آغاز ہجرت
تم اگر میرے رسول ﷺ کی امداد و تائید چھوڑ دو تو میں کسی کا محتاج نہیں ہوں۔ میں آپ اس کا ناصر موید کافی اور حافظ ہوں۔ یاد رکھو ہجرت والے سال جبکہ کافروں نے آپ کے قتل، قید یا دیس نکالا دینے کی سازش کی تھی اور آپ اپنے سچے ساتھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ تن تنہا مکہ شریف سے بحکم الٰہی تیز رفتاری سے نکلے تھے تو کون ان کا مددگار تھا ؟ تین دن غار میں گذارے تاکہ ڈھونڈھنے والے مایوس ہو کر واپس چلے جائیں تو یہاں سے نکل کر مدینہ شریف کا راستہ لیں۔ صدیق اکبر ؓ لمحہ بہ لمحہ گھبرا رہے تھے کہ کسی کو پتہ نہ چل جائے ایسا نہ ہو کہ وہ رسول کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کو کوئی ایذاء پہنچائے۔ حضور ﷺ…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 42
یہ اس موقع کا ذکر ہے جب کفار مکہ نے نبی ﷺ کے قتل کا تہیہ کرلیا تھا اور آپ عین اس رات کو، جو قتل کے لیے مقرر کی گئی تھی، مکہ سے نکل کر مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد دو دو چار چار کر کے پہلے ہی مدینہ جا چکی تھی۔ مکہ میں صرف وہی مسلمان رہ گئے تھے جو بالکل بےبس تھے یہ منافقانہ ایمان رکھتے تھے اور ان پر کوئی بھروسہ نہ کیا جاسکتا تھا۔ اس حالت میں جب آپ کو معلوم ہوا کہ آپ کے قتل کا فیصلہ ہوچکا ہے تو آپ صرف ایک رفیق حضرت ابوبکر ؓ کو ساتھ لے کر مکہ سے نکلے، اور اس خیال سے کہ آپ کا تعاقب ضرور کیا جائے گا، آپ نے مدینہ کی راہ چھوڑ کر (جو شمال کی طرف تھی) جنوب کی…
Read the full tafseer →تیسری آیت میں رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کا واقعہ پیش کرکے یہ بتلا دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا رسول کسی انسان کی نصرت و امداد کا محتاج نہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو براہ راست غیب سے امداد پہنچا سکتے ہیں، جیسا کہ ہجرت کے وقت پیش آیا، جب آپ کو آپ کی برادری اور اہل وطن نے وطن سے نکلنے پر مجبور کردیا، سفر میں آپ کا رفیق بھی ایک صدیق کے سوا کوئی نہ تھا دشمنوں کے پیادے اور سوار تعاقب کر رہے تھے، آپ کی جائے پناہ بھی کوئی مستحکم قلعہ نہ تھا بلکہ ایک غار تھا، جس کے کنارے تک تلاش کرنے والے دشمن پہنچ چکے تھے، اور رفیق غار ابوبکر کو اپنی جان کا تو غم نہ تھا مگر اس لئے سہم رہے تھے کہ یہ دشمن سردار دو عالم ﷺ پر حملہ آور…
Read the full tafseer →نصروہ میں ضمیر مفعول۔ آگے کے قرائن دلیل ہیں ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی طرف لوٹتی ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے نمایندے کی حیثیت سے آپ نے لوگوں کو اسجہاد کی دعوت دی تھی۔
پیغمبر کے ساتھ خدا کی مدد : اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَــصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ وَاَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى ۭوَكَلِمَةُ اللّٰهِ ھِىَ الْعُلْيَا ۭوَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۔
اوپر والی آیت منافقین سے جس…
Read the full tafseer →40۔ 1 جہاد سے پیچھے رہنے یا اس سے جان چھڑانے والوں سے کہا جا رہا ہے کہ اگر تم مدد نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کا محتاج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کی مدد اس وقت بھی کی جب اس نے غار میں پناہ لی تھی اور اپنے ساتھی (یعنی حضرت ابوبکر صدیق سے کہا تھا ' غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے ' اس کی تفصیل حدیث میں آئی ہے۔ ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ جب ہم غار میں تھے تو میں نے نبی کریم ﷺ سے کہا اگر ان مشرکین نے (جو ہمارے تعاقب میں ہیں) ہمارے قدموں پر نظر ڈالی تو یقینا ہمیں دیکھ لیں گے حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا، یا ابابکر ! ما ظنک باثنین اللہ ثالثھما (صحیح بخاری) اے ابوبکر ! تمہارا ان دو کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
