Explained with ayahs 38–39
غزوہ تبوک اور جہاد سے گریزاں لوگوں کو انتباہ
ایک طرف تو گرمی سخت پڑ رہی تھی دوسری طرف پھل پک گئے تھے اور درختوں کے سائے بڑھ گئے تھے۔ ایسے وقت رسول اللہ ﷺ ایک دور دراز کے سفر کے لئے تیار ہوگئے غزوہ تبوک میں اپنے ساتھ چلنے کے لئے سب سے فرما دیا کچھ لوگ جو رہ گئے تھے انہیں جو تنبیہ کی گئی ان آیتوں کا شروع اس آیت سے ہے کہ جب تمہیں اللہ کی راہ کے جہاد کی طرف بلایا جاتا ہے تو تم کیوں زمین میں دھنسنے لگتے ہو۔ کیا دنیا کی ان فانی چیزوں کی ہوس میں آخرت کی باقی نعمتوں کو بھلا بیٹھے ہو ؟ سنو دنیا کی تو آخرت کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں۔ حضور ﷺ نے اپنی کلمے کی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اس انگلی…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 38
یہاں سے وہ خطبہ شروع ہوتا ہے جو غزوہ تبوک کی تیاری کے زمانہ میں نازل ہوا تھا۔
سورة التَّوْبَة 39
اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ عالم آخرت کے بےپایاں زندگی اور وہاں کے بےحد و حساب سازو سامان کو جب تم دیکھو گے تب تمہیں معلوم ہوگا کہ دنیا کے تھوڑے سے عرصہ حیات میں لطف اندوزی کے جو بڑے سے بڑے امکانات تم کو حاصل تھے اور زیادہ سے زیادہ جو اسباب عیش تم کو میسر تھے وہ غیر محدود امکانات اور اس نعیم و ملک کبیر کے مقابلہ میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتے۔ اور اس وقت تم کو اپنی اس ناعاقبت اندیشی و کم نگاہی پر افسوس ہوگا کہ تم نے کیوں ہمارے سمجھانے کے باوجود دنیا کے عارضی اور قلیل…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو تم لوگوں کو کیا ہوا کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں (یعنی جہاد کے لئے) نکلو تو تم زمین کو لگے جاتے ہو (یعنی اٹھتے اور چلتے نہیں) کیا تم نے آخرت کے عوض دنیاوی زندگی پر قناعت کرلی سو دنیوی زندگی کی تمتع تو کچھ بھی نہیں بہت قلیل ہے اگر تم (اس جہاد کے لئے) نہ نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو سخت سزا دے گا، (یعنی تم کو ہلاک کردے گا) اور تمہارے بدلے دوسری قوم پیدا کردے گا، (اور ان سے اپنا کام لے گا) اور تم اللہ (کے دین) کو کچھ ضرر نہ پہنچا سکو گے، اور اللہ کو ہر چیز پر پوری قدرت ہے اگر تم لوگ رسول (اللہ ﷺ کی مدد نہ کرو گے تو (اللہ آپ کی مدد کرے گا، جیسا کہ) اللہ…
Read the full tafseer →آیات کا 38 تا 42 مضمون :
اوپر مشرکین اور اہل کتاب کے خلاف اعلان جہاد کردینے کے بعد آگے کلام کا رخ منافقین کی طرف مڑ گیا ہے اور آخر سورة تک انہی کا تعاقب فرمایا ہے۔ گویا کھلے ہوئے دشمنوں کے بعد اب یہ اسلام اور مسلمانوں کے چھپے ہوئے دشمنوں کی طرف توجہ فرمائی گئی ہے اور پوری تفصیل سے ان کی ایک ایک کمزور اور ایک ایک شرارت بےنقاب کر کے رکھ دی گئی ہے تاکہ مسلمان ان سے اچھی طرح آگاہ ہوجائیں اور ان کے اٹھائے ہوئے فتنوں میں مبتلا نہ ہوں۔ اس سے پہلے منافقین کے رویہ پر جو تنقید بھی ہوئی اس کا لب وہ لہجہ نرم رہا ہے لیکن اس سورة میں جس طرح مشرکین اور اہل کتاب کے باب میں آخری فیصلہ کا علان کردیا گیا ہے اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
37۔ 1 نسییء کے معنی پیچھے کرنے کے ہیں۔ عربوں میں بھی حرمت والے مہینوں میں قتال وجدال اور لوٹ مار کو سخت ناپسندیدہ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن مسلسل تین مہینے، ان کی حرمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے، قتل و غارت سے اجتناب، ان کے لئے بہت مشکل تھا۔ اس لئے اس کا حل انہوں نے یہ نکال رکھا تھا جس حرمت والے مہینے میں قتل و غارت کرنا چاہتے اس میں وہ کرلیتے اور اعلان کردیتے کہ اس کی جگہ فلاں مہینہ حرمت والا ہوگا مثلًا محرم کے مہینے کی حرمت توڑ کر اس کی جگہ صفر کو حرمت والا مہینہ قرار دے دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی بابت فرمایا کہ یہ کفر میں زیادتی ہے کیونکہ اس کا ادل بدل مقصود لڑائی اور دنیاوی مفادات کے حصول کے سوا کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
