہوں نے دیکھا کہ ایک طرف تو خود ان کے قبیلے کی اکثریت بلکہ خود ان کے بیٹوں اور بیٹیوں تک کو ایمان کے نشہ نے سرشار کردیا ہے، ان کے خلاف اگر یہ کفر و…
Read the full tafseer →یوم یجدون ملجا او مغارات او مدخلا لولوا الیہ وھم یجمعون۔ اگر ان لوگوں کو کوئی پناہ گاہ یا غاریا کوئی گھس بیٹھنے کی جگہ مل جاتی تو یہ ضرور منہ اٹھا کر ادھر تیزی سے چل دیتے۔ ملجائ یعنی کوئی حفاظت کا مقام جس میں پناہ لی جاسکتی ‘ یا کوئی قوم جس کے پاس جا کر امن مل جاتا۔ مغارات ‘ مغارۃ کی جمع ہے ‘ یعنی پہاڑی غار۔ مغارہ غور سے ماخوذ ہے ‘ یعنی چھپنے کا مقام۔ عطاء نے کہا : اس سے مراد سرنگ یا تہہ خانے ہیں۔ مُدَّخَلاً یعنی ایسا سوراخ اور گھسنے کا مقام جس کے اندر دشواری کے ساتھ داخلہ ہو جیسے گھونس کا سوراخ۔
لَوَلَّوْا اِلَیْہِ پشت پھیر کر اس طرف بھاگتے۔ وَھُمْ یَجْمَحُوْنَ سرپٹ تیزی کے ساتھ منہ اٹھائے…
Read the full tafseer →(57) ان لوگوں کو اگر کوئی پناہ کی جگہ یا پہاڑوں میں غار یا زمین میں کوئی سرنگ مل جاتی تو یہ ضرور منہ اٹھا کر ادھر چل دیتے۔
Read the full tafseer →لَوْ يَجِدُوْنَ مَلْجَاً :”مَلْجَاً“ ”لَجَِأَ یَلْجَأُ (ف، س)“ سے اسم ظرف ہے، پناہ لینے کی جگہ۔”مَغٰرٰتٍ“ ”مَغَارَۃٌ“ کی جمع ہے۔ ”غَوْرٌ“ گہری جگہ کو کہتے ہیں، پہاڑ یا زمین میں کوئی غار۔ ”مُدَّخَلًا“ ”دَخَلَ“ سے باب افتعال میں سے ظرف ہے، حروف بڑھ جانے سے معنی میں اضافہ ہوگیا، یعنی مشکل اور مشقت سے گھس جانے کی کوئی جگہ۔ مطلب یہ ہے کہ انھیں فرار کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا، ورنہ اگر انھیں بری سے بری جگہ بھی جانے کے لیے مل جائے تو رسیاں تڑاتے ہوئے اس کی طرف بھاگ جائیں، کیونکہ بری سے بری جگہیں یہی تین ہوسکتی ہیں، جن کی طرف جایا جاسکتا ہے۔ ”يَجْمَحُوْنَ“ ”جَمَحَ الْفَرَسُ“ اصل میں گھوڑے کے منہ زور…
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : لو یجدون ملجاً اسی طرح اس پر وقف ہے۔ اور لکھنے میں دو الف ہیں : پہلا ہمزہ ہے اور دوسرا تنوین کے عوض ہے۔ اور اسی طرح رایت جزا ہے۔ اور ملجا کا معنی قلعہ ہے۔ یہ حضرت قتادہ وغیرہ سے منقول ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا معنی پناہ گاہ ہے۔ اور یہ دونوں معنی برابر ہیں۔ کہا جاتا ہے : لجات الیہ لجاء وملجا اور التجات الیہ (میں نے اسی کی طرف پناہ لی) یہ دونوں ہم معنی ہیں۔ اور وہ جگہ بھی لجاو ملجا کہلاتی ہے۔ اور التجئۃ کا معنی اکراہ ‘ مجبور کرنا ہے۔ اور الجاتہ الی الشق کا معنی ہے ( میں نے اسے اس کی طرف مجبور کردیا) اور ألجات أمری الی اللہ میں نے اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویحلفون باللہ انہم لمنکم “ سے مراد ہے کہ وہ لوگ تقیۃ قسمیں کھاتے تھے (بچنے کے لئے )
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لویجدون ملجا “ میں ملجا سے مراد ہے پہاڑوں میں پناہ لینا اور غارت سے مراد ہے غاریں پہاڑوں میں اور المدخل سے مراد ہے تہہ خانہ۔
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم نے (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لویجدون ملجا اومغرت او مدخلا “ کے بارے میں فرمایا اگر وہ اپنے لئے کوئی بچ نکلنے کی جگہ پالیں کہ وہ اس کی طرف تم سے بھاگ جائیں۔ (آیت) ” لولوا الیہ “ وہ یقینا…