37: یہ ہجرت کے واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ آنحضرت ﷺ صرف اپنے ایک رفیق حضرت صدیق اکبر ؓ کے ساتھ مکہ مکرمہ سے نکلے تھے، اور تین دن تک غار ثور میں روپوش رہے تھے۔ مکہ مکرمہ کے کافر سرداروں نے آپ کی تلاش کے لیے چاروں طرف لوگ دوڑائے ہوئے تھے، اور آپ کو گرفتار کرنے کے لیے سو اونٹوں کا انعام مقرر کیا ہوا تھا۔ ایک مرتبہ آپ کو تلاش کرنے والے کھوجی غار ثور کے منہ تک پہنچ گئے اور ان کے پاؤں حضرت صدیق اکبر کو نظر آنے لگے جس کی وجہ سے ان پر گھبراہٹ کے آثار ظاہر ہوئے۔ لیکن حضور سرور دو عالم ﷺ نے اس موقع پر ان سے فرمایا تھا کہ غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے غار کے دہانے پر مکڑی سے جالا تنوا…
Read the full tafseer →جب حضرت محمد ﷺ کے بارے میں قریش کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ سرکش قوتوں کو جب کامیابی نصیب نہیں ہوتی تو ان کا پیمانہ صبر لبریز ہوجاتا ہے اور وہ تشدد پر اتر آتی ہیں۔ چناچہ قریش نے بھی حضور کے خلاف تشدد کی سازشیں شروع کردیں۔ یہ فیصلہ کرلیا گیا کہ حضور کو قتل کرکے ان سے جان چھڑائی جائے اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم کو ان کی خفیہ سازشوں کی بابت اطلاع کردی۔ اور حکم دیا کہ آپ اب مکہ سے نکل جائیں۔ آپ کے ساتھ صرف ابوبکر صدیق رفیق تھے۔ آپ کے پاس نہ تو کوئی لشکر تھا اور نہ سامان جنگ تھا۔ آپ کے دشمن ہر طرف پھیلے ہوئے تھے اور وہ بہت ہی طاقتور تھے۔ یہاں سیاق کلام میں اس کی نہایت ہی خبوصورت…
Read the full tafseer →1 یعنی بالفرض اگر تم نبی کریم ﷺ کی مدد نہ کرو گے نہ سہی۔ ان کا منصورو کامیاب ہونا کچھ تم پر موقوف نہیں، ایک وقت پہلے ایسا آچکا ہے جب ایک یار غار کے سوا کوئی آپ کے ساتھ نہ تھا۔ معدودے چند مسلمان مکہ والوں کے مظالم سے تنگ آکر ہجرت کر گئے تھے اور آپ ﷺ کو بھی ہجرت کا حکم ہوا مشرکین کا آخری مشورہ یہ قرار پایا تھا کہ ہر قبیلہ کا ایک ایک نوجوان منتخب ہو اور وہ سب مل کر بیک وقت آپ ﷺ پر تلواروں کی ضرب لگائیں تاکہ خون بہا دینا پڑے تو سب قبائل پر تقسیم ہوجائے اور بنی ہاشم کی یہ ہمت نہ ہو کہ خون کے انتقام میں سارے عرب سے لڑائی مول لیں۔ جس شب میں اس ناپاک کاروائی کو عملی جامہ پہنچانے کی تجویز تھی، حضور ﷺ…
Read the full tafseer →آیت 40 اِلاَّ تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللّٰہُ
اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْْغَارِ
یعنی وہ صرف دو اشخاص تھے ‘ محمد رسول اللہ ﷺ خود اور ابوبکر صدیق رض۔
اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا ج
جب حضرت ابوبکر رض نے کہا تھا کہ حضور ﷺ یہ لوگ تو غار کے دہانے تک پہنچ گئے ہیں ‘ اگر کسی نے ذرا بھی نیچے جھانک کر دیکھ لیا تو ہم نظر آجائیں گے ‘ تو حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ غم اور فکر مت کریں ‘ اللہ ہمارے ساتھ ہے !
فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلَیْہِ وَاَیَّدَہٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْہَا وَجَعَلَ کَلِمَۃَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا…
Read the full tafseer →43 آپ کو ہجرت کی اجازت :۔ ہم یہاں پہلے بخاری سے ہجرت کے کچھ چیدہ چیدہ واقعات بیان کریں گے۔ پھر اس آیت کے نکات پیش کریں گے۔
سیدۃ عائشہ ؓ فرماتی ہیں ایک دن ٹھیک دوپہر کو ہم اپنے گھر بیٹھے تھے۔ کسی نے کہا۔ دیکھو رسول اکرم اپنا منہ چھپائے ہمارے ہاں آ رہے ہیں۔ ابوبکر صدیق ؓ کہنے لگے۔ آپ جو اس وقت تشریف لائے ہیں ضرور کوئی اہم معاملہ ہے اتنے میں آپ آپہنچے۔ اندر آنے کی اجازت چاہی۔ اجازت دی گئی وہ اندر داخل ہوئے تو ابوبکر صدیق ؓ سے کہا دوسروں کو یہاں سے نکال دو ۔ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے کہا۔ یا رسول اللہ ! یہاں آپ کے گھر کے لوگ ہی تو ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی۔ ابوبکر صدیق ؓ کہنے…
Read the full tafseer →75 ۔ (اور وہ وقت اس سے بھی زیادہ سخت اور ان کی سخت تر بےبسی کا تھا) اشارہ ہے واقعہ ہجرت کی طرف جب مشرکین مکہ آپ کے قتل پر تل گئے تھے اور آپ حضرت علی ؓ کو اپنے بستر پر سلا کر شباشب تنہا حضرت ابوبکر ؓ کو اپنے ہمراہ لے کر غار میں چھپتے ہوئے مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے تھے۔
76 ۔ آپ دونوں صاحب غار ثور کے اندر چھپے ہوئے تھے کہ مشرکوں کی تلاش کرنے والی پارٹی نقش قدم کے نشانات کی مدد سے اس غار کے منہ تک پہنچ گئی، نشان شناس نے بتایا کہ نشان قدم یہیں تک ملتے ہیں اسی غار کے اندر ہوں گے۔ کون انسان تھا جو ایسے موقع پر اپنے کو جان کے دشمنوں کے ہاتھ میں گرفتار دیکھتے پریشان ومضطر نہ ہوجاتا ؟ حضرت ابوبکر ؓ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
