Explained with ayahs 38–39
غزوہ تبوک اور جہاد سے گریزاں لوگوں کو انتباہ
ایک طرف تو گرمی سخت پڑ رہی تھی دوسری طرف پھل پک گئے تھے اور درختوں کے سائے بڑھ گئے تھے۔ ایسے وقت رسول اللہ ﷺ ایک دور دراز کے سفر کے لئے تیار ہوگئے غزوہ تبوک میں اپنے ساتھ چلنے کے لئے سب سے فرما دیا کچھ لوگ جو رہ گئے تھے انہیں جو تنبیہ کی گئی ان آیتوں کا شروع اس آیت سے ہے کہ جب تمہیں اللہ کی راہ کے جہاد کی طرف بلایا جاتا ہے تو تم کیوں زمین میں دھنسنے لگتے ہو۔ کیا دنیا کی ان فانی چیزوں کی ہوس میں آخرت کی باقی نعمتوں کو بھلا بیٹھے ہو ؟ سنو دنیا کی تو آخرت کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں۔ حضور ﷺ نے اپنی کلمے کی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اس انگلی…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 40
اسی سے یہ مسئلہ نکلا ہے کہ جب تک نفیر عام (جنگی خدمت کے لیے عام بلاوا) نہ ہو، یا جب تک کسی علاقے کی مسلم آبادی یا مسلمانوں کے کسی گروہ کو جہاد کے لیے نکلنے کا حکم نہ دیا جائے، اس وقت تک تو جہاد فرض کفایہ رہتا ہے، یعنی اگر کچھ لوگ اسے ادا کرتے رہیں تو باقی لوگوں پر سے اس کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے۔ لیکن جب امام المسلمین کی طرف سے مسلمانوں کو جہاد کا عام بلاوا ہوجائے، یا کسی خاص گروہ یا خاص علاقے کی آبادی کو بلاوا دے دیا جائے تو، پھر جنہیں بلاوا دیا گیا ہو ان پر جہاد فرض عین ہے، حتٰی کہ جو شخص کسی حقیقی معذوری کے بغیر نہ نکلے اس کا ایمان تک معتبر نہیں ہے۔
سورة التَّوْبَة 41
یعنی…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں سستی اور کاہلی برتنے والوں کو ان کے مرض اور علاج پر متنبہ کرنے کے بعد آخری فیصلہ یہ بھی سنا دیا کہ
اگر تم جہاد کے لئے نہ نکلے تو اللہ تعالیٰ تمہیں دردناک عذاب میں مبتلا کردیں گے اور تمہاری جگہ کسی اور قوم کو کھڑا کردیں گے، اور دین پر عمل نہ کرنے سے تم اللہ کو یا اللہ کے رسول کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکو گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے“
Read the full tafseer →منافقین کو دھمکی : اِلَّا تَنْفِرُوْا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا ڏ وَّيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوْهُ شَـيْــــًٔـا ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔
یہ ان منافقین کو دھمکی ہے کہ اگر تم خدا کی راہ میں جہاد کے لیے نہ اٹھے تو خدا کے دردناک عذاب کی پکڑ میں آجاؤ گے اور یہ نہ خیال کرو کہ اس نہ اٹھنے سے خدا کا کوئی کام بگڑ جائے گا۔ تمہارا اٹھنا خود تمہارے لیے موجب سعادت دنیا و آخرت ہے۔ ورنہ خدا کا کوئی کام تمہارے اوپر منحصر نہیں ہے۔ وہ اپنے دین کی حمایت و نصرت کے لیے اپنے دوسرے بندے اٹھا کھڑا کرے گا جو تمہاری طرح تن آسان، پست ہمت اور مفاد پرست نہیں ہوں گے۔ سورة…
Read the full tafseer →39۔ 1 شام کے عیسائی بادشاہ ہرقل کے بارے میں اطلاع ملی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف لڑائی کی تیاری کر رہا ہے چناچہ نبی ﷺ نے بھی اس کے لئے تیاری کا حکم دے دیا۔ یہ شوال سن 9 / ہجری کا واقعہ ہے۔ موسم سخت گرمی کا تھا اور سفر بہت لمبا تھا۔ بعض مسلمانوں اور منافقین پر یہ حکم گراں گزرا، جس کا اظہار اس آیت میں کیا گیا ہے اور انہیں لعنت و ملامت کی گئی ہے۔ یہ جنگ تبوک کہلاتی ہے جو حقیقت میں ہوئی نہیں۔ 20 روز مسلمان ملک شام کے قریب تبوک میں رہ کر واپس آگئے۔ اس کو جیش العسرۃ کہا جاتا ہے کیونکہ اس لمبے سفر میں اس لشکر کو کافی دقتوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اثاقلْتُمْ یعنی سستی کرتے اور پیچھے رہنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
