At-Tawba 9:49

At-Tawba · from ayah 49

9:49

وَمِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَلَا تَفْتِنِّیْ ؕ— اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا ؕ— وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌ بِالْكٰفِرِیْنَ ۟وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّقُوۡلُ ائۡذَنۡ لِّىۡ وَلَا تَفۡتِنِّىۡ‌ ؕ اَلَا فِى الۡفِتۡنَةِ سَقَطُوۡا‌ ؕ وَاِنَّ جَهَـنَّمَ لَمُحِيۡطَةٌ ۢ بِالۡـكٰفِرِيۡنَ

اور ان میں کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے تو اجازت ہی دیجئے اور آفت میں نہ ڈالئے۔ دیکھو یہ آفت میں پڑگئے ہیں اور دوزخ سب کافروں کو گھیرے ہوئے ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And among them is he who says, "Permit me [to remain at home] and do not put me to trial." Unquestionably, into trial they have fallen. And indeed, Hell will encompass the disbelievers.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 7 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:49

ان میں سے کوئی ہے جو کہتا ہے کہ "مجھے رخصت دے دیجیے اور مجھ کو فتنے میں نہ ڈالیے" سن رکھو! فتنے ہی میں تو یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں اور جہنم نے ان کافروں کو گھیر رکھا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان میں کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے تو اجازت ہی دیجئے اور آفت میں نہ ڈالئے۔ دیکھو یہ آفت میں پڑگئے ہیں اور دوزخ سب کافروں کو گھیرے ہوئے ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان میں سے کوئی تو کہتا ہے مجھے اجازت دیجئے مجھے فتنے میں نہ ڈالیئے، آگاه رہو وه تو فتنے میں پڑ چکے ہیں اور یقیناً دوزخ کافروں کو گھیر لینے والی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور انہی میں وہ صاحب بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ : مجھے اجازت دے دیجیے، اور مجھے فتنے میں نہ ڈالیے، ارے فتنے ہی میں تو یہ خود پڑے ہوئے ہیں۔ اور یقین رکھو کہ جہنم سارے کافروں کو گھیرے میں لینے والی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان میں کوئی تم سے یوں عرض کرتا ہے کہ مجھے رخصت دیجیے اور فتنہ میں نہ ڈالیے سن لو وہ فتنہ ہی میں پڑے اور بیشک جہنم گھیرے ہوئے ہے کافروں کو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان میں سے وہ شخص (بھی) ہے جو کہتا ہے کہ آپ مجھے اجازت دے دیجئے (کہ میں جہاد پر جانے کی بجائے گھر ٹھہرا رہوں) اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالئے، سن لو! کہ وہ فتنہ میں (تو خود ہی) گر پڑے ہیں، اور بیشک جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان میں سے بعض وہ ہے جو کہتا ہے مجھے اجازت دے دے اور مجھے فتنے میں نہ ڈال۔ سن لو ! وہ فتنے ہی میں تو پڑے ہوئے ہیں اور بیشک جہنم کافروں کو ضرور گھیرنے والی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان میں سے کوئی ایسا ہے جو کہتا ہے مجھے رخصت دیجئے اور فتنہ میں نہ ڈالئے سن رکھو ! فتنہ میں تو یہ لوگ پہلے ہی پڑے ہوئے ہیں اور جہنم ایسے کافروں کو گھیرے ہوئے ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان میں وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ مجھے رخصت دے دیجیے اور فتنہ میں مبتلا نہ کیجیے سن لو یہ فتنہ میں گر چکے اور بیشک جہنم کافروں کا احاطہ کیے ہوئے ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ مجھے اجازت دے دیجئے اور مجھے فتنے میں نہ ڈالیے، آگاہ رہو کہ فتنے میں تو یہ لوگ واقعی پڑگئے ہیں، اور یقینا جہنم نے پوری طرح گھیرے میں لے رکھا ہے کافروں کو،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان میں کوئی کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے رخصت دے دیجیے اور مجھے خرابی میں نہ ڈالیے۔ خوب سن لو کہ خرابی میں تو یہ پڑ ہی چکے ہیں اور بیشک دوزخ کافروں کو گھیرے ہوئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان میں سے وہ بھی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے رخصت دے دیجیے اور مجھے فتنے میں نہ ڈالیے آگاہ ہوجاؤ فتنے میں تو یہ لوگ پڑچکے اور یقیناً جہنم ان کافروں کا احاطہ کیے ہوئے ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان میں کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے تو اجازت ہی دیں اور آفت میں نہ ڈالیں۔ دیکھو یہ آفت میں پڑگئے ہیں اور دوزخ سب کفار کو گھیرے ہوئے ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And among them is he who says: "Grant me leave to stay behind, and do not expose me to temptation." Lo! They have already fallen into temptation. Surely Hell encompasses the unbelievers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And among them there is one who says, :Allow me (to stay behind) and do not expose me to an ordeal. Look! They have already fallen into an ordeal, and certainly Jahannam (the Hell) has the disbelievers encircled.

— Muhammad Taqi Usmani

And among them there is one who says, :Allow me (to stay behind) and do not expose me to an ordeal. Look! They have already fallen into an ordeal, and certainly Jahannam (the Hell) has the disbelievers encircled.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And among them is he who says: "Grant me leave and put me not into trial." Surely, they have fallen into trial. And verily, Hell is surrounding the disbelievers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Of them is he who saith: Grant me leave (to stay at home) and tempt me not. Surely it is into temptation that they (thus) have fallen. Lo! hell verily is all around the disbelievers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And among them is he who says, "Permit me [to remain at home] and do not put me to trial." Unquestionably, into trial they have fallen. And indeed, Hell will encompass the disbelievers.

— Saheeh International

Some of them ask you, "Make us exempt from taking part in the battle and do not try to tempt us by telling us what we may gain from the battle; many people have died in the battle." Hell certainly encompasses the unbelievers.

— Muhammad Sarwar

And among them there is he who says: Allow me and do not try me. Surely into trial have they already tumbled down, and most surely hell encompasses the unbelievers.

— Muhammad Habib Shakir

And of them there is he who saith: give me leave, and tempt me not. Lo! into temptation they are already fallen, and verily the Hell is the encompasser of the infidels.

