فتنہ و فساد کی آگ منافق
اللہ تعالیٰ منافقین سے نفرت دلانے کے لئے فرما رہا ہے کہ کیا بھول گئے مدتوں تو یہ فتنہ و فساد کی آگ سلگاتے رہے ہیں اور تیرے کام کے الٹ دینے کی بیسیوں تدبیریں کرچکے ہیں مدینے میں آپ کا قدم آتے ہی تمام عرب نے ایک ہو کر مصیبتوں کی بارش آپ پر برسا دی۔ باہر سے وہ چڑھ دوڑے اندر سے یہود مدینہ اور منافقین مدینہ نے بغاوت کردی لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک ہی دن میں سب کی کمانیں توڑ دیں ان کے جوڑ ڈھیلے کردیئے ان کے جوش ٹھنڈے کردیئے بدر کے معرکے نے ان کے ہوش حواس بھلا دیئے اور ان کے ارمان ذبح کردیئے۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے صاف کہہ دیا کہ بس اب یہ لوگ ہمارے بس کے نہیں رہے اب تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
سورة التَّوْبَة 47
یعنی بادل ناخواستہ اٹھنا اللہ کو پسند نہیں تھا۔ کیونکہ جب وہ شرکت جہاد کے جذبے اور نیت سے خالی تھے اور ان کے اندر دین کی سربلندی کے لیے جاں فشانی کرنے کی کوئی خواہش نہ تھی، تو وہ صرف مسلمانوں کی شرما شرمی سے بددلی کے ساتھ یا کسی شرارت کی نیت سے مستعدی کے ساتھ اٹھتے اور یہ چیز ہزار خرابیوں کی موجب ہوتی جیسا کہ بعد والی آیت میں بتصریح فرما دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ یعنی یہ لوگ اس سے پہلے بھی ایسا فتنہ و فساد پھیلا چکے ہیں جیسے غزوہ احد میں پیش آیا تھا، وَظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَهُمْ كٰرِهُوْنَ ، یعنی غالب آیا حکم اللہ کا حالانکہ منافقین اس سے بہت پیچ و تاب میں تھے، اس سے اشارہ فرما دیا کہ غلبہ اور فتح حق تعالیٰ کے قبضہ میں ہے، جیسا پہلے واقعات میں آپ کو فتح دی گئی، اس جہاد میں بھی ایسا ہی ہوگا اور منافقین کی سب چالیں ناکام ہوجائیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
تفسیر آیت 47-48: اگر یہ لوگ تم میں مل کر نکلتے تو تمہارے لیے خرای ہی بڑھانے کے باعث بنتے اور تمہارے درمیان ان کی ساری بھاگ دوڑ فتنہ انگیزی کے لیے ہوتی اور تم میں ان کی سننے والے ہیں اور اللہ ظالموں سے خوب باخبر ہے۔ یہ پہلے بھی فتنہ انگیزی کی کوشش کرچکے ہیں اور انہوں نے واقات کی صورت تمہارے سامنے بدلی یہاں تک کہ ان کے علی الرغم حق آگیا اور اللہ کا حکم ظاہر ہوا۔
لَوْ خَرَجُوْا فِيْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّلَا۟اَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ يَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ ۚ وَفِيْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ۔ " خبال " کے معنی خرابی اور فساد کے اور ایضاع کے…
Read the full tafseer →48۔ 1 اس لئے اس نے گزشتہ اور آئندہ امور کی تمہیں اطلاع دے دی ہے اور یہ بھی بتلا دیا ہے کہ یہ منافقین جو ساتھ نہیں گئے، تو تمہارے حق میں اچھا ہوا، اگر یہ جاتے تو یہ یہ خرابیاں ان کی وجہ سے پیدا ہوتیں۔
48۔ 2 یعنی یہ منافقین تو، جب سے آپ مدینہ میں آئے ہیں، آپ کے خلاف فتنے تلاش کرنے اور معاملات کو بگاڑنے میں سرگرم رہے ہیں۔ حتیٰ کے بدر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح و غلبہ عطا فرما دیا، جو ان کے لئے بہت ہی ناگوار تھا، اسی طرح جنگ احد کے موقعے پر بھی ان منافقین نے راستے سے ہی واپس ہو کر مشکلات پیدا کرنے کی اور اس کے بعد بھی ہر موقعے پر بگاڑ کی کوشش کرتے رہے۔ حتیٰ کہ مکہ فتح ہوگیا اور اکثر عرب مسلمان…
Read the full tafseer →41: اس سے مسلمانوں کی فتوحات کی طرف اشارہ ہے جن میں فتح مکہ اور غزوہ حنین کی فتح سر فہرست ہے۔ منافقین کی پوری کوشش تو یہ تھی کہ مسلمان کامیاب نہ ہونے پائیں، لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم غالب آیا، اور یہ منہ دیکھتے رہ گئے۔
