Explained with ayahs 52–54
شہادت ملی تو جنت، بچ گئے تو غازی
مسلمانوں کے جہاد میں دو ہی انجام ہوتے ہیں اور دونوں ہر طرح اچھے ہیں اگر شہادت ملی تو جنت اپنی ہے اور اگر فتح ملی تو غنیمت و اجر ہے۔ پس اے منافقو تم جو ہماری بابت انتظار کر رہے ہو وہ انہی دو اچھائیوں میں سے ایک کا ہے اور ہم جس بات کا انتظار تمہارے بارے میں کر رہے ہیں وہ دو برائیوں میں سے ایک کا ہے یعنی یا تو یہ کہ اللہ کا عذاب براہ راست تم پر آجائے یا ہمارے ہاتھوں سے تم پر اللہ کی مار پڑے کہ قتل و قید ہوجاؤ۔ اچھا اب تم اپنی جگہ اور ہم اپنی جگہ منتظر رہیں دیکھیں پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے ؟ تمہارے خرچ کرنے کا اللہ بھوکا نہیں تم خوشی سے دو تو، اور ناراضگی سے دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
سورة التَّوْبَة 53
بعض منافق ایسے بھی تھے جو اپنے آپ کو خطرے میں ڈالنے کے لیے تو تیار نہ تھے، مگر یہ بھی نہ چاہتے تھے کہ اس جہاد اور اس کی سعی سے بالکل کنارہ کش رہ کر مسلمانوں کی نگاہ میں اپنی ساری وقعت کھو دیں اور اپنے نفاق کو علانیہ ظاہر کردیں۔ اس لیے وہ کہتے تھے کہ ہم جنگی خدمت کو انجام دینے سے تو اس وقت معذرت چاہتے ہیں، لیکن مال سے مدد کرنے کے لیے حاضر ہیں۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
آپ (ان منافقین سے) فرما دیجئے کہ تم (جہاد وغیرہ میں) خواہ خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے کسی طرح (خدا کے نزدیک) مقبول نہیں (کیونکہ) بلاشبہ تم نافرمانی کرنے والے لوگ ہو، (مراد اس سے کفر ہے جیسا کہ آگے آتا ہے) اور ان کی خیرات قبول ہونے سے اس کے سوا کوئی مانع نہیں کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا (اسی کو اوپر نافرمان کہا تھا اور کافر کا کوئی عمل مقبول نہیں) اور (اس کفر باطنی کی علامت ظاہر میں یہ ہے کہ) وہ لوگ نماز نہیں پڑھتے مگر ہارے جی سے اور (نیک کام میں) خرچ نہیں کرتے مگر ناگواری کے ساتھ (کیونکہ دل میں ایمان تو ہے نہیں جس سے امید ثواب ہو اور اس امید سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
53۔ 54: قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ يُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ ۭاِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِيْنَ۔ وَمَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّآ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَبِرَسُوْلِهٖ وَلَا يَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَهُمْ كُسَالٰى وَلَا يُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَهُمْ كٰرِهُوْنَ۔
نفاق کے ساتھ کوئی انفاق بھی قبول نہیں : یہ ان منافقین سے اظہارِ نفرت و کراہت ہے۔ فرمایا کہ ان کو سنا دو کہ تمہارا کوئی انفاق بھی، خواہ طوعاً ہو یا کرہاً ، خدا کے ہاں قبول نہیں۔ انفاق ان کا قبول ہوتا ہے جو خدا کے وفادار ہو۔ جو بدعہد اور غدار ہیں اور محض مارے باندھے یا دکھاوے اور نمائش…
Read the full tafseer →53۔ 1 انفقوا امر کا صیغہ۔ لیکن یہاں یہ تو شرط اور جزا کے معنی میں ہے۔ یعنی اگر تم خرچ کرو گے تو قبول نہیں کیا جائے گا یا یہ امر بمعنی خبر کے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دونوں باتیں برابر ہیں، خرچ کرو یا نہ کرو۔ اپنی مرضی سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے، تب بھی نہ مقبول ہے۔ کیونکہ قبولیت کے لئے ایمان شرط اول ہے اور وہی تمہارے اندر مفقود ہے اور ناخوشی سے خرچ کیا ہوا مال، اللہ کے ہاں ویسے ہی مردود ہے، اس لئے کہ وہاں قصد صحیح موجود نہیں ہے جو قبولیت کے لئے ضروری ہے۔ یہ آیت بھی اسی طرح ہے جس طرح یہ ہے (اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ۭاِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً فَلَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