آیت نمبر 38 تا 42
ترجمہ : اور (آئندہ) آیت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے غزوہ تبوک کے لئے نکلنے کے لئے کہا، حال یہ ہے کہ لوگ بڑی تنگی میں تھے اور سخت گرمی کا موسم تھا تو ان کے لئے (نکلنا) گراں محسوس ہوا، اے ایمان والو تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لئے کہا گیا تو تم زمین پر چمٹ کر رہ گئے تاء کو اصل میں ثاء مثلثہ میں ادغام کر کے ہمزہ وصل کا اضافہ کر کے (اِثَّاقلْتُم اصل میں تثاقلتم تھا) تاء کو ثاء مثلثہ سے بدل کر ثاء کو ثاء میں ادغام کر کے ہمزہ وصل شروع میں لے آئے یعنی تم سست پڑگئے اور جہاد کے مقابلہ میں وطن میں بیٹھ رہنے کو ترجیح دی، (مالکم) میں استفہام تو…
Read the full tafseer →الا تنصروہ فقد نصرہ اللہ اگر تم اس کی مدد نہ کرو گے (نہ کرو ‘ اللہ ان کی ضرور مدد کرے گا جیسے) اللہ نے اس وقت ان کی مدد کی۔
اذ اخرجہ الذین کفروا جبکہ کافروں نے ان کو نکال دیا تھا ‘ یعنی مکہ سے نکال دیا تھا۔
ثانی اثنین ایسی حالت میں کہ وہ دو میں سے دوسرے تھے ‘ یعنی صرف دو آدمی تھے۔ ایک وہ تھے اور ان کے ساتھ ایک اور شخص تھا۔ مراد یہ ہے کہ حضرت ابوبکر ان کے ساتھ تھے (کوئی اور ان کا ساتھی بھی نہ تھا) یا یہ مطلب ہے کہ اگر تم لوگ ان کی مدد نہ کرو گے (نہ کرو) اللہ نے ان کی نصرت لازم کردی ہے ‘ یہاں تک کہ اس وقت بھی ان کی نصرت کی جب ایک کے سوا ان کا کوئی ساتھی نہ تھا ‘ لہٰذا آئندہ بھی کسی وقت اللہ ان…
Read the full tafseer →(40) اگر تم لوگ غزوہ تبوک میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ نکل کر آپ کی مدد نہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تو آپ ﷺ کی اس وقت بھی مدد کرچکا ہے، جب کہ مکہ کے کافروں نے آپ ﷺ کو جلاوطن کیا تھا، جب کہ رسول اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ دونوں غار میں موجود تھے اور رسول اکرم ﷺ کئے قلب مبارک پر تسلی نازل فرمائی، بدر، احزاسب، اور حنین کے دن ملائکہ کے لشکر سے آپ ﷺ کو قوت بخشی اور کافروں کے دین کو مغلوب اور ذلیل کیا اور اللہ ہی کا بول بالا رہا اور اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کو سزا دینے میں زبردست اور اپنے دوستوں کی مدد فرمانے میں بڑی حکمت والے ہیں۔
Read the full tafseer →اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَــصَرَهُ اللّٰهُ : یعنی اگر تم تبوک کے لیے نہیں نکلو گے اور اس کی مدد نہیں کرو گے تو وہ خود اکیلا ہی اس کی مدد کے لیے کافی ہے، دیکھ لو جب مکہ کے مشرکوں نے اسے قتل کرنے کا فیصلہ کرکے اسے وطن سے نکلنے پر مجبور کردیا تھا اور اس کے ساتھ صرف ایک ساتھی تھا، اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے تم میں سے کسی کی مدد کے بغیر خود اس کی مدد کی تھی۔ اب بھی اسے تم میں سے کسی کی ضرورت نہیں، ہاں تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ دشمنان اسلام کے مقابلے کے لیے نکلو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔
ثَانِيَ اثْنَيْنِ :”دو میں سے دوسرا“ سے مراد پہلا ہے۔ ”ثَانِيَ اثْنَيْنِ“ میں پہلے رسول اللہ ﷺ اور دوسرے ابوبکر…
Read the full tafseer →اس میں گیارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : الا تنصروہ اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے : اگر تم غزوئہ تبوک میں آپ ﷺ کی معیت میں نکل کر آپ کی مدد نہ کرو گے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی مکرم ﷺ کے غزوہ تبوک سے واپس لوٹنے کے بعد ان کو عتاب کیا۔ نقاش نے کہا ہے : پہلی آیت ہے جو سورة براءت میں میں سے نازل ہوئی۔ اور اس کا معنی یہ ہے : اگر تم نے آپ ﷺ کی مدد کرنا چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ آپ کا ضامن اور کفیل ہے ‘ جب کہ اللہ تعالیٰ نے قلت کے مواقع میں آپ کی مدد و نصرت فرمائی اور آپ کو اپنے دشمن پر عزت و غلبہ کے ساتھ واضح غلبہ عطا فرمایا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : تحقیق اللہ تعالیٰ نے غار میں آپ کے صاحب اور رفیق…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الا تنصروہ فقد نصرہ اللہ ‘ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی پہلی حالت کو بیان فرمایا کہ یہاں تک کہ پھر آپ کو بھیجا اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں میں خود آپ کو ایسی ہی مدد کروں گا جیسے کہ میں نے اس وقت کی جب آپ دو میں سے دوسرے تھے۔