36: یہاں سے غزوہ تبوک کے مختلف پہلووں کا بیان شروع ہورہا ہے جو اس سورت کے تقریبا آخر تک چلا گیا ہے اس غزوے کا واقعہ مختصراً یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ فتح مکہ اور غزوہ حنین کے سفر سے واپس مدینہ منورہ تشریف لائے تو کچھ عرصہ بعد شام سے آنے والے کچھ سودا گروں نے مسلمانوں کو بتایا کہ رومی سلطنت کا بادشاہ ہرقل مدینہ منورہ پر ایک زور دار حملہ کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ جس کے لیے اس نے ایک بڑا لشکر شام اور عرب کی سرحد پر جمع کرلیا ہے، اور اپنے فوجیوں کو سال بھر کی تنخواہ پیشگی دے دی ہے۔ صحابہ کرام اگرچہ اب تک بہت سی جنگیں لڑ چکے تھے، مگر وہ سب جزیرہ عرب کے اندر تھیں، یہ پہلا موقع تھا کہ دنیا کی مانی ہوئی…
Read the full tafseer →یہ خطاب ایک متعین واقعہ میں ایک متعین جماعت کو ہے۔ لیکن اپنے مفہوم کے اعتبار سے یہ ہر صاحب عقیدہ اور نظریہ کے لیے عام ہے۔ یہ عذاب جس سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے صرف آخرت کا عذاب ہی نہیں ہے۔ یہ دنیاوی عذاب بھی ہے۔ جو لوگ جہد و جہاد سے پہلو تہی کرتے ہیں اور غلبہ و سربلندی کے لیے جہد مسلسل نہیں کرتے وہ محروم رہتے ہیں اور ذلت کے عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں کیونکہ وہ بھلائی کے کاموں میں حصہ لینے سے محروم رہتے ہیں۔ اور یہ میدان وہ اپنے دشمنوں کے لیے خالی چھوڑ دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ جہاد فی سبیل اللہ اور اسلام کی راہ میں جدوجہد کی راہ چھوڑ دینے کے نتیجے میں نظریاتی لوگوں کا جانی اور مالی نقصان جہاد و قتال…
Read the full tafseer →5 یعنی خدا کا کام تم پر موقوف نہیں۔ تم اگر سستی کرو گے وہ اپنی قدرت کاملہ سے کسی دوسری قوم کو دین حق کی خدمت کے لیے کھڑا کر دے گا۔ تم اس سعادت سے محروم رہو گے جو تمہارے ہی نقصان کا موجب ہے
منّت منہ کہ خدمت سلطاں ہمی کنی
منّت شناس ازوکہ بخدمت گزاشتت
Read the full tafseer →آیت 39 اِلاَّ تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًالا وَّیَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ وَلاَ تَضُرُّوْہُ شَیْءًا ط
اللہ کو تو اپنے دین کا جھنڈا اٹھوانا ہے ‘ اگر تم نہیں اٹھاؤ گے تو تمہیں ہٹا کر اس مقصد کے لیے کسی اور قوم کو آگے لے آئے گا۔
Read the full tafseer →42 اسلامی حکومت کے اعلان پر جہاد فرض عین ہے :۔ یعنی یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے اسلام کی سر بلندی کے لیے تمہیں منتخب کرلیا ہے ورنہ وہ تمہارے بجائے دوسرے لوگوں سے بھی یہ خدمت لے سکتا ہے اور تمہارے انکار کی صورت میں تمہیں ان سے پٹوا بھی سکتا ہے اور خود بھی سزا دے سکتا ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اگر اسلامی حکومت جہاد کا اعلان عام کر دے تو جہاد فرض عین ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →74 ۔ (آیت) ” عذابا الیما “۔ یہ عذاب الیم اسی دنیا میں نمودار ہوگا۔ یعنی تمہارے اوپر موت وہلاکت مسلط کردی جائے گی ، (آیت) ” ویستبدل قوما غیرکم “۔ اور اللہ اپنا کام اسی دوسری قوم سے لے گا، (آیت) ’ لا تضروہ “۔ ضمیر غائب اللہ کے دین کی طرف ہے، خود اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف بھی ضمیر جاسکتی ہے۔ قیل الھاء للہ تعالیٰ وقیل للنبی ﷺ (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
آیت نمبر 38 تا 42
ترجمہ : اور (آئندہ) آیت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے غزوہ تبوک کے لئے نکلنے کے لئے کہا، حال یہ ہے کہ لوگ بڑی تنگی میں تھے اور سخت گرمی کا موسم تھا تو ان کے لئے (نکلنا) گراں محسوس ہوا، اے ایمان والو تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لئے کہا گیا تو تم زمین پر چمٹ کر رہ گئے تاء کو اصل میں ثاء مثلثہ میں ادغام کر کے ہمزہ وصل کا اضافہ کر کے (اِثَّاقلْتُم اصل میں تثاقلتم تھا) تاء کو ثاء مثلثہ سے بدل کر ثاء کو ثاء میں ادغام کر کے ہمزہ وصل شروع میں لے آئے یعنی تم سست پڑگئے اور جہاد کے مقابلہ میں وطن میں بیٹھ رہنے کو ترجیح دی، (مالکم) میں استفہام تو…
