At-Tawba 9:52

At-Tawba · from ayah 52

9:52

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِ ؕ— وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا ۖؗ— فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ ۟قُلۡ هَلۡ تَرَبَّصُوۡنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡدَى الۡحُسۡنَيَيۡنِ‌ؕ وَنَحۡنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمۡ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنۡ عِنۡدِهٖۤ اَوۡ بِاَيۡدِيۡنَا  ‌ۖ فَتَرَبَّصُوۡۤا اِنَّا مَعَكُمۡ مُّتَرَبِّصُوۡنَ

کہہ دو کہ تم ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے ایک کے منتظر ہو اور ہم تمہارے حق میں اس بات کے منتظر ہیں کہ خدا (یا تو) اپنے پاس سے تم پر کوئی عذاب نازل کرے یا ہمارے ہاتھوں سے (عذاب دلوائے) تو تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Do you await for us except one of the two best things while we await for you that Allah will afflict you with punishment from Himself or at our hands? So wait; indeed we, along with you, are waiting."

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 7 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:52

ان سے کہو، "تم ہمارے معاملہ میں جس چیز کے منتظر ہو وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی ہے اور ہم تمہارے معاملہ میں جس چیز کے منتظر ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ خود تم کو سزا دیتا ہے یا ہمارے ہاتھوں دلواتا ہے؟ اچھا تو اب تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ تم ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے ایک کے منتظر ہو اور ہم تمہارے حق میں اس بات کے منتظر ہیں کہ خدا (یا تو) اپنے پاس سے تم پر کوئی عذاب نازل کرے یا ہمارے ہاتھوں سے (عذاب دلوائے) تو تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دیجئے کہ تم ہمارے بارے میں جس چیز کا انتظار کر رہے ہو وه دو بھلائیوں میں سے ایک ہے اور ہم تمہارے حق میں اس کا انتظار کرتے ہیں کہ یا تو اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے کوئی سزا تمہیں دے یا ہمارے ہاتھوں سے، پس ایک طرف تم منتظر رہو دوسری جانب تمہارے ساتھ ہم بھی منتظر ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : تم ہمارے لیے جس چیز کے منتظر ہو، وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ (آخر کار) دو بھلائیوں میں سے ایک نہ ایک بھلائی ہمیں ملے۔ اور ہمیں تمہارے بارے میں انتظار اس کا ہے کہ اللہ تمہیں اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں سزا دے۔ بس اب انتظار کرو، ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ تم ہم پر کس چیز کا انتظار کرتے ہو مگر دو خوبیوں میں سے ایک کا اور ہم تم پر اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تم پر عذاب ڈالے اپنے پاس سے یا ہمارے ہاتھوں تو اب راہ دیکھو ہم بھی تمہارے ساتھ راہ دیکھ رہے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ فرما دیں: کیا تم ہمارے حق میں دو بھلائیوں (یعنی فتح اور شہادت) میں سے ایک ہی کا انتظار کر رہے ہو (کہ ہم شہید ہوتے ہیں یا غازی بن کر لوٹتے ہیں)؟ اور ہم تمہارے حق میں (تمہاری منافقت کے باعث) اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ اپنی بارگاہ سے تمہیں (خصوصی) عذاب پہنچاتا ہے یا ہمارے ہاتھوں سے۔ سو تم (بھی) انتظار کرو ہم (بھی) تمہارے ساتھ منتظر ہیں (کہ کس کا انتظار نتیجہ خیز ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے تم ہمارے بارے میں دو بہترین چیزوں میں سے ایک کے سوا کس کا انتظار کرتے ہو اور ہم تمہارے بارے میں انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ تمہیں اپنے پاس سے کوئی عذاب پہنچائے، یا ہمارے ہاتھوں سے۔ سو انتظار کرو، بیشک ہم (بھی) تمہارے ساتھ منتظر ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز ان سے کہئے کہ : تم ہمارے حق میں جس چیز کا انتظار کرسکتے ہو وہ یہی ہے کہ ہمیں دو بھلائیوں میں سے کوئی ایک بھلائی مل جائے اور ہم تمہارے حق میں جس چیز کے منتظر ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ تمہیں اپنے ہاں سے خود سزا دیتا ہے یا ہمارے ہاتھوں دلواتا ہے۔ لہذا تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان سے کہہ دو کہ تم تو بہرحال ہمارے لیے دو بھلائیوں ہی میں سے کسی ایک کے متوقع ہو۔ لیکن ہم تمہارے باب میں اس امر کے متوقع ہیں کہ اللہ یا تو تم پر اپنے پاس سے عذاب بھیجے گا یا ہمارے ہاتھوں۔ تو تم بھی متوقع رہو، ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں شامل ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ان سے) کہو کہ تم لوگ ہمارے بارے میں انتظار نہیں کرتے مگر دو بھلائیوں میں سے ایک کا، جب کہ ہم تمہارے بارے میں اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تم پر واقع کردے کوئی عذاب (براہ راست) اپنی طرف سے، یا ہمارے ہاتھوں سے دلوائے، سو تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