ہجرت مدینہ کا ذکر :
2:۔ ابن منذر وابن ابی شیبہ واحمد البخاری ومسلم وابن ابی حاتم نے براء عازب ؓ سے روایت کیا کہ ابوبکر ؓ نے عازب سے ایک ٹانگ تیرہ درہم میں خریدی اور عازب سے فرمایا کہ براء سے کہا کہ وہ اس کو میرے گھر تک پہنچا دے اس نے کہا نہیں یہاں تک کہ ہم کو بیان…
Read the full tafseer →اِلَّا تَنْصُرُوْهُ [ اگر تم لوگ مدد نہیں کرو گے ان کی ] فَقَدْ نَــصَرَهُ [ تو مدد کرچکا ہے ان کی ] اللّٰهُ [ اللہ ] اِذْ [ جب ] اَخْرَجَهُ [ نکالا ان کو ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں نے جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] ثَانِيَ اثْنَيْنِ [ دو کا دوسرا ہوتے ہوئے ] اِذْ [ جب ] هُمَا [ وہ دونوں ] فِي الْغَارِ [ غار میں تھے ] اِذْ [ جب ] يَقُوْلُ [ وہ کہتے تھے ] لِصَاحِبِهٖ [ اپنے ساتھی سے ] لَا تَحْزَنْ [ غمگین مت ہو ] اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ ] مَعَنَا ۚ [ ہمارے ساتھ ہے ] فَاَنْزَلَ [ تو اتارا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] سَكِيْنَتَهٗ [ اپنی سکینت ] عَلَيْهِ [ ان پر ] وَاَيَّدَهٗ [ اور تائید کی ان کی ]…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے اس وقت اپنے رسول کی مدد فرمائی جب اپنے ساتھی کے ساتھ غار میں تھے :
اللہ جل شانہٗ نے مسلمانوں سے یوں بھی خطاب فرمایا کہ اگر تم رسول کریم ﷺ کی مدد نہ کرو گے تو اس سے اللہ کو اور اللہ کے رسول کو اور اللہ کے دین کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس وقت اپنے رسول کی مدد فرمائی جب انہیں مکہ کے کافروں نے مکہ معظمہ سے نکال دیا اور وہ اپنے ساتھی کے ساتھ غار میں پہنچ گئے۔ اوّل تو دشمنوں کے درمیان سے صحیح سالم نکال دینا پھر غار ثور تک عافیت اور سلامتی کے ساتھ پہنچا دینا پھر جب دشمن غار کے منہ پر پہنچ گئے اس وقت بھی ان کی حفاظت فرمانا اور جو لوگ تلاش میں نکلے تھے ان کو ناکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
قصہ غزوۂ تبوک اور مسلمانوں کو جہاد و قتال کی تاکید اکید اور منافقوں کو تہدید شدید
قال اللہ تعالیٰ ۔ یا ایہا الذین امنوا مالکم۔۔۔ الی۔۔۔ ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون۔
(ربط): شروع سورت میں مشرکین عرب سے براءت اور ان سے جہاد و قتال کا ذکر تھا اسی سلسلہ میں فتح مکہ اور غزوہ حنین کا ذکر کیا بعد ازاں آیہ کریمہ قاتلوالذین لا یؤمنون باللہ الایۃ میں اہل کتاب سے جہاد و قتال کا حکم دیا اب ان آیات میں غزوہ تبوک کا بیان ہے جو ایک نصرانی بادشاہ یعنی قیصر روم کے مقابلہ میں پیش آیا۔ قیصر روم کے مقابلہ میں جہاد و قتال کی ترغیب کے لیے ان آیات کا نزول ہوا اور ان لوگوں پر عتاب ہوا جنہوں نے اس غزوہ میں شرکت سے…
Read the full tafseer →35: اس کی جزاء محذوف ہے “ اي فسینصرہ اللہ ” اور “ فَقَدْ نَصَرَہُ اللـٰهُ ” اس کی علت ہے جو اس کے قائم مقام ہے۔ یعنی اگر تم اس کی یعنی پیغمبر خدا ﷺ کی جہاد سے نہیں کرو گے تو اللہ اس کی مدد کرے گا۔ کیونکہ اس سے پہلے جب مشرکین نے آپ کو مکہ مکرمہ سے نکلنے پر مجبور کیا گیا تھا اور سارا عرب آپ کا دشمن تھا۔ اس وقت بھی اللہ ہی نے آپ کی مدد کی تھی۔ “ الجواب محذوف اقیم سببه مقامه وھو مستقبل اي ان لم تنصروه فسینصره اللہ تعالیٰ الذي قد نصره فی وقت ضرورة اشد من ھذه المرة ” (روح ج 10 ص 96) ۔
36: ثانی ضمیر منصوب سے حال ہے۔ “ اِذْ ھُمَا۔ اِذْ اَخْرَجَهٗ ” سے بدل البعض ہے اور غار سے غارثور مراد ہے جس میں…
Read the full tafseer →ربطِ آیات :
اس رکوع کی پہلی آیت میں جہاد کے لیے ترغیب اور تنبیہ ہے اور اس کے بعد بھی تنبیہات ہیں۔ یہ غزوہ تبوک کا ذکر ہے۔ جو 9 ھ میں پیش آیا فتح مکہ اور حنین کی لڑائی کے بعد حضور ﷺ نے تبوک پر چڑھائی کرنے کا فیصلہ کیا قحط سالی کا زمانہ تھا ، سخت گرمی اور ایک ہزار میل کا فاصلہ طے کر کے جانا تھا۔ سامان سفر بھی قلیل تھا اور مجاہدین کے لیے سواریاں بھی کم تھیں ۔ حتی کہ دس دس آدمیوں کے حصے میں ایک ایک اونٹ ہوتا تھا۔ اس جہاد میں عام لوگوں کو شمولیت کی دعوت دی گئے اور معذوروں کے سوا کسی کو پیچھے رہنے کی اجازت نہ تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اپنے نبی کی آواز پر فورا نکل کھڑے…