Read the full tafseer →الا تنفرواق یعذبکم عذابا الیما اگر تم جہاد کو (جس کی تم کو دعوت دی جا رہی ہے) نہ نکلے تو اللہ تم کو دردناک عذاب دے گا۔ دنیا میں بھی ‘ آخرت میں بھی۔ جب لوگ نہیں گئے تو دنیا میں اللہ نے بصورت خشک سالی عذاب دیا۔
ویستبدل قوما غیرکم اور تمہارے عوض دوسری قوم کو لے آئے گا۔ یعنی ایسی قوم کو لے آئے گا جو فرمانبردار ہوگی۔ بعض علماء کے نزدیک اس قوم سے مراد اہل یمن ہیں۔ حضرت سعید بن جبیر کے نزدیک اہل فارس مراد ہیں۔
ولا نضروہ شیئا اور تم اس کا کچھ نہیں بگاڑو گے۔ یعنی اللہ کے دین کی مدد کرنے میں تمہاری سست کاری اس کو کچھ ضرر نہیں پہنچائے گی۔ اللہ ہر کام میں ہر چیز سے بےنیاز ہے۔ بعض کے نزدیک ہُ ضمیر رسول کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(38۔ 39) اے جماعت صحابہ کرام ؓ تمہیں کیا ہوا کہ جب تمہیں کہا جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ اطاعت خداوندی یعنی غزوہ تبوک میں جاؤ تو تم زمین پر لگے جاتے ہو کیا تم لوگوں نے آخرت کے بدلے دنیاوی زندگی پر قناعت کرلی ہے حقیقت میں دنیاوی زندگی کی کوئی حیثیت نہیں، یعنی اگر تم اپنے نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نہ نکلے تو اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا و آخرت میں سخت سزا دیں گے اور تمہارے بجائے تم سے بہترین اور زیادہ اطاعت کرنے والی قوم پیدا کرے گا، اور تمہارا جہاد کے لیے نہ نکلنا دین الہی کو کچھ نقصان نہیں پہنچائے گا، اللہ تعالیٰ عذاب دینے اور تبدیل کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔
شان نزول : یایھا الذین امنوا…
Read the full tafseer →اِلَّا تَنْفِرُوْا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا : عذاب الیم یعنی دنیا میں ذلت و رسوائی، محکومیت اور غلامی اور آخرت میں آگ کا عذاب جس کی کوئی حد ہی نہیں۔ (وَّيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ) یعنی یہ نہ سمجھو کہ اگر ہم جہاد کے لیے نہ نکلیں گے تو اللہ تعالیٰ کا کام پورا ہونے سے رہ جائے گا، ہرگز نہیں، اگر تم نہ نکلو گے تو وہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور انھیں اسلام غالب کرنے کے لیے جہاد کی سعادت سے نوازے گا اور تم اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکو گے، کیونکہ وہ تمہاری یا کسی اور کی مدد کے بغیر خود اکیلا ہی ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
Read the full tafseer →اس میں ایک مسئلہ ہے۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد الا تنفروا شرط ہے ‘ اسی لیے اس کے آخر سے نون حذف ہے۔ اور اس کا جواب یعذبکم اور ویستبدل قوم غیر کم ہے اور یہ شدید جھڑک ہے اور (جہاد پر) نکلنے کو ترک کرنے میں وعید موکد ہے۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : پختہ اور مسلمہ اصولوں میں سے ہے کہ امر جب وارد ہو تو اس کے ورد میں فعل کے اقتضا سے زیادہ کچھ مقصود نہیں ہوتا ‘ پس رہا ترک امر کے وقت عقاب اور سزا تو وہ نفس امر سے اخذ نہیں کی جاتی اور نہ اقتضا اس کا تضاضا کرتی ہے ‘ بلکہ عقاب اور سزا اس کے بارے خبر سے ثابت ہوتی ہے ‘ جیسے کسی کا یہ قول : ان لم تفعل کذا عذبتک بکذا (اگر تو نے اس…
Read the full tafseer →جہاد میں نہ نکلنے پر وعید :
1:۔ ابوداود وابن منذر وابو الشیخ والحاکم اور آپ نے اس کو صحیح کہا اور ابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ” (آیت) ” الا تنفروا یعذبکم عذابا الیما “ کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے عرب کے قبیلہ کو (جہاد میں) نکلنے کو فرمایا تو وہ اس سے اوجھل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور ان سے بارش کو روک دیا کیونکہ یہ ان کے لئے عذاب تھا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ جب ” ( یہ آیت) ” الا تنفروا یعذبکم عذابا الیما “ نازل ہوئی تو کچھ لوگ اس وقت جنگل میں آپ کے پیچھے رہ گئے وہ اپنی قوم کو سکھاتے تھے۔ منافقوں نے کہا…
