At-Tawba 9:50

At-Tawba · from ayah 50

9:50

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ ۚ— وَاِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَیَتَوَلَّوْا وَّهُمْ فَرِحُوْنَ ۟اِنۡ تُصِبۡكَ حَسَنَةٌ تَسُؤۡهُمۡ‌ ۚ وَاِنۡ تُصِبۡكَ مُصِيۡبَةٌ يَّقُوۡلُوۡا قَدۡ اَخَذۡنَاۤ اَمۡرَنَا مِنۡ قَبۡلُ وَيَتَوَلَّوْا وَّهُمۡ فَرِحُوۡنَ

(اے پیغمبر) اگر تم کو آسائش حاصل ہوتی ہے تو ان کو بری لگتی ہے۔ اور کوئی مشکل پڑتی ہے تو کہتے کہ ہم نے اپنا کام پہلے ہیں (درست) کر لیا تھا اور خوشیاں مناتے لوٹ جاتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

If good befalls you, it distresses them; but if disaster strikes you, they say, "We took our matter [in hand] before," and turn away while they are rejoicing.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 7 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:50

تمہارا بھلا ہوتا ہے تو انہیں رنج ہوتا ہے اور تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ منہ پھیر کر خوش خوش پلٹتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ اچھا ہوا ہم نے پہلے ہی اپنا معاملہ ٹھیک کر لیا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے پیغمبر) اگر تم کو آسائش حاصل ہوتی ہے تو ان کو بری لگتی ہے۔ اور کوئی مشکل پڑتی ہے تو کہتے کہ ہم نے اپنا کام پہلے ہیں (درست) کر لیا تھا اور خوشیاں مناتے لوٹ جاتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کو اگر کوئی بھلائی مل جائے تو انہیں برا لگتا ہے اور کوئی برائی پہنچ جائے تو یہ کہتے ہیں ہم نے تو اپنا معاملہ پہلے سے ہی درست کر لیا تھا، پھر تو بڑے ہی اتراتے ہوئے لوٹتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اگر تمہیں کوئی بھلائی مل جائے تو انہیں دکھ ہوتا ہے، اور اگر تم پر کوئی مصیبت آپڑے تو کہتے ہیں کہ : ہم نے تو پہلے ہی اپنا بچاؤ کرلیا تھا، اور (یہ کہہ کر) بڑے خوش خوش واپس جاتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اگر تمہیں بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگے اور اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو کہیں ہم نے اپنا کام پہلے ہی ٹھیک کرلیا تھا اور خوشیاں مناتے پھر جائیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اگر آپ کو کوئی بھلائی (یا آسائش) پہنچتی ہے (تو) وہ انہیں بری لگتی ہے اور اگر آپ کو مصیبت (یا تکلیف) پہنچتی ہے (تو) کہتے ہیں کہ ہم نے تو پہلے سے ہی اپنے کام (میں احتیاط) کو اختیار کر لیا تھا اور خوشیاں مناتے ہوئے پلٹتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اگر تجھے کوئی بھلائی پہنچے تو انھیں بری لگتی ہے اور اگر تجھے کوئی مصیبت پہنچے تو کہتے ہیں ہم نے تو پہلے ہی اپنا بچاؤ کرلیا تھا اور اس حال میں پھرتے ہیں کہ وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر آپ کو کوئی بھلائی ملے تو انہیں بری لگتی ہے۔ اور اگر کوئی مصیبت آپڑے تو کہتے ہیں۔ ہم نے تو اپنا معاملہ پہلے ہی درست رکھا تھا پھر وہ خوش خوش واپس چلے جاتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر تمہیں کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو انہیں دکھ ہوتا ہے اور اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں خوب ہوا ہم نے پہلے ہی اپنا بچاؤ کرلیا تھا اور مگن ہو کر لوٹتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اگر آپ کو کوئی اچھی حالت پیش آئے تو ان کو یہ امر برا لگتا ہے اور اگر کوئی مصیبت پڑجائے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنا کام پہلے ہی ٹھیک کرلیا تھا، اور یہ لوٹتے ہیں خوشیاں کرتے ہوئے،

— مولانا اسحاق مدنی

اگر آپ کو کوئی اچھی حالت پیش آتی ہے تو یہ انہیں غمگین کردیتی ہے اور اگ آپ پر کوئی حادثہ آپڑتا ہے تو یہ کہنے لگتے ہیں کہ ہم نے تو (اسی لئے) پہلے سے اپنا امر (احتیاط) اختیار کرلیا تھا اور خوش خوش منہ موڑے ہوئے چلے جاتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر آپ کو کوئی اچھی بات پہنچتی ہے تو انہیں وہ بری لگتی ہے اور اگر آپ ﷺ کو کوئی تکلیف آجاتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنا معاملہ پہلے ہی درست کرلیا تھا اور وہ لوٹ جاتے ہیں خوشیاں مناتے ہوئے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(اے پیغمبر !) اگر تمہیں آسائش ملتی ہے تو ان کو برا لگتا ہے اور اگر کوئی مشکل پڑتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنا کام پہلے ہی درست کرلیا تھا اور خوشیاں مناتے لوٹ جاتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

If good fortune befalls you, it vexes them; and if an affliction befalls you, they turn away in jubilation and say: "We have taken due care of our affairs in good time."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If some good comes to you, it annoys them, and if hardship befalls you, they say, :We had already taken care of our problem , and they go their way delighted.

— Muhammad Taqi Usmani

If some good comes to you, it annoys them, and if hardship befalls you, they say, :We had already taken care of our problem , and they go their way delighted.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

If good befalls you, it grieves them, but if a calamity overtakes you, they say: "We took our precaution beforehand," and they turn away rejoicing.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

If good befalleth thee (O Muhammad) it afflicteth them, and if calamity befalleth thee, they say: We took precaution, and they turn away well pleased.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

If good befalls you, it distresses them; but if disaster strikes you, they say, "We took our matter [in hand] before," and turn away while they are rejoicing.

