جہاد ہر مسلمان پر فرض ہے۔
کہتے ہیں کہ سورة براۃ میں یہی آیت پہلے اتری ہے اس میں ہے کہ غزوہ تبوک کے لئے تمام مسلمانوں کو ہادی امم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نکل کھڑے ہونا چاہئے اہل کتاب رومیوں سے جہاد کے لئے تمام مومنوں کو چلنا چاہئے خواہ دل مانے یا نہ مانے خواہ آسانی نظر آئے یا طبیعت پر گراں گزرے۔ ذکر ہو رہا تھا کہ کوئی بڑھاپے کا کوئی بیمار کا عذر کر دے گا تو یہ آیت اتری۔ بوڑھے جوان سب کو پیغمبر کا ساتھ دینے کا عام حکم ہوا کسی کا کوئی عذر نہ چلا حضرت ابو طلحہ نے اس آیت کی یہی تفسیر کی اور اس حکم کی تعمیل میں سر زمین شام میں چلے گئے اور نصرانیوں سے جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ جان بخشنے والے اللہ کو…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 43
ہلکے اور بوجھل کے الفاظ بہت وسیع مفہوم رکھتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب نکلنے کا حکم ہوچکا ہے تو بہرحال تم کو نکلنا چاہیے خواہ برضا ورغبت خواہ بکراہت، خواہ خوشحالی میں خواہ تنگ دستی میں، خواہ ساز و سامان کی کثرت کے ساتھ خواہ بےسروسامانی کے ساتھ، خواہ موافق حالات میں خواہ ناموافق حالات میں، خواہ جوان و تندرست خواہ ضعیف و کمزور۔
Read the full tafseer →چوتھی آیت میں پھر تاکید کے طور پر اس حکم کا اعادہ فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے تم لوگوں کو جہاد کے لئے نکلنے کا حکم دے دیاتو تم پر نکلنا ہر حال میں فرض ہوگیا، اور اس حکم کی تعمیل ہی میں تمہاری ہر بھلائی کا انحصار ہے۔
Read the full tafseer →جہاد میں سروسامان کی کمی کوئی عذر نہیں ہے۔ اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا وَّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔
خفاف، خفیف کی اور ثقال، ثقیل کی جمع ہے۔ یہاں خفیف کا لفظ اس شخص کے لیے استعمال ہوا ہے جس کے پاس عسرت کے سبب سے زیادہ سروسامان جنگ اور زاد سفر نہ ہو۔ ثقیل جس کا حال اس کے برعکس ہو، یعنی وہ سروسامان سے بھرپور اور اسلحہ سے لیس ہو۔ مطلب یہ ہے کہ سروسامان کی کمی کو، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، جہاد سے غیر حاضری کے لیے عذر اور بہانہ نہ بناؤ۔ جو سروسامان بھی میسر آسکے، کم یا زیادہ، اس کو فراہم کر کے مال و جان…
Read the full tafseer →41۔ 1 اس کے مختلف مفہوم بیان کئے گئے ہیں مثلًا انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر خوشی سے یا ناخوشی سے غریب ہو یا امیر جوان ہو یا بوڑھا پیادہ ہو یا سوار عیال دار ہو یا اہل و عیال کے بغیر۔ وہ پیش قدمی کرنے والوں میں سے ہو یا پیچھے لشکر میں شامل۔ امام شوکانی فرماتے ہیں آیت کا حمل تمام معافی پر ہوسکتا ہے، اس لئے کہ آیت کے معنی یہ ہیں کہ ' تم کوچ کرو، چاہے نقل و حرکت تم پر بھاری ہو یا ہلکی '۔ اور اس مفہوم میں مذکورہ تمام مفاہیم آجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
37: یہ ہجرت کے واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ آنحضرت ﷺ صرف اپنے ایک رفیق حضرت صدیق اکبر ؓ کے ساتھ مکہ مکرمہ سے نکلے تھے، اور تین دن تک غار ثور میں روپوش رہے تھے۔ مکہ مکرمہ کے کافر سرداروں نے آپ کی تلاش کے لیے چاروں طرف لوگ دوڑائے ہوئے تھے، اور آپ کو گرفتار کرنے کے لیے سو اونٹوں کا انعام مقرر کیا ہوا تھا۔ ایک مرتبہ آپ کو تلاش کرنے والے کھوجی غار ثور کے منہ تک پہنچ گئے اور ان کے پاؤں حضرت صدیق اکبر کو نظر آنے لگے جس کی وجہ سے ان پر گھبراہٹ کے آثار ظاہر ہوئے۔ لیکن حضور سرور دو عالم ﷺ نے اس موقع پر ان سے فرمایا تھا کہ غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے غار کے دہانے پر مکڑی سے جالا تنوا…
