Explained with ayahs 55–57
کثرت مال و دولت عذاب بھی ہے
ان کے مال و اولاد کو للچائی ہوئی نگاہوں سے نہ دیکھ۔ ان کی دنیا کی اس ہیرا پھیری کی کوئی حقیقت نہ گن یہ ان کے حق میں کوئی بھلی چیز نہیں یہ تو ان کے لئے دنیوی سزا بھی ہے کہ نہ اس میں سے زکوٰۃ نکلے نہ اللہ کے نام خیرات ہو۔ قتادہ کہتے ہیں یہاں مطلب مقدم موخر ہے یعنی تجھے ان کے مال و اولاد اچھے نہ لگنے چاہئیں اللہ کا ارادہ اس سے انہیں اس حیات دنیا میں ہی سزا دینے کا ہے پہلا قول حضرت حسن بصری کا ہے وہی اچھا اور قوی ہے امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ اس میں یہ ایسے پھنسے رہیں گے کہ مرتے دم تک راہ ہدایت نصیب نہیں ہوگی۔ یوں ہی بتدریج پکڑ لئے جائیں گے اور انہیں پتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
سورة التَّوْبَة 54
یعنی اس مال و اولاد کی محبت میں گرفتار ہو کر جو منافقانہ رویہ انہوں نے اختیار کیا ہے، اس کی وجہ سے مسلم سوسائٹی میں یہ انتہائی ذلیل و خوار ہو کر رہیں گے اور وہ ساری شان ریاست اور عزت و ناموری اور مشخیت و چودھراہٹ، جو اب تک عربی سوسائٹی میں ان کو حاصل رہی ہے، نئے اسلامی نظام اجتماعی میں وہ خاک میں مل جائے گی۔ ادنی ادنی غلام اور غلام زادے اور معمولی کاشتکار اور چرواہے، جنہوں نے اخلاص ایمانی کا ثبوت دیا ہے، اس نئے نظام میں باعزّت ہوں گے، اور خاندانی چودھری اپنی دنیا پرستی کی بدولت بےعزت ہو کر رہ جائیں گے۔
اس کیفیت کا ایک دلچسپ نمونہ وہ واقعہ ہے جو ایک دفعہ حضرت عمر ؓ کی مجلس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
معارف و مسائل
سابقہ آیات میں منافقین کی بداخلاقی اور بد اعمالی کا ذکر تھا، مذکورہ تمام آیات میں بھی یہی مضمون ہے(آیت) اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا، میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ منافقین کے مال و اولاد ان کے لئے نعمت نہیں عذاب ہیں، وجہ اس کی یہ ہے کہ دنیا کی محنت میں انہماک انسان کیلئے اس دنیا ہی میں ایک عذاب و مصیبت بن جاتا ہے، اول مال دنیا کے حاصل کرنے کی تمناؤں اور پھر تدبیروں میں کیسی کیسی محنت، مشقت اور کوفت جسمانی اور روحانی اٹھانی پڑتی ہے، نہ دن کا چین نہ رات کی نیند، نہ اپنے تن بدن کی خبر، نہ اہل و عیال ہی میں دل بہلانے کی فرصت، پھر اگر ذرا سا نقصان ہوگیا یا کوئی بیماری…
Read the full tafseer →مال و اولاد کی قدر و قیمت ایمان کے ساتھ ہے : جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ مال بھی بخشے اور اولاد سے بھی نوازے وہ ملت کے لیے بڑی دولت ہیں اگر ان کو ایمان و اخلاص بھی نصیب ہوجائے۔ ہر بہی خواہ ملت ایسے لوگوں کو قدر و وقعت کی نگاہوں سے دیکھتا ہے اس لیے کہ جان و مال دونوں سے اسلام کی جو خدمت ان کے امکان میں ہوتی ہے، دوسروں کے امکان میں نہیں ہوتی۔ ان منافقین میں بھی ایسے صاحب مال و اولاد موجود تھے جو اسلام کی بڑی خدمت اور آخرت میں بڑے مراتب حاصل کرسکتے تھے۔ چناچہ نبی ﷺ بھی ان کے لیے دل سے متمنی تھے کہ یہ ایمان و اخلاص سے بہرہ ور ہوں کہ اپنی ان نعمتوں کا حق ادا کر کے خدا کے ہاں مراتب عالیہ حاصل کریں لیکن…
Read the full tafseer →55۔ 1 اس لئے یہ بطور آزمائش ہے، جس طرح فرمایا ' اور کئی طرح کے لوگوں کو جو ہم نے دنیا زندگی میں آرائش کی چیزوں سے بہرہ مند کیا ہے، تاکہ ان کی آزمائش کریں کہ ہم دنیا میں ان کو مال اور بیٹوں سے مدد دیتے ہیں (تو اس سے) ان کی بھلائی میں ہم جلدی کر رہے ہیں ؟ (نہیں) بلکہ یہ سمجھتے نہیں '
55۔ 2 امام ابن کثیر اور امام ابن جریر طبری نے اس سے زکٰوۃ اور نفاق فی سبیل اللہ مراد لیا ہے۔ یعنی ان منافقین سے زکٰوۃ و صدقات تو (جو وہ مسلمان ظاہر کرنے کے لئے دیتے ہیں) دنیا میں قبول کر لئے جائیں تاکہ اسی طریقے سے ان کو مالی مار بھی دنیا میں دی جائے۔
55۔ 3 تاہم ان کی موت کفر ہی کی حالت میں آئے گی۔ اس لئے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
45: یہ آیت دنیوی مال و دولت کے بارے میں ایک بڑی عظیم حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ مال و دولت بذات خود کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے انسان اپنی زندگی کا مقصد بنائے۔ انسان کا اصل مقصد زندگی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا حصول اور آخرت کی بہتری کا سامان ہونا چاہیے۔ البتہ چونکہ دنیا میں زندہ رہنے کے لیے مال کی ضرورت ہے، اس لیے جائز ذرائع سے اس کو حاصل کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہاں بھی یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ دنیا کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی مال اپنی ذات میں کوئی فائدہ براہ راست نہیں پہنچاتا۔ بلکہ وہ راحت و آرام کے وسائل حاصل کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ لیکن جب انسان مال کو بذات خود…
Read the full tafseer →یہ منافقین اصحاب مال و اولاد تھے لیکن یہ جہاد کو ناپسند کرتے تھے اور بڑے با اثر لوگ تھے۔ لیکن اللہ کے نزدیک مال و دولت اور جاہ و شرف کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ لہذا رسول اور اہل ایمان کے نزدیک بھی مال و دولت اور جاہ و شرف کی کوئی اہمیت نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ چیزیں اللہ کے ایسے انعامات نہیں ہیں کہ وہ ان کے ذریعے مزے لوٹتے رہیں اور ان سے کوئی باز پرس نہ ہو بلکہ یہ تو ایک فتنہ اور آزمائش ہے۔ اس پر ان سے باز پرس ہوگی اور ان کو سزا ہوگی۔
مال و اولاد کبھی ایک نعمت ہوتے ہیں اور اس سے اللہ نے اپنے بندوں میں سے کسی کو نوازتے ہیں اور پھر اسے توفیق دیتے ہیں کہ وہ اس کا شکریہ ادا کرے۔ اور اپنی اس قوت کو…
Read the full tafseer →1 شبہ گزر سکتا تھا کہ جب یہ ایسے مردود ہیں تو ان کو مال و اولاد وغیرہ نعمتوں سے کیوں نوازا گیا ہے۔ اس کا جواب دیا کہ یہ نعمتیں ان کے حق میں بڑا عذاب ہیں، جس طرح ایک لذیذ اور خوشگوار غذا تندرست آدمی کی صحت و قوت کو بڑھاتی ہے اور فاسد الاخلاط مریض کو ہلاکت سے قریب تر کردیتی ہے۔ یہ ہی حال ان دنیاوی نعمتوں (مال و اولاد وغیرہ) کا سمجھو، ایک کافر کے حق میں یہ چیزیں سوئے مزاج کی وجہ سے زہرہلاہل ہیں۔ چونکہ کفار دنیا کی حرص و محبت میں غریق ہوتے ہیں، اس لیے اول اس کے جمع کرنے میں بیحد کوفت اٹھاتے ہیں۔ پھر ذرا نقصان یا صدمہ پہنچ گیا تو جس قدر محبت ان چیزوں سے ہے، اسی قدر غم سوار ہوتا ہے اور کوئی وقت اس…
Read the full tafseer →آیت 55 فَلاَ تُعْجِبْکَ اَمْوَالُہُمْ وَلآَ اَوْلاَدُہُمْ ط
ان کو دیکھ کر آپ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ مال و دولت اور اولاد کی کثرت ان کے لیے اللہ کی بڑی نعمتیں ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے ‘ بلکہ ایسے لوگوں کو تو اللہ ایسی نعمتیں اس لیے دیتا ہے کہ ان کا حساب اسی دنیا میں بےباق ہوجائے اور آخرت میں ان کے لیے کچھ نہ بچے۔ اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض اوقات دنیا کی انہی نعمتوں کو اللہ تعالیٰ انسان کے لیے باعث عذاب بنا دیتا ہے۔
اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ بِہَا فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا
اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے حالات بھی پیدا ہوسکتے ہیں کہ یہی اولاد جس کو انسان بڑے لاڈ پیار اور ارمانوں سے پال…
Read the full tafseer →59 منافقوں کو مال اور اولاد سے سزا کیسے ملی ؟ مدینہ میں جتنے منا فق تھے سب سن رسیدہ اور مالدار لوگ تھے اور منافقوں کا مطمح نظر محض دنیوی مفادات کا حصول ہوتا ہے لہذا عام مادہ پرستوں اور دنیا پرستوں کی طرح ان کے نزدیک بھی عز و جاہ کا معیار اولاد اور مال و دولت کی فراوانی تھی۔ اب انہیں مشکل یہ پیش آئی کہ ان کی اولادیں مسلمان ہوگئیں۔ جن کے نزدیک عز و جاہ کا معیار ان کے معیار سے بالکل برعکس تھا۔ جن کی نظروں میں مال اور جائیداد کی قدر و قیمت اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کے مقابلہ میں ہیچ تھی اور ان کے نزدیک عز و جاہ کا معیار یہ تھا کہ جتنا بھی کوئی اللہ کے رسول کا شیدائی اور فرمانبردار ہوگا…
Read the full tafseer →102 ۔ یعنی یہ خیال نہ گزرے کہ یہ جب مقبولین میں ہیں تو انہیں مال اور اولاد کی نعمتیں کیسے نصیب ہورہی ہیں۔ یہ سوال آج بھی کافر قوموں کی خوشحالی، کثرت آبادی، اقبال مندی کو دیکھ دیکھ بہ کثرت مسلمانوں کے دلوں میں ہوتا رہتا ہے۔ حالانکہ دنیوی نعمتوں کیلئے مقبولیت ذرا بھی شرط لازمی نہیں۔ (آیت) ” تعجبک “۔ بہ ظاہر خطاب صرف رسول اللہ ﷺ سے ہے لیکن جواب کی یہ تعلیم کل مسلمانوں کو ہے۔ ھذا الخطاب وان کان فی الظاہر مختصا بالرسول (علیہ السلام) الاان المراد منہ کل ال مومنین (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں اہل ایمان کو تنبیہ ہے کہ اہل دنیا کے مال وزینت کو مستحسن نہ سمجھیں اور کہیں ان کے باعث آخرت…
Read the full tafseer →فلا تعجبک اموالھم ولا اولادھم الخ اس مال و دولت کی محبت کی میں گرفتار ہو کر جو منافقانہ رویہ انہوں نے اپنایا ہے جیسا کہ جد بن قیس نے کہا تھا کہ جنگی خدمات سے مجھے معذور رکھئے اگر آپ چاہیں تو میں کچھ مالی مدد کے لئے حاضر ہوں، اس لئے ان آیتوں میں فرمایا کہ اے محمد ﷺ لوگوں کی مال و دولت اور کثرت اولاد کو دیکھ کر تعجب میں نہ پڑیں، یہ مال و دولت خدا کی طرف سے ایک ڈھیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ان ہی چیزوں کے ذریعہ جن کی کمائی کے لئے انہوں نے بڑی بڑی مشقتیں اور مصیبتیں اٹھائی ہیں ان پر دنیوی اور اخروی عذاب مسلط کرے گا، اس مال کی بدولت یہ لوگ ہمیشہ عذاب اور تکلیف ہی میں مبتلا رہیں گے کہ حاصل کرنے میں بھی…
Read the full tafseer →فلا تعجبک اموالھم ولا اولادھم انما یرید اللہ لیعذبھم بھا فی الحیوۃ الدنیا وتزھن انفسھم وھم کافرون۔ سو ان کے مال و اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالیں۔ اللہ کو صرف یہ منظور ہے کہ ان (دنیوی) چیزوں کی وجہ سے دنیاوی زندگی میں بھی ان کو گرفتار عذاب رکھے اور ان کی جانیں بھی کفر کی ہی حالت میں نکل جائیں۔
اعْجَابْ کا معنی ہے : کسی پسندیدہ چیز پر خوش ہونا۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے جو دولت اور اولاد عطاء کی ہے ‘ وہ پسندیدگی کے قابل نہیں ‘ یہ تو محض ایک ڈھیل ہے جو حقیقت میں وبال ہے۔ مال و اولاد دے کر تو اللہ ان کو دنیوی زندگی میں ہی گرفتار عذاب رکھنا چاہتا ہے۔ دولت جمع کرنے اور اولاد کی دیکھ بھال کیلئے یہ طرح طرح…
Read the full tafseer →(55) اے محمد ﷺ ان کے مالوں اور اولاد کی زیادیت آپ ﷺ کو تعجب میں نہ ڈالے، اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ ان کو آخرت میں عذاب دے اور حالت کفر میں ان کو موت آئے ہو جو اس نے کہا تھا کہ اپنے مال سے آپ ﷺ کی مدد کروں گا۔
Read the full tafseer →فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ : یعنی آپ ان لوگوں کے مال و دولت، اولاد اور دنیوی چمک دمک سے دھوکے میں نہ پڑیں کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہوتا تو یہ اس قدر مال دار اور صاحب اولاد کیوں ہوتے ؟ بلکہ آپ ان کی ان چیزوں کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (131) اور مومنون (55، 56)۔
اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : یعنی دنیا میں ان چیزوں کو سعادت مندی خیال مت کریں، اللہ تعالیٰ نے انھیں صرف اس لیے ڈھیل دے رکھی ہے کہ دن رات مال جمع کرنے اور اولاد کی حفاظت کی فکر میں لگے رہیں، نہ انھیں دن کا چین نصیب ہو نہ رات کا آرام۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
یعنی آپ اسے اچھانہ سمجھیں جو ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اور نہ آپ اس کی طرف مائل ہوں کیونکہ وہ استدراج ہے۔ انما یریداللہ لیعذبھم حسن نے کہا ہے : اس کا معنی ہے زکوۃ نکالنے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے ساتھ اور یہ علامہ طبری کی پسند ہے۔ اور حضرت ابن عباس اور حضرت قتادہ ؓ نے فرمایا : کلام میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اور معنی یہ ہے پس دنیوی زندگی میں ان کے مال اور ان کی اولاد تمہیں تعجب میں ڈال دیں۔ یہی چاہتا ہے اللہ تعالیٰ کہ وہ انہیں آخرت میں ان کے ساتھ عذاب دے۔ اور یہ اکثر اہل اعلربیہ کا قول ہے۔ اسے نحاس نے ذکر کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ انہیں ان تمام میں تگ و دو اور مشقت کرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
1:۔ ابن منذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلا تعجبک اموالہم ولا اولادہم انما یرید اللہ لیعذبہم بھا فی الحیوۃ الدنیا “ سے مراد ہے آخرت میں (اللہ تعالیٰ ان کو ان کی اولاد اور ان کے مالوں کے ذریعہ آخرت میں عذاب دے گا)
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انما یرید اللہ لیعذبہم بھا فی الحیوۃ الدنیا “ یعنی ان میں مصیبتوں کے ساتھ (اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دیں گے) وہ مصائب ان کے لئے عذاب اور مومنین کے لئے اجر کا باعث ہے۔
3:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلا تعجبک اموالہم ولا اولادہم “ یہ مقادیم کلام میں سے ہے۔ اللہ…
Read the full tafseer →فَلَا تُعْجِبْكَ [ تو چاہیے کہ حیرت میں نہ ڈالیں آپ کو ] اَمْوَالُهُمْ [ ان کے اموال ] وَلَآ اَوْلَادُهُمْ ۭ [ اور نہ ہی ان کی اولاد ] اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يُرِيْدُ [ چاہتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] لِيُعَذِّبَهُمْ [ کہ وہ عذاب دے ان کو ] بِهَا [ ان سے ] فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [ دنیوی زندگی میں ] وَتَزْهَقَ [ اور نکلیں ] اَنْفُسُهُمْ [ ان کی جانیں ] وَ [ اس حال میں کہ ] هُمْ [ وہ ] كٰفِرُوْنَ [ کفر کرنے والے ہوں ]
زھ ق : (ف) زھقا ۔ روح کا جسم سے نکل جانا ۔ کسی چیز کا مٹ جانا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 55 ۔ زاھق ۔ اسم الفاعل ہے ۔ جانے والا ۔ مٹنے والا۔ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ [ تو جب ہی…
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا (فَلَا تُعْجِبْکَ اَمْوَالُھُمْ وَ لَآ اَوْلَادُھُمْ ) (الآیہ) (کہ ان کے مال او اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالیں) کیونکہ یہ چیزیں مقبولیت عند اللہ کی دلیل نہیں ہیں۔ کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ یہ لوگ اللہ کے ہاں مردود ہوتے تو ان کے اموال اور اولاد میں کثرت کیوں ہوتی۔ یہ کثرت بطور استدراج ہے جو ان کے لیے باعث عذاب ہے۔ (اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ بِھَا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا) (اللہ یہی چاہتا ہے کہ دنیا میں ان چیزوں کے ذریعہ انہیں عذاب دے) پہلا عذاب تو یہ ہے کہ مال جمع کرنے میں تکلیفیں اٹھاتے ہیں، مصیبت جھیلتے ہیں اور اس میں اللہ کی رضا کا ذرا دھیان نہیں کرتے اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
بیان غیر مقبول بود صدقات ونفقات منافقین
قال اللہ تعالیٰ ٰ قل انفقوا طوعا او کرھا لن یتقبل منکم۔۔۔ الی وھم یجمحون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں جد بن قیس کے اس قول کا یعنی لاتفتننی کا جواب تھا جس میں اس نے رومی عورتوں کے فتنہ کا بہانہ بنا کر غزوہ میں جانے معذوری ظاہر کی تھی اب اس آیت میں اس کے دوسرے قول کا جواب ہے جو اس نے یہ کہا تھا کہ میں بذات خود تو جہاد میں نہیں جاسکتا لیکن روپیہ پیسہ سے اعانت کرسکتا ہوں اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ خدا تعالیٰ کے یہاں اس کا خرچ مقبول نہیں۔ قبول کے لیے ایمان اور اخلاص شرط ہے جو ان میں مفقود ہے ہے جن لوگوں کے دلوں میں ایمان نہ ہو اللہ کے یہاں ان کی عبادت قبول…
Read the full tafseer →54: ان کے مال و اولاد کی کثرت ان کے حق میں بہتر نہیں۔ یہ ان کو اس لیے دئیے گئے ہیں تاکہ ان کے ذریعے دنیا ہی میں اللہ ان کو مبتلائے عذاب کردے ان کے دلوں میں مال اور اولاد کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی ہے اس لیے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم اور جہاد وغیرہ میں ان کی اولاد کا قید ہوجانا ان کے لیے ایک دنیوی عذاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے منافقین کا رد فرمایا کہ وہ جہاد میں شریک ہونے سے گریز کرتے ہیں اور اس کے لیے حیلے بہانے بناتے ہیں اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ منافقین جو مال خرچ کرتے ہیں وہ اس لیے قبول نہیں ہوتا کہ ان میں توحید و رسالت کے متعلق کفر پایا جاتا ہے اور وہ نماز بھی صحیح طریقے سے ادا نہیں کرتے۔ نیز یہ کہ ان کی طرف سے خرچ بادل نخواستہ ہوتا ہے اور وہ اس معاملہ میں دل سے راضی نہیں ہوتے۔ بعض منافقین عذرلنگ پیش کرتے تھے اور اس بنا پر جہاد میں شمولیت سے رخصت چاہتے تھے کہ شوریدہ مزاج ہونے کی وجہ سے انہیں فتنے میں پڑجانے کا احتمال تھا البتہ انہوں نے مالی تعاون کی پیش کش کی جسے اللہ نے مسترد کردیا…
Read the full tafseer →فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُہُمْ وَلَآ اَوْلَادُہُمْ 0 ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللہُ لِيُعَذِّبَہُمْ بِہَا فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَتَزْہَقَ اَنْفُسُہُمْ وَہُمْ كٰفِرُوْنَ 55
عجب
العَجَبُ والتَّعَجُّبُ : حالةٌ تعرض للإنسان عند الجهل بسبب الشیء، ولهذا قال بعض الحکماء : العَجَبُ ما لا يُعرف سببه، ولهذا قيل : لا يصحّ علی اللہ التَّعَجُّبُ ، إذ هو علّام الغیوب لا تخفی عليه خافية . يقال : عَجِبْتُ عَجَباً ، ويقال للشیء الذي يُتَعَجَّبُ منه : عَجَبٌ ، ولما لم يعهد مثله عَجِيبٌ. قال تعالی: أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً أَنْ أَوْحَيْنا
[يونس/ 2] ، تنبيها أنهم قد عهدوا مثل ذلک قبله، وقوله : بَلْ عَجِبُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–62
ترکیب : تزھق منصوب ہے معطوف ہے یعذب پر ان مقدر ہے لویجدون شرط لولوا جواب منہم خبر مقدم ہے من یلمزک کی اذا مفاجات کے لئے ظرف زماں یہکی جگہ جواب شرط میں واقع ہے۔ ھم مبتدا ویسخطون خبر اور یہ اذا کا عامل ہے للفقراء الصدقات کی خبر والمساکین ومابعدھا اس پر معطوف اذن خبر ہے مبتداء محذوف کی ھو ویقرء بالاضافۃ والتنوین۔
تفسیر : ان کے قبائح اور دار آخرت سے محرومی کا ذکر فرما کر ان کے مال و اولاد کا انجام کار ذکر کرتا ہے کہ جس پر بیشتر دنیا داروں کو ناز و افتخار ہوتا ہے کہ اے دیکھنے والے ! تو ان کے مال و اولاد کو دیکھ کر تعجب و حیرت نہ کر۔ یہ ان کے لئے دنیا میں باعث عذاب ہوگا یا بایں معنی کہ اس کی محبت…
Read the full tafseer →فَلَا تُعْجِبْکَ اَمْوَالُھُمْ وَلَآ اَوْلَادُھُمْط اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ بِہَا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَتَزْھَقَ اَنْفُسُھُمْ وَھُمْ کٰفِرُوْنَ ( التوبۃ : 55)
(پس نہ تعجب میں ڈالیں آپ کو ان کے مال اور نہ ان کی اولاد اللہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ یہ چیزیں ان کے لیے اس دنیا کی زندگی میں موجبِ عذاب بنیں اور ان کی جانیں حالت کفر میں نکلیں۔ )
اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ سے بھی خطاب ہے اور آپ کے واسطہ سے باقی مسلمانوں سے بھی۔ آپ سے یہ فرمایا جارہا ہے کہ آپ کے دل میں جو بےپناہ اخلاص اور ہمدردی ہے ہر انسان کے لیے کہ وہ ایمان لے آئے اور اللہ کے عذاب سے بچ جائے وہ تو ظاہر ہے لیکن آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کی مزید نشانیوں کا تذکرہ جاری ہے۔
مدینہ کے منافق مال اور اولاد کے اعتبار سے بیشمار لوگوں سے زیادہ حیثیت کے مالک تھے۔ لیکن کمینے اور منافق شخص کے پاس مال کی کثرت اور افرادی قوت ہو تو وہ اپنی خباثت میں آگے ہی بڑھتا جاتا ہے۔ کیونکہ معاشرے میں جس شخص کے پاس یہ دو چیزیں وافر ہوں تو اسے کوئی ٹوکنے اور روکنے والا نہیں ہوتا۔ جس کی وجہ سے وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنے قول و فعل میں سچا ہوں۔ عوام الناس ایسے شخص سے متاثر اور مرعوب ہوجاتے ہیں اس تاثر کو ختم کرنے کے لیے نبی اکرم ﷺ کو براہ راست مخاطب کیا گیا ہے۔ تاکہ لوگوں کے سامنے منافقوں کی بےوقعتی ثابت ہوجائے۔ آپ کو حکم ہوتا ہے…
Read the full tafseer →منافقین کے لئے ان کے اموال باعث عذاب ہیں :
آیت 55: فَـلَا تُعْجِبْکَ اَمْوَالُھُمْ وَلَآ اَوْلَا دُھُمْ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ بِھَا فِی الْحَیٰـوۃِ الدُّنْیَا (پس ان کے مال اور اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالیں اللہ تعالیٰ کو صرف یہ منظور ہے کہ ان چیزوں کی وجہ سے ان کو دنیوی زندگی میں عذاب میں گرفتار رکھے) الا عجاب بالشیء۔ کسی چیز پر رضا مندی والی خوشی ہو اور اس کے حسن پر تعجب ہو۔ مطلب یہ ہے کہ۔ نمبر 1۔ ان کو جو دنیا کی زینت ملی ہے اس کو مستحسن مت قرار دو ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو جو کچھ دیا ہے اس سے ان کو مصائب کے ساتھ سزا دینا مقصود ہے۔ نمبر 2۔ یا خیر کے راستوں پر خرچ کرو اکر…
Read the full tafseer →55۔” فلا تعجبک اموالھم ولا اولادھم “ اعجاب کسی عجیب چیز کو دیکھ کر خوش ہونا ۔ یعنی آپ اس مال اور اولاد کو اچھا نہ سمجھیں جو ہم نے ان کو دیا ہے اس لیے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو ڈھیل دیتے ہیں تو اس کا مال اور اولاد زیادہ کردیتے ہیں ۔” انما یرید اللہ لیعدبھم بھا فی الحیوۃ الدنیا “ اگر یہ اعتراض ہو کہ مال اور اولاد میں کیسا عذاب ہے حالانکہ وہ لوگ تو دنیا میں اس کو بہت بڑی نعمت سمجھتے ہیں ؟ تو جواب یہ ہے کہ مجاہد اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ آیت میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اس کی اصل ہے ” فلا تعجبک اموالھم ولا اولادھم فی الحیوۃ الدنیا انما یرید اللہ لیعذبھم بھا فی الاخرۃ “ اور بعض نے کہا عذاب جو مال…
Read the full tafseer →55۔ اوپر ذکر تھا کہ جد بن قیس نے اپنی مالداری کے گھمنڈ پر یہ کہا تھا کہ اگر اس لڑائی میں کچھ خرچ کی ضرورت ہو تو میں دے سکتا ہوں اس لئے اس آیت میں فرمایا کہ یہ لوگ اگر کثرت سے مال اور اولاد رکھتے ہیں تو اے رسول اللہ کے تم اسے دیکھ کر تعجب نہ کرو یہ بھی خدا کی طرف سے ایک ڈھیل ہے کہ اللہ پاک انہیں چیزوں کے ذریعہ سے دنیا ہی میں ان پر عذاب کریگا زکوٰۃ کو یہ لوگ جرمانہ خیال کریں گے ان کو کبھی کچھ مالی نقصان پہنچ گیا تو اس کے سبب سے انہیں نہایت غم اور صدمہ ہوگا کیونکہ یہ مال ان لوگوں نے بہت جانفشانی اور مشقت سے جمع کیا ہے اس لئے جب اس مال میں کچھ نقصان کی صورت انہیں نظر آوے گی تو اس نقصان کی مصیبت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
(آیت 55)
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان منافقین کا مال اور اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالے، کیونکہ یہ کوئی قابل رشک بات نہیں۔ مال اور اولاد کی ایک ” برکت “ ان پر یہ ہوئی کہ انہوں نے اس مال اور اولاد کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی اور اس کی خاطر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا، فرمایا : (انما یرید اللہ لیعذبھم بھا فی الحیوۃ الدنیا) ” اللہ چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں ان کو عذاب دے۔ “ یہاں عذاب سے مراد وہ مشقت اور کوشش ہے جو اسے حاصل کرنے میں انہیں برداشت کرنی پڑتی ہے اور اس میں دل کی تنگی اور بدن کی مشقت ہے۔ اگر آپ اس مال کے اندر موجود ان کی لذات کا مقابلہ اس کی…
Read the full tafseer →قول باری ہے (فلا تعجبک اموالھم ولا اولادھم انما یرید اللہ لیعذبھم بھا فی الحیوٰۃ الدنیا۔ ان کے مال و دولت اور ان کی کثرت اولاد کو دیکھ کر دھوکا نہ کھائو۔ اللہ تعالیٰ تو ان چیزوں کے ذریعے ان کو دنیا ہی کی زندگی میں مبتلائے عذاب کرنے والا ہے) اس آیت کی تفسیر میں تین اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے کہ ” دنیا میں ان کے مال و دولت اور ان کی کثرت اولاد کو دیکھ کر دھوکا نہ کھائو۔ اللہ تعالیٰ تو ان چیزوں کے ذریعے ان کو دنیا ہی کی زندگی میں مبتلائے عذاب کرنے والا ہے) اس آیت کی تفسیر میں تین اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے کہ ” دنیا میں ان کے مال و دولت اور ان کی کثرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
117 اہل کفر و باطل کا مال و دولت ان کیلئے باعث عذاب و وبال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ دولت ایمان و یقین سے محروم ان لوگوں کے اموال اور ان کی اولادوں سے تم لوگوں کو تعجب میں نہیں پڑنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تو یہی چاہتا ہے کہ ان لوگوں کو انہی چیزوں کے ذریعے سزا دے۔ دنیا کی زندگی میں اور ان کی جان نکلے تو کفر ہی کی حالت میں نکلے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ اول تو یہ لوگ اس مال و دولت کے حصول میں طرح طرح کے پاپڑ بیلتے اور پریشانیاں اٹھاتے ہیں۔ پھر ان مالوں کی حفاظت اور بڑھوتری کے لئے یہ قسما قسم کے جتن کرتے ہیں۔ اور پھر اس مال و دولت کے ضیاع اور نقصان کے سلسلے میں ہمیشہ لگے رہنے والے دھڑکے کی بناء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–59
منافقوں کے فتنوں سے بچنے کی تدابیر
تشریح : ان آیات میں پہلے تو ان منافقین کا غزوہ تبوک میں شامل نہ ہونا باعث رحمت بتایا گیا ہے کیونکہ یہ لوگ اگر ساتھ چلے جاتے تو ان کا مقصد نہ تو جہاد کرنا ہوتا اور نہ ہی یہ مخلص ہوتے، اس لیے اگر یہ چلے جاتے تو صرف غلط سلط افواہوں سے مجاہدین میں بددلی، نااتفاقی اور کمزوری ہی پیدا کرنے کا کام انہوں نے کرنا تھا اور اس طرح فوج کو کمزور کرنے کا مقصد حاصل کرتے کیونکہ اگرچہ مسلمان ہوتے تو انسان ہی ہیں بعض ان کی باتوں میں آکر گھبرا بھی سکتے تھے اور ان کو اپنے خفیہ راز لاعلمی میں بتا دیتے اس لیے اچھا ہوا یہ جہاد میں ساتھ نہ گئے۔ یہ لوگ پہلے بھی اس قسم کا فساد پھیلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–59
آیات 43 تا 59
اللہ نے آپ کو معاف تو کردیا مگر آپ ﷺ نے انھیں جہاد سے رہ جانے کی اجازت ہی کیوں دی ؟ اگر آپ ایسانہ کرتے تو بھی یہ جہاد میں شامل ہونے سے تو رہے ہاں سب لوگوں پہ ان کی اصلیت کھل جاتی اور نفاق واضح ہوجاتا ۔
رشتہ قلبی کے انداز
یہاں اگر چہ بات ایک مشورے کے انداز میں ارشاد ہے کہ اگر آپ اجازت نہ دیتے تو ان کے پاس بہانہ نہ ہوتا مگر نبی اکرم ﷺ کے قلب اطہر کو جو تعلق ذات باری سے تھا وہ اس قدربات بھی برداشت نہ کرپاتا ۔ لہٰذ اسوالیہ انداز میں بات ارشاد فرمانے سے پہلے فرمایا عفا اللہ عنک اللہ نے آپ کو معاف فرمادیا کوئی نارزضگی یا خفگی کی بات نہیں مگر آپ نے ایسا کیوں کیا یہ معافی گناہ کی نہیں…
Read the full tafseer →ف 5 کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہوتا یہ اس قدر مالدار اور صاحب اولاد کیوں ہوتے۔ ( وحیدی)6 یعنی دنیا میں ان چیزوں کو سعادت مندی خیال نہ کرو یہ دن رات مال جمع کرنے اور اولاد کی فکر میں لگے رہتے ہیں گویا ایک قسم کے عذاب میں گرفتار ہیں۔ ، اس لیے آنحضرت ﷺ نے فرمایا ْ : ھلک المکئرون۔ کہ زیادہ مال جمع کرنے والے ہلاک ہوگئے۔ ( از کبیر)7 یعنی آدم آخردم تک انہیں توبہ کرنے اور سچے دل سے ایمان لانے کی توفیق نصیب نہ ہو بلکہ جب یہ مریں ٍ تو اپنے مال اور اپنی اولاد ہی کی طرف ان کا دھیان ہو نہ آخرت کی فکر نہ خدا سے کوئی غرض۔ اگرچہ ایک مومن کو بھی اپنے مال اور اولاد کی فکر ہوتی ہے مگر چونکہ اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
(9:54) کسالی۔ کسلان کی جمع۔ سست۔ کاہل۔ جیسے سکاری سکران کی جمع ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دئیے ہوئے مال کی عدم قبولت کی یہ وجوہات ہیں۔
(1) انجم کفروا باللہ وبرسلہ۔ (2) لا یاتون الصلوۃ الادھم کسالی۔ (3) لا ینفقون الادھم کرھون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
لغات القرآن آیت نمبر 53 تا 57
طوعاً (خوشی سے) کرھا (زبردستی) لن یتقبل (ہرگز قبول نہ کیا جائے گا) لایاتون (وہ نہیں آتے) کسالی (سستی کرنے والے) لاینفقون (وہ خرچ نہیں کرتے) کرھون (زبردستی) لاتعجبک (تجھے حیرت میں نہ ڈالے) تزھق (وہ نکالے) یحلفون (وہ قسم کھاتے ہیں) قوم یفرقون (وہ لوگ جو ڈرتے ہیں) یجدون (وہ پائیں گے) ملجا (ٹھکانا) مغرت (غار) مدخل (داخل ہونے کی جگہ، گھسنے کی جگہ ) یجمحون (سرکشی کرتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 53 تا 57
خطاب کا رخ ان منافقین کی طرف ہے جو جہاد میں جسم و جان کھپانے کو تیار نہ تھے البتہ دنیا دکھاوے اور اپنی لاج رکھنے کے لئے کچھ چندہ کے طور پر رقم دے کر یہ سمجھتے تھے کہ ہم نے…
Read the full tafseer →منافقین کی بری حرکتیں
اوپر ذکر تھا کہ جد بن قیس نے اپنی مالداری کے گھمنڈ پر یہ کہا تھا کہ اگر اس لڑائی میں کچھ خرچ کی ضرورت ہو تو میں دے سکتا ہوں۔ اس لئے اس ایت میں فرمایا کہ یہ لوگ اگر کثرت سے مال اور اولاد رکھتے ہیں تو اے رسول اللہ کے ! تم اسے دیکھ کر تعجب نہ کرو یہ بھی خدا کی طرف سے ایک ڈھیل ہے کہ اللہ پاک انہی چیزوں کے ذریعہ سے دنیا ہی میں ان پر عذاب کرے گا۔ زکوٰۃ کو یہ لوگ جرمانہ خیال کرنے لگے ان کو کبھی کچھ مالی نقصان پہنچے گا تو اس کے سبب سے انہیں نہایت غم اور صدمہ ہوگا، گویا ان پر عذاب ٹوٹ پڑا۔ یہی حال ان کا جانی نقصان کی صورت میں ہے کیونکہ عقبیٰ کی سزا وجزا پر ان لوگوں کا اعتقاد نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
[31] مطلب یہ ہے کہ کفار و منافقین کے مال و اولاد ان کے لئے نعمت نہیں عذاب ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ دنیا کی محبت میں انہماک ان کے لئے ایک مستقل عذاب اور مصیبت بن جاتا ہے کیونکہ اول تو مال و دولت جمع کرنے میں بیحد کوفت اٹھاتے ہیں پھر ذرا سا نقصان یا صدمہ پہنچ گیا تو جس قدر محبت ان چیزوں سے ہے اسی قدر غم ہوتا ہے حتیٰ کہ بعض اوقات دماغی توازن برقرار نہیں رہتا۔ پھر جب موت ان محبوب چیزوں سے جدا کرتی ہے اس وقت کے صدمے اور حسرت کا تو اندازہ مشکل ہے۔ غرض دنیا کے عاشق اور حریص کو کسی وقت بھی چین و آرام میسر نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
(ف 2) یعنی منافقین گو عام مسلمانوں کے ساتھ ملے رہنے کی کوشش کرتے ہیں ، مگر ان کی عبادت وقربانی مقبول نہیں ، کیونکہ دلوں میں خلوص موجود نہیں وہ چندے دیتے ہیں ، تبرعات ملیہ میں حصہ لیتے ہیں ، مگر مجبوری سے ، اللہ کی محبت سے نہیں ، دفع الوقتی یا شہرت وریا کاری کے لئے نمازیں بھی پڑھتے ہیں روحانی حظ اٹھانے کے لئے نہیں محض بوجھ سمجھ کر ، اور ثقل خیال کرکے ، اس لئے ادا کرتے ہیں کہ لوگ انہیں مسلمانوں سے الگ نہ سمجھیں ۔
اسلامی خدمات و عبادات کا تعلق کیفیت قلب سے ہے دل میں اگر خلوص وایقان کی روشنی موجود نہ ہو تو ظاہری اعمال مقبول نہیں کیا آج کل ہماری مذہبی حالت بالکل یہی نہیں ؟ ہم بھی دینی معاملات میں…
Read the full tafseer →55 رہا یہ شبہ کہ ان نافرمانوں کو دولت کیوں دی جاتی ہے اس کا جواب دیا گیا سو اے پیغمبر ﷺ ! آپ کو ان کے مال اور ان کی اولاد تعجب میں نہ ڈالیں کیونکہ اللہ کا مقصد ہی یہ ہے کہ ان چیزوں کے ذریعہ ان کافروں کو دنیا ہی کی زندگی میں مبتلائے عذاب رکھے اور ان کی جان کفر ہی کی حالت میں نکلے۔ یعنی مال حاصل کرنے میں پریشانی پھر حفاظت میں کوفت پھر مرتے وقت کی تکلیف۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یہ تعجب نہ کرو کہ بےدین کو اللہ نے نعمت کیوں دی بےدین کے حق میں اولاد اور مال و بال ہے کہ ان کے پیچھے دل پریشان ہے اور ان کی فکر سے چھوٹنے نہ پاویں مرتے دم تک تا توبہ کرے یا نیکی پکڑے۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
ف 1۔ حاصل یہ کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہیں اس مصیبت میں بھی ہمارے فائدے کی رعایت کرتے ہیں اس لیے ہم ہر حال میں فائدہ میں ہیں بخلاف تمہارے کہ تمہاری خوش حالی کا انجام بھی وبال اور نکال ہے اگر دنیا میں نہیں تو آخرت میں ضرور ہے۔
Read the full tafseer →ان لوگوں کا مال و دولت تم کو تعجب میں نہ ڈال دے وہ تو ان کے لئے باعث عذاب ہے :
77: اللہ تعالیٰ کے دین کی پیہم مخالفت کے باوجود ان کے پاس دولت کی فراوانی تھی اور اولاد کی کثرت کی وجہ سے گھروں میں بڑی چہل پہل رہتی تھی ممکن تھا کہ کوئی سادہ لوح ان کی ظاہری آن بان کو ان کے راہ راست پر ہونے کی نشانی خیال کرے اس لئے واضح فرمادئیں کہ یہ دنیوی ٹھاٹھ باٹھ ان کی بربادی کا باعث بنے گی کیونکہ وہ اس کی محبت میں یوں مدہوش رہیں گے کہ عمر بھر انہیں حق قبول کرنے کی فرصت نہ ملے گی اور اس کفر پر ان کا دم نکلے گا کیا ان سے بھی بڑھ کر کوئی بدنصیب ہو سکتا ہے۔ حق تو یہ ہے کہ ہر وہ نعمت جو یاد الٰہی سے غافل کردے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
Commentary
Recipients of Sadaqat
Objection raised by some hypocrites against the Holy Prophet s, and the answer to that, was given in verses previous to this. It will be recalled that the hypocrites had blamed the Holy Prophet ﷺ that he (God forbid) does not observe justice while disbursing Sadaqat and gives whatever he wishes to whomsoever he chooses.
In the present verse, by listing the recipients of Sadaqat categorywise, Allah Ta` ala has removed their misunderstanding and told them that He has himself determined as to who should receive Sadaqat. The Holy Prophet ﷺ only complies with the…
Read the full tafseer →