— Saheeh International

If you gain success, it grieves them but if you suffer hardship, they turn away from you saying, "It's good that we took our affairs into our own hands".

— Muhammad Sarwar

If good befalls you, it grieves them, and if hardship afflicts you, they say: Indeed we had taken care of our affair before; and they turn back and are glad.

— Muhammad Habib Shakir

If good befalleth thee, it annoyeth them, and if an affliction befalleth thee, they say; surely we took good hold of our affair before. And they turn away while they are exulting.

— Abdul Majid Daryabadi

If good befalls thee, it grieves them; but if a misfortune befalls thee, they say, "We took indeed our precautions beforehand," and they turn away rejoicing.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:50

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 50–51

بدفطرت لوگوں کا دوغلا پن ان بدباطن لوگوں کی اندرونی خباثت کا بیان ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی فتح و نصرت سے، ان کی بھلائی اور ترقی سے ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے اور اگر اللہ نہ کرے یہاں اس کے خلاف ہوا تو بڑے شور و غل مچاتے ہیں گاگا کر اپنی چالاکی کے افسانے گائے جاتے ہیں کہ میاں اسی وجہ سے ہم تو ان سے بچے رہے مارے خوشی کے بغلیں بجانے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو جواب دے کر رنج راحت اور ہم خود اللہ کی تقدیر اور اس کی منشا کے ماتحت ہیں وہ ہمارا مولیٰ ہے وہ ہمارا آقا ہے وہ ہماری پناہ ہے ہم مومن ہیں اور مومنوں کا بھروسہ اسی پر ہوتا ہے وہ ہمیں کافی ہے بس ہے وہ ہمارا کار ساز ہے اور بہترین…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 49–50

سورة التَّوْبَة 48 جو منافق بہانے کر کر کے پیچھے ٹھہر جانے کی اجازتیں مانگ رہے تھے ان میں سے بعض ایسے بےباک بھی تھے جو راہ خدا سے قدم پیچھے ہٹانے کے لیے مذہبی و اخلاقی نوعیت کے حیلے تراشتے تھے۔ چناچہ ان میں سے ایک شخص جد بن قیس کے متعلق روایات میں آیا ہے کہ اس نے نبی ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ میں ایک حسن پرست آدمی ہوں، میری قوم کے لوگ میری اس کمزوری سے واقف ہیں کہ عورت کے معاملہ میں مجھ سے صبر نہیں ہو سکتا۔ ڈرتا ہوں کہ کہیں رومی عورتوں کو دیکھ کر میرا قدم پھسل نہ جائے۔ لہٰذا آپ مجھے فتنے میں نہ ڈالیں اور اس جہاد کی شرکت سے مجھ کو معذور رکھیں۔ سورة التَّوْبَة 49 یعنی نام تو فتنے سے بچنے کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ساتویں آیت میں ان کی ایک اور کم ظرفی کا بیان ہے، کہ یہ لوگ اگرچہ ظاہر میں مسلمانوں کے ساتھ ملے رہتے ہیں، لیکن حال یہ ہے کہ (آیت) اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤ ْهُمْ ، یعنی اگر آپ کو کوئی فتح اور کامیابی حاصل ہوتی ہے تو ان کو سخت ناگوار ہوتا ہے، (آیت) وَاِنْ تُصِبْكَ مُصِيْبَةٌ يَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَآ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَيَتَوَلَّوْا وَّهُمْ فَرِحُوْنَ ، یعنی اگر آپ کو کوئی مصیبت پہونچتی ہے تو یہ لوگ کہنے لگتے ہیں کہ ہم تو پہلے ہی جانتے تھے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو مصیبت میں ڈال رہے ہیں، اسی لئے ہم نے اپنی مصلحت کو اختیار کیا، ان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے اور یہ کہہ کر وہ خوشی خوشی واپس ہوجاتے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

منافقین کا اصل باطن : یہ ان کے اصل باطن سے پردہ اٹھایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عذرات اور بہانے تو محض اوپر کا پردہ ہیں۔ ان کے دلوں کے اندر تو صرف تمہاری بد خواہی بھری ہوئی ہے۔ اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ ، جب تمہیں کسی مہم میں کامیابی حاصل ہوتی ہے تو ان کو بڑا دکھ ہوتا ہے اور، وَاِنْ تُصِبْكَ مُصِيْبَةٌ يَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَآ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَيَتَوَلَّوْا وَّهُمْ فَرِحُوْنَ ، اگر تمہیں کوئی افتاد پیش آجائے تو بہت خوش ہو کر لوٹتے ہیں کہ خوب ہوا کہ ہم نے اپنا بچاؤ پہلے ہی کرلیا تھا۔ قَدْ اَخَذْنَآ اَمْرَنَا کی تاویل بعض لوگوں نے قَدْ اَخَذْنَآ حذرنا سے کی ہے ہمارے نزدیک یہ تاویل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

50۔ 1 سیاق کلام کے اعتبار سے حسنَۃ، ُ سے یہاں کامیابی اور غنیمت اور سَیَئَۃ سے ناکامی، شکست اور اسی قسم کے نقصانات جو جنگ میں متوقع ہوتے ہیں مراد ہیں۔ اس میں ان کے خبث باطنی کا اظہار ہے جو منافقین کے دلوں میں تھا اس لئے کہ مصیبت پر خوش ہونا اور بھلائی حاصل ہونے پر رنج اور تکلیف محسوس کرنا، غایت عداوت کی دلیل ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 49–51

