Explained with ayahs 43–45
نہ ادھر کے نہ ادھر کے
سبحان اللہ، اللہ کی اپنے محبوب سے کیسی باتیں ہو رہی ہیں ؟ سخت بات کے سنانے سے پہلے ہی معافی کا اعلان سنایا جاتا ہے اس کے بعد رخصت دینے کا عہد بھی سورة نور میں کیا جاتا ہے اور ارشاد عالی ہوتا ہے (فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 62) 24۔ النور :62) یعنی ان میں سے کوئی اگر آپ سے اپنے کسی کام اور شغل کی وجہ سے اجازت چاہے تو آپ جسے چاہیں اجازت دے سکتے ہیں۔ یہ آیت ان کے بارے میں اتری ہے جن لوگوں نے آپس میں طے کرلیا تھا کہ حضور ﷺ سے اجازت طلبی تو کریں اگر اجازت ہوجائے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
سورة التَّوْبَة 45
بعض منافقین نے بناوٹی عذرات پیش کر کے نبی ﷺ سے رخصت مانگی تھی، اور حضور ﷺ نے بھی اپنے طبعی حلم کی بنا پر یہ جاننے کے باوجود کہ وہ محض بہانے کر رہے ہیں ان کو رخصت عطا فرمادی تھی۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا اور آپ کو تنبیہ کی کہ ایسی نرمی مناسب نہیں ہے۔ رخصت دے دینے کی وجہ سے ان منافقوں کو اپنے نفاق پر پردہ ڈالنے کا موقع مل گیا۔ اگر انہیں رخصت نہ دی جاتی اور پھر یہ گھر بیٹھے رہتے تو ان کا جھوٹا دعوٰئے ایمان بےنقاب ہوجاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
دوسری اور تیسری آیت میں مومنین اور منافقین کا یہ فرق بتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ پر صحیح ایمان رکھنے والے ایسے موقع پر کبھی اپنی جان و مال کی محبت میں جہاد سے جان چرانے کے لئے آپ سے رخصت نہیں مانگا کرتے، بلکہ یہ کام صرف انہی لوگوں کا ہے جن کا اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان صحیح نہیں، اور اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کو خوب جانتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
تفسیر آیت 44، 45۔
لَا يَسْتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ يُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالْمُتَّقِيْنَ۔ اِنَّمَا يَسْـتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِيْ رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُوْنَ۔
بااخلاق معذورین اور منافقین کے درمیان واضح فرق : یہ ایک نمایاں فرق واضح فرما دیا ہے مخلصین اور منافقین کے درمیان کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر سچا اور پکا ایمان رکھتے ہیں وہ تمہارے پاس جہاد سے رخصت کی درخواستیں لے کر نہیں آتے اللہ اپنے متقی بندوں سے خوب باخبر ہے۔ یہ…
Read the full tafseer →44۔ 1 یہ مخلص ایمانداروں کا کردار بیان کیا گیا ہے بلکہ ان کی عادت یہ ہے کہ وہ نہایت ذوق شوق کے ساتھ اور بڑھ چڑھ کر جہاد میں حصہ لیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
38: در اصل تنبیہ تو یہ کرنی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علی ہو سلم نے منافقین کو جہاد سے الگ رہنے کی اجازت کیوں دی ؟ لیکن یہ محبت بھرا انداز ملاحظہ فرمائیے کہ تنبیہ کرنے سے پہلے ہی معافی کا اعلان فرما دیا۔ کیونکہ اگر پہلے تنبیہ کی جاتی اور معافی کا اعلان بعد میں آتا تو اس درمیانی وقت میں آپ پر نہ جانے کیا کیفیت گذر جاتی۔ بہرحال ! مطلب یہ ہے کہ ان منافقین کو جہاد میں جانا تو تھا ہی نہیں۔ اور جیسا کہ آگے آیت 47 میں فرمایا گیا ہے، اللہ تعالیٰ بھی نہیں چاہتا تھا کہ یہ لشکر میں شامل ہو کر فساد مچائیں، لیکن اگر آپ انہیں جہاد سے الگ رہنے کی اجازت نہ دیتے تو یہ بات کھل کر سامنے آجاتی کہ یہ نافرمان لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
حضور نے چونکہ منافقین کے نفاق کا انکشاف نہ کیا تھا ، اس لیے اللہ نے یہاں ایسے اصول اور ایسی صفات کو بیان کردیا جن کی روشنی میں منافقین کو اچھی طرح پہانا جاسکے۔ اور یہ صفات مومنین اور منافقین کے درمیان امتیازی سفات ہوں۔
لَا يَسْتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ الخ : جو لوگ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کبھی تم سے یہ درخواست نہ کریں گے کہ انہیں اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کرنے سے معاف رکھا جائے۔ اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے۔
اِنَّمَا يَسْـتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایسی درخواستیں تو صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں رکھتے ، جن کے دلوں میں شک ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