Read the full tafseer →لَوْ [ اگر ] يَجِدُوْنَ [ وہ لوگ پائیں ] مَلْجَاً [ کوئی پناہ گاہ ] اَوْ مَغٰرٰتٍ [ یا کچھ غار ] اَوْ مُدَّخَلًا [ یا کوئی گھسنے کی جگہ ] لَّوَلَّوْا [ تو ضرور لوٹیں گے ] اِلَيْهِ [ اس کی طرف ] وَ [ اس حال میں کہ ] هُمْ [ وہ ] يَجْمَحُوْنَ [ سرکشی کرتے ہوں ]
ل ج ء : (ف) لجئا ۔ کسی جگہ میں پناہ لینا ۔ ملجا ۔ اسم الظرف ہے۔ پناہ لینے کی جگہ ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 57 ۔
ج م ح : (ف) جمحا : گھوڑے کا سوار کے قابو سے باہر ہونا ۔ سرکش ہونا۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 57 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
پھر منافقین کی قسموں کا ذکر فرمایا (وَ یَحْلِفُوْنَ باللّٰہِ اِنَّھُمْ لَمِنْکُمْ ) (اور ان کا یہ طریقہ ہے کہ قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تم ہی میں سے ہیں) سچے مومن کو اپنے ایمان پر قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہوتی اہل ایمان اس کے حالات اور معاملات اور احوال و اعمال اور برتاؤ کو دیکھ کر ہی اسے مومن سمجھتے ہیں اور منافقین کا رنگ ڈھنگ بتاتا ہے کہ یہ اندر سے مومن نہیں ہیں اس لیے اہل ایمان اس سے بچتے ہیں اور انہیں اپنا نہیں سمجھتے لہٰذا بار بار قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم تم ہی میں سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَمَا ھُمْ مِّنْکُمْ ) (اور تم میں سے نہیں ہیں) ۔
(وَ لٰکِنَّھُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
بیان غیر مقبول بود صدقات ونفقات منافقین
قال اللہ تعالیٰ ٰ قل انفقوا طوعا او کرھا لن یتقبل منکم۔۔۔ الی وھم یجمحون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں جد بن قیس کے اس قول کا یعنی لاتفتننی کا جواب تھا جس میں اس نے رومی عورتوں کے فتنہ کا بہانہ بنا کر غزوہ میں جانے معذوری ظاہر کی تھی اب اس آیت میں اس کے دوسرے قول کا جواب ہے جو اس نے یہ کہا تھا کہ میں بذات خود تو جہاد میں نہیں جاسکتا لیکن روپیہ پیسہ سے اعانت کرسکتا ہوں اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ خدا تعالیٰ کے یہاں اس کا خرچ مقبول نہیں۔ قبول کے لیے ایمان اور اخلاص شرط ہے جو ان میں مفقود ہے ہے جن لوگوں کے دلوں میں ایمان نہ ہو اللہ کے یہاں ان کی عبادت قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
55: یعنی جب آپ جنگ سے فارغ ہو کر واپس مدینہ پہنچیں گے تو یہ منافقین جھوٹی قسمیں کھا کھا کر آپ کو یقین دلانے کی کوشش کریں گے کہ وہ مخلص مؤمن اور آپ کے سچے تابعدار ہیں مگر یاد رکھئے ان لوگوں کا آپ کی جماعت سے کوئی تعلق نہیں یہ محض ڈر اور خوف کی وجہ سے آپ کی خوشامد کرتے اور اسلام کا اظہار کرتے ہیں۔ “ لَوْ یَجِدُوْنَ الخ ” اگر قتل و قید سے بچنے کے لیے انہیں کوئی جائے پناہ مل جائے یا وہ پہاڑوں کی غاروں میں اور زمین کی سرنگوں میں چھپ کر جان بچا سکیں تو وہ دور کر ان کمین گاہوں میں جا چھپیں اور آپ کی خوشامد کرنے اور اسلام ظاہر کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کریں۔ “ و معنی الایة انھم کارھون من مصاحبتکم اشد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے منافقین کا رد فرمایا کہ وہ جہاد میں شریک ہونے سے گریز کرتے ہیں اور اس کے لیے حیلے بہانے بناتے ہیں اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ منافقین جو مال خرچ کرتے ہیں وہ اس لیے قبول نہیں ہوتا کہ ان میں توحید و رسالت کے متعلق کفر پایا جاتا ہے اور وہ نماز بھی صحیح طریقے سے ادا نہیں کرتے۔ نیز یہ کہ ان کی طرف سے خرچ بادل نخواستہ ہوتا ہے اور وہ اس معاملہ میں دل سے راضی نہیں ہوتے۔ بعض منافقین عذرلنگ پیش کرتے تھے اور اس بنا پر جہاد میں شمولیت سے رخصت چاہتے تھے کہ شوریدہ مزاج ہونے کی وجہ سے انہیں فتنے میں پڑجانے کا احتمال تھا البتہ انہوں نے مالی تعاون کی پیش کش کی جسے اللہ نے مسترد کردیا…
Read the full tafseer →لَوْ يَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَيْہِ وَہُمْ يَجْمَحُوْنَ 57
وجد
الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم المجرّد، إذ کان اللہ منزّها عن الوصف بالجوارح والآلات . نحو : وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] .
( و ج د ) الو جود
( ض) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–62
ترکیب : تزھق منصوب ہے معطوف ہے یعذب پر ان مقدر ہے لویجدون شرط لولوا جواب منہم خبر مقدم ہے من یلمزک کی اذا مفاجات کے لئے ظرف زماں یہکی جگہ جواب شرط میں واقع ہے۔ ھم مبتدا ویسخطون خبر اور یہ اذا کا عامل ہے للفقراء الصدقات کی خبر والمساکین ومابعدھا اس پر معطوف اذن خبر ہے مبتداء محذوف کی ھو ویقرء بالاضافۃ والتنوین۔
تفسیر : ان کے قبائح اور دار آخرت سے محرومی کا ذکر فرما کر ان کے مال و اولاد کا انجام کار ذکر کرتا ہے کہ جس پر بیشتر دنیا داروں کو ناز و افتخار ہوتا ہے کہ اے دیکھنے والے ! تو ان کے مال و اولاد کو دیکھ کر تعجب و حیرت نہ کر۔ یہ ان کے لئے دنیا میں باعث عذاب ہوگا یا بایں معنی کہ اس کی محبت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
وَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ اِنَّھُمْ لَمِنْکُمْ ط وَمَاھُمْ مِّنْکُمْ وَلٰـکِنَّھُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ لَوْیَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْمَغٰرٰتٍ اَوْمُدَّخَلًا لَّوَلَّوْااِلَیْہِ وَھُمْ یَجْمَحُوْنَ (التوبۃ : 56، 57)
(اور یہ اللہ کی قسمیں اٹھاتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں حالانکہ وہ تم میں سے نہیں لیکن وہ ایسی قوم ہیں جو ڈرتے رہتے ہیں۔ اگر یہ کوئی ٹھکانہ یا کوئی غار یا کوئی گھس بیٹھنے کی جگہ پالیں تو وہ منہ پھیر لیں گے اس طرف منہ زوری کرتے ہوئے )
امیر منافقین کی کیفیت
(مدینہ کے منافق زیادہ تر بلکہ تمام تر مالدار اور سن رسیدہ لوگ تھے۔ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں ان کی جو فہرست دی ہے اس میں صرف…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مسلمانوں کو حلف دینے اور اس بات کی یقین دہانی کروانے کے باوجود کہ ہم کفار کی بجائے تمہارے ساتھی ہیں منافقوں کے دل کی کیفیت یہ تھی۔
