At-Tawba 9:54

At-Tawba · from ayah 54

9:54

وَمَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَبِرَسُوْلِهٖ وَلَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَهُمْ كُسَالٰی وَلَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَهُمْ كٰرِهُوْنَ ۟وَمَا مَنَعَهُمۡ اَنۡ تُقۡبَلَ مِنۡهُمۡ نَفَقٰتُهُمۡ اِلَّاۤ اَنَّهُمۡ كَفَرُوۡا بِاللّٰهِ وَبِرَسُوۡلِهٖ وَلَا يَاۡتُوۡنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَهُمۡ كُسَالٰى وَلَا يُنۡفِقُوۡنَ اِلَّا وَهُمۡ كٰرِهُوۡنَ

اور ان کے خرچ (موال) کے قبول ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوئی سوا اس کے انہوں نے خدا سے اور اس کے رسول سے کفر کیا اور نماز کو آتے ہیں تو سست کاہل ہوکر اور خرچ کرتے ہیں تو ناخوشی سے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And what prevents their expenditures from being accepted from them but that they have disbelieved in Allah and in His Messenger and that they come not to prayer except while they are lazy and that they do not spend except while they are unwilling.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 7 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:54

ان کے دیے ہوئے مال قبول نہ ہونے کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے کفر کیا ہے، نماز کے لیے آتے ہیں تو کسمساتے ہوئے آتے ہیں اور راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں تو بادل ناخواستہ خرچ کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کے خرچ (موال) کے قبول ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوئی سوا اس کے انہوں نے خدا سے اور اس کے رسول سے کفر کیا اور نماز کو آتے ہیں تو سست کاہل ہوکر اور خرچ کرتے ہیں تو ناخوشی سے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کوئی سبب ان کے خرچ کی قبولیت کے نہ ہونے کا اس کے سوا نہیں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے منکر ہیں اور بڑی کاہلی سے ہی نماز کو آتے ہیں اور برے دل سے ہی خرچ کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان کے چندے قبول کیے جانے میں رکاوٹ کی کوئی اور وجہ اس کے سوا نہیں ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کا معاملہ کیا ہے، اور یہ نماز میں آتے ہیں تو کسمساتے ہوئے آتے ہیں اور (کسی نیکی میں) خرچ کرتے ہیں تو برا مانتے ہوئے خرچ کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ جو خرچ کرتے ہیں اس کا قبول ہونا بند نہ ہوا مگر اسی لیے کہ وہ اللہ اور رسول سے منکر ہوئے اور نماز کو نہیں آتے مگر جی ہارے اور خرچ نہیں کرتے مگر ناگواری سے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان سے ان کے نفقات (یعنی صدقات) کے قبول کئے جانے میں کوئی (اور) چیز انہیں مانع نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے منکر ہیں اور وہ نماز کی ادائیگی کے لئے نہیں آتے مگر کاہلی و بے رغبتی کے ساتھ اور وہ (اللہ کی راہ میں) خرچ (بھی) نہیں کرتے مگر اس حال میں کہ وہ ناخوش ہوتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھیں کوئی چیز اس سے مانع نہیں ہوئی کہ ان کی خرچ کی ہوئی چیزیں قبول کی جائیں مگر یہ بات کہ بیشک انھوں نے اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور وہ نماز کو نہیں آتے مگر اس طرح کہ سست ہوتے ہیں اور خرچ نہیں کرتے مگر اس حال میں کہ ناخوش ہوتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان سے ان کے نفقات قبول نہ ہونے کی وجہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور اگر نماز کو آتے ہیں تو ڈھیلے ڈھالے اور اگر کچھ خرچ کرتے ہیں تو بادل ناخواستہ ہی خرچ کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ اپنے انفاق کی قبولیت سے صرف اس وجہ سے محروم ہوئے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا کفر کیا اور نماز کے لیے جو آتے ہیں تو مارے باندھے آتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں تو بادل ناخواستہ

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان کے دیئے ہوئے مال قبول نہ ہونے کی وجہ سے اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ انہوں نے کفر کیا اللہ (جل شانہ) کے ساتھ، اور اس کے رسول (برحق) کے ساتھ، اور (اس باطنی کفر کی ظاہری علامات یہ ہیں کہ) یہ لوگ نماز پڑھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے، اور یہ خرچ کرتے ہیں تو ناگواری کے بوجھ تلے دبے ہوئے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اس سے کہ ان کے چندے قبول کئے جائیں کوئی امر مانع نہیں بجز اس کے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے۔ اور یہ لوگ نماز نہیں پڑھتے مگر ہارے جی کے ساتھ اور خرچ نہیں کرتے مگر ناگواری کے ساتھ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہیں مانع ہوئی کوئی چیز کہ ان سے ان کے نفقات (اموال کا خرچ کرنا) کو قبول کیا جاتا مگر یہ کہ انہوں نے کفر کیا ہے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ اور وہ نماز کے لیے نہیں آتے مگر بہت ہی کسل مندی سے اور خرچ نہیں کرتے مگر کراہت کے ساتھ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان سے ان کے نفقات قبول نہ کرنے کی وجہ صرف یہ کہ وہ اللہ اور اسکے رسول کے نافرمان لوگ ہیں۔ اگر وہ نماز کے لیے آتے ہیں تو سست اور کاہل ہو کر آتے ہیں اگر خرچ کرتے ہیں تو ناخوشی سے کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Nothing prevents that their expendings be accepted except that they disbelieve in Allah and His Messenger, and whenever they come to the Prayer they do so lazily, and whenever they spend they do so grudgingly.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Nothing has prevented their spending from being accepted from them but that they have disbelieved in Allah and in His Messenger, and they do not come to the Salah but lazily, and do not spend but without volition.