42: حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ منافقین میں ایک شخص جد بن قیس تھا۔ جب آنحضرت ﷺ نے اس کو غزوہ تبوک میں شامل ہونے کی دعوت دی تو اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میں بڑا زن پرست آدمی ہوں، جب روم کی خوبصورت عورتوں کو دیکھوں گا تو مجھ سے صبر نہیں ہوسکے گا، اور میں فتنے میں مبتلا ہوجاؤں گا۔ لہذا مجھے اجازت دے دیجئے کہ میں اس جنگ میں شریک نہ ہوں، اور اس طرح مجھے فتنے میں مبتلا ہونے سے بچا لیجئے۔ اس آیت میں اس کی طرف اشارہ ہے (روح المعانی بحوالہ ابن المنذر و طبرانی وابن مردویہ)۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ یہ رسول اللہ اور مسلمانوں کی بھلائی نہیں چاہتے اور اس بات پر بہت کڑھتے ہیں کہ رسول اللہ اور مسلمانوں کو کوئی برتری نصیب ہو۔ اگر مسلمانوں پر کوئی مصیبت آئے تو یہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے تو پہلے سے احتیاطی تدابیر اختیار کرلی تھیں اس لیے ہم بچ گئے اور ہمیں ان مشکلات سے دوچار ہونا نہ پڑا اور اپنی جگہ یہ خوشیاں مناتے ہیں۔ لیکن یہ بہت ہی کم عقل ہیں صرف ظاہری باتوں پر ان کی نظر ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ مصائب ہر حال میں برے ہوتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں گھروں میں بیٹھ کر اور جہاد سے پیچھے رہ کر انہوں نے بھلائی کما لی۔ حالانکہ ان کے دلوں میں اطاعت الٰہی نہ رہی اور انہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 منافقین کی عادت تھی۔ جب مسلمانوں کو غلبہ و کامیابی نصیب ہوتی تو جلتے اور کڑھتے تھے۔ اور اگر کبھی کوئی سختی کی بات پیش آگئی مثلاً کچھ مسلمان شہید یا مجروح ہوگئے۔ تو فخریہ کہتے کہ ہم نے ازراہ دور اندیشی پہلے ہی اپنے بچاؤ کا انتظام کرلیا تھا۔ ہم سمجھتے تھے کہ یہ ہی حشر ہونے والا ہے لہذا ان کے ساتھ گئے ہی نہیں۔ غرض ڈینگیں مارتے ہوئے اور خوشی سے بغلیں بجاتے ہوئے اپنی مجلسوں سے گھروں کو واپس جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 50 اِنْ تُصِبْکَ حَسَنَۃٌ تَسُؤْہُمْ ج اگر آپ ﷺ کو کہیں سے کوئی کامیابی ملتی ہے ‘ کوئی اچھی خبر آپ ﷺ کے لیے آتی ہے تو انہیں یہ سب کچھ ناگوار لگتا ہے۔ وَاِنْ تُصِبْکَ مُصِیْبَۃٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَآ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ کہ ہم کوئی ان لوگوں کی طرح بیوقوف تھوڑے ہیں ‘ ہم نے تو پہلے ہی ان برے حالات سے اپنی حفاظت کا بندوبست کرلیا تھا۔ وَیَتَوَلَّوْا وَّہُمْ فَرِحُوْنَ وہ اس صورت حال میں بڑے شاداں وفرحاں پھرتے ہیں کہ مسلمانوں پر مصیبت آگئی اور ہم بچ گئے۔ اگلی دو آیات معرکہ حق و باطل میں ایک بندۂ مؤمن کے لیے بہت بڑا ہتھیار ہیں۔ اس لیے ہر مسلمان کو یہ دونوں آیات زبانی یاد کر لینی چاہئیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

54 یعنی اگر فتح نصیب ہو تو یہ جل بھن جاتے ہیں اور اگر خدانخواستہ شکست سے دو چار ہونا پڑے تو کہتے ہیں کہ ہم نے ازراہ دور اندیشی پہلے ہی اپنے بچاؤ کا انتظام کرلیا تھا ہم سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کا یہی حشر ہونے والا ہے لہذا ان کے ساتھ گئے ہی نہیں۔ پھر وہ خوشی خوشی ڈھینگیں مارتے اور بغلیں بجاتے اپنی مجلسوں سے اپنے گھروں کو واپس جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

94 ۔ (آیت) ” ھم “۔ اور سارے صیغہ جمع مذکر غائب کے منافقین کے لئے آئے ہیں۔ (آیت) ” حسنۃ۔ مصیبۃ “۔ دونوں لفظوں کا استعمال منافقین کے نقطہ نظر سے ہے یعنی اسی مادی دنیا کا نفع وضر۔ (آیت) ” قد اخذنا امرنا “۔ مثلا یہی کہ جنگ میں مسلمانوں کے ساتھ نہیں نکلے۔ امر یہاں احتیاط یا پیش بندی کے معنی میں ہے۔ امرنا اے حذرنا (ابن جریر۔ عن مجاہد)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 50–52