منافقت کے دیگر اسباب کے ساتھ ایک سبب یہ بھی ہے کہ منافق بزدل اور ڈرپوک ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کے ظاہر اور باطن میں تضاد قائم رہتا ہے۔ خاص کر جب مسلمان طاقت ور ہوں تو منافق اپنی منافقت میں پکا اور گہرا ہوجاتا ہے۔ یہی صورت حال مدینہ کے منافقین کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور مومنوں کو ہر میدان میں کامیابیاں عطا فرمائیں یہاں تک کہ اس زمانے کی واحد سیاسی سپر پاور روم بھی مسلمانوں کے مقابلہ میں آنے کی جرأت نہ کرسکی۔ ادھر پورا حجاز بھی اسلام…
Read the full tafseer →وہ پناہ گاہ کے متلاشی ہیں :
آیت 57: لَوْیَجِدُوْنَ مَلْجَاً (اگر ان لوگوں کو کوئی پناہ کی جگہ مل جاتی) بچنے کیلئے پناہ کی جگہ خواہ پہاڑ کی چوٹی ہو یا قلعہ یا جزیرہ۔ اَوْمَغٰرٰتٍ (یا غار) غاریں اَوْمُدَّ خَلًا (یا کوئی گھس بیٹھنے کی جگہ) سرنگ جس میں گھس سکیں۔ یہ دخل باب سے مفتعل کا وزن ہے۔ لَّوَ لَّوْا اِلَیْہِ (تو یہ ضرور اس کی طرف تیزی سے چل دیتے) وہ ضرور اس کی طرف متوجہ ہونگے۔ وَھُمْ یَجْمَحُوْنَ (اس حال میں کہ منہ اٹھائے ہوئے) وہ اتنی تیزی سے اس کی طرف جائیں گے کہ کوئی چیز ان کو واپس نہ کرسکے گی یہ الفرس الجموح منہ زور گھوڑے سے لیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →57۔” لو یجدون ملجا “ کوئی ٹھکانہ یا قلعہ عطاء (رح) فرماتے ہیں جائے فرار اور بعض نے کہا ہے کہ حفاظت کا مقام جن میں پناہ لی جاسکتی ہے۔ ” او مغرت “ پہاڑوں میں غاریں مغارۃ کی جمع ہے وہ پہاڑ ی غار جس میں تو چھپے اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سرنگ اور تہہ خانے ۔ ” او مدخلا ً “ داخل ہونے کی جگہ یہ ادخل یدخل سے ہے اس کی اصل مد تخل بروزن منتعل ہے۔ دخل یدخل سے مجاہد (رح) فرماتے ہیں جائے پناہ ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ تہہ خانہ مراد ہے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ چوہوں کی بل کی طرح زمین میں کوئی بل حسن (رح) فرماتے ہیں ایسا طریقہ جس میں اللہ کے رسول اللہ ﷺ کے خلاف داخل ہوں اور یعقوب (رح) نے ” مد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
56۔ 57۔ اللہ پاک نے یہاں سے منافقوں کی ایک اور دغابازی کی حالت کی تفصیل شروع فرمائی کہ یہ لوگ قسمیں کھاکھا کر کہتے ہیں کہ ہم تم میں سے ہیں تمہارے دین پر ہیں اور خدا و رسول کے ہر طرح سے فرمانبردار ہیں لیکن یہ غلط بات ہے ان کی قسمیں محض جھوٹی ہیں یہ ہرگز تمہارے گروہ میں سے نہیں ہیں انہیں دین اسلام سے کیا واسطہ خدا و رسول کے حکم کی پیروی سے انہیں کیا سروکار یہ تو خوف کے مارے اسلام کا اظہار کرتے ہیں جانتے ہیں کہ جس طرح مشرکوں کو مسلمان قتل و غارت کرتے ہیں ان کی بی بی بچوں کو پکڑ لیتے ہیں ان کے مال غنیمت میں لوٹ لیتے ہیں اسی طرح کہیں ہم سے بھی نہ پیش آئیں غرض کہ اسی سبب سے یہ لوگ جھوٹے اسلام کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
(آیت 55)
