Explained with ayahs 50–51
بدفطرت لوگوں کا دوغلا پن
ان بدباطن لوگوں کی اندرونی خباثت کا بیان ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی فتح و نصرت سے، ان کی بھلائی اور ترقی سے ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے اور اگر اللہ نہ کرے یہاں اس کے خلاف ہوا تو بڑے شور و غل مچاتے ہیں گاگا کر اپنی چالاکی کے افسانے گائے جاتے ہیں کہ میاں اسی وجہ سے ہم تو ان سے بچے رہے مارے خوشی کے بغلیں بجانے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو جواب دے کر رنج راحت اور ہم خود اللہ کی تقدیر اور اس کی منشا کے ماتحت ہیں وہ ہمارا مولیٰ ہے وہ ہمارا آقا ہے وہ ہماری پناہ ہے ہم مومن ہیں اور مومنوں کا بھروسہ اسی پر ہوتا ہے وہ ہمیں کافی ہے بس ہے وہ ہمارا کار ساز ہے اور بہترین…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 51
”یہاں دنیا پرست اور خدا پرست کی ذہنیت کے فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ دنیا پرست جو کچھ کرتا ہے اپنے نفس کی رضا کے لیے کرتا ہے اور اس کے نفس کی خوشی بعض دنیوی مقاصد کے حصول پر منحصر ہوتی ہے۔ یہ مقاصد اسے حاصل ہوجائیں تو وہ پھول جاتا ہے اور حاصل نہ ہوں تو اس پر مردنی چھا جاتی ہے۔ پھر اس کا سہارا تمام تر مادی اسباب پر ہوتا ہے۔ وہ سازگار ہوں تو اس کا دل بڑھنے لگتا ہے اور ناسازگار ہوتے نظر آئیں تو اس کی ہمت ٹوٹ جاتی ہے۔ بخلاف اس کے خدا پرست انسان جو کچھ کرتا ہے اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے اور اس کام میں اس کا بھروسہ اپنی قوت یا مادی اسباب پر نہیں بلکہ اللہ کی ذات پر ہوتا ہے۔ راہ حق…
Read the full tafseer →آٹھویں آیت میں حق تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو منافقین کے مذکورہ اقوال سے متاثر نہ ہونے اور اصل حقیقت کو ہمیشہ سامنے رکھنے کی ہدایت ان الفاظ میں دی(آیت) قُلْ لَّنْ يُّصِيْبَنَآ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا ۚ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤ ْمِنُوْنَ ، یعنی آپ ان مادی اسباب کی پرستش کرنے والوں کو بتلا دیجیئے کہ تم دھوکہ میں ہو یہ مادی اسباب محض ایک پردہ ہیں، ان کے اندر کام کرنے والی قوت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، ہمیں جو حال پیش آتا ہے وہ سب وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے لکھ دیا ہے، اور وہی ہمارا مولیٰ اور مددگار ہے، اور مسلمانوں کو چاہئے کہ اسی پر اصل بھروسہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
51۔ 52: مومنین کے لیے مصیبت اور راحت، دونوں میں خیر ہے : یہ جواب ہے اوپر والی بات کا کہ اگر یہ تمہیں کسی افتاد کے پیش آنے سے خوش ہوتے ہیں تو انہیں بتا دو کہ ہمیں وہی کچھ پیش آئے گا جو خدا نے ہمارے لیے لکھ رکھا ہے، وہ ہمارا مولیٰ ہے اور ہمیں اس پر پورا بھروسہ ہے کہ اس نے جو کچھ ہمارے لیے لکھ رکھا ہے اسی میں ہماری دنیا اور آخرت کی بہبود ہے۔ اگر تم ہمارے لیے کسی مصیبت کے خواہاں ہو تو ہمارا یہ ایمان ہے کہ وہ تمہارے کہنے سے نہیں آئے گی بلکہ ہمارے رب ہی کے چاہنے سے آئے گی اور اسی میں ہمارے لیے بہتری ہوگی۔ اہل ایمان کے لیے مصیبت اور راحت دکھ اور سکھ، موت اور زندگی دونوں ہی میں خیر ہے۔ ایک سے مومن کو…
Read the full tafseer →51۔ 1 یہ منافقین کے جواب میں مسلمانوں کے صبر و ثبات اور حوصلے کے لئے فرمایا جا رہا ہے کیونکہ جب انسان کو یہ معلوم ہو کہ اللہ کی طرف سے مقدر کا ہر صورت میں ہونا ہے اور جو بھی مصیبت یا بھلائی ہمیں پہنچتی ہے اسی تقدیر الٰہی کا حصہ ہے، تو انسان کے لئے مصیبت کا برداشت کرنا آسان اور اس کے حوصلے میں اضافے کا سبب ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