Read the full tafseer →اِلَّا تَنْفِرُوْا [ اگر تم لوگ نہیں نکلو گے ] يُعَذِّبْكُمْ [ تو وہ عذاب دے گا تم لوگوں کو ] عَذَابًا اَلِـــيْمًا ڏ [ ایک دردناک عذاب ] وَّيَسْتَبْدِلْ [ اور وہ تبدیل کرے گا ] قَوْمًا [ کسی قوم کو ] غَيْرَكُمْ [ تمہارے علاوہ ] وَ [ اور (یعنی تو) ] لَا تَضُرُّوْهُ [ تم لوگ نقصان نہیں پہنچاؤگے اس کو ] شَـيْــــًٔـا ۭ [ کچھ بھی ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز پر ] قَدِيْرٌ [ قادر ہے ]
ترکیب : (آیت ۔ 39) الا دراصل ان شرطیہ اور لائے نفی کو ملا کر لکھا گیا ہے ۔ لا تنفروا۔ فعل نہی نہیں ہے ۔ یہ دراصل لائے نفی کے ساتھ مضارع لا تنفرون تھا ۔ جو ان کی شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہوا…
Read the full tafseer →مزید فرمایا (اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا) (الآیۃ) اگر تم اللہ کی راہ میں نہ نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں درد ناک عذاب دے گا۔ اور تمہارے بدلہ دوسری قوم کو پیدا فرما دے گا اور تم اللہ کو کچھ بھی ضرر نہیں پہنچا سکتے۔
آخر میں فرمایا (وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) (اللہ ہر چیز پر قادر ہے) وہ عذاب دے سکتا ہے اور تمہارے بدلہ دوسری قوم بھی پیدا فرما سکتا ہے (جو تم سے زیادہ فرمانبر دار ہو) اور دشمنوں کو تمہارے سفر اور تمہارے جنگ کیے بغیر بھی ہلاک کرسکتا ہے۔ لہٰذا یہ سمجھ لیں کہ اگر ہم جہاد میں نہ گئے تو اللہ کو یا اللہ کے دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا جو جائے گا اپنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
قصہ غزوۂ تبوک اور مسلمانوں کو جہاد و قتال کی تاکید اکید اور منافقوں کو تہدید شدید
قال اللہ تعالیٰ ۔ یا ایہا الذین امنوا مالکم۔۔۔ الی۔۔۔ ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون۔
(ربط): شروع سورت میں مشرکین عرب سے براءت اور ان سے جہاد و قتال کا ذکر تھا اسی سلسلہ میں فتح مکہ اور غزوہ حنین کا ذکر کیا بعد ازاں آیہ کریمہ قاتلوالذین لا یؤمنون باللہ الایۃ میں اہل کتاب سے جہاد و قتال کا حکم دیا اب ان آیات میں غزوہ تبوک کا بیان ہے جو ایک نصرانی بادشاہ یعنی قیصر روم کے مقابلہ میں پیش آیا۔ قیصر روم کے مقابلہ میں جہاد و قتال کی ترغیب کے لیے ان آیات کا نزول ہوا اور ان لوگوں پر عتاب ہوا جنہوں نے اس غزوہ میں شرکت سے…
Read the full tafseer →34: اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں ہلاک کر کے تمہاری جگہ کوئی دوسری قوم اپنے دین کی نصرت و تائید کے لیے کھڑی کردے گا۔ اور تم اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
سابقہ مضامین کا خلاصہ :
سورۃ ہذا کی ابتدا مشرکین سے برات اور ان کے خلاف اعلان جنگ سے ہوئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مانعات جہاد کا ذکر کیا۔ کفر اور شرک کرنے والوں کی خرابیاں بیان فرمائیں جن کی وجہ سے ان کے خلاف جنگ ضروری ہوجاتی ہے۔ پھر ان کے ساتھ دوستانہ کرنے کی ممانعت فرمائی۔ اللہ نے اہل ایمان کو مستعد رہنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا خود بھی امتحان لے گا اور مجاہدین اور کمزوروں کو ممتاز کریگا۔ پھر اللہ نے ایمان والوں کو مختلف طریقوں سے دی جانے والی امداد کا ذکر کیا۔ مشرکین کو بیت اللہ شریف کے قریب آنے سے منع فرما دیا۔ اور حکم دیا کہ وہ اس سال کے بعد حج کے لیے نہیں آئیں…
Read the full tafseer →اِلَّا تَنْفِرُوْا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا 0ۥۙ وَّيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوْہُ شَـيْــــًٔـا 0 ۭ وَاللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 39
عذب
والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في
العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21]
واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر،
( ع ذ ب )
العذاب
سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ترکیب : اثا قلتم الکلام فیھا مثل الکلام فی ادرأتم ماضی بمعنی مضارع ای مالکم متثاقلون اور موضع اس کا نصب ہے ای ای شیء لکم فی التثاقل من الاخرۃ فی موضع الحال ای بدلہ من الآخرۃ ثانی اثنین حال ہے نصرہ کی ضمیر مفعول سے احدا ثنین والآخر ابوبکر اذ بدل ہے پہلے اذا سے اذیقول بدل ثانی ہے۔
تفسیر : ہجرت کے نویں سال آنحضرت ﷺ نے غزوہ طائف سے واپس آتے ہی جنگ تبوک کا اعلان کردیا تھا کیونکہ شام سے ایک قافلہ نے آکر خبر دی تھی کہ ہرقل شاہ روم کو اس کے خوشامدیوں نے یہ خبر دی ہے کہ آنحضرت ﷺ کا انتقال ہوگیا اور اس کے ملک میں قحط ہے۔ لوگ بےسرو سامان ہیں۔ ایسے وقت میں اس کا ملک آسانی سے ہاتھ آسکتا ہے اس لئے اس نے…
Read the full tafseer →اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا 5 لا وَّیَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ وَلَا تَضُرُّوْہُ شَیْئًاط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ( التوبۃ : 39 )
(اگر تم نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں دردناک عذاب دے گا اور تمہارے علاوہ ایک دوسری قوم بدل کرلے آئے گا اور تم اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکو گے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ )
حق و باطل کی آویزش میں حق کا ساتھ ایمان کی دلیل ہے
اللہ کے جس قانون کے تحت قوموں کا نظام چل رہا ہے۔ قوموں کے عروج وزوال کے فیصلے ہوتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے اس کی بنیاد یہ ہے کہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ حق و باطل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
فہم القرآن
ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز، جہاد کی تحریص۔
اس سورة کا مرکزی مضمون قتال فی سبیل اللہ اور اس کے متعلقات ہیں لہٰذا قتال فی سبیل اللہ کا خطاب پھر شروع ہوتا ہے۔ اس خطاب کا پس منظر اور شان نزول یہ ہے کہ جب مکہ فتح ہوا اور سرزمین حجاز کے بڑے بڑے قبائل بڑے جوش و جذبہ کے ساتھ حلقہ اسلام میں داخل ہوئے تو مدینہ سے دور دراز کے لوگوں کے سامنے اسلام کی حقانیت واضح ہونے لگی۔ جس بنا پر شام، روم اور دیگر ممالک کے لوگوں نے مسلمانوں کے تہذیب و تمدن اور دین اسلام کی روشن تعلیمات کی طرف توجہ دینا شروع کی۔ جس سے ان ممالک کے حکمرانوں کو شدید خطرہ محسوس ہوا۔ خاص کر اس زمانے کی سب سے بڑی سیاسی قوت سلطنت…
Read the full tafseer →بوجھل پن پر اظہار ناراضی :
آیت 39: اِلَّا تَنْفِرُوْا (اگر تم نہ نکلو گے) لڑائی کی طرف یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ وَلَا تَضُرُّوْہُ شَیْئًا (تو اللہ تم کو درد ناک سزا دے گا اور تمہارے بدلے دوسری قوم پیدا کر دے گا اور تم اللہ کو کچھ ضرر نہ پہنچا سکو گے) اس میں بوجھل پن پر ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے ان کو دردناک عذاب کی دھمکی دی گئی اور اس کو مطلق ذکر کر کے دونوں جہانوں کے سلسلہ میں عام کردیا کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کر دے گا اور ان کی بجائے اور لے آئے گا۔ جو ان سے بہتر اور زیادہ مطیع ہونگے اور اس کو اپنے دین کی امداد کیلئے انکی محتاجی نہیں اور انکا یہ…
Read the full tafseer →39۔ ’ ’ الا تنفروا یعدبکم عذاباً الیما ً “ آخرت میں دردناک عذاب دیا جائے گا ۔ بعض نے دنیا میں ان سے بارش کو روک لینا مراد ہے۔ نجدۃ بن نفیع نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو آپ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو آپ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے عرب کے ایک قبیلہ کو غزوہ کے لیے نکلنے کا کہا تو وہ اپنے گھروں میں رہ گئے تو ان سے بارش روک لی گئی تو یہ ان کا عذاب تھا۔ ” ویستبدل قوماً غیر کم “ تم سے بہتر اور زیادہ فرمانبردار ۔ سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ وہ فارس والے ہیں اور بعض نے کہا وہ یمن والے ہیں۔” ولا تضروہ شیئا واللہ علی کل شی قدیر “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