Read the full tafseer →اِلَّا تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَــصَرَہُ اللہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِيَ اثْـنَيْنِ اِذْ ہُمَا فِي الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا 0 ۚ فَاَنْزَلَ اللہُ سَكِيْـنَتَہٗ عَلَيْہِ وَاَيَّدَہٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْہَا وَجَعَلَ كَلِمَۃَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى 0 ۭ وَكَلِمَۃُ اللہِ ہِىَ الْعُلْيَا 0 ۭ وَاللہُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 40
نصر
النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ
[ الصف/ 13] وَما لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ
[ التوبة/ 74] ، وَكَفى بِاللَّهِ وَلِيًّا وَكَفى بِاللَّهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ترکیب : اثا قلتم الکلام فیھا مثل الکلام فی ادرأتم ماضی بمعنی مضارع ای مالکم متثاقلون اور موضع اس کا نصب ہے ای ای شیء لکم فی التثاقل من الاخرۃ فی موضع الحال ای بدلہ من الآخرۃ ثانی اثنین حال ہے نصرہ کی ضمیر مفعول سے احدا ثنین والآخر ابوبکر اذ بدل ہے پہلے اذا سے اذیقول بدل ثانی ہے۔
تفسیر : ہجرت کے نویں سال آنحضرت ﷺ نے غزوہ طائف سے واپس آتے ہی جنگ تبوک کا اعلان کردیا تھا کیونکہ شام سے ایک قافلہ نے آکر خبر دی تھی کہ ہرقل شاہ روم کو اس کے خوشامدیوں نے یہ خبر دی ہے کہ آنحضرت ﷺ کا انتقال ہوگیا اور اس کے ملک میں قحط ہے۔ لوگ بےسرو سامان ہیں۔ ایسے وقت میں اس کا ملک آسانی سے ہاتھ آسکتا ہے اس لئے اس نے…
Read the full tafseer →اِلَّا تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللّٰہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْھُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا ج فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلَیْہِ وَاَیَّدَہٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْھَا وَجَعَلَ کَلِمَۃَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا السُّفْلٰے ط وَکَلِمَۃُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا ط وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ ( التوبۃ : 40 )
(اگر تم اس کی مدد نہ کروگے (تو کچھ پرواہ نہیں) اللہ نے اس وقت اس کی مدد فرمائی جبکہ کافروں نے اس کو اس حال میں نکالا کہ وہ صرف دو کا دوسرا تھا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے جبکہ وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ، مکہ کے نازک ترین حالات بتلا کر اللہ تعالیٰ کی نصرت کی یاد دہانی۔
اس سے پہلی آیات میں مسلمانوں کو جھنجوڑا گیا ہے کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم جہاد فی سبیل اللہ کے لیے نکلنے کی بجائے زمین کے ساتھ چمٹے جا رہے ہو اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور تم اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکو گے۔ اللہ تو وہ ذات ہے کہ جس نے اپنے رسول کی اس وقت مدد فرمائی جب اہل مکہ نے اسے مکہ سے نکال دیا تھا اور وہ غار میں پناہ گزیں ہوئے اور آپ کا ساتھی گھبرانے لگا تو آپ نے فرمایا گھبرانے کی ضرورت نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے پھر اللہ…
Read the full tafseer →نصرت دین کرو ورنہ اللہ تمہاری نصرت کا محتاج نہیں :
آیت 40: اِلَّا تَنْصُرُوْہُ (اگر تم لوگ رسول اللہ ﷺ کی مدد نہ کرو گے) پس عنقریب اس کی وہ مدد کرے گا۔ جس نے اس کی اس وقت مدد کی جبکہ ان کے ساتھ ایک آدمی تھا۔ پس اپنے اس ارشاد فَقَدْ نَصَرَہُ اللّٰہُ (تو اللہ آپ کی مدد کرچکا ہے) اس سے ظاہر کردیا کہ وہ مستقبل میں امداد کرے گا۔ جیسا اس وقت میں امداد کی۔ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (اس وقت جبکہ کافروں نے آپ کو جلاوطن کردیا تھا) اس میں اخراج کی نسبت کفار کی طرف کی گئی کیونکہ کفار نے جب نکالنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو نکلنے کا حکم دیا گویا کہ انہوں نے نکالا۔ واقعہ ہجرت :
ثَانِیَ…