Read the full tafseer →ہر حال میں نکلو ، خواہ ہلکے ہو یا بوجھل ، اور جہاد کرو الل کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ ، یہ تمہارے لیے بہتر ہے ، اگر تم جانو۔ ہر حال میں نکلو ، جانی اور مالی قربانی دو ، حجتیں نہ گڑھو اور عذرات نہ پیش کرو ، مشکلات اور رکاوٹوں کو پاٹتے جاؤ۔
ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : " تمہارے لیے یہ بہتر ہے ، اگر تم جانتے ہو "۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ مخلص مومنین ان حقائق کو پا گئے۔ وہ تمام رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود نکل کھڑے ہوئے۔ ان کے پاس عذرات موجود تھے لیکن انہوں نے عذرات سے فائدہ نہ اٹھایا۔ تو اللہ نے ان کے سامنے زمین کے دروازے کھول دئیے۔ ان کے لیے لوگوں کے دل…
Read the full tafseer →2 یعنی پیادہ اور سوار، فقیر اور غنی جو ان اور بوڑھے جس حالت میں ہوں نکل کھڑے ہوں۔ نفیر عام کے وقت کوئی عذر پیش نہ لائیں۔
3 یعنی دنیاوی اور اخروی ہر حیثیت سے۔
Read the full tafseer →آیت 41 اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِقَالاً
یہ جو ہلکے اور بوجھل کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اس سے ان لوگوں کی کیفیت مراد ہے ‘ اور اس کیفیت کے دو پہلو ہوسکتے ہیں۔ ایک پہلو تو داخلی ہے ‘ یعنی بوجھل دل کے ساتھ نکلو یا آمادگی کے ساتھ ‘ اب نکلنا تو پڑے گا ‘ کیونکہ اب بات صرف تحریض و ترغیب تک نہیں رہی ‘ بلکہ جہاد کے لیے نفیر عام ہوچکی ہے ‘ لہٰذا اب اللہ کے رستے میں نکلنا فرض عین ہوچکا ہے۔ اس کا دوسرا پہلو خارجی ہے اور اس پہلو سے مفہوم یہ ہوگا کہ چاہے تمہارے پاس سازو سامان اور اسلحہ وغیرہ کافی ہے تب بھی نکلو اور اگر سازو سامان کم ہے تب بھی۔
Read the full tafseer →45 اس جملہ کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں یعنی خواہ برضا ورغبت نکلو یا بکراہت اور بوجھل دل سے نکلو، یا بےسرو سامانی کی حالت میں نکلو یا ساز و سامان کے ساتھ اور خواہ تم پیدل ہو یا سوار یا مجرد ہو یا عیالدار، مفلس ہو یا نادار جو بھی صورت ہو تمہیں اللہ کی راہ میں نکلنا ضرور چاہیے۔ اور اپنے اموال اور جانوں سے جہاد کرنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب تک کوئی اسلامی حکومت جہاد کا عام اعلان نہ کرے اس وقت تک تو جہاد فرض کفایہ ہوتا ہے لیکن جب ایسا اعلان کر دے تو جہاد مسلمانوں پر فرض عین بن جاتا ہے۔
Read the full tafseer →79 ۔ خفافا اور ثقالا دو مقابل کے لفظ ہیں، ان کی مختلف ومتعدد تفسریں آئی ہیں۔ مثلا تنگدست اور خوشحال، جوان تیز رو اور پیر سست رفتار، بیکار اور مشغول، بےسامان اور باسامان، خوشدلی سے اور بیدلی سے وغیرہا۔ اے شیباوشبانا (ابن جریر، عن الحسن) اے اغنیاء و مساکین (ابن جریر، عن قتادہ) اے مشاغیل وغیر مشاغیل (ابن جریر، عن الحکم) اے نشا طا وغیر نشاطا (ابن جریر عن ابن عباس وقتادۃ) مقصود بہر صورت عموم حکم ہے کہ جس حال میں بھی ہو جہاد کے لئے چل پڑو۔ نکل کھڑے ہو۔ ابن جریر نے متعدد تفسیریں نقل کرکے قول فیصل یہ لکھا ہے کہ خفاف کے تحت میں ہر وہ شخص داخل ہے جسے قوت، صحت، جوان عمری، خوشحالی، بےشغلی غرض کسی بنا پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
آیت نمبر 38 تا 42
ترجمہ : اور (آئندہ) آیت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے غزوہ تبوک کے لئے نکلنے کے لئے کہا، حال یہ ہے کہ لوگ بڑی تنگی میں تھے اور سخت گرمی کا موسم تھا تو ان کے لئے (نکلنا) گراں محسوس ہوا، اے ایمان والو تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لئے کہا گیا تو تم زمین پر چمٹ کر رہ گئے تاء کو اصل میں ثاء مثلثہ میں ادغام کر کے ہمزہ وصل کا اضافہ کر کے (اِثَّاقلْتُم اصل میں تثاقلتم تھا) تاء کو ثاء مثلثہ سے بدل کر ثاء کو ثاء میں ادغام کر کے ہمزہ وصل شروع میں لے آئے یعنی تم سست پڑگئے اور جہاد کے مقابلہ میں وطن میں بیٹھ رہنے کو ترجیح دی، (مالکم) میں استفہام تو…