— Muhammad Taqi Usmani

Nothing has prevented their spending from being accepted from them but that they have disbelieved in Allah and in His Messenger, and they do not come to the Salah but lazily, and do not spend but without volition.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And nothing prevents their contributions from being accepted from them except that they disbelieved in Allah and in His Messenger, and that they came not to the Salah except in a lazy state, and that they offer not contributions but unwillingly.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And naught preventeth that their contributions should be accepted from them save that they have disbelieved in Allah and in His messenger, and they come not to worship save as idlers, and pay not (their contribution) save reluctantly.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And what prevents their expenditures from being accepted from them but that they have disbelieved in Allah and in His Messenger and that they come not to prayer except while they are lazy and that they do not spend except while they are unwilling.

— Saheeh International

What prevents their offerings from being accepted is their disbelief in God and His Messenger, their lack of interest in prayer and spending for the cause of God reluctantly.

— Muhammad Sarwar

And nothing hinders their spendings being accepted from them, except that they disbelieve in Allah and in His Apostle and they do not come to prayer but while they are sluggish, and they do not spend but while they are unwilling.

— Muhammad Habib Shakir

And naught preventeth their expendings being accepted except that they have disbelieved in Allah and His apostle, and they perform not prayer except as sluggards and expend not except as those averse.

— Abdul Majid Daryabadi

The only reasons why their contributions are not accepted are: that they reject Allah and His Messenger; that they come to prayer without earnestness; and that they offer contributions unwillingly.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:54

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 52–54

شہادت ملی تو جنت، بچ گئے تو غازی مسلمانوں کے جہاد میں دو ہی انجام ہوتے ہیں اور دونوں ہر طرح اچھے ہیں اگر شہادت ملی تو جنت اپنی ہے اور اگر فتح ملی تو غنیمت و اجر ہے۔ پس اے منافقو تم جو ہماری بابت انتظار کر رہے ہو وہ انہی دو اچھائیوں میں سے ایک کا ہے اور ہم جس بات کا انتظار تمہارے بارے میں کر رہے ہیں وہ دو برائیوں میں سے ایک کا ہے یعنی یا تو یہ کہ اللہ کا عذاب براہ راست تم پر آجائے یا ہمارے ہاتھوں سے تم پر اللہ کی مار پڑے کہ قتل و قید ہوجاؤ۔ اچھا اب تم اپنی جگہ اور ہم اپنی جگہ منتظر رہیں دیکھیں پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے ؟ تمہارے خرچ کرنے کا اللہ بھوکا نہیں تم خوشی سے دو تو، اور ناراضگی سے دو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 53–54

سورة التَّوْبَة 53 بعض منافق ایسے بھی تھے جو اپنے آپ کو خطرے میں ڈالنے کے لیے تو تیار نہ تھے، مگر یہ بھی نہ چاہتے تھے کہ اس جہاد اور اس کی سعی سے بالکل کنارہ کش رہ کر مسلمانوں کی نگاہ میں اپنی ساری وقعت کھو دیں اور اپنے نفاق کو علانیہ ظاہر کردیں۔ اس لیے وہ کہتے تھے کہ ہم جنگی خدمت کو انجام دینے سے تو اس وقت معذرت چاہتے ہیں، لیکن مال سے مدد کرنے کے لیے حاضر ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–59

معارف و مسائل سابقہ آیات میں منافقین کی بداخلاقی اور بد اعمالی کا ذکر تھا، مذکورہ تمام آیات میں بھی یہی مضمون ہے(آیت) اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا، میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ منافقین کے مال و اولاد ان کے لئے نعمت نہیں عذاب ہیں، وجہ اس کی یہ ہے کہ دنیا کی محنت میں انہماک انسان کیلئے اس دنیا ہی میں ایک عذاب و مصیبت بن جاتا ہے، اول مال دنیا کے حاصل کرنے کی تمناؤں اور پھر تدبیروں میں کیسی کیسی محنت، مشقت اور کوفت جسمانی اور روحانی اٹھانی پڑتی ہے، نہ دن کا چین نہ رات کی نیند، نہ اپنے تن بدن کی خبر، نہ اہل و عیال ہی میں دل بہلانے کی فرصت، پھر اگر ذرا سا نقصان ہوگیا یا کوئی بیماری…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 53–54

53۔ 54: قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ يُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ ۭاِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِيْنَ۔ وَمَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّآ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَبِرَسُوْلِهٖ وَلَا يَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَهُمْ كُسَالٰى وَلَا يُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَهُمْ كٰرِهُوْنَ۔ نفاق کے ساتھ کوئی انفاق بھی قبول نہیں : یہ ان منافقین سے اظہارِ نفرت و کراہت ہے۔ فرمایا کہ ان کو سنا دو کہ تمہارا کوئی انفاق بھی، خواہ طوعاً ہو یا کرہاً ، خدا کے ہاں قبول نہیں۔ انفاق ان کا قبول ہوتا ہے جو خدا کے وفادار ہو۔ جو بدعہد اور غدار ہیں اور محض مارے باندھے یا دکھاوے اور نمائش…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

54۔ 1 اس میں ان کے صدقات کے عدم قبول کی تین دلیلیں بیان کی گئی ہیں، ایک ان کا کفر مفسق۔ دوسرا، کاہلی سے نماز پڑھنا، اس لئے وہ نماز پر نہ ثواب کی امید رکھتے ہیں اور نہ ہی اس کے ترک کی سزا سے انہیں کوئی خوف ہے، کیونکہ رضا اور خوف، یہ بھی ایمان کی علامت ہے جس سے محروم ہیں۔ اور تیسرا کراہت سے خرچ کرنا اور جس کام میں دل کی رضا نہ ہو وہ قبول کس طرح ہوسکتا ہے ؟ بہرحال یہ تینوں وجوہات ایسی ہیں کہ ان میں سے ایک وجہ بھی عمل کی نامقبولیت کے لئے کافی ہے۔ مذکورہ یہ کہ تینوں وجوہات جہاں جمع ہوجائیں تو اس عمل کے مردود بارگاہ الٰہی ہونے میں کیا شک ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 53–54