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان منافقین کا مال اور اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالے، کیونکہ یہ کوئی قابل رشک بات نہیں۔ مال اور اولاد کی ایک ” برکت “ ان پر یہ ہوئی کہ انہوں نے اس مال اور اولاد کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی اور اس کی خاطر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا، فرمایا : (انما یرید اللہ لیعذبھم بھا فی الحیوۃ الدنیا) ” اللہ چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں ان کو عذاب دے۔ “ یہاں عذاب سے مراد وہ مشقت اور کوشش ہے جو اسے حاصل کرنے میں انہیں برداشت کرنی پڑتی ہے اور اس میں دل کی تنگی اور بدن کی مشقت ہے۔ اگر آپ اس مال کے اندر موجود ان کی لذات کا مقابلہ اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
قول باری ہے (ولیحلفون باللہ انھم لمنکم ۔ وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہی میں سے ہیں) عظمت والی ذات کا واللہ، باللہ کے الفاظ یا قسموں والے حروف کے ساتھ ذکر کے ذریعے جملے میں دی گئی خبر کی تاکید کو حلف کہتے ہیں۔ قسم اور یمین بھی اسی طرح منعقد ہوتے ہیں۔ تاہم حلف میں خبر کو عظمت والی ذات کی نسبت سے بیان کیا جاتا ہے۔ قول باری (ولیحلفون باللہ) میں ان کے متعلق یہ خبردی گئی ہے کہ انہوں نے اللہ کی قسم کھائی ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس میں مستقبل کی یہ خبر دی گئی ہے کہ یہ لوگ عنقریب اللہ کی قسم کھائیں گے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے ” احلف باللہ “ تو یہ قسم ہوگی اور اگر حلف کے ذکر کو مخدوف کرکے صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
119 منافقوں کی گھٹن اور ان کے باطن کی کیفیت کا ذکر : سو ان لوگوں کے باطن کی گھٹن کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ان کو کوئی پناہ گاہ مل جائے یا کوئی غار یا کہیں گھس بیٹھنے کی کوئی جگہ ہی میسر آجائے تو یہ سرپٹ اس کی طرف دوڑ پڑیں۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلامی معاشرے کے درمیان یہ لوگ کس قدر گھٹن اور تنگی کی زندگی گزارتے ہیں اور اسلام کو پھلتا پھولتا دیکھ کر ان کے دل و دماغ پر کیا گزرتی ہے اور ان کو ذہنی طور پر کس قدر کوفت و کرب میں مبتلا رہنا پڑتا ہے۔ یہ بھی قرآن حکیم کا ایک عظیم معجزہ ہے کہ اس نے ان کے باطن کی کیفیت کو اس طرح واضح و آشکارا کردیا۔ اور یہ اسی ذات اقدس و اعلیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–59
منافقوں کے فتنوں سے بچنے کی تدابیر
تشریح : ان آیات میں پہلے تو ان منافقین کا غزوہ تبوک میں شامل نہ ہونا باعث رحمت بتایا گیا ہے کیونکہ یہ لوگ اگر ساتھ چلے جاتے تو ان کا مقصد نہ تو جہاد کرنا ہوتا اور نہ ہی یہ مخلص ہوتے، اس لیے اگر یہ چلے جاتے تو صرف غلط سلط افواہوں سے مجاہدین میں بددلی، نااتفاقی اور کمزوری ہی پیدا کرنے کا کام انہوں نے کرنا تھا اور اس طرح فوج کو کمزور کرنے کا مقصد حاصل کرتے کیونکہ اگرچہ مسلمان ہوتے تو انسان ہی ہیں بعض ان کی باتوں میں آکر گھبرا بھی سکتے تھے اور ان کو اپنے خفیہ راز لاعلمی میں بتا دیتے اس لیے اچھا ہوا یہ جہاد میں ساتھ نہ گئے۔ یہ لوگ پہلے بھی اس قسم کا فساد پھیلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–59
آیات 43 تا 59
اللہ نے آپ کو معاف تو کردیا مگر آپ ﷺ نے انھیں جہاد سے رہ جانے کی اجازت ہی کیوں دی ؟ اگر آپ ایسانہ کرتے تو بھی یہ جہاد میں شامل ہونے سے تو رہے ہاں سب لوگوں پہ ان کی اصلیت کھل جاتی اور نفاق واضح ہوجاتا ۔