Read the full tafseer →40۔” الا تنصروہ فقد نصرہ اللہ “ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطلاع ہے کہ وہ اپنے رسول ﷺ کی مدد اور اپنے دین کے اعزاز کا خود کفیل ہے چاہے وہ مدد کریں یا نہ کریں کیونکہ اس نے اپنے رسول کی اس وقت مدد کی جب دوست کم اور دشمن زیادہ تھے تو آج تو بطریق اولیٰ ہوسکتی ہے کہ دوستوں کی تعدادبھی زیادہ ہے۔ ” اذا اخرجہ الذین کفروا ثانی اثنین “ یعنی وہ دو میں سے ایک تھے اور دو سے حضر ت ابوبکر صدیق ؓ تھے۔” اذھما فی الغار “ جبل ثور ہیں۔
” اذ یقول لصاحبہ لا تحزن ان اللہ معنا “ شعبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے علاوہ تمام زمین والوں کو عتاب کیا ہے۔ جمیع بن عمیر ؓ فرماتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →40۔ جب تبوک کی لڑائی کے وقت موسم گرمی کی سختی اور سفر کی درازی کہ سبب سے بعضے اہل مدینہ نے آنحضرت کے ساتھ سفر کو ٹال دیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اس آیت میں ہجرت کے وقت کا ذکر فرما کر لوگوں کو یہ تنبیہ کردی کہ اگر تم لوگ نبی وقت کی مدد میں کوتاہی کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کا محتاج نہیں جس طرح اس نے اپنے نبی کی مدد ہجرت کے وقت کی ہے اب بھی وہ مدد کریگا ہجت کا قصہ ابوموسیٰ اشعری ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کی روایتوں سے صحیح بخاری میں بصراحت مذکور ہے حاصل اس کا یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے آنحضرت ﷺ نے یہ خواب دیکھا تھا کہ دو پہاڑوں کے بیچ میں کنکریلی زمین ہے اور اس سرزمین پر کھجوریں بہت…
Read the full tafseer →آیت 40
اگر تم اللہ تعالیٰ کے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی مدد نہیں کرتے، تو اللہ تعالیٰ تم سے بےنیاز ہے تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اس نے قلت زاد اور بےکسی کے حالات میں بھی آپ کی مدد فرمائی۔ (اذا اخرجہ الذین کفروا) ” جب اس کو کافروں نے نکال دیا۔ “ جب کفار نے آپ کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا تھا، جب انہوں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور اس مقصد کے حصول کے لئے بھرپور کوشش کی اور وہ اس کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ آخر انہوں نے آپ کو مکہ مکرمہ سے نکلنے پر مجبور کردیا۔ (ثانی اثنین) ” وہ دو میں سے دوسرا تھا “ یعنی نبی کریم ﷺ اور ابوبکر صدیق (اذھما فی الغار) ” جب وہ دونوں غار میں تھے “ یعنی جب رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
دشمن کے مقابلہ کے لئے نکلنے اور جہاد کرنے کی فرضیت کا بیان
قول باری ہے (یآیھا الذین اٰمنوا مالکم اذا قیل لکم انفروا فی سبیل اللہ اثاقلتم الی الارض۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لئے کہا گیا تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گئے) تا قول باری (الا تنفروا یعذبکم عذاباً الیماً ویستبدل قوما غیرکم۔ تم نہ اٹھوگے تو خدا تمہیں درد ناک سزا دے گا اور تمہاری جگہ کسی اور گروہ کو اٹھائے گا۔
جہاد فرض عین ہے یا کفایہ ؟
ظاہر آیت اس شخص پر بھی جہاد کے لئے اٹھ کھڑ ا ہونے کو واجب قرار دیتی ہے جسے اس کی دعوت نہ دی گئی ہو۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (انفروا خفافا…
Read the full tafseer →89 اللہ کا رسول تمہاری مدد کا محتاج نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگوں نے اللہ کے رسول کی مدد نہ کی تو اللہ خود ہی ان کی مدد کے لیے کافی ہے۔ یعنی جواب شرط یہاں پر محذوف ہے اور اس کے ما بعد کا مذکور اس محذوف کے لئے بمنزلہ علت کے ہے۔ اور وہ جواب شرط جو محذوف ہے اسی طرح کے کسی جملے سے مقدر مانا جاسکتا ہے۔ سو جب اللہ کی مدد اللہ کے رسول کو حاصل ہے تو پھر ان کو تمہاری مدد کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے۔ پس تمہیں اگر ان کی نصرت و امداد کا موقع ملتا ہے تو یہ خود تمہارے لیے باعث سعادت ہے۔ اس لیے تم لوگ ایسے ہر موقع کو غنیمت سمجھو۔
90 حضرت صدیق اکبر ؓ کی صحابیت کا ثبوت نصِّ قرآن سے : سو ارشاد فرمایا…
Read the full tafseer →غار ثور میں سکینتِ الٰہی کا نزول