— Abdul Majid Daryabadi

Among them is (many) a man who says: "Grant me exemption and draw me not into trial." Have they not fallen into trial already? and indeed Hell surrounds the Unbelievers (on all sides).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

جد بن قیس جیسے بدتمیزوں کا حشر جد بن قیس سے حضور ﷺ نے فرمایا اس سال نصرانیوں کے جلا وطن کرنے میں تو ہمارا ساتھ دے گا ؟ تو اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ مجھے تو معاف رکھئے میری ساری قوم جانتی ہے کہ میں عورتوں کا بےطرح شیدنائی ہوں عیسائی عورتوں کو دیکھ کر مجھ سے تو اپنا نفس روکا نہ جائے گا۔ آپ نے اس سے منہ موڑ لیا اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ اس منافق نے یہ بہانہ بنایا حالانکہ وہ فتنے میں تو پڑا ہوا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ساتھ چھوڑنا جہاد سے منہ موڑنا یہ کہ کیا کم فتنہ ہے ؟ یہ منافق بنو سلمہ قبیلے کا رئیس اعظم تھا۔ حضور ﷺ نے جب اس قبیلے کے لوگوں سے دریافت فرمایا کہ تمہارا سردار کون ہے ؟ تو انہوں نے کہا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 49–50

سورة التَّوْبَة 48 جو منافق بہانے کر کر کے پیچھے ٹھہر جانے کی اجازتیں مانگ رہے تھے ان میں سے بعض ایسے بےباک بھی تھے جو راہ خدا سے قدم پیچھے ہٹانے کے لیے مذہبی و اخلاقی نوعیت کے حیلے تراشتے تھے۔ چناچہ ان میں سے ایک شخص جد بن قیس کے متعلق روایات میں آیا ہے کہ اس نے نبی ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ میں ایک حسن پرست آدمی ہوں، میری قوم کے لوگ میری اس کمزوری سے واقف ہیں کہ عورت کے معاملہ میں مجھ سے صبر نہیں ہو سکتا۔ ڈرتا ہوں کہ کہیں رومی عورتوں کو دیکھ کر میرا قدم پھسل نہ جائے۔ لہٰذا آپ مجھے فتنے میں نہ ڈالیں اور اس جہاد کی شرکت سے مجھ کو معذور رکھیں۔ سورة التَّوْبَة 49 یعنی نام تو فتنے سے بچنے کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

چھٹی آیت میں ایک خاص منافق جد بن قیس کا ایک خا ص بہانہ ذکر کر کے اس کی گمراہی بیان فرمائی، اس نے جہاد میں جانے سے یہ عذر پیش کیا تھا کہ میں نوجوان آدمی ہوں، رومیوں کے مقابلہ پر جاؤں گا تو ان کی حسین عورتوں کے فتنہ میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ ہے، قرآن کریم نے اس کے جواب میں فرمایا اَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا، کہ یہ بیوقوف ایک موہوم فتنہ کا بہانہ کرکے ایک یقینی فتنہ یعنی امر رسول کی خلاف ورزی اور ترک جہاد کے گناہ میں فی الحال مبتلا ہوگئے۔ (آیت) ۭوَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِيْنَ ، یعنی جہنم ان سب کافروں کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہے جس سے نکل نہیں سکتے، اس کی مراد یا تو یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نفاق تقوی کے بھیس میں : وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّيْ وَلَا تَفْتِنِّىْ ۭ اَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا ۭوَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِيْنَ۔ یہ بعض ایسے منافقین کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے جنگ تبوک میں عدم شرکت کے لیے یہ متقیانہ قسم کا بہانہ پیش کیا تھا کہ وہ عورت کے معاملے میں چونکہ بہت بےصبر ہیں اس وجہ سے انہیں اس جنگ کی شرکت سے معاف رکھا جائے مبادا وہ رومی عورتوں کے حسن و جمال سے کسی فتنہ میں مبتلا ہوجائیں۔ اگرچہ یہ عذر پیش تو ایک آدھ احمقوں نے ہی کیا ہوگا لیکن یہ عذر کی ایک ایسی قسم تھی جس پر تقوی اور دین داری کا ملمع چڑھانے کی کوشش کی گئی تھی اس وجہ سے قرآن نے اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

49۔ 1 ' مجھے فتنے میں نہ ڈالیے ' کا ایک مطلب یہ ہے کہ اگر مجھے اجازت نہیں دیں گے تو مجھے بغیر اجازت رکنے پر سخت گناہ ہوگا، اس اعتبار سے فتنہ، گناہ کے معنی میں ہوگا۔ یعنی مجھے گناہ میں نہ ڈالیے، دوسرا مطلب فتنے کا، ہلاکت ہے یعنی مجھے ساتھ لیجاکر ہلاکت میں نہ ڈالیں کہا جاتا ہے کہ جد ابن قیس نے عرض کیا مجھے ساتھ نہ لے جائیں، روم کی عورتوں کو دیکھ کر میں صبر نہ کرسکوں گا۔ اس پر نبی ﷺ نے رخ پھیرلیا اور اجازت دے دی۔ بعد میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' فتنے میں جو گزر چکے ہیں ' یعنی جہاد سے پیچھے رہنا اور اس سے گریز کرنا، بجائے خود ایک فتنہ اور سخت گناہ کا کام ہے جس میں یہ ملوث ہی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 49–51