42: حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ منافقین میں ایک شخص جد بن قیس تھا۔ جب آنحضرت ﷺ نے اس کو غزوہ تبوک میں شامل ہونے کی دعوت دی تو اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میں بڑا زن پرست آدمی ہوں، جب روم کی خوبصورت عورتوں کو دیکھوں گا تو مجھ سے صبر نہیں ہوسکے گا، اور میں فتنے میں مبتلا ہوجاؤں گا۔ لہذا مجھے اجازت دے دیجئے کہ میں اس جنگ میں شریک نہ ہوں، اور اس طرح مجھے فتنے میں مبتلا ہونے سے بچا لیجئے۔ اس آیت میں اس کی طرف اشارہ ہے (روح المعانی بحوالہ ابن المنذر و طبرانی وابن مردویہ)۔
Read the full tafseer →اور اللہ نے تو مومنین کے حق میں فتح لکھ دی ہے اور ان کے ساتھ آخری فتح کا وعدہ بھی کر رکھا ہے۔ ان کو چاہئے جس قدر مشکلات بھی پیش آئیں ، وہ عظیم ابتلاؤں کے ساتھ دوچار کیوں نہ ہوں ، آخر کار ان کو فتح نصیب ہوگی اور یہ مشکلات اس فتح کی تمہید ہیں تاکہ مسلمانوں کو جب فتح نصیب ہو تو نظر آئے کہ وہ اس کے مستحق ہیں۔ اور یہ کہ وہ ان کی صفوں کو چھان کر صاف کردیا جائے اور یہ فتح و نصرت ، دنیاوی ذرائع اور وسائل کے اندر ہو اور مشکلات کے بعد ہو تاکہ مسلمان اس قدر و منزلت کا احساس کریں ، اور یہ فتح بلند ہمت لوگوں کی عظی قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہو۔ ابتلاؤں کے بعد حاصل ہو اور لوگوں نے اس کے لیے قربانیاں دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
3 یعنی سختی یا نرمی جو جس وقت کے لیے مقدر ہے وہ تو ٹل نہیں سکتی، نہ دنیا میں اس سے چارہ ہے۔ مگر ہم چونکہ ظاہر و باطن سے خدا کو اپنا حقیقی مولا اور پروردگار سمجھتے ہیں، لہذا ہماری گردنیں اس کے فیصلے اور حکم کے سامنے پست ہیں۔ کوئی سختی اس کی فرمانبرداری سے باز نہیں رکھتی۔ اور اسی پر ہم کو بھروسہ ہے کہ وہ عارضی سختی کو آخرت میں بالیقین اور بسا اوقات دنیا میں بھی راحت و خوشی سے تبدیل کر دے گا۔ اندریں صورت تم ہماری نسبت دو بھلائیوں میں سے کسی ایک کی ضرور امید کرسکتے ہو۔ اگر خدا کے راستہ میں مارے گئے تو شہادت و جنت، اور واپس آئے تو اجر یا غنیمت ضرور مل کر رہے گی۔ جیسا کہ حدیث صحیح میں حق تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →آیت 51 قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَآ اِلاَّ مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَاج ہُوَ مَوْلٰٹنَا ج
ہم پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اللہ ہی کی مرضی اور اجازت سے آتی ہے۔ اس کے اذن کے بغیر کائنات میں ایک پتابھی نہیں ہل سکتا۔ وہ ہمارا کارساز اور پروردگار ہے۔ اگر اس کی مشیت ہو کہ ہمیں کوئی تکلیف آئے تو سر آنکھوں پر ع سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے۔ جو اس کی رضا ہو ہم بھی اسی پر راضی ہیں۔ اگر اس کی طرف سے کوئی تکلیف آجائے تو اس میں بھی ہمارے لیے خیر ہے ع ہرچہ ساقئما ریخت عین الطاف است ہمارا ساقی ہمارے پیالے میں جو بھی ڈال دے اس کا لطف وکرم ہی ہے۔ محبوب کی شمشیر سے ذبح ہونا یقیناً بہت بڑے اعزاز کی بات ہے اور یہ…
Read the full tafseer →55 مومن اور کافر یا منافق کی خصلت کا فرق :۔ اس آیت میں مومنوں اور منافقوں کے نظریاتی اختلاف کو بیان کیا گیا ہے۔ منافق جو کچھ بھی کرتا ہے اسے صرف اپنا دنیوی مفاد ملحوظ ہوتا ہے۔ پھر اگر اسے کامیابی ہو تو اترانے لگتا ہے اور خوشی سے پھولا نہیں سماتا اور اگر ناکامی ہو تو مایوس ہو کر رہ جاتا ہے جبکہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے دین کی سربلندی اور اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے اگر کامیابی ہو تو اللہ کی مہربانی سمجھتا ہے اور اس کا شکر ادا کرتا ہے مگر اتراتا نہیں اور ناکامی ہو تو وہ بھی اسے مایوس نہیں کرتی اور وہ اسے اللہ ہی کی طرف سے سمجھتا ہے کیونکہ اسباب کو اختیار کرنا مومن کا کام ہے اور اس…
Read the full tafseer →95 ۔ اس سے یہ معلوم ہوگیا کہ فضل خدا پر بھروسہ اور تقدیر الہی پر اعتماد اہل ایمان کا شیوہ اور ایمان کی علامت ہے۔ (آیت) ” قل “۔ یعنی آپ یہ ان منافقین سے کہہ دیجئے جو اہل ایمان سے حسد رکھتے ہیں۔ (آیت) ” لن۔۔۔ مولنا “۔ سو ہو جو کچھ بھی کرے گا ہمارے حق میں بہتر ہی کرے گا۔