Read the full tafseer →انفروا خفافا وثقالا نکلو جہاد کو ہلکے اور بھاری۔
خفافًا اور ثقالاً کی تفسیر مختلف طور پر کی گئی ہے : (1) جوان ہو یا بوڑھے (حسن ‘ ضحاک ‘ مجاہد ‘ قتادہ ‘ عکرمہ) ۔ (2) چست ہو یا چست نہ ہو۔ (3) نادار تنگدست ہو یا مالدار فراخ دست) ۔ (4) ہتھیار کم ہوں یا زیادہ (حضرت ابن عباس) ۔ (5) سوار ہو یا پیدل (عطیہ عوفی) ۔ (6) جائیداد اور جاگیر والے نہ ہو یا جائیداد و جاگیر والے ہو جس کو چھوڑنا تم کو پسند نہ ہو (ابن زید) ۔ (7) کاموں میں مشغول ہو یا خالی ہو (حکیم بن عتبہ) ۔ (8) بیمار ہو یا تندرست (ہمدانی) ۔ (9) مجرد ہو یا بیوی بچوں والے۔ (10) تمہارے متعلقین اور نوکر چاکر نہ ہوں یا ہوں (یمانی) ۔ (11) مال سے ہلکے…
Read the full tafseer →(41) یعنی اپنی نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک کیلے بوڑھے اور جوان یا یہ کہ تھوڑے مال کے ساتھ اور زیادہ مال کے ساتھ نکل کھڑے ہو اور اطاعت خداوندی میں جہاد کرو، یہ جہاد بیٹھے رہنے سے بہتر ہے بشرطیکہ تم اس کو جانتے اور اس کی تصدیق کرتے ہو۔
شان نزول : (آیت) ”انفروخفافا وثقالا“۔ (الخ)
ابن جریر ؒ نے حضرمی سے روایت کیا ہے کہ ان سے ذکر کیا گیا کہ کچھ لوگ بیمار تھے اور کچھ بوڑھے تو ان میں سے کچھ کہنے لگے کہ ہم گنہگار نہیں ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Read the full tafseer →اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا : اللہ تعالیٰ نے تبوک کے لیے نہ نکلنے کی صورت میں دنیا و آخرت میں عذاب الیم کی وعید سنا کر اور نبی ﷺ کو اللہ کے سوا کسی کی مدد کا محتاج نہ ہونے کا ذکر فرما کر اب تاکید کے ساتھ تمام مسلمانوں کو جنگ کے لیے نکلنے کا حکم دیا، اسے ”نفیر عام“ کہا جاتا ہے۔ اس حکم کے بعد ہر مسلمان پر نکلنا فرض ہوجاتا ہے، ماں باپ یا کسی کے اذن (اجازت) کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ”ہلکے اور بوجھل“ الفاظ عام ہیں، اس لیے اس میں سب شامل ہیں، یعنی طبیعت چاہتی ہے یا نہیں، خوش حال ہو یا تنگ دست، مجرد ہو یا عیال دار، جوان ہو یا بوڑھے، ہتھیار بند ہو یا بےہتھیار، ہر حال میں جہاد کے لیے نکلو۔ انس ؓ…
Read the full tafseer →اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ حضرت سفیان نے حصین بن عبدالرحمن سے انہوں نے ابو مالک غفاری سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا : سورة برائت میں سے جو آیت سب سے اول نازل ہوئی وہ انفرو اخفا فا وثقالا ہے۔ اور ابو الضحاء نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے : اس کے بعد اس کا اول اور اس کا آخر نازل ہوا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : انفروا خفافاوثقالا یہ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے اور اس میں دس اقوال ہیں : (1) حضرت ابن عسا ؓ سے انفرواثبات کا معنی ذکر کیا گیا ہے ‘ متفرق جماعتوں اور دستوں کی صورت میں نکلو (2) حضرت ابن عباس ؓ سے بھی اور حضرت قتادہ ؓ سے مروی ہے : نکلو اس حال میں کہ چست ہو…
Read the full tafseer →1:۔ الفریانی وابوالشیخ نے ابوالضحی (رح) سے روایت کیا کہ براۃ میں سے سب سے پہلے (یہ آیت) ” انفروا خفافا وثقالا “ نازل ہوئی پھر اس کا اول اور اس کا آخر نازل ہوا۔
2:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ ہر چیز سے پہلے براۃ میں سے نازل ہوئی وہ یہ ہے (آیت) ” انفروا خفافا وثقالا “ پھر اس کا اول اور اس کا آخر نازل ہوا۔