42: حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ منافقین میں ایک شخص جد بن قیس تھا۔ جب آنحضرت ﷺ نے اس کو غزوہ تبوک میں شامل ہونے کی دعوت دی تو اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میں بڑا زن پرست آدمی ہوں، جب روم کی خوبصورت عورتوں کو دیکھوں گا تو مجھ سے صبر نہیں ہوسکے گا، اور میں فتنے میں مبتلا ہوجاؤں گا۔ لہذا مجھے اجازت دے دیجئے کہ میں اس جنگ میں شریک نہ ہوں، اور اس طرح مجھے فتنے میں مبتلا ہونے سے بچا لیجئے۔ اس آیت میں اس کی طرف اشارہ ہے (روح المعانی بحوالہ ابن المنذر و طبرانی وابن مردویہ)۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب قرآن کریم ان لوگوں کی مختلف اقسام کی طرف اشارات کرتا ہے اور ان کے جعلی عذرات پر بھی کلام ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رسول اللہ کے خلاف ان کے سینوں میں کیا کیا عناد اور بغض بھرے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف وہ کس قدر کینہ رکھتے ہیں۔ محمد بن اسحاق نے زہری وغیرہ سے روایت کی ہے کہ ایک دن حضور ﷺ جہاد کی تیاریوں میں مصروف تھے (تبوک کے موقع پر) تو آپ نے بنو سلمہ کے بھائی جد ابن قیس سے کہا کہ جد کیا تم کو بنی اصغر (رومیوں) کے ساتھ جہاد میں دلچسپی ہے ؟ تو اس نے کہا حضور آپ مجھے اجازت ہی دے دیں اور فتنے میں نہ ڈالیں ؟ کدا کی قسم میری قوم کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مجھ سے زیادہ یعورتوں کے ساتھ دلچسپی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 ایک بڑے منافق جد بن قیس نے کہا کہ حضرت مجھے تو یہیں رہنے دیجئے۔ روم کی عورتیں بہت حسین ہوتی ہیں میں انہیں دیکھ کر دل قابو میں نہ رکھ سکوں گا۔ تو مجھے وہاں لیجا کر گمراہی میں نہ ڈالیے۔ فرمایا کہ یہ لفظ کہہ کر اور اپنے جبن و کفر پر جھوٹی پرہیزگاری کا پردہ ڈال کر وہ گمراہی کے گڑھے میں گر چکا۔ اور آگے چل کر کفر و نفاق کی بدولت دوزخ کے گڑھے میں گرنے والا ہے بعض نے آیت کو عام منافقین کے حق میں رکھا ہے اور لاتَفْتَنِیْ کا مطلب یہ لیا ہے کہ ہم کو ساتھ لے جا کر اموال وغیرہ کے نقصان میں مبتلا نہ کیجئے اس کا جواب الافی الْفِتْنَۃِ سَقَطُوا سے دیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 49 وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اءْذَنْ لِّیْ وَلاَ تَفْتِنِّیْ ط یہ منافق اور مردود شخص جد بن قیس تھا لعنۃ اللہ علیہ۔ جب رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ تبوک کے لیے تیاری کا اعلان فرمایا تو یہ شخص آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور عجیب استہزائیہ انداز میں آپ ﷺ سے رخصت چاہی کہ حضور مجھے تو رہنے ہی دیں ‘ کیونکہ میں حسن پرست قسم کا انسان ہوں اور لشکر جا رہا ہے شام کے علاقے کی طرف ‘ جہاں کی عورتیں بہت حسین ہوتی ہیں۔ میں وہاں کی خوبصورت عورتوں کو دیکھ کر خود پر قابو نہیں رکھ سکوں گا اور فتنہ میں مبتلا ہوجاؤں گا ‘ لہٰذا آپ مجھے اس فتنے میں مت ڈالیں اور مجھے پیچھے ہی رہنے دیں۔ اَلاَ فِی الْْفِتْنَۃِ سَقَطُوْا ط یعنی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

53 جد بن قیس منافق کا عذر لنگ :۔ جب رسول اللہ نے جدبن قیس منافق کو رومی کافروں سے جہاد کے لیے کہا تو کہنے لگا اگرچہ میری کئی بیویاں ہیں مگر میں ایک حسن پرست آدمی ہوں اور روم کی عورتیں خوبصورت ہوتی ہیں۔ میں ڈرتا ہوں کہ کسی فتنہ میں نہ پڑجاؤں اور میری اس عادت کو میری قوم جانتی ہے لہذا آپ مجھے اپنے ساتھ لے جانے سے معاف فرمائیے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ یہ بدبخت فتنہ میں تو پہلے پڑچکا ہے اب اگر اپنی باطنی خباثت کو چھپا کر اس پر ظاہری تقدس اور تقویٰ کا پردہ ڈال رہا ہے تو یہ فتنہ نہیں تو کیا ہے۔ اور دوسرا فتنہ وہ ہے جس میں یہ سارے ہی منافق پڑگئے ہیں۔ مسلمان تو جہاد کی تیاریوں میں مصروف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

92 ۔ رومی مسیحی لیڈیاں بالکل آج کل کی فرنگنوں کی طرح اپنے گورے رنگ، اپنے بناؤسنگار اور اپنی بےحجابی وعشوہ طرازی کے لئے مشہور تھیں بعض چالاک منافقوں نے اس کو ایک عذر تراش لیا تھا اور رسول اللہ ﷺ سے آکر عرض کیا تھا کہ ہم تو یہیں رہ جانے دیجیے۔ ہمیں اپنی شرک سے الٹے اور ضرر کا اندیشہ ہے۔ (آیت) ” منھم “۔ یعنی انہیں مخالفین متخلفین میں سے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ نفس طاعات کی پابندی سے یہ بہانہ کرکے عذر کرنا ہے کہ طاعت میں فلاں فلاں مفسدے ہیں جن کا شرطاعت کی خیر سے بڑھا ہوا ہے۔ 93 ۔ (جس کا ظہور کامل تو گو آخرت میں ہوگا لیکن بہرحال اعمال کفریہ کی بنا پر اس احاطت جہنم کا آغاز تو ابھی ہوچکا ہے)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