آپ یہ (بھی) کہہ دیجیے کہ تم تو ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے ایک (بھلائی) کے منتظر رہتے ہو۔ درآنحالیکہ ہم تمہارے حق میں انتظار اس کا کرتے رہتے ہیں کہ اللہ تم پر کوئی عذاب واقع کرے گا اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں سے۔ سو تم انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ (اپنے طور پر) منتظر ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(ان سے) کہیے کہ تم ہمارے بارے میں کس شے کا انتظار کرسکتے ہو سوائے دو نہایت عمدہ چیزوں میں سے کسی ایک کے ! اور (اے منافقو !) ہم منتظر ہیں تمہارے بارے میں کہ اللہ تمہیں پہنچائے کوئی عذاب اپنے پاس سے یا ہمارے ہاتھوں تو تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرما دیں کہ تم ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے ایک کے منتظر ہو اور ہم تمہارے حق میں اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ یا تو خود تمہارے اوپر عذاب نازل کرے یا ہمارے ہاتھوں عذاب دلوائے تو تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Tell them: "What you await to befall upon us is nothing but one of the two good things! And what we await for you is that Allah visit you with chastisement from Him or chastise you at our hands. So continue waiting; we too shall wait with you."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :What you are expecting for us is nothing but one of the two good things (martyrdom or victory). And we are expecting for you that Allah sends to you a punishment from Himself or at our hands. So, wait. Of course, we are waiting with you.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :What you are expecting for us is nothing but one of the two good things (martyrdom or victory). And we are expecting for you that Allah sends to you a punishment from Himself or at our hands. So, wait. Of course, we are waiting with you.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "Do you wait for us (anything) except one of the two best things; while we await for you either that Allah will afflict you with a punishment from Himself or at our hands. So wait, we too are waiting with you."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: Can ye await for us aught save one of two good things (death or victory in Allah's way)? while we await for you that Allah will afflict you with a doom from Him or at our hands. Await then! Lo! We are awaiting with you.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Do you await for us except one of the two best things while we await for you that Allah will afflict you with punishment from Himself or at our hands? So wait; indeed we, along with you, are waiting."

— Saheeh International

For us, you can anticipate nothing other than Paradise if we are killed or success if we triumph. However, what we can anticipate for you is either punishment by the hands of God or by ours. Wait and we, too, are waiting with you.

— Muhammad Sarwar

Say: Do you await for us but one of two most excellent things? And we await for you that Allah will afflict you with punishment from Himself or by our hands. So wait; we too will wait with you.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou await ye for us ought save one of the two excellences; while for you we wait that Allah shall afflict you with a torment from Himself or at our hands. Await then, we also are with you awaiting.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "Can you expect for us (any fate) other than one of two glorious things- (Martyrdom or victory)? But we can expect for you either that Allah will send his punishment from Himself, or by our hands. So wait (expectant); we too will wait with you."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:52

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 52–54

شہادت ملی تو جنت، بچ گئے تو غازی مسلمانوں کے جہاد میں دو ہی انجام ہوتے ہیں اور دونوں ہر طرح اچھے ہیں اگر شہادت ملی تو جنت اپنی ہے اور اگر فتح ملی تو غنیمت و اجر ہے۔ پس اے منافقو تم جو ہماری بابت انتظار کر رہے ہو وہ انہی دو اچھائیوں میں سے ایک کا ہے اور ہم جس بات کا انتظار تمہارے بارے میں کر رہے ہیں وہ دو برائیوں میں سے ایک کا ہے یعنی یا تو یہ کہ اللہ کا عذاب براہ راست تم پر آجائے یا ہمارے ہاتھوں سے تم پر اللہ کی مار پڑے کہ قتل و قید ہوجاؤ۔ اچھا اب تم اپنی جگہ اور ہم اپنی جگہ منتظر رہیں دیکھیں پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے ؟ تمہارے خرچ کرنے کا اللہ بھوکا نہیں تم خوشی سے دو تو، اور ناراضگی سے دو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّوْبَة 52 منافقین حسب عادت اس موقع پر بھی کفر و اسلام کی اس کشمکش میں حصہ لینے کے بجائے اپنی دانست میں کمال دانشمندی کے ساتھ دور بیٹھے ہوئے یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ اس کشمکش کا انجام کیا ہوتا ہے، رسول اور اصحاب رسول فتحیاب ہو کر آتے ہیں یا رومیوں کی فوجی طاقت سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجاتے ہیں۔ اس کا جواب انہیں یہ دیا گیا ہے کہ جن دو نتیجوں میں سے ایک کے ظہور کا تمہیں انتظار ہے، اہل ایمان کے لیے تو وہ دونوں ہی سراسر بھلائی ہیں۔ وہ اگر فتحیاب ہوں تو اس کا بھلائی ہونا تو ظاہر ہی ہے۔ لیکن اگر اپنے مقصد کی راہ میں جانیں لڑاتے ہوئے وہ سب کے سب پیوند خاک ہوجائیں تب بھی دنیا کی نگاہ میں چاہے یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

نویں آیت نے مرد مومن کی ایک البیلی شان کا ذکر کرکے ان کی مصیبت پر خوش ہو نیوالے منافقین کو یہ جواب دے دیا کہ تم جس چیز کو ہمارے لئے مصیبت سمجھ کر خوش ہوتے ہو ہمارے نزدیک وہ مصیبت بھی مصیبت نہیں، بلکہ راحت و کامیابی ہی کی ایک دوسری صورت ہے، کیونکہ مرد مومن اپنے عزم میں ناکام ہو کر بھی کامیاب رہتا ہے، اور بگڑنے میں بھی بنتا ہے۔ نہ شوخی چل سکی باد صبا کی بگڑنے میں بھی زلف اس کی نبا کی مذکورہ آیت میں (آیت) هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلَّآ اِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ ، کا یہی مطلب ہے اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا کہ کفار کا حال اس کے بالکل بر عکس ہے کہ ان کو کسی حال عذاب و مصیبت سے چھٹکارا نہیں، یا تو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 51–52

51۔ 52: مومنین کے لیے مصیبت اور راحت، دونوں میں خیر ہے : یہ جواب ہے اوپر والی بات کا کہ اگر یہ تمہیں کسی افتاد کے پیش آنے سے خوش ہوتے ہیں تو انہیں بتا دو کہ ہمیں وہی کچھ پیش آئے گا جو خدا نے ہمارے لیے لکھ رکھا ہے، وہ ہمارا مولیٰ ہے اور ہمیں اس پر پورا بھروسہ ہے کہ اس نے جو کچھ ہمارے لیے لکھ رکھا ہے اسی میں ہماری دنیا اور آخرت کی بہبود ہے۔ اگر تم ہمارے لیے کسی مصیبت کے خواہاں ہو تو ہمارا یہ ایمان ہے کہ وہ تمہارے کہنے سے نہیں آئے گی بلکہ ہمارے رب ہی کے چاہنے سے آئے گی اور اسی میں ہمارے لیے بہتری ہوگی۔ اہل ایمان کے لیے مصیبت اور راحت دکھ اور سکھ، موت اور زندگی دونوں ہی میں خیر ہے۔ ایک سے مومن کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