44: جد بن قیس جس کا ذکر اوپر آیا ہے، اسی کے بارے میں ایک روایت یہ ہے کہ اس نے جنگ میں جانے سے تو مذکورہ بالا بےہودہ عذر پیش کیا تھا۔ لیکن یہ کہا تھا کہ اس کے بدلے میں اپنا مال چندے میں دوں گا (ابن جریر ج :10 ص :152)۔ اس کے جواب میں یہ آیت منافقین کے چندے کے ناقابل قبول ہونے کا اعلان کر رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
پیچھے رہنے والوں میں سے اور انتظار کرنے والون میں سے بعض ایسے لوگ بھی تے جنہوں نے اپنا مالی تعاون پیش کردیا تھا لیکن ذاتی طور پر جہاد میں شرکت سے وہ معذوری کا اظہار کر رہے تے اور یہ رویہ وہ اس لیے اختیار کر رہے تھے کہ وہ بدنام بھی نہ ہوں اور بین بین رہیں نہ ادھرکے نہ ادھر کے۔ چنانہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان جیسے لوگوں کے مالی تعاون کو مسترد کردیں کیونکہ یہ لوگ مالی تعاون کی پیشکش خوف اور دکھاوے کے لیے کرتے ی۔ ایمان کے تقاضوں اور اللہ پر بھروسے کی وجہ سے وہ یہ انفاق نہٰں کر رہے۔ خواہ وہ یہ کام دکھاوے کے لیے کر رہے ہوں اور اہل ایمان کو دھوکہ دے رہے ہوں یا مشرکین کے ڈر کی وجہ سے کر…
Read the full tafseer →4 جد بن قیس نے رومی عورتوں کے فتنہ کا بہانہ کر کے یہ بھی کہا تھا کہ حضرت میں بذات خود نہیں جاسکتا۔ لیکن مالی اعانت کرسکتا ہوں۔ اس کا جواب دیا کہ بےاعتقاد کا مال قبول نہیں خواہ خوشی سے خرچ کرے یا ناخوشی سے۔ یعنی خوشی سے خدا کے راستہ میں خرچ کرنے کی ان کو توفیق کہاں ( وَلَا يُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَهُمْ كٰرِهُوْنَ ) 9 ۔ التوبہ :54) تاہم اگر بالفرض خوشی سے بھی خرچ کریں تو خدا قبول نہ کرے گا۔ اس کا سبب اگلی آیت میں بتایا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 53 قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ کَرْہًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْکُمْ ط اِنَّکُمْ کُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ
یہاں منافقین کے ایک دوسرے حربے کا ذکر ہے کہ کچھ مال اسباب چندے کے طور پر لے آئے اور بہانہ بنایا کہ مجھے فلاں فلاں مجبوری ہے ‘ میں خود تو جانے سے معذور ہوں ‘ مجھے رخصت دے دیں اور یہ سازو سامان قبول کرلیں۔ ایسی صورت حال کے جواب میں فرمایا جا رہا ہے کہ اب جبکہ جہاد کے لیے بنفس نفیس نکلنا فرض عین ہے ‘ اس صورت حال میں روپیہ پیسہ اور سازو سامان اس کا بدل نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →57 منافق کا مال بھی قبول نہیں :۔ جد بن قیس نے رومی عورتوں کے فتنہ میں مبتلا ہوجانے کا بہانہ کر کے جہاد پر جانے سے تو معذرت کرلی مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ البتہ میں مالی اعانت کرنے کو تیار ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا۔ تم لوگ یہ مالی اعانت خوشی سے کرو یا مجبوراً کرو یہ قابل قبول نہیں۔ یہ بھی تم اپنے پاس ہی رکھو کیونکہ یہ تو واضح بات ہے کہ نافرمان یا منافق لوگ صرف اللہ کی رضا کے لیے کبھی صدقہ نہیں کرتے۔ وہ جب بھی کریں گے یا ریا کے لیے کریں گے یا مجبور ہو کر کریں گے۔ پھر ایسا صدقہ لینے کی بھی کیا ضرورت ہے ؟۔
Read the full tafseer →99 ۔ اور نافرمانی جو یہاں فقدان ایمان کے مرادف ہے تمہاری مالی اعانت کی مقبولیت سے مانع ہے۔ ایمان تو عنداللہ پہلی شرط قبول ہے اور عمل قبول کیسے ہوتا جبکہ خود ان لوگوں کو مقصود رضا وثواب وقرب تھا ہی نہیں۔ آیت کے اندر ہماری قوم کے امراء وروساء کے لئے بڑی عبرت پوشیدہ ہے جو پختگی ایمان اور حسن عمل کی طرف سے غافل، محض اپنے بھاری بھاری قومی چندوں پر نازاں اور انہی پر تکیہ کئے رہتے ہیں۔ مالی اعانت بھی بلاشبہ بہت بڑی خدمت ہے دین کی لیکن نفس ایمان اور ایمان صحیح کا وجود ان پر بھی مقدم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