شان نزول : وَمنھُم مَنْ یقولُ ائذن لی وَلاَ یَفْتِنِیْ ، طبرانی اور ابن ابی حاتم میں اس آیت کا جو شان نزول بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ منافقین مدینہ میں ایک شخص قبیلہ بنی سلمہ کا سردار تھا جس کا نام جد بن قیس تھا اور اس کی کنیت ابو وہب تھی، تبوک کی لڑائی پر جانے اور نصرانیوں سے لڑنے کا جب آنحضرت ﷺ نے ذکر فرمایا تو اس نے کہا کہ میں ایک حسن پرست آدمی ہوں میری قوم کے لوگ میری اس کمزوری سے واقف ہیں کہ عورت کے معاملہ میں مجھ سے صبر نہیں ہوسکتا میں بےقابو ہوجاتا ہوں، مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں رومی عورتوں کو دیکھ کر میرا قدم پھسل جائے لہٰذا آپ مجھے فتنے میں نہ ڈالیں، اور اس جہاد کی شرکت سے مجھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومنھم من یقول ائذن لی ولا تفتني اور ان (منافقوں) میں بغضا شخص وہ ہے جو کہتا ہے کہ مجھے (یہیں رہنے اور ساتھ نہ چلنے کی) اجازت دے دیجئے اور مجھے مصیبت میں نہ ڈالئے۔ اس قول کا قائل جد بن قیس منافق تھا۔ ابن المنذر ‘ طبرانی ‘ ابن مردویہ اور المعرفۃ میں ابو نعیم نے حضرت ابن عباس کی روایت سے اور ابن ابی حاتم و ابن مردویہ نے حضرت جابر بن عبد اللہ کے حوالہ سے اور محمد بن اسحاق و محمد بن عمرو بن عقبہ نے اپنے مشائخ کی سند سے بیان کیا کہ جد بن قیس اپنے ساتھیوں کو (جن کی تعداد دس سے کم تھی) لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مسجد میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ مجھ یہیں رہ جانے کی اجازت دے دیجئے۔ میری…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(49) اور ان منافقین میں سے جدی بن قیس ایسا ہے جو گھر رہنے کی اجازت مانگتا ہے اور کہتا ہے کہ روم کی لڑکیوں کی خرابی میں مجھے نہ ڈالیے، حالانکہ خود یہ لوگ شرک ونفاق کی خرابیوں میں مبتلا ہیں اور قیامت کے دن دوزخ ان کو گھیر لے گی ، شان نزول : (آیت) ”ومنہم من یقول“۔ (الخ) طبرانی ؒ ابونعیم ؒ اور مردویہ ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اکرم ﷺ نے غزوہ تبوک کے لیے روانہ ہونے کا ارادہ ظاہر فرمایا تو آپ ﷺ نے جدی بن قیس سے بھی شرکت کے لیے کہا وہ کہنے لگا یارسول اللہ ﷺ میں عورتوں والا آدمی ہوں، جس وقت میں بنی اصغر کی عورتوں کو دیکھوں گا تو فتنہ میں پڑجاؤں گا، لہذا مجھے جہاد میں نہ جانے کی…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّيْ وَلَا تَفْتِنِّىْ : فتنے کا معنی یہاں گناہ میں مبتلا ہونا کیا گیا ہے اور ہلاکت بھی۔ اس کی دو تفسیریں کی گئی ہیں، ایک تو یہ کہ ان میں سے بعض یہ کہتے ہیں کہ آپ مجھے اتنی شدید گرمی میں اتنے طویل و پر مشقت سفر اور جنگ کا حکم دے کر گناہ میں نہ ڈالیں، کیونکہ اگر میں آپ کے حکم کے بعد نہ گیا تو گناہ گار ہوں گا اور گیا تو ہلاکت کا خطرہ ہے، ادھر گھر اکیلے رہ جائیں گے اور اہل و عیال ہلاک ہوجائیں گے، اس لیے آپ خود ہی مجھے مدینہ میں رہ جانے کی اجازت دے کر اس فتنے سے بچا لیں۔ یہ تفسیر الفاظ کے قریب ہے، جنگ خندق میں بھی منافقین کے بہانوں میں سے ایک بہانہ گھروں کے غیر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 49–50

قولہ تعالیٰ : ومنھم من یقول ائذن لی یہ أذن یأ ذن سے ہے۔ اور جب امر بنایا گیا تو اس میں ہمزہ مسکور زائد کیا گیا اور اس کے بعد ایک ہمزہ ہے جو فعل کا فاکلمہ ہے اور دو ہمزے جمع نہیں ہو سکتے۔ پس دوسرے کو ماقبل مکسور ہونے کی وجہ سے یا سے بدل دیا گیا تو تو نے ایذن کہا۔ اور جب یہ وصل کلام میں ہو تودو ہمزوں کے جمع ہونے کی علت ساقط اور زائل ہوجاتی ہے چناچہ وہ یا پھر ہمزہ ہوئی۔ اور تو نے یہ پڑھا : ومنھم من یقول ائذن لی۔ ورش نے حضرت نافع سے روایت کیا ہے : ومنھم من یقول أوذن لی انہوں نے ہمزہ کو مخفف کیا ہے ( یعنی اس کا ماقبل لام مضموم ہونے کی وجہ سے اسے وائو سے بدل دیا ہے) نحاس نے کہا ہے : کہا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن منذر والطبرانی وابن مردویہ وابو نعیم نے معرفۃ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی کریم ﷺ نے غزوہ تبوک کی طرف نکلنے کا ارادہ فرمایا تو آپ نے جد بن قیس سے فرمایا بنواصغر کے جہاد کے بارے میں تو کیا کہتا ہے ؟ اس نے کہا میں ڈرتا ہوں اس بات سے کہ اگر میں بنواصفر کی عورتوں کو دیکھ لوں تو میں فتنہ میں مبتلا ہوجاوں گا مجھ کو اجازت دیجئے اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالئے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” ومنہم من یقول ائذن لی ولا تفتنی “ جنگ سے منہ موڑنے پر وعید : 2:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا آپ جد بن قیس کو فرما رہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمِنْهُمْ مَّنْ [ اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو ] يَّقُوْلُ [ کہتے ہیں ] ائْذَنْ لِّيْ [ آپ اجازت دیں مجھے ] وَلَا تَفْتِنِّىْ ۭ [ اور آپ آزمائش میں نہ ڈالیں مجھے ] اَلَا [ سنو !] فِي الْفِتْنَةِ [ آزمائش میں ہی ] سَقَطُوْا ۭ [ وہ لوگ گرے ] وَاِنَّ [ اور یقینا ] جَهَنَّمَ [ جھنم ] لَمُحِيْطَةٌۢ [ ضرور گھیرنے والی ہے ] بِالْكٰفِرِيْنَ [ کافروں کو ] ترکیب : (آیت ۔ 49) لا تفنی میں نون ثقیلہ نہیں ہے ، یہ فعل نہی لا تفتن ہے ۔ اور ضمیر مفعولینی کو اس میں ملا کر لکھا گیا ہے ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد ایک منافق کے بیان کردہ عذر کا تذکرہ کیا اور فرمایا (وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اءْذَنْ لِّیْ وَلَا تَفْتِنِّیْ ) اور ان میں سے ایک شخص ایسا بھی ہے جو یوں کہتا ہے کہ مجھے جہاد میں شریک نہ ہونے کی اجازت دیجیے اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالئے معالم التنزیل (ص 299 ج 2) میں لکھا ہے کہ جد بن قیس ایک منافق تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے غزوۂ تبوک میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کیا تجھے رومیوں سے جنگ کرنے میں رغبت ہے ؟ اس نے کہا کہ یا رسول اللہ میرا حال یہ ہے کہ عورتوں سے مجھے عشق ہے اور عورتوں کو دیکھ کر قابو میں نہیں رہتا رومیوں کی گورے رنگ کی لڑکیاں دیکھ کر مجھ سے صبر نہ ہوگا آپ مجھے یہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(ربط) : گزشتہ آیات میں عام منافقین کے احوال اقوال کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں خاص خاص منافقین کے خاص خاص اقوال واحوال کا ذکر کرتے ہیں اس آیت میں جس منافق کے قول کا ذکر ہے اس کا نام جد بن قیس تھا جب آں حضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ غزوہ روم کے لیے نکل تو اس نے کہا یا رسول اللہ میری تمام قوم جانتی ہے کہ میں عورتوں کی محبت میں مشہور ہوں۔ اور روم کی عورتوں کا حسن مشہور ہے میں عورت کی شکل دیکھ کر صبر نہیں کرسکتا پس آپ مجھ کو لیجا کر فتنہ میں نہ ڈالیے میں اپنے مال سے آپ کی مدد کرسکتا ہوں آپ نے نہایت خشمگین ہو کر فرمایا اچھا تجھے اجازت ہے۔ اس کے بارے میں حق تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور ان منافقوں میں سے ایک…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