52۔ 1 یعنی کامیابی یا شہادت، ان دونوں میں سے جو چیز بھی ہمیں حاصل ہو، ہمارے لئے خیر (بھلائی) ہے۔ 52۔ 2 یعنی ہم تہارے بارے میں دو برائیوں میں سے ایک برائی کا انتظار کر رہے ہیں کہ یا تو آسمان سے اللہ تعالیٰ تم پر عذاب نازل فرمائے جس سے تم ہلاک ہوجاؤ یا ہمارے ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ تمہیں (قتل کرنے، یا قیدی بننے وغیرہ قسم کی) سزائیں دے۔ وہ دونوں باتوں پر قادر ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

43: یعنی یا تو ہمیں فتح ہو، یا ہم اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہید ہوجائیں، اور ہمارے لیے یہ دونوں باتیں بھلائی کی ہیں، تم سمجھتے ہو کہ اگر ہم شہید ہوگئے تو ہمارا نقصان ہوگا۔ حالانکہ شہادت نقصان کا نہیں بڑے فائدے کا سودا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان سے کہو تم ہمارے معاملہ میں جس چیز کے منتظر ہو وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی ہے۔ اور ہم تمہارے معاملہ میں جس چیز کے منتظر ہیں۔ وہ یہ ہے کہ اللہ خود تم کو سزا دیتا ہے یا ہمارے ساتھ دلواتا ہے ؟ اچھا تو اب تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں۔ آخر منافقین مسلمانوں کے بارے میں کس بات کا انتظار کریں۔ مسلمانوں کو ہر حال میں بھالئی اور کامیابی کی توقع ہے۔ یا تو فتح مند ہوں گے اور اللہ کا کلمہ بلند کردیں گے اور یہ کامرانی اس جہاں کی ہے۔ یا انہیں شہادت نصیب ہوگی اور شہید اعلی درجات پر فائز ہوتا ہے۔ ہاں مومنین ضرور انتظار کریں کہ منافقین کا انجام کیا ہوتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 51–52

3 یعنی سختی یا نرمی جو جس وقت کے لیے مقدر ہے وہ تو ٹل نہیں سکتی، نہ دنیا میں اس سے چارہ ہے۔ مگر ہم چونکہ ظاہر و باطن سے خدا کو اپنا حقیقی مولا اور پروردگار سمجھتے ہیں، لہذا ہماری گردنیں اس کے فیصلے اور حکم کے سامنے پست ہیں۔ کوئی سختی اس کی فرمانبرداری سے باز نہیں رکھتی۔ اور اسی پر ہم کو بھروسہ ہے کہ وہ عارضی سختی کو آخرت میں بالیقین اور بسا اوقات دنیا میں بھی راحت و خوشی سے تبدیل کر دے گا۔ اندریں صورت تم ہماری نسبت دو بھلائیوں میں سے کسی ایک کی ضرور امید کرسکتے ہو۔ اگر خدا کے راستہ میں مارے گئے تو شہادت و جنت، اور واپس آئے تو اجر یا غنیمت ضرور مل کر رہے گی۔ جیسا کہ حدیث صحیح میں حق تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 52 قُلْ ہَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلآَّ اِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِ ط الْحُسْنَیَیْنِ ‘ الحُسْنٰیکی تثنیہ ہے ‘ جو اَحْسَن کی مؤنث ہے۔ یہ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ چناچہ الْحُسْنَیَیْنِ کے معنی ہیں دو نہایت احسن صورتیں۔ جب کوئی بندۂ مؤمن اللہ کے راستے میں کسی مہم پر نکلتا ہے تو اس کے لیے تو دونوں امکانی صورتیں ہی احسن ہیں ‘ اللہ کی راہ میں شہیدہو جائیں تو وہ بھی احسن :r ؂ شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مؤمن نہ مال غنیمت ‘ نہ کشور کشائی ! اقبالؔ اور اگر کامیاب ہو کر آجائیں تو بھی احسن۔ دونوں صورتوں میں کامیابی ہی کامیابی ہے۔ تیسری کوئی صورت تو ہے ہی نہیں۔ لہٰذا ایک بندۂ مؤمن کو خوف کا ہے کا ؟ ؂ جو حق…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

56 مسلمان اور منافق سب کو دو باتوں کا انتظار ہے :۔ یعنی اے منافقو ! تم ہمارے متعلق صرف یہ انتظار کر رہے ہو کہ مسلمان شاہ روم سے شکست کھاتے ہیں یا اس کے مقابلہ میں کامیاب ہوتے ہیں جبکہ ہماری سوچ یہ ہے کہ ہم ہر حال میں کامیاب ہی کامیاب ہیں۔ اگر فتح ہوئی اور مال غنیمت سمیت گھروں کو واپس آگئے تو اسے تو تم بھی کامیابی سمجھتے ہو اور اگر ہم شہید ہوگئے تو پھر بھی ہماری کامیابی ہے اور ضمیر مطمئن کہ راہ حق میں جان دے دی اور پھر آخرت میں جنت بھی ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ جو شخص میری راہ میں نکلے اور اس کو مجھ پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

96 ۔ مطلب یہ ہوا کہ تم ہمارے لئے جن دو باتوں کو فرض کرسکتے ہو یعنی فتح یا موت وشکست تو ہمارے لئے تو دونوں پہلوؤں میں خیر ہی خیر ہے فتح کا خیر ہونا تو اجر اخروی اور منافع دنیوں دونوں کے اعتبار سے ظاہر ہی ہے۔ رہی مصیبت تو مومن کے حق میں وہ بھی عین رحمت ہے، رفع درجات وکفارۂ سیئات کا بہترین ذریعہ ! 97 ۔ (آیت) ” عذاب من عندہ “۔ یعنی کوئی بلائے آسمانی، بلاتوسط دست انسانی۔ (آیت) ” بایدینا “۔ یعنی کوئی سزا ہمارے ہاتھوں سے۔ 98 ۔ آیت میں رسول اللہ ﷺ کو ہدایت، دو جوابوں کی ہوئی۔ “ پہلے جواب کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مالک وحاکم ہیں۔ حاکم ہونے کی حیثیت سے ان کو ہر تصرف کا اختیار ہے اس لئے ہم راضی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 50–52