44: جد بن قیس جس کا ذکر اوپر آیا ہے، اسی کے بارے میں ایک روایت یہ ہے کہ اس نے جنگ میں جانے سے تو مذکورہ بالا بےہودہ عذر پیش کیا تھا۔ لیکن یہ کہا تھا کہ اس کے بدلے میں اپنا مال چندے میں دوں گا (ابن جریر ج :10 ص :152)۔ اس کے جواب میں یہ آیت منافقین کے چندے کے ناقابل قبول ہونے کا اعلان کر رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 53–54

پیچھے رہنے والوں میں سے اور انتظار کرنے والون میں سے بعض ایسے لوگ بھی تے جنہوں نے اپنا مالی تعاون پیش کردیا تھا لیکن ذاتی طور پر جہاد میں شرکت سے وہ معذوری کا اظہار کر رہے تے اور یہ رویہ وہ اس لیے اختیار کر رہے تھے کہ وہ بدنام بھی نہ ہوں اور بین بین رہیں نہ ادھرکے نہ ادھر کے۔ چنانہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان جیسے لوگوں کے مالی تعاون کو مسترد کردیں کیونکہ یہ لوگ مالی تعاون کی پیشکش خوف اور دکھاوے کے لیے کرتے ی۔ ایمان کے تقاضوں اور اللہ پر بھروسے کی وجہ سے وہ یہ انفاق نہٰں کر رہے۔ خواہ وہ یہ کام دکھاوے کے لیے کر رہے ہوں اور اہل ایمان کو دھوکہ دے رہے ہوں یا مشرکین کے ڈر کی وجہ سے کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 عدم قبول کا اصل سبب تو ان کا کفر ہے جیسا کہ ہم پہلے متعدد مواقع میں اشارہ کرچکے کہ کافر کا ہر عمل مردہ اور بےجان ہوتا ہے۔ باقی نماز میں ہارے جی سے آنا، یا برے دل سے خرچ کرنا، یہ سب کفر کے ظاہری آثار ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 54 وَمَا مَنَعَہُمْْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْہُمْ نَفَقٰتُہُمْ الآَّ اَنَّہُمْ کَفَرُوْا باللّٰہِ وَبِرَسُوْلِہٖ وَلاَ یَاْتُوْنَ الصَّلٰوۃَ الاَّ وَہُمْ کُسَالٰی وَلاَ یُنْفِقُوْنَ الاَّ وَہُمْ کٰرِہُوْنَ یعنی اب جو چندہ یہ لوگ پیش کر رہے ہیں وہ تو جان بچانے کے لیے دے رہے ہیں کہ ہم سے سازو سامان لے لیا جائے اور ہمیں اس مہم پر جانے سے معاف رکھا جائے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

58 صدقہ قبول نہ ہونے کی وجہ :۔ مشرکوں سے اعلان براءت اور ان سے اس علاقہ کے انخلاء کے دوران اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو ۔ یعنی اگر یہ تین باتیں پائی جائیں تو انہیں مسلمان سمجھا جائے گا اور باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد۔ ان تینوں باتوں میں بھی یہ منافق اس معیار پر پورے نہیں اترتے تھے۔ وہ اللہ اور رسول کے وعدوں کا یقین نہیں کرتے تھے۔ لہذا ان کا اللہ اور رسول پر ایمان مشکوک ہوگیا اور یہ انکار کے مترادف ہے۔ نماز کو آتے ہیں تو طبیعت ایسی گرانبار اور سست ہوتی ہے جیسے کوئی بیگار کاٹنے جا رہے ہوں اور اگر صدقہ ادا کرنا پڑے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

100 ۔ یہاں صاف تصریح کردی ہے کہ کفر کے ہوتے ہوئے کوئی سا بھی عمل قبول نہیں۔ ایمان تو پہلی اور سب سے بڑی شرط قبول اعمال کی ہے۔ 101 ۔ اور یہ دل سے ناگواری اور طیعت پر گراں باری خود دلیل ہیں، ان کے فقدان ایمان کی، ادائے طاعت سے طبیعت میں تازگی، بشاشت اور مستعدی تو جب ہی پیدا ہوسکتی ہے۔ جب ایمان پختہ ہو اور اجر وثواب کی امید قومی ہو۔ آیت میں ہم سب نام کے مسلمانوں کے لئے ڈرنے کی بات ہے۔ ظاہری اعمال منافقین کے بھی مسلمانوں ہی سے مشابہت رکھتے تھے، نمازیں بھی کسی نہ کسی طرح پڑھ لیتے تھے۔ خیر خیرات میں بھی کچھ نہ کچھ دے ہی نکلتے تھے، اس پر بھی حکم ان پر کفر اور فقدان ایمان ہی کا لگا ! خدا نہ کرے کہ ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 53–54