رشتہ قلبی کے انداز
یہاں اگر چہ بات ایک مشورے کے انداز میں ارشاد ہے کہ اگر آپ اجازت نہ دیتے تو ان کے پاس بہانہ نہ ہوتا مگر نبی اکرم ﷺ کے قلب اطہر کو جو تعلق ذات باری سے تھا وہ اس قدربات بھی برداشت نہ کرپاتا ۔ لہٰذ اسوالیہ انداز میں بات ارشاد فرمانے سے پہلے فرمایا عفا اللہ عنک اللہ نے آپ کو معاف فرمادیا کوئی نارزضگی یا خفگی کی بات نہیں مگر آپ نے ایسا کیوں کیا یہ معافی گناہ کی نہیں…
Read the full tafseer →ف 9 تاکہ انہیں تم سے اور تمہارے معاشرے سے نجات ملے حالانکہ یہ تینوں جگہیں بد ترین جگہیں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس وقت جو ہمارے دریمان بیٹھے ہوئے ہیں نہایت مجبوری کی حالت میں بیٹھے ہوئے اور ور نہ یہ تم سے اور تمہارے معاشرے سے نالاں اور بیزار ہیں۔ ( ابن کثیر۔ کبیر )
Read the full tafseer →(9:57) لویجدون۔ اگر وہ پائیں۔ وجد یجد (ضرب) وجد۔
ملجا۔ اسم ظرف مکان۔ پناہ کہ جگہ۔ لجا مصدر۔ (باب ضرب۔ فتح۔ سمع) ملجا بھی مصدر ہے۔
مغرت۔ مغار اور مغارۃ کی جمع مغارر بھی اس کی جمع ہے مغار و مغارۃ لوٹ ۔ غار۔ المغار لوٹ کی جگہ۔ بچاؤ کی جگہ۔ زمین کے اندر گھسنے کی جگہ۔ الغرر کے معنی نشیبی زمین کے ہیں۔
مدخلا۔ اسم ظرف مکان۔ داخل ہونے کی جگہ۔ باب افتعال سے مفتعل کے وزن پر۔
لولوا۔ وہ ضرور منہ پھیر لیں گے۔ لام تاکید کے لئے ہے۔
یجمحون ۔ جمح یجمح (باب فتح) جمح جموح جماح مصدر ۔ گھوڑے کا سرکشی کرنا۔ جموح منہ زور گھوڑا۔ جمحت المراۃ زوجھا۔ شوہر کی اجازت کے بغیر عورت اس کے گھر سے نکل کر چلی گئی۔ جمح الرجل۔ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
لغات القرآن آیت نمبر 53 تا 57
طوعاً (خوشی سے) کرھا (زبردستی) لن یتقبل (ہرگز قبول نہ کیا جائے گا) لایاتون (وہ نہیں آتے) کسالی (سستی کرنے والے) لاینفقون (وہ خرچ نہیں کرتے) کرھون (زبردستی) لاتعجبک (تجھے حیرت میں نہ ڈالے) تزھق (وہ نکالے) یحلفون (وہ قسم کھاتے ہیں) قوم یفرقون (وہ لوگ جو ڈرتے ہیں) یجدون (وہ پائیں گے) ملجا (ٹھکانا) مغرت (غار) مدخل (داخل ہونے کی جگہ، گھسنے کی جگہ ) یجمحون (سرکشی کرتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 53 تا 57
خطاب کا رخ ان منافقین کی طرف ہے جو جہاد میں جسم و جان کھپانے کو تیار نہ تھے البتہ دنیا دکھاوے اور اپنی لاج رکھنے کے لئے کچھ چندہ کے طور پر رقم دے کر یہ سمجھتے تھے کہ ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
منافقین قسمیں کھاکھاکر کہتے ہیں کہ ہم تم میں سے تمہارے دین پر ہیں لیکن یہ غلط بات ہے ان کی قسمیں محض جھوٹی ہیں، یہ ہرگز تمہارے گروہ میں سے نہیں ہیں، انہیں دین اسلام سے کیا واسطہ خدا اور رسول (ﷺ) کے حکم کی پیروی سے انہیں کیا سروکار۔ یہ تو خوف کے مارے اسلام کا اظہار کرتے ہیں۔ جانتے ہیں کہ جس طرح مشرکین کو مسلمان قتل و غارت کرتے ہیں ان کے بی بی بچوں کے پکڑ لیتے ہیں ان کے مال غنیمت کو لوٹ لیتے ہیں اسی طرح کبھی ہم سے بھی نہ پیش آئیں غرض یہ کہ اسی سبب سے یہ لوگ جھوٹے اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اگر انہیں کوئی صورت بچاؤ کی نظر آئے مثلا کوئی قلعہ مل جائے جس میں پناہ لیں، یا کوئی غار یا گڑھا یا اور کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