48: جد بن قیس منافق نے ازراہ شرارتحضور ﷺ سے کہا کہ میں ایک عاشق مزاج آدمی ہوں اس لیے آپ مجھے جہاد سے چھٹی دیدیں کیونکہ میں رومیوں کی عورتوں کو دیکھ کر صبر نہیں کرسکوں گا اور فتنے میں پڑجاؤں گا۔ یہ غزوہ تبوک کا واقعہ ہے جس میں رومیوں سے جنگ تھی۔ “ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا ” اللہ تعالیٰ نے جواب فرمایا کہ وہ اس فتنے سے تو ڈرتا ہے مگر وہ یہ خیال نہیں کرتا کہ منافقت اور مخالفت رسول کی وجہ سے وہ اس سے کہیں بڑے فتنے میں گر چکے ہیں جس کا انجام کہ انہیں جہنم میں ڈالا جائے گا جس کی آگ ان کو چاروں طرف سے اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ “ قال الجد قد عرف قومی انی مغرم بالنساء و انی اخشی ان رایت بنات بنی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 49–54

جد ابن قیس : اللہ تعالیٰ نے جہاد میں نفیر عام کا حکم دینے کے بعد منافقین کی مذمت بیان فرمائی ہے اور ان کے حیلے بہانوں کا رد کیا ہے۔ اسی سلسلہ میں بعض نمایاں منافقوں کا حال خصوصی طور پر بیان کیا ہے ۔ بنی (1۔ ابن کثیر ص 387 ، ج 2) (فیاض) سلمہ قبیلے کا سردار جد ابن قیس بظاہر کلمہ گو تھا مگر اس کے دل میں کفر تھا یہ وہی شخص ہے جو حدیبیہ کے موقع پر موجود تھا جب حضور ﷺ درخت کے نیچے صحابہ کرام سے بیعت رضوان لے رہے تھے تو یہ شخص اپنے گم شدہ اونٹ کی تلاش میں پھر رہا تھا۔ کسی شخص نے اس سے کہا کہ حضور ﷺ لوگوں سے بیعت لے رہے ہیں ، تم بھی ان میں شامل ہو جائو تو کہنے لگا ، میرا اونٹ ہی مجھے مل جائے تو اچھا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمِنْہُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّيْ وَلَا تَفْتِنِّىْ۝ 0 ۭ اَلَا فِي الْفِتْنَۃِ سَقَطُوْا۝ 0 ۭ وَاِنَّ جَہَنَّمَ لَمُحِيْطَۃٌۢ بِالْكٰفِرِيْنَ۝ 49 وأَذِنَ : استمع، نحو قوله : وَأَذِنَتْ لِرَبِّها وَحُقَّتْ [ الانشقاق/ 2] ، ويستعمل ذلک في العلم الذي يتوصل إليه بالسماع، نحو قوله : فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ البقرة/ 279] . ( اذ ن) الاذن اور اذن ( الیہ ) کے معنی تو جہ سے سننا کے ہیں جیسے فرمایا ۔ { وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ } ( سورة الِانْشقاق 2 - 5) اور وہ اپنے پروردگار کا فرمان سننے کی اور اسے واجب بھی ہے اور اذن کا لفظ اس علم پر بھی بولا جاتا ہے جو سماع سے حاصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 49–54