38۔ 39۔ آنحضرت ﷺ نے ماہ رجب 9 ہجری میں غزوہ تبوک کا ارادہ کیا تبوک شام کی طرف ایک جگہ ہے جو دمشق کے راستہ پر مدینہ سے چودہ منزل پر واقع ہے اس وقت گرمی بڑی سخت پر رہی تھی اور موسم بھی ایسا تھا کہ درخت پھلوں سے لدے پڑے تھے آپ نے بڑے سفر کا یہ ارادہ کیا تھا اس لئے پہلے سے لوگوں کو تیار ہونے کو کہا اکثر لوگ آپ کے ساتھ ہوگئے تھوڑے سے اپنے گھروں میں رہ گئے آپ کے ساتھ نہیں گئے انہیں لوگوں کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے ایماندار لوگو تم اللہ اور رسول پر ایمان لاکر پھر اللہ کے رسول کے حکم سے سرتابی اور دین کی لڑائی میں شریک ہونے سے سہو کرتے ہو اور حیلے بہانے کر کے فقط ان خیالات سے گھروں…
Read the full tafseer →آیت 39
واضح رہے کہ اس سورة کریمہ کا اکثر حصہ غزوہ تبوک میں نازل ہوا ہے، جب رسول اللہ ﷺ نے رومیوں کے مقابلے میں جنگ کے لئے لوگوں کو بلایا۔ اس وقت سخت گرمی کا موسم تھا، لوگوں کے پاس زاد راہ بہت کم تھا اور ان کے معاشی حالات عسرت کا شکار تھے۔ اس کی وجہ سے بعض مسلمانوں میں سستی آگئی تھی جو اللہ تعالیٰ کے عتاب کی موجب بنی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو جہاد کے لئے اٹھنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا : (یا یھا الذین امنوا) ” اے ایمان والو “ ! کیا تم ایمان کے تقاضوں اور یقین کے داعیوں کو نہیں جانتے ؟ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں سبقت کی جائے، اس کی رضا کے حصول، اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
دشمن کے مقابلہ کے لئے نکلنے اور جہاد کرنے کی فرضیت کا بیان
قول باری ہے (یآیھا الذین اٰمنوا مالکم اذا قیل لکم انفروا فی سبیل اللہ اثاقلتم الی الارض۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لئے کہا گیا تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گئے) تا قول باری (الا تنفروا یعذبکم عذاباً الیماً ویستبدل قوما غیرکم۔ تم نہ اٹھوگے تو خدا تمہیں درد ناک سزا دے گا اور تمہاری جگہ کسی اور گروہ کو اٹھائے گا۔
جہاد فرض عین ہے یا کفایہ ؟
ظاہر آیت اس شخص پر بھی جہاد کے لئے اٹھ کھڑ ا ہونے کو واجب قرار دیتی ہے جسے اس کی دعوت نہ دی گئی ہو۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (انفروا خفافا…
Read the full tafseer →88 اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لاسکتا ہے : پس نہ وہ تمہارا محتاج ہے کہ وہ ہر کسی سے اور ہر طرح سے غنی و بےنیاز ہے اور نہ اس کا دین تمہارا حاجت مند ہے۔ اس لئے تمہیں اگر اس کے دین کی خدمت کی سعادت نصیب ہوتی ہے تو وہ خود تمہارے ہی لئے خیر و برکت کا ذریعہ ہے۔ اس لئے تم اس کو اپنے لئے غنیمت وسعادت سمجھو۔ ورنہ تم لوگ اگر نہیں اٹھو گے تو خدا کا یا اس کے دین کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ اس کا کوئی کام تمہارے اوپر منحصر نہیں۔ وہ قادر مطلق اپنے دین کی حمایت و نصرت کے لیے اپنے دوسرے بندوں کو اٹھا کھڑا کرے گا جو تمہاری طرح تن آسان پست ہمت اور مفاد پرست نہیں ہوں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا {…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
جہاد کے وقت سستی اور کراہت پر عذاب کی وعید
تشریح : ان آیات میں جہاد کی ترغیب دی گئی ہے اس کی فضیلت اور جہاد میں شامل نہ ہونے والوں کے لیے غضب کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ غزوئہ تبوک کا واقعہ ہے۔ غزوئہ تبوک نبی اکرم ﷺ کا آخری غزوہ ہے شام اس وقت رومی عیسائیوں کا صوبہ تھا۔ تبوک مدینہ کے شمال میں سرحد شام پر واقع ہے۔
ہوا اس طرح کہ جب رسول اللہ ﷺ 8 ھ میں غزوئہ حنین اور فتح مکہ سے فارغ ہو کر مدینہ پہنچے تو آپ ﷺ کو اطلاع ملی کہ شاہ روم ہرقل نے مدینہ پر حملہ آور ہونے کی تیاری کرلی ہے۔ اور اپنی فوجیں شام کی سرحد پر جمع کردی ہیں اور عرب کے بعض قبیلوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے ارادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