ع : ہرچہ آن خسر وکند شریں بود “۔ سکون خاطر، یکسوئی قلب، اطمینان و فراغت کا یہ آسان، سستا اور مؤثر نسخہ کتنی بار کا آزمایا ہوا ہے بدنصیب ترین ہیں وہ لوگ جو اس کی طرف سے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں پہلے ایسے مراقبہ کی تعلیم ہے جو تو کل کو سہل کردے، اس کے بعد اصل توکل کا حکم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
شان نزول : ان تُصِبْکَ حَسَنَة تسُؤھم وَاِن تصبک مصیبة الخ تفسیر ابن ابی حاتم میں جابر بن عبد اللہ کی روایت سے جو شان نزول ان آیات کا بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ عبد اللہ بن ابی وغیرہ منافقین لڑائی کے وقت بناوٹی عذر کر کے جس لڑائی میں شریک نہیں ہوئے تھے اگر اس لڑائی میں مسلمانوں کو فتح ہوتی اور مال غنیمت ہاتھ آتا تو دو طرح سے ان منافقوں پر یہ امر شاق گذرتا تھا ایک تو اس وجہ سے کہ ان کے دلوں میں مسلمانوں کی عداوت تھی اس لئے مسلمانوں کی فتح و کامرانی ان کو اچھی نہیں لگتی تھی دوسرے ان کو یہ افسوس ہوتا تھا کہ ہم کیوں نہ شریک ہوئے ! ہمارے ہاتھ بھی مال لگتا، اور اگر کسی لڑائی میں مسلمانوں…
Read the full tafseer →قل لن یصینا الا ما کتب اللہ لنا (اے محمد ! ) آپ کہہ دیجئے : ہم پر کوئی حادثہ نہیں پڑ سکتا (اچھا ہو یا برا) مگر وہی جو اللہ نے ہمارے مقدر فرما دیا ہے۔ یعنی لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے ‘ خواہ فتح ہو یا شہادت (عربی زبان میں لام فائدہ کیلئے اور علٰیضرر کیلئے آتا ہے ‘ اس ضابطہ کی روشنی میں لَنَا کا معنی ہوا : ہمارے فائدے کیلئے اللہ نے جو کچھ لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے ‘ وہی ہم کو پہنچے گا۔ عَلَیْنَا نہیں فرمایا ‘ یعنی لَنَا اَوْ عَلَیْنَا نہیں کہا جس کا معنی اس طرح ہوجاتا کہ ہمارے فائدے کی ہو یا ضرر کی ‘ جو بات بھی اللہ نے لکھ دی ہے ‘ وہی ہم کو پہنچے گی) بات یہ ہے کہ فتح ہو یا شہادت ‘ دونوں صورتوں میں…
Read the full tafseer →(51) اے محمد ﷺ آپ ان منافقین سے فرمادیجیے کہ ہم کو جو اللہ نے ہمارے لیے مقدر فرمادیا ہے وہی حادثہ پیش آتا ہے وہی ہمارا مالک ہے اور مومنوں کو تو اپنے سب کام اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد رکھنے چاہیں۔
Read the full tafseer →قُلْ لَّنْ يُّصِيْبَنَآ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا : یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر ایمان و یقین کی برکت کا ذکر ہے، سچ ہے : ”مَنْ عَلِمَ سِرَّ اللّٰہِ فِی الْقَدَرِ ھَانَتْ عَلَیْہِ الْمَصَاءِبُ“ ”جس نے قضا و قدر میں اللہ تعالیٰ کے راز کو پا لیا اس پر مصیبتیں آسان ہوجاتی ہیں۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”کوئی مصیبت نہ زمین میں پہنچتی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب میں ہے، اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں، یقیناً یہ اللہ پر بہت آسان ہے، تاکہ تم نہ اس پر غم کرو جو تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور نہ اس پر پھول جاؤ جو وہ تمہیں عطا فرمائے۔“ [ الحدید : 22، 23 ]
هُوَ مَوْلٰىنَا : وہی…
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : قل لن یصیبنآ الا ما کتب اللہ لنا کہا گیا ہے : اس سے مراد وہ ہے جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : جس کے بارے اس نے ہمیں اپنی کتاب میں خبر دی ہے کہ میں کون ہوں یا تو ہم کامیاب ہوں گے پس کامیابی و کامرانی ہمارے لیے اچھی ہوگی اور یا ہم شہید کردیئے جائیں گے تو شہادت ہمارے لیے بہت عظیم نیکی اور سعادت ہوگی ‘ چناچہ معنی یہ ہے ہر شے قضا و قدر کے مطابق ہے۔ سورة اعراف میں پہلے یہ گزرچاک ہے کہ علم ‘ قدر اور کتاب سب سرابر اور یکساں ہیں۔ ھومولنا یعنی وہ ہمارا حامی اور ناصر ہے۔ اور توکل سے مراد اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا ہے۔ اور جمہور کی قراءت میں یصیبنا ‘ لن کے…