شان نزول : ان تُصِبْکَ حَسَنَة تسُؤھم وَاِن تصبک مصیبة الخ تفسیر ابن ابی حاتم میں جابر بن عبد اللہ کی روایت سے جو شان نزول ان آیات کا بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ عبد اللہ بن ابی وغیرہ منافقین لڑائی کے وقت بناوٹی عذر کر کے جس لڑائی میں شریک نہیں ہوئے تھے اگر اس لڑائی میں مسلمانوں کو فتح ہوتی اور مال غنیمت ہاتھ آتا تو دو طرح سے ان منافقوں پر یہ امر شاق گذرتا تھا ایک تو اس وجہ سے کہ ان کے دلوں میں مسلمانوں کی عداوت تھی اس لئے مسلمانوں کی فتح و کامرانی ان کو اچھی نہیں لگتی تھی دوسرے ان کو یہ افسوس ہوتا تھا کہ ہم کیوں نہ شریک ہوئے ! ہمارے ہاتھ بھی مال لگتا، اور اگر کسی لڑائی میں مسلمانوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل ھل تربصون بنا الا احدی الحسنیین آپ کہہ دیجئے کہ تم تو ہمارے حق میں دو بہتریوں میں سے ایک بہتری کے ہی منتظر رہتے ہو۔ یہ خطاب کافروں یا منافقوں کو ہے۔ اِحْدَی الْحُسْنََیَیْنِدو اچھے نتیجوں میں سے ایک نتیجہ۔ ایک شہادت جو دخول جنت اور دوامی زندگی کے حصول کے ذریعہ ہے ‘ دوسری فتح اور مال غنیمت۔ اِحْدَی الْحُسْنََیَیْنِ سے مراد ہے : شہادت ‘ یعنی تم ہمارے قتل ہوجانے کی تمنا کر رہے ہو اور قتل ہوجانا تمہاری نظر میں برا ہے مگر ہمارے لئے وہ بھی سراسر بھلائی ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص ان کی راہ میں (جہاد کرنے کیلئے) نکلا ہو اور اس کے خروج کا سبب سوائے اللہ پر ایمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(52) اے محمد ﷺ آپ ان منافقوں سے فرمادیجیے کہ تم ہمارے لیے فتح وغنیمت یا قتل وشہادت میں سے کسی ایک کے منتظر رہتے ہو اور ہم اس کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری ہلاکت کا اپنی طرف سے یا ہماری تلواروں سے تمہارے قتل کا انتظام فرما وے سو تم اپنے طور پر انتظار کرو، ہم بھی تمہاری تباہی اور موت کے منتظر ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلَّآ اِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ :”اِحْدَى“ کا معنی ایک اور ”الْحُسْنَيَيْنِ“ ”اَلْحُسْنٰی“ کی تثنیہ ہے، جو ”اَلْاَحْسَنُ“ (اسم تفضیل) کی مؤنث ہے، یعنی سب سے اچھی دو چیزوں میں سے ایک۔ مسلمانوں کی مصیبت پر منافقین کی خوشی کا یہ دوسرا جواب ہے کہ ہم ہر حال میں سب لوگوں سے اچھے ہیں، دنیا میں یا تو ہمیں فتح اور غنیمت حاصل ہوگی جو بہترین چیز ہے، یا پھر ہم اللہ کی راہ میں شہید ہوں گے، تو یہ اس سے بھی بڑھ کر ہے اور ہماری عین تمنا ہے کہ ہم جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے ضمانت دی ہے جس نے اس کے راستے میں جہاد کیا۔ اسے اس…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قولہ تعالیٰ : قل ھل تربصون بنآ کو فی لام کو تا میں ادغام کرتے ہیں ‘ پس جہاں تک لام المعرفہ کا تعلق ہے تو اس میں ادغام کے سوا کچھ جائز نہیں ‘ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : التائبون کیونکہ ان (عربوں) کے کلام میں لام معرفۃ کا استعمال کثیر ہے۔ اور قول باری تعالیٰ : قل تعالوا میں ادغام جائز نہیں ‘ کیونکہ اس میں قل معتل ہے ‘ لہذا اس میں دو تعلیلیں جمع نہیں ہو سکتیں اور التربص کا معنی انتظار کرنا ہے۔ کہا جاتا ہے : تربص بالطعام یعنی تواناج کا انتظار کر اس کے مہنگا ہونے کے وقت تک۔ اور الحسنی ‘ الا حسن کی تانیث ہے۔ اور حسنیین کا واحد حسنی ہے اور جمع الحسن ہے۔ اور اسے فقط معرف با للام بولنا جائز ہے۔ یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل ھل تربصون بنا الا احدی الحسنین “ سے مراد فتح یا شہادت ہے۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) الا احدالحسنین “ یعنی فتح پانا یا اللہ کے راستہ میں شہید ہوجانا۔ فتح وشکت دونوں میں مسلمانوں کے لئے خیر ہے : 3:۔ حاکم نے (اور آپ نے اس کو صحیح کہا) اور ذہبی (رح) نے اس کو ضعیف کہا۔ سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ سے روایت کیا کہ وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں۔ اس درمیان کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ روحاء (کے کنویں) پر تھے اچانک سرب سے ایک دیہاتی آیا۔ اور پوچھا کہ تم لوگ کون…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ کہیے ] هَلْ [ کیا ] تَرَبَّصُوْنَ [ تم لوگ انتظار کرتے ہو ] بِنَآ [ ہمارے بارے میں ] اِلَّآ [ سوائے ] اِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ ۭ [ دو بہترین اچھائیوں کی ایک کے ] وَنَحْنُ [ اور ہم ] نَتَرَبَّصُ [ انتظار کرتے ہیں ] بِكُمْ [ تمہارے بارے میں ] اَنْ [ کہ ] يُّصِيْبَكُمُ [ آن لگے تم لوگوں کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] بِعَذَابٍ [ کسی عذاب کے ساتھ ] مِّنْ عِنْدِهٖٓ [ اپنے پاس سے ] اَوْ [ یا ] بِاَيْدِيْنَا ڮ [ ہمارے ہاتھوں سے ] فَتَرَبَّصُوْٓا [ تو انتظار کرو ] اِنَّا [ بیشک ہم ] مَعَكُمْ [ تمہارے ساتھ ] مُّتَرَبِّصُوْنَ [ انتظار کرنے والے ہیں ] (آیت ۔ 52) بنا، مادہ ” ب ن ی “ کا کوئی صیغہ نہیں ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (قُلْ ھَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلَّآ اِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِ ) (الآیۃ) کہ اے منافقو ! دنیا میں دو ہی حالتیں ہیں جو انسانوں کو پیش آتی رہتی ہیں ایک اچھی صورت حال دوسری تکلیف دہ حالت، تم ہمارے بارے میں انہیں دونوں حالتوں کے منتظر رہتے ہو کہ دیکھو آگے ان کو بہتر حالت پیش آتی ہے یا کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ہمارے لیے تو دونوں ہی حالتیں فائدہ کی ہیں۔ فتح و ظفر نصیب ہوجائے مال غنیمت مل جائے اور کسی بھی طرح کی بہتری سے اللہ تعالیٰ ہمیں نواز دے تو یہ بھی ہمارے لیے بہتر ہے۔ اور اگر کوئی تکلیف دہ صورت پیش آجائے تو ہمارے لیے وہ بھی خیر ہے۔ ہمارے افراد مقتول ہوتے ہیں تو شہادت کا درجہ پاتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–52