36: یہاں سے غزوہ تبوک کے مختلف پہلووں کا بیان شروع ہورہا ہے جو اس سورت کے تقریبا آخر تک چلا گیا ہے اس غزوے کا واقعہ مختصراً یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ فتح مکہ اور غزوہ حنین کے سفر سے واپس مدینہ منورہ تشریف لائے تو کچھ عرصہ بعد شام سے آنے والے کچھ سودا گروں نے مسلمانوں کو بتایا کہ رومی سلطنت کا بادشاہ ہرقل مدینہ منورہ پر ایک زور دار حملہ کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ جس کے لیے اس نے ایک بڑا لشکر شام اور عرب کی سرحد پر جمع کرلیا ہے، اور اپنے فوجیوں کو سال بھر کی تنخواہ پیشگی دے دی ہے۔ صحابہ کرام اگرچہ اب تک بہت سی جنگیں لڑ چکے تھے، مگر وہ سب جزیرہ عرب کے اندر تھیں، یہ پہلا موقع تھا کہ دنیا کی مانی ہوئی…
Read the full tafseer →درس نمبر 90 ایک نظر میں
آیات کا یہ حصہ ، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر حکم نفیر عام کے بعد نازل ہوا ہوگا۔ جب حضور کو معلوم ہوا کہ رومی جزیرۃ العرب کے شمالی علاقے شام کی حدود پر جمع ہوگئے ہیں۔ الا یہ کہ ہر قل نے اپنے ساتھیوں اور فوجیوں کو ایک سال کا راشن فراہم کردیا ہے اور ان افواج کے ساتھ قبائل لخم ، جذاب ، عاملہ اور غسان بھی شامل ہوگئے ہیں جو شمالی عربی قبائل تھے۔ ان کے ہر اول دستے مقام بلقا تک آپہنچے ہیں۔ ان حالات میں حضور نے بھی مسلمانوں کو عام لشکر کشی کی تیاری کا حکم دے دیا۔ حضور جب بھی کسی غزوے کے لیے نکلتے تو آپ جنگ چال کے طور پر تیاریوں کا رخ دوسری جانب پھیرتے پتہ نہ…
Read the full tafseer →4 یہاں سے غزوہ تبوک کے لیے مومنین کو ابھارا گیا ہے گذشتہ رکوع سے پہلے رکوع میں (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ) 9 ۔ التوبہ :29) سے اہل کتاب کے مقابلہ میں جہاد کرنے کی ترغیب دی گئی تھی۔ درمیان میں جو ذیلی مضامین آئے ان کا ربط موقع بہ موقع ظاہر ہوتا رہا ہے گویا وہ سب رکوع حاضر کی تمہید تھی۔ اور رکوع حاضر غزوہ تبوک کے بیان کی تمہید ہے۔ فتح مکہ و غزوہ حنین کے بعد 9 ہجری میں نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوا کہ شام کا نصرانی بادشاہ (ملک غسان) قیصر روم کی مدد سے مدینہ پر چڑھائی کرنے والا ہے۔ حضور نے مناسب سمجھا کہ ہم خود حدود شام پر اقدام کر کے اس کا جواب دیں۔ اس…
Read the full tafseer →آیت 38 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَکُمْ اِذَا قِیْلَ لَکُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَی الْاَرْضِ ط
اگرچہ یہ وضاحت سورة النساء میں بھی ہوچکی ہے مگر اس نکتے کو دوبارہ ذہن نشین کرلیں کہ قرآن حکیم میں منافقین سے خطاب یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے صیغے میں ہی ہوتا ہے ‘ کیونکہ ایمان کا دعویٰ تو وہ بھی کرتے تھے اور قانونی اور ظاہری طور پر وہ بھی مسلمان تھے۔
اَرَضِیْتُمْ بالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَۃِ ج
یہ بھی ایک متجسسانہ سوال searching question ہے۔ یعنی تم دعویدار تو ہو ایمان بالآخرت کے ‘ لیکن اگر تم اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے نکلنے کو تیار نہیں…
Read the full tafseer →40 غزوہ تبوک میں مسلمانوں کے مقابل اتحادی عیسائی مشرک قبائل مدینہ کے منافق اور یہود :۔ یہاں سے ایک بالکل نیا مضمون یعنی غزوہ تبوک کا آغاز ہو رہا ہے جس کا پس منظر یہ تھا کہ مکہ اور حنین کی فتح کے بعد جب عرب بھر میں اسلام کا بول بالا ہوگیا تو شام کی سرحد پر بسنے والے عرب قبائل اور ان کے بادشاہ غسان نے جو قیصر روم کے ماتحت تھے، مسلمانوں کی ان کامیابیوں کو اپنے لیے عظیم خطرہ سمجھا اور مسلمانوں بلکہ اسلام کی کمر توڑنے کے لیے ایک فیصلہ کن جنگ کی تیاریاں شروع کردیں۔ دوسری طرف عرب بھر میں شکست خوردہ مشرکین اس کی مدد کو موجود تھے اور تیسری طرف مدینہ کے منافقین نے ابو عامر راہب کی وساطت سے غسان اور…
Read the full tafseer →72 ۔ یعنی مستعدی کے ساتھ اٹھتے اور چلتے نہیں۔ اشارہ رجب 9 ھ 620 ء کے غزوہ تبوک کی جانب ہے، تبوک مدینہ کے شمال میں سرحد شام پر ایک مقام کا نام ہے۔ شام اس وقت مسیحیوں کی رومن امپائر کا ایک صوبہ تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ غزوۂ حنین سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ آئے تو آپ کو اطلاع ملی کہ مسیحی فوجیں تبوک پر جمع ہورہی ہیں۔ اور عنقریب مدینہ پر حملہ کرنے والی ہیں۔ آپ ﷺ نے خود ہی بڑھ کر مقابلہ کرنا چاہا۔ چناچہ 30 ہزار کی جمعیت آپ ﷺ کے ہمراہ ہوگئی۔ تاہم اب کے ایک طرف مقابلہ کسی قبیلہ سے نہیں ایک باضابطہ قواعد دان شاہی فوج سے کرنا تھا پھر موسم بھی شدید گرمی کا، فصل کے پکنے اور کٹنے کا زمانہ بھی قریب اور سفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