شان نزول : قُل انفقوا طوعًا او کرھاً لن یتقبل منکم، تفسیر ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے اس آیت کا شان نزول یہ معلوم ہوتا ہے کہ قبیلہ بنی سلمہ کے سردار جد بن قیس منافق نے تبوک کی لڑائی میں جانے سے جب یہ عذر کردیا کہ میں وہاں جا کر رومی خوبصورت عورتوں کے فتنہ میں مبتلا ہوجائوں گا لہٰذا میں جنگی خدمت دینے سے تو معذور ہوں البتہ میں مالی مدد کرنے کو تیار ہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ جب ان کا عقیدہ ہی درست نہیں ہے تو ان کی کوئی عبادت خواہ مالی ہو یا بدنی قبول نہیں ہے۔
Read the full tafseer →قل انفقوا طوعا او کرھا لن یتقبل منکم انکم کنتم قوما فاسقین۔ آپ کہہ دیجئے کہ تم خواہ خوشی سے صدقہ دو یا ناگواری سے ‘ تم سے کسی طرح قبول نہیں کیا جائے گا ‘ کیونکہ بلاشبہ تم (مسلمانوں کے گروہ سے) خارج ہو۔
طوعًا اوکرہًاحال ہے۔ طوعًاسے مراد وہ صرف ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لازم نہیں کیا گیا اور کرھًاسے وہ دینا مراد ہے جس کو ادا کرنا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اللہ کی طرف سے جس صرف کو لازم کیا گیا ہے ‘ اس کو ادا کرنا منافقوں پر دشوار اور شاق تھا ‘ دل کو ناگوار تھا ‘ اسلئے اس کو کرہ (دل کی ناگواری) فرمایا۔ اَنْفِقُوْا اگرچہ امر کا صیغہ ہے لیکن خبر کے معنی میں…
Read the full tafseer →(53) اے محمد ﷺ آپ ان منافقوں سے فرما دیجیے کہ تم اپنے مالوں کو خواہ خوشی خوشی خرچ کرو یا قتل کے ڈر سے خرچ کرویہ چیز ہرگز قبول نہیں تم لوگ منافق ہو۔
شان نزول : (آیت) ”قل انفقوا“۔ (الخ)
ابن جریر ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جدی بن قیس کہنے لگا کہ میں عورتوں کو دیکھ کر صبر نہیں کرسکوں گا اور فتنہ میں پڑجاؤں گا لیکن میں اپنے مال سے آپ کی مدد ضرور کروں گا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، یعنی آپ فرما دیجیے خواہ تم خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشنی سیتم سے کسی طرح مال قبول نہیں کیا جائے گا، یہ اس کے قول کا جواب ہے۔
Read the full tafseer →قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا : اوپر کی آیت میں بتایا کہ منافقین کے لیے بہرحال عذاب ہے، اب اس آیت میں فرمایا کہ اس عذاب سے کسی طور وہ نجات نہیں پاسکتے، کیونکہ آخرت میں ان کی کوئی نیکی قبول نہیں ہے۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر بعض منافقین ایسے بھی تھے جو کہتے تھے کہ ہمیں ساتھ جانے سے معافی دی جائے، اس کے عوض ہم مالی اعانت پر تیار ہیں۔ وہ یہ بات اس لیے کہتے تھے کہ کہیں مسلمانوں میں بالکل ہی بدنام ہو کر نہ رہ جائیں، انھی کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا کہ جن لوگوں کے دلوں میں نفاق اور اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی دشمنی بھری ہو، ان کی مالی امداد کسی طور قبول نہیں، خواہ خوشی سے دیں یا…
Read the full tafseer →اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ آیت جد بن قیس کے بارے میں نازل ہوئی جب اس نے یہ کہا : مجھے گھر بیٹھے رہنے کی اجازت عطا فرمادیجئے اور یہ میرا مال ہے میں اس کے ساتھ آپ کی اعانت کروں گا۔ اور انفقوا کا لفظ امر ہے اور اس کا معنی شرط اور جزا ہے۔ عرب اسی طرح اس معنی میں استعمال کرتے ہیں ‘ وہ او کے ساتھ لاتے ہیں ‘ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے :
أسیٔ بنا أو أحسنی لا ملومۃ لدینا ولا مقلیۃ ان تقلت
اور اس کا معنی ہے ان أسات أو أحسنت فنحن علی ما تععر فین ( اگر تو نے گناہ کیا یا نیکی کی پس ہم اسی حال پر ہیں جس پر تو جانتی ہیں) اور آیت کا معنی ہے : ان أنفقتم طائعین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جدبن قیس نے کہا جب میں عورتوں کو دیکھوں گا تو صبر نہ کروں گا یہاں تک کہ فتنہ میں ڈالا جاوں گا۔ لیکن میں اپنے مال سے آپ کی مدد کروں گا۔ اللہ نے فرمایا کہ اس بارے میں آیت (آیت) ” قل انفقوا طوعا او کرھا لن یتقبل منکم “ اس کا سبب اس کا یہ کہنا تھا کہ میں اپنے مال سے آپ کی مدد کروں گا (اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر گزتم سے قبول نہیں کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہہ دیجیے ] اَنْفِقُوْا [ تم لوگ خرچ کرو ] طَوْعًا [ تابعدار ہوتے ہوئے ] اَوْ [ یا ] كَرْهًا [ ناپسند کرتے ہوئے ] لَّنْ يُّتَقَبَّلَ [ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا ] مِنْكُمْ ۭ [ تم لوگوں سے ] اِنَّكُمْ كُنْتُمْ [ بیشک تم لوگ ہو ] قَوْمًا [ ایک ایسی قوم جو ] فٰسِقِيْنَ [ نافرمانی کرنے والی ہے ]