1 ؎ یعنی رسول کی نافرمانی کیا کم فتنہ ہے۔ 12 منہ ترکیب : منہم خبر ہے من یقول کی اور جملہ معطوف ہے کلام سابق پر۔ ان تصبک شرط تسئوھم جواب الا ما فاعل یصیب کا ان یصبکم مفعول ہے نتربص کا بکم اس سے متعلق ان تقبل کا مفعول مالم یسم فاعلہ نفقاتہم جملہ موضع نصب میں ہے بدل ہو کر مفعول منہم سے۔ تفسیر : منافقوں میں سے ایک شخص جد بن قیس تھا۔ اس نے یہ عذر کیا کہ میں رومی عورت دیکھ کر صبر نہیں کرسکتا مجھے فتنہ میں نہ ڈالئے ٗ اجازت دیجئے۔ آپ نے ترش رو ہو کر فرمایا ٗ اجازت۔ ومنہم من یقول میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ باقی ان کے حالات ترجمہ سے ظاہر ہیں۔ ہمارے لئے دو خوبیوں میں ایک تو ضرور ہے یا شہادت یا فتح و…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمِنْھُمْ مَنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَلَاتَفْتِنِّیْ ط اَلاَ فِی الْفِتْنَۃِ سَقَطُوْاط وَاِنَّ جَھَنَّمَ لَمُحِیْطَۃٌم بِالْکٰفِِرِیْنَ (التوبۃ : 49) (ان میں وہ بھی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے اجازت دے دیجیے اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالیے، خبردار ! فتنہ میں تو وہ گر چکے بیشک جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔ ) ایک منافق کی جسارت اس آیت کریمہ میں ایسے بہانہ جو منافقین کی طرف اشارہ ہے۔ جو دوسرے منافقین کی طرح ہی حق و باطل کے معرکہ میں غیر جانبدار رہنے بلکہ لاتعلق رہنے ہی کو علم و دانش کی معراج سمجھتے تھے۔ لیکن انھوں نے کوئی اور بہانہ کرنے کی بجائے اپنے تقویٰ کو حق و باطل کے معرکے میں پیچھے رہنے کا ذریعہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 48–49

فہم القرآن ربط کلام : منافقوں کی مزیدعادات کا بیان جاری ہے۔ اس سے پہلے یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر منافق لشکر اسلام کے ساتھ شامل ہوتے تو فتنہ پر وری کے سوا کسی بات میں اضافہ نہ کرتے کیونکہ یہ پہلے بھی مختلف موقعوں پر شر انگیزی اور فتنہ پردازی کرچکے ہیں۔ جس کی مثالیں احد، احزاب، فتح مکہ کے حوالے سے دی جا چکی ہیں ان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ معاملات کو گڑ بڑ کردیا جائے اور مسلمان کامیابی کی بجائے ناکامیوں سے دو چار ہوتے رہیں۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں پر فضل ہے کہ اس نے منافقوں اور کفار کی کوئی سازش بھی کارگر نہ ہونے دی اور وہی کچھ ہوا جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے وعدہ کر رکھا تھا۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بعض منافقین کا عذر برتر از گناہ : آیت 49: وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَلَا تَفْتِنِّیْ (ان میں بعض لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ مجھ کو اجازت دے دو اور مجھ کو خرابی میں نہ ڈالو) تو مجھے فتنہ میں نہ ڈال۔ یعنی گناہ میں۔ اس طرح کہ تم مجھے اجازت دے دو تاکہ تیری اجازت کے بغیر پیچھے رہ جانے سے میں گناہ میں مبتلا نہ جائوں۔ نمبر 2۔ تم مجھے ہلاکت میں مت ڈالو کیونکہ میرے چلے جانے سے میرے مال و اہل ہلاک ہوجائیں گے۔ ایک قول یہ ہے کہ جدبن قیس منافق نے یہ بات کہی۔ کہنے لگا انصارکو معلوم ہے کہ میں عورتوں کا بڑا شوق مندہوں۔ تم رومیوں کی عورتوں میں لے جا کر مجھے فتنہ میں نہ ڈالو۔ کہیں ان کے عشق میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

جدبن قیس کے متعلق آیت کا نزول تفسیر 49۔” ومنھم من یقول ائذن لی ولا تفتنی “ یہ آیت جد بن قیس منافق کے بارے میں نازل ہوئی کہ جب نبی کریم ﷺ نے غزوہ تبوک کی طرف سفر کی تیار کی تو جد نے کہا اے اللہ کے رسول ! میری قوم جانتی ہے کہ میں عورتوں کا بہت خواہش مند ہوں اور مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نیب بنو اصغر کی لڑکیاں دیکھیں تو ان سے صبر نہ کرسکوں گا ۔ مجھے جنگ میں نہ جانے کی اجازت دیں اور ان عورتوں کے ذریعے میری آزمائش نہ کریں ، میں آپ (علیہ السلام) کی مالی مدد کروں گا ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جدہ بن قیس نے یہ وجہ بیان کی حالانکہ نفاق کے علاوہ اس کی کوئی وجہ نہ تھی تو نبی کریم ﷺ نے اس سے اعراض کیا اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

49۔ طبرانی ابو نعیم ابن مردویہ مغازی محمد بن اسحاق اور ابن ابی حاتم میں جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ منافقین مدینہ میں ایک شخص قبیلہ بنی سلمہ کا سردار جد بن قیس تھا جس کی کنیت ابو وہب تھی تبوک کی لڑائی پر جانے اور نصرانیوں سے لڑنے کا جب آنحضرت نے اس سے ذکر کیا تو اس نے کہا کہ سب لوگوں کو معلوم ہے کہ میں عورتوں سے زیادہ رغبت رکھتا ہوں شام کے ملک میں جاکر میں نصرانیوں کی عورتوں کو دیکھوں گا تو خواہ مخواہ فتنہ میں پڑجاؤں گا اس لئے مجھ کو تو مدینہ میں ہی چھوڑ جائیے اس پر اللہ تعالیٰ یہ آیت نازل فرمائی اور فرما دیا کہ بڑا فتنہ نفاق کا ہے جس میں یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 49 اور ان منافقین میں کچھ وہ بھی تھے جو جہاد میں نہ جانے کی اجازت مانگتے تھے اور عجیب و غریب قسم کے عذر پیش کرتے تھے۔ کوئی یہ کہتا تھا (ائذن لی) ” مجھے (پیچھے رہنے کی) اجازت دیجیے۔ “ (ولاتفتنی) ” اور مجھے (گھر سے نکلنے کے باعث) فتنے میں نہ ڈالئے۔ “ کیونکہ جب میں بنی اصفر (رومیوں) کی عورتوں کو دیکھوں گا تو صبر نہیں کرسکوں گا۔ جیسا کہ جدبن قیس نے کہا تھا۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے اس کا مقصد محض ریا اور نفاق تھا اور وہ اپنی زبان سے ظاہر کرتا تھا کہ اس کا مقصد اچھا ہے اور جہاد میں نکلنے سے وہ فتنہ اور شر میں مبتلا ہوجائے گا اور اگر وہ جہاد کے لئے نہ جائے تو عافیت میں ہوگا اور فتنہ سے محفوظ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 49–50