Read the full tafseer →1:۔ ابوالشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) قل لن یصیبنا الا ما کتب اللہ لنا “ یعنی جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے فیصلہ دیا ہے (وہی ہم کو تکلیف پہنچے گی)
2:۔ ابن ابی حاتم نے مسلم بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ تقدیر کے بارے میں کلام کرنا ایسا ہے جیسے دو وسیع عریض وادیاں ہیں ان دنوں میں بھوکے ہلاک ہوجاتے ہیں ان کی چوڑائی کا ایک ادراک نہیں ہوسکتا تو اس آدمی (کی طرح) عمل کرتا رہے جو جانتا ہے کہ وہ نجات نہیں پائے گا۔ مگر اپنے عمل سے۔ اور اس آدمی (کی طرح) تو کل کرتا رہے جو جانتا ہے کہ اس کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی مگر جو اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے لکھ دی ہے۔
3:۔ ابوالشیخ نے مطرف (رح) سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] لَّنْ يُّصِيْبَنَآ [ ہرگز نہیں لگے گا ہم کو ] اِلَّا [ مگر ] مَا [ وہ جو ] كَتَبَ [ لکھا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] لَنَا ۚ [ ہمارے لیے ] هُوَ [ وہ ] مَوْلٰىنَا ۚ [ ہمارا کارساز ہے ] وَعَلَي اللّٰهِ [ اور اللہ پر ہی ] فَلْيَتَوَكَّلِ [ پس چاہیے کہ بھروسہ کریں ] الْمُؤْمِنُوْنَ [ ایمان لانے والے ]
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا (قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَآ اِلَّا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَا) یعنی آپ ان سے فرما دیجیے کہ ہمیں وہی حالت پیش آئے گی جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے مقدر فرما دی ہے۔ خوشحالی خوبی اور بہتری ہو یا کسی قسم کا کوئی حادثہ ہوجائے یا دکھ تکلیف سے دو چار ہوجائیں یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے مقرر اور مقدر ہے۔ (ھُوَ مَوْلٰنَا) اللہ وہ ہمارا مددگار ہے ہمارا ولی ہے ہم اس کی قضاء اور قدر پر راضی ہیں۔ سب کچھ اسی کی طرف سے ہے۔ اور ہماری ہر حالت میں اس نے خیر رکھی ہے۔ فتح و ظفر ہوجائے۔ مال غنیمت مل جائے تو یہ بھی خیر ہے اگر تکلیف پہنچ جائے تو اجر وثواب کے اعتبار سے وہ بھی خیر ہے اور ہم میں سے جو لوگ جام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
منافقین کے حسد اور ان کی باطنی عداوت کا ذکر
قال اللہ تعالیٰ ۔ ان تصبیک حسنۃ تسؤ ھم۔۔۔ الی۔۔ انا معکم متربصون۔
(ربط): اس آیت میں منافقین کے حسد اور ان کی ایک باطنی خباثت اور اندرونی عداوت ذکر ہے جو سارے فتنوں کی جڑ ہے چناچہ فرماتے ہیں اگر آپ کو کسی لڑائی میں کوئی بھلائی مثلا فتح یا غنیمت پہنچے تو حسد اور عداوت کی وجہ سے ان کو بری معلوم ہوتی ہے اور اگر کسی لڑائی میں کوئی بھلائی مثلا فتح یا غنیمت پہنچ تو حسد اور عداوت کی وجہ سے ان کو بری معلوم ہوتی ہے اور اگر کسی لڑائی میں آپ کو کوئی مصیبت پہنچے مثلا شکست یا زخم وغیرہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو پہلے ہی اپنا انتظام کرلیا تھا یعنی ہم پہلے ہی سے جانتے…
Read the full tafseer →50: آپ فرما دیں خیر و شر اللہ کی طرف سے مقدر ہے اور وہی ہمارا کارساز اور مالک و مختار ہے اور جو اس نے ہمار قسمت میں لکھا ہے وہ ضرور ہو کر رہے گا اور ہمارا بھروسہ اللہ پر ہے اور مومن کی شان ہے کہ وہ اللہ پر ہی بھروسہ رکھیں “ و حق المؤمنین ان لا یتوکلوا علی غیر اللہ ” (مدارک ص 99 ج 2) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–54
جد ابن قیس :
اللہ تعالیٰ نے جہاد میں نفیر عام کا حکم دینے کے بعد منافقین کی مذمت بیان فرمائی ہے اور ان کے حیلے بہانوں کا رد کیا ہے۔ اسی سلسلہ میں بعض نمایاں منافقوں کا حال خصوصی طور پر بیان کیا ہے ۔ بنی (1۔ ابن کثیر ص 387 ، ج 2) (فیاض) سلمہ قبیلے کا سردار جد ابن قیس بظاہر کلمہ گو تھا مگر اس کے دل میں کفر تھا یہ وہی شخص ہے جو حدیبیہ کے موقع پر موجود تھا جب حضور ﷺ درخت کے نیچے صحابہ کرام سے بیعت رضوان لے رہے تھے تو یہ شخص اپنے گم شدہ اونٹ کی تلاش میں پھر رہا تھا۔ کسی شخص نے اس سے کہا کہ حضور ﷺ لوگوں سے بیعت لے رہے ہیں ، تم بھی ان میں شامل ہو جائو تو کہنے لگا ، میرا اونٹ ہی مجھے مل جائے تو اچھا…
