Explained with ayahs 43–45
نہ ادھر کے نہ ادھر کے
سبحان اللہ، اللہ کی اپنے محبوب سے کیسی باتیں ہو رہی ہیں ؟ سخت بات کے سنانے سے پہلے ہی معافی کا اعلان سنایا جاتا ہے اس کے بعد رخصت دینے کا عہد بھی سورة نور میں کیا جاتا ہے اور ارشاد عالی ہوتا ہے (فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 62) 24۔ النور :62) یعنی ان میں سے کوئی اگر آپ سے اپنے کسی کام اور شغل کی وجہ سے اجازت چاہے تو آپ جسے چاہیں اجازت دے سکتے ہیں۔ یہ آیت ان کے بارے میں اتری ہے جن لوگوں نے آپس میں طے کرلیا تھا کہ حضور ﷺ سے اجازت طلبی تو کریں اگر اجازت ہوجائے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
سورة التَّوْبَة 45
بعض منافقین نے بناوٹی عذرات پیش کر کے نبی ﷺ سے رخصت مانگی تھی، اور حضور ﷺ نے بھی اپنے طبعی حلم کی بنا پر یہ جاننے کے باوجود کہ وہ محض بہانے کر رہے ہیں ان کو رخصت عطا فرمادی تھی۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا اور آپ کو تنبیہ کی کہ ایسی نرمی مناسب نہیں ہے۔ رخصت دے دینے کی وجہ سے ان منافقوں کو اپنے نفاق پر پردہ ڈالنے کا موقع مل گیا۔ اگر انہیں رخصت نہ دی جاتی اور پھر یہ گھر بیٹھے رہتے تو ان کا جھوٹا دعوٰئے ایمان بےنقاب ہوجاتا۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف (تو) کردیا (لیکن) آپ نے ان کو (ایسی جلدی) اجازت کیوں دے دیتھی جب تک کہ آپ کے سامنے سچے لوگ ظاہر نہ ہوجاتے، اور (جب تک کہ) جھوٹوں کو معلوم نہ کرلیتے (تاکہ وہ خوش تو نہ ہونے پا تے، کہ ہم نے آپ کو دھوکہ دے دیا (اور) جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں وہ اپنے مال اور جان سے جہاد کرنے کے بارے میں (اس میں شریک نہ ہونے کی کبھی) آپ سے رخصت نہ مانگیں گے (بلکہ وہ حکم کے ساتھ دوڑ پڑیں گے) اور اللہ تعالیٰ ان متقیوں کو خوب جانتا ہے (ان کو اجر وثواب دے گا) البتہ وہ لوگ (جہاد میں نہ جانے کی) آپ سے رخصت مانگتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں…
Read the full tafseer →آیات 42 تا 60 کا مضمون : آگے کی آیات میں پہلے نبی ﷺ کو نہایت دلنواز انداز میں آپ کی اس نرمی پر ٹوکا ہے جو آپ بربنائے کریم النفسی منافقین کے تراشیدہ عذرات قبول کرلینے میں ظاہر فرماتے تھے۔ پھر آپ کے سامنے منافق اور مخلص کے درمیان امتیاز کے لیے ایک کسوٹی رکھ دی گئی ہے کہ سچے اور پکے مسلمان کبھی تمہارے سامنے جہاد سے معذرت پیش کرنے کے لیے نہیں آئیں گے۔ معذرت پیش کرنے کے لیے وہی آتے ہیں جن کے دلوں نفاق کا چور چھپا ہوا ہوتا ہے اور ان کے اس نفاق کے سبب سے اللہ نے ان کے لیے یہی چاہا ہے کہ وہ اس سعادت سے محروم ہی رہیں۔ پھر مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ اگر یہ منافقین جہاد کے لیے نہیں نکلے تو یہ تمہارے حق…
Read the full tafseer →43۔ 1 یہ نبی کریم ﷺ کو کہا جا رہا ہے کہ جہاد میں عدم شرکت کی اجازت مانگنے والوں کو تو نے کیوں بغیر یہ تحقیق کئے کہ اس کے پاس معقول عذر بھی ہے یا نہیں ؟ اجازت دے دی۔ اس لئے اس کوتاہی پر معافی کی وضاحت پہلے کردی گئی ہے۔ یاد رہے یہ تنبیہ اس لئے کی گئی ہے کہ اجازت دینے میں عجلت کی گئی اور پورے طور پر تحقیق کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
38: در اصل تنبیہ تو یہ کرنی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علی ہو سلم نے منافقین کو جہاد سے الگ رہنے کی اجازت کیوں دی ؟ لیکن یہ محبت بھرا انداز ملاحظہ فرمائیے کہ تنبیہ کرنے سے پہلے ہی معافی کا اعلان فرما دیا۔ کیونکہ اگر پہلے تنبیہ کی جاتی اور معافی کا اعلان بعد میں آتا تو اس درمیانی وقت میں آپ پر نہ جانے کیا کیفیت گذر جاتی۔ بہرحال ! مطلب یہ ہے کہ ان منافقین کو جہاد میں جانا تو تھا ہی نہیں۔ اور جیسا کہ آگے آیت 47 میں فرمایا گیا ہے، اللہ تعالیٰ بھی نہیں چاہتا تھا کہ یہ لشکر میں شامل ہو کر فساد مچائیں، لیکن اگر آپ انہیں جہاد سے الگ رہنے کی اجازت نہ دیتے تو یہ بات کھل کر سامنے آجاتی کہ یہ نافرمان لوگ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ اپنے رسول پر اس قدر مہربان ہے کہ عتاب سے پہلے ہی معافی کا اعلان فرماتا ہے۔ جب ان لوگوں نے جھوٹے عذرات پیش کیے تو رسول اللہ نے ان کے عذرات قبول کرلیے اور ایسے لوگوں نے ان عذرات کی اوٹ میں اپنے آپ کو چھپایا۔ حجور نے ان لوگوں کے عذرات کو اس لیے قبول کرلیا تھا کہ اس وقت سچے اور جھوٹے عذرات کی تحقیقات کا موعہ نہ تھا اور یہ بھی ممکن تھا کہ بعض لوگ لشکر سے بلا کسی عذر کے پیچھے رہ جائیں اور اس طرح ان کی حقیقت کھل جائے اور ان کے لیے اذن رسول کا بہانہ بھی نہ رہے۔
Read the full tafseer →6 منافقین جھوٹے عذر کر کے جب مدینہ میں ٹھہرے رہنے کی اجازت طلب کرتے تو آپ ان کے کید و نفاق سے اغماض کر کے اور یہ سمجھ کر کہ ان کے ساتھ چلنے میں فساد کے سوا کوئی بہتری نہیں اجازت دیتے تھے اس کو فرمایا کہ اگر آپ اجازت نہ دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ کیونکہ اس وقت ظاہر ہوجاتا کہ انہوں نے اپنے نہ جانے کو کچھ آپ کی اجازت پر موقوف نہیں رکھا ہے جانے کی توفیق تو انہیں کسی حال نہ ہوتی۔ البتہ آپ کے روبرو ان کا جھوٹ سچ کھل جاتا۔ پس اجازت دینا کوئی گناہ نہ تھا، البتہ نہ دینا مصالح حاضرہ کے اعتبار سے زیادہ موزوں ہوتا۔ اس اعلیٰ و اکمل صورت کے ترک کی وجہ سے خطاب کو " عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ " سے شروع فرمایا۔ عفو…
Read the full tafseer →آیت 43 عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ ج لِمَ اَذِنْتَ لَہُمْ
یعنی آپ ﷺ کے پاس کوئی منافق آیا اور اپنی کسی مجبوری کا بہانہ بنا کر جہاد سے رخصت چاہی تو آپ ﷺ نے اپنی نرم مزاجی کی وجہ سے اسے اجازت دے دی۔ اب اس شخص کو تو گویا سند مل گئی کہ میں نے حضور ﷺ سے رخصت لی ہے۔ جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ تو اس کا تھا ہی نہیں ‘ مگر اجازت مل جانے سے اس کی منافقت کا پردہ چاک نہیں ہوا۔ اجازت نہ ملتی تو واضح طور پر معلوم ہوجاتا کہ اس نے حضور ﷺ کے حکم کی نافرمانی کی ہے۔ اس طرح کئی منافقین آئے اور اپنی مجبوریوں کا بہانہ بنا کر آپ ﷺ سے رخصت لے گئے۔
Read the full tafseer →47 آپ پر عتاب سے پہلے معافی کا اعلان :۔ اس موقع پر منافقوں نے یہ روش اختیار کی کہ جھوٹے حیلے تراش کر آپ سے مدینہ میں رہ جانے کی اجازت طلب کرتے تھے اور آپ بھی کسی حد تک یہ جاننے کے باوجود کہ ان کی یہ معذرت حقیقی نہیں بلکہ عذر لنگ ہے اپنی نرم طبع کی بنا پر انہیں اجازت دے دیتے تھے جبکہ اللہ کو یہ بات پسند نہ تھی۔ اللہ کو یہ منظور تھا کہ ان منافقوں کا خبث باطن اور مکر کھل کر سب کے سامنے آجائے۔ جہاد پر روانہ ہونے کی ہمت اور ارادہ تو وہ سرے سے رکھتے ہی نہ تھے پھر یہ اس اجازت کا سہارا کیوں لیں۔ کیوں نہ ننگے ہو کر سامنے آئیں۔ اس صورت حال پر اللہ کا عتاب ہوا مگر ساتھ ہی اللہ نے اپنے حبیب پر کمال عنایت…
Read the full tafseer →84 ۔ ذکر ان منافقین کا ہے، جو رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے کر وطن میں رہ گئے تھے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی اجازت ملنے پر ان لوگوں کو جو گونہ بےفکری ہوگئی، یہ نہ ہوتی، بلکہ اگر آپ ﷺ کے بغیر اجازت یہ رہ جاتے تو ان کی خباثت اور زیادہ کھل کر رہتی (آیت) ” الذین صدقوا “۔ سے مراد مومنین صادقین ہیں جن کے پاس واقعی کوئی عذر تھا۔ (آیت) ” لم اذنت لھم “۔ اجازت سے مراد ہے جنگ میں شریک نہ ہونے اور وطن میں رہ جانے کی اجازت۔ یہ اجازت دے دینا کوئی معصیت نہ تھی، البتہ حالات وقت کے لحاظ سے اجازت نہ دنیا بہتر تھا۔ (آیت) ” عفا اللہ عنک “۔ لفظ عفو سے گناہ کا سرزد ہوچکنا لازم نہیں آتا۔ عفو جس طرح گناہ اور جرم کئے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 43 تا 59
ترجمہ : آپ ﷺ نے اپنے اجتہاد سے ایک جماعت کو جہاد (غزوہ تبوک) میں شریک نہ ہونے کی اجازت دے دی تھی تو اظہار ناراضگی کے طور پر (آئندہ آیت) نازل ہوئی، اور آپ کے اطمینان قلبی کے لئے معافی کو پہلے ہی بیان کردیا، (اے نبی) اللہ تمہیں معاف کرے، تم نے ان کو عدم شرکت کی کیوں اجازت دے دی ؟ اور آپ نے ان کو کیوں نہ اپنی حالت پر چھوڑ دیا ؟ تاکہ آپ پر کھل جاتا کہ کون لوگ عذر میں سچے ہیں ؟ اور عذر کے معاملہ میں جھوٹوں کو بھی جان لیتے جو لوگ اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو آپ سے کبھی یہ درخواست نہ کریں گے کہ انہیں اپنے جان ومال کے ساتھ جہاد کرنے سے معاف رکھا جائے اللہ متقیوں کو…
Read the full tafseer →عفا اللہ عنک لم اذنت لھم سفیان بن عیینہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ پر مہربانی فرمانے اور عزت بخشنے کیلئے اظہار قصور سے پہلے اعلان عفو فرما دیا (یعنی قصور کا اظہار لِمَ اَذِنْتَمیں کیا اور لِمَ اَذِنْتَسے پہلے عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ فرما دیا) میں کہتا ہوں : اگر اظہار عتاب پہلے کیا جاتا تو رسول اللہ ﷺ کے وفات پا جانے کا اندیشہ تھا کیونکہ اللہ کا خوف اور اس سے خثیہ رسول اللہ ﷺ کو انتہائی درجہ کا تھا ‘ اس اندیشہ سے بچاؤ کیلئے اظہار عفو پہلے کردیا) ۔
بعض نے کہا : یہ کلمہ (یعنی عفا اللّٰہُ عَنْکَ ) دعائیہ ہے (خبر نہیں ہے) جیسے کسی کی نظر میں اپنے کسی دوست کی عزت ہو تو وہ اپنے دوست سے کہتا ہے : اللہ تجھے…
Read the full tafseer →(43) اے نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف کردیا، لیکن آپ نے ان منافقین کو شرکت نہ کرنے کی اتنی جلدی کیوں اجازت دے دی، جب تک کہ آپ کے ساتھ نکل کر ایمان والوں کی سچائی ظاہر نہ ہوجاتی، اور آپ ﷺ جھوٹے لوگوں کے ایمان کو معلوم کرلیتے کہ وہ بغیر آپ ﷺ کی اجازت کے جہاد رہ گئے۔
شان نزول : (آیت) ”عفا اللہ عنک“۔ (الخ)
ابن جریر ؒ نے عمر بن میمون ازدی سے روایت کیا ہے کہ دو باتیں رسول اکرم ﷺ نے ایسی کیں جن میں اللہ کی طرف سے اس وقت تک کوئی صاف حکم نہیں دیا گیا تھا ایک تو منافقین کو عدم شرکت کی اجازت دے دی اور دوسری غزوہ بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے لیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی اللہ…
Read the full tafseer →عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ : ہوا یہ کہ جب نبی ﷺ تبوک کی طرف روانہ ہونے لگے تو بعض منافقین نے بناوٹی حیلے بہانے پیش کرکے آپ ﷺ سے مدینہ ہی میں رہنے کی اجازت چاہی، حالانکہ انھوں نے طے کر رکھا تھا کہ اجازت نہ ملی پھر بھی نہیں جائیں گے۔ اب ان کی آزمائش کے لیے انھیں اجازت دینے سے اس وقت تک گریز کرنا چاہیے تھا جب تک واضح نہ ہوجاتا کہ کس کا عذر حقیقی ہے اور کون بہانے باز ہے، مگر آپ ﷺ نے ان کی حقیقت کھلنے سے پہلے ہی انھیں مدینہ میں رہنے کی اجازت دے دی۔ اس اجازت دینے پر اللہ تعالیٰ نے اپنے ناراض ہونے کا اظہار فرمایا، مگر نہایت لطف و کرم اور مہربانی کے ساتھ کہ اس اظہار سے پہلے معاف کردینے کی اطلاع دی اور پھر…
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : عفا اللہ عنک لم اذنت لھم کہا گیا ہے کہ یہ افتتاح کلام ہے ‘ جیسے آپ کہتے ہیں : أصلحک اللہ وأعزک ورحمک (اللہ تعالیٰ نے تیری اصلاح فرمادی ‘ تجھے عطا فرمادی اور تجھ پر رحم فرمایا) یہ بھی اسی طرح کا جملہ ہے۔ اس تاویل کی بنا پر اس قول عفا اللہ عنک پر وقف کرنا اچھا ہے۔ اسے مکی ‘ مہدوی اور نحاس نے بیان کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ذنب سے قبل عفو کو خبر دی ہے تاکہ آپ کا قلب اطہر کسی خوف و اضطراب میں واقع نہ ہو۔ اور یہ کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے آپ سے در گزر فرمایا ہے آپ کے اس ذنب کے بارے میں جو آپ کے انہیں اجازت دینے کی صدور میں صادر ہوا۔ تو اس تقدیر پر وقف کرنا اچھا…
Read the full tafseer →1:۔ عبدالرزاق (رح) نے مصنف میں وابن جریر نے عمرو بن میمون اودی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے دو کام ایسے کئے کہ ان کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ منافقین کو اجازت دینا اور قیدیوں سے فدیہ لینا (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” عفا اللہ عنک لم اذنت لہم “
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے عورق عجلی (رح) سے روایت کیا کہ تم نے ایسا حسین اور اچھی سرزنش کہیں سنی ہے کہ سرزنش کرنے پہلجے میں عفو درگزر سے آغاز فرمایا اور ارشاد فرمایا (آیت) ” عفا اللہ عنک لم اذنت لہم “
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” عفا اللہ عنک لم اذنت لہم “ کے…
Read the full tafseer →عَفَا [ درگزر کیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] عَنْكَ ۚ [ آپ سے ] لِمَ [ کیوں ] اَذِنْتَ [ آپ نے اجازت دی ] لَهُمْ [ انھیں ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] يَتَبَيَّنَ [ واضح ہوجاتے ] لَكَ [ آپ کے لیے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] صَدَقُوْا [ سچ کہا ] وَتَعْلَمَ [ اور آپ جان لیتے ] الْكٰذِبِيْنَ [ جھوٹوں کو ]
Read the full tafseer →منافقین جھوٹے عذر پیش کر کے غزوۂ تبوک میں شرکت سے رہ گئے
منافقین نے تبوک نہ جانے کا فیصلہ کر ہی لیا تھا لیکن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عذر پیش کر کے شریک نہ ہونے کی اجازت لیتے رہے آپ نے اجازت دے دی۔ اس اجازت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہوا۔ لیکن عتاب میں میں بھی ایک لطف ہے، اول یوں فرمایا (عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ ) (یعنی اللہ نے آپ کو معاف فرما دیا) اس کے بعد عتاب فرمایا، اور یوں فرمایا کہ آپ نے لوگوں کو اجازت کیوں دی، یہ موقعہ سچوں اور جھوٹوں کے جاننے کا تھا آپ اجازت دینے میں جلدی نہ فرماتے تو معلوم ہوجاتا کہ سچا عذر پیش کرنے والے کون ہیں اور جھوٹے کون ہیں۔
حضرت عمرو بن میمون نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–48
بیان احوال واقوال منافقین متخلفین
قال اللہ تعالیٰ ۔ لو کان عرضا قریبا۔۔۔ الی۔۔۔ وظہر امر اللہ وھم کرھون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اس غزوہ کے متعلق مومنین کو خطاب تھا اب آگے منافقین کے احوال واقوال کا بیان ہے کہ وہ آں حضرت ﷺ کے ہمراہ جانے سے حیلے اور بہانے ڈھونڈتے تھے اور چاہتے تھے کہ کسی طرح جہاد میں جانا نہ پڑے اخیر سورت تک زیادہ تر منافقین ہی کے اقوال کا ذکر ہے کہ باوجود عذر نہ ہونے کے نفاق کے سبب غزوہ میں شریک نہیں ہونا چاہتے تھے اور اس درمیاں میں کسی مناسبت کی بنا پر دوسرے مضامین کا بھی ذکر آگیا۔ چناچہ فرماتے ہیں اگر ہوتی وہ چیز جس کی طرف آپ نے ان کو بلایا نفع قریب الحصول یعنی سہل الحصول…
Read the full tafseer →42: جہاد کیلئے جانے سے پہلے بعض منافقین نے جھوٹے بہانوں سے جہاد میں شریک نہ ہونے کی حضور ﷺ سے اجازت مانگی آپ نے ان کے بہانے صحیح مان لیے اور ان کو اجازت دیدی حالانکہ ان کے تمام بہانے جھوٹے تھے اور انہوں نے طے کرلیا تھا کہ جہاد میں نہ جانے کی اجات مانگو اگر اجازت دے دیں تو بہتر اور اگر اجازت نہ دیں تب بھی جہاد میں شرکت مت کرو۔حضور ﷺ کے اجازت دے دینے سے ان کی بدنیتی اور منافقت پر پردہ پڑگیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف عتاب فرمایا کہ ہم نے آپ کی یہ لغزش معاف تو کردی مگر آپ نے ان کو تخلف کی اجازت کیوں دی ؟ آپ ان کو اجازت نہ دیتے تو روانگی کے وقت ان کے جھوٹ کا پول کھل جاتا اور آپ کو معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
ربط آیات :
یہ غزوہ تبوک ہی کا سلسلہ جاری ہے۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے جہاد کی ترغیب دی اور پھر اہل ایمان کو خبردار کیا کہ وہ اس معامالہ میں سستی نہ دکھائیں بلکہ ہر حالت میں جہاد میں شریک ہوں۔ پھر جہاد کی حکمت بھی بیان فرمائی کہ اس سے مقصود اللہ کے کلمے کی بلندی ہے ایمان والوں کو اسی وجہ سے عزت نصیب ہوتی ہے۔ اگر ایمان والے آگے نہیں بڑھیں گے تو اللہ تعالیٰ دین کا کام کسی اور جماعت سے لے لیگا اور یہ چیز پیچھے رہ جانے والوں کے لیے تذلیل کا باعث ہوگی۔ پھر اللہ نے منافقین کا حال بیان کیا کہ جہاں انہیں کوئی مفاد نظر آتا ہے وہاں حضور ﷺ کے ساتھ چل نکلتے ہیں اور جہاں کوئی مشقت طلب کام ہوتا ہے وہاں جانے سے…
Read the full tafseer →عَفَا اللہُ عَنْكَ 0 ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَہُمْ حَتّٰي يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَتَعْلَمَ الْكٰذِبِيْنَ 43
عفو
فالعَفْوُ : هو التّجافي عن الذّنب . قال تعالی: فَمَنْ عَفا وَأَصْلَحَ [ الشوری/ 40] وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوى [ البقرة/ 237]
( عو ) عفوت عنہ کے معنی ہیں میں نے اس سے درگزر کرتے ہوئے اس کا گناہ متادینے کا قصد کیا ز لہذا یہاں اصل میں اس کا مفعول ترک کردیا گیا ہے اور عن کا متعلق مخذوف ہی یا قصدت ازالتہ ذنبہ سار فا عنہ پس عفو کے معنی گناہ سے درگزر کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ فَمَنْ عَفا وَأَصْلَحَ [ الشوری/ 40] مگر جو درگزر کرے اور معاملہ کو درست کرلے وَأَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
ترکیب : خفافًا و ثقالاً حال ہیں ضمیر فاعل انفروا سے لوکان کا اسم محذوف ای مادعوتھم الیہ عرضا خبر جملہ شرط لاتبعوک جواب حتی متعلق ہے محذوف سے ای بلا اخرتھم الی ان یتبین والباقی واضح۔
تفسیر : آخر آنحضرت ﷺ کے پاس تیس ہزار لشکر جمع ہوگیا۔ بعض کہتے ہیں ستر ہزار تو پنجشنبہ کے دن رجب کے مہینے میں نویں سال آپ نے کوچ کیا۔ ادھر منافق ہیں کہ ہر منزل سے اجازت لیتے اور بہانے بناتے اور پیچھے رہے جاتے ہیں۔ بہت نے مدینہ ہی میں عذر کرنے شروع کر کردیے۔ ہزاروں جھوٹی قسمیں کھانی شروع کیں کہ ہمیں یہ عذر ہے ٗ یہ ضرورت ہے۔ ہم کو چلنے کی طاقت نہیں ٗبخدا اگر طاقت ہوتی
تو ہم بھی آپ کے ساتھ چلتے۔ ان آیات میں خدا تعالیٰ…
Read the full tafseer →عَفَااللّٰہُ عَنْکَ ج لِمَ اَذِنْتَ لَہُمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَتَعْلَمَ الْکٰذِبِیْنَ
(التوبۃ : 43)
(اللہ نے آپ کو معاف کیا، آپ نے ان کو اجازت کیوں دی ؟ یہاں تک کہ کھل جاتے آپ پر وہ لوگ جو سچے ہیں اور آپ جھوٹوں کو بھی جان لیتے۔ )
پروردگار کا دلنواز عتاب
جنگ تبوک کے لیے جب نکلنے کا وقت آیاتو منافقین چونکہ اپنی داخلی کمزوریوں کے باعث اس جنگ میں نکلنے کا حوصلہ نہیں رکھتے تھے۔ انھوں نے نبی کریم ﷺ کے پاس آکر جھوٹے عذرات پیش کرکے جنگ سے غیر حاضری اور اپنے گھر میں بیٹھ رہنے کی اجازت طلب کی۔ آنحضرت ﷺ اگرچہ ان کے نفاق سے واقف تھے، آپ یہ بھی جانتے تھے کہ ان کے عذرات سراسر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کا کردار پیش کیا جا رہا ہے۔ منافق کی چکنی چپڑی باتوں میں آنے کے بجائے اسے اچھی طرح جاننا اور پرکھنا چاہیے۔
رسول رحمت ﷺ نے اپنے حلم اور بردباری کی بناء پر منافقین کو غزوۂ تبوک سے پیچھے رہنے کی اجازت دی لیکن وقت آچکا تھا کہ انھیں بالکل آشکار کردیا جائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت شفقت و مہربانی کے لہجے کے ساتھ آپ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اے نبی ! اللہ آپ کو معاف کرے جس کا دوسرا مطلب ہے کہ اللہ نے آپ کو معاف کردیا ہے۔ منافقین کو
اس وقت تک اجازت نہیں دینا چاہیے تھی جب تک کھرے اور کھوٹے، سچے اور جھوٹے کا فرق نمایاں نہ ہوجاتا۔ آپ کے اجازت دینے کی وجہ سے منافقین آپس…
Read the full tafseer →لطیف عتاب :
آیت 43: عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ (اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف کردیا) یہ لغزش سے کنایہ ہے کیونکہ عفو اس کے بعد لائے۔ اور یہ لطیف عتاب ہے۔ خطاب میں عفو کو صدر کلام میں لائے۔ اس میں آپ ﷺ کی تمام انبیاء (علیہم السلام) پر فضیلت ظاہر ہوتی ہے اس لئے کہ اور کسی پیغمبر کے لئے اس طرح مذکور نہیں۔
آپ ان کو اجازت نہ دیتے تاکہ ان کا سچ جھوٹ سامنے آتا :
لِمَ اَذِنْتَ لَھُمْ (آپ نے ان کو اجازت کیوں دیدی تھی) یہ اس کا بیان ہے جس کو عفو کے ساتھ کنایۃً ذکر کیا گیا تھا۔ مطلب یہ ہے آپ کو کیا ہوا کہ آپ نے ان کو غزوہ سے بیٹھ رہنے کی اجازت دیدی جبکہ وہ آپ سے اجازت طلب کرنے آئے اور آپ کے سامنے اپنے بہانے پیش…
Read the full tafseer →43۔” عفا اللہ عنک “ عمرو بن میمون (رح) فرماتے ہیں کہ وہ کام ایسے ہیں جو آپ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کیے ہیں (1) منافقین کو اجازت دینا (2) بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینا تو اللہ تعالیٰ نے دونوں جگہ عتاب فرمایا ۔ سفیان بن عینیہ (رح) فرماتے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کی اس مہربانی اور لطف کو تو دیکھو کہ ابتداء معافی سے کی ہے پھر عار دلائی ہے اور بعض نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کی عزت کی ہے اور آپ (علیہ السلام) کا مقام بلند کیا ہے اور بعض نے کہا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے لیے دائمی عفو کریں۔” لم اذنت لھم “ پیچھے رہ جانے کی ” حتیٰ یتبین لک الذین صدقوا “ اپنے عذروں میں…
Read the full tafseer →43۔ جس طرح بدر کے قیدیوں سے وحی کے نازل ہونے سے پہلے آنحضرت نے فدیہ لے لیا اور اس پر اللہ تعالیٰ کی خفگی کا حکم آیا اسی طرح تبوک کی لڑائی کے وقت جن منافقوں نے بناوٹ کے عذر آنحضرت کے روبرو پیش کئے اور آپ نے ان لوگون کو مدینہ میں رہ جانے کی روانگی دے دی اس پر خفگی کا حکم نازل ہوا مگر یہ خفگی کا حکم ایسا پیار کا ہے کہ جس میں خفگی سے پہلے معافی کا ذکر ہے خفگی کا حاصل یہ ہے کہ پر وگنگی میں اس قدر جلدی نہ کرنی تھی بلکہ ذرا عذروں کی دریافت کرنی تھی تاکہ ملعوم ہوجاتا کہ کس کس کے عذر سچے ہیں اور کس کس کے بناوٹی بعضے مفسروں نے اس آیت کی سورت نور کی آیت فاذن لمن شئت منھم (25: 62) سے منسوخ کہا ہے لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
آیت 43
(عفا اللہ عنک) ” اللہ نے آپ سے درگزر فرمایا “ اور آپ سے جو کچھ صادر ہوا اسے بخش دیا۔ (لم اذنت لھم) ” آپ نے (انہیں پیچھے رہ جانے کی) اجازت کیوں دی۔ “ (حتی یتبین لک الذین صدقوا و تعلم الکذبین) ” حتی کہ آپ پر وہ لوگ ظاہر ہوجاتے جو سچے ہیں اور وہ بھی آپ کو معلوم ہوجاتے جو جھوٹے ہیں۔ “ یعنی ان کو آزمانے کے بعد معلوم ہوتا کہ سچا کون اور جھوٹن کون ہے، تب آپ اس شخص کا عذر قبول فرماتے جو اس کا مستحق ہے اور اس شخص کا عذر قبول نہ فرماتے جو اس کا مستق نہیں۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے اپنے جان و مال کے ذریعے سے جہاد ترک کرنے کی اجازت طلب نہیں کرتے،…
Read the full tafseer →عفا اللہ کے معانی
قول باری ہے (عفا اللہ عنک لم اذنت لھم حتی یتبین لک الذین صدقوا وتعلم الکاذبین۔ اے نبی ﷺ ! اللہ تمہیں معاف کرے، تم نے کیوں انہیں رخصت دے دی ؟ (تمہیں چاہیے کہ خود رخصت نہ دیتے) تاکہ تم پر کھل جاتا کہ کون لوگ سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی تم جان لیتے) عضو کے کئی معانی ہیں۔ تسہیل و توسعہ کو بیھ عفو کہتے ہیں جس طرح حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے (اول الوقت رضوان اللہ واخرہ عفو اللہ۔ اول وقت میں نماز کی ادائیگی سے اللہ کی رضامندی اور خوشنودی حاصل ہوتی ہے اور آخر وقت کی ادائیگی میں اللہ کی طرف سے گنجائش اور وسعت ہوتی ہے) عفو ترک کے معنوں میں بھی آتا ہے جس طرح آپ ﷺ کا ارشاد ہے (احفوا الشوارب…
Read the full tafseer →98 پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل : سو آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ نے اے پیغمبر ان لوگوں کو کیوں اجازت دی یہاں تک کہ کھل کر آپ کے سامنے آجاتے وہ لوگ جو سچے ہیں اور آپ جان لیتے ان کو جو چھوٹے ہیں۔ یہ اس موقع سے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے جب کہ آنحضرت ﷺ نے کچھ منافقوں کو ان کے ان حیلوں بہانوں کی بنا پر پیچھے رہ جانے کی اجازت دے دی تھی جو کہ اصل میں جھوٹے اور بےبنیاد حیلے بہانے تھے۔ سو اس پر آنحضرت ﷺ سے اس طرح پرسش فرمائی جاتی ہے مگر لطف و کرم کی شان خاص ملاحظہ ہو کہ { عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ } کا مژدہ آغاز ہی میں سنا دیا گیا۔ بہرکیف اس سے یہ امر صاف اور واضح ہوگیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
منافقوں کی پہچان اور بہانے
تشریح : ان آیات میں منافقین کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر سفر تھوڑا اور مال غنیمت کی امید ہوتی تو یہ لوگ ضرور آپ کے ساتھ چل پڑتے۔ مگر غزوئہ تبوک مسافت، موسم کی گرمی اور ہرقل جیسی بڑی طاقت کا مقابلہ تھا جو کہ مسلمانوں کے لیے بڑی آزمائش کا وقت تھا۔ ویسے بھی جہاد منافقین کی پہچان کا بہت بڑا ذریعہ ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ یہاں یہ لوگ آپ سے اجازت لینے کے لیے بڑے بہانے کریں گے اور اس طرح یہ صرف اپنا ہی نقصان کریں گے۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔ پھر اللہ فرماتا ہے کہ آپ نے ان کو ابھی رخصت کی اجازت نہیں دینی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–59
آیات 43 تا 59
اللہ نے آپ کو معاف تو کردیا مگر آپ ﷺ نے انھیں جہاد سے رہ جانے کی اجازت ہی کیوں دی ؟ اگر آپ ایسانہ کرتے تو بھی یہ جہاد میں شامل ہونے سے تو رہے ہاں سب لوگوں پہ ان کی اصلیت کھل جاتی اور نفاق واضح ہوجاتا ۔
رشتہ قلبی کے انداز
یہاں اگر چہ بات ایک مشورے کے انداز میں ارشاد ہے کہ اگر آپ اجازت نہ دیتے تو ان کے پاس بہانہ نہ ہوتا مگر نبی اکرم ﷺ کے قلب اطہر کو جو تعلق ذات باری سے تھا وہ اس قدربات بھی برداشت نہ کرپاتا ۔ لہٰذ اسوالیہ انداز میں بات ارشاد فرمانے سے پہلے فرمایا عفا اللہ عنک اللہ نے آپ کو معاف فرمادیا کوئی نارزضگی یا خفگی کی بات نہیں مگر آپ نے ایسا کیوں کیا یہ معافی گناہ کی نہیں…
Read the full tafseer →ف 4 ہو ایہ کہ جب نبی ﷺ تبوک کی طرف روانہ ہونے لگے تو بعض منافیقن نے بناوٹی حیلے بہانے پیش کر کے آپ ﷺ سے مدینہ ہی میں رہنے کی اجازت چاہی۔ آپ ﷺ نے انہیں سچا سمجھتے ہوئے مدینہ میں رہنے کی اجازت دے دی، اس اجازت دینے پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ناراضگی کا اظہار فرمایا لیکن نہایت لطف و کرم کے اند از میں یعنی پہلے معافی کی اطلاع دی اور پھر قصور بیان فرمایا۔ اس میں پیچھے بیٹھنے رہنے والوں کی مذمت بھی ہے۔ ( قر طبی۔ ابن کثیر) یہاں تو اجازت پر عتاب فرمایا ہے مگر سورة نو رکی آیت فاذن لمن شئت ( کہ آپ ﷺ جسے چاہیں اجازت دے سکتے ہیں) میں اجازت کی رخصت دے دی ہے۔ ( کبیر) بعض نے لکھا ہے کہ عفا اللہ عنک تعظیما برائے…
Read the full tafseer →(9:43) عرضا۔ روبرولانا۔ پیش کرنا۔ پیش افتادہ سامان۔ سامنے رکھا ہوا مال و متاع ۔ یہاں عرضا قریبا بمعنی سہل الحصول مال ہے
سفرا قاصدا۔ قریبی سفر۔ قصد سے جس کا معنی ہے وسطی راستہ پر چلنا۔ القصد بعضی المعتدل۔
لا تبعوک۔ لام تاکید۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ وہ ضرور تیری اتباع کرتے ۔ تیرے پیچھے چلتے۔
شقۃ۔ مسافت۔ بقول راغب وہ منزل مقصود جس تک بہ مشقت پہنچا جائے۔ بعدت علیہم الشقۃ۔ مسافت ان کو دور دراز نظر آئی۔ کٹھن سفر ان کو بہت دور کا سفر نظر آیا۔ سیحلفون باللہ۔ اللہ کی قسمیں کھا کھا کر (کہیں گے)
لواستطعنا۔ اگر ہمیں استطاعت ہوتی۔ اگر ہمیں طاقت ہوتی۔
(9:43) عفا اللہ عنک۔ (اے محمد) تجھے اللہ بخشے۔ اللہ تجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 46
عرض (اسباب، مال غنیمت) سفر قاصد (آرام والا سفر) ، لاتبعوک (البتہ وہ آپ کے پیچھے چل پڑتے) بعدت (دور لگا) الشقۃ (فاصلہ، حصہ) استطعنا (ہماری استطاعت ہوتی) عفا اللہ (اللہ نے معاف کردیا ) لم اذنت (آپ نے کیوں اجازت دی ؟ ) حتی یتبین (جب تک واضح نہ ہوجاتا) صدقوا (جنہوں نے سچ کہا) لا یستاذنو (وہ اجازت نہیں مانگتے ) ارتابت (شک کیا) ریب (شک) یترددون (وہ بھٹک رہے ہیں) لاعدوا (البتہ وہ تیاری کرتے) کرہ اللہ (اللہ نے پسند نہیں کیا) انبعاث (اٹھنا) ثبط (ہم نے جما دیا، روک دیا) افعدوا (بیٹھے رہو)
تشریح آیت نمبر 42 تا 46
تاریخ گواہ ہے کہ جب جنگیں لڑی جاتی ہیں تو ان میں موسم، وسائل،…
Read the full tafseer →جس طرح بدر کے قیدیوں سے وحی نازل ہونے سے پہلے آنحضرت ﷺ نے فدیہ لے لیا اور اس پر اللہ تعالیٰ کی خفگی کا حکم آیا تھا۔ اسی طرح تبوک کی لڑائی کے وقت جن منافقوں نے بناوٹ کے عذر آنحضرت ﷺ کے روبرو پیش کئے اور آپ نے ان لوگوں کو مدینہ میں رہ جانے کی اجازت دے دی۔ اس پر خفگی کا حکم نازل ہوا مگر یہ خفگی کا حکم ایسا پیار کا ہے کہ جس میں خفگی سے پہلے معافی کا ذکر ہے۔ خفگی کا حاصل یہ ہے کہ اجازت دینے میں اس قدر جلدی نہیں کرنی تھی بلکہ ذرا عذروں کو دریافت کرنا تھا تاکہ معلوم ہوجاتا کہ کس کس کے عذر سچے ہیں، اور کس کس کے بناوٹی عذر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–47
[26] یعنی خوشی یا گرانی سے، سرو سامان کے ساتھ یا بےسروسامانی سے، حالات خواہ موافق ہوں یا ناموافق، جب نکلنے کا حکم ہوچکا تو جس حال میں ہو نکل کھڑے ہو۔ یہ آیت اس باب میں قطعی ہے کہ دفاع کے لئے جب امام بلائے تو بجزان معذوروں کے جنہیں آگے چل کر آیت 91 میں مستثنیٰ کردیا ہے ہر شخص پر واجب ہوجاتا ہے کہ جان و مال سے شریک جہاد ہو اور اس بارے میں کسی عذر کی گنجائش نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
(ف 2) مقصد یہ ہے کہ متخلفین کو اجازت دینے میں آپ سے تسامح ہوا ہے ، چاہئے یہ تھا کہ چندے انتظار فرما لیتے اور دیکھ لیتے کہ اللہ تعالیٰ ان کے باب میں کیا تصریحات نازل فرمانے والا ہے ۔
(آیت) ” عفا اللہ عنک “ ۔ کہہ کر بدرجہ غایت تلطف ومہربانی کا اظہار فرمایا ، جس کے معنی یہ ہیں کہ حضور ﷺ کا ہر تسامح چونکہ ایک بلند اخلاقی نصب العین کے ماتحت صادر ہوتا ہے ، اس لئے ابتدا ہی سے درخور عفو ہے ، گو اس سے منشاء الہی کی مخالفت ہو ۔
آپ نے انہیں اجازت اس لئے مرحمت فرما دی کیونکہ آپ کی فطرت میں عفو وکرم بدرجہ اتم موجود تھا ، آپ پیغمبرانہ محبت والفت کی وجہ سے مجبور تھے کہ ان کی معذرت قبول فرما لیں ۔
Read the full tafseer →43 اے پیغمبر ﷺ ! اللہ تعالیٰ آپ کو معاف فرمائے آپ نے ان کو رخصت دینے میں جلدی کیوں کی اور آپ نے اس سے پیشتر کہ آپ کو سچ بولنے والے اور سچے لوگ ظاہرہوجاتے اور آپ جھوٹوں اور جھوٹ بولنے والوں کو جان لیتے ان کو رہ جانے کی اجازت کیوں دی۔ غزوئہ تبوک کا اعلان ہونے پر منافقوں نے طرح طرح کے بہانے بنانے شروع کئے جب کوئی منافق جھوٹا بہانا بناکر پیش کرتا تو آپ ﷺ اس کو مدینہ میں رہ جانے کی اجازت دے دیتے۔
اس پر فرمایا کہ اجازت دینے میں تعجیل سے کیوں کام لیا اگر آپ جلدی نہ کرتے تو جھوٹوں کا جھوٹ اور سچوں کا سچ ظاہر ہوجاتا۔ یہ ایک خلاف اولی اور نامناسب کام ہوا اس پر تنبیہہ فرمائی لیکن تنبیہہ سے پہلے معافی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
ف 1۔ یہاں سے غزوہ تبوک کا بیان ہے تبوک ایک مقام ہے ملک شام میں رسول اللہ جب فتح مکہ و غزوہ حنین وغیرہما سے فارغ ہوئے تو آپ کو خبر ہوئی کہ روم کا بادشاہ مدینہ پر فوج بھیجنی چاہتا ہے اور وہ فوج تبوک میں جمع کی جائے گی آپ نے خود ہی قصد سفر کا مقابلہ کے لیے فرمایا اور مسلمانوں میں اس کا اعلان عام کردیا چونکہ وہ زمانہ گرمی کی شدت کا تھا اور مسلمانوں کے پاس سامان بہت کم تھا اور سفر بھی دوردراز کا تھا اس لیے اس غزوہ میں جانا بڑی ہمت کا کام تھا اس لیے ان آیا میں اس کی بہت ترغیب دی گئی اور چونکہ منافقین بوجہ عدم ایمان وعدم اخلاص کے اس میں طرح طرح کے بہانے پیش کرنے لگے اور ان کی طرح طرح کی خباثتیں ظاہر…
Read the full tafseer →کچھ لوگوں نے رخصت طلب کی اور آپ ﷺ نے ان کو رخصت دے دی :
63: اس آیت میں گویا پانچویں قسم کے لوگوں کا بیان شروع ہوا جو عرف عام میں منافق کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ جن کے لئے غزوہ تبوک کے معاملہ ایک آخری اور فیصلہ کن آزمائش ثابت ہوا تھا اس نے ظاہر داری اور نمائش کے سارے پردے چاک کردیئے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام ؓ اس سورت کو الفاضحہ کے نام سے بھی پکارتے تھے کیونکہ اس نے منافقوں کے بھدے کھول کر ان کی فضیحت کردی۔ منافقوں کے متعلق آپ پیچھے سورة آل عمران کی آیت 173 میں پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مومنوں سے ممتاز کر کے آشکارا کردینے کا وعدہ فرمایا تھا چناچہ اس کے بعد یکے بعد دیگرے ایسے مرحلے…
Read the full tafseer →Commentary
Mentioned in most of the seventeen verses of this entire section are hypocrites who had, on false pretexts, secured permission from the Holy Prophet ﷺ that they would not go to participate in the Jihad of Tabuk. Falling under it, there are many injunctions, rulings and instructions that have been pointed out in the commentary.
The first verse (43) begins in a subtle manner. Here, a complaint has been made to the Holy Prophet ﷺ . He has been told that those hypocrites were lying when they presented themselves as de-serving of being excused from active service in Jihad. But, he…
Read the full tafseer →