Read the full tafseer →یہ واقعہ اس وقت ہوا جب حضور ﷺ عوامی تائید کے ذریعے مدینہ تشریف لائے اور حالات یہ تھے کہ ابھی تک انہیں اپنے دشمنوں پر فیصلہ کن غلبہ حاصل نہ ہوا تھا اور مدینہ میں جب حضور کو کامیابی نصیب ہوتی رہیں تو ان اعداء نے بھی سر جھکا دئیے لیکن دل سے وہ تحریک جدید کو بدستور ناپسند کرتے رہے اور انتظار کرتے رہے کہ اسلام پر کوئی برا وقت آئے اور انہیں ریشہ دوانیوں کا موقع ملے۔
Read the full tafseer →5 جس وقت حضور ﷺ مدینہ تشریف لائے، یہود اور منافقین مدینہ آپ کے خلاف طرح طرح کی فتنہ انگیزیاں کرتے رہے اور اسلام کی روز افزوں تر قیات کا تختہ الٹنے کے لیے بہت کچھ الٹ پھیر کی۔ مگر بدر میں جب کفر و شرک کے بڑے بڑے ستون گرگئے اور حیرت انگیز طریقہ پر اسلام کا غلبہ ظاہر ہوا تو عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے کہا اِنْ ہٰذَا اَمْرٌ قَدْتَوَجَّہَ کہ یہ چیز تو اب رکنے والی معلوم نہیں ہوتی چناچہ بہت سے لوگ خوف کھا کر محض زبان سے کلمہ پڑھنے لگے مگر چونکہ دل میں کفر چھپا ہوا تھا اس لئے جوں جوں اسلام و مسلمین کی کامیابی اور غلبہ دیکھتے، دل دل میں جلتے اور غیظ کھاتے تھے۔ غرض ان کی فتنہ پردازی اور مکاری…
Read the full tafseer →آیت 48 لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَۃَ مِنْ قَبْلُ
یاد رہے کہ یہی لفظ فتنہ اس حدیث میں بھی آیا ہے جس کا ذکر علمائے سو کے کردار کے سلسلے میں قبل ازیں آیت 34 کے ضمن میں ہوچکا ہے : عُلَمَاءُ ھُمْ شَرٌّ مَنْ تَحْتَ اَدِیْمِ السَّمَاءِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَہُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ یعنی ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین لوگ ہوں گے ‘ فتنہ ان ہی میں سے برآمد ہوگا اور ان ہی میں پلٹ جائے گا۔ یعنی وہ آپس میں لڑائی جھگڑوں ‘ فتویٰ پردازیوں اور تفرقہ بازیوں میں مصروف ہوں گے۔
وَقَلَّبُوْا لَکَ الْاُمُوْرَ
یہ لوگ اپنی امکانی حدتک کوشش کرتے رہے ہیں کہ آپ ﷺ کے معاملات کو تلپٹ کردیں۔
حَتّٰی جَآءَ…
Read the full tafseer →52 عبداللہ بن ابی کا فتنہ :۔ منافقوں کی فتنہ انگیزیوں کی فہرست بڑی طویل ہے۔ عبداللہ بن ابی کو دراصل آپ کی مدینہ میں تشریف آوری ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ آپ کی آمد سے پیشتر عبداللہ بن ابی کے سر پر اوس و خزرج دونوں کی سرداری کا تاج رکھا جانے والا تھا۔ آپ تشریف لائے تو اس کی سرداری کا معاملہ کھٹائی میں پڑگیا۔ یہی وہ حسد اور کینہ تھا جس نے اسے اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی پر عمر بھر اکسائے رکھا۔ غزوہ بدر سے پہلے اس کی قریش مکہ سے مراسلت رہی۔ پھر جب بدر میں قریش مکہ کو شکست فاش اور مسلمانوں کو عظیم فتح نصیب ہوئی تو یہ جل بھن گیا مگر اپنے مفادات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ظاہری طور پر تو اسلام قبول کرلیا مگر…
Read the full tafseer →91 ۔ (تو آیندہ بھی اسی طرح ہوگا۔ آپ فکر وتردد میں نہ پڑیں) (آیت) ” ابتغوا الفتنۃ من قبل “۔ اشارہ ہے جنگ احد وغیرہ کی جانب۔ (آیت) ” قلبوا لک الامور “۔ مثلا یہ کہ آپ کے شریک ہوئے اور پھر ہٹ گئے تاکہ مسلمان پراگندہ خاطر ودل شکستہ ہوجائیں۔
Read the full tafseer →لَقَد ابتغوا الفتنة من قبل الخ اس آیت میں بھی منافقوں کا حال بیان کیا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ غدروغل کچھ اسی لڑائی کے ساتھ خاص نہیں ہے ان کا تو شیوہ ہی یہ ہے اس سے پہلے بھی جب آپ شروع شروع میں مدینہ تشریف لائے تھے اس وقت بھی یہ لوگ آمادہ جنگ وپیکار ہوگئے تھے اور انہوں نے یہود مدینہ کے ساتھ ساز باز کر کے مسلمانوں اور اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔
Read the full tafseer →لقد ابتغوا الفتنۃ من قبل وقلبوا لک الامور انہوں نے تو پہلے بھی فتنہ پردازی کی فکر کی تھی اور آپ کیلئے کارروائیوں کی الٹ پھیر کرتے رہے تھے۔ یعنی اس سے پہلے جنگ احد میں بھی ابن ابی اپنے ساتھیوں کو لے کر واپس لوٹ گیا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ آپ کا کام الٹ جائے ‘ آپ کے ساتھی منتشر ہوجائیں اور اہل ایمان کو بےمدد چھوڑ دیا جائے۔ آپ کے کام کو بگاڑنے کی انہوں نے تدبیریں کی تھیں اور دسیسہ کاریوں سے کام لیا تھا۔
حتی جاء الحق وظھر امر اللہ وھم کارھون یہاں تک کہ سچا وعدہ آگیا اور اللہ کا حکم غالب رہا اور ان کو ناگوار ہی گذرتا رہا۔ الحق سے مراد ہے اللہ کی مدد اور دین اسلام کی تائید۔ ظَھَرَ اَمر اللّٰہِ یعنی…
Read the full tafseer →(48) ان لوگوں نے تو غزوہ تبوک سے پہلے بھی فتنہ پھیلانا چاہا تھا اور آپ ﷺ کو نقصان پہنچانے کے لیے کافی تدابیر کرتے رہے یہاں تک کہ مومنین کی کثرت ہوگئی اور دین اسلام کا غلبہ ہوگیا اور ان کو ناگوار ہی گزرتا رہا۔
Read the full tafseer →لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ : اس آیت میں ان کے خبث باطن اور مزید مکاریوں کا پردہ چاک کیا گیا ہے، یعنی آپ ﷺ کے خلاف مکر و فریب کرنا ان کی پرانی عادت ہے۔ پہلے بھی مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی تدبیریں کرتے رہے، مگر جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو ان کے نہ چاہتے ہوئے غلبہ عطا فرمایا تو یہ بظاہر اسلام میں داخل ہوگئے، پھر بھی شرارتوں سے باز نہ آئے، جیسا کہ عبداللہ بن ابی منافق نے غزوۂ احد کے دن کیا کہ عین میدان جنگ سے اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر لوٹ آیا۔ ہر موقع پر ان کی ہمدردیاں یہودیوں کے ساتھ رہیں، بنو نضیر اور دوسرے کئی یہودیوں کو قتل سے بچایا، بنو قریظہ کو ابھارتے رہے، ام…
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : لقد ابتغوا الفتنۃ من قبل یعنی انہوں نے فساد برپا کرنے اور اختلاف پیدا کرنے کی کوشش اور تگ و دو کی اس سے پہلے کہ ان کا معاملہ ظاہر ہو اور اس کے بارے وحی نازل ہو جسے انہوں نے مخفی اور پوشیدہ رکھا اور اس کے بارے جو وہ عنقریب کریں گے۔ ابن جریج نے کہا ہے : مراد منافقین کے بارہ آدمی ہیں ‘ وہ عقبہ کی رات ثنیۃ الوداع پر ٹھہرے تاکہ (نعوذ باللہ) وہ حضور نبی مکرم ﷺ کو قتل کردیں۔ وقلبو الک الامور یعنی جو دین آپ لے کر آئے ہیں اس کو باطل کرنے کے بارے میں اپنی آراء اور تجاویز کو بدلتے رہتے تھے اور گھماتے رہتے تھے۔ حتی جآء الحق وظھرا امر اللہ یعنی حق آگیا اور اللہ تعالیٰ کا دین غالب ہوگیا۔ وھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
1:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولکن کرہ اللہ انبعاثہم “ یعنی ان کے نکلنے کو (اللہ تعالیٰ نے ناپسند فرمایا)
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انبعاثہم “ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو روک لیا۔
3:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لوخرجوا فیکم ما زادوکم الا خبالا “ یعنی غزوہ تبوک میں جو منافق تھے ان کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں اپنے نبی کریم ﷺ اور ایمان والوں سے سوال فرمایا اور فرمایا کون سی چیز تم کو غمگین کررہی ہے۔ (آیت) ” لوخرجوا فیکم ما زادوکم الاخبالا “ یعنی تمہارے لئے وہ لوگ (اگر) جمع ہونے اور عملاشریک…