Read the full tafseer →قُلْ لَّنْ يُّصِيْبَنَآ اِلَّا مَا كَتَبَ اللہُ لَنَا 0 ۚ ہُوَمَوْلٰىنَا 0 ۚ وَعَلَي اللہِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ 51
كتب ( لکھنا)
الْكَتْبُ : ضمّ أديم إلى أديم بالخیاطة، يقال : كَتَبْتُ السّقاء، وكَتَبْتُ البغلة : جمعت بين شفريها بحلقة، وفي التّعارف ضمّ الحروف بعضها إلى بعض بالخطّ ، وقد يقال ذلک للمضموم بعضها إلى بعض باللّفظ، فالأصل في الْكِتَابَةِ : النّظم بالخطّ لکن يستعار کلّ واحد للآخر، ولهذا سمّي کلام الله۔ وإن لم يُكْتَبْ- كِتَاباً کقوله : الم ذلِكَ الْكِتابُ
[ البقرة/ 1- 2] ، وقوله : قالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتانِيَ الْكِتابَ [ مریم/ 30] .
( ک ت ب ) الکتب ۔ کے اصل معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–54
1 ؎ یعنی رسول کی نافرمانی کیا کم فتنہ ہے۔ 12 منہ
ترکیب : منہم خبر ہے من یقول کی اور جملہ معطوف ہے کلام سابق پر۔ ان تصبک شرط تسئوھم جواب الا ما فاعل یصیب کا ان یصبکم مفعول ہے نتربص کا بکم اس سے متعلق ان تقبل کا مفعول مالم یسم فاعلہ نفقاتہم جملہ موضع نصب میں ہے بدل ہو کر مفعول منہم سے۔
تفسیر : منافقوں میں سے ایک شخص جد بن قیس تھا۔ اس نے یہ عذر کیا کہ میں رومی عورت دیکھ کر صبر نہیں کرسکتا مجھے فتنہ میں نہ ڈالئے ٗ اجازت دیجئے۔ آپ نے ترش رو ہو کر فرمایا ٗ اجازت۔ ومنہم من یقول میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ باقی ان کے حالات ترجمہ سے ظاہر ہیں۔ ہمارے لئے دو خوبیوں میں ایک تو ضرور ہے یا شہادت یا فتح و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَآ اِلَّا مَاکَتَبَ اللّٰہُ لَنَاج ھُوَمَوْلٰناَج وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤمِنُوْنَ قُلْ ھَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلَّآ اِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِط وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِکُمْ اَنْ یُّصِیْبَکُمُ اللّٰہُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِہٖٓ اَوْبِاَیْدِیْنَاصلے فَتَرَبَّصُوْآ اِنَّا مَعَکُمْ مُتَرَبِّصُوْنَ ( التوبۃ : 51، 52)
(کہہ دیجیے ! ہرگز نہیں پہنچے گی ہمیں کوئی تکلیف مگر جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے وہی ہمارا مولا ہے اور اللہ ہی پر مومنوں کو توکل کرنا چاہیے۔ ان سے کہہ دیجیے ! کہ تم انتظار نہیں کررہے ہو ہمارے متعلق مگر دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی کا اور ہم انتظار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کی اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں قلبی کیفیت اور ان کا حسد و بغض کا اظہار۔
منافقت کے بنیادی اسباب میں سے ایک سبب حسد بھی ہے۔ منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی کی منافقت کا بنیادی سبب حسد ہی تھا۔ جس کی وجہ یہ ہوئی کہ نبی معظم ﷺ کی مدینہ تشریف آوری سے پہلے انصار کے قبیلے اوس اور خزرج نے یہودیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عبداللہ بن ابی کو اپنا قائد بنانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ جب رسول معظم ﷺ کا مدینہ میں ورود مسعود ہوا تو لوگوں کی توجہ کا مرکز آپ کی ذات اقدس بن گئی جس کی وجہ سے عبداللہ بن ابی کی تاج پوشی کا پروگرام ہمیشہ کے لیے ختم ہوا۔ اس بنا پر عبداللہ بن ابی ہمیشہ کے لیے…