آیت نمبر 38 تا 42
ترجمہ : اور (آئندہ) آیت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے غزوہ تبوک کے لئے نکلنے کے لئے کہا، حال یہ ہے کہ لوگ بڑی تنگی میں تھے اور سخت گرمی کا موسم تھا تو ان کے لئے (نکلنا) گراں محسوس ہوا، اے ایمان والو تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لئے کہا گیا تو تم زمین پر چمٹ کر رہ گئے تاء کو اصل میں ثاء مثلثہ میں ادغام کر کے ہمزہ وصل کا اضافہ کر کے (اِثَّاقلْتُم اصل میں تثاقلتم تھا) تاء کو ثاء مثلثہ سے بدل کر ثاء کو ثاء میں ادغام کر کے ہمزہ وصل شروع میں لے آئے یعنی تم سست پڑگئے اور جہاد کے مقابلہ میں وطن میں بیٹھ رہنے کو ترجیح دی، (مالکم) میں استفہام تو…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا مالکم اذا قیل لکم انفروا فی سبیل اللہ اثاقلتم الی الارض اے ایمان والو ! تم لوگوں کو کیا ہوا کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں (جہاد کیلئے) نکلو تو زمین کو لگے جاتے ہو۔ یہ خطاب صرف ان مسلمانوں کو ہے جو سستی کی وجہ سے نہیں گئے تھے ‘ یا اس خطاب میں منافق بھی شامل ہیں کیونکہ زبانوں سے تو وہ بھی ایمان کے مدعی تھے۔ ” مالکم “ میں استفہام تنبیہی ہے اور اِذَا قِیْلَ کا مطلب یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے تم کو حکم دے دیا تھا۔ انفروا یعنی نکلو۔ اثَاقَلْتُمْ تم بوجھل ہوگئے ‘ سست پڑگئے یعنی تم اپنی زمین اور اپنے گھروں سے چمٹ گئے۔
ارضیتم بالحیوۃ الدنیا من الاخرۃ کیا تم نے آخرت (کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(38۔ 39) اے جماعت صحابہ کرام ؓ تمہیں کیا ہوا کہ جب تمہیں کہا جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ اطاعت خداوندی یعنی غزوہ تبوک میں جاؤ تو تم زمین پر لگے جاتے ہو کیا تم لوگوں نے آخرت کے بدلے دنیاوی زندگی پر قناعت کرلی ہے حقیقت میں دنیاوی زندگی کی کوئی حیثیت نہیں، یعنی اگر تم اپنے نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نہ نکلے تو اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا و آخرت میں سخت سزا دیں گے اور تمہارے بجائے تم سے بہترین اور زیادہ اطاعت کرنے والی قوم پیدا کرے گا، اور تمہارا جہاد کے لیے نہ نکلنا دین الہی کو کچھ نقصان نہیں پہنچائے گا، اللہ تعالیٰ عذاب دینے اور تبدیل کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔
شان نزول : یایھا الذین امنوا…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِيْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا : سورت کے شروع سے لے کر 37 آیات تک عرب کے مشرکین سے اعلان براءت اور اہل کتاب سے مسلمانوں کے تعلقات اور جہاد کے بنیادی احکام، بدر اور حنین کے واقعات اور ان میں اللہ تعالیٰ کی نصرت اور غیبی مدد کا تفصیلی ذکر کرنے کے بعد اب جنگ تبوک کا تفصیلی ذکر اور اس میں منافقین کے کردار کو کھول کر بیان کیا گیا ہے اور اس جنگ سے پیچھے رہنے والوں پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے، اس لیے اس سورت کو فاضحہ یعنی منافقین کو رسوا کرنے والی بھی کہتے ہیں۔ علاوہ ازیں جہاد پر ابھارنے کے لیے وعدہ و وعید، انذار وتبشیر اور ثواب و عذاب وغیرہ کے…
Read the full tafseer →اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : مالکم اس میں ماحرف استفہام برائے تقریر و توبیخ ہے ‘ تقدیر عبارت ہے : أی شیٔ یمنعم عن کذا (کون سی شی تمہیں اس طرح کرنے سے منع کرتی ہے) جیسا کہ آپ کہتے ہیں : کیا ہے تجھے کہ تو فلاں سے اعراض کررہا ہے ؟ مالک عن فلان معرضا ؟ اور اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہ آیت غزوئہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہنے والوں کے لیے ان کے پیچھے رہنے پر بطور عتاب نازل ہوئی اور یہ فتح مکہ کے ایک سال بعد 9 ھ کا واقعہ ہے ‘ عنقریب اس کا ذکر سورة کے آخر میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
اور النفر کا معنی ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ کسی نئے ہونے والے کام کی وجہ سے سرعت اور تیزی…