آیات 38 تا 42
اسرار و معارف
بات پھر جہاد کی طرف پلٹی کہ بقائے دین کے لئے جہاد سب سے افضل واعلیٰ کام ہے اور ذاتی عبادات کا تحفظ بھی جہاد کا پھل ہے ۔ ورنہ تو کوئی گھر میں بھی سکون سے سجدہ نہ کرسکے ۔
مفسرین کے مطابق ان آیات مبارکہ میں عزوئہ تبوک کا تذکرہ ہے ۔ فتح مکہ کے بعد جب آپ ﷺ مدینہ منورہ پہنچے تو ہرقل روم کی فوجوں کے اجتماع کی خبرملی جو اسلامی ریاست کی سرحد پر جمع ہورہی تھیں جسے عرب کے عیسائی قبائل نے دعوت دی اور یہودیوں نے ابھارا کہ اسلامی ریاست کی اگر خبر نہ لی گئی تو یہ تمہارا گریبان بھی پکڑے گی چناچہ اس نے سال بھر کی پیشگی تنخواہ وغیرہ دے کر ایک لشکر جرار تیار کیا جس کی خبر ان تاجروں…
Read the full tafseer →ف 6 یہ نہ سمجھو کہ اگر جہاد کے لے ہم نہ نکلیں گے تو اللہ تعالیٰ کا کام بگڑ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی کوئی پروا نہیں۔ وہ اپنے پیغمبر کی ہر طرح سے غالب کرسکتا ہے۔ اس کے بعد ایک دوسرے طریقے سے جہاد کی ترغیب دی ہے۔ ( کبیر )
Read the full tafseer →(9:39) الا۔ ان لا۔ الا تنفروا۔ اگر تم نہیں نکلو گے (اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے) ۔ یعذبکم۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ مجزوم بواجہ شرط کے کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ یستبدل۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ صیغہ واحد مذکر حاضر۔ وہ بدل کرلے آئے گا۔ ولا تضروہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے ۔ جو کہ محذوف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 39
مالکم (تمہیں کیا ہوگیا ؟ ) انفروا (نکل پڑو اثاقلتم (تم گرے جاتے ہو) ارضیتم (کیا تم خوش ہوگئے، راضی ہوگئے) الاتنفروا (اگر تم نہ نکلے) یستبدل (وہ بدل دے گا) لاتضروا (تم نقصان نہ پہنچا سکو گے)
تشریح :- آیت نمبر 38 تا 39
یہ آیات غزوہ تبوک کے موقع پر نازل ہوئیں۔ غزوہ تبوک جو نبی کریم ﷺ کی حیات دنیوی کا آخری غزوہ تھا اس وجہ سے ہوا کہ صلح حدیبیہ کے بعد آپ نے تمام بادشاہوں اور چھوٹی چھوٹی مملکتوں کے سرداروں کے پاس اپنے وفود بھیجے جن کے ذریعہ ان کو اسلام کی دعوت دی گئی تھی ان ہی میں سے ملک شام کی سرحد سے متصل قبائل میں بھی آپ نے اپنے وفد بھیجے۔ ان لوگوں نے سفارتی آداب کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
جنگ تبوک اور منافقوں کا ذکر
شان نزول : آنحضرت ﷺ نے ماہ رجب 9 ھ میں غزوہ تبوک کا ارادہ کیا۔ تبوک میں شام کی طرف ایک جگہ ہے جو دمشق کے راستہ پر مدینہ سے چودہ منزل ہر واقع ہے۔ اس وقت گرمی بڑی سخت پڑ رہی تھی اور درخت پھلوں سے لدے پڑے تھے۔ آپ نے بڑے سفر کا ارادہ کیا تھا اس لئے پہلے سے لوگوں کو تیار ہونے کو کہا۔ اکثر لوگ آپ کے ساتھ ہوگئے اور تھوڑے سے اپنے گھروں میں رہ گئے آپ کے ساتھ نہیں گئے۔ انہیں لوگوں کی شان میں یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ ایماندار لوگو ! تم اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ پر ایمان لاکر پھر اللہ کے رسول کے حکم سے سرتابی اور دین کی لڑائی میں شریک ہونے سے سستی کرتے ہو اور حیلے بہانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
[24] یہاں سے سورت کے آخر تک غزوہ تبوک کے بارے میں بیان ہے۔ تبوک مدینے کے شمال میں سرحد شام پر ایک مقام کا نام ہے۔ شام اس وقت سلطنت روما کا ایک صوبہ تھا۔ نبی ﷺ جب غزوہ حنین سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ آئے تو آپ کو اطلاع ملی کہ رومی فوجیں تبوک میں جمع ہو رہی ہیں اور عنقریب مدینے پر حملہ کرنے والی ہیں۔ آپ نے خود ہی بڑھ کر مقابلہ کرنا چاہا چناچہ تیس ہزار کی جمعیت آپ کے ہمراہ روانہ ہوئی۔ تاہم ایک طرف مقابلہ کسی قبیلے سے نہیں باضابطہ مسلح شاہی فوج سے کرنا تھا، پھر موسم بھی شدید گرمی کا، فصل کے پکنے اور کٹنے کا بھی۔ جب اطلاع ملی کہ مسلمانوں نے پیش قدمی کی ہے تو ان کے حوصلے پست ہوگئے اور قیصر روم نے…