شان نزول : قُل انفقوا طوعًا او کرھاً لن یتقبل منکم، تفسیر ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے اس آیت کا شان نزول یہ معلوم ہوتا ہے کہ قبیلہ بنی سلمہ کے سردار جد بن قیس منافق نے تبوک کی لڑائی میں جانے سے جب یہ عذر کردیا کہ میں وہاں جا کر رومی خوبصورت عورتوں کے فتنہ میں مبتلا ہوجائوں گا لہٰذا میں جنگی خدمت دینے سے تو معذور ہوں البتہ میں مالی مدد کرنے کو تیار ہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ جب ان کا عقیدہ ہی درست نہیں ہے تو ان کی کوئی عبادت خواہ مالی ہو یا بدنی قبول نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما منعھم ان تقبل منھم نفقتھم الا انھم کفروا باللہ وبرسولہ ولا یاتون الصلوۃ الا وھم کسالی ولا ینفقون الا وھم کرھون۔ اور ان کی خیر خیرات قبول ہونے سے کوئی چیز بجز اس کے مانع نہیں کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور نماز نہیں پڑھتے مگر ہارے جی سے اور راہ خیر میں نہیں دیتے مگر ناگواری کے ساتھ ‘ کیونکہ ان کو نہ ثواب کی امید ہے نہ ترک پر عذاب کا اندیشہ۔ ان کی نظر میں زکوٰۃ تاوان ہے اور زکوٰۃ نہ دینا مال غنیمت کا حصول۔ کسالٰی یعنی سستی کی حالت میں ‘ بےدلی کے ساتھ ‘ لوگوں کو دکھانے کیلئے۔ بظاہر دونوں آیات میں تعارض معلوم ہوتا ہے۔ اَنْفِقُوْا طوْعًاسے خوشی کے ساتھ خیر خیرات کرنی ثابت ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(54) اور یہ لوگ نماز کے لیے بھی ہارے ہوئے دل سے آتے ہیں اور اللہ کی راہ میں یہ لوگ کچھ خرچ نہیں کرتے مگر تنگ دلی کے ساتھ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ : اس آیت میں ان کے صدقات قبول نہ ہونے کے تین اسباب بیان فرمائے ہیں، ایک یہ کہ ان کے دل اللہ اور اس کے رسول پر ایمان سے خالی ہیں، بلکہ وہ دونوں کے منکر ہیں اور ان کا کفر ان کی باتوں سے ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ دوسرا یہ کہ ایمان کی بدنی شہادت نماز ہے، وہ بھی یہ لوگ خوشی اور نشاط سے نہیں بلکہ مارے باندھے سستی سے صرف اپنے ایمان کے دکھاوے کے لیے پڑھتے ہیں، ان کا سستی سے آنا اس بات کی دلیل ہے کہ لوگوں کے سامنے ہوئے تو پڑھ لی اکیلے ہوئے تو چھوڑ دی۔ دیکھیے سورة نساء (142) تیسرا مالی عبادت بھی خوش دلی سے نہیں بلکہ مجبوراً جرمانہ سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : وما منعھم ان تقبل منھم نفقتھم الا انھم اس میں پہلا أن محل نصب میں ہے اور دوسرا محل رفع میں ہے۔ اور اس کا معنی یہ ہے : اور انہیں نہیں منع کیا ہے کہ ان کے اخراجات ان سے قبول کیے جائیں سوائے انکے کفر کے۔ اور کو فیوں نے أن یقبل منھم یا کے ساتھ پڑھا ہے ‘ کیونکہ نفقات اور انفاق دونوں ایک ہی ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : ولایاتون الصلوۃ الا وھم کسالی حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے : اگر وہ جماعت کے ساتھ ہو تو نماز پڑھے اور اگر منفرد ہو تو نماز نہ پڑھے اور یہی وہ ہے جو نماز پر کسی اجرو ثواب کی امید نہیں رکھتا اور وہ اسے ترک کرنے میں اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 53–54

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جدبن قیس نے کہا جب میں عورتوں کو دیکھوں گا تو صبر نہ کروں گا یہاں تک کہ فتنہ میں ڈالا جاوں گا۔ لیکن میں اپنے مال سے آپ کی مدد کروں گا۔ اللہ نے فرمایا کہ اس بارے میں آیت (آیت) ” قل انفقوا طوعا او کرھا لن یتقبل منکم “ اس کا سبب اس کا یہ کہنا تھا کہ میں اپنے مال سے آپ کی مدد کروں گا (اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر گزتم سے قبول نہیں کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَا مَنَعَهُمْ [ اور نہیں روکا ان کو ] اَنْ [ کہ ] تُقْبَلَ [ قبول کیا جائے ] مِنْهُمْ [ ان سے ] نَفَقٰتُهُمْ [ ان کے خرچوں کو ] اِلَّآ [ سوائے اس کے ] اَنَّهُمْ [ کہ انھوں نے ] كَفَرُوْا [ انکار کیا ] بِاللّٰهِ [ اللہ کا ] وَبِرَسُوْلِهٖ [ اور اس کے رسول کا ] وَلَا يَاْتُوْنَ [ اور وہ نہیں آتے ] الصَّلٰوةَ [ نماز کے پاس ] اِلَّا [ مگر ] وَ [ اس حال میں کہ ] هُمْ [ وہ ] كُسَالٰى [ انتہائی کاہل ہیں ] وَلَا يُنْفِقُوْنَ [ اور وہ خرچ نہیں کرتے ] اِلَّا [ مگر ] وَ [ اس حال میں کہ ] هُمْ [ وہ ] كٰرِهُوْنَ [ کراہیت کرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد منافقین کے کفر اور نماز میں سستی اور خرچ کرنے میں بد دلی کا تذکرہ فرمایا (وَ مَامَنَعَھُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْھُمْ نَفَقٰتُھُمْ اِلَّآ اَنَّھُمْ کَفَرُوْا باللّٰہِ وَ بِرَسُوْلِہٖ ) (ان کے صدقات کو قبول ہونے سے منع کرنے والی کوئی چیز اس کے علاوہ نہیں ہے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا) اور کفر کے ساتھ کوئی عمل مقبول نہیں۔ اور گو وہ اسلام کے مدعی ہیں اور کفر کو چھپائے ہوئے ہیں۔ لیکن ان کا کفر ان کے ڈھنگ سے ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ نماز جو ایمان کے بعد سب سے بڑا فریضہ ہے اور جو ایمان کی سب سے بڑی اور سب سے پہلی علامت ہے اس کے لیے آتے ہیں تو سستی کے ساتھ ہارے جی آتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 53–57