Read the full tafseer →1:۔ سعید وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” یایھا الذین امنوا مالکم اذا قیل لکم انفروا “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت (نازل ہوئی) جب فتح مکہ غزوہ حنین کے بعد غزوہ تبوک کا حکم دیا گیا اللہ تعالیٰ نے اس کو موسم گرما میں اس وقت نکلنے کا حکم فرمایا جبکہ زمین چٹیل تھی پھل پکے ہوئے تھے اور سائے کو طبیعت چاہ رہی تھی تو (اس حال میں) ان پر نکلنا بھاری ہوا (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت ) ” انفروا خفافا وثقالا “۔
2:۔ امام حاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا مستور ؓ سے روایت کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس تھے آپس میں دنیا اور آخرت کا تذکرہ کیا…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] مَا لَكُمْ [ تمہیں کیا ہے ] اِذَا [ جب ] قِيْلَ [ کہاجاتا ہے ] لَكُمُ [ تم لوگوں سے ] انْفِرُوْا [ کہ تم لوگ نکلو ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ میں ] اثَّاقَلْتُمْ [ تو تم لوگ بوجھل ہوتے ہو ] اِلَى الْاَرْضِ ۭ [ زمین کی طرف ] اَ [ کیا ] رَضِيْتُمْ [ تم لوگ راضی ہوئے ] بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [ دنیوی زندگی پر ] مِنَ الْاٰخِرَةِ ۚ [ آخرت سے (زیادہ ) ] فَمَا [ تو نہیں ہے ] مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [ دنیوی زندگی کا سامان ] فِي الْاٰخِرَةِ [ آخرت (کے مقابلہ ) میں ] اِلَّا [ مگر ] قَلِيْلٌ [ بہت تھوڑا ]
Read the full tafseer →خروج فی سبیل اللہ کے لیے کہا جائے تو نکل کھڑے ہو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب دے گا اور تمہارے بدلہ دوسری قوم کو لے کر آئے گا !
معالم التنزیل (ص 292 ج 2) میں لکھا ہے کہ آیت کریمہ (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَکُمْ اِذَاقِیْلَ لَکُمُ انْفِرُوْا) (الآیۃ) غزوہ تبوک میں شرکت کرنے کی ترغیب دینے کے لیے نازل ہوئی جس کا واقعہ یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ طائف کے حصار کے بعد مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو آپ نے حکم دیا کہ اب رومیوں سے جہاد کرنے کے لیے چلو (خبر ملی تھی کہ رومی مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے شام کی سرحد پر جمع ہوگئے ہیں) صوبہ شام اس وقت رومیوں کے زیر نگین تھا اور وہاں ہرقل کی حکومت تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
قصہ غزوۂ تبوک اور مسلمانوں کو جہاد و قتال کی تاکید اکید اور منافقوں کو تہدید شدید
قال اللہ تعالیٰ ۔ یا ایہا الذین امنوا مالکم۔۔۔ الی۔۔۔ ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون۔
(ربط): شروع سورت میں مشرکین عرب سے براءت اور ان سے جہاد و قتال کا ذکر تھا اسی سلسلہ میں فتح مکہ اور غزوہ حنین کا ذکر کیا بعد ازاں آیہ کریمہ قاتلوالذین لا یؤمنون باللہ الایۃ میں اہل کتاب سے جہاد و قتال کا حکم دیا اب ان آیات میں غزوہ تبوک کا بیان ہے جو ایک نصرانی بادشاہ یعنی قیصر روم کے مقابلہ میں پیش آیا۔ قیصر روم کے مقابلہ میں جہاد و قتال کی ترغیب کے لیے ان آیات کا نزول ہوا اور ان لوگوں پر عتاب ہوا جنہوں نے اس غزوہ میں شرکت سے…
Read the full tafseer →33: حصہ دوم : یہاں سے سورت کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے۔ بیان دعویٰ کے بعد اب یہاں سے منافقین پر زجر اور مومنوں کیلئے ترغیب الی القتال کا ذکر ہے۔ “ اثَّاقَلْتُمْ اِلَی الْاَرْضِ ” یعنی جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلو تو تم زمین پر گرے پڑتے ہو۔ کیا تم آخرت کی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہو لیکن یاد رکھو دنیا کا سارا مال و متاع آخرت کے انعامات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں “ فی الاخرة بدل الاخرة ”۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
سابقہ مضامین کا خلاصہ :