منافقین کے حسد اور ان کی باطنی عداوت کا ذکر قال اللہ تعالیٰ ۔ ان تصبیک حسنۃ تسؤ ھم۔۔۔ الی۔۔ انا معکم متربصون۔ (ربط): اس آیت میں منافقین کے حسد اور ان کی ایک باطنی خباثت اور اندرونی عداوت ذکر ہے جو سارے فتنوں کی جڑ ہے چناچہ فرماتے ہیں اگر آپ کو کسی لڑائی میں کوئی بھلائی مثلا فتح یا غنیمت پہنچے تو حسد اور عداوت کی وجہ سے ان کو بری معلوم ہوتی ہے اور اگر کسی لڑائی میں کوئی بھلائی مثلا فتح یا غنیمت پہنچ تو حسد اور عداوت کی وجہ سے ان کو بری معلوم ہوتی ہے اور اگر کسی لڑائی میں آپ کو کوئی مصیبت پہنچے مثلا شکست یا زخم وغیرہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو پہلے ہی اپنا انتظام کرلیا تھا یعنی ہم پہلے ہی سے جانتے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

51: یعنی جب آپ جہاد سے واپس آئیں تو ان منافقین سے فرمائیں کہ ہمارے بارے میں تمہیں دو باتوں میں سے ایک ہی بات کی توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسی آسمانی عذاب سے ہلاک کردے یا تم ہمارے ہاتھوں قتل ہوجاؤ اس لیے تم ہمارے انجام کا انتظار کرو اور ہم نے تمہارے انجام کا انتظار کرتے ہیں۔ “ اِحْدَي الْحُسْنَیَیْنِ ” یعنی فتح یا شہادت۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 49–54

جد ابن قیس : اللہ تعالیٰ نے جہاد میں نفیر عام کا حکم دینے کے بعد منافقین کی مذمت بیان فرمائی ہے اور ان کے حیلے بہانوں کا رد کیا ہے۔ اسی سلسلہ میں بعض نمایاں منافقوں کا حال خصوصی طور پر بیان کیا ہے ۔ بنی (1۔ ابن کثیر ص 387 ، ج 2) (فیاض) سلمہ قبیلے کا سردار جد ابن قیس بظاہر کلمہ گو تھا مگر اس کے دل میں کفر تھا یہ وہی شخص ہے جو حدیبیہ کے موقع پر موجود تھا جب حضور ﷺ درخت کے نیچے صحابہ کرام سے بیعت رضوان لے رہے تھے تو یہ شخص اپنے گم شدہ اونٹ کی تلاش میں پھر رہا تھا۔ کسی شخص نے اس سے کہا کہ حضور ﷺ لوگوں سے بیعت لے رہے ہیں ، تم بھی ان میں شامل ہو جائو تو کہنے لگا ، میرا اونٹ ہی مجھے مل جائے تو اچھا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ ہَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلَّآ اِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ۝ 0 ۭ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ يُّصِيْبَكُمُ اللہُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِہٖٓ اَوْ بِاَيْدِيْنَا۝ 0 ۡۖ فَتَرَبَّصُوْٓا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ۝ 52 هَلْ : حرف استخبار، إما علی سبیل الاستفهام، وذلک لا يكون من اللہ عزّ وجلّ : قال تعالی: قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنا[ الأنعام/ 148] وإمّا علی التّقریر تنبيها، أو تبكيتا، أو نفیا . نحو : هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً [ مریم/ 98] . وقوله : هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] ، فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرى مِنْ فُطُورٍ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 49–54

1 ؎ یعنی رسول کی نافرمانی کیا کم فتنہ ہے۔ 12 منہ ترکیب : منہم خبر ہے من یقول کی اور جملہ معطوف ہے کلام سابق پر۔ ان تصبک شرط تسئوھم جواب الا ما فاعل یصیب کا ان یصبکم مفعول ہے نتربص کا بکم اس سے متعلق ان تقبل کا مفعول مالم یسم فاعلہ نفقاتہم جملہ موضع نصب میں ہے بدل ہو کر مفعول منہم سے۔ تفسیر : منافقوں میں سے ایک شخص جد بن قیس تھا۔ اس نے یہ عذر کیا کہ میں رومی عورت دیکھ کر صبر نہیں کرسکتا مجھے فتنہ میں نہ ڈالئے ٗ اجازت دیجئے۔ آپ نے ترش رو ہو کر فرمایا ٗ اجازت۔ ومنہم من یقول میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ باقی ان کے حالات ترجمہ سے ظاہر ہیں۔ ہمارے لئے دو خوبیوں میں ایک تو ضرور ہے یا شہادت یا فتح و…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 51–52