Read the full tafseer →منافقین کا مال مقبول نہیں، جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم سے ہیں
صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ آیت (قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ کَرْھًا) جد بن قیس کے بارے میں نازل ہوئی جس نے کہا تھا کہ میں رومیوں کی عورتیں دیکھ کر بےصبر ہوجاؤں گا۔ اس لیے مجھے ساتھ نہ لے جائیے لیکن مال کے ذریعہ آپ کی مدد کر دوں گا۔ اس کے جواب میں فرمایا کہ تم خوشی سے خرچ کرو یا نا خوشی سے تم سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ قبول نہ ہونے کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ مال لے کر آؤ گے تو اللہ کے رسول ﷺ قبول نہ فرمائیں گے۔ اور دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ثواب نہ دے گا۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ دونوں ہی معنی مراد لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
بیان غیر مقبول بود صدقات ونفقات منافقین
قال اللہ تعالیٰ ٰ قل انفقوا طوعا او کرھا لن یتقبل منکم۔۔۔ الی وھم یجمحون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں جد بن قیس کے اس قول کا یعنی لاتفتننی کا جواب تھا جس میں اس نے رومی عورتوں کے فتنہ کا بہانہ بنا کر غزوہ میں جانے معذوری ظاہر کی تھی اب اس آیت میں اس کے دوسرے قول کا جواب ہے جو اس نے یہ کہا تھا کہ میں بذات خود تو جہاد میں نہیں جاسکتا لیکن روپیہ پیسہ سے اعانت کرسکتا ہوں اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ خدا تعالیٰ کے یہاں اس کا خرچ مقبول نہیں۔ قبول کے لیے ایمان اور اخلاص شرط ہے جو ان میں مفقود ہے ہے جن لوگوں کے دلوں میں ایمان نہ ہو اللہ کے یہاں ان کی عبادت قبول…
Read the full tafseer →52:“ طَوْعًا ” یعنی بلا الزام اور “ کَرْھًا ” بالالزام کیونکہ منافقین رضائے الٰہی کے لیے خرچ نہیں کرتے۔ منافقین میں چونکہ قبول اعمال کی شرط یعنی ایمان خالص مفقود ہے اس لیے ان کا کوئی عمل از قسم نفاق وغیرہ خدا کے یہاں قبول نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–54
جد ابن قیس :
اللہ تعالیٰ نے جہاد میں نفیر عام کا حکم دینے کے بعد منافقین کی مذمت بیان فرمائی ہے اور ان کے حیلے بہانوں کا رد کیا ہے۔ اسی سلسلہ میں بعض نمایاں منافقوں کا حال خصوصی طور پر بیان کیا ہے ۔ بنی (1۔ ابن کثیر ص 387 ، ج 2) (فیاض) سلمہ قبیلے کا سردار جد ابن قیس بظاہر کلمہ گو تھا مگر اس کے دل میں کفر تھا یہ وہی شخص ہے جو حدیبیہ کے موقع پر موجود تھا جب حضور ﷺ درخت کے نیچے صحابہ کرام سے بیعت رضوان لے رہے تھے تو یہ شخص اپنے گم شدہ اونٹ کی تلاش میں پھر رہا تھا۔ کسی شخص نے اس سے کہا کہ حضور ﷺ لوگوں سے بیعت لے رہے ہیں ، تم بھی ان میں شامل ہو جائو تو کہنے لگا ، میرا اونٹ ہی مجھے مل جائے تو اچھا…
Read the full tafseer →قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْہًا لَّنْ يُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ 0 ۭ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِيْنَ 53
نفق