تشریح : اس آیت سے اللہ کی قوت اور حکمت کا پتہ چلتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ہجرت مدینہ کی مثال دی جا رہی ہے۔ اہل مکہ نے آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا کہ تمام قبیلوں سے ایک ایک جوان لیکر آپ ﷺ کے گھر کا محاصرہ کرلیا جائے کہ جونہی آپ ﷺ باہر نکلیں، آپ ﷺ کو نعوذ باللہ قتل کردیا جائے۔ آپ ﷺ کو ان کا منصوبہ معلوم ہوگیا آپ ﷺ نے سیدنا علی ؓ کو امانتیں واپس کرنے کے لیے اپنے بستر پر سلایا اور خود اللہ کی حفاظت میں محاصرہ کرنے والوں کے درمیان میں سے نکل گئے اور ان کو خبر تک نہ ہوئی۔ پھر آپ ﷺ سیدنا ابوبکر ؓ کو لیکر غار ثور میں چھپ گئے وہاں بھی کسی انسان کی مدد کے بغیر صرف اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
آیات 38 تا 42
اسرار و معارف
بات پھر جہاد کی طرف پلٹی کہ بقائے دین کے لئے جہاد سب سے افضل واعلیٰ کام ہے اور ذاتی عبادات کا تحفظ بھی جہاد کا پھل ہے ۔ ورنہ تو کوئی گھر میں بھی سکون سے سجدہ نہ کرسکے ۔
مفسرین کے مطابق ان آیات مبارکہ میں عزوئہ تبوک کا تذکرہ ہے ۔ فتح مکہ کے بعد جب آپ ﷺ مدینہ منورہ پہنچے تو ہرقل روم کی فوجوں کے اجتماع کی خبرملی جو اسلامی ریاست کی سرحد پر جمع ہورہی تھیں جسے عرب کے عیسائی قبائل نے دعوت دی اور یہودیوں نے ابھارا کہ اسلامی ریاست کی اگر خبر نہ لی گئی تو یہ تمہارا گریبان بھی پکڑے گی چناچہ اس نے سال بھر کی پیشگی تنخواہ وغیرہ دے کر ایک لشکر جرار تیار کیا جس کی خبر ان تاجروں…
Read the full tafseer →ف 7 یہاں باتفاق مفسرین (رح) ثانی اثنین سے حضرت ابوبکر ؓ مراد ہیں اور اکثر منا صب دینیہ میں حضرت ابوبکر ؓ دوسرے درجے پر فائز رہے ہیں۔ ، سب سے پہلے مسلمان ہوئے اور لوگوں کو دعوت الی اللہ دی جس پر بہت سے جلیل قدر صحا بہ مسلمان ہوئے، غزوات میں آپ ﷺ سے الگ نہیں ہوئے۔ مر ضالموت میں آپ ﷺ کے قائم مقام کی حیثیت سے مصلیٰ پر کھڑے ہوئے اور پھر آپ ﷺ کے پہلو میں دفن ہوئے۔ اس طرح اول و آخر حضرت صدیق اکبر کو ثانی اثنین ہونے کا شرف حاصل رہا ہے ( ازکبیر)8 یہاں صاحب ہونے کا شرف بھی حضرت ابوبکر ؓ کر حاصل ہے۔ شاد صاحب لکھتے ہیں کہ رفیق غار حضرت ابوبکر ؓ تھے صرف یہی حضرت ﷺ کے ساتھ تھے دوسرے اصحاب دوسرے اصحاب بعض…
Read the full tafseer →(9:40) الا تنصروہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر حاضر کا مرجع رسول اللہ ﷺ ہیں الا تنصروہ فقد نصرہ اللہ۔ ای ان لم تنصروہ فسینصرہ اللہ کما نصرہ (اذ اخرجہ الذین کفروا اثانی اثنین) اگر تم نے (یہ خطاب ہے تثاقل کرنے والوں سے جو جنگ تبوک کے لئے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہ نکلے تھے) رسول کی مدد نہیں کی (تو کیا ہوا) اللہ تعالیٰ خود اس کی مدد فرمائے گا۔ جیسا کہ اس نے مدد فرمائی تھی جب کافروں نے ان کو (مکہ سے) نکالا تھا۔ جب کہ دو میں سے دوسرا وہ تھا (یعنی دو افراد تھے۔ ایک اور دوسرا وہ خود۔ قلت تعداد پر زور دینے کے لئے یہ محاورہ استعمال ہوا ہے) (ثانی اثنین) منصوب ہے بوجہ نصرہ اللہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب پر حال…
Read the full tafseer →لغات القرآن آیت نمبر 40 تا 41
خفاف (ہلکے) ثقال (بھاری)
تشریح :- آیت نمبر 40 تا 41
اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیات میں ارشاد فرمایا تھا کہ جب تمہیں اللہ کے راستے کی طرف بلایا جاتا ہے تو تم زمین میں گڑتے چلے جاتے ہو اور تم سمجھتے ہو کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ تمہاری مدد کے بغیر کامیاب نہ ہو سکیں گے فرمایا کہ یاد رکھو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کسی کی مدد کے محتاج نہیں ہیں۔ ہجرت کے وقت اللہ نے کفار کے مقابلے میں اپنے رسول ﷺ کی جس طرح مدد کی تھی وہ آج بھی بغیر کسی وسیلے اور ذریعہ کے اپنے رسول کی مدد کرسکتا ہے چناچہ فرمایا گیا کہ اگر تم اس موقع پر اللہ کے رسول ﷺ کا ساتھ نہ دو گے تو یاد رکھو اس وقت اللہ نے اپنے…
Read the full tafseer →رسول کریم اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی ہجرت اور ان کی تمام صحابہ پر فضیلت اور ان کا منکر کافر
شان نزول : جب تبوک کی لڑائی کے وقت موسم گرما کی سختی اور سفر کی درازی کے سبب سے بعضے اہل مدینہ نے حضور ﷺ کے ساتھ سفر کو ٹال دیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اس آیت میں ہجرت کے وقت کا ذکر فرما کر لوگوں یہ تنبیہ کردی کہ اگر تم لوگ نبی وقت کی مدد میں کوتاہی کروگے تو اللہ تمہاری مدد کا محتاج نہیں ہے۔ جس طرح اس نے اپنے نبی ﷺ کی مدد ہجرت کے وقت کی ہے، اب بھی وہ مدد کرے گا ہجرت کا قصہ پہلے گزر چکا ہے کہ مکہ مکرمہ سے جب کہ کفار نے دار الندوہ میں حضور ﷺ کے لئے قتل وقید وغیرہ کے برے برے مشورے…