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَآ اِلَّا مَاکَتَبَ اللّٰہُ لَنَاج ھُوَمَوْلٰناَج وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤمِنُوْنَ قُلْ ھَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلَّآ اِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِط وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِکُمْ اَنْ یُّصِیْبَکُمُ اللّٰہُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِہٖٓ اَوْبِاَیْدِیْنَاصلے فَتَرَبَّصُوْآ اِنَّا مَعَکُمْ مُتَرَبِّصُوْنَ ( التوبۃ : 51، 52) (کہہ دیجیے ! ہرگز نہیں پہنچے گی ہمیں کوئی تکلیف مگر جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے وہی ہمارا مولا ہے اور اللہ ہی پر مومنوں کو توکل کرنا چاہیے۔ ان سے کہہ دیجیے ! کہ تم انتظار نہیں کررہے ہو ہمارے متعلق مگر دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی کا اور ہم انتظار…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کو دوسرا جواب۔ منافقین کو پہلا جواب یہ دیا گیا تھا کہ جو کچھ ہمیں مصیبت پہنچتی ہے وہ ہمارے رب نے ہماری قسمت میں پہلے سے لکھ رکھی ہے۔ ہم اپنے رب کے ہر فیصلے پر راضی ہیں۔ اب ان کو دوسرا جواب دیا جا رہا ہے کہ اے منافقو ! تم ہمارے بارے میں دو میں سے کسی ایک بات کا انتظار کرتے ہو۔ یاد رکھو اگر ہمیں میدان کارزار میں موت آجائے یا فتح کی صورت میں کامیابی حاصل ہو۔ دونوں ہی ہمارے لیے بہتر ہیں ہاں ہم بھی تمہارے متعلق اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ براہ راست تم پر اپنا غضب نازل فرمائے یا ہمارے ہاتھوں تمہیں ذلیل کرے۔ بس انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والے ہیں،…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دو دو باتوں کے منتظر مومن مدد الٰہی و شہادت کے اور کافر عذاب اور کفر پر قتل کے : آیت 52: قُلْ ھَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ (آپ فرما دیں تم تو ہمارے بارے میں منتظر رہتے ہو) ہمارے متعلق منتظر ہو۔ اِلَّا اِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِ (مگر دو بہتریوں میں سے ایک بہتری ہی کے منتظر رہتے ہو) وہ مدد الٰہی اور شہادت ہے۔ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِکُمْ (اور ہم تمہارے بارے میں اس کے منتظر رہا کرتے ہیں) دو میں سے ایک برائی کے حاصل ہونے کے یا تو اَنْ یُّصِیْبَکُمُ اللّٰہُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِہٖ ( کہ اللہ تعالیٰ تم پر کوئی عذاب واقع کرے گا اپنی طرف سے) وہ آسمان سے اترنے والا عذاب جیسا عادو ثمود پر اترا۔ اَوْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

52۔” قل ھل تربصون بنا “ اے منافقو ! کیا تم انتظا ر کررہے ہو ” الا احدی الحسنین “ یا تو مدد اور غنیمت یا شہادت اور مغفرت ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے کہ جو شخص اللہ کے راستہ میں جہاد کرے اور گھر سے صرف جہاد فی سبیل اللہ اور اللہ کے کلمات کی تصدیق اس کو نکالے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کریں گے یا وہ اپنے گھر لوٹ آئے اجر اور غنیمت لے کر ۔ ” ونحن نتربص بکم “ برائیوں میں سے ایک کا ” ان یصیبکم اللہ بعذاب من عندہ “ تو تمہیں پہلی امتوں کی طرح ہلاک کر دے گا ۔” اوبا یدینا “ مؤمنین کے ہاتھوں سے اگر تم پانے دل کا بعض ظاہر کر دو ۔ ” فتربصوا انا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 50–52

50۔ 52۔ تفسیر ابن بی حاتم میں جابر ؓ بن عبداللہ کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ عبداللہ بن ابی وغیرہ منافقین لڑائی کے وقت بناوٹی عذر کر کے جس لڑائی میں شریک نہیں ہوتے تھے اور گھروں میں بیٹھ رہتے تھے اگر اس لڑائی میں مسلمانوں کی فتح ہوتی اور مال غنیمت کا ہاتھ آتا تو دو طرح سے ان منافقین پر یہ امر شاق گزرتا تھا ایک تو یہ کہ ان کے دل میں مسلمانوں کی طرف سے عداوت تھی اس واسطے مسلمانوں کی بہبودی ان کے دل کو اچھی نہیں معلوم ہوتی تھی دوسرے ان کو یہ افسوس ہوتا تھا کہ ہم کیوں نہ گئے جو ہمارے ہاتھ بھی مال لگتا اور اگر مسلمانوں کو کسی لڑائی میں کچھ ضرر پہنچتا تو یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 52 آپ ان منافقین سے کہہ دیجیے جو تم لوگوں پر مصیبت کا پہاڑ ٹوٹنے کا انتظار کر رہے ہیں ” تم ہمارے بارے میں کسی چیز کا انتظار کر رہے ہو ؟ تم ہمارے بارے میں ایسی چیز کا انتظار کر رہے ہو جو مآل کار ہمارے لئے فائدہ مند ہے اور وہ ہے دو میں سے ایک بھلائی۔ “ (1) دشمنوں پر فتح و نصرت اور آخروی اور دنیاوی ثواب کا حصول۔ (2) شہادت، جو مخلوق کے لئے سب سے اعلیٰ درجہ اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے ارفع مقام ہے۔ اور اے گروہ منافقین ! ہم جو تمہارے بارے میں انتظار کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے توسط کے بغیر تمہیں عذاب دے گا یا ہمیں تم پر مسلط کر کے ہمارے ذریعے سے تمہیں عذاب میں مبتلا کرے گا، پس ہم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 51–52