Read the full tafseer →آیت 51: قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَآ اِلَّا مَاکَتَبَ اللّٰہُ لَنَا (آپ فرما دیں ہم پر کوئی حادثہ نہیں پڑ سکتا مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے مقدر فرمایا ہے) جو خیر و شر تقدیر میں تھا۔ ھُوَمَوْلٰنَا (وہ ہمارا مالک ہے) جو ہمارا نگہبان ہے اور ہم اس کی راہ میں چلنے والے ہیں۔ وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ (سب مسلمانوں کو اپنے سب کام اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد کرنے چاہئیں) مومنوں کا حق یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سواء اور کسی پر بھروسہ نہ کریں۔
Read the full tafseer →51۔” قل “ ان کو اے محمد ” لن یصیبناالا ما کتب اللہ لنا “ ہم پر لوح محفوظ ” ھو مولنا “ ہمارا مدد گار اور حافظ ہے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ ہماری ذات سے اولیٰ ہے موت اور زندگی میں ” وعلی اللہ فلیتوکل المومنون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
50۔ 52۔ تفسیر ابن بی حاتم میں جابر ؓ بن عبداللہ کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ عبداللہ بن ابی وغیرہ منافقین لڑائی کے وقت بناوٹی عذر کر کے جس لڑائی میں شریک نہیں ہوتے تھے اور گھروں میں بیٹھ رہتے تھے اگر اس لڑائی میں مسلمانوں کی فتح ہوتی اور مال غنیمت کا ہاتھ آتا تو دو طرح سے ان منافقین پر یہ امر شاق گزرتا تھا ایک تو یہ کہ ان کے دل میں مسلمانوں کی طرف سے عداوت تھی اس واسطے مسلمانوں کی بہبودی ان کے دل کو اچھی نہیں معلوم ہوتی تھی دوسرے ان کو یہ افسوس ہوتا تھا کہ ہم کیوں نہ گئے جو ہمارے ہاتھ بھی مال لگتا اور اگر مسلمانوں کو کسی لڑائی میں کچھ ضرر پہنچتا تو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
آیت 50
اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کے بارے میں یہ واضح کرتے ہوئے کہ وہی حقیقی دشمن اور اسلام کے خلاف بغض رکھنے والے ہیں۔۔۔ فرماتا ہے (ان تصبک حسنۃ) ” اگر پہنچے آپ کو کوئی بھلائی “ مثلاً فتح و نصرت اور دشمن کے خلاف آپ کی کامیبای (تسوھم) ” تو ان کو بری لگتی ہے۔ “ یعنی ان کو غمزدہ کردیتی ہے (وان تصبک مصیبۃ) ” اور اگر آپ کو پہنچے کوئی مصیبت “ مثلاً آپ کے خلاف دشمن کی کامیابی (یقولوا) ” تو کہتے ہیں۔ “ آپ کے ساتھ نہ جانے کی وجہ سے سلامت رہنے کی بنا پر نہایت فخر سے کہتے ہیں : (قد اخذنا امرنا من قبل “ ہم نے اس سے پہلے اپنا بچاؤ کرلیا تھا اور ہم نے ایسا رویہ رکھا جس کی وجہ سے ہم اس مصیبت میں گرفتار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
قول باری ہے (قل لن یصیبنا الا ما کتب اللہ لنا ھو مولنا۔ ان سے کہو ” ہمیں ہرگز کوئی برائی یا بھلائی نہیں چنچتی مگر وہ جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دی ہے۔ اللہ ہی ہمارا مولیٰ ہے) حسن سے مروی ہے کہ جو برائی یا بھلائی ہمیں پہنچتی ہے یہ لوح محفوظ میں اللہ کی طرف سے لکھی ہوئی ہوتی ہے۔ “ اس بارے میں کافروں کا یہ تو ہم غلط ہے کہ ہمیں اپنی کوتاہی اور غفلت کی بنا پر برائی پہنچتی ہے اور اس کا ہمارے رب کی تدبیر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ایک قول کے مطابق اس کی تفسیر یہ ہے کہ انجام کار ہمیں وہی نصیب ہوگا جس کا وعدہ اللہ نے کررکھا ہے یعنی اس کی مدد اور نصرت۔ “
Read the full tafseer →109 تقدیر کے لکھے نے بہرحال ہو کر رہنا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ ہمیں ہرگز نہیں پہنچتا مگر وہی کچھ جو کہ قدرت نے ہمارے لیے لکھ رکھا ہے کہ لکھے ہوئے نے بہرحال ہو کر رہنا ہے۔ یعنی جو لکھا ہے لوح محفوظ میں۔ اور جو وہاں لکھا ہوگا وہ بہرحال ہو کر رہے گا۔ کسی کے خوش یا ناخوش ہونے سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پس تمہارا خوش ہونا دراصل تمہاری اپنی ہی حماقت کی دلیل ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ (جامع البیان، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ کیونکہ تقدیر کے لکھے نے بہرحال ہو کر رہنا ہے۔ اس میں کسی کا کوئی دخل اور اختیار نہیں۔ سو خدا نے جو کچھ ہمارے لیے لکھ رکھا ہے وہ بہرحال ہو کر رہے گا۔ وہ کسی کے ٹالے ٹل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–59
منافقوں کے فتنوں سے بچنے کی تدابیر
تشریح : ان آیات میں پہلے تو ان منافقین کا غزوہ تبوک میں شامل نہ ہونا باعث رحمت بتایا گیا ہے کیونکہ یہ لوگ اگر ساتھ چلے جاتے تو ان کا مقصد نہ تو جہاد کرنا ہوتا اور نہ ہی یہ مخلص ہوتے، اس لیے اگر یہ چلے جاتے تو صرف غلط سلط افواہوں سے مجاہدین میں بددلی، نااتفاقی اور کمزوری ہی پیدا کرنے کا کام انہوں نے کرنا تھا اور اس طرح فوج کو کمزور کرنے کا مقصد حاصل کرتے کیونکہ اگرچہ مسلمان ہوتے تو انسان ہی ہیں بعض ان کی باتوں میں آکر گھبرا بھی سکتے تھے اور ان کو اپنے خفیہ راز لاعلمی میں بتا دیتے اس لیے اچھا ہوا یہ جہاد میں ساتھ نہ گئے۔ یہ لوگ پہلے بھی اس قسم کا فساد پھیلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–59
آیات 43 تا 59
اللہ نے آپ کو معاف تو کردیا مگر آپ ﷺ نے انھیں جہاد سے رہ جانے کی اجازت ہی کیوں دی ؟ اگر آپ ایسانہ کرتے تو بھی یہ جہاد میں شامل ہونے سے تو رہے ہاں سب لوگوں پہ ان کی اصلیت کھل جاتی اور نفاق واضح ہوجاتا ۔
رشتہ قلبی کے انداز
یہاں اگر چہ بات ایک مشورے کے انداز میں ارشاد ہے کہ اگر آپ اجازت نہ دیتے تو ان کے پاس بہانہ نہ ہوتا مگر نبی اکرم ﷺ کے قلب اطہر کو جو تعلق ذات باری سے تھا وہ اس قدربات بھی برداشت نہ کرپاتا ۔ لہٰذ اسوالیہ انداز میں بات ارشاد فرمانے سے پہلے فرمایا عفا اللہ عنک اللہ نے آپ کو معاف فرمادیا کوئی نارزضگی یا خفگی کی بات نہیں مگر آپ نے ایسا کیوں کیا یہ معافی گناہ کی نہیں…
Read the full tafseer →ف 13 سچ ہے : من علم سر اللہ فی القدر ھانت علیہ المصائب کہ جس نے قصا و قدر میں سرالہیٰ کو پا لیا اور اس پر مصائب آسان ہوجاتے ہیں۔ پس انسان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر راضی رہے تاکہ اجرو ثوب کا مستحق ہو۔ ( کبیر)14 کام بنانے والا اور حماتی ،۔ وہ جیسے چاہے عالم میں تصرف کرے ( کبیر )
15 نہ دنیا کے سازوسامان اور نہ دنیا کے کسی شخص پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
(9:50) نصبکم۔ اصاب یصیب اصابۃ (افعال) سے مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے۔ اصل میں تصیب تھا۔ ان شرطیہ کی وجہ سے ی حرف علت گرگیا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اگر پہنچے تم کو۔
تسؤہم۔ ساء یسوء سوء (نصر) مضارع واحد مؤنث غائب۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ ان کو بری لگتی ہے۔ ان کو غمگین کرتی ہے۔ قد اخذنا امرنا۔ ہم نے پہلے ہی اپنا معاملہ ٹھیک کرلیا تھا۔ ہم نے پہلے ہی احتیاطی تدبیریں اختیار کرلی تھیں (اس لئے ہمیں یہ تکلیف نہیں پہنچی) ۔
یتولوا۔ پھرجاتے ہیں۔ لوٹ جاتے ہیں۔ تولی سے مضارع مجزوم جمع مذکر غائب۔
فرحون۔ خوش۔ اترانے والے۔ صفت مشبہ۔ جمع ۔ فرح واحد۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 52
تسوھم (ان کو بری لگتی ہے) اخذنا (ہم نے لے لیا) امرنا (اپنا اختیار، اپنا اکم) فرحون (وہ خوش ہو رہے ہیں ) لن یصیبنا (ہمیں ہرگز نہ پہنچے گی) مولنا (ہمارا مالک) احدی الحسنین (دو بھلائیوں میں سے ایک)
تشریح : آیت نمبر 50 تا 52
ان آیات میں منافقین کی ایک اور عادت اور کم ظرفی کے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے۔
یہ منافقین بظاہر تو مسلمان بنے ہوئے تھے لیکن جب کوئی فتح یا کامیابی کی اطلاع آتی تو انہیں دکھ ہوتا تھا اور جب مسلمانوں کو کسی طرح کا نقصان پہنچتا تو خوشی سے دیوانے ہوجاتے اور اپنی اس دلی خوشی کو دباتے ہوئے کہتے کہ ہمیں تو پہلے ہی معلوم تھا کہ ایسا ہوگا یا ہمیں تو پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
شان نزول : عبد اللہ بن ابی وغیرہ منافقین لڑائی کے وقت بناوٹی عذر کرکے جس لڑائی میں شریک نہیں ہوتے تھے اور مسلمانوں کی فتح ہوتی اور مال غنیمت ہاتھ آتا تو دو طرف سے ان منافقین پر یہ امر شاق گزرتا تھا۔ ایک تو یہ کہ مسلمانوں کی طرف سے عداوت تھی اس واسطے ان کی بہبودی اچھی معلوم نہیں ہوتی تھی۔ دوسرے ان کو یہ محسوس ہوتا تھا ہم کیوں نہیں گئے جو ہمارے ہاتھ بھی مال لگتا اور اگر مسلمانوں کو کسی لڑائی میں کچھ ضرر پہنچتا تو یہ منافقین اپنی دور اندیشی پر نازاں ہوکر کہتے کہ ہم تو ضرر سے بچنے کے لئے پہلے ہی سے عذر کرکے نہیں گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں منصوبوں کے جواب میں یہ آیتیں نازل فرمائیں اور پہلے…
Read the full tafseer →[29] یعنی ایک اللہ کی پرستش کرنے والا انسان جو کچھ کرتا ہے۔ اللہ کی رضا کے لئے کرتا ہے اور اس کام میں اس کا بھروسہ اللہ کی ذات پر ہوتا ہے۔ اگر راہ حق میں کام کرتے ہوئے اس پر مصائب نازل ہوں یا کامرانیاں، دونوں کو وہ اپنے حق میں اللہ کی طرف سے سمجھتا ہے۔ وہ ناسازگار حالات میں بھی اسی عزم و ہمت سے کام کئے جاتا ہے جس کا اظہار اہل دنیا سے صرف سازگار حالات ہی میں ہوا کرتا ہے۔ اس کے پیش نظر صرف یہ بات ہوتی ہے کہ اللہ کی راہ میں جان و مال کی بازی لگانے کا جو فرض اس پر عائد ہوتا ہے اس نے کہاں تک انجام دیا۔ اگر یہ فرض اس نے ادا کردیا ہو تو خواہ دنیا میں اس کی بازی بالکل ہی ہر گئی ہو لیکن اسے بھروسہ…
Read the full tafseer →مولے :
(ف 3) مولے کا اشتقاق ولایت سے ہے ، جس کے معنی نصرت ودوستی کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا کارساز اور دوست ہے کیا یہ محبت و شفقت کا آخری تخیل نہیں ؟
جہاں وہ رب ہے مالک و قادر ہے وہاں مسلمانوں کے لئے وہ نہایت درجہ رحیم ہے جس کے رحم میں دوستانہ اور محبانہ بےتکلفی اور مرحمت ہے ،
خدا کو باپ کہہ کر فخر کرنے والے مولے ، کی جامعیت پر خود غور فرمائیں ۔
Read the full tafseer →51 آپ فرما دیجئے کہ ہم پر ہرگز کوئی مصیبت نہیں آسکتی اور ہم کو کوئی حادثہ پیش نہیں آتا مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے اور ہمارے لئے مقرر کردیا ہے وہی ہمارا مالک اور آقا و مولا ہے اور مسلمانوں کو چاہئے کہ بس اللہ ہی پر بھروسہ رکھا کریں۔
Read the full tafseer →ف 5۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ مالک اور حاکم ہیں حاکم ہونے کی حثییت سے ان کو ہر تصرف کا اختیار ہے اس لیے ہم راضی ہیں۔
Read the full tafseer →آپ کہہ دیجئے کہ مومنوں کے لئے مصیبت اور راحت دونوں میں خیر ہے :
73: فرمایا ، ان بغلیں بجانے والوں سے کہہ دیجئے یعنی آپ ﷺ ان کو جواب دیجئے کہ ہمیں جو کچھ پیش آئے گا وہ وہی ہوگا جو اللہ نے ہمارے لئے مقدر کردیا ہے وہی ہمارا کر ساز ہے اور ہمیں اس پر پورا بھروسہ ہے کہ اس نے جو کچھ ہمارے لئے لکھ رکھا ہے اس میں ہماری دنیا اور آخرت کی بہبود ہے اگر تم ہمارے لئے کسی مصیبت کے خواہاں ہو تو ہمارا یہ ایمان ہے کہ وہ تمہارے کہنے سے نہیں آئے گی بلکہ ہمارے رب ہی کے چاہنے سے آئے گی اور ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ اس میں ہماری بہتری ہوگی۔ کان کھول کر سن لو کہ اہل ایمان کے لئے مصیبت اور راحت ، دکھ اور سکھ ، موت اور…
Read the full tafseer →In the ninth verse (51), Allah Ta` ala has instructed the Holy Prophet ﷺ and Muslims, that they should not allow themselves to be affected by things like that said by the hypocrites and that they must always keep reality as it is before them. The words of the Holy Qur'an are:. قُل لَّن يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّـهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا ۚ وَعَلَى اللَّـهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴿51﴾ (Say, "Nothing , can ever reach us except what Allah has written for us. He is our Master. And in Allah alone the believers must place their trust" ). In other words, the Holy Prophet ﷺ is being…
Read the full tafseer →