[31] مطلب یہ ہے کہ کفار و منافقین کے مال و اولاد ان کے لئے نعمت نہیں عذاب ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ دنیا کی محبت میں انہماک ان کے لئے ایک مستقل عذاب اور مصیبت بن جاتا ہے کیونکہ اول تو مال و دولت جمع کرنے میں بیحد کوفت اٹھاتے ہیں پھر ذرا سا نقصان یا صدمہ پہنچ گیا تو جس قدر محبت ان چیزوں سے ہے اسی قدر غم ہوتا ہے حتیٰ کہ بعض اوقات دماغی توازن برقرار نہیں رہتا۔ پھر جب موت ان محبوب چیزوں سے جدا کرتی ہے اس وقت کے صدمے اور حسرت کا تو اندازہ مشکل ہے۔ غرض دنیا کے عاشق اور حریص کو کسی وقت بھی چین و آرام میسر نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →(ف 1) یعنی منافقین بیحد بزدل ہیں مسلمانوں کے ساتھ محض جبرا وقہرا رہتے ہیں ، ورنہ انہیں ایک لمحہ کی صحبت گوارا نہیں انہیں کہیں ذلیل ترین جگہ بھی پناہ کی مل جائے تو قبول کرلیں ، اور دوڑتے ہوئے جائیں ،
حل لغات :
کسالی : جمع کسلان ، بےرغبت کاہل سست ۔
مغرت : جمع مغارۃ ، اخفش کہتے ہیں اس کے معنی گڑھے کے ہیں بعض کے نزدیک پہاڑ کے غار کو کہتے ہیں ۔
Read the full tafseer →57 ان لوگوں کو اگر کوئی پناہ گاہ مل جاتی یا کہیں پہاڑوں وغیرہ میں چھپنے کو غارمل جاتے یا کہیں سر گھسانے کو کوئی جگہ ان کو مل جائے تو یہ ضرور منہ پھیر کر دوڑے ہوئے ادھر چلے جائیں۔
یعنی اسلامی حکومت کے پھیلائو نے ان کو مجبور کردیا ہے ورنہ ان کو اگر کوئی ٹھکانا ذرا سا بھی کہیں نظر آجائے تو تم کو چھوڑ کر ادھر بھاگ جائیں جس طرح کوئی جانور رسی تڑا کے بھاگتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
ف 2۔ یعنی مسلمان ہیں۔
Read the full tafseer →اگر ان کے پاس کوئی ٹھکانا اور ہوتا تو تمہاری کبھی پروا نہ کرتے :
79: یہ اوپر کے مضمون کی مزید وضاحت فرمادی مطلب اس کا یہ ہے کہ ان کو آج اگر کوئی جائے پناہ ، کوئی غار یعنی پوشیدہ ہوجانے کی جگہ مل جائے جہاں اپنے مفادات کو یہ لوگ محفوظ کرسکیں تو ایک دن بھی یہ تمہارے ساتھ رہنا پسند نہ کریں۔ تمہارے ساتھ رہنا اور اس کا دعویٰ کرنا تو ان کی مجبوری ہے اگر ان کی مجبوری کا کوئی حل موجود ہو تو یہ رسی تڑا کر بھاگ نکلیں ، بےلگام گھوڑے کی طرح سرپٹ دوڑ کر یہاں سے نکل جائیں تم ان کو دیکھتے ہی دیکھتے رہ جاتے۔ خیریت رہی کہ ان کے پاس کوئی اور ٹھکانہ نہ ہے اس لئے اس خوف اور بزدلی نے ان کو تمہارے ساتھ رہنے کا عزم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
Commentary
Recipients of Sadaqat
Objection raised by some hypocrites against the Holy Prophet s, and the answer to that, was given in verses previous to this. It will be recalled that the hypocrites had blamed the Holy Prophet ﷺ that he (God forbid) does not observe justice while disbursing Sadaqat and gives whatever he wishes to whomsoever he chooses.
In the present verse, by listing the recipients of Sadaqat categorywise, Allah Ta` ala has removed their misunderstanding and told them that He has himself determined as to who should receive Sadaqat. The Holy Prophet ﷺ only complies with the…
Read the full tafseer →