شان نزول : ان تُصِبْکَ حَسَنَة تسُؤھم وَاِن تصبک مصیبة الخ تفسیر ابن ابی حاتم میں جابر بن عبد اللہ کی روایت سے جو شان نزول ان آیات کا بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ عبد اللہ بن ابی وغیرہ منافقین لڑائی کے وقت بناوٹی عذر کر کے جس لڑائی میں شریک نہیں ہوئے تھے اگر اس لڑائی میں مسلمانوں کو فتح ہوتی اور مال غنیمت ہاتھ آتا تو دو طرح سے ان منافقوں پر یہ امر شاق گذرتا تھا ایک تو اس وجہ سے کہ ان کے دلوں میں مسلمانوں کی عداوت تھی اس لئے مسلمانوں کی فتح و کامرانی ان کو اچھی نہیں لگتی تھی دوسرے ان کو یہ افسوس ہوتا تھا کہ ہم کیوں نہ شریک ہوئے ! ہمارے ہاتھ بھی مال لگتا، اور اگر کسی لڑائی میں مسلمانوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان تصبک حسنۃ تسؤھم وان تصبک مصیبۃ یقولوا قد اخذنا امرنا من قبل ویتولوا وھم فرحون اگر آپ کو کوئی اچھی حالت پیش آتی ہے تو ان کو دکھ ہوتا ہے اور اگر آپ پر کوئی حادثہ آپڑتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو (اسی لئے) پہلے سے اپنے معاملہ میں احتیاط کرلی تھی اور (یہ کہہ کر) وہ خوش ہوتے چلے جاتے ہیں۔ تُصِبْکَمیں خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے۔ حَسَنَۃٌ سے فتح اور مال غنیمت مراد ہے۔ مُصِیْبَۃٌ سے مراد ہے : شکست یا مشقت و دشواری جیسے احد کے دن ہوئی تھی۔ یعنی جب رسول اللہ ﷺ پر جنگ میں کسی طرح کی شکست یا مشقت پڑتی ہے تو منافق اپنے شریک نہ ہونے اور ساتھ نہ جانے پر خوش ہوتے ہیں اور اپنی دور بینی کی تعریف کرتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(50) اگر آپ ﷺ کو غزوہ بدر کی طرح فتح وغنیمت پیش آتی ہے تو وہ ان منافقین کے لیے غم کا سبب ہوتی ہے اور اگر آپ ﷺ پر غزوہ احد کی طرح قتل وہزیمت کا کوئی حادثہ آپڑتا ہے تو یہ منافقین یعنی عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے اس حادثہ کے پیش آنے سے پہلے ہم نے ساتھ نہ دے کر اپنی حفاظت کرلی تھی اور یہ کہہ کر غزوہ احد کے دن رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام کو جو حادثہ پیش آیا، خوشی خوشی جہاد سے واپس چلے آتے ہیں۔ شان نزول : ان تصبک حسنۃ تسؤھم“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ جو منافقین مدینہ منورہ میں رہ گئے تھے اور انہوں نے جہاد میں شرکت نہیں کی تھی وہ لوگوں کو…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ : یہاں ”حَسَنَةٌ“ سے مراد کامیابی، فتح، غنیمت اور سلامتی ہے اور ”مُصِيْبَةٌ“ سے مراد فتح حاصل کرنے میں وقتی ناکامی یا مسلمانوں کا زخمی اور شہید ہونا ہے۔ یہ بھی ان کے خبث باطن اور مکر و فریب کی ایک دلیل ہے کہ انھیں مسلمانوں کو کوئی فائدہ حاصل ہونا ناگوار ہوتا ہے اور اگر وہ کسی مصیبت میں مبتلا ہوں تو خوش ہوتے ہیں اور انھیں اپنی ہوش مندی اور سیاست دانی کا پروپیگنڈا کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو پہلے ہی بچاؤ کرلیا تھا، جیسے جنگ احد کے بعد عبداللہ بن ابی منافق نے کہا تھا کہ ہم تو اسی وجہ سے پہلے پلٹ آئے تھے کہ ہمیں معلوم تھا کہ مسلمانوں کو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 49–50

قولہ تعالیٰ : ومنھم من یقول ائذن لی یہ أذن یأ ذن سے ہے۔ اور جب امر بنایا گیا تو اس میں ہمزہ مسکور زائد کیا گیا اور اس کے بعد ایک ہمزہ ہے جو فعل کا فاکلمہ ہے اور دو ہمزے جمع نہیں ہو سکتے۔ پس دوسرے کو ماقبل مکسور ہونے کی وجہ سے یا سے بدل دیا گیا تو تو نے ایذن کہا۔ اور جب یہ وصل کلام میں ہو تودو ہمزوں کے جمع ہونے کی علت ساقط اور زائل ہوجاتی ہے چناچہ وہ یا پھر ہمزہ ہوئی۔ اور تو نے یہ پڑھا : ومنھم من یقول ائذن لی۔ ورش نے حضرت نافع سے روایت کیا ہے : ومنھم من یقول أوذن لی انہوں نے ہمزہ کو مخفف کیا ہے ( یعنی اس کا ماقبل لام مضموم ہونے کی وجہ سے اسے وائو سے بدل دیا ہے) نحاس نے کہا ہے : کہا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

پیچھے رہنے والے منافقین کا حال : 1:۔ ابن ابی حاتم نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ منافقین جو مدینہ منورہ میں پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے نبی کریم ﷺ کے بارے میں بری خبریں پھیلانی شروع کیں کہتے تھے کہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں نے اپنے سفر میں بہت مشقت اٹھائی اور وہ ہلاک ہوگئے۔ پھر ان کے پاس ان کی باتوں کا جھوٹا ہونا اور نبی کریم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کا عافیت کی خبر پہنچتی۔ تو یہ خبران کو بہت بری لگتی اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” ان تصبک حسنۃ تسوھم “ 2:۔ سعید وابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان تصبک حسنۃ تسوھم “ کے بارے میں فرمایا کہ اگر آپ کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنْ [ اگر ] تُصِبْكَ [ آن لگے آپ کو ] حَسَنَةٌ [ کوئی اچھائی ] تَسُؤْهُمْ ۚ [ تو وہ بری لگتی ہے ان کو ] وَاِنْ [ اور اگر ] تُصِبْكَ [ آن لگے آپ کو ] مُصِيْبَةٌ [ کوئی مصیبت ] يَّقُوْلُوْا [ تو وہ کہتے ہیں ] قَدْ اَخَذْنَآ [ ہم نے پکڑ (یعنی سنبھال ) لیا ہے ] اَمْرَنَا [ اپنا معاملہ ] مِنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے سے ] وَيَتَوَلَّوْا [ اور وہ لوٹتے ہیں ] وَّ [ اس حال میں کہ ] هُمْ [ وہ لوگ ] فَرِحُوْنَ [ اترانے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