نَفَقَ الشَّيْءُ : مَضَى ونَفِدَ ، يَنْفُقُ ، إِمَّا بالبیع نحو : نَفَقَ البَيْعُ نَفَاقاً ، ومنه : نَفَاقُ الأَيِّم، ونَفَقَ القَوْمُ : إذا نَفَقَ سُوقُهُمْ ، وإمّا بالمَوْتِ نحو : نَفَقَتِ الدَّابَّةُ نُفُوقاً ، وإمّا بالفَنَاءِ نحو : نَفِقَتِ الدَّرَاهِمُ تُنْفَقُ وأَنْفَقْتُهَا . والإِنْفَاقُ قد يكون في المَالِ ، وفي غَيْرِهِ ، وقد يكون واجباً وتطوُّعاً ، قال تعالی: وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ البقرة/ 195] ، وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 254]
( نق ) نفق
(…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–54
1 ؎ یعنی رسول کی نافرمانی کیا کم فتنہ ہے۔ 12 منہ
ترکیب : منہم خبر ہے من یقول کی اور جملہ معطوف ہے کلام سابق پر۔ ان تصبک شرط تسئوھم جواب الا ما فاعل یصیب کا ان یصبکم مفعول ہے نتربص کا بکم اس سے متعلق ان تقبل کا مفعول مالم یسم فاعلہ نفقاتہم جملہ موضع نصب میں ہے بدل ہو کر مفعول منہم سے۔
تفسیر : منافقوں میں سے ایک شخص جد بن قیس تھا۔ اس نے یہ عذر کیا کہ میں رومی عورت دیکھ کر صبر نہیں کرسکتا مجھے فتنہ میں نہ ڈالئے ٗ اجازت دیجئے۔ آپ نے ترش رو ہو کر فرمایا ٗ اجازت۔ ومنہم من یقول میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ باقی ان کے حالات ترجمہ سے ظاہر ہیں۔ ہمارے لئے دو خوبیوں میں ایک تو ضرور ہے یا شہادت یا فتح و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْکَرْھًا لَّنْ یُّتَقَبَّلُ مِنْکُمْ ط اِنَّکُمْ کُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ وَمَا مَنَعَھُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْھُمْ ز نَفَقٰـتُھُمْ اِلَّا اَنَّھُمْ کَفَرُوْابِاللّٰہِ وَبِرَسُوْلِہٖ وَلَا یَاْ تُوْنَ الصَّلٰوۃَ اِلَّا وَھُمْ کُسَالٰی وَلَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّاوَھُمْ کٰرِھُوْنَ ( التوبۃ : 53، 54)
(ان سے کہہ دیجیے ! تم خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا بیشک تم ایک نافرمان قوم ہو۔ یہ اپنے انفاق کی قبولیت سے صرف اس لیے محروم ہوئے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور وہ نماز کے لیے نہیں آتے مگر سست سست اور وہ خرچ نہیں کرتے مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
فہم القرآن
ربط کلام : منافق کے طرزعمل پر تبصرہ جاری ہے۔ منافق کی منافقت کی وجہ سے جس طرح اس کے دیگر اعمال ضائع ہوتے ہیں اسی طرح اس کا صدقہ و خیرات بھی ضائع ہوجاتا ہے۔
ایمان میں کھوٹے لوگ جب مسلمانوں کی طاقت محسوس کرتے ہیں تو منافقت کا وطیرہ اختیار کرتے ہیں تاکہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں سے فائدہ اٹھائیں۔ یہ حال نبی ﷺ کے زمانے کے منافقوں کا تھا اس کے لیے کفار کے خلاف جنگ میں مسلمانوں کے ساتھ مل کر میدان کار زار میں پہنچتے اور اپنی منافقت کو چھپانے کے لیے مال خرچ کرتے تھے تاکہ ان کی منافقت چھپ سکے۔ انھیں ان کے صدقہ و خیرات کے بارے میں بتلایا گیا ہے کہ بیشک تم خوشی سے خرچ کرو یا بادل…
Read the full tafseer →آیت 53: قُلْ اَنْفِقُوْا (آپ فرما دیں تم خرچ کرو) نیکی کے راستہ میں طَوْعًا اَوْکَرْھًا (خوشی و ناخوشی) پسند و ناپسند۔
نحو : یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔
قراءت : حمزہ، علی نے کُرْھًا۔ کاف کی پیش سے پڑھا ہے۔ یہ امر ہے جو خبر کے معنی میں ہے۔
تمہاری کوئی بات قابل قبول نہیں :
مطلب یہ ہے۔ لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْکُمْ (تم سے کسی طرح قبول نہ ہوگا) ای انفقتم طوعًا اوکرھا تم پسند و ناپسند جس صورت میں بھی خرچ کرو ہرگز قابل قبول نہ ہوگا۔ اور دوسری آیت میں اسی طرح فرمایا۔ استغفرلھم اولاتستغفر لھم ( التوبہ : 80) ان کے حق میں استغفار کرنا نہ کرنا برابر ہے۔
اور ایک شاعر کا یہ قول
؎ اَبینی بنا اواحسنی لا…
Read the full tafseer →تفسیر 53۔” قل انفقوا طوعا او کرھا “ امر شرط اور جزاء کے معنی میں ہے۔ یعنی اگر تم خوشی سے یا جبراً خرچ کرو ۔ یہ آیت جد بن قیس کے بارے میں نازل ہوئی کہ اس نے جنگ میں نہ جانے کی اجرت مانگی اور کہا کہ میں اپنے مال سے مدد کروں گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” لن یتقبل منکم انکم “ اس لئے کہ تم ” کنتم قوما فسقین “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