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ سورة برات میں سے سب سے پہلے مذکورہ آیت نازل ہوئی۔
4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انفروا خفافا وثقالا “ سے مراد ہے نشاط جوش کی حالت اور ثقالا سے مراد ہے غیر نشاط یعنی اداسی اور…
Read the full tafseer →اِنْفِرُوْا [ تم لوگ نکلو ] خِفَافًا [ ہلکے ہوتے ہوئے ] وَّثِــقَالًا [ اور بوجھل ہوتے ہوئے ] وَّجَاهِدُوْا [ اور جدوجہد کرو ] بِاَمْوَالِكُمْ [ اپنے مالوں سے ] وَاَنْفُسِكُمْ [ اور اپنی جانوں سے ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کی راہ میں ] ذٰلِكُمْ [ یہ ] خَيْرٌ [ بہتر ہے ] لَّكُمْ [ تمہارے لیے ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُمْ [ اور بوجھل ہوتے ہوئے ] تَعْلَمُوْنَ [ جانتے ہو ]
Read the full tafseer →غزوۂ تبوک میں مومنین مخلصین کی شرکت اور منافقین کی بےایمانی اور بد حالی کا مظاہرہ
جب تبوک چلنے کے لیے حکم ہوا تو مسلمان بھاری تعداد میں آپ کے ہمراہ چلنے کے لیے تیار ہوگئے، اور جن کو کچھ تردد ہوا تھا بعد میں وہ بھی ساتھ ہو لیے۔ کچھ لوگ مریض تھے وہ اپنی مجبوری کی وجہ سے نہ جاسکے اور کچھ لوگ منافق تھے جن کے دو فریق تھے۔ ایک فریق تو وہ تھا جس نے جھوٹے عذر پیش کر کے آپ سے اس بات کی اجازت لے لی کہ آپ کے ساتھ نہ جائیں۔ اور اس وقت ان کا نفاق بالکل کھل کر سامنے آگیا اور منافقین کا دوسرا فریق وہ تھا جو جاسوسی کے لیے اور شرارت کرنے کے لیے ساتھ ہو لیا تھا۔ ان کی باتوں کا تذکرہ اسی سورت میں آ رہا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
قصہ غزوۂ تبوک اور مسلمانوں کو جہاد و قتال کی تاکید اکید اور منافقوں کو تہدید شدید
قال اللہ تعالیٰ ۔ یا ایہا الذین امنوا مالکم۔۔۔ الی۔۔۔ ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون۔
(ربط): شروع سورت میں مشرکین عرب سے براءت اور ان سے جہاد و قتال کا ذکر تھا اسی سلسلہ میں فتح مکہ اور غزوہ حنین کا ذکر کیا بعد ازاں آیہ کریمہ قاتلوالذین لا یؤمنون باللہ الایۃ میں اہل کتاب سے جہاد و قتال کا حکم دیا اب ان آیات میں غزوہ تبوک کا بیان ہے جو ایک نصرانی بادشاہ یعنی قیصر روم کے مقابلہ میں پیش آیا۔ قیصر روم کے مقابلہ میں جہاد و قتال کی ترغیب کے لیے ان آیات کا نزول ہوا اور ان لوگوں پر عتاب ہوا جنہوں نے اس غزوہ میں شرکت سے…
Read the full tafseer →40:“ خِفَافاً ” کم ہتھیاروں کے ساتھ “ وَ ثِقَالاً ” زیادہ ہتھیاروں کے ساتھ مطلب یہ ہے کہ ہتھیاروں اور سامان کی قلت و کثرت کو مت دیکھو۔ ہتھیار کم ہوں یا زیادہ ہر حال میں جہاد کے لیے ضرور نکلو یہ مطلب نہیں کہ مریض ہو یا نہ ہو ضرور نکلو۔ کیونکہ “ لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَاءِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضیٰ ” سے ضعفاء اور مرضی مستثنی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
ربط آیات :
جہاد کے سلسلہ میں غزوہ تبوک کا ذکر ہو رہا ہے۔ ابتدائی آیات میں جہاد کی ترغیب دی گئی تھی اور پھر جہاد میں شریک نہ ہونے والوں کو تنبیہ کی گئی ایمان والوں کو خبردار کیا گیا کہ اگر وہ اللہ اور اس کے رسول کی مدد نہیں کریں گے یعنی آپ کے ساتھ جہاد میں شامل نہیں ہوں گے تو یہ نہ سمجھیں کہ جہاد محض انہیں پر موقوف ہے بلکہ اللہ تعالیٰ تمہارے بغیر بھی اپنے نبی کی مدد کرنے پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یاد دلایا کہ اس نے ہجرت کے مشکل ترین موقع پر بھی مدد فرمائی تھی۔ جب مشرکین نے حضور ﷺ کے قتل مصمم ارادہ کرلیا اور مسلح نوجوانوں نے رات کے وقت آپ کے مکان کا محاصرہ کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال…