بیان غیر مقبول بود صدقات ونفقات منافقین قال اللہ تعالیٰ ٰ قل انفقوا طوعا او کرھا لن یتقبل منکم۔۔۔ الی وھم یجمحون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں جد بن قیس کے اس قول کا یعنی لاتفتننی کا جواب تھا جس میں اس نے رومی عورتوں کے فتنہ کا بہانہ بنا کر غزوہ میں جانے معذوری ظاہر کی تھی اب اس آیت میں اس کے دوسرے قول کا جواب ہے جو اس نے یہ کہا تھا کہ میں بذات خود تو جہاد میں نہیں جاسکتا لیکن روپیہ پیسہ سے اعانت کرسکتا ہوں اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ خدا تعالیٰ کے یہاں اس کا خرچ مقبول نہیں۔ قبول کے لیے ایمان اور اخلاص شرط ہے جو ان میں مفقود ہے ہے جن لوگوں کے دلوں میں ایمان نہ ہو اللہ کے یہاں ان کی عبادت قبول…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

53: یہ ان منافقین کے صدقات قبول نہ ہونے کی وجہ ہے۔ یعنی اگرچہ وہ بظاہر نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور خرچ بھی کرتے مگر ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہے۔ ان کے دل کفر ونفاق سے ملوث ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نماز خشوع و خضوع اور مستعدی سے نہیں پڑھتے اور خرچ بھی کرتے ہیں تو بےدلی کے ساتھ اور مجبوراً کرتے ہیں۔ اور اس سے ان کا مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 49–54

جد ابن قیس : اللہ تعالیٰ نے جہاد میں نفیر عام کا حکم دینے کے بعد منافقین کی مذمت بیان فرمائی ہے اور ان کے حیلے بہانوں کا رد کیا ہے۔ اسی سلسلہ میں بعض نمایاں منافقوں کا حال خصوصی طور پر بیان کیا ہے ۔ بنی (1۔ ابن کثیر ص 387 ، ج 2) (فیاض) سلمہ قبیلے کا سردار جد ابن قیس بظاہر کلمہ گو تھا مگر اس کے دل میں کفر تھا یہ وہی شخص ہے جو حدیبیہ کے موقع پر موجود تھا جب حضور ﷺ درخت کے نیچے صحابہ کرام سے بیعت رضوان لے رہے تھے تو یہ شخص اپنے گم شدہ اونٹ کی تلاش میں پھر رہا تھا۔ کسی شخص نے اس سے کہا کہ حضور ﷺ لوگوں سے بیعت لے رہے ہیں ، تم بھی ان میں شامل ہو جائو تو کہنے لگا ، میرا اونٹ ہی مجھے مل جائے تو اچھا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا مَنَعَہُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْہُمْ نَفَقٰتُہُمْ اِلَّآ اَنَّہُمْ كَفَرُوْا بِاللہِ وَبِرَسُوْلِہٖ وَلَا يَاْتُوْنَ الصَّلٰوۃَ اِلَّا وَہُمْ كُسَالٰى وَلَا يُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَہُمْ كٰرِہُوْنَ۝ 54 منع المنع يقال في ضدّ العطيّة، يقال : رجل مانع ومنّاع . أي : بخیل . قال اللہ تعالی: وَيَمْنَعُونَ الْماعُونَ [ الماعون/ 7] ، وقال : مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ [ ق/ 25] ، ويقال في الحماية، ومنه : مكان منیع، وقد منع وفلان ذو مَنَعَة . أي : عزیز ممتنع علی من يرومه . قال تعالی: أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ النساء/ 141] ، وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَساجِدَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 49–54

1 ؎ یعنی رسول کی نافرمانی کیا کم فتنہ ہے۔ 12 منہ ترکیب : منہم خبر ہے من یقول کی اور جملہ معطوف ہے کلام سابق پر۔ ان تصبک شرط تسئوھم جواب الا ما فاعل یصیب کا ان یصبکم مفعول ہے نتربص کا بکم اس سے متعلق ان تقبل کا مفعول مالم یسم فاعلہ نفقاتہم جملہ موضع نصب میں ہے بدل ہو کر مفعول منہم سے۔ تفسیر : منافقوں میں سے ایک شخص جد بن قیس تھا۔ اس نے یہ عذر کیا کہ میں رومی عورت دیکھ کر صبر نہیں کرسکتا مجھے فتنہ میں نہ ڈالئے ٗ اجازت دیجئے۔ آپ نے ترش رو ہو کر فرمایا ٗ اجازت۔ ومنہم من یقول میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ باقی ان کے حالات ترجمہ سے ظاہر ہیں۔ ہمارے لئے دو خوبیوں میں ایک تو ضرور ہے یا شہادت یا فتح و…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 53–54