قول باری ہے (قل لن یصیبنا الا ما کتب اللہ لنا ھو مولنا۔ ان سے کہو ” ہمیں ہرگز کوئی برائی یا بھلائی نہیں چنچتی مگر وہ جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دی ہے۔ اللہ ہی ہمارا مولیٰ ہے) حسن سے مروی ہے کہ جو برائی یا بھلائی ہمیں پہنچتی ہے یہ لوح محفوظ میں اللہ کی طرف سے لکھی ہوئی ہوتی ہے۔ “ اس بارے میں کافروں کا یہ تو ہم غلط ہے کہ ہمیں اپنی کوتاہی اور غفلت کی بنا پر برائی پہنچتی ہے اور اس کا ہمارے رب کی تدبیر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ایک قول کے مطابق اس کی تفسیر یہ ہے کہ انجام کار ہمیں وہی نصیب ہوگا جس کا وعدہ اللہ نے کررکھا ہے یعنی اس کی مدد اور نصرت۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

111 مومن کی ہر حالت خیر ہی خیر ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ تم لوگ ہمارے لیے دو بھلائیوں میں سے ایک کی ہی انتظار کرتے رہو۔ یعنی یا فتح و ظفر کی، جس میں عزت و عظمت بھی ہے اور دولت و غنیمت بھی۔ اور یا قتل و شہادت کی، جس پر اللہ پاک کے فضل و کرم سے جنت کی دائمی اور سدا بہار نعمتیں ملیں گی۔ سو ناکامی تو ہمارے لئے ہے ہی نہیں۔ پھر تمہارے لئے ہمارے بارے میں کسی مسرت و شادمانی کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحان اللہ ! ۔ ایمان و عقیدہ کی دولت بھی کیسی عظیم دولت ہے کہ اس کے بعد ایک مومن صادق کے لئے کامیابی ہی کامیابی ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ شَرَّفَنَا بِہٰذِہ النِّعْمَۃِ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 47–59

منافقوں کے فتنوں سے بچنے کی تدابیر تشریح : ان آیات میں پہلے تو ان منافقین کا غزوہ تبوک میں شامل نہ ہونا باعث رحمت بتایا گیا ہے کیونکہ یہ لوگ اگر ساتھ چلے جاتے تو ان کا مقصد نہ تو جہاد کرنا ہوتا اور نہ ہی یہ مخلص ہوتے، اس لیے اگر یہ چلے جاتے تو صرف غلط سلط افواہوں سے مجاہدین میں بددلی، نااتفاقی اور کمزوری ہی پیدا کرنے کا کام انہوں نے کرنا تھا اور اس طرح فوج کو کمزور کرنے کا مقصد حاصل کرتے کیونکہ اگرچہ مسلمان ہوتے تو انسان ہی ہیں بعض ان کی باتوں میں آکر گھبرا بھی سکتے تھے اور ان کو اپنے خفیہ راز لاعلمی میں بتا دیتے اس لیے اچھا ہوا یہ جہاد میں ساتھ نہ گئے۔ یہ لوگ پہلے بھی اس قسم کا فساد پھیلا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 43–59

آیات 43 تا 59 اللہ نے آپ کو معاف تو کردیا مگر آپ ﷺ نے انھیں جہاد سے رہ جانے کی اجازت ہی کیوں دی ؟ اگر آپ ایسانہ کرتے تو بھی یہ جہاد میں شامل ہونے سے تو رہے ہاں سب لوگوں پہ ان کی اصلیت کھل جاتی اور نفاق واضح ہوجاتا ۔ رشتہ قلبی کے انداز یہاں اگر چہ بات ایک مشورے کے انداز میں ارشاد ہے کہ اگر آپ اجازت نہ دیتے تو ان کے پاس بہانہ نہ ہوتا مگر نبی اکرم ﷺ کے قلب اطہر کو جو تعلق ذات باری سے تھا وہ اس قدربات بھی برداشت نہ کرپاتا ۔ لہٰذ اسوالیہ انداز میں بات ارشاد فرمانے سے پہلے فرمایا عفا اللہ عنک اللہ نے آپ کو معاف فرمادیا کوئی نارزضگی یا خفگی کی بات نہیں مگر آپ نے ایسا کیوں کیا یہ معافی گناہ کی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 مسلمانوں کی مصیبت پر منافقین کو خوشی کا یہ دوسرا جواب ہے کہ ہم ہرحال میں اچھے ہیں۔ دنیا میں یا تو ہمیں فتح ہوگی جو ایک بھلائی ہے یا پھر ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہوں گے تو یہ بھی ہماری عین تمنا ہے کہ ہم جنت کی نعمتوں سے متمع ہوں۔ اس کے بر عکس منافقین ہیں کہ دنیا میں ان کی ذلت و رسوائی ہوگی اور آخرت میں دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ پس ہم اور تم ایک دوسرے کے متعلق دعا حالتوں میں سے ایک کے منتظر ہیں۔ ( کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:52) تربصون۔ تم انتظار کرتے ہو۔ تم راہ دیکھتے ہو۔ تربص یتربص تربص (تفعل) سے۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ ہل تربصون بنا۔ تم ہمارے بارے میں کس بات کا انتظار کر رہے ہو۔ تمہیں ہمارے بارے میں کس بات کی امید ہوسکتی ہے۔ تم ہمارے بارے میں کس بات کا انتظار کر رہے ہو کہ ہمیں پیش آئے گی۔ الا احدی الحسنیین۔ سوائے اس کے کہ یہ وہ اچھی باتوں سے ایک ہوگی۔ یعنی ہمارے بارے میں تم جس نتیجہ کے منتظر ہو یا امید رکھتے ہو وہ دو بھلائیوں میں سے ایک تو ضرور ہوگی۔ یعنی اگر کامیاب ہوگئے تو فتح ہماری اور گار شہید ہوگئے تو آخرت سنور گئی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 50–52

لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 52 تسوھم (ان کو بری لگتی ہے) اخذنا (ہم نے لے لیا) امرنا (اپنا اختیار، اپنا اکم) فرحون (وہ خوش ہو رہے ہیں ) لن یصیبنا (ہمیں ہرگز نہ پہنچے گی) مولنا (ہمارا مالک) احدی الحسنین (دو بھلائیوں میں سے ایک) تشریح : آیت نمبر 50 تا 52 ان آیات میں منافقین کی ایک اور عادت اور کم ظرفی کے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے۔ یہ منافقین بظاہر تو مسلمان بنے ہوئے تھے لیکن جب کوئی فتح یا کامیابی کی اطلاع آتی تو انہیں دکھ ہوتا تھا اور جب مسلمانوں کو کسی طرح کا نقصان پہنچتا تو خوشی سے دیوانے ہوجاتے اور اپنی اس دلی خوشی کو دباتے ہوئے کہتے کہ ہمیں تو پہلے ہی معلوم تھا کہ ایسا ہوگا یا ہمیں تو پہلے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 50–52

شان نزول : عبد اللہ بن ابی وغیرہ منافقین لڑائی کے وقت بناوٹی عذر کرکے جس لڑائی میں شریک نہیں ہوتے تھے اور مسلمانوں کی فتح ہوتی اور مال غنیمت ہاتھ آتا تو دو طرف سے ان منافقین پر یہ امر شاق گزرتا تھا۔ ایک تو یہ کہ مسلمانوں کی طرف سے عداوت تھی اس واسطے ان کی بہبودی اچھی معلوم نہیں ہوتی تھی۔ دوسرے ان کو یہ محسوس ہوتا تھا ہم کیوں نہیں گئے جو ہمارے ہاتھ بھی مال لگتا اور اگر مسلمانوں کو کسی لڑائی میں کچھ ضرر پہنچتا تو یہ منافقین اپنی دور اندیشی پر نازاں ہوکر کہتے کہ ہم تو ضرر سے بچنے کے لئے پہلے ہی سے عذر کرکے نہیں گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں منصوبوں کے جواب میں یہ آیتیں نازل فرمائیں اور پہلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 52–54

[30] مطلب یہ ہے کہ تم ہمارے لئے دو باتوں کو فرض کرسکتے ہو یعنی فتح یا موت، تو ہمارے لئے دونوں ہی باتوں میں خیر ہی خیر ہے۔ فتح کا خیر ہونا تو اجر اخروی اور منافع دنیوی دونوں کے اعتبار سے ظاہر ہی ہے۔ رہی موت تو اگر مومن اللہ کی راہ میں مارا جائے تو اس سے بڑی سعادت اس کے لئے کیا ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 52–53

(ف 1) غرض یہ ہے کہ منافقین مسلمانوں کے لئے دو باتوں کے منتظر رہتے ، غنیمت کے ، اور جامع شہادت کے پہلی صورت میں شرکت وحصہ داری کا خیال اور دوسری میں موت پر اظہار مسرت ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ دونوں باتیں مسلمان کے لئے باعث برکت ہیں کامیاب رہیں تو دنای کے مال و دولت سے حصہ پائیں ، میدان میں کھیت رہیں ، توحیات جاوید کے حقدار ٹھہریں ، البتہ ہم جس چیز کا انتظار کر رہے ہیں وہ تمہارے حق میں اچھی نہیں ۔ ہم اللہ کے عذاب کے منتظر ہیں جو آئے اور تمہارے فتنوں کو ختم کر دے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

52 اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان منکروں سے کہہ دیجئے تم تو ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے اور دو بہتریوں میں سے ایک نہ ایک بھلائی اور بہتری کا انتظار کیا کرتے ہو اور ہم تمہارے لئے اس بات کے منتظر رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تم پر کوئی عذاب اپنے پاس سے واقع کرے یا ہمارے ہاتھوں تم پر کوئی عذاب بھیجے اچھا تم انتظار کرتے رہو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کررہے ہیں۔ یعنی تم ہماری شکست یا فتح کا دونوں میں سے ایک کا انتظار کیا کرتے ہو اور یہ دونوں چیزیں ہمارے حق میں بھلی اور بہتر ہیں شکست ہوگی اللہ کی راہ میں مارے جائیں گے تب بھی اجر کے مستحق ہوں گے اور فتح ہوگی تو کامیاب ہوکر واپس ہوں گے ہمارے لئے راحت ہو یا مصیبت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 52–55

ف 1۔ حاصل یہ کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہیں اس مصیبت میں بھی ہمارے فائدے کی رعایت کرتے ہیں اس لیے ہم ہر حال میں فائدہ میں ہیں بخلاف تمہارے کہ تمہاری خوش حالی کا انجام بھی وبال اور نکال ہے اگر دنیا میں نہیں تو آخرت میں ضرور ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

معلوم ہوا کہ تم ہماری دو خوبیوں میں سے ایک کے منتظر ہو تو بخوشی رہو : 74: ٹھیک مطلب اس آیت کا یہ ہوا کہ اے منافقو ! تم ہمارے لئے جس بات کے انتظار میں ہو وہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم جنگ میں مارے جائیں اور ہم کو شکست ہو۔ لیکن ہمارے لئے تو یہ بھی اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ 1ؕ ہے یعنی دو خوبیوں میں سے ایک خوبی ہے اور یہی وہ مقام ہے جسے قرآن کریما یامن اور ایمان والوں کی خصوصیت قراد دیتا ہے اور کہتا ہے کہ جو کفر کی راہ چلے تو انہیں اس کی سمجھ نہیں۔ دنیا میں جب کبھی کوئی فرد یا جماعت کسی مقصد کے لئے جدوجہد کرتی ہے تو اس کے سامنے امید بھی ہوتی ہے مایوسی بھی ، کامیابی بھی ہوتی ہے ناکامی بھی۔ لیکن قرآن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The tenth verse (52), while mentioning the charming demeanor of the man of true faith, has given an answer to hypocrites delighted over the discomfort of Muslims. According to the man of true faith, the thing that hypocrites take as suffering for Muslims and which makes them happy is really no suffering for them. In fact, it is another form of comfort and success. The reason is that a man of true faith becomes deserving of eternal returns and rewards even after having failed in his strong resolve, something that is the real objective of all his successes. Therefore, he succeeds, even in…

Read the full tafseer →