قول باری ہے (ومنھم من یقول ائذن لی ولا تفتنی ان میں سے کوئی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے رخصت دے دیجئے اور مجھ کو فتنے میں نہ ڈالیے) حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد کا قول ہے کہ آیت کا نزول الجدبن قیس کے بارے میں ہوا۔ حضور ﷺ نے اسے غزوہ تبوک پر جب چلنے کے لئے فرمایا تو کہنے لگا کہ ” مجھے رخصت دے دیجئے اور شام میں لے کر زرد رنگ رومیوں کی عورتوں کے فتنے میں نہ ڈالیے، اس لئے کہ میں عورتوں کے معاملہ میں بڑا دل پھینک واقع ہوا ہوں۔ “ حسن، قتادہ اور ابو عبیدہ کے نزدیک اس کا مفہوم ہے۔ ” اس مخالفت کی وجہ سے جو پھوٹ او تفرقہ کا موجب ہے مجھے عصیان میں مبتلا کرکے گنہگار نہ کیجئے۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 47–50

104 ایمان صادق حفاظت و پناہ کا ذریعہ و وسیلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر وہ تمہارے اندر شامل ہو کر سفر میں نکلے بھی تو تمہارے اندر خرابی کے سوا اور کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے اور وہ تمہارے اندر فتنہ پردازی ہی کے لیے دوڑ دھوپ کرتے۔ پس تم ۔ اے مسلمانو !۔ ان کے پیچھے رہ جانے سے افسوس کرنے کی بجائے خوش ہوجاؤ کہ " خس کم جہاں پاک " کے علاوہ تم ان کی شرانگیزیوں اور فتنہ رسانیوں سے بچ گئے ہو کہ انہوں نے تمہارے درمیان رہ کر بہرکیف شرانگیزی ہی کیلئے کوشش اور تگ و دو کرنا تھی۔ سو قدرت کے اس تکوینی فیصلے سے تم لوگ اے مسلمانو ان کی شرانگیزیوں سے بچ گئے۔ لہذا تم کو انکے پیچھے رہ جانے پر افسوس کرنے کی بجائے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 47–59

منافقوں کے فتنوں سے بچنے کی تدابیر تشریح : ان آیات میں پہلے تو ان منافقین کا غزوہ تبوک میں شامل نہ ہونا باعث رحمت بتایا گیا ہے کیونکہ یہ لوگ اگر ساتھ چلے جاتے تو ان کا مقصد نہ تو جہاد کرنا ہوتا اور نہ ہی یہ مخلص ہوتے، اس لیے اگر یہ چلے جاتے تو صرف غلط سلط افواہوں سے مجاہدین میں بددلی، نااتفاقی اور کمزوری ہی پیدا کرنے کا کام انہوں نے کرنا تھا اور اس طرح فوج کو کمزور کرنے کا مقصد حاصل کرتے کیونکہ اگرچہ مسلمان ہوتے تو انسان ہی ہیں بعض ان کی باتوں میں آکر گھبرا بھی سکتے تھے اور ان کو اپنے خفیہ راز لاعلمی میں بتا دیتے اس لیے اچھا ہوا یہ جہاد میں ساتھ نہ گئے۔ یہ لوگ پہلے بھی اس قسم کا فساد پھیلا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 43–59

آیات 43 تا 59 اللہ نے آپ کو معاف تو کردیا مگر آپ ﷺ نے انھیں جہاد سے رہ جانے کی اجازت ہی کیوں دی ؟ اگر آپ ایسانہ کرتے تو بھی یہ جہاد میں شامل ہونے سے تو رہے ہاں سب لوگوں پہ ان کی اصلیت کھل جاتی اور نفاق واضح ہوجاتا ۔ رشتہ قلبی کے انداز یہاں اگر چہ بات ایک مشورے کے انداز میں ارشاد ہے کہ اگر آپ اجازت نہ دیتے تو ان کے پاس بہانہ نہ ہوتا مگر نبی اکرم ﷺ کے قلب اطہر کو جو تعلق ذات باری سے تھا وہ اس قدربات بھی برداشت نہ کرپاتا ۔ لہٰذ اسوالیہ انداز میں بات ارشاد فرمانے سے پہلے فرمایا عفا اللہ عنک اللہ نے آپ کو معاف فرمادیا کوئی نارزضگی یا خفگی کی بات نہیں مگر آپ نے ایسا کیوں کیا یہ معافی گناہ کی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یا مجھے ہلاکت میں نہ ڈالتے کیونکہ سخت گرمی کا زمانہ ہے اگر میں چلا گیا تو بعد میں میرے اہل و عیال کے ہلاک ہوجانے کا خطرہ ہے۔ (کبیر) مروی ہے کہ جدبن قیس ایک منافق نے یہ بہانا بنایا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! رومی عورتیں خوبصورت ہیں اگر میں چلا گیا تو اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکوں گا۔ بنا بریں مجھے معذور سمجھ کر یہاں رہنے کی اجازت دے دیجئے۔ ہاں میں مال خرچ کر کے امداد کروں گا۔ ( ابن کثیر (ف 1 یعنی بہانے تو یہ کرتے ہیں کہ ہم فتنے میں نہ پڑجائیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ فتنہ میں مبتلا ہیں۔ آخر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کفر سے بڑھ کر بھی دنیا میں کوئی فتنہ ہوگا اور پھر جہاد میں شریک نہ ہونا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:49) ائذن لی۔ تو رخصت سے۔ تو اجازت دے۔ اذن یاذن (سمع) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ اذن مصدر جس کے معنی ہیں اجازت دینا۔ لاتفتنی۔ فعل نہی۔ تو مجھے فتنہ میں نہ ڈال۔ تو مجھے آزمائش میں نہ ڈال۔ تو مجھے گمراہی میں نہ ڈال۔ فتن یفتن (ضرب) فتون سے۔ اصل میں لا تفتن تھا۔ ی ضمیر واحد متکلم اور اس سے قبل نون وقاریہ جس میں لاتفتن کا نون مدغم ہوا۔ تو مجھے آزمائش میں نہ ڈال یعنی میری مجبوری ایسی ہے کہ اگر آپ اجازت نہ دیں گے تو میں مجبورا تعمیل سے قاصر رہوں گا۔ اس لئے آپ جہاد میں جانے کے لئے حکم ہی نہ دیں تاکہ میں نافرمانی کی آزمائش سے بچ جاؤں۔ الا۔ حرف تنبیہ اور استفتاح (یعنی کلام کے شروع کرنے کے لئے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 47–49