سورۃ ہذا کی ابتدا مشرکین سے برات اور ان کے خلاف اعلان جنگ سے ہوئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مانعات جہاد کا ذکر کیا۔ کفر اور شرک کرنے والوں کی خرابیاں بیان فرمائیں جن کی وجہ سے ان کے خلاف جنگ ضروری ہوجاتی ہے۔ پھر ان کے ساتھ دوستانہ کرنے کی ممانعت فرمائی۔ اللہ نے اہل ایمان کو مستعد رہنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا خود بھی امتحان لے گا اور مجاہدین اور کمزوروں کو ممتاز کریگا۔ پھر اللہ نے ایمان والوں کو مختلف طریقوں سے دی جانے والی امداد کا ذکر کیا۔ مشرکین کو بیت اللہ شریف کے قریب آنے سے منع فرما دیا۔ اور حکم دیا کہ وہ اس سال کے بعد حج کے لیے نہیں آئیں…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِيْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ 0 ۭ اَرَضِيْتُمْ بِالْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا مِنَ الْاٰخِرَۃِ 0 ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَۃِ اِلَّا قَلِيْلٌ 38
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ترکیب : اثا قلتم الکلام فیھا مثل الکلام فی ادرأتم ماضی بمعنی مضارع ای مالکم متثاقلون اور موضع اس کا نصب ہے ای ای شیء لکم فی التثاقل من الاخرۃ فی موضع الحال ای بدلہ من الآخرۃ ثانی اثنین حال ہے نصرہ کی ضمیر مفعول سے احدا ثنین والآخر ابوبکر اذ بدل ہے پہلے اذا سے اذیقول بدل ثانی ہے۔
تفسیر : ہجرت کے نویں سال آنحضرت ﷺ نے غزوہ طائف سے واپس آتے ہی جنگ تبوک کا اعلان کردیا تھا کیونکہ شام سے ایک قافلہ نے آکر خبر دی تھی کہ ہرقل شاہ روم کو اس کے خوشامدیوں نے یہ خبر دی ہے کہ آنحضرت ﷺ کا انتقال ہوگیا اور اس کے ملک میں قحط ہے۔ لوگ بےسرو سامان ہیں۔ ایسے وقت میں اس کا ملک آسانی سے ہاتھ آسکتا ہے اس لئے اس نے…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَالَکُمْ اِذَا قِیْلَ لَکُمُ انْفِرُوْافِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَی الْاَرْضِ ط اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَۃِج فَمَا مَتَاعَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَۃِ اِلَّاقَلِیْلٌ (التوبۃ : 38 )
(اے ایمان والو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تمہیں کہا جاتا ہے کہ نکلو اللہ کے راستے میں تو ڈھے جاتے ہو زمین کی طرف کیا تم ریجھ گئے ہو دنیا کی زندگی پر آخرت کے مقابلے میں سو نہیں ہے دنیا کی زندگی کا سروسامان آخرت کے مقابلے میں مگر قلیل۔ )
اس آیت کریمہ سے وہ خطبہ شروع ہورہا ہے جو غزوہ تبوک کی تیاری کے دنوں میں آپ پر نازل ہوا ہے۔ اس خطبے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
فہم القرآن
ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز، جہاد کی تحریص۔
اس سورة کا مرکزی مضمون قتال فی سبیل اللہ اور اس کے متعلقات ہیں لہٰذا قتال فی سبیل اللہ کا خطاب پھر شروع ہوتا ہے۔ اس خطاب کا پس منظر اور شان نزول یہ ہے کہ جب مکہ فتح ہوا اور سرزمین حجاز کے بڑے بڑے قبائل بڑے جوش و جذبہ کے ساتھ حلقہ اسلام میں داخل ہوئے تو مدینہ سے دور دراز کے لوگوں کے سامنے اسلام کی حقانیت واضح ہونے لگی۔ جس بنا پر شام، روم اور دیگر ممالک کے لوگوں نے مسلمانوں کے تہذیب و تمدن اور دین اسلام کی روشن تعلیمات کی طرف توجہ دینا شروع کی۔ جس سے ان ممالک کے حکمرانوں کو شدید خطرہ محسوس ہوا۔ خاص کر اس زمانے کی سب سے بڑی سیاسی قوت سلطنت…
Read the full tafseer →ترغیب جہاد :
آیت 38: یٰٓاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مَا لَکُمْ اِذَاقِیْلَ لَکُمُ انْفِرُوْا (اے ایمان والو تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ نکلو) فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اثَّا قَلْتُمْ (اللہ کی راہ میں تو تم لگے جاتے ہو) تم بوجھل بنتے ہو۔ اس کی اصل تثاقلتم ہے۔ تا کو ثا کر کے اس میں ادغام کردیا پھر ہمزئہ وصل ابتداء بالسکون کی وجہ سے بڑھا دیا۔ مطلب یہ ہے کہ تم سستی کرتے ہو۔ اِلَی الْاَرْضِ (زمین کو) اِلٰٰی کے ساتھ متعدی کر کے میل و اخلاد کا معنی شامل کیا۔ نمبر 1: یعنی تم دنیا اور اس کی شہوات کی طرف مائل ہو۔ اور سفر کی صعوبتیں اور تھکاوٹیں ناپسند کرتے ہو۔
نمبر 2۔ تم اپنے گھروں…
Read the full tafseer →تفسیر 38۔” یایھا الدین امنوا ما لکم اذا قیل لکم انفروا فی سبیل اللہ اثاقلتم الی الارض “۔
آیت کا شان نزول