1 یعنی جن کے دلوں میں ایمان وتقویٰ کا نور ہے، ان کی یہ شان نہیں کہ جہاد سے الگ رہنے کی اس طرح بڑھ بڑھ کر اجازت حاصل کریں۔ ان کا حال تو وہ ہے جو اس پارہ کے آخر میں بیان ہوا ہے۔ (تَوَلَّوْا وَّاَعْيُنُهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا يَجِدُوْا مَا يُنْفِقُوْنَ ) 9 ۔ التوبہ :92) یعنی بےسروسامانی وغیرہ کے عذر سے اگر " جہاد فی سبیل اللہ " کے شرف سے محروم رہ جائیں تو اس فضل کے فوت ہوجانے پر ان کی آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں۔ بےحیا بن کر جہاد سے علیحدہ رہنے کی اجازت لینا انہی کا شیوہ ہے جن کو خدا کے وعدوں پر یقین نہیں نہ آخرت کی زندگی کو سمجھتے ہیں۔ حق تعالیٰ نے اسلام و مسلمین کے غالب و منصور…
Read the full tafseer →آیت 44 لاَ یَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاہِدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ ط
سچے مؤمن ایسی صورت حال میں ایسا کبھی نہیں کرسکتے کہ وہ جہاد سے معافی کے لیے درخواست کریں ‘ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جہاد فی سبیل اللہ ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ قبل ازیں بیان ہوچکا ہے کہ سورة الحجرات کی آیت 15 میں ایمان کی جو تعریف definition کی گئی ہے اس میں تصدیق قلبی اور جہاد فی سبیل اللہ کو ایمان کے ارکان قرار دیا گیا ہے۔ اس آیت کا ذکر سورة الانفال کی آیت 2 اور آیت 74 کے ضمن میں بھی گزر چکا ہے۔ اس میں جہاد فی سبیل اللہ کو واضح طور پر ایمان کی لازمی شرط قرار دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
48 اللہ اور آخرت پر ایمان سے مراد اللہ کے وعدوں کو سچا سمجھنا ہے :۔ یہاں اللہ پر ایمان لانے سے مراد اللہ کے وہ وعدے ہیں جو اس نے فتح و نصرت سے متعلق مسلمانوں سے کیے ہیں اور آخرت پر ایمان سے مراد بھی جنت میں داخل کرنے اور بڑے درجات عطا کرنے کے وعدے ہیں اس لحاظ سے جن لوگوں کا اللہ اور آخرت پر ایمان ہے وہ تو فوراً اپنے اموال اور جانوں سے جہاد پر روانہ ہوجائیں گے اور ایسے لوگوں کو رخصت مانگنے کی نوبت ہی پیش نہیں آتی۔ البتہ جن منافقوں کا یہ یقین ہی نہیں کہ اللہ کے وعدہ کے مطابق مسلمانوں کو فتح نصیب ہوگی اور نہ ہی آخرت کے وعدوں پر پورا یقین ہے۔ وہ بس اپنے دنیوی مفادات کا ہی موازنہ کرنے میں مشغول…
Read the full tafseer →85 ۔ (اور انہیں اجر بھی خوب اور پورا پورا دے گا) (آیت) ” لا یستاذنک “۔ الخ بلکہ یہ صاحب ایمان لوگ جہاد سے چرانا کیا، الٹاتعمیل الہی کے لئے اور دوڑیں گے، یہ مومنین سے جو نفی استیذان کی ہورہی ہے اس سے مراد استیذ ان بلاعذر ہے، ورنہ عذر واقعی کی بناء پر استیذان تو بڑے سے بڑے کمال ایمان وتقوی کے منافی نہیں مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ مومن جب خیر کو سنتا ہے تو بلا تامل اس کی طرف دوڑتا ہے اور یہ حالت شوق سے پیدا ہوتی ہے تو اس میں شوق کا اثبات ہوا،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
لا یَسْتَاذِنُکَ الَّذِیْنَ یؤمنون باللہ الخ جب منافقوں نے جہاد میں عدم شرکت کی اجازت چاہی اور آپ نے اجازت دے دی جیسا کہ اوپر مذکور ہے، اب اس کے بعد مومنین مخلصین کا ذکر فرمایا، کہ جو مومنین مخلصین ہیں آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ کبھی گھر میں بیٹھے رہنے کی اجازت نہیں چاہتے۔ انہیں تو یہی پسند ہے کہ جس طرح ممکن ہو جان سے مال سے جہاد میں شریک ہوں بلکہ اگر ان کو رخصت دے دی جائے تو ان پر شاق گذرتی ہے، چناچہ صحیح بخاری کے حوالہ سے سعد بن عبادہ کی حدیث گذر چکی ہے کہ حضرت علی ؓ کو آنحضرت نے غزوہ تبوک ہی میں حکم دیا کہ تم مدینہ ہی رہ کر اہل و عیال کی نگرانی کرو حضرت علی پر یہ حکم نہایت گراں گذرا، جب…
Read the full tafseer →لا یستاذنک الذین یومنؤن باللہ والیوم الاخر ان یجاھدوا باموالھم وانفسھم وا اللہ علیم بالمتقین۔ جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں ‘ وہ اپنے مال اور جان سے جہاد کرنے کے بارے میں آپ سے رخصت نہ مانگیں اور اللہ ان متقیوں کو خوب جانتا ہے۔ یعنی جہاد سے رہ جانے کی اجازت نہیں مانگیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ایماندار لوگ جہاد میں شریک ہونے کی بھی اجازت نہیں مانگیں گے ‘ حکم سنتے ہی فوراً دوڑ پڑیں گے ‘ اجازت ملنے کا انتظار بھی نہیں کریں گے ‘ جہاد میں شرکت نہ کرنے کی اجازت طلب کرنے کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ آخری آیت میں ان لوگوں کے متقی ہونے کی شہادت اور (درپردہ) ثواب کا وعدہ ہے۔