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 49 مازادوا (انہوں نے اضافہ نہ کیا) خبال (خرابی) اوضعوا (وہ دوڑتے پھرتے ہیں) خللکم (تمہارے درمیان) یبغون (وہ تلات کرتے ہیں) سمعون (بہت سننے والے، جاسوس) قلبوا (انہوں نے الٹا ہے) لاتقتنی (مشکل میں نہ ڈالے (سقطوا (وہ گر پڑے) تشریح آیت نمبر 47 تا 49 گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس غزوہ تبوک کے موقع پر جہاں وہ اہل ایمان ہیں جو اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے ہر طرح اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کی تعمیل میں سر دھڑ کی بازی لگا چکے ہیں وہیں وہ منافق بھی ہیں جو اس موقع پر عذر اور معذرت کر رہے ہیں ان ہی آیات کے تسلسل میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب انہوں نے اپنا مزاج ہی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے جہ منافقین مدینہ میں سے ایک شخص قبیل بنی سلمہ کا سردار جد بن قیس تھا جس کی کنیت ابو وھب تھی۔ تبوک کی لڑائی میں جانے اور نصرانیوں سے لڑنے کا جب آنحضرت ﷺ نے اس سے ذکر کیا تو اس نے کہا کہ سب لوگوں کو معلوم ہے کہ میں عورتوں سے زیادہ رغبت رکھتا ہوں، شام کے ملک میں جاکر نصرانیوں کی عورتوں کو دیکھوں گا تو خواہ مخواہ فتنہ میں پر جاؤگا۔ اس لئے مجھ کو تو مدینہ میں ہی چھوڑ جایئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ بڑا فتنہ نفاق کا ہے جس میں یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں اس فتنہ کے سبب سے یہ ایسے جھوٹے عذر کرتے ہیں اور دنیا میں تو یہ لوگ اپنی دغابازی کی باتوں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 49–50

[28] منافقین نے جنگ تبوک سے بچنے کے لئے طرح طرح کے حیلے تراشے۔ ان میں سے کسی نے یہ کہا کہ میں عورتوں کے معاملے میں کمزور ہوں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ رومی عورتوں کو دیکھوں گا تو مجھ سے صبر نہ ہو سکے گا۔ اس لئے مجھے فتنے میں نہ ڈالئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) گویا نفاق وبزدلی بجائے خود فتنہ ہے آزمائش ہے کفر ہے غضب الہی کا سبب ہے ، منافق جہاد سے بچنے کے لئے معذرت کرتے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یاد رکھو ، اللہ تمہارے نفاق سے آگاہ ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

49 اور انہی منافقوں میں سے وہ شخص بھی ہے جو یوں کہتا ہے کہ مجھ کو پیچھے رہ جانے کی اجازت دے دیجئے اور مجھ کو کسی فتنے میں مبتلا نہ کیجئے اور فتنے میں نہ ڈالئے آگاہ رہو اور خبردار رہو یہ لوگ فتنے میں تو گھر ہی چکے ہیں اور بلاشبہ دوزخ کا فروں کو ضرور گھیرنے والی ہے۔ شاید جد بن قیس کی طرف اشارہ ہے جس نے یہ کہہ کر رخصت مانگی تھی کہ آپ تبوک میں مجھ کو نہ لے چلیئے وہاں رومیوں سے جنگ ہوگی رومیوں کی عورتیں خوبصورت ہوتی ہیں میں جوان ہوں آپ کی وجہ سے کسی فتنے میں پڑجائوں گا ارشاد ہوا فتنے میں تو گرے پڑے ہیں اللہ رسول کی مخالفت سے بڑا فتنہ کیا ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک منافق جد بن قیس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 49–50

ف 4۔ اس شخص کا نام جدبن قیس تھا اس نے یہ بہانہ تراشا تھا کہ میں عورتوں پر مفتون ہوجاتا ہوں اور رومیوں کی عورتیں حسین زیادہ ہیں جانے میں میرا دینی ضرر ہے اس لیے رخصت کا خواستگار ہوں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرمایا یہ جھوٹے بہانے نکالنے کے لئے جھوٹے فتنہ کا ذکر کرتے ہیں حالانکہ یہ کہہ کر وہ اصل فتنہ میں گر پڑے کہ راہ حق میں جہاد کرنے سے جی چرایا اور اس کے لئے جھوٹی ن کی اور پرہیز گاری کی آڑ پکڑی۔ غور کرو گے تو نفاق کی یہ خصلت آج بھی بڑے بڑے مدعیان علم اور مشیخیت میں بولتی نظر آئے گی۔ جھوٹی دینداری اور وہمی پرہیزگاری نے سعی و عزم کی تمام راہیں ان پر بند کردی ہیں اور ود ساعی ہیں کہ امت پر بھی بند کردیں تفصیل اس کی بہت لمبی ہے اپنے اردگرد زمرہ علماء پر گہری نظر ڈال کر خود فیصلہ کرلیں کہ جو کچھ میں نے عرض کیا وہ صحیح ہے یا نہیں ؟ کیا وہ بڑے بڑے پے ٹینٹ اور سلجھے ہوئے جھوٹ بولتے ہیں یا نہیں ؟ منبر پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the seventh verse (49), after citing a particular excuse made by a noted hypocrite called Jadd ibn Qays, a comment has been made which shows how astray he had gone. The excuse for not going on Jihad he came up with was that he happened to be a young man. If he went out against the Roman Christians in their territory, there were chances that he might fall into the snare of their beautiful women! (` Do not expose me to an ordeal' ) The Qur'an responded by saying: أَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا (Look! they have already fallen into an ordeal). It means that such people were not very smart.…

Read the full tafseer →