Read the full tafseer →اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا وَّجَاہِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ 0 ۭ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 41
نفر
النَّفْرُ : الانْزِعَاجُ عن الشیءِ وإلى الشیء، کالفَزَعِ إلى الشیء وعن الشیء . يقال : نَفَرَ عن الشیء نُفُوراً. قال تعالی: ما زادَهُمْ إِلَّا نُفُوراً [ فاطر/ 42] ، وَما يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُوراً [ الإسراء/ 41] ونَفَرَ إلى الحربِ يَنْفُرُ ويَنْفِرُ نَفْراً ، ومنه : يَوْمُ النَّفْرِ. قال تعالی: انْفِرُوا خِفافاً وَثِقالًا
[ التوبة/ 41] ، إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذاباً أَلِيماً [ التوبة/ 39] ، ما لَكُمْ إِذا قِيلَ لَكُمُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
ترکیب : خفافًا و ثقالاً حال ہیں ضمیر فاعل انفروا سے لوکان کا اسم محذوف ای مادعوتھم الیہ عرضا خبر جملہ شرط لاتبعوک جواب حتی متعلق ہے محذوف سے ای بلا اخرتھم الی ان یتبین والباقی واضح۔
تفسیر : آخر آنحضرت ﷺ کے پاس تیس ہزار لشکر جمع ہوگیا۔ بعض کہتے ہیں ستر ہزار تو پنجشنبہ کے دن رجب کے مہینے میں نویں سال آپ نے کوچ کیا۔ ادھر منافق ہیں کہ ہر منزل سے اجازت لیتے اور بہانے بناتے اور پیچھے رہے جاتے ہیں۔ بہت نے مدینہ ہی میں عذر کرنے شروع کر کردیے۔ ہزاروں جھوٹی قسمیں کھانی شروع کیں کہ ہمیں یہ عذر ہے ٗ یہ ضرورت ہے۔ ہم کو چلنے کی طاقت نہیں ٗبخدا اگر طاقت ہوتی
تو ہم بھی آپ کے ساتھ چلتے۔ ان آیات میں خدا تعالیٰ…
Read the full tafseer →اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِقَالًا وَجَاھِدُوْا بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ ط ذٰلِکُمْ خَیْرٌلَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (التوبۃ : 41 )
نکلو (جہاد کے لیے) ہلکے ہو یا بوجھل اور جہاد کرو اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے اللہ کے راستے میں یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔
نفیرِ عام کے بعد جہاد فرضِ عین ہوجاتا ہے
خفاف، خفیف کی اور ثقال، ثقیل کی جمع ہے۔ ترکیب میں یہ حال واقع ہورہے ہیں۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے جہاد کے لیے ہر ایک کو نکلنے کا حکم دے دیا اور نفیرِ عام کردیا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاد ایک ایک فرد پر فرض ہوگیا ہے۔ اب جہاد سے پیچھے رہنے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ہجرت کا واقعہ یاد دلوا کر اب پھر جہاد فی سبیل اللہ کا حکم دیا گیا ہے۔
ہجرت کے موقع پر نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر صدیق ؓ کا نکلنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ چاہتے تو اپنے نبی کو اس سے پہلے بھی ہجرت کرنے کا حکم دے سکتے تھے لیکن اس نے اپنی قدرت کاملہ کا نمونہ دکھانے کے لیے یہ کیا کہ جب کفار متحد ہو کر انتہائی قدم اٹھا چکے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بسلامت نکال کر یہ ثابت کر دکھایا کہ اللہ کے حکم کے مقابلہ میں کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ اسی پس منظر کی روشنی میں مسلمانوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اللہ کا حکم سمجھ کر تمہیں اس کے راستے میں اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرنے کے…
Read the full tafseer →سامان (اسلحہ ‘ اسباب) خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ اللہ کی راہ میں نکلو :