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْکَرْھًا لَّنْ یُّتَقَبَّلُ مِنْکُمْ ط اِنَّکُمْ کُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ وَمَا مَنَعَھُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْھُمْ ز نَفَقٰـتُھُمْ اِلَّا اَنَّھُمْ کَفَرُوْابِاللّٰہِ وَبِرَسُوْلِہٖ وَلَا یَاْ تُوْنَ الصَّلٰوۃَ اِلَّا وَھُمْ کُسَالٰی وَلَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّاوَھُمْ کٰرِھُوْنَ ( التوبۃ : 53، 54) (ان سے کہہ دیجیے ! تم خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا بیشک تم ایک نافرمان قوم ہو۔ یہ اپنے انفاق کی قبولیت سے صرف اس لیے محروم ہوئے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور وہ نماز کے لیے نہیں آتے مگر سست سست اور وہ خرچ نہیں کرتے مگر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 53–54

فہم القرآن ربط کلام : منافق کے طرزعمل پر تبصرہ جاری ہے۔ منافق کی منافقت کی وجہ سے جس طرح اس کے دیگر اعمال ضائع ہوتے ہیں اسی طرح اس کا صدقہ و خیرات بھی ضائع ہوجاتا ہے۔ ایمان میں کھوٹے لوگ جب مسلمانوں کی طاقت محسوس کرتے ہیں تو منافقت کا وطیرہ اختیار کرتے ہیں تاکہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں سے فائدہ اٹھائیں۔ یہ حال نبی ﷺ کے زمانے کے منافقوں کا تھا اس کے لیے کفار کے خلاف جنگ میں مسلمانوں کے ساتھ مل کر میدان کار زار میں پہنچتے اور اپنی منافقت کو چھپانے کے لیے مال خرچ کرتے تھے تاکہ ان کی منافقت چھپ سکے۔ انھیں ان کے صدقہ و خیرات کے بارے میں بتلایا گیا ہے کہ بیشک تم خوشی سے خرچ کرو یا بادل…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

صدقہ قبول نہ کرنے کی وجہ کفر ہے : آیت 54: وَمَا مَنَعَہُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْھُمْ نَفَقٰتُھُمْ (اور ان کے خیر خیرات قبول ہونے میں اور کوئی چیز مانع نہیں) حمزہ و علی نے یُقْبَلُیا سے پڑھا ہے۔ اِلَّآ اَ نَّھُمْ کَفَرُوْا (مگر یہ کہ انہوں نے کفر کیا) منع کا فاعل ہم ہے۔ اور ان تقبل مفعول ہے۔ مطلب یہ ہے ان کے نفقات کو قبول نہ کرنے کی وجہ انکا کفر ہے۔ بِاللّٰہِ وَبِرَسُوْلہٖ وَلَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوۃَ اِلَّا وَھُمْ کُسَالٰی (اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اور وہ نماز نہیں پڑھتے مگر ناگواری سے) کسالیٰ جمع کسلان اور وہ ناپسندیدگی سے خرچ کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے طالب نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

54۔” وما منعھم ان تقبل منھم “ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” یقبل “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ فعل کے مقدم ہونے کی وجہ سے اور باقی حضرات نے تاء کے ساتھ اس لیے کہ فعل جمع مؤنث ( نفقات) کی طرف مسند ہے۔ اس لئے فعل کو مؤنث لایا گیا ہے تا کہ معلوم ہوجائے کہ فاعل مؤنث ہے۔ نفقتھم ان کے صدقات الا انھم کفروا باللہ وبرسولہ ان کے نفقات کے قبو ل کرنے سے مانع ان کا کفر ہے۔ ولا یاتون الصلوٰۃ والا وھم کسالی ” بوجھل قدموں کے ساتھ کیونکہ وہ اس نماز کی ادائیگی پر ثواب کی امید نہیں رکھتے اور اس کے چھوڑنے پر عذاب سے نہیں ڈرتے۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ منافقین کی تو نماز ہی قبول نہیں ، پھر نماز میں سستی پر کیوں مذمت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 53–54

53۔ 54۔ تفسیر ابن جریر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قبیلہ بنی سلمہ کے سردار جدبن قیس منافق نے تبوک کی لڑائی میں جانے سے جب یہ عذر پیش کیا کہ وہاں جاکر میں خوبصورت عورتوں کے فتنہ میں پڑجاؤں گا اس عذر کے ساتھ اس نے دنیا سازی کے طور پر یہ بھی کہا تھا کہ اس لڑائی میں کچھ روپے کی ضرورت ہو تو میں مدد دے سکتا ہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائی اور فرما دیا کہ جب ان لوگون کا عقیدہ ہی درست نہیں ہے تو ان کی کوئی عبادت مالی یا بدنی مقبول نہیں اس واسطے ان کا مدد خرچ ہرگز قبول نہیں کیا جاسکتا طبرانی کے حوالہ سے معتبر سند کی انس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 53–54

آیات 53 اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کے صدقات کے بطلان اور اس کے سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (قل) ان سے کہہ دیجیے (انفقوا طوعاً ) ” خوشی سے خرچ کرو۔ “ یعنی بطیب خاطر خرچ کرو (اوکرھاً ) ” یا ناخشوی سے “ یا اپنے اختیار کے بغیر ناگواری کے ساتھ خرچ کرو۔ (لن یتقبل منکم) ” تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ “ اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو قبول نہیں کرے گا۔ (انکم کنتم قوماً فسقین) ” اس لئے کہ تم نافرمان لوگ ہو۔ “ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے دائرے سے باہر نکلتے ہوئے لوگ ہو۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے فسق اور ان کے اعمال کا وصف بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (وما منعھم ان تقبل منھم نفقتھم الا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 53–54

قول باری ہے (قل انفقوا طوعاً اوکرھاً لن یتقبل منکم۔ ان سے کہہ دو ” تم اپنے مال خواہ راضی خوشی خرچ کردیا بکراہت، بہرحال وہ قبول نہیں کیے جائیں گے) “ آیت کے الفاظ کو امر۔ کے صیغے کی صورت میں لایا گیا ہے لیکن مراد اطاعت اور معصیت پر تمکین یعنی قدرت و اختیار کا بیان ہے جس طرح یہ قول باری ہے (فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر۔ جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر کرلے) ایک قول کے مطابق امر کا یہ صیغہ یعنی جملہ انشائیہ اس جملہ خبریہ کے معنوں میں ہے جس میں ” ان “ شرطیہ داخل ہوتا ہے اور اس کی جزا ہوتی ہے جس طروح کثیر کا شعر ہے۔ اسیئی بنا او احسنی لا ملومۃ لدینا ولا مقلیۃ ان تقلت اے محبوبہ ! خواہ تو ہمارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

115 منافقوں کی دو خاص علامتوں کا ذکر : یعنی ادائیگی نماز میں سستی و ریاکاری اور انفاق فی سبیل اللہ میں ثقل و ناگواری ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایمان و یقین کی دولت سے محرومی کا نتیجہ و انجام یہی ہوتا ہے کہ ایسی صورت میں کوئی شخض محض اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے کسی کام کے کرنے کا حوصلہ اور ہمت ہی نہیں پاسکتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس آیت کریمہ میں منافقوں کی دو علامتیں ذکر فرمائی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ نماز پڑھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے۔ اور دوسری یہ کہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو ناگواری کے ساتھ۔ سو اس میں ایک طرف تو یہ درس عبرت ہے کہ ایمان و عقیدہ کی محرومی کے بعد منافقانہ ایمان کا یہی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 47–59

منافقوں کے فتنوں سے بچنے کی تدابیر تشریح : ان آیات میں پہلے تو ان منافقین کا غزوہ تبوک میں شامل نہ ہونا باعث رحمت بتایا گیا ہے کیونکہ یہ لوگ اگر ساتھ چلے جاتے تو ان کا مقصد نہ تو جہاد کرنا ہوتا اور نہ ہی یہ مخلص ہوتے، اس لیے اگر یہ چلے جاتے تو صرف غلط سلط افواہوں سے مجاہدین میں بددلی، نااتفاقی اور کمزوری ہی پیدا کرنے کا کام انہوں نے کرنا تھا اور اس طرح فوج کو کمزور کرنے کا مقصد حاصل کرتے کیونکہ اگرچہ مسلمان ہوتے تو انسان ہی ہیں بعض ان کی باتوں میں آکر گھبرا بھی سکتے تھے اور ان کو اپنے خفیہ راز لاعلمی میں بتا دیتے اس لیے اچھا ہوا یہ جہاد میں ساتھ نہ گئے۔ یہ لوگ پہلے بھی اس قسم کا فساد پھیلا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 43–59

آیات 43 تا 59 اللہ نے آپ کو معاف تو کردیا مگر آپ ﷺ نے انھیں جہاد سے رہ جانے کی اجازت ہی کیوں دی ؟ اگر آپ ایسانہ کرتے تو بھی یہ جہاد میں شامل ہونے سے تو رہے ہاں سب لوگوں پہ ان کی اصلیت کھل جاتی اور نفاق واضح ہوجاتا ۔ رشتہ قلبی کے انداز یہاں اگر چہ بات ایک مشورے کے انداز میں ارشاد ہے کہ اگر آپ اجازت نہ دیتے تو ان کے پاس بہانہ نہ ہوتا مگر نبی اکرم ﷺ کے قلب اطہر کو جو تعلق ذات باری سے تھا وہ اس قدربات بھی برداشت نہ کرپاتا ۔ لہٰذ اسوالیہ انداز میں بات ارشاد فرمانے سے پہلے فرمایا عفا اللہ عنک اللہ نے آپ کو معاف فرمادیا کوئی نارزضگی یا خفگی کی بات نہیں مگر آپ نے ایسا کیوں کیا یہ معافی گناہ کی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 جیسے کسی پر زبر دستی بو جھ لاد دیا جائے۔ چونکہ ان دلوں میں ایمان نہیں ہے اس لیے انہیں نماز ایک بو جھ معلوم ہوتی ہے۔ ج معلوم ہوا کہ کفر اللہ کے ساتھ کوئی نیکی قبول نہیں ہوتی۔ علمانے لکھا ہے کہ لوگوں کے سامنے ہو اتو نماز پڑھ لی اور اکیلا ہوا تو چھوڑ دی۔ یہ بھی کسل فی الصلوٰۃ ہے۔ ( کبیر)4 جیسے کسی کو جرمانہ ادا کرنا پڑے کیونکہ انہیں ثواب سے تو کوئی غرض نہیں۔ جو کچھ دیتے ہیں محض لوگوں کو نکا ہوں میں بدنامی سے بچنے کے لیے دیتے ہیں۔ اسی بنا پر حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ادو ازکوٰۃ اموالکم طیبتہ بھا نفو سکم۔ کہ طبیعت کی خوشی سے اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرو۔ ( رازی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 54–55

(9:54) کسالی۔ کسلان کی جمع۔ سست۔ کاہل۔ جیسے سکاری سکران کی جمع ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دئیے ہوئے مال کی عدم قبولت کی یہ وجوہات ہیں۔ (1) انجم کفروا باللہ وبرسلہ۔ (2) لا یاتون الصلوۃ الادھم کسالی۔ (3) لا ینفقون الادھم کرھون۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 53–57