Read the full tafseer →لَقَدِ ابْتَغَوُا [ بیشک وہ لوگ تلاش کرچکے ہیں ] الْفِتْنَةَ [ فتنہ کو ] مِنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے ] وَقَلَّبُوْا [ اور انھوں نے باربار الٹا ] لَكَ [ آپ کے لیے ] [ الْاُمُوْرَ : کئی معاملات ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] جَاۗءَ [ آیا ] الْحَقُّ [ حق ] وَظَهَرَ [ اور غالب ہوا ] اَمْرُ اللّٰهِ [ اللہ کا حکم ] وَ [ اس حال میں کہ ] هُمْ [ وہ ] كٰرِهُوْنَ [ کراہیت کرنے والے تھے ]
Read the full tafseer →(لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَۃَ مِنْ قَبْلُ ) کہ (اس غزوہ سے پہلے بھی وہ فتنہ کی راہ تلاش کرچکے ہیں) یہ لوگ غزوۂ احد کے موقع پر بھی راستہ سے واپس چلے گئے تھے۔ (وَ قَلَّبُوْا لَکَ الْاُمُوْرَ ) اور آپ کو تکلیف دینے کی کار روائیوں میں الٹ پھیر اور طرح طرح کی مکاریوں اور ایذاء پہنچانے کی تدبیر کرتے رہے ہیں۔
(حَتّٰی جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَھَرَ اَمْرُ اللّٰہِ وَ ھُمْ کٰرِھُوْنَ ) (یہاں تک کہ سچا وعدہ آپہنچا اور اللہ کا حکم غالب ہوا اگرچہ انہیں نا گوار ہو رہا تھا) اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ ان کی تدبیریں اور شرارتیں پہلے سے جاری ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان سے محفوظ فرمایا۔ آئندہ کے لیے بھی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–48
بیان احوال واقوال منافقین متخلفین
قال اللہ تعالیٰ ۔ لو کان عرضا قریبا۔۔۔ الی۔۔۔ وظہر امر اللہ وھم کرھون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اس غزوہ کے متعلق مومنین کو خطاب تھا اب آگے منافقین کے احوال واقوال کا بیان ہے کہ وہ آں حضرت ﷺ کے ہمراہ جانے سے حیلے اور بہانے ڈھونڈتے تھے اور چاہتے تھے کہ کسی طرح جہاد میں جانا نہ پڑے اخیر سورت تک زیادہ تر منافقین ہی کے اقوال کا ذکر ہے کہ باوجود عذر نہ ہونے کے نفاق کے سبب غزوہ میں شریک نہیں ہونا چاہتے تھے اور اس درمیاں میں کسی مناسبت کی بنا پر دوسرے مضامین کا بھی ذکر آگیا۔ چناچہ فرماتے ہیں اگر ہوتی وہ چیز جس کی طرف آپ نے ان کو بلایا نفع قریب الحصول یعنی سہل الحصول…
Read the full tafseer →47: یعنی اس سے پہلے وہ ہر طرح سے آپ کی مخالفت کرچکے ہیں اور وہ کونسا حیلہ ہے جو انہوں نے آپ کی مخالفت میں استعمال نہیں کیا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کی ہر کوشش کو ناکام اور ان کے ہر حیلہ کو باطل کردیا اور دین حق کو ان کے باطل پر غلبہ عطا فرما دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
ربط آیات :
یہ غزوہ تبوک ہی کا سلسلہ جاری ہے۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے جہاد کی ترغیب دی اور پھر اہل ایمان کو خبردار کیا کہ وہ اس معامالہ میں سستی نہ دکھائیں بلکہ ہر حالت میں جہاد میں شریک ہوں۔ پھر جہاد کی حکمت بھی بیان فرمائی کہ اس سے مقصود اللہ کے کلمے کی بلندی ہے ایمان والوں کو اسی وجہ سے عزت نصیب ہوتی ہے۔ اگر ایمان والے آگے نہیں بڑھیں گے تو اللہ تعالیٰ دین کا کام کسی اور جماعت سے لے لیگا اور یہ چیز پیچھے رہ جانے والوں کے لیے تذلیل کا باعث ہوگی۔ پھر اللہ نے منافقین کا حال بیان کیا کہ جہاں انہیں کوئی مفاد نظر آتا ہے وہاں حضور ﷺ کے ساتھ چل نکلتے ہیں اور جہاں کوئی مشقت طلب کام ہوتا ہے وہاں جانے سے…
Read the full tafseer →لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَۃَ مِنْ قَبْلُ وَقَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰي جَاۗءَ الْحَقُّ وَظَہَرَ اَمْرُ اللہِ وَہُمْ كٰرِہُوْنَ 48