Read the full tafseer →[25] اشارہ ہے واقعہ ہجرت کی طرف جب مشرکین مکہ نبی ﷺ کے قتل پر تل گئے تھے اور آپ سیدنا ابوبکر ؓ کے ہمراہ غارثور میں چھپتے ہوئے مدینے کی طرف روانہ ہوگئے تھے۔
Read the full tafseer →خدا کی بات :
(ف 1) غار ثور میں جب آفتاب نبوت جا کر چھپا ہے تو کرنیں پھوٹ پھوٹ کر باہر نکل رہی تھیں ، دہانہ غار پر کفار موجود تھے ، ان کے پاؤں کی چھاپ صاف سنائی دیتی تھی ، اسی لئے حضرت ابوبکرصدیق ؓ گھبرائے مگر ان کی بصارت گم تھی ، خدا یہ چاہتا تھا کہ اس کی تدبیر کارگر ہو ، اس کی بات بلند ہو ، اور یہ خائب و خاسر رہیں ، چناچہ یہ لوگ ناکام واپس ہوئے حضور ﷺ ہجرت میں کامیاب ہوئے غار ثور سے جب یہ آفتاب وماہتاب نکلے ہیں تو مدینہ چمک اٹھا ، اللہ کا جلال چاروں طرف پھیلا ، چند ہی دنوں میں مکہ والوں کو معلوم ہوگیا کہ انہوں نے سخت غلطی کی ہے ، اور وہ تمام برکات سے محروم ہوگئے ہیں ۔
Read the full tafseer →40 اگرتم رسول اللہ ﷺ کی مدد نہ کروگے تو اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے گا جیسا کہ وہ اپنے رسول کی اس نازک وقت میں مدد کرچکا ہے جب کافروں نے ان کو اس حال میں جلا وطن کیا تھا کہ وہ دو میں سے ایک تھے جس وقت یہ دونوں غار ثور میں تھے اس وقت پیغمبر اپنے ساتھی اور اپنے صاحب سے فرما رہے تھے کہ تو کچھ غم نہ کر اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر تسکین و تسلی نازل فرمائی اور اپنے پیغمبر ! کی ایسے لشکروں سے مدد فرمائی اور ایسے لشکروں سے قوت دی جن کو تم نے نہیں دیکھا اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کی بات نیچی کردی اور ہمیشہ اللہ ہی کی بات اونچی رہتی ہے اور اسی کا بول بالا رہتا ہے اور اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
ف 1۔ یہاں سے غزوہ تبوک کا بیان ہے تبوک ایک مقام ہے ملک شام میں رسول اللہ جب فتح مکہ و غزوہ حنین وغیرہما سے فارغ ہوئے تو آپ کو خبر ہوئی کہ روم کا بادشاہ مدینہ پر فوج بھیجنی چاہتا ہے اور وہ فوج تبوک میں جمع کی جائے گی آپ نے خود ہی قصد سفر کا مقابلہ کے لیے فرمایا اور مسلمانوں میں اس کا اعلان عام کردیا چونکہ وہ زمانہ گرمی کی شدت کا تھا اور مسلمانوں کے پاس سامان بہت کم تھا اور سفر بھی دوردراز کا تھا اس لیے اس غزوہ میں جانا بڑی ہمت کا کام تھا اس لیے ان آیا میں اس کی بہت ترغیب دی گئی اور چونکہ منافقین بوجہ عدم ایمان وعدم اخلاص کے اس میں طرح طرح کے بہانے پیش کرنے لگے اور ان کی طرح طرح کی خباثتیں ظاہر…
Read the full tafseer →اگر تم اس کے رسول کی مدد نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ خود اس کی مدد کرے گا ؟
57: کیا تم اس وقت مدد کرنے سے اس لئے باز رہے کہ تمہارے خیال میں وقت موزوں نہیں تھا ؟ تمہیں کس چیز نا بتایا کہ یہ وقت موزوں نہیں ہے کیا تم نے غور نہیں کیا کہ تم کو نکلنے کا حکم کس نے دیا ؟ اللہ کے رسول نے جس کی کوئی حڑکت اور جس کا کوئی کام رضائے الٰہی کے خلاف نہیں ہوتا۔ حالات موافق ہوتے لیکن رضائے الٰہی نہ ہوتی تو پھر ؟ اگر اس وقت تم کو حالاتت کی ناموافقت روک رہی ہے تو آخر موافق حالات کون پیدا کرتا ہے ؟ حالت کتنی ہی مجبوری کی تھی لیکن جب دفاع ملت کا وقت آجائے تتو اس طرح کی کوئی مجبوری مجبوری تسلیم نہیں کی جاسکتی اور غور…
Read the full tafseer →In the third verse (40), by citing the event of the Hijrah of the Holy Prophet, it has been stressed that the Rasul of Allah has no need to depend on any human help and support. Allah can help him directly through unseen factors - as it happened at the time of Hijrah when his own people had forced him to leave his homeland. On this journey, the only companion he had was Sayyidna Abu Bakr ؓ the true one. Enemy foot soldiers and riders were looking for them in hot pursuit. The place to hide he had found was no fortified fortress. It was just a cave and the enemy search party had reached close…
Read the full tafseer →