آیت 41: اِنْفِرُوْا خِفَا فًا (اور تم نکل پڑو تھوڑے سامان سے) اس کی طرف نشاط سے جائو وَّ ثِقَالًا (زیادہ سامان سے) اس کے متعلق مشقت محسوس کرتے ہوئے۔ نمبر 2۔ خفاف جب تمہارے اہل و عیال تھوڑے ہوں اور ثقال اہل و عیال زیادہ ہوں۔ نمبر 3۔ کم مقدار میں اسلحہ ہو یا خوب اسلحہ ہو۔ نمبر 4۔ سوار اور پیدل نمبر 5۔ جو انی و بڑھاپے میں نمبر 6۔ کمزور اونٹوں پر اور موٹے تازے اونٹوں پر نمبر 7۔ صحت مندی اور مرض کی حالت میں۔
وَّ جَاھِدُوْا بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ (اور جہاد کرو اپنے مال اور جان سے) ان دونوں کے ساتھ جہاد ممکن ہو۔ تو دونوں کے…
Read the full tafseer →41۔” انفروا اخفافاً وثقالا “ حسن ، ضحاک ، مجاہد ، قتادہ اور عکرمہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ بوڑھے اور جوان نکلو ۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ چست اور غیر چست سب نکلو۔ عطیہ عوفی (رح) فرماتے ہیں کہ پیدل اور سوار ۔ ابو صالح (رح) فرماتے ہیں ” خفافا ً “ یعنی فقراء ۔ ” ثقالا “ یعنی مالدار ۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ” خفافا ً “ جن کو مال کی وسعت ہو اور ثقالا ً جن پر مالی تنگی ہو اور بعض نے کہا ” خفافا ً “ کم ہتھیار والے اور ثقالا ً زیادہ ہتھیار والے۔ حکم بن عتیبہ (رح) فرماتے ہیں کہ مصروف ہو یا فارغ ۔ مرۃ ہمدانی (رح) فرماتے ہیں کہ تندرست ہو یا مریض ۔ یمان بن باب (رح) فرماتے ہیں کہ کنوارے ہو یا شادی شدہ…
Read the full tafseer →41۔ اس آیت میں اللہ پاک نے جہاد میں جانے کا حکم فرمایا کہ تم کسی حال میں ہو خواہ تم پر جہاد ہلکا ہو خواہ بھاری ہم تم اپنی جان ومال سے خدا کی راہ میں جہاد کرو مفسروں کے قول خفافاوثقالا کی تفسیر میں بہت مختلف ہیں۔ لیکن صحیح تفسیر وہی ہے جو تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی صحیح قول کے حوالہ سے ہے کہ جن لوگوں کو اللہ کے رسول ﷺ لڑائی پر جانے کا حکم دیں ان لوگوں کا دل خواہ چاہے یا نہ چاہے لیکن ان کو اللہ کے رسول کے حکم کی تعمیل کرنی چاہیے اور ہر سمجھ دار کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ کے رسول کی فرمانبرداری میں اس کی بہتری ہے کیونکہ اس طرح کے لوگ اگر شہید ہوگئے تو جنت میں جاویں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
آیت 41
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنے راستے میں جہاد کے لئے نکلنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے۔ (انفروا خفافاً وثقالاً ) ” نکلو ہلکے اور بوجھل “ یعنی تنگی اور فراخی، نشاط اور ناگواری، گرمی اور سردی تمام احوال میں جہاد کے لئے نکلو۔ (وجاھدوا باموالکم و انفسکم فی سبیل اللہ) ” اور اللہ کے راستے میں مال اور جان سے جہاد کرو “ یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لئے اپنی پوری کوشش صرف کردو اور اپنی جان و مال کو کھپا دو ۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ جس طرح جان کے ساتھ جہاد فرض ہے، اسی طرح بوقت ضرورت مال کے ساتھ بھی جہاد فرض ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ذلکم خیر…
Read the full tafseer →قول باری ہے (انفروا خفافاً وثقالاً وجاھدوا باموالکم وانفسکم فی سبیل اللہ) تا آخر آیت۔ حسن، مجاہد اور ضحاک سے مروی ہے کہ ہلکے اور بوجھل سے مراد جوان اور بوڑھے ہیں، ابو صالح سے مروی ہے کہ دولت مند اور فقراء مراد ہیں جبکہ حسن سے ایک اور روایت کے مطابق مصروف کار اور غیر مصروف کار مراد ہیں۔ ایک روایت کے مطابق حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کے نزدیک چست و چالاک اور سست و کاہل مراد ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ کا قول ہے کہ سوار اور پیادو مراد ہیں۔ ایک قول کے مطابق ہنر مند اور غیر ہنر مند مراد ہیں۔