وأمّا الابتغاء
فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء فيه محمود نحو : ابْتِغاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ [ الإسراء/ 28] ، وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20]
( ب غ ی ) البغی
الا بتغاء
یہ خاص کر کوشش کے ساتھ کسی چیز کو طلب کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ اگر اچھی چیز کی طلب ہو تو یہ کوشش بھی محمود ہوگی ( ورنہ مذموم ) چناچہ فرمایا : ۔ { ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ } ( سورة الإسراء 28) اپنے پروردگار کی رحمت ( یعنی فراخ دستی ) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–48
1 ؎ کہ اجازت مانگ کر بہانہ بنا کر جہاد سے بیٹھ رہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →لَقَدِ ابْتَغَوُاالْفِتْنَۃَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْالَکَ الْاُمُوْرَ حَتّٰی جَآئَ الْحَقُّ وَظَھَرَ اَمْرُاللّٰہِ وَھُمْ کٰرِھُوْنَ ( التوبۃ : 48)
(یہ منافقین پہلے بھی فتنہ انگیزی کی کوشش کرچکے ہیں اور الٹ پلٹ کرتے رہے ہیں آپ کے سامنے معاملات کو یہاں تک کہ حق آگیا اور اللہ کا حکم غالب ہوگیا اور وہ ناخوش تھے۔ )
منافقین کے جھوٹ کے شواہد
اس آیت کریمہ میں سابقہ مضمون کی مزید وضاحت ہے کہ منافقین کے بارے میں اس سے پہلے جو کچھ فرمایا گیا ہے وہ محض بدگمانی نہیں بلکہ گزشتہ غزوات میں ان کی شرارتوں اور فتنہ انگیزیوں کے شواہد موجود ہیں۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ اعلائے کلمۃ الحق کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
فہم القرآن
ربط کلام : منافقوں کی مزیدعادات کا بیان جاری ہے۔
اس سے پہلے یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر منافق لشکر اسلام کے ساتھ شامل ہوتے تو فتنہ پر وری کے سوا کسی بات میں اضافہ نہ کرتے کیونکہ یہ پہلے بھی مختلف موقعوں پر شر انگیزی اور فتنہ پردازی کرچکے ہیں۔ جس کی مثالیں احد، احزاب، فتح مکہ کے حوالے سے دی جا چکی ہیں ان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ معاملات کو گڑ بڑ کردیا جائے اور مسلمان کامیابی کی بجائے ناکامیوں سے دو چار ہوتے رہیں۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں پر فضل ہے کہ اس نے منافقوں اور کفار کی کوئی سازش بھی کارگر نہ ہونے دی اور وہی کچھ ہوا جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے وعدہ کر رکھا تھا۔…
Read the full tafseer →منافقین کی ایک بڑی سازش :
آیت 48: لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَۃَ (انہوں نے فتنہ پردازی کی فکر کی تھی) نمبر 1۔ لوگوں کو منع کر کے۔ نمبر 2۔ تبوک سے واپسی پر گھاٹی کی رات آپ پر اچانک حملہ کرنا چاہا۔ نمبر 3۔ احد کے دن واپس لوٹ کر۔ مِنْ قَبْلُ (اس سے پہلے) غزوئہ تبوک سے پہلے وَقَلَّبُوْا لَکَ الْاُمُوْرَ (اور آپ کے لئے کارروائیوں کی الٹ پھیر کرتے ہی رہے) آپ کے متعلق مختلف حیلے بہانے کئے اور آپ کا معاملہ خراب کرنے کیلئے اپنی آراء سے دامن تزویر پھیلا یا۔ حَتّٰی جَآئَ الْحَقُّ (یہاں تک کہ سچا وعدہ آگیا) وہ آپکی تائید و مدد ہے۔ وَظَھَرَ اَمْرُ اللّٰہِ (اور اللہ کا حکم غالب رہا) اللہ تعالیٰ کا دین غالب…
Read the full tafseer →48۔” لقد ابتغوا الفتنۃ من قبل “ یعنی انہوں نے آپ کے ساتھیوں کو دین سے روکنے کی کوشش کی اور لوگوں کے ہاتھوں آپ لوگوں کو رسوا کرنے کی کوشش کی ۔ اس سے پہلے جیسے عبد اللہ بن ابی غزوہ احد کے دن اپنے ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا ۔ ” وقلبوا لک الامور “ آپ کے دین اور رائے کو باطل کرنے کی کوشش کی ۔ آپ (علیہ السلام) سے لوگوں کو ورغلانے اور متفرق کرنے کے ذریعے۔ ” حتی جاء الحق “ مدد اور کامیابی آجائے ” و ظھر امر اللہ “ اللہ کا دین ” ھم کرھون “۔