منافقین کی بد باطنی کا مزید تذکرہ ان آیات میں منافقین کی مزید بدباطنی کا اظہار فرمایا ہے مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ یہ لوگ ایمان کے مدعی ہیں کہنے کو آپ کے ساتھ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اندر سے ان کا یہ حال ہے کہ اگر آپ کو کوئی اچھی حالت پہنچ جائے مثلاً دشمن کے مقابلہ میں کامیابی ہوجائے مال غنیمت مل جائے تو انہیں یہ بات بری لگتی ہے وہ اس سے نا خوش ہوتے ہیں کہ آپ کو دشمنوں پر غلبہ حاصل ہو یا کسی بھی طرح کی کوئی خیر مل جائے۔ اور اگر آپ کو کبھی کوئی تکلیف پہنچ گئی تو اپنی سمجھداری کی تعریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو ہم کیسے اچھے رہے، ہم نے پہلے ہی احتیاط کا پہلو اختیار کرلیا تھا ان کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–52

منافقین کے حسد اور ان کی باطنی عداوت کا ذکر قال اللہ تعالیٰ ۔ ان تصبیک حسنۃ تسؤ ھم۔۔۔ الی۔۔ انا معکم متربصون۔ (ربط): اس آیت میں منافقین کے حسد اور ان کی ایک باطنی خباثت اور اندرونی عداوت ذکر ہے جو سارے فتنوں کی جڑ ہے چناچہ فرماتے ہیں اگر آپ کو کسی لڑائی میں کوئی بھلائی مثلا فتح یا غنیمت پہنچے تو حسد اور عداوت کی وجہ سے ان کو بری معلوم ہوتی ہے اور اگر کسی لڑائی میں کوئی بھلائی مثلا فتح یا غنیمت پہنچ تو حسد اور عداوت کی وجہ سے ان کو بری معلوم ہوتی ہے اور اگر کسی لڑائی میں آپ کو کوئی مصیبت پہنچے مثلا شکست یا زخم وغیرہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو پہلے ہی اپنا انتظام کرلیا تھا یعنی ہم پہلے ہی سے جانتے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

49:“ حَسَنَةً ” سے فتح و نصرت اور غنیمت مراد ہے اور “ مُصِیْبَةً ” سے شدت اور وقتی شکست مراد ہے یعنی اگر آپ کو دشمن پر فتح حاصل ہو اور مال غنیمت ہاتھ آجائے تو وہ دل ہی دل میں کڑھتے اور بہت نا خوش ہوتے ہیں اور اگر آپ کو کوئی تکلیف پہنچ جائے تو کہتے ہیں ہم اچھے رہے کہ حزم اور احتیاط سے کام لیا اور ایسے موقع پر شامل ہی نہیں ہوئے اور گپیں ہانکنے کے بعد خوش خوش اپنے گھروں کو واپس لوٹتے ہیں اس سے ہوئے تھے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 49–54

جد ابن قیس : اللہ تعالیٰ نے جہاد میں نفیر عام کا حکم دینے کے بعد منافقین کی مذمت بیان فرمائی ہے اور ان کے حیلے بہانوں کا رد کیا ہے۔ اسی سلسلہ میں بعض نمایاں منافقوں کا حال خصوصی طور پر بیان کیا ہے ۔ بنی (1۔ ابن کثیر ص 387 ، ج 2) (فیاض) سلمہ قبیلے کا سردار جد ابن قیس بظاہر کلمہ گو تھا مگر اس کے دل میں کفر تھا یہ وہی شخص ہے جو حدیبیہ کے موقع پر موجود تھا جب حضور ﷺ درخت کے نیچے صحابہ کرام سے بیعت رضوان لے رہے تھے تو یہ شخص اپنے گم شدہ اونٹ کی تلاش میں پھر رہا تھا۔ کسی شخص نے اس سے کہا کہ حضور ﷺ لوگوں سے بیعت لے رہے ہیں ، تم بھی ان میں شامل ہو جائو تو کہنے لگا ، میرا اونٹ ہی مجھے مل جائے تو اچھا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنْ تُصِبْكَ حَسَـنَۃٌ تَسُؤْہُمْ۝ 0 ۚ وَاِنْ تُصِبْكَ مُصِيْبَۃٌ يَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَآ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَيَتَوَلَّوْا وَّہُمْ فَرِحُوْنَ۝ 50 ( صاب) مُصِيبَةُ والمُصِيبَةُ أصلها في الرّمية، ثم اختصّت بالنّائبة نحو : أَوَلَمَّا أَصابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْها[ آل عمران/ 165] ، فَكَيْفَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌالنساء/ 62] ، وَما أَصابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 166] ، وَما أَصابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِما كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ [ الشوری/ 30] ، وأصاب : جاء في الخیر والشّرّ. مصیبۃ اصل میں تو اس تیر کو کہتے ہیں جو ٹھیک نشانہ پر جا کر بیٹھ جائے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 49–54

1 ؎ یعنی رسول کی نافرمانی کیا کم فتنہ ہے۔ 12 منہ ترکیب : منہم خبر ہے من یقول کی اور جملہ معطوف ہے کلام سابق پر۔ ان تصبک شرط تسئوھم جواب الا ما فاعل یصیب کا ان یصبکم مفعول ہے نتربص کا بکم اس سے متعلق ان تقبل کا مفعول مالم یسم فاعلہ نفقاتہم جملہ موضع نصب میں ہے بدل ہو کر مفعول منہم سے۔ تفسیر : منافقوں میں سے ایک شخص جد بن قیس تھا۔ اس نے یہ عذر کیا کہ میں رومی عورت دیکھ کر صبر نہیں کرسکتا مجھے فتنہ میں نہ ڈالئے ٗ اجازت دیجئے۔ آپ نے ترش رو ہو کر فرمایا ٗ اجازت۔ ومنہم من یقول میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ باقی ان کے حالات ترجمہ سے ظاہر ہیں۔ ہمارے لئے دو خوبیوں میں ایک تو ضرور ہے یا شہادت یا فتح و…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنْ تُصِبْکَ حَسَنَۃٌ تَسُؤْھُمْج وَاِنْ تُصِبْکَ مُصِیْبَۃٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَآ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَیَتَوَلَّوْا وَّھُمْ فَرِحُوْنَ (التوبۃ : 50) (اگر آپ کو کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو انھیں بری لگتی ہے اور اگر آپ کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم نے پہلے ہی اپنا بچائو کرلیا تھا اور وہ لوٹتے ہیں خوشیاں مناتے ہوئے۔ ) منافقین کی حقیقت جو شخص بھی غزوہ تبوک کے حالات سے واقف ہے اور جن حالات میں نبی اکرم ﷺ نے رومی قوت کو سرحد پر روکنے کا فیصلہ فرمایا ان کی خطرناکی کو سمجھتا ہے تو اس کے لیے یہ بات ناقابلِ فہم ہوجاتی ہے کہ کوئی شخص مسلمان کہلاتے ہوئے بھی ایسے حالات میں کس طرح پیچھے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 50–51