Read the full tafseer →تخلف گناہ ہے ! :
(ف 1) غزوہ تبوک میں کچھ لوگ پیچھے رہ گئے تھے ، ان آیات میں ان کو مخاطب فرمایا ہے ، کہ جب جہاد کا نون عام ہوجائے تمہیں تخلف کی اجازت نہیں ، انداز بیان میں بہت زور ہے ، یوں سمجھ لیجئے ، خطبہ حرب ہے ، ہر شخص کو پکار کر کہا ہے کہ جہاد سے پیچھے نہ رہو ، جب اللہ تمہیں دعوت ایثار دیتا ہے ، تو تخلف کیسا ، کیا دنیا کی حقیر زندگی پر قانع ہوگئے ؟ کیا آخرت میں شہداء کے درجات سے آگاہ نہیں ؟ اس کے بعد یہ بتایا ہے کہ اللہ کی نصرت تمہاری زہین منت نہیں ، تمہیں معلوم ہے کہ جب رسول یکہ و تنہا مکہ سے نکل کھڑے ہوئے تھے ، اور تاریک غار کو انہوں نے اپنا مسکن بنایا تھا ، اس وقت ہم نے ان کی مدد کی ،…
Read the full tafseer →39 اگر تم جہاد کے لئے کوچ نہ کرو گے اور گھروں سے نہ نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو دردناک سزا دے گا اور تمہارے بدلے کسی اور قوم کو تمہاری جگہ لے آئے گا اور تم اللہ تعالیٰ کے دین کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکوگے اور اللہ تعالیٰ ہر شئے پر پوری طرح قادر ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہاں سے مذکور ہے جنگ تبوک کا جب اسلام غالب ہوا اور عرب میں پھیلاشام کے رئیس تھے قوم غسان تابع شاہ روم کے اس فکر میں لگے کہ شاہ روم کو اس طرف لاویں اور جنگ مچادیں۔ حضرت کو خبر ہوئی آپ نے بھی ان پر قصد کیا اور خط لکھا روم کے شاہ کو دین اسلام کی دعوت پر۔ اس پر ثابت ہوئی حضرت کی نبوت لیکن قوم نے رفاقت نہ کی وہ بھی اسلام سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
ف 1۔ یہاں سے غزوہ تبوک کا بیان ہے تبوک ایک مقام ہے ملک شام میں رسول اللہ جب فتح مکہ و غزوہ حنین وغیرہما سے فارغ ہوئے تو آپ کو خبر ہوئی کہ روم کا بادشاہ مدینہ پر فوج بھیجنی چاہتا ہے اور وہ فوج تبوک میں جمع کی جائے گی آپ نے خود ہی قصد سفر کا مقابلہ کے لیے فرمایا اور مسلمانوں میں اس کا اعلان عام کردیا چونکہ وہ زمانہ گرمی کی شدت کا تھا اور مسلمانوں کے پاس سامان بہت کم تھا اور سفر بھی دوردراز کا تھا اس لیے اس غزوہ میں جانا بڑی ہمت کا کام تھا اس لیے ان آیا میں اس کی بہت ترغیب دی گئی اور چونکہ منافقین بوجہ عدم ایمان وعدم اخلاص کے اس میں طرح طرح کے بہانے پیش کرنے لگے اور ان کی طرح طرح کی خباثتیں ظاہر…
Read the full tafseer →شریک جہاد نہ ہونے والے چوتھی قسم کے گروہ کو تنبیہہ کی گئی :
56: اس آیت میں سستی اور کاہلی اختیار کرنے والوں کو ان کے مرض کا علاج بتایا جا رہا ہے اور ساتھ ہی تنبیہہ بھی کی جا رہی ہے کہ ” اگر تم جہاد کے لئے نہ نکلے تو اللہ تعالیٰ تمہیں دردناک عذاب میں مبتلا کردے گا اور تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لا کھڑا کرے گا اور اس طرح اسلام کی ہدایت پر عمل نہ کرنے سے تم اللہ کو یا اللہ کے رسول ﷺ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکو گے اور اللہ تعالیٰ ہرچیز پر قادر ہے۔ جو ہوا اس کا ازالہ سوائے معافی کے اور کچھ نہیں ہو سکتا اور معافی طلب کرنے والا ایسا ہی ہوتا ہے گویا کہ اس سے کوئی گناہ سرزد ہی نہیں ہوا۔
غور کرو گے تو…
Read the full tafseer →It is interesting that the modern world would very much like to eradicate crimes but it would do so by not having to bother about God and the Hereafter. To achieve this purpose, it invents, introduces and surrounds itself with things to live with - a lifestyle which would never allow human beings to turn their attention towards God and Hereafter. The result of this negative approach is no mystery. We are watching it with our own eyes. Even in the face of ever better laws, all legal systems seem to be failing. Crimes are there as they were, in fact, they are increasing with dangerous speed. To…
Read the full tafseer →