Read the full tafseer →48۔ اس آیت میں بھی انہیں منافقوں کا حال بیان فرمایا کہ کچھ اسی لڑائی پر موقوف نہیں ہے یہ لوگ پہلے ہی سے فتنہ و فساد برپا کرنے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ خدا کا دین دب جائے پھر فرمایا کہ ان کی کوئی تدبیر کار آمد نہیں ہوئی آخر اللہ ہی کا بول بالا رہا اور یہ ناخوش ہی ہوتے رہے حاصل مطلب یہ ہے کہ جب حضرت ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں آئے تھے تو مدینہ کے یہودو منافق جنگ پر آمادہ ہوئے تھے پھر جب مدد کی لڑائی میں آپ کو بہت بڑی فتح ہوئی تو ابن ابی اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ اب کیا کرنا چاہئے ان کا دین سچا معلوم ہوتا ہے اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ظاہر طور پر اسلام میں داخل ہوجاؤ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
آیت 46
اللہ تبارک و تعالیٰ بیان فرماتا ہے، جہاد سے جی چرا کر پیچھے رہ جانے والے منافقین کی علامات اور قرآئن سے ظاہر ہوگیا ہے کہ جہاد کے لئے نکلنے کا ان کا ارادہ ہی نہ تھا اور ان کی وہ معذرتیں جو وہ پیش کر رہے ہیں سب باطل ہیں، کیونکہ عذر جہاد کے لئے نکلنے سے تب مانع ہوتا ہے جب بندہ مومن پوری کوشش کر کے جہاد کے لئے نکلنے کے تمام اسباب استعمال کرنے کی سعی کرتا ہے، پھر کسی شرعی مانع کی وجہ سے جاد کے لئے نکل نہیں سکتا تو یہی وہ شخص ہے جس کا عذر قبول ہے۔ (3) ” اور “ یہ منافقین (لو ارادوا الخروج لا عدوا لہ عدۃ) ” اگر نکلنے کا ارادہ کرتے، تو اس کے لئے ضرور کچھ سامان تیار کرتے “ یعنی وہ تیاری کرتے اور…
Read the full tafseer →قول باری ہے (لقد ابتغوا الفتنۃ میں قبل۔ اس سے پہلے بھی ان لوگوں نے فتنہ انگیزی کی کوششیں کی ہیں) یعنی انہوں نے فتنہ انگریزی کی ہے۔ یہاں فتنہ سے مراد وہ اختلاف ہے جو الفت کے بعد فرقت کا موجب ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے جڑے ہوئے دل ایک دوسرے سے علیحدہ ہوجاتے ہیں۔
قول باری ہے (وقلبوا لک الامور۔ اور تمہیں ناکام کرنے کے لئے یہ ہر طرح کی تدبیروں کا الٹ پھیر کرچکے ہیں) یعنی کسی نہ کسی تدبیر اور چال تک رسائی کے لئے جس کے ذریعے اللہ کا روشن کیا ہوا ہدایت کا چراغ بجھ جائے اور اسلام کا کام ختم ہوجائے، انہوں نے اپنی تدابیر کا کئی پہلوئوں سے جائزہ لیا ہے اور انہیں کئی طریقوں سے آزمایا ہے لیکن اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
104 ایمان صادق حفاظت و پناہ کا ذریعہ و وسیلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر وہ تمہارے اندر شامل ہو کر سفر میں نکلے بھی تو تمہارے اندر خرابی کے سوا اور کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے اور وہ تمہارے اندر فتنہ پردازی ہی کے لیے دوڑ دھوپ کرتے۔ پس تم ۔ اے مسلمانو !۔ ان کے پیچھے رہ جانے سے افسوس کرنے کی بجائے خوش ہوجاؤ کہ " خس کم جہاں پاک " کے علاوہ تم ان کی شرانگیزیوں اور فتنہ رسانیوں سے بچ گئے ہو کہ انہوں نے تمہارے درمیان رہ کر بہرکیف شرانگیزی ہی کیلئے کوشش اور تگ و دو کرنا تھی۔ سو قدرت کے اس تکوینی فیصلے سے تم لوگ اے مسلمانو ان کی شرانگیزیوں سے بچ گئے۔ لہذا تم کو انکے پیچھے رہ جانے پر افسوس کرنے کی بجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–59
منافقوں کے فتنوں سے بچنے کی تدابیر
تشریح : ان آیات میں پہلے تو ان منافقین کا غزوہ تبوک میں شامل نہ ہونا باعث رحمت بتایا گیا ہے کیونکہ یہ لوگ اگر ساتھ چلے جاتے تو ان کا مقصد نہ تو جہاد کرنا ہوتا اور نہ ہی یہ مخلص ہوتے، اس لیے اگر یہ چلے جاتے تو صرف غلط سلط افواہوں سے مجاہدین میں بددلی، نااتفاقی اور کمزوری ہی پیدا کرنے کا کام انہوں نے کرنا تھا اور اس طرح فوج کو کمزور کرنے کا مقصد حاصل کرتے کیونکہ اگرچہ مسلمان ہوتے تو انسان ہی ہیں بعض ان کی باتوں میں آکر گھبرا بھی سکتے تھے اور ان کو اپنے خفیہ راز لاعلمی میں بتا دیتے اس لیے اچھا ہوا یہ جہاد میں ساتھ نہ گئے۔ یہ لوگ پہلے بھی اس قسم کا فساد پھیلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–59
آیات 43 تا 59
اللہ نے آپ کو معاف تو کردیا مگر آپ ﷺ نے انھیں جہاد سے رہ جانے کی اجازت ہی کیوں دی ؟ اگر آپ ایسانہ کرتے تو بھی یہ جہاد میں شامل ہونے سے تو رہے ہاں سب لوگوں پہ ان کی اصلیت کھل جاتی اور نفاق واضح ہوجاتا ۔
رشتہ قلبی کے انداز
یہاں اگر چہ بات ایک مشورے کے انداز میں ارشاد ہے کہ اگر آپ اجازت نہ دیتے تو ان کے پاس بہانہ نہ ہوتا مگر نبی اکرم ﷺ کے قلب اطہر کو جو تعلق ذات باری سے تھا وہ اس قدربات بھی برداشت نہ کرپاتا ۔ لہٰذ اسوالیہ انداز میں بات ارشاد فرمانے سے پہلے فرمایا عفا اللہ عنک اللہ نے آپ کو معاف فرمادیا کوئی نارزضگی یا خفگی کی بات نہیں مگر آپ نے ایسا کیوں کیا یہ معافی گناہ کی نہیں…
Read the full tafseer →اس لیے اس نے پسند نہ فرمایا کہ اس قسم کے لوگ تمہارے ساتھ جہاد کے لیے نکلیں جو کفر ونفاق کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر بھی ظلم کرتے ہیں اور دوسروں میں افتراق اور شبہات پیدا کر کے ان پر ان بھی ظلم کرتے ہیں ( ابن کثیر۔ ابن کثیر۔ کبیر)6 اس آیت میں ان کے خبث باطن اور مزید مکاریوں کا پر دہ چاک کیا گیا ہے یعنی آپ ﷺ کے خلاف مکرو فریب کرنا ان کی پرانی عادت ہے۔ پہلے بھی مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی تد بیر کرتے رہے جیسا کہ میدا جنگ تبوک سے واپسی پر دس منا فق آدمی ثینتہ الواد پر آنحضرت ﷺ کو قتل کرنے کے لیے کھڑے ہوگئے تھے۔ ( کبیر)7 یعنی تمہیں ناکام کرنے کے لیے انہوں نے متعدد مرتبہ کتنی ہی تد بیر سوچیں اور…
Read the full tafseer →(9:48) ابتغوا۔ ابتغی یبتغی ابتغاء (افتعال) سے ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے تلاش کیا۔ انہوں نے چاہا۔ لقد ابتغوا الفتنۃ۔ انہوں نے فتنہ انگیزی میں کوشش کی۔ انہوں نے فتنہ بپا کرنا چاہا۔
من قیل۔ اس سے قبل یعنی جنگ احد کے موقعہ پر جب عبد اللہ بن ابی راستہ میں تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا تھا۔
قلبوا لک الامور۔ قلب یقلب ۔ قلب پلٹنا ۔ الٹنا۔ موڑ دینا۔ پھیر دینا۔ اوپر کے حصہ کو نیچے۔ نیچے کے حصہ کو اوپر۔ اندر کے حصہ کو باہر اور باہر کے حصہ کو اندر کرنا۔ ولب الارض للزراعۃ۔ زراعت کے لئے ہل پھالے سے زمین کو الٹ پلٹ کرنا۔
قلب الامر۔ معاملہ کو الٹ پلٹ کر دیکھنا اور جانچنا کہ اس کا ہر پہلو صاف ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 49
مازادوا (انہوں نے اضافہ نہ کیا) خبال (خرابی) اوضعوا (وہ دوڑتے پھرتے ہیں) خللکم (تمہارے درمیان) یبغون (وہ تلات کرتے ہیں) سمعون (بہت سننے والے، جاسوس) قلبوا (انہوں نے الٹا ہے) لاتقتنی (مشکل میں نہ ڈالے (سقطوا (وہ گر پڑے)
تشریح آیت نمبر 47 تا 49
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس غزوہ تبوک کے موقع پر جہاں وہ اہل ایمان ہیں جو اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے ہر طرح اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کی تعمیل میں سر دھڑ کی بازی لگا چکے ہیں وہیں وہ منافق بھی ہیں جو اس موقع پر عذر اور معذرت کر رہے ہیں ان ہی آیات کے تسلسل میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب انہوں نے اپنا مزاج ہی…