یہ آیت غزوہ تبوک پر ابھارنے کے لیے نازل ہوئی ہے کیونکہ جب نبی کریم ﷺ طائف سے لوٹے تو غزوہ روم کے جہاد کا حکم دیا گیا ۔ اس وقت مسلمان بڑے تنگدست تھے اور سخت گرمی کا موسم تھا اور پھل خوب پک چکے تھے اور آپ (علیہ السلام) جب کسی غزوہ کے لیے تشریف لے جانا چاہتے تو اپنے ارادہ کو ظاہر نہ فرماتے تھے بلکہ کسی اور جگہ کی طرف توریہ کرتے ۔ لیکن اس غزوہ میں کیونکہ لمبا سفر سخت گرمی میں کرنا تھا اور دشمن کی تعداد بہت زیادہ تھی تو آپ (علیہ السلام) نے تمام صورت حال مسلمانوں کے سامنے ظاہر کردی اور کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
38۔ 39۔ آنحضرت ﷺ نے ماہ رجب 9 ہجری میں غزوہ تبوک کا ارادہ کیا تبوک شام کی طرف ایک جگہ ہے جو دمشق کے راستہ پر مدینہ سے چودہ منزل پر واقع ہے اس وقت گرمی بڑی سخت پر رہی تھی اور موسم بھی ایسا تھا کہ درخت پھلوں سے لدے پڑے تھے آپ نے بڑے سفر کا یہ ارادہ کیا تھا اس لئے پہلے سے لوگوں کو تیار ہونے کو کہا اکثر لوگ آپ کے ساتھ ہوگئے تھوڑے سے اپنے گھروں میں رہ گئے آپ کے ساتھ نہیں گئے انہیں لوگوں کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے ایماندار لوگو تم اللہ اور رسول پر ایمان لاکر پھر اللہ کے رسول کے حکم سے سرتابی اور دین کی لڑائی میں شریک ہونے سے سہو کرتے ہو اور حیلے بہانے کر کے فقط ان خیالات سے گھروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
آیت 37
(النسیء) ” تاخیر “ وہ ہے جو اہل جاہلیت حرام مہینوں میں استعمال کیا کرتے تھے۔ یہ ان کی جملہ بدعات میں سے ایک بدعت تھی کہ جب انہیں حرام مہینوں میں سے کسی مہینے میں لڑائی کی ضرورت پڑتی، تو وہ۔۔۔ اپنے فاسد آراء کے مطابق سمجھتے تھے کہ حرام مہینوں کی گنتی کو پورا رکھا جائے جن کے اندر لڑائی حرام ہے اور یہ کہ وہ بعض حرام مہینوں کو موخر یا مقدم کردیتے تھے اور اس کی جگہ حلال مہینوں میں سے کسی مہینے کو حرام بنا لیتے تھے۔ جب ان حرام کی جگہ حلال مہینوں کو مقرر کردیتے تو حرام مہینوں میں لڑائی کو حلال کرلیتے اور حلال مہینوں کو حرار قرار دے دیتے ان کا یہ رویہ۔۔۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
دشمن کے مقابلہ کے لئے نکلنے اور جہاد کرنے کی فرضیت کا بیان
قول باری ہے (یآیھا الذین اٰمنوا مالکم اذا قیل لکم انفروا فی سبیل اللہ اثاقلتم الی الارض۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لئے کہا گیا تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گئے) تا قول باری (الا تنفروا یعذبکم عذاباً الیماً ویستبدل قوما غیرکم۔ تم نہ اٹھوگے تو خدا تمہیں درد ناک سزا دے گا اور تمہاری جگہ کسی اور گروہ کو اٹھائے گا۔
جہاد فرض عین ہے یا کفایہ ؟
ظاہر آیت اس شخص پر بھی جہاد کے لئے اٹھ کھڑ ا ہونے کو واجب قرار دیتی ہے جسے اس کی دعوت نہ دی گئی ہو۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (انفروا خفافا…
Read the full tafseer →85 غزوئہ تبوک کا ذکر اور جہاد کی ترغیب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایمان والو تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ تم لوگ اللہ کی راہ میں جہاد و قتال کے لیے نکلو تو تم لوگ زمین پر ڈھے جاتے ہو کیا تم لوگ آخرت کے مقابلے میں اسی دنیاوی زندگی پر راضی ہوگئے ہو ؟ استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ ایمان والوں کی شان یہ نہیں ہوا کرتی بلکہ ان کی شان یہ ہوتی ہے اور یہی ہونی چاہیئے کہ جب ان کو جہاد کیلئے بلایا جائے تو یہ اس کیلئے فوراً اٹھ کھڑے ہوں۔ بہرکیف یہاں سے اس سورة کریمہ کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے جس کا تعلق غزوئہ تبوک سے ہے اور جو آنحضرت ﷺ کا آخری غزوہ ہے۔ جو سنہ 9 میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
جہاد کے وقت سستی اور کراہت پر عذاب کی وعید
تشریح : ان آیات میں جہاد کی ترغیب دی گئی ہے اس کی فضیلت اور جہاد میں شامل نہ ہونے والوں کے لیے غضب کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ غزوئہ تبوک کا واقعہ ہے۔ غزوئہ تبوک نبی اکرم ﷺ کا آخری غزوہ ہے شام اس وقت رومی عیسائیوں کا صوبہ تھا۔ تبوک مدینہ کے شمال میں سرحد شام پر واقع ہے۔
ہوا اس طرح کہ جب رسول اللہ ﷺ 8 ھ میں غزوئہ حنین اور فتح مکہ سے فارغ ہو کر مدینہ پہنچے تو آپ ﷺ کو اطلاع ملی کہ شاہ روم ہرقل نے مدینہ پر حملہ آور ہونے کی تیاری کرلی ہے۔ اور اپنی فوجیں شام کی سرحد پر جمع کردی ہیں اور عرب کے بعض قبیلوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے ارادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