لغات القرآن آیت نمبر 53 تا 57 طوعاً (خوشی سے) کرھا (زبردستی) لن یتقبل (ہرگز قبول نہ کیا جائے گا) لایاتون (وہ نہیں آتے) کسالی (سستی کرنے والے) لاینفقون (وہ خرچ نہیں کرتے) کرھون (زبردستی) لاتعجبک (تجھے حیرت میں نہ ڈالے) تزھق (وہ نکالے) یحلفون (وہ قسم کھاتے ہیں) قوم یفرقون (وہ لوگ جو ڈرتے ہیں) یجدون (وہ پائیں گے) ملجا (ٹھکانا) مغرت (غار) مدخل (داخل ہونے کی جگہ، گھسنے کی جگہ ) یجمحون (سرکشی کرتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 53 تا 57 خطاب کا رخ ان منافقین کی طرف ہے جو جہاد میں جسم و جان کھپانے کو تیار نہ تھے البتہ دنیا دکھاوے اور اپنی لاج رکھنے کے لئے کچھ چندہ کے طور پر رقم دے کر یہ سمجھتے تھے کہ ہم نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 53–54

شان نزول : اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ قبیلہ بن سلمہ کے سردار جد بن قیس منافق نے تبوک کی لڑائی میں جانے سے جب یہ عذر پیش کیا کہ وہاں جاکر میں خوبصورت عورتوں کے فتنہ میں پڑجاؤں گا۔ اس عذر کے ساتھ اس نے دنیا سازی کے طور پر بھی کہا تھا کہ اس لڑائی میں کچھ روپے کی ضرورت ہو تو میں مدد دے سکتا ہوں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ جب ان لوگوں کا عقیدہ ہی درست نہیں ہے، تو ان کی کوئی عبادت مالی یا بدنی مقبول نہیں۔ اس واسطے ان کی کسی قسم کی مدد ہرگز قبول نہیں کی جاسکتی۔ منافقوں کے عملوں کے علاوہ اگر آدمی منافق نہ ہو لیکن اس کے نیک عملوں میں ریاکاری کا میل ہو تو تھوڑی ریا کاری سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 52–54

[30] مطلب یہ ہے کہ تم ہمارے لئے دو باتوں کو فرض کرسکتے ہو یعنی فتح یا موت، تو ہمارے لئے دونوں ہی باتوں میں خیر ہی خیر ہے۔ فتح کا خیر ہونا تو اجر اخروی اور منافع دنیوی دونوں کے اعتبار سے ظاہر ہی ہے۔ رہی موت تو اگر مومن اللہ کی راہ میں مارا جائے تو اس سے بڑی سعادت اس کے لئے کیا ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 54–56

(ف 2) یعنی منافقین گو عام مسلمانوں کے ساتھ ملے رہنے کی کوشش کرتے ہیں ، مگر ان کی عبادت وقربانی مقبول نہیں ، کیونکہ دلوں میں خلوص موجود نہیں وہ چندے دیتے ہیں ، تبرعات ملیہ میں حصہ لیتے ہیں ، مگر مجبوری سے ، اللہ کی محبت سے نہیں ، دفع الوقتی یا شہرت وریا کاری کے لئے نمازیں بھی پڑھتے ہیں روحانی حظ اٹھانے کے لئے نہیں محض بوجھ سمجھ کر ، اور ثقل خیال کرکے ، اس لئے ادا کرتے ہیں کہ لوگ انہیں مسلمانوں سے الگ نہ سمجھیں ۔ اسلامی خدمات و عبادات کا تعلق کیفیت قلب سے ہے دل میں اگر خلوص وایقان کی روشنی موجود نہ ہو تو ظاہری اعمال مقبول نہیں کیا آج کل ہماری مذہبی حالت بالکل یہی نہیں ؟ ہم بھی دینی معاملات میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

54 اور ان کی خیرات قبول کئے جانے سے بجز اس امر کے اور کوئی بات مانع نہیں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ کے ساتھ کفر کیا اور یہ نماز کو نہیں آتے مگر بڑی کاہلی اور ہار سے جی سے اور یہ خیرات نہیں کرتے مگر بادل ناخواستہ۔ یعنی یہ کفر اور اعتقاد کا فقدان عدم قبولیت کا سب سے بڑا سبب ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 52–55

ف 1۔ حاصل یہ کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہیں اس مصیبت میں بھی ہمارے فائدے کی رعایت کرتے ہیں اس لیے ہم ہر حال میں فائدہ میں ہیں بخلاف تمہارے کہ تمہاری خوش حالی کا انجام بھی وبال اور نکال ہے اگر دنیا میں نہیں تو آخرت میں ضرور ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جذبہ اخلاص کے ساتھ اس کے دین کی خدمت کرتے ہیں۔ اس قبولیت سے وہ خود محروم ہوئے ہیں محروم کئے نہیں گئے : 76: وضاحت فرمادی کہ خرچ کرنے کی قبولیت سے وہ محروم کئے نہیں گئے بلکہ خود اپنے اعمال کے باعث محروم ہوئے ہیں اور کسی چیز سے محروم ہونا اور محروم کیا جانا میں بہت بڑا فرق ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان کے جو تقاضے ہیں ان میں سے یہ کسی تقاضے کو بھی پورا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یہ اگر نمازوں میں آتے ہیں تو مارے باندھے محض دکھاوے کے لئے آتے ہیں اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ اگر نمازوں میں شامل نہ ہوں تو مسلمانوں کے اندر اپنے آپ کو شامل رکھنے کی کوئی صورت ہی نہیں ہے اس طرح اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 53–54

Commentary Mentioned in the previous verses were bad morals and bad deeds of the hypocrites. The same subject continues in the verses quoted above. As for the statement in verse 55 -- where it has been declared that the wealth and children of hypocrites should not be taken as a blessing for them as these are, in fact, a form of punishment from Allah -- it has a reason. Is it not that love for and engrossment in worldly life becomes a punishment right here in this world? One starts with desires to acquire worldly wealth, then goes through a series of hard work to establish the necessary…

Read the full tafseer →