Read the full tafseer →جنگ تبوک میں جانے پر منافقوں کے بناوٹی حیلے اور ان کے منصوبے کا جواب اور عملوں کا ذکر : اس آیت میں بھی انہی منافقوں کا حال بیان فرمایا کہ کچھ اسی لڑائی پر موقوف نہیں ہے یہ لوگ پہلے ہی سے فتنہ و فساد برپا کرنے کی فکر میں لگے ہوئے اور یہ چاہتے ہیں کہ خدا کا دین دب جائے۔ پھر فرمایا کہ ان کی کوئی تدبیر کار آمد نہیں ہوئی۔ آخر اللہ ہی کا بول بالا رہا اور یہ ناخوش ہوتے رہے۔
Read the full tafseer →[27] اشارہ ہے جنگ احد کی طرف۔ اس موقع پر یہ لوگ راستے سے لوٹ آئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
جاسوس :
(ف 2) یعنی یہ لوگ اگر میدان جہاد میں جاتے جب بھی مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہ پہنچاتے اس وقت یہ مسلمانوں کے خلاف جاسوسی کرتے اور مخالفین سے ملے رہتے جس طرح کہ اس سے پہلے ان لوگوں نے ہمیشہ کفر کا ساتھ دیا ہے اس لئے ان کا عدم شمولیت باعث افسوس نہیں باعث مسرت ہے ۔
حل لغات :
خبالا ۔ بمعنے تباہی ، گمراہی ہلاک ورنج ، خبل بفتحتین کے معنی دیوانگی کے ہیں ۔
Read the full tafseer →48 اور ان منافقوں کا یہ طرز عمل آج کوئی نیا نہیں ہے بلکہ یہ لوگ پہلے سے فتنہ و فساد کی جستجو میں ہیں اور انہوں نے پہلے بھی فتنہ برپا کرنا چاہا تھا اور آپ کے متعلق مختلف تدابیر کی الٹ پلٹ کرتے رہے یہاں تک کہ سچا وعدہ آپہنچا اور اللہ تعالیٰ کا حکم غالب رہا اور ان کو ناگوار ہی گزرتا رہا۔ یعنی غزوئہ احد وغیرہ میں بھی یہ فتنہ برپا کرنے کی تلاش میں تھے اور آپ کو نقصان پہنچانے کی تدابیر میں تو لگے ہی رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت کا سچا وعدہ آگیا اور اس کا حکم غالب رہا۔
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی جنگ احد وغیرہ میں۔
3۔ اوپر منافقین کے احوال مشترکہ کا بیان تھا آگے کئی آیتوں میں جو لفظ منھم سے شروع ہوئی ہیں بعض کے احوال و اقوال مختصہ اور درمیان درمیان میں احوال مشترکہ بھی مذکور ہیں۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! کیا اس سے قبل یہ لوگ اس طرح کی حرکتیں نہیں کرچکے ؟
70: زیر نظر آیت میں اس گروہ منافقین کی بعض پچھلی شرارتوں کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے اور ان کے درمیان فساد کرنے کے لئے کیں۔ یعنی معاملہ کچھ اور تھا اور انہوں نے اپنی مطمع سازی اور فتنہ پردازی سے اس کو کچھ کا کچھ بنادیا۔ اس جگہ قرآن کریم نے صرف اجمالی اشارہ لیا اس لئے کہ یہ باتیں پیغمبر اسلام ﷺ اور مسلمانوں سے مخفی نہیں تھیں۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے جنگ بدر کے موقع پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی منشاء واضح ہونے کے باوجود کچھ مسلمانوں کو قافلہ تجارت پر حملہ کرنے کی راہ سمجھانے کی کوشش کی اور یہی لوگ…
Read the full tafseer →The opening sentence of the sixth verse (48): لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِن قَبْلُ (They sought disorder even earlier...) refers to what had happened in the battle of 'Uhud.
The statement وَظَهَرَ أَمْرُ اللَّـهِ وَهُمْ كَارِهُونَ (… and the will of Allah prevailed, though they disliked it) at the end of the verse indicates that victory is in the hands of Allah. This has been proved on earlier occasions when the Holy Prophet ﷺ was blessed with victory. The same will happen in this Jihad as well when all tricks played by hypocrites will fail.
Read the full tafseer →