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کی اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں قلبی کیفیت اور ان کا حسد و بغض کا اظہار۔ منافقت کے بنیادی اسباب میں سے ایک سبب حسد بھی ہے۔ منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی کی منافقت کا بنیادی سبب حسد ہی تھا۔ جس کی وجہ یہ ہوئی کہ نبی معظم ﷺ کی مدینہ تشریف آوری سے پہلے انصار کے قبیلے اوس اور خزرج نے یہودیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عبداللہ بن ابی کو اپنا قائد بنانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ جب رسول معظم ﷺ کا مدینہ میں ورود مسعود ہوا تو لوگوں کی توجہ کا مرکز آپ کی ذات اقدس بن گئی جس کی وجہ سے عبداللہ بن ابی کی تاج پوشی کا پروگرام ہمیشہ کے لیے ختم ہوا۔ اس بنا پر عبداللہ بن ابی ہمیشہ کے لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

منافقین بیدار مغزی کے چیمپین : آیت 50: اِنْ تُصِبْکَ (اگر آپ کو پیش آتی ہے) بعض غزوات میں حَسَنَۃٌ (کوئی اچھی حالت) کامیابی اور غنیمت تَسُؤْھُمْ وَاِنْ تُصِبْکَ مُصِیْبَۃٌ (تو وہ ان کے لئے باعث غم ہوتی ہے۔ اور اگر آپ پر کوئی حادثہ آپڑتا ہے) تکلیف اور بعض غزوات میں سختی جیسا احد کے دن ہوا۔ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْ نَآ اَمْرَنَا (تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اپنا احتیاط کا پہلو اختیار کرچکے تھے) وہ احتیاط، بیدار مغزی اور محتاط عمل جس کی ہم نشاندہی کرتے تھے۔ مِنْ قَبْلُ (پہلے سے) اس واقعہ سے پہلے۔ وَیَتَوَلَّوْا (اور وہ چلے جاتے ہیں) وہ واقعہ کے مقام سے اپنے اہل کی طرف لوٹتے ہیں۔ وَّھُمْ فَرِحُوْنَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

50۔” ان تصبک حسنۃ “ نصرت اور غنیمت ” تسوھم “ ان کو غمگین کردیتی ہے یعنی منافقین کو ” وان تصبک مصیبۃ “ قتل اور شکست ” یقولوا قد اخذنا امرنا “ یعنی ہم نے جنگ سے پیچھے رہ جانے کا فیصلہ سمجھ سے لیا ۔ ” من قیل “ اس معصیت سے پہلے ” ویتولو اوھم فرحون “ خوش ہوتے ہیں اس مصیبت کی وجہ سے جو آپ کو پہنچی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 50–52

50۔ 52۔ تفسیر ابن بی حاتم میں جابر ؓ بن عبداللہ کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ عبداللہ بن ابی وغیرہ منافقین لڑائی کے وقت بناوٹی عذر کر کے جس لڑائی میں شریک نہیں ہوتے تھے اور گھروں میں بیٹھ رہتے تھے اگر اس لڑائی میں مسلمانوں کی فتح ہوتی اور مال غنیمت کا ہاتھ آتا تو دو طرح سے ان منافقین پر یہ امر شاق گزرتا تھا ایک تو یہ کہ ان کے دل میں مسلمانوں کی طرف سے عداوت تھی اس واسطے مسلمانوں کی بہبودی ان کے دل کو اچھی نہیں معلوم ہوتی تھی دوسرے ان کو یہ افسوس ہوتا تھا کہ ہم کیوں نہ گئے جو ہمارے ہاتھ بھی مال لگتا اور اگر مسلمانوں کو کسی لڑائی میں کچھ ضرر پہنچتا تو یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 50–51

آیت 50 اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کے بارے میں یہ واضح کرتے ہوئے کہ وہی حقیقی دشمن اور اسلام کے خلاف بغض رکھنے والے ہیں۔۔۔ فرماتا ہے (ان تصبک حسنۃ) ” اگر پہنچے آپ کو کوئی بھلائی “ مثلاً فتح و نصرت اور دشمن کے خلاف آپ کی کامیبای (تسوھم) ” تو ان کو بری لگتی ہے۔ “ یعنی ان کو غمزدہ کردیتی ہے (وان تصبک مصیبۃ) ” اور اگر آپ کو پہنچے کوئی مصیبت “ مثلاً آپ کے خلاف دشمن کی کامیابی (یقولوا) ” تو کہتے ہیں۔ “ آپ کے ساتھ نہ جانے کی وجہ سے سلامت رہنے کی بنا پر نہایت فخر سے کہتے ہیں : (قد اخذنا امرنا من قبل “ ہم نے اس سے پہلے اپنا بچاؤ کرلیا تھا اور ہم نے ایسا رویہ رکھا جس کی وجہ سے ہم اس مصیبت میں گرفتار…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 49–50