آیات 38 تا 42
اسرار و معارف
بات پھر جہاد کی طرف پلٹی کہ بقائے دین کے لئے جہاد سب سے افضل واعلیٰ کام ہے اور ذاتی عبادات کا تحفظ بھی جہاد کا پھل ہے ۔ ورنہ تو کوئی گھر میں بھی سکون سے سجدہ نہ کرسکے ۔
مفسرین کے مطابق ان آیات مبارکہ میں عزوئہ تبوک کا تذکرہ ہے ۔ فتح مکہ کے بعد جب آپ ﷺ مدینہ منورہ پہنچے تو ہرقل روم کی فوجوں کے اجتماع کی خبرملی جو اسلامی ریاست کی سرحد پر جمع ہورہی تھیں جسے عرب کے عیسائی قبائل نے دعوت دی اور یہودیوں نے ابھارا کہ اسلامی ریاست کی اگر خبر نہ لی گئی تو یہ تمہارا گریبان بھی پکڑے گی چناچہ اس نے سال بھر کی پیشگی تنخواہ وغیرہ دے کر ایک لشکر جرار تیار کیا جس کی خبر ان تاجروں…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی نکلنے سے ہچکچاتے ہو اور گھروں میں بیٹھے رہنا پسند کرتے ہو، کفار کے قبائح بیان فرمایا کہ جب ان کے خلاف جہاد ضروری ہونے کے اتنے اسباب موجود ہیں اور اس میں فوائد بھی ہیں تو پھر محض دنیا کے حقیر مفاد کی خاطر جہاد نہ کرنا انتہائی کمزوری ہے ( کبیر) علمانے تفسیر (رح) اس پر متفق ہیں کہ اس آیت میں ان لوگوں پر عتاب ہے جنہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نکلنے میں پس وپیش کی تھی۔ وا ضح رہے کہ غزوہ تبوک کا واقعہ فتح مکہ کے بعد 9 ھ میں طائف سے واپسی پر پیش آیا۔ ان دنوں سخت گرمی کا موسم تھا اور کھجوریں پک رہی تھیں اس لیے بعض نام کے مسلمان جہاد پر روانہ ہونے سے جی چرانے لگے اس غزوہ کا پس منظر…
Read the full tafseer →(9:38) ما لکم۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے ۔ اور جگہ ہے وقال الانسان مالہا (99:3) اور انسان کہہ گا اس کو (یعنی زمین کو) کیا ہوگیا ہے۔
انفروا۔ نفر ینفر (ضرب سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم نکلو۔ نفر کے اصل معنی ہیں منتشر ہونا۔ لیکن مختلف حروف کے ساتھ مختلف معانی دیتا ہے مثلاً نفرعن کسی چیز سے روگردانی کرنا۔ نفر الی۔ کسی چیز کی طرف روڈ کر جانا۔ نصر من۔ کسی چیز سے کترانا۔
یہاں آیۃ ہذا میں نفر سے نکلنا۔ کوچ کرنا کے معانی لئے گئے ہیں۔ انفروا فی سبیل اللہ تم خدا کے راستہ میں نکلو۔ (یہ آیت جنگ تبوک کے موقعہ پر نازل ہوئی) ۔
اثاقلتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر اصل میں تثاقلم (باب تفاعل) تھا ت کو ث میں مدغم کیا گیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 39
مالکم (تمہیں کیا ہوگیا ؟ ) انفروا (نکل پڑو اثاقلتم (تم گرے جاتے ہو) ارضیتم (کیا تم خوش ہوگئے، راضی ہوگئے) الاتنفروا (اگر تم نہ نکلے) یستبدل (وہ بدل دے گا) لاتضروا (تم نقصان نہ پہنچا سکو گے)
تشریح :- آیت نمبر 38 تا 39
یہ آیات غزوہ تبوک کے موقع پر نازل ہوئیں۔ غزوہ تبوک جو نبی کریم ﷺ کی حیات دنیوی کا آخری غزوہ تھا اس وجہ سے ہوا کہ صلح حدیبیہ کے بعد آپ نے تمام بادشاہوں اور چھوٹی چھوٹی مملکتوں کے سرداروں کے پاس اپنے وفود بھیجے جن کے ذریعہ ان کو اسلام کی دعوت دی گئی تھی ان ہی میں سے ملک شام کی سرحد سے متصل قبائل میں بھی آپ نے اپنے وفد بھیجے۔ ان لوگوں نے سفارتی آداب کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
جنگ تبوک اور منافقوں کا ذکر
شان نزول : آنحضرت ﷺ نے ماہ رجب 9 ھ میں غزوہ تبوک کا ارادہ کیا۔ تبوک میں شام کی طرف ایک جگہ ہے جو دمشق کے راستہ پر مدینہ سے چودہ منزل ہر واقع ہے۔ اس وقت گرمی بڑی سخت پڑ رہی تھی اور درخت پھلوں سے لدے پڑے تھے۔ آپ نے بڑے سفر کا ارادہ کیا تھا اس لئے پہلے سے لوگوں کو تیار ہونے کو کہا۔ اکثر لوگ آپ کے ساتھ ہوگئے اور تھوڑے سے اپنے گھروں میں رہ گئے آپ کے ساتھ نہیں گئے۔ انہیں لوگوں کی شان میں یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ ایماندار لوگو ! تم اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ پر ایمان لاکر پھر اللہ کے رسول کے حکم سے سرتابی اور دین کی لڑائی میں شریک ہونے سے سستی کرتے ہو اور حیلے بہانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