ابو بکر جصاص کہتے ہیں کہ الفاظ میں مذکورہ بالا تمام وجوہ کا احتمال ہے اس لئے تخصیص کی دلالت موجود نہ ہونے کی بنا پر…
Read the full tafseer →95 اللہ کی راہ میں ہر حال میں نکلنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اللہ کی راہ میں نکلو خواہ تم ہلکے ہوا کرو یا بوجھل یعنی ہر حال میں، خواہ اسلحہ خوب ہو یا نہ ہو۔ خواہ تم تیز چلنے والے ہوؤ یا آہستہ۔ خواہ بیمار ہوؤ یا صحت میں۔ پیا دہ ہوؤ یا سوار۔ بوڑھے ہوؤ یا جوان۔ دولت مند ہوؤ یا محتاج۔ (روح، طبری، جامع، ابن کثیر وغیرہ) ۔ یعنی جس سے جس قدر ممکن ہو اتنا اس میں حصہ لے کہ جہاد ایک عظیم الشان عبادت اور جلیل القدر حکم ہے۔ اور اس میں شرکت و حصہ داری ایک عظیم الشان سعادت ہے۔ اس نے قیامت تک باقی رہنا ہے۔ اور قوائے شر و طغیان کی سرکوبی اور معاشرے کی اصلاح و تطہیر کیلئے اس کے سوا…
Read the full tafseer →ہر حال میں جہاد کا حکم
تشریح : یہ آیت سن کر اچھے اور سچے مسلمان اپنی جان اور مال سے جہاد کے لیے خوشی خوشی نکل کھڑے ہوئے مگر منافقین طرح طرح کے بہانے کرنے لگے جن کا ذکر اگلی آیات میں کیا جا رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
آیات 38 تا 42
اسرار و معارف
بات پھر جہاد کی طرف پلٹی کہ بقائے دین کے لئے جہاد سب سے افضل واعلیٰ کام ہے اور ذاتی عبادات کا تحفظ بھی جہاد کا پھل ہے ۔ ورنہ تو کوئی گھر میں بھی سکون سے سجدہ نہ کرسکے ۔
مفسرین کے مطابق ان آیات مبارکہ میں عزوئہ تبوک کا تذکرہ ہے ۔ فتح مکہ کے بعد جب آپ ﷺ مدینہ منورہ پہنچے تو ہرقل روم کی فوجوں کے اجتماع کی خبرملی جو اسلامی ریاست کی سرحد پر جمع ہورہی تھیں جسے عرب کے عیسائی قبائل نے دعوت دی اور یہودیوں نے ابھارا کہ اسلامی ریاست کی اگر خبر نہ لی گئی تو یہ تمہارا گریبان بھی پکڑے گی چناچہ اس نے سال بھر کی پیشگی تنخواہ وغیرہ دے کر ایک لشکر جرار تیار کیا جس کی خبر ان تاجروں…
Read the full tafseer →ف 1 یعن تم خوشحال ہو یا تنگدست جو ان ہو یابو ڑھے۔ تندرست ہو یا بیمار، مجرد ہو یا عیال دار ہتھیار بند ہو یا بےہتھیار۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(9:41) خفافا۔ سبک بار۔ ہلکے۔ خفیف کی جمع بروزن فعیل صفت مشیہ کا صیغہ ہے۔ ثقالا۔ بوجھل۔ ثقیل کی جمع ہے۔ ہر دو خفافا وثقالا۔ انفروا سے حال ہیں۔ خفافا وثقالا۔ یعنی ہر حال میں خواہ تم جواب ہو یا بوڑھے۔ فقیر ہو یا امر ۔ سوار ہو یا پیادے۔ تندرست ہو یا بیمار۔ تنہا ہو یا عیالدار (روح البیان) جنگ کے سامان کے ساتھ یا بغیر سامان جنگ کے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 46
عرض (اسباب، مال غنیمت) سفر قاصد (آرام والا سفر) ، لاتبعوک (البتہ وہ آپ کے پیچھے چل پڑتے) بعدت (دور لگا) الشقۃ (فاصلہ، حصہ) استطعنا (ہماری استطاعت ہوتی) عفا اللہ (اللہ نے معاف کردیا ) لم اذنت (آپ نے کیوں اجازت دی ؟ ) حتی یتبین (جب تک واضح نہ ہوجاتا) صدقوا (جنہوں نے سچ کہا) لا یستاذنو (وہ اجازت نہیں مانگتے ) ارتابت (شک کیا) ریب (شک) یترددون (وہ بھٹک رہے ہیں) لاعدوا (البتہ وہ تیاری کرتے) کرہ اللہ (اللہ نے پسند نہیں کیا) انبعاث (اٹھنا) ثبط (ہم نے جما دیا، روک دیا) افعدوا (بیٹھے رہو)
تشریح آیت نمبر 42 تا 46
تاریخ گواہ ہے کہ جب جنگیں لڑی جاتی ہیں تو ان میں موسم، وسائل،…
Read the full tafseer →جہاد کا حکم
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جہاد میں جانے کا حکم فرمایا کہ تم کسی حال میں ہو خواہ تم پر جہاد ہلکا ہو خواہ بھاری ہو، تم اپنی جان ومال سے خدا کی راہ میں جہاد کرو۔ دین کی لڑائی میں جو واپس آیا تو اجر وغنیمت لے کر، پھر اگر شہید ہوا تو جنت میں داخل ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–47