53۔ 54۔ تفسیر ابن جریر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قبیلہ بنی سلمہ کے سردار جدبن قیس منافق نے تبوک کی لڑائی میں جانے سے جب یہ عذر پیش کیا کہ وہاں جاکر میں خوبصورت عورتوں کے فتنہ میں پڑجاؤں گا اس عذر کے ساتھ اس نے دنیا سازی کے طور پر یہ بھی کہا تھا کہ اس لڑائی میں کچھ روپے کی ضرورت ہو تو میں مدد دے سکتا ہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائی اور فرما دیا کہ جب ان لوگون کا عقیدہ ہی درست نہیں ہے تو ان کی کوئی عبادت مالی یا بدنی مقبول نہیں اس واسطے ان کا مدد خرچ ہرگز قبول نہیں کیا جاسکتا طبرانی کے حوالہ سے معتبر سند کی انس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
آیات 53
اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کے صدقات کے بطلان اور اس کے سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (قل) ان سے کہہ دیجیے (انفقوا طوعاً ) ” خوشی سے خرچ کرو۔ “ یعنی بطیب خاطر خرچ کرو (اوکرھاً ) ” یا ناخشوی سے “ یا اپنے اختیار کے بغیر ناگواری کے ساتھ خرچ کرو۔ (لن یتقبل منکم) ” تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ “ اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو قبول نہیں کرے گا۔ (انکم کنتم قوماً فسقین) ” اس لئے کہ تم نافرمان لوگ ہو۔ “ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے دائرے سے باہر نکلتے ہوئے لوگ ہو۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے فسق اور ان کے اعمال کا وصف بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (وما منعھم ان تقبل منھم نفقتھم الا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
قول باری ہے (قل انفقوا طوعاً اوکرھاً لن یتقبل منکم۔ ان سے کہہ دو ” تم اپنے مال خواہ راضی خوشی خرچ کردیا بکراہت، بہرحال وہ قبول نہیں کیے جائیں گے) “ آیت کے الفاظ کو امر۔ کے صیغے کی صورت میں لایا گیا ہے لیکن مراد اطاعت اور معصیت پر تمکین یعنی قدرت و اختیار کا بیان ہے جس طرح یہ قول باری ہے (فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر۔ جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر کرلے) ایک قول کے مطابق امر کا یہ صیغہ یعنی جملہ انشائیہ اس جملہ خبریہ کے معنوں میں ہے جس میں ” ان “ شرطیہ داخل ہوتا ہے اور اس کی جزا ہوتی ہے جس طروح کثیر کا شعر ہے۔
اسیئی بنا او احسنی لا ملومۃ لدینا ولا مقلیۃ ان تقلت
اے محبوبہ ! خواہ تو ہمارے…
Read the full tafseer →114 منافق کا انفاق کبھی قبول نہیں ہوگا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ تم لوگ خواہ خوشی سے خرچ کرو یا ناگواری سے بہرحال تم سے کبھی قبول نہیں کیا جائے گا کہ تم لوگ پکے بدکار ہو۔ پس ایسے منافقوں کا انفاق کبھی قبول نہیں ہوگا۔ نہ تو اس میں اخلاص ہے اور نہ ہی رضاء ِالہی کا قصد۔ اور اس طرح کا کوئی بھی صدقہ و انفاق قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ یہ آیت کریمہ نازل تو اگرچہ منافقین کے بارے میں ہوئی مگر حکم اس کا عام ہے کہ جس صدقہ و خیرات میں بھی رضائِ الہی مقصود نہ ہو وہ قابل قبول نہیں۔ خواہ وہ کہیں بھی ہو اور کسی کی طرف سے بھی ہو۔ (جامع البیان وغیرہ) کہ اس کی بارگاہ اقدس و اعلیٰ میں وہی چیز شرف قبولیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–59
منافقوں کے فتنوں سے بچنے کی تدابیر
تشریح : ان آیات میں پہلے تو ان منافقین کا غزوہ تبوک میں شامل نہ ہونا باعث رحمت بتایا گیا ہے کیونکہ یہ لوگ اگر ساتھ چلے جاتے تو ان کا مقصد نہ تو جہاد کرنا ہوتا اور نہ ہی یہ مخلص ہوتے، اس لیے اگر یہ چلے جاتے تو صرف غلط سلط افواہوں سے مجاہدین میں بددلی، نااتفاقی اور کمزوری ہی پیدا کرنے کا کام انہوں نے کرنا تھا اور اس طرح فوج کو کمزور کرنے کا مقصد حاصل کرتے کیونکہ اگرچہ مسلمان ہوتے تو انسان ہی ہیں بعض ان کی باتوں میں آکر گھبرا بھی سکتے تھے اور ان کو اپنے خفیہ راز لاعلمی میں بتا دیتے اس لیے اچھا ہوا یہ جہاد میں ساتھ نہ گئے۔ یہ لوگ پہلے بھی اس قسم کا فساد پھیلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–59