Read the full tafseer →(44) غزوہ تبوک کے بعد جو ظاہر و باطن کے اعتبار سے کامل مومن ہیں، وہ جہاد نہ کرنے کی آپ سے کبھی رخصت نہ لیں گے اور اللہ تعالیٰ کفر وشرک سے بچنے والوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔
Read the full tafseer →لَا يَسْتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ : کیونکہ انھیں تو خود جہاد میں جانے کا شوق ہے اور وہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب انھیں اللہ کی راہ میں شہید ہونے کا موقع ملتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”لوگوں کے معاش میں ان کے لیے سب سے بہتر وہ آدمی ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ پکڑے ہوئے ہے، اس کی پشت پر اڑتا پھر رہا ہے، جب کبھی دشمن کی آمد پر کوئی خوف کی آواز یا گھبراہٹ سنتا ہے تو اڑ کر وہاں پہنچ جاتا ہے، وہ قتل اور موت کو ان جگہوں میں تلاش کرتا ہے جہاں وہ مل سکتی ہیں۔“ [ مسلم، الإمارۃ، باب فضل الجہاد والرباط، : 1889، عن أبی ہریرہ ؓ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
قولہ تعالیٰ : لایستاذنک الذین یؤمنون با للہ والیوم الا خر یعنی وہ بیٹھنے کے بارے میں اجازت نہیں مانگیں گے اور نہ خروج کے بارے میں ‘ بلکہ جب آپ انہیں کسی شے کے بارے حکم دیں گے تو وہ فوراً اسے بجا لائیں گے ‘ تو گویا اس وقت بغیر عذر کے اجازت مانگنا نفاق کی علامات میں سے تھا۔ اسی لیے فرمایا : انما یستاذنک الذین لا یؤمنون باللہ والیوم الاخر وارتابت قلوبھم فھم فی ریبھم یترددون۔
ابو دائود نے حضر ابن عباس ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : لایستا ذنک الذین یؤمنون باللہ اسے اس آیت نے منسوخ کیا ہے جو سورة النور میں ہے : انما المؤمنون الذین امنوا با للہ ورسولہ۔۔۔۔۔ تا قولہ۔۔۔۔۔ غفورر حیم۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والنحاس نے اپنی ناسخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) لا یستاذنک الذین یومنون باللہ والیوم الاخر “ ان دو آیتوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ تفسیر ہے منافقین کے لئے ہے جب انہوں نے بغیر عذر کے جہاد سے (روگردانی کرتے ہوئے) بیٹھ رہنے کی اجازت طلب کی اور اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کا عقد قبول کرتے ہوئے فرمایا (آیت) فاذا استاذنوک لبعض شانہم فاذن لمن شئت منہم “
2:۔ ابوعبید وابن منذر وابن ابی حاتم والنحاس نے اپنی ناسخ میں ابن عباس ؓ نے (آیت) لا یستاذنک الذین یومنون “ سے روایت کیا کہ انہوں نے ان دو آیتوں کے بارے میں فرمایا کہ ان کی اس آیت نے منسوخ کردیا جو…
Read the full tafseer →لَا يَسْتَاْذِنُكَ [ اجازت نہیں مانگتے آپ سے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان لاتے ہیں ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ [ اور آخری دن پر ] اَنْ [ کہ ] يُّجَاهِدُوْا [ کہ وہ جہاد (نہ) کریں ] بِاَمْوَالِهِمْ [ اپنے مالوں سے ] وَاَنْفُسِهِمْ ۭ [ اور اپنی جانوں سے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَلِيْمٌۢ [ جاننے والا ] بِالْمُتَّقِيْنَ [ تقوی کرنے والوں کو ]
Read the full tafseer →اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اولاً اہل ایمان کا حال بیان فرمایا ہے (لَا یَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاھِدُوْا بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ ) (جو لوگ اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ آپ سے اس بات کی اجازت نہیں لیتے کہ اپنے جانوں اور مالوں کو جہاد میں لگائیں) کیونکہ وہ تو حکم سنتے ہی تیار ہوجاتے ہیں۔ (وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ بالْمُتَّقِیْنَ ) (اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کو خوب جانتا ہے اور پھر منافقین کا ذکر فرمایا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–48
بیان احوال واقوال منافقین متخلفین
قال اللہ تعالیٰ ۔ لو کان عرضا قریبا۔۔۔ الی۔۔۔ وظہر امر اللہ وھم کرھون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اس غزوہ کے متعلق مومنین کو خطاب تھا اب آگے منافقین کے احوال واقوال کا بیