At-Tawba 9:42

At-Tawba · from ayah 42

9:42

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّسَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَلٰكِنْ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ ؕ— وَسَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ ۚ— یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ ۚ— وَاللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ ۟۠لَوۡ كَانَ عَرَضًا قَرِيۡبًا وَّسَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوۡكَ وَلٰـكِنۡۢ بَعُدَتۡ عَلَيۡهِمُ الشُّقَّةُ ‌ ؕ وَسَيَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسۡتَطَعۡنَا لَخَـرَجۡنَا مَعَكُمۡ ۚ يُهۡلِكُوۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ‌ ۚ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّهُمۡ لَـكٰذِبُوۡنَ

اگر مالِ غنیمت سہل الحصول اور سفر بھی ہلکا سا ہوتا تو تمہارے ساتھ (شوق سے) چل دیتے۔ لیکن مسافت ان کو دور (دراز) نظر آئی (تو عذر کریں گے)۔ اور خدا کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو آپ کے ساتھ ضرور نکل کھڑے ہوتے یہ (ایسے عذروں سے) اپنے تئیں ہلاک کر رہے ہیں۔ اور خدا جانتا ہے کہ جھوٹے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Had it been an easy gain and a moderate trip, the hypocrites would have followed you, but distant to them was the journey. And they will swear by Allah, "If we were able, we would have gone forth with you," destroying themselves [through false oaths], and Allah knows that indeed they are liars.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 6 of surah · Ruku 12 of juzع

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:42

اے نبیؐ، اگر فائدہ سہل الحصول ہوتا اور سفر ہلکا ہوتا تو وہ ضرور تمہارے پیچھے چلنے پر آمادہ ہو جاتے، مگر ان پر تو یہ راستہ بہت کٹھن ہو گیا اب وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہیں گے کہ اگر ہم چل سکتے تو یقیناً تمہارے ساتھ چلتے وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر مالِ غنیمت سہل الحصول اور سفر بھی ہلکا سا ہوتا تو تمہارے ساتھ (شوق سے) چل دیتے۔ لیکن مسافت ان کو دور (دراز) نظر آئی (تو عذر کریں گے)۔ اور خدا کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو آپ کے ساتھ ضرور نکل کھڑے ہوتے یہ (ایسے عذروں سے) اپنے تئیں ہلاک کر رہے ہیں۔ اور خدا جانتا ہے کہ جھوٹے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر جلد وصول ہونے واﻻ مال واسباب ہوتا اور ہلکا سفر ہوتا تو یہ ضرور آپ کے پیچھے ہو لیتے لیکن ان پر تو دوری اور دراز کی مشکل پڑ گئی۔ اب تو یہ اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم میں قوت وطاقت ہوتی تو ہم یقیناً آپ کے ساتھ نکلتے، یہ اپنی جانوں کو خود ہی ہلاکت میں ڈال رہے ہیں ان کے جھوٹا ہونے کا سچا علم اللہ کو ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اگر دنیا کا سامان کہیں قریب ملنے والا ہوتا، اور سفر درمیانہ قسم کا ہوتا، تو یہ (منافق لوگ) ضرور تمہارے پیچھے ہو لیتے، لیکن یہ کٹھن فاصلہ ان کے لیے بہت دور پڑگیا۔ اور اب یہ اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم میں استطاعت ہوتی تو ہم ضرور آپ کے ساتھ نکل جاتے۔ یہ لوگ اپنی جانوں کو ہلاک کر رہے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اگر کوئی قریب مال یا متوسط سفر ہوتا تو ضرور تمہارے ساتھ جاتے مگر ان پر تو مشقت کا راستہ دور پڑ گیا، اور اب اللہ کی قسم کھائیں گے کہ ہم سے بن پڑتا تو ضرور تمہارے ساتھ چلتے اپنی جانو کو ہلاک کرتے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ وہ بیشک ضرور جھوٹے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اگر مالِ (غنیمت) قریب الحصول ہوتا اور (جہاد کا) سفر متوسط و آسان تو وہ (منافقین) یقیناً آپ کے پیچھے چل پڑتے لیکن (وہ) پُرمشقّت مسافت انہیں بہت دور دکھائی دی، اور (اب) وہ عنقریب اللہ کی قَسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم میں استطاعت ہوتی تو ضرور تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوتے، وہ (ان جھوٹی باتوں سے) اپنے آپ کو (مزید) ہلاکت میں ڈال رہے ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ وہ واقعی جھوٹے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اگر نزدیک سامان اور درمیانہ سفر ہوتا تو وہ ضرور تیرے پیچھے جاتے، لیکن ان پر فاصلہ دور پڑگیا اور عنقریب وہ اللہ کی قسم کھائیں گے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو تمہارے ساتھ ضرور نکلتے۔ وہ اپنے آپ کو ہلاک کر رہے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ بیشک وہ ضرور جھوٹے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر دنیوی فائدہ قریب نظر آتا اور سفر بھی واجبی سا ہوتا تو یہ (منافق) آپ کے ساتھ ہولیتے۔ مگر یہ مسافت انہیں کٹھن معلوم ہوئی تو لگے اللہ کی قسمیں کھانے : اگر ہم تمہارے ساتھ نکل سکتے تو ضرور نکلتے یہ لوگ اپنے آپ کو ہی ہلاک کر رہے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ لوگ یقینا جھوٹے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اگر لقمہ تر ہوتا اور سفر آسان تو یہ تمہارے پیچھے ضرور لگ جاتے لیکن ان پر یہ منزل کٹھن ہوگئی اور اب یہ اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم نکل سکتے تو تمہارے ساتھ ضرور نکلتے یہ خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ یہ بالکل جھوٹے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اگر کوئی مال ہوتا نزدیک کا، اور سفر ہوتا ہلکا، تو یہ لوگ ضرور آپ کے ساتھ ہولیتے لیکن ان کو بہت دور لگا یہ کھٹن راستہ، اور اب یہ اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ اگر ہمارے بس میں ہوتا، تو ہم ضرور نکلتے آپ لوگوں کے ساتھ، یہ لوگ خود ہلاکت میں ڈالتے ہیں اپنے آپ کو اور اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اگر کچھ مال لگے ہاتھ مل جانے والا ہوتا اور سفر بھی معمولی ہوتا تو یہ لوگ ضرور آپ کے ساتھ ہولیتے لیکن انہیں مسافت ہی دور دراز معلوم ہوئی۔ اور یہ لوگ عنقریب اللہ کی قسم کھا جائیں گے اگر ہم سے ہوسکتا تو ضرور تمہارے ساتھ چلتے یہ لوگ اپنی ہی جانوں کو ہلاک کررہے ہیں۔ حالانکہ اللہ جانتا ہے کہ یہ لوگ یقیناً جھوٹے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اگر مال غنیمت قریب ہوتا اور سفر بھی چھوٹا ہوتا تو (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ آپ کی پیروی کرتے لیکن ان کو تو بڑی بھاری پڑ رہی ہے دور کی مسافت اور عنقریب یہ لوگ قسمیں کھائیں گے اللہ کی کہ اگر ہمارے اندر استطاعت ہوتی تو ہم ضرور نکلتے تم لوگوں کے ساتھ یہ لوگ اپنے آپ کو ہلاک کر رہے ہیں اور اللہ کو معلوم ہے کہ یہبالکل جھوٹے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر دنیوی فائدہ قریب نظر آتا اور سفر بھی ہلکا ہوتا تو (وہ شوق سے) تمہارے ساتھ چل پڑتے مگر سفر ان کو لمبا دکھائی دیا تو بہانے کرنے لگے اور اللہ کی قسمیں کھانے لگے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو آپ کے ساتھ ضرور نکل پڑتے یہ ایسے بہانوں سے اپنے آپ کو وبال میں ڈال رہے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Were it a gain at hand or a short journey, they would have surely followed you, but the distance seemed too far to them. Still they will swear by Allah: "If only we could, we would surely have gone forth with you." They merely bring ruin upon themselves. Allah knows well that they are liars.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Had it been a gain at hand or an average journey, they would have certainly followed you, but the distance seemed too far to them. They will swear by Allah: :We would have certainly set out with you, if we were able to. They are putting themselves to ruin.16 Allah knows that they are liars.

— Muhammad Taqi Usmani

Had it been a gain at hand or an average journey, they would have certainly followed you, but the distance seemed too far to them. They will swear by Allah: :We would have certainly set out with you, if we were able to. They are putting themselves to ruin.16 Allah knows that they are liars.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Had it been a near gain and an easy journey, they would have followed you, but the distance was long for them; and they would swear by Allah: "If we only could, we would certainly have come forth with you." They destroy themselves, and Allah knows that they are liars.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Had it been a near adventure and an easy journey they had followed thee, but the distance seemed too far for them. Yet will they swear by Allah (saying): If we had been able we would surely have set out with you. They destroy their souls, and Allah knoweth that they verily are liars.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Had it been an easy gain and a moderate trip, the hypocrites would have followed you, but distant to them was the journey. And they will swear by Allah, "If we were able, we would have gone forth with you," destroying themselves [through false oaths], and Allah knows that indeed they are liars.

— Saheeh International

Had the gain been immediate or the journey shorter, they (hypocrites) would certainly have followed you, (Muhammad), but it was too far for them. They will swear by God, "Had we had the ability, we would certainly have marched with you." They destroy only themselves and God knows that they are lying.

— Muhammad Sarwar

Had it been a near advantage and a short journey, they would certainly have followed you, but the tedious journey was too long for them; and they swear by Allah: If we had been able, we would certainly have gone forth with you; they cause their own souls to perish, and Allah knows that they are most surely

— Muhammad Habib Shakir

Were there a gear nigh and a journey moderate, they would have surely followed thee, but the distance seemed far unto them. And anon they will be swearing by Allah: if only we could we would surely have come forth with you. They destroy their own souls: and Allah knoweth that verily they are liars.

— Abdul Majid Daryabadi

If there had been immediate gain (in sight), and the journey easy, they would (all) without doubt have followed thee, but the distance was long, (and weighed) on them. They would indeed swear by Allah, "If we only could, we should certainly have come out with you": They would destroy their own souls; for Allah doth know that they are certainly lying.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:42

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

عیار لوگوں کو بےنقاب کردو جو لوگ غزوہ تبوک میں جانے سے رہ گئے تھے اور اس کے بعد حضور ﷺ کے پاس آ کر اپنے جھوٹے اور بناوٹی عذر پیش کرنے لگے تھے۔ انہیں اس آیت میں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دراصل انہیں کوئی معذوری نہ تھی اگر کوئی انسان غنیمت اور قریب کا سفر ہوتا تو یہ ساتھ ہو لیتے لیکن شام تک کے لمبے سفر نے ان کے گھٹنے توڑ دیئے اور مشقت کے خیال نے ان کے ایمان کمزور کردیئے۔ اب یہ آ کر جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اللہ کے رسول ﷺ کو دھوکہ دے رہے ہیں کہ اگر کوئی عذر نہ ہوتا تو بھلا ہم شرف ہم رکابی چھوڑنے والے تھے ؟ ہم تو جان و دل سے آپ کے قدموں میں حاضر ہوجاتے اللہ فرماتا ہے ان کے جھوٹ کا مجھے علم ہے انہوں نے تو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّوْبَة 44 یعنی یہ دیکھ کر کہ مقابلہ روم جیسی طاقت سے ہے اور زمانہ شدید گرمی کا ہے اور ملک میں قحط برپا ہے اور نئے سال کی فصلیں جن سے آس لگی ہوئی تھی، کٹنے کے قریب ہیں، ان کو تبوک کا سفر بہت ہی گراں محسوس ہونے لگا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

پانچویں آیت میں جہاد میں بوجہ غفلت و سستی شریک نہ ہونے والوں کے ایک عذر کا بیان کرکے اس کی تردید کی گئی ہے کہ یہ عذر قابل قبول نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جو اختیار اور قدرت عطا فرمائی تھی انہوں نے اس کو اللہ کی راہ میں مقدور بھر استعمال نہیں کیا، اس لئے عدم استطاعت کا عذر صحیح نہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

شقۃ اس مسافت کو کہتے ہیں جو ایک مسافر طے کرتا ہے۔ بعدت علیہم الشقۃ کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں کہ غزوہ تبوک میں منافقین کی کمزوری : ان آیات میں منافقین کی ان کمزوریوں پر تنبیہ کی جا رہی ہے جو غزوہ تبوک کے موقع پر ظاہر ہوئیں اس لیے کہ یہی غزوہ ہے جس میں موسم کی ناساز گاری کے ساتھ طول مسافت کی آزمائش سے بھی مجاہدین کو سابقہ پیش آیا۔ یہ غزوہ رجب سن 9 ہجری میں پیش آیا۔ موسم گرم تھا۔ فصل پک کر تیار تھی۔ مسافت طویل تھی پھر مقابلہ بھی ایک منظم اور کثیر التعداد فوج سے تھا اس وجہ سے منافقین کی کمزوری اس موقع پر بالکل ہی بےنقاب ہوگئی۔ انہوں نے بےسروسامانی کا عذر اور جھوٹے بہانے تراش کر اس جنگ کے لیے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

42۔ 1 یہاں سے ان لوگوں کا بیان شروع ہو رہا ہے جنہوں نے عذر اور معذرت کر کے نبی ﷺ سے اجازت لے لی تھی دراں حالانکہ ان کے پاس حقیقت میں کوئی عذر نہیں تھا۔ عرض سے مراد جو دنیاوی منافع سامنے آئیں مطلب ہے مال غنیمت۔ 42۔ 2 یعنی آپ ﷺ کے ساتھ شریک جہاد ہوتے۔ لیکن سفر کی دوری نے انہیں حیلے تراشنے پر مجبور کر دیا 42۔ 3 یعنی جھوٹی قسمیں کھا کر۔ کیونکہ جھوٹی قسم کھانا گناہ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 40–42

37: یہ ہجرت کے واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ آنحضرت ﷺ صرف اپنے ایک رفیق حضرت صدیق اکبر ؓ کے ساتھ مکہ مکرمہ سے نکلے تھے، اور تین دن تک غار ثور میں روپوش رہے تھے۔ مکہ مکرمہ کے کافر سرداروں نے آپ کی تلاش کے لیے چاروں طرف لوگ دوڑائے ہوئے تھے، اور آپ کو گرفتار کرنے کے لیے سو اونٹوں کا انعام مقرر کیا ہوا تھا۔ ایک مرتبہ آپ کو تلاش کرنے والے کھوجی غار ثور کے منہ تک پہنچ گئے اور ان کے پاؤں حضرت صدیق اکبر کو نظر آنے لگے جس کی وجہ سے ان پر گھبراہٹ کے آثار ظاہر ہوئے۔ لیکن حضور سرور دو عالم ﷺ نے اس موقع پر ان سے فرمایا تھا کہ غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے غار کے دہانے پر مکڑی سے جالا تنوا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 91 تشریح آیات 42 ۔۔۔۔ تا۔۔۔ 91 یہاں سے ان لوگوں کے بارے میں تبصرہ شروع ہوتا ہے جن سے اس موقعہ پر کمزوریوں اور کوتاہیوں کا ظہور ہوا۔ اس پورے سبق میں ان منافقین کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو اسلام کے نام پر اسلامی صفوں میں گھستے ہوئے تھے ، خصوصا اس وقت جب اسلام غالب ہوگیا تھھا اور ان لوگوں کی سلامتی اور ان کے مفادات کا تقاضا یہ تھا کہ یہ لوگ اسلام کے سامنے سرنگوں ہوجائیں اور اسلامی صفوں میں داخل ہو کر اسلام کے خلاف سازشیں کریں کیونکہ ظاہری حالات ایسے ہوگئے تھے کہ اسلام سے باہر رہ کر وہ اسلام کے خلاف کچھ نہ کرسکتے تھے۔ اس سبق میں وہ تمام حال ہمارے سامنے آئیں گے جن کی طرف سے ہم نے اس سورت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یہ منافقین کو فرمایا کہ اگر سفر ہلکا ہوتا اور بےمحنت مال غنیمت ہاتھ آنے کی توقع ہوتی تو جلدی سے ساتھ ہو لیتے۔ لیکن ایسی کٹھن منزلوں کا طے کرنا ان سے کہاں ممکن ہے ؟ 5 یا تو نکلنے سے پہلے قسمیں کھا کر طرح طرح کے حیلے حوالے کریں گے کہ آپ ان کو مدینہ میں ٹھہرے رہنے کی اجازت دے دیں اور یا آپ کی واپسی کے بعد جھوٹی قسمیں کھا کر باتیں بنائیں گے تاکہ اپنے نفاق پر پردہ ڈالیں۔ حالانکہ خدا سے ان کا جھوٹ اور نفاق پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ یہ نفاق و فریب دہی اور جھوٹی قسمیں کھانا انجام کار انہی کے حق میں وبال جان ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 42 لَوْ کَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّسَفَرًا قَاصِدًا لاَّتَّبَعُوْکَ وَلٰکِنْم بَعُدَتْ عَلَیْہِمُ الشُّقَّۃُ ط اگر ان منافقین کو توقع ہوتی کہ مال غنیمت آسانی سے مل جائے گا اور ہدف بھی کہیں قریب ہوتا تو یہ لوگ ضرور آپ ﷺ کا ساتھ دیتے ‘ مگر اب تو حالت یہ ہے کہ تبوک کی مسافت کا سن کر ان کے دل بیٹھے جا رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ ﷺ کسی بھی مہم کے ہدف وغیرہ کو ہمیشہ صیغہ راز میں رکھتے تھے۔ جنگ یا مہم کے لیے نکلنا ہوتا تو تیاری کا حکم دے دیا جاتا ‘ مگر یہ نہ بتایا جاتا کہ کہاں جانا ہے اور منصوبہ کیا ہے۔ اسی طرح فتح مکہ کے منصوبہ کو بھی آخر وقت تک خفیہ رکھا گیا تھا۔ مگر غزوۂ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

46 منافقوں کے عذر :۔ یعنی اگر تھوڑی سی محنت کے بعد منافقوں کو مال غنیمت ہاتھ آجانے کی توقع ہوتی اور سفر بھی اتنا طویل اور پر مشقت نہ ہوتا تو پھر تو یہ منافق یقیناً آپ کے ہمراہ نکلنے کو تیار ہوجاتے۔ لیکن شام تک کا سفر، وہ بھی شدید گرمی کے موسم میں جبکہ سواریاں بھی بہت کم ہیں اور آگے مقابلہ بھی ایک بہت دبدبے والی حکومت سے ہے جہاں فتح کے بجائے ناکامی کے آثار دکھائی دیتے ہیں تو ایسی صورت میں یہ کیسے آپ کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ اب تو وہ یہی قسمیں کھائیں گے کہ اس وقت ہمارے حالات سازگار نہیں۔ ورنہ ہمیں آپ کے ہمراہ جانے میں کوئی عذر نہ ہوتا۔ اور وہ جھوٹے اس لحاظ سے نہیں ہیں کہ حقیقتاً جو باتیں اور خدشات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

81 ۔ (اور اس لئے یہیں رہ گئے) ذکر منافقین کا ہو رہا ہے جنہوں نے غزوۂ تبوک میں ہمراہ جانے سے انکار کردیا تھا۔ تبوک کی مسافت مدینہ منورہ سے 12 منزلوں کی تھی۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں سالک کے لئے اپنے اخلاص کے امتحان کا طریقہ درج ہے یعنی وہ یہ دیکھے کہ جس امر میں کوئی نفع دنیوی نہیں بلکہ مشقت ہی ہے۔ اس میں نفس کا کیا رنگ ہے، نفع دنیوی والے ہی اعمال کا کرتے رہنا دلیل اخلاص نہیں۔ 82 ۔ (جھوٹی قسمیں کھاکھا کر) (آیت) ” سیحلفون “۔ میں س یعنی عنقریب سے مراد یہ ہے کہ جب تم لوگ جہاد سے واپس آجاؤ گے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس طرح سالک کو اس کا نفس جھوٹے دعو وں سے دھوکا دیتا رہتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 38–42

آیت نمبر 38 تا 42 ترجمہ : اور (آئندہ) آیت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے غزوہ تبوک کے لئے نکلنے کے لئے کہا، حال یہ ہے کہ لوگ بڑی تنگی میں تھے اور سخت گرمی کا موسم تھا تو ان کے لئے (نکلنا) گراں محسوس ہوا، اے ایمان والو تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لئے کہا گیا تو تم زمین پر چمٹ کر رہ گئے تاء کو اصل میں ثاء مثلثہ میں ادغام کر کے ہمزہ وصل کا اضافہ کر کے (اِثَّاقلْتُم اصل میں تثاقلتم تھا) تاء کو ثاء مثلثہ سے بدل کر ثاء کو ثاء میں ادغام کر کے ہمزہ وصل شروع میں لے آئے یعنی تم سست پڑگئے اور جہاد کے مقابلہ میں وطن میں بیٹھ رہنے کو ترجیح دی، (مالکم) میں استفہام تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لو کان عرضا قریبا وسفرا قاصد الا تبعوک اگر (وہ چیز جس کی آپ نے دعوت دی تھی) دنیوی سامان یا آسانی سے حاصل ہوجانے والا مال غنیمت ہوتا اور سفر معمولی ہوتا تو وہ آپ کے ساتھ ہوجاتے۔ یعنی آپ کے ساتھ مال غنیمت حاصل کرنے کیلئے چلے جاتے۔ قاصد کا معنی ہے متوسط (قصد السبیل راہ مستقیم کو کہتے ہیں جو درمیانی راہ ہوتی ہے) یعنی معمولی (جہاں جانے میں کوئی دکھ نہ ہوتا ہو) ۔ ولکن بعدت علیھم الشقۃ لیکن ان کیلئے مسافت دور (یعنی لمبی) تھی۔ لمبی مسافت کو شقّہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ طویل مسافت مشقت سے طے ہوتی ہے۔ بعض نے کہا کہ شُقّہ سے مراد وہ مقصد ہے جو ان کا مقصود تھا (یعنی ان کا مقصد دور تھا ‘ آسانی سے ہاتھ آنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(42) اگر غنیمت ملنے کی توقع ہوتی اور سفر بھی آسان ہوتا تو یہ منافق بخوشی غزوہ تبوک کے لیے آپ ﷺ کے ساتھ چل پڑے تھے مگر ان کو تو شام تک سفر کرنا پڑتا ہے۔ اور ابھی جب تم لوگ غزوہ تبوک سے واپس آؤ گے تو یہ منافقین عبداللہ بن ابی اور جد بن قیس اور معتب بن قشیر جو غزوہ تبوک سے رہ گئے خدا کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہمارے پاس سامان اور سواری ہوتی تو ہم ضرور غزوہ تبوک کے لیے نکلتے، یہ لوگ جھوٹی قسمیں کھا کر خود اپنے آپ کو برباد کررہے ہیں، اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ لوگ یقیناً جھوٹے ہیں، کیونکہ یہ جہاد پر جانے کی طاقت رکھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيْبًا : یہ آیت غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ ”عَرَضًا“ دنیا کا وہ سازو سامان جو انسان کی خواہشوں کے پیش نظر رہتا ہے۔ ”قَاصِدًا“ جس کا حصول بالکل آسان ہو۔ ”الشُّقَّةُ“ درمیانہ، یعنی جس میں شدید مشقت درپیش نہ ہوتی۔ ”الشُّقَّةُ“ وہ فاصلہ جو نہایت مشقت اور تھکن سے طے ہو۔ یہ مشقت سے مشتق ہے۔ ابو عبیدہ نے فرمایا ”الشُّقَّةُ“ کا معنی ارض بعید کا سفر ہے، یعنی اگر آسانی سے مال غنیمت ملنے کی توقع ہوتی اور سفر بہت لمبا نہ ہوتا، جس کا راستہ بھی نہایت کٹھن تھا تو یہ لوگ ضرور آپ کے ساتھ جاتے۔ مگر خالص فی سبیل اللہ جہاد جس میں آسانی سے حصول غنیمت کے بجائے مال…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

جب حضور نبی مکرم ﷺ غزوئہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو اللہ تعالیٰ نے قوم کا نفاق ظاہر کردیا۔ العرض سے مراد وہ جو منافع دنیا میں سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اور اس کا معنی ہے : اگر مال غنیمت قریب ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سے خبر دی ہے کہ اگر انہیں مال غنیمت کی طرف بلایا جاتا تو وہ ضرور اس کی اتباع کرتے۔ عرضا یہ کان کی خبر ہے۔ قریباً یہ اس کی صفت ہے۔ وسفرا قاصدا یہ اس پر معطوف ہے۔ اور کان کا اہم محذوف ہے کیونکہ کلام اس پر دلالت کررہی ہے۔ اور تقدیر کلام یہ ہے : لوکان المدعوالیہ عرضأ قریباً وسفرا قاصدالاتبعوک (اگر وہ جس کی طرف دعوت دی گئی ہے وہ قریب ترین مال غنیمت ہوتا اور سفر آسان ہوتا جس کے راستے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

غزوہ تبوک کا ذکر : 1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے کیا گیا۔ کیا آپ بنوالاصفر سے جنگ نہیں کرتے شاید آپ کو عظیم الروم کی بیٹی مل جائے۔ دو آدمیوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ جانتے ہیں کہ عورتیں فتنہ ہیں ہم کو انکے ذریعہ فتنہ میں ڈالئے لہذا ہم کو اجازت دیجئے (کہ ہم جہاد میں نہ جائیں) آپ نے ان کو اجازت دیدی۔ جب یہ لوگ چلے تو ان میں سے ایک نے کہا یہ چربی فقط سب سے پہلے کھانے والے کے لئے ہے۔ رسول اللہ ﷺ روانہ ہوئے آپ پر اس کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا جب آپ نے کچھ فاصلہ طے کرلیا اس وقت آپ پانی کے ایک چشمے پر تھے (یہ آیت) نازل ہوئی۔ (آیت) ” لوکان عرضا قریبا وسفرا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَوْ [ اگر ] كَانَ [ وہ ہوتا ] عَرَضًا قَرِيْبًا [ کوئی قریبی سامان ] وَّسَفَرًا قَاصِدًا [ اور کوئی درمیانی سفر ] لَّاتَّبَعُوْكَ [ تو وہ ضرور پیروی کرتے آپ کی ] وَلٰكِنْۢ [ اور لیکن ] بَعُدَتْ [ دور ہوا ] عَلَيْهِمُ [ ان پر ] الشُّقَّةُ [ مشکل سفر ] وَسَيَحْلِفُوْنَ [ اور وہ لوگ قسم کھائیں گے ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی ] لَوِ [ اگر ] اسْـتَـطَعْنَا [ ہمیں استطاعت ہوتی ] لَخَرَجْنَا [ تو ہم ضرور نکلتے ] مَعَكُمْ ۚ [ تم لوگوں کے ساتھ ] يُهْلِكُوْنَ [ وہ لوگ ہلاکت میں ڈالتے ہیں ] اَنْفُسَهُمْ ۚ [ اپنی جانوں کو ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يَعْلَمُ [ جانتا ہے ] اِنَّهُمْ [ کہ بیشک وہ لوگ ] لَكٰذِبُوْنَ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

چونکہ اس آیت کا حکم ہوا ہے کہ ہر حالت میں فی سبیل اللہ نکل کھڑے ہوں اور جہاد ہمیشہ بطور فرض عین فرض نہیں ہوتا اور دوسری آیت میں (وَ مَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً ) فرمایا ہے۔ اس لیے بعض مفسرین نے اس آیت کے عموم کو منسوخ مانا ہے۔ اگر آیت کو غزوۂ تبوک ہی سے متعلق مانا جائے اور امراض والوں کو مستثنیٰ قرار دے دیا جائے۔ جیسا کہ آیت شریفہ (لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی) میں مذکور ہے تو منسوخ کہنے کی ضرورت نہیں رہتی اور اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جو لوگ معذور نہیں ہیں وہ کھڑے ہوں۔ مالدار بھی نکلے اور تندرست بھی نکلے، بوڑھا بھی اور جوان بھی، موٹا بھی دبلا بھی۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–48

بیان احوال واقوال منافقین متخلفین قال اللہ تعالیٰ ۔ لو کان عرضا قریبا۔۔۔ الی۔۔۔ وظہر امر اللہ وھم کرھون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اس غزوہ کے متعلق مومنین کو خطاب تھا اب آگے منافقین کے احوال واقوال کا بیان ہے کہ وہ آں حضرت ﷺ کے ہمراہ جانے سے حیلے اور بہانے ڈھونڈتے تھے اور چاہتے تھے کہ کسی طرح جہاد میں جانا نہ پڑے اخیر سورت تک زیادہ تر منافقین ہی کے اقوال کا ذکر ہے کہ باوجود عذر نہ ہونے کے نفاق کے سبب غزوہ میں شریک نہیں ہونا چاہتے تھے اور اس درمیاں میں کسی مناسبت کی بنا پر دوسرے مضامین کا بھی ذکر آگیا۔ چناچہ فرماتے ہیں اگر ہوتی وہ چیز جس کی طرف آپ نے ان کو بلایا نفع قریب الحصول یعنی سہل الحصول…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

41: اس میں ان منافقین کا ذکر ہے جو جہاد میں شریک نہیں ہوئے۔ “ عَرَضاً قَرِیْبًا ” یعنی مال غنیمت آسانی سے ہاتھ آسکتا اور سفر متوسط ہوتا تو وہ ضرور آپ کے ساتھ جاتے لیکن مسافت زیادہ اور بامشقت تھی اس لیے وہ ساتھ نہ گئے۔ “ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللهِ الخ ” جہاد سے آپ کی واپسی پر وہ آپ کے سامنے جھوٹی قسمیں کھائیں گے کہ ان میں جہاد کی استطاعت نہ تھی اگر استطاعت ہوتی تو ضرور جہاد میں شریک ہوتے۔ یہ واقعہ جنگ تبوک کا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–42

ربط آیات : جہاد کے سلسلہ میں غزوہ تبوک کا ذکر ہو رہا ہے۔ ابتدائی آیات میں جہاد کی ترغیب دی گئی تھی اور پھر جہاد میں شریک نہ ہونے والوں کو تنبیہ کی گئی ایمان والوں کو خبردار کیا گیا کہ اگر وہ اللہ اور اس کے رسول کی مدد نہیں کریں گے یعنی آپ کے ساتھ جہاد میں شامل نہیں ہوں گے تو یہ نہ سمجھیں کہ جہاد محض انہیں پر موقوف ہے بلکہ اللہ تعالیٰ تمہارے بغیر بھی اپنے نبی کی مدد کرنے پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یاد دلایا کہ اس نے ہجرت کے مشکل ترین موقع پر بھی مدد فرمائی تھی۔ جب مشرکین نے حضور ﷺ کے قتل مصمم ارادہ کرلیا اور مسلح نوجوانوں نے رات کے وقت آپ کے مکان کا محاصرہ کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيْبًا وَّسَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَلٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَيْہِمُ الشُّقَّۃُ۝ 0 ۭ وَسَيَحْلِفُوْنَ بِاللہِ لَوِ اسْـتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ۝ 0 ۚ يُہْلِكُوْنَ اَنْفُسَہُمْ۝ 0 ۚ وَاللہُ يَعْلَمُ اِنَّہُمْ لَكٰذِبُوْنَ۝ 42 ۧ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 41–43

ترکیب : خفافًا و ثقالاً حال ہیں ضمیر فاعل انفروا سے لوکان کا اسم محذوف ای مادعوتھم الیہ عرضا خبر جملہ شرط لاتبعوک جواب حتی متعلق ہے محذوف سے ای بلا اخرتھم الی ان یتبین والباقی واضح۔ تفسیر : آخر آنحضرت ﷺ کے پاس تیس ہزار لشکر جمع ہوگیا۔ بعض کہتے ہیں ستر ہزار تو پنجشنبہ کے دن رجب کے مہینے میں نویں سال آپ نے کوچ کیا۔ ادھر منافق ہیں کہ ہر منزل سے اجازت لیتے اور بہانے بناتے اور پیچھے رہے جاتے ہیں۔ بہت نے مدینہ ہی میں عذر کرنے شروع کر کردیے۔ ہزاروں جھوٹی قسمیں کھانی شروع کیں کہ ہمیں یہ عذر ہے ٗ یہ ضرورت ہے۔ ہم کو چلنے کی طاقت نہیں ٗبخدا اگر طاقت ہوتی تو ہم بھی آپ کے ساتھ چلتے۔ ان آیات میں خدا تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَوْکَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّسَفَرًا قَاصِدًا لَّا تَّبَعُوْکَ وَلٰکِنْ م بَعُدَتْ عَلَیْھِمُ الشُّقَّۃُ ط وَسَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ لَوِاسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَکُمْ ج یُھْلِکُوْنَ اَنْفُسَھُمْ ج وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِنَّہُمْ لَکٰذِبُوْنََ (التوبۃ : 42) (اگر مال ہوتا نزدیک اور سفر آسان تو وہ لوگ ضرور تمہارے پیچھے لگ جاتے لیکن لمبی نظر آئی ان کو مسافت اور اب یہ اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم سے ہوسکتا تو ہم آپ کے ساتھ ضرور نکلتے یہ خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ ) منافقین کے بہانوں کی حقیقت ان آیات کریمہ میں منافقین کی سخن سازیوں اور حیلہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : مخلص مسلمانوں سے خطاب کے بعد منافقوں کا کردارواضح کیا جارہا ہے۔ مکہ معظمہ میں اعتقاد کے اعتبار سے دوہی قسم کے لوگ تھے ایک کافر اور دوسرے مخلص مسلمان، لیکن مدینہ طیبہ میں نبی اکرم ﷺ کو کفار کے ساتھ یہودیوں اور منافقین کے ساتھ بھی واسطہ پڑا ان میں خطرناک گروہ منافقین کا تھا جو مارآستین تھے۔ کیونکہ یہ لوگ بظاہر کلمہ پڑھنے کی وجہ سے مسلمانوں جیسے کام کرتے اور ہرو قت مسلمانوں کے ساتھ جڑے رہتی تھے۔ ان کو پہچاننا اور ان سے کنارہ کش ہونا نہایت ہی مشکل کام تھا۔ یہ لوگ سوائے کڑی آزمائش کے پہچانے نہیں جاتے تھے۔ البتہ بدر، احد اور دیگر معرکوں کے وقت کافی حد تک نمایاں ہوچکے تھے لیکن…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 42: شان نزول : جو منافقین غزوئہ تبوک میں پیچھے چھوڑ دیئے گئے ان کے متعلق اتری۔ تذکرئہ تبوک اور بہانہ باز منافقین : لَوْکَانَ عَرَضًا (اگر وہ ہوتا سامان) دنیا کے جو منافع سامنے آئیں کہا جاتا ہے الدنیا عرض حاضر یا کل منہ البر والفاجر۔ یعنی اگر ان کو غنیمت کی طرف دعوت دی جاتی۔ قَرِیْبًا (جلد ہاتھ لگنے والا) آسانی سے میسر ہونے والی۔ وَّ سَفَرًا قَاصِدًا (اور سفر بھی معمولی سا ہوتا) درمیانہ قریبی سفر، القاصد اور القصد معتدل کو کہتے ہیں۔ لَّا تَّبَعُوْکَ (تو یہ لوگ ضرور آپ کے ساتھ ہولیتے) وہ نکلنے میں آپکی موافقت کرتے۔ وَلٰکِنْم بَعُدَتْ عَلَیْھِمُ الشُّقَّۃُ (لیکن ان کو مسافت ہی دور دراز معلوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

42۔” لو کان عرضا قریباً “ اور کان کا اسم مضمر ہے یعنی جس کی طرف ہم ان کو بلا رہے ہیں وہ ایسی غنیمت ہوتی جس کا حاصل کرنا قریب ہو ” وسفرا قاصدا ‘ ‘ قریب اور آسان ” لا تبعوک “ تو وہ آپ (علیہ السلام) کے ساتھ نکلتے ” ولکن بعدت علیھم الشقۃ “ یعنی مسافت ، شقہ دور کے سفر کو کہتے ہیں کیونکہ وہ انسان پر گراں ہوتا ہے اور بعض نے کہا ” شقۃ “ وہ انتہا جس کا ارادہ کر کے چلا جائے ۔” وسیحلفون باللہ لو استطعنا لخرجنا معکم یھلکون انفسھم “ یعنی جھوٹی قسموں کے ساتھ ” واللہ یعلم انھم لکذبون “ اپنی قسموں میں کیونکہ ان کے پا س طاقت تھی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

42۔ اوپر ان مسلمانوں کا ذکر تھا جو فقط سستی سے لڑائی میں نہیں گئے اس آیت میں ان منافقوں کا حال ہے جو منافق اپنے نفاق کے سبب سے جھوٹے عذر کر کے غزوہ تبوک میں شریک نہ ہوئے اور گھروں میں بیٹھ رہے ان کے حق میں فرمایا کہ یہ لوگ اس خیال سے رہ گئے کہ دور دراز کا سفر ملک شام کی طرف کرنا پڑے گا اور وہاں غنیمت کا مال خدا جانے ملے یا نہ ملے غرض کہیں نزدیک جانا ہوتا اور غنیمت بھی آسانی سے دستیاب ہوتی تو یہ لوگ تمہارے ساتھ جاتے مگر لانبے سفر کو انہوں نے مشقت خیال کیا پھر یہ فرمایا کہ جب تم مدینہ کو واپس جاؤ گے تو قسمیں کھا کھا کر یہ لوگ عذر بیان کریں گے کہ ہمارے پاس راہ خرچ نہیں تھا اس واسطے ہم جہاد میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–42

آیت 41 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنے راستے میں جہاد کے لئے نکلنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے۔ (انفروا خفافاً وثقالاً ) ” نکلو ہلکے اور بوجھل “ یعنی تنگی اور فراخی، نشاط اور ناگواری، گرمی اور سردی تمام احوال میں جہاد کے لئے نکلو۔ (وجاھدوا باموالکم و انفسکم فی سبیل اللہ) ” اور اللہ کے راستے میں مال اور جان سے جہاد کرو “ یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لئے اپنی پوری کوشش صرف کردو اور اپنی جان و مال کو کھپا دو ۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ جس طرح جان کے ساتھ جہاد فرض ہے، اسی طرح بوقت ضرورت مال کے ساتھ بھی جہاد فرض ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ذلکم خیر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

منافقین کا جہاد کے بارے میں رویہ قول باری ہے (وسیحلفون باللہ لواستطعنا لخرجنا معکم۔ اب وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہیں گے کہ اگر ہم چل سکتے تو یقیناً تمہارے ساتھ چلتے) تا آخر آیت۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے قول (لواستطعنا لخرجنا معکم) کے ذریعے منافقین کو جھٹلادیا تو اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ یہ لوگ استطاعت رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود جہاد پر نہیں نکلے۔ اس سے فرقہ، جبریہ کے اس قول کا بطلان ہوتا ہے کہ اہل تکلیف کو مکلف بنانے کی حالت میں جس فعل کا مکلف بنایا گیا ہو اس کے صدور سے پہلے وہ اس فعل کو استطاعت نہ رکھنے والے شمارہوں گے۔ بطلان کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے منافقین کے اس دعوے کی تکذیب کردی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

96 اصل قوت ایمان کی قوت ہے : سو اصل قوت ایمان و یقین کی قوت ہے جو کہ ایک حیات آفریں اور کیف آور قوت ہے۔ جس کے بعد کوئی مشکل مشکل نہیں رہتی اور ہر حالت خیر ہی خیر ہوجاتی ہے۔ جبکہ اس سے محروم لوگوں کے لیے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جہاد کا یہ سفر بھی مشکل لگتا ہے جس کے طے کرنے کے لئے مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔ کیونکہ منافق لوگ دنیاوی فوائد و منافع ہی کے لئے نکلتے تھے جو بظاہر یہاں موجود نہیں تھے۔ اس لئے ان کو مشقت کا یہ سفر بہت بھاری لگ رہا تھا ۔ سبحان اللہ ! ۔ ایمان و عقیدہ کی قوت بھی کیسی عظیم الشان اور کتنی زبردست اور انقلاب آفریں قوت ہوتی ہے کہ اس سے بڑی سے بڑی مشقت و تکلیف، یہاں تک کہ جان کا نذرانہ پیش…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 42–46

منافقوں کی پہچان اور بہانے تشریح : ان آیات میں منافقین کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر سفر تھوڑا اور مال غنیمت کی امید ہوتی تو یہ لوگ ضرور آپ کے ساتھ چل پڑتے۔ مگر غزوئہ تبوک مسافت، موسم کی گرمی اور ہرقل جیسی بڑی طاقت کا مقابلہ تھا جو کہ مسلمانوں کے لیے بڑی آزمائش کا وقت تھا۔ ویسے بھی جہاد منافقین کی پہچان کا بہت بڑا ذریعہ ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ یہاں یہ لوگ آپ سے اجازت لینے کے لیے بڑے بہانے کریں گے اور اس طرح یہ صرف اپنا ہی نقصان کریں گے۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔ پھر اللہ فرماتا ہے کہ آپ نے ان کو ابھی رخصت کی اجازت نہیں دینی تھی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 38–42

آیات 38 تا 42 اسرار و معارف بات پھر جہاد کی طرف پلٹی کہ بقائے دین کے لئے جہاد سب سے افضل واعلیٰ کام ہے اور ذاتی عبادات کا تحفظ بھی جہاد کا پھل ہے ۔ ورنہ تو کوئی گھر میں بھی سکون سے سجدہ نہ کرسکے ۔ مفسرین کے مطابق ان آیات مبارکہ میں عزوئہ تبوک کا تذکرہ ہے ۔ فتح مکہ کے بعد جب آپ ﷺ مدینہ منورہ پہنچے تو ہرقل روم کی فوجوں کے اجتماع کی خبرملی جو اسلامی ریاست کی سرحد پر جمع ہورہی تھیں جسے عرب کے عیسائی قبائل نے دعوت دی اور یہودیوں نے ابھارا کہ اسلامی ریاست کی اگر خبر نہ لی گئی تو یہ تمہارا گریبان بھی پکڑے گی چناچہ اس نے سال بھر کی پیشگی تنخواہ وغیرہ دے کر ایک لشکر جرار تیار کیا جس کی خبر ان تاجروں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی آسانی سے مال غنیمت مل جانے کی توقع ہوتی۔ 3 یعنی بہت لمبا سفر نہ ہوتا جیسے تبوک مدینہ سے تقریبا چارسو میل کے فاصلہ پر ہے اور اس کا راستہ بھ نہایت کٹھن ہے۔ یہ آیت ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو غزوہ تبوک میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ ( کبیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 41–42

(9:41) خفافا۔ سبک بار۔ ہلکے۔ خفیف کی جمع بروزن فعیل صفت مشیہ کا صیغہ ہے۔ ثقالا۔ بوجھل۔ ثقیل کی جمع ہے۔ ہر دو خفافا وثقالا۔ انفروا سے حال ہیں۔ خفافا وثقالا۔ یعنی ہر حال میں خواہ تم جواب ہو یا بوڑھے۔ فقیر ہو یا امر ۔ سوار ہو یا پیادے۔ تندرست ہو یا بیمار۔ تنہا ہو یا عیالدار (روح البیان) جنگ کے سامان کے ساتھ یا بغیر سامان جنگ کے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 41–46

لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 46 عرض (اسباب، مال غنیمت) سفر قاصد (آرام والا سفر) ، لاتبعوک (البتہ وہ آپ کے پیچھے چل پڑتے) بعدت (دور لگا) الشقۃ (فاصلہ، حصہ) استطعنا (ہماری استطاعت ہوتی) عفا اللہ (اللہ نے معاف کردیا ) لم اذنت (آپ نے کیوں اجازت دی ؟ ) حتی یتبین (جب تک واضح نہ ہوجاتا) صدقوا (جنہوں نے سچ کہا) لا یستاذنو (وہ اجازت نہیں مانگتے ) ارتابت (شک کیا) ریب (شک) یترددون (وہ بھٹک رہے ہیں) لاعدوا (البتہ وہ تیاری کرتے) کرہ اللہ (اللہ نے پسند نہیں کیا) انبعاث (اٹھنا) ثبط (ہم نے جما دیا، روک دیا) افعدوا (بیٹھے رہو) تشریح آیت نمبر 42 تا 46 تاریخ گواہ ہے کہ جب جنگیں لڑی جاتی ہیں تو ان میں موسم، وسائل،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