آیات 43 تا 59
اللہ نے آپ کو معاف تو کردیا مگر آپ ﷺ نے انھیں جہاد سے رہ جانے کی اجازت ہی کیوں دی ؟ اگر آپ ایسانہ کرتے تو بھی یہ جہاد میں شامل ہونے سے تو رہے ہاں سب لوگوں پہ ان کی اصلیت کھل جاتی اور نفاق واضح ہوجاتا ۔
رشتہ قلبی کے انداز
یہاں اگر چہ بات ایک مشورے کے انداز میں ارشاد ہے کہ اگر آپ اجازت نہ دیتے تو ان کے پاس بہانہ نہ ہوتا مگر نبی اکرم ﷺ کے قلب اطہر کو جو تعلق ذات باری سے تھا وہ اس قدربات بھی برداشت نہ کرپاتا ۔ لہٰذ اسوالیہ انداز میں بات ارشاد فرمانے سے پہلے فرمایا عفا اللہ عنک اللہ نے آپ کو معاف فرمادیا کوئی نارزضگی یا خفگی کی بات نہیں مگر آپ نے ایسا کیوں کیا یہ معافی گناہ کی نہیں…
Read the full tafseer →ف 2 اوپر کی آیت میں تبایا گیا ہے منافقین کے لے بہر حال عذاب ہے۔ اب اس آیت میں فرمایا کہ اس عذاب سے کسی طور رہ نجات نہیں پاسکتے کیونکہ آخرت میں ان کی کوئی نیکی قابل قبول نہیں ہے۔ ( کبیر) غزوہ تبوک کے موقع پر بعض منافقین ایسے بھی تھے جو کہتے تھے کہ ہمیں ساتھ جانے تو معافی دیدی جائے لیکن اس کے عوض ہم مالی اعانت کرنے کا تیار ہیں۔ وہ یہ بات اس لیے کہ کہتے تھے کہ کہیں مسلمانوں میں بالکل ہی بد نام ہو کر رہ جائیں۔ انہی کو دلوں میں نفاق اور اللہ و رسول ﷺ کی دشمنی بھری ہو ان کی مالی امداد کسی طور پر نہیں کی جاسکتی خوشی سے دیں یا مجبورا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : جدبن قیس نے مال خرچ کرنے کی بات جو کہا تھا اس…
Read the full tafseer →(9:53) انفقوا۔ تم خرچ کرو انفاق (افعال) سے امر کا صیغہ۔ جمع مذکر حاضر۔ یہاں خبر کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی تم خوشی سے خرچ کرو یا مجبوری سے (تمہاری طرف سے یہ خرچ قبول نہیں کیا جائے گا) اس کی مثال قرآن میں ہے : استغفرلہم اولا تستغفرلہم (9: 80) آپ ان کے لئے بخشش طلب کریں یا نہ کریں۔
لن یتقبل۔ مضارع مجہول نفی تاکید بلن۔ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ ای لن یتقبل منکم نفقاتکم انفقتم طوعا اوکرھا۔ یعنی بخوشی جو مال بھی خرچ کرو گے ہرگز قبول نہیں کیا جائیگا۔
طوعا۔ فرماں برداری۔ اطاعت۔ مصدر ہے اور کرہ کی ضد ہے اس کا فعل نصر اور سمع دونوں ابواب سے آتا ہے۔
کرھا۔ مصدر ہے۔ ناگوار ہونا۔ ناخوشی۔ مجبوری۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
لغات القرآن آیت نمبر 53 تا 57
طوعاً (خوشی سے) کرھا (زبردستی) لن یتقبل (ہرگز قبول نہ کیا جائے گا) لایاتون (وہ نہیں آتے) کسالی (سستی کرنے والے) لاینفقون (وہ خرچ نہیں کرتے) کرھون (زبردستی) لاتعجبک (تجھے حیرت میں نہ ڈالے) تزھق (وہ نکالے) یحلفون (وہ قسم کھاتے ہیں) قوم یفرقون (وہ لوگ جو ڈرتے ہیں) یجدون (وہ پائیں گے) ملجا (ٹھکانا) مغرت (غار) مدخل (داخل ہونے کی جگہ، گھسنے کی جگہ ) یجمحون (سرکشی کرتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 53 تا 57
خطاب کا رخ ان منافقین کی طرف ہے جو جہاد میں جسم و جان کھپانے کو تیار نہ تھے البتہ دنیا دکھاوے اور اپنی لاج رکھنے کے لئے کچھ چندہ کے طور پر رقم دے کر یہ سمجھتے تھے کہ ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
شان نزول : اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ قبیلہ بن سلمہ کے سردار جد بن قیس منافق نے تبوک کی لڑائی میں جانے سے جب یہ عذر پیش کیا کہ وہاں جاکر میں خوبصورت عورتوں کے فتنہ میں پڑجاؤں گا۔ اس عذر کے ساتھ اس نے دنیا سازی کے طور پر بھی کہا تھا کہ اس لڑائی میں کچھ روپے کی ضرورت ہو تو میں مدد دے سکتا ہوں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ جب ان لوگوں کا عقیدہ ہی درست نہیں ہے، تو ان کی کوئی عبادت مالی یا بدنی مقبول نہیں۔ اس واسطے ان کی کسی قسم کی مدد ہرگز قبول نہیں کی جاسکتی۔ منافقوں کے عملوں کے علاوہ اگر آدمی منافق نہ ہو لیکن اس کے نیک عملوں میں ریاکاری کا میل ہو تو تھوڑی ریا کاری سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