[26] یعنی خوشی یا گرانی سے، سرو سامان کے ساتھ یا بےسروسامانی سے، حالات خواہ موافق ہوں یا ناموافق، جب نکلنے کا حکم ہوچکا تو جس حال میں ہو نکل کھڑے ہو۔ یہ آیت اس باب میں قطعی ہے کہ دفاع کے لئے جب امام بلائے تو بجزان معذوروں کے جنہیں آگے چل کر آیت 91 میں مستثنیٰ کردیا ہے ہر شخص پر واجب ہوجاتا ہے کہ جان و مال سے شریک جہاد ہو اور اس بارے میں کسی عذر کی گنجائش نہیں۔
Read the full tafseer →(ف 2) اعلان عام کے بعد ہر مسلمان پر لازم ہوجاتا ہے کہ میدان جہاد میں نکل کھڑا ہو ، چاہے کیسی حالت ہو ، کیونکہ اسلام کی عزت و حرمت کے لئے کٹ مرنا مسلمان کے لئے عین سعادت و برکت ہے مسلمان کا اللہ سے عہد ہے ، کہ جب تک جئے گا ، اسلام کی عزت کو بچائے گا ۔
حل لغات :
انفروا : لفظ نفر سرعت کو متضمن ہے صاحب ، عام طور پر مخلص کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ، اور آدمیوں کے گروہ کو بھی نفر کہتے ہیں جس میں کم سے کم تین اور زیادہ سے زیادہ دس آدمی ہوں ۔
قاصدا : درمیانہ آسان ۔
الشقۃ : سفر امید ، بعض نے اسے بالکسر بھی پڑا ہے ۔
Read the full tafseer →41 مسلمانو ! تم جس حالت میں بھی ہو جہاد کیلئے نکل کھڑے ہو خواہ تم ہلکے ہو یا بھاری اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو اگر تم کچھ سمجھ رکھتے ہو تو تمہارے لئے یہی بہتر ہے یعنی نفیر عام کی حالت میں یہ نہ دیکھو کہ سامان تھوڑا ہے یا زیادہ۔ مال دار ہو یا فقیر۔ بوڑھے ہو یا جوان۔ غرض ! جس حالت میں ہو نکل پڑو اور کوچ کرو جہاد کرنا دین و دنیا دونوں کے اعتبار سے بہتر ہے اگر تم جانتے اور یقین رکھتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
ف 1۔ یہاں سے غزوہ تبوک کا بیان ہے تبوک ایک مقام ہے ملک شام میں رسول اللہ جب فتح مکہ و غزوہ حنین وغیرہما سے فارغ ہوئے تو آپ کو خبر ہوئی کہ روم کا بادشاہ مدینہ پر فوج بھیجنی چاہتا ہے اور وہ فوج تبوک میں جمع کی جائے گی آپ نے خود ہی قصد سفر کا مقابلہ کے لیے فرمایا اور مسلمانوں میں اس کا اعلان عام کردیا چونکہ وہ زمانہ گرمی کی شدت کا تھا اور مسلمانوں کے پاس سامان بہت کم تھا اور سفر بھی دوردراز کا تھا اس لیے اس غزوہ میں جانا بڑی ہمت کا کام تھا اس لیے ان آیا میں اس کی بہت ترغیب دی گئی اور چونکہ منافقین بوجہ عدم ایمان وعدم اخلاص کے اس میں طرح طرح کے بہانے پیش کرنے لگے اور ان کی طرح طرح کی خباثتیں ظاہر…
Read the full tafseer →تم کسی حال میں بھی ہو لیکن جب جہاد کا حکم دیا جائے تو ہر حال میں نکل کھڑے ہو :
60: مطلب یہ ہے کہ تم کسی حال میں بھی ہو جب جہاد کا حکم آجائے اور اس کا اعلان کردیا جائے پھر دنیا کا کوئی بندھن ، کوئی مجبوری اور کوئی عذر تمہیں میدان جہاد کا رخ کرنے سے باز نہ رکھے جیسا کہ روح البیان میں ہے کہ ” تم جوان ہو یا بوڑھے ، فقیر ہو یا امیر ، سوار ہو یا پیادے ، تندرست ہو یا بیمار ، تنہا ہو یا عیال دار ہر حالت میں دعوت جہاد پر لبیک کہتے ہوئے رزم گاہ حق و باطل میں شریک ہوجاؤ ۔ “ اگر دشمن عامل ہلہ بول دے اور خلیفہ وقت جہاد عام کا اعلان کر دے تو پھر ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ جہاد میں شریک ہو اور اگر دشمن ملک…
Read the full tafseer →In the fourth verse (41), the command given earlier has been repeated for emphasis. It is being said here that, once the Prophet of Allah orders people to come out for Jihad, they must come out as a matter of absolute obligation - for on the compliance of this command hinges all that is good for them.
Read the full tafseer →