[24] یہاں سے سورت کے آخر تک غزوہ تبوک کے بارے میں بیان ہے۔ تبوک مدینے کے شمال میں سرحد شام پر ایک مقام کا نام ہے۔ شام اس وقت سلطنت روما کا ایک صوبہ تھا۔ نبی ﷺ جب غزوہ حنین سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ آئے تو آپ کو اطلاع ملی کہ رومی فوجیں تبوک میں جمع ہو رہی ہیں اور عنقریب مدینے پر حملہ کرنے والی ہیں۔ آپ نے خود ہی بڑھ کر مقابلہ کرنا چاہا چناچہ تیس ہزار کی جمعیت آپ کے ہمراہ روانہ ہوئی۔ تاہم ایک طرف مقابلہ کسی قبیلے سے نہیں باضابطہ مسلح شاہی فوج سے کرنا تھا، پھر موسم بھی شدید گرمی کا، فصل کے پکنے اور کٹنے کا بھی۔ جب اطلاع ملی کہ مسلمانوں نے پیش قدمی کی ہے تو ان کے حوصلے پست ہوگئے اور قیصر روم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
(ف 1) عربوں میں عام قاعدہ یہ تھا کہ حرمت کے چار مہینوں میں جدال و قتال سے باز رہتے ، اور ان مہینوں میں جنگ کو ناجائز خیال کرتے ۔
مگر جب ان کی ذاتی مصلحتیں جنگ کی آگ بھڑکا دیتیں ، اور انہیں اس آگ میں کو دناپڑتا ، تو پھر اشہر حرم کا لحاظ نہ کرتے ، اور کہتے اس وقت تو لڑو ، بعد میں چار مہینے نہ لڑیں گے ، اللہ کا منشاء اس سے پورا ہوجائے گا ۔
قرآن کہتا ہے ، یہ کفر ومعصیت ہے ، چار مہینوں کی حد بندی کا مقصد تو یہ تھا کہ تم صلح وامن کی برکات سے آگاہ ہوجاؤ اور جب کہ تم برابر ایک دوسرے کے دشمن ہو ، اس حد بندی کا کیا فائدہ ؟
اس نوع کی حیلہ جوئی ، جس سے اللہ کے قانون کی مخالفت لازم آئے ، ناجائز ہے ۔
حل…
Read the full tafseer →38 اے ایمان لانے والو ! تم کو کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے کوچ کرو اور گھروں سے نکلو تو تم زمین سے چپکے جاتے ہو اور زمین پر ڈھیر ہوئے جاتے ہو اور زمین پر ڈھئے جاتے ہو کیا تم آخرت کے مقابلے میں اور آخرت کے بدلے میں دنیوی زندگی پر قانع اور رضامند ہوگئے ہو تو آخرت کے فوائد اور تمتع کے مقابلے میں تو دنیوی منافع کچھ بھی نہیں مگر بہت ہی تھوڑے اور بہت ہی کم۔ غزوئہ تبوک کی تیاری کا حکم ملا تو سخت گرمی کا موسم تھا تبوک مدینہ سے چودہ منزل ہے کچھ لوگ شش و پنج میں پڑگئے غزوئہ تبوک کا حکم 9ھ میں دیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
ف 1۔ یہاں سے غزوہ تبوک کا بیان ہے تبوک ایک مقام ہے ملک شام میں رسول اللہ جب فتح مکہ و غزوہ حنین وغیرہما سے فارغ ہوئے تو آپ کو خبر ہوئی کہ روم کا بادشاہ مدینہ پر فوج بھیجنی چاہتا ہے اور وہ فوج تبوک میں جمع کی جائے گی آپ نے خود ہی قصد سفر کا مقابلہ کے لیے فرمایا اور مسلمانوں میں اس کا اعلان عام کردیا چونکہ وہ زمانہ گرمی کی شدت کا تھا اور مسلمانوں کے پاس سامان بہت کم تھا اور سفر بھی دوردراز کا تھا اس لیے اس غزوہ میں جانا بڑی ہمت کا کام تھا اس لیے ان آیا میں اس کی بہت ترغیب دی گئی اور چونکہ منافقین بوجہ عدم ایمان وعدم اخلاص کے اس میں طرح طرح کے بہانے پیش کرنے لگے اور ان کی طرح طرح کی خباثتیں ظاہر…
Read the full tafseer →غزوات نبوی میں سے ایک اہم غزوہ ، غزوہ تبوک کا تذکرہ :
55: تبوک ایک مشہور مقام ہے جو مدینہ اور دمشق کے وسط میں نصف راہ پر مدینہ سے 14 منزل ہے۔ جنگ موتہ کے بعد سے رومی سلطنت نے عرب پر حملہ کرنے کا ارادہ کرلیا تھا۔ غسانی خاندان جو شام میں رومیوں کے زیر اثر حکومت کر رہا تھا مذہباً عیسائی تھا اس لئے قیصر روم نے اس کو اس مہم پر متعین کیا۔ مدینہ میں یہ خبریں اکثر مشہور ہوتی رہتی تھیں۔ بنی اعظم و آخر ﷺ کے ایلاء کے واقعہ میں حضرت عمر ؓ سے جب عتبان بن مالک ؓ نے دفعۃً آکر یہ کہا کہ غضب ہوگیا تو انہوں نے اس کلی بات سنتے ہی جو کہا وہ یہ تھا کہ کیوں خیر ہے ؟ کیا غسانغ آگئے ہیں۔ ( بخاری ذکر واقعہ ایلاء)
شام…
Read the full tafseer →Commentary
The verses quoted above describe an important battle from among those fought by the Holy Prophet As a corollary, also given there are many injunctions and instructions. This battle is known as the battle of Tabuk and is almost the last battle of the Holy Prophet ﷺ .
Tabuk is the name of a place located close to the Syrian border towards the north of Madinah. Syria was, at that time, a province of the government controlled by Byzantine Christians. When the Holy Prophet ﷺ reached Madinah in the 8th year of Hijrah after the conquest of Makkah and the battle of Hunain, that was a time…
Read the full tafseer →