[30] مطلب یہ ہے کہ تم ہمارے لئے دو باتوں کو فرض کرسکتے ہو یعنی فتح یا موت، تو ہمارے لئے دونوں ہی باتوں میں خیر ہی خیر ہے۔ فتح کا خیر ہونا تو اجر اخروی اور منافع دنیوی دونوں کے اعتبار سے ظاہر ہی ہے۔ رہی موت تو اگر مومن اللہ کی راہ میں مارا جائے تو اس سے بڑی سعادت اس کے لئے کیا ہوسکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
(ف 1) غرض یہ ہے کہ منافقین مسلمانوں کے لئے دو باتوں کے منتظر رہتے ، غنیمت کے ، اور جامع شہادت کے پہلی صورت میں شرکت وحصہ داری کا خیال اور دوسری میں موت پر اظہار مسرت ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ دونوں باتیں مسلمان کے لئے باعث برکت ہیں کامیاب رہیں تو دنای کے مال و دولت سے حصہ پائیں ، میدان میں کھیت رہیں ، توحیات جاوید کے حقدار ٹھہریں ، البتہ ہم جس چیز کا انتظار کر رہے ہیں وہ تمہارے حق میں اچھی نہیں ۔ ہم اللہ کے عذاب کے منتظر ہیں جو آئے اور تمہارے فتنوں کو ختم کر دے ۔
Read the full tafseer →53 آپ فرما دیجئے تم خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی اور ناگواری سے خرچ کرو تمہاری جانب سے کوئی خیرات قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ تم نافرمان اور عدول حکمی کرنے والے ہو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وہ جو مدد خرچ دینے لگا سو جواب ملا بےاعتقاد کا مال قبول نہیں۔ 12
کرھاً کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی زبردستی کی جاتی تھی بلکہ منافق بددن اعتقاد کے کچھ دیتے اسے کرھاً فرمایا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ قبول ہی نہیں کیا جاتا تھا پھر جبرکیسا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
ف 1۔ حاصل یہ کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہیں اس مصیبت میں بھی ہمارے فائدے کی رعایت کرتے ہیں اس لیے ہم ہر حال میں فائدہ میں ہیں بخلاف تمہارے کہ تمہاری خوش حالی کا انجام بھی وبال اور نکال ہے اگر دنیا میں نہیں تو آخرت میں ضرور ہے۔
Read the full tafseer →منافق خوشی سے خرچ کریں یا ناخوشی سے ان کے لئے قبولیت نام کی کوئی شے نہیں ہے :
75: منافق اور کافر میں یہی فرق ہے کہ منافق کھلی مخالفت نہیں کرسکتے تھے اس لئے ان کو نمازوں میں حاضری اور جہاد کے لئے چندے دینے پڑتے تھے اور بعض اوقات جنگوں کے لئے بھی نکلنا پڑتا تھا۔ زیر نظر آیت میں منافقین سے اظہار نفرت و کراہت کی جارہی ہے فرمایا کہ ان کو کہہ دو تمہارا کوئی انفاق بھی اب قبول نہیں کیا جائے گا خواہ طوفاً ہو یا کرہاً وہ اللہ کے ہاں ہرگز قبول نہیں۔ انفاق ان کا قبول ہوتا ہے جو رب العزت کے وفادار ہوں جو بدعہد اور غدار ہیں وہ محض مارے باندھے یا دکھاوے اور نمائش کے لئے خرچ کرتے ہیں ان کے انفاق کی اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
Commentary
Mentioned in the previous verses were bad morals and bad deeds of the hypocrites. The same subject continues in the verses quoted above. As for the statement in verse 55 -- where it has been declared that the wealth and children of hypocrites should not be taken as a blessing for them as these are, in fact, a form of punishment from Allah -- it has a reason. Is it not that love for and engrossment in worldly life becomes a punishment right here in this world? One starts with desires to acquire worldly wealth, then goes through a series of hard work to establish the necessary…
Read the full tafseer →