جنگ تبوک میں منافقوں کا جھوٹا عذر کرنے کا ذکر اس آیت میں ان منافقوں کا حال ہے جو منافق اپنے نفاق کے سبب سے جھوٹے عذکر کرکے جنگ تبوک میں شریک نہ ہوئے اور گھروں میں بیٹھ رہے۔ ان کے حق میں فرمایا کہ یہ لوگ اس خیال سے رہ گئے کہ دور دراز کا سفر ملک شام کی طرف کرنا پڑے گا اور وہاں غنیمت کا مال خدا جانے ملے یا نہ ملے۔ غرض کہیں نزدیک جانا ہوتا اور غنیمت بھی آسانی سے دستیاب ہوتی تو یہ لوگ تمہارے ساتھ جاتے، مگر لمبے سفر کو انہوں نے مشقت خیال کیا پھر یہ فرمایا کہ جب تم مدینہ کو واپس جاؤگے تو قسمیں کھا کھاکر یہ لوگ عذر بیان کریں گے کہ ہمارے پاس راہ خرچ نہیں تھا، اس واسطے ہم جہاد میں شریک نہیں ہوئے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 41–47

[26] یعنی خوشی یا گرانی سے، سرو سامان کے ساتھ یا بےسروسامانی سے، حالات خواہ موافق ہوں یا ناموافق، جب نکلنے کا حکم ہوچکا تو جس حال میں ہو نکل کھڑے ہو۔ یہ آیت اس باب میں قطعی ہے کہ دفاع کے لئے جب امام بلائے تو بجزان معذوروں کے جنہیں آگے چل کر آیت 91 میں مستثنیٰ کردیا ہے ہر شخص پر واجب ہوجاتا ہے کہ جان و مال سے شریک جہاد ہو اور اس بارے میں کسی عذر کی گنجائش نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) بات یہ ہے تبوک کا مقام دور تھا موسم بھی گرم تھا ، مقابلہ پر رومی تھے ، اس لئے منافقین اور کمزور عقیدے کے لوگ گھبرا گئے بعض لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو دھوکا دیا ، انہوں نے یہ ظاہر کیا کہ وہ معذور ہیں ، اگر استطاعت ہوتی ، تو ضرور ساتھ دیتے ، اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں انکی منافقت کا اظہار کردیا ، اور بتا دیا کہ یہ جھوٹے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

42 اے پیغمبر ﷺ ! اگر آپ کی دعوت جہاد اور آپ کا بلاوا ایسا ہوتا جس میں قریب الحصول کوئی فائدہ ہوتا اور لگے ہاتھ کچھ ملنے والا ہوتا اور سفر بھی آسان اور درمیانی درجہ کا ہوتا تو یہ منافق ضرور آپ کے ساتھ ہولیتے لیکن ان کو تو مسافت ہی دور دراز معلوم ہونے لگی اور عنقریب تمہاری واپسی پر یہ منافق اللہ تعالیٰ کے نام کی قسمیں کھاکھا کر کہیں گے کہ اگر ہمارے بس کی بات ہوتی اور ہم مقدور رکھتے تو ضرور ہم تمہارے ساتھ نکل چلتے یہ لوگ ان جھوٹی قسموں سے خود ہی اپنے آپ کو تباہ و برباد کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ یہ لوگ یقیناً جھوٹے اور کاذب ہیں۔ یعنی نفع قریب ہوتا اور مسافت اوسط درجے کی ہوتی تو اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 37–46

ف 1۔ یہاں سے غزوہ تبوک کا بیان ہے تبوک ایک مقام ہے ملک شام میں رسول اللہ جب فتح مکہ و غزوہ حنین وغیرہما سے فارغ ہوئے تو آپ کو خبر ہوئی کہ روم کا بادشاہ مدینہ پر فوج بھیجنی چاہتا ہے اور وہ فوج تبوک میں جمع کی جائے گی آپ نے خود ہی قصد سفر کا مقابلہ کے لیے فرمایا اور مسلمانوں میں اس کا اعلان عام کردیا چونکہ وہ زمانہ گرمی کی شدت کا تھا اور مسلمانوں کے پاس سامان بہت کم تھا اور سفر بھی دوردراز کا تھا اس لیے اس غزوہ میں جانا بڑی ہمت کا کام تھا اس لیے ان آیا میں اس کی بہت ترغیب دی گئی اور چونکہ منافقین بوجہ عدم ایمان وعدم اخلاص کے اس میں طرح طرح کے بہانے پیش کرنے لگے اور ان کی طرح طرح کی خباثتیں ظاہر…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان لوگوں کو قریبی فائدہ نظر آتا تو اسی وقت نکل کھڑے ہوتے : 61: غزوہ تبوک کا ذکر ہو رہا ہے اور تبوک مدینہ سے 14 منزل پر ہے گویا ہزار میل سے بھی زیادہ کی مسافت۔ ان کو یہ بھی نظر آتا تھا کہ مسافرت بڑی طویل ہے اور دشمن بہت قوی ہے اس لئے ان حالات کو دیکھ کر ان کے دل ڈر گئے اور خوف کھا گئے ہیں اور پاؤں بوجھل ہوگئے ہیں اور ایسی حالت ہوچکی ہے کہ گویا وہ سنتے ہی ایک بہت بڑی مشقت میں دب کر رہ گئے ہیں۔ اس کی جائے اگر کوئی قریب کا سفر ہوتا اور ذاتی فوائد ان کی آنکھوں کے سامنے ہوتے تو اس وقت وہ بال نخواستہ ہی سہی تاہم ضرور نکل کھڑے ہوتے لیکن ایسی حالت میں ان کے لئے نکل کھڑا ہونا محال نظر آرہا ہے کہ حالات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The fifth verse (42) mentions an excuse offered by those who did not participate in the Jihad because of negligence and lethargy. It was rejected as unacceptable because they did not use the ability given by Allah to pick and choose the right thing to do in His way. Therefore, the excuse of not having that ability is not valid.

Read the full tafseer →