قول باری ہے (ومنھم من یقول ائذن لی ولا تفتنی ان میں سے کوئی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے رخصت دے دیجئے اور مجھ کو فتنے میں نہ ڈالیے) حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد کا قول ہے کہ آیت کا نزول الجدبن قیس کے بارے میں ہوا۔ حضور ﷺ نے اسے غزوہ تبوک پر جب چلنے کے لئے فرمایا تو کہنے لگا کہ ” مجھے رخصت دے دیجئے اور شام میں لے کر زرد رنگ رومیوں کی عورتوں کے فتنے میں نہ ڈالیے، اس لئے کہ میں عورتوں کے معاملہ میں بڑا دل پھینک واقع ہوا ہوں۔ “ حسن، قتادہ اور ابو عبیدہ کے نزدیک اس کا مفہوم ہے۔ ” اس مخالفت کی وجہ سے جو پھوٹ او تفرقہ کا موجب ہے مجھے عصیان میں مبتلا کرکے گنہگار نہ کیجئے۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 47–50

104 ایمان صادق حفاظت و پناہ کا ذریعہ و وسیلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر وہ تمہارے اندر شامل ہو کر سفر میں نکلے بھی تو تمہارے اندر خرابی کے سوا اور کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے اور وہ تمہارے اندر فتنہ پردازی ہی کے لیے دوڑ دھوپ کرتے۔ پس تم ۔ اے مسلمانو !۔ ان کے پیچھے رہ جانے سے افسوس کرنے کی بجائے خوش ہوجاؤ کہ " خس کم جہاں پاک " کے علاوہ تم ان کی شرانگیزیوں اور فتنہ رسانیوں سے بچ گئے ہو کہ انہوں نے تمہارے درمیان رہ کر بہرکیف شرانگیزی ہی کیلئے کوشش اور تگ و دو کرنا تھی۔ سو قدرت کے اس تکوینی فیصلے سے تم لوگ اے مسلمانو ان کی شرانگیزیوں سے بچ گئے۔ لہذا تم کو انکے پیچھے رہ جانے پر افسوس کرنے کی بجائے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 47–59

منافقوں کے فتنوں سے بچنے کی تدابیر تشریح : ان آیات میں پہلے تو ان منافقین کا غزوہ تبوک میں شامل نہ ہونا باعث رحمت بتایا گیا ہے کیونکہ یہ لوگ اگر ساتھ چلے جاتے تو ان کا مقصد نہ تو جہاد کرنا ہوتا اور نہ ہی یہ مخلص ہوتے، اس لیے اگر یہ چلے جاتے تو صرف غلط سلط افواہوں سے مجاہدین میں بددلی، نااتفاقی اور کمزوری ہی پیدا کرنے کا کام انہوں نے کرنا تھا اور اس طرح فوج کو کمزور کرنے کا مقصد حاصل کرتے کیونکہ اگرچہ مسلمان ہوتے تو انسان ہی ہیں بعض ان کی باتوں میں آکر گھبرا بھی سکتے تھے اور ان کو اپنے خفیہ راز لاعلمی میں بتا دیتے اس لیے اچھا ہوا یہ جہاد میں ساتھ نہ گئے۔ یہ لوگ پہلے بھی اس قسم کا فساد پھیلا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 43–59

آیات 43 تا 59 اللہ نے آپ کو معاف تو کردیا مگر آپ ﷺ نے انھیں جہاد سے رہ جانے کی اجازت ہی کیوں دی ؟ اگر آپ ایسانہ کرتے تو بھی یہ جہاد میں شامل ہونے سے تو رہے ہاں سب لوگوں پہ ان کی اصلیت کھل جاتی اور نفاق واضح ہوجاتا ۔ رشتہ قلبی کے انداز یہاں اگر چہ بات ایک مشورے کے انداز میں ارشاد ہے کہ اگر آپ اجازت نہ دیتے تو ان کے پاس بہانہ نہ ہوتا مگر نبی اکرم ﷺ کے قلب اطہر کو جو تعلق ذات باری سے تھا وہ اس قدربات بھی برداشت نہ کرپاتا ۔ لہٰذ اسوالیہ انداز میں بات ارشاد فرمانے سے پہلے فرمایا عفا اللہ عنک اللہ نے آپ کو معاف فرمادیا کوئی نارزضگی یا خفگی کی بات نہیں مگر آپ نے ایسا کیوں کیا یہ معافی گناہ کی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 یہ بھی ان کے خبث باطن اور مکر و فریب کی ایک دلیل ہے کہ ہر ایسے موقع پر اپنی ہو شمندی کا ثبوت دیتے اور کہتے کہ ہم نے تو پہلے ہی بچاؤ کرلیا تھا جیسے جنگ احد کے بعد عبد اللہ بن ابی منافق نے کہا تھا کہ تو اس وجہ سے پلٹ آئے تھے ہمیں معلوم تھا کہ مسلمانوں کو شکست ہوگی اور وہ مارے جائیں گے۔ ایسے ہی وہ منافق جو غزوہ تبوک کے موقع پر مدینہ میں رہ گئے تھے۔ نبی ﷺ اور مسلمانوں کے متعلق یہ مشہور کرتے رہے کہ یہ لوگ ہلاک ہوگئے لیکن جب انہیں اطلاع ملی کہ مسلمان صحیح وسالم واپس آرہے ہیں تو انہیں انتہائی غم ہوا۔ ( کبیر، ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 50–51

(9:50) نصبکم۔ اصاب یصیب اصابۃ (افعال) سے مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے۔ اصل میں تصیب تھا۔ ان شرطیہ کی وجہ سے ی حرف علت گرگیا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اگر پہنچے تم کو۔ تسؤہم۔ ساء یسوء سوء (نصر) مضارع واحد مؤنث غائب۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ ان کو بری لگتی ہے۔ ان کو غمگین کرتی ہے۔ قد اخذنا امرنا۔ ہم نے پہلے ہی اپنا معاملہ ٹھیک کرلیا تھا۔ ہم نے پہلے ہی احتیاطی تدبیریں اختیار کرلی تھیں (اس لئے ہمیں یہ تکلیف نہیں پہنچی) ۔ یتولوا۔ پھرجاتے ہیں۔ لوٹ جاتے ہیں۔ تولی سے مضارع مجزوم جمع مذکر غائب۔ فرحون۔ خوش۔ اترانے والے۔ صفت مشبہ۔ جمع ۔ فرح واحد۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 50–52

لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 52 تسوھم (ان کو بری لگتی ہے) اخذنا (ہم نے لے لیا) امرنا (اپنا اختیار، اپنا اکم) فرحون (وہ خوش ہو رہے ہیں ) لن یصیبنا (ہمیں ہرگز نہ پہنچے گی) مولنا (ہمارا مالک) احدی الحسنین (دو بھلائیوں میں سے ایک) تشریح : آیت نمبر 50 تا 52 ان آیات میں منافقین کی ایک اور عادت اور کم ظرفی کے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے۔ یہ منافقین بظاہر تو مسلمان بنے ہوئے تھے لیکن جب کوئی فتح یا کامیابی کی اطلاع آتی تو انہیں دکھ ہوتا تھا اور جب مسلمانوں کو کسی طرح کا نقصان پہنچتا تو خوشی سے دیوانے ہوجاتے اور اپنی اس دلی خوشی کو دباتے ہوئے کہتے کہ ہمیں تو پہلے ہی معلوم تھا کہ ایسا ہوگا یا ہمیں تو پہلے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 50–52

شان نزول : عبد اللہ بن ابی وغیرہ منافقین لڑائی کے وقت بناوٹی عذر کرکے جس لڑائی میں شریک نہیں ہوتے تھے اور مسلمانوں کی فتح ہوتی اور مال غنیمت ہاتھ آتا تو دو طرف سے ان منافقین پر یہ امر شاق گزرتا تھا۔ ایک تو یہ کہ مسلمانوں کی طرف سے عداوت تھی اس واسطے ان کی بہبودی اچھی معلوم نہیں ہوتی تھی۔ دوسرے ان کو یہ محسوس ہوتا تھا ہم کیوں نہیں گئے جو ہمارے ہاتھ بھی مال لگتا اور اگر مسلمانوں کو کسی لڑائی میں کچھ ضرر پہنچتا تو یہ منافقین اپنی دور اندیشی پر نازاں ہوکر کہتے کہ ہم تو ضرر سے بچنے کے لئے پہلے ہی سے عذر کرکے نہیں گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں منصوبوں کے جواب میں یہ آیتیں نازل فرمائیں اور پہلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 49–50

[28] منافقین نے جنگ تبوک سے بچنے کے لئے طرح طرح کے حیلے تراشے۔ ان میں سے کسی نے یہ کہا کہ میں عورتوں کے معاملے میں کمزور ہوں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ رومی عورتوں کو دیکھوں گا تو مجھ سے صبر نہ ہو سکے گا۔ اس لئے مجھے فتنے میں نہ ڈالئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) اس آیت میں منافق کی نفسیات بتائی ہیں کہ یہ مسلمانوں کی مصیبتوں پر خوش ہوتے ہیں اور ان کی کامیابیوں پر جلتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

50 اگر آپ کو کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو وہ ان کے لئے رنجدہ اور موجب غم ہوتی ہے اور اگر آپ کو کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے اور کوئی سختی پہنچ جاتی ہے تو یوں کہتے ہیں ہم نے تو پہلے ہی اپنے بارے میں دور اندیشی اور احتیاط کا پہلو اختیار کرلیا تھا اور پہلے ہی اپنا کام سنبھال لیا تھا اور خوش ہوتے ہوئے واپس چلے جاتے ہیں۔ یعنی ان منافقوں کے تعصب کا یہ حال ہے کام سنبھال لیا یعنی تمہارے ساتھ جنگ میں نہیں گئے ورنہ ہم پر مصیبت آتی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 49–50

ف 4۔ اس شخص کا نام جدبن قیس تھا اس نے یہ بہانہ تراشا تھا کہ میں عورتوں پر مفتون ہوجاتا ہوں اور رومیوں کی عورتیں حسین زیادہ ہیں جانے میں میرا دینی ضرر ہے اس لیے رخصت کا خواستگار ہوں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! آپ کو بھلائی پہنچے تو ان کے دل جل اٹھتے ہیں : 72: اب ان کے باطن سے پورا پردہ اٹھا کر دکھ دیا۔ فرمایا یہ عذرات اور بہانے تو محض اوپر کا پردہ ہیں ان کے دلوں کے اندر تو صرف تمہاری بدخواہی بھری ہوئی ہے جب تمہیں کسی مہم میں کامیابی حاصل ہوتی ہے تو ان کو بڑا دکھ ہوتا ہے اور اگر تمہیں کوئی افتاد پیش آجائے تو بہت خود ہو کر لوٹتے ہیں کہ خوب ہوا اور ہم نے تو اپنا بچاؤ پہلے ہی کرلیا تھا جیسا کہ بدر میں نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو کامیابی اور سرفرازی میسر آئی تو یہ لوگ حسد اور دکھ سے بھر کر رہ گئے اور جب احد میں کچھ پریشانی کا سامنا ہوا تو خوشیوں سے بغلیں بجاتے رہے اور کہتے رہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the eighth verse (50), yet another aspect of their low nature has been mentioned by saying that, though these people live among Muslims giving the outward impression that they are one of them, but they are soon exposed by their inner reactions to what happens to the Holy Prophet ﷺ . The text illustrates it by saying: إِن تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ (If some good comes to you, it annoys them) and: وَإِن تُصِبْكَ مُصِيبَةٌ يَقُولُوا قَدْ أَخَذْنَا أَمْرَ‌نَا مِن قَبْلُ وَيَتَوَلَّوا وَّهُمْ فَرِ‌حُونَ (and if some suffering visits you, they say, "We had already taken care of our problem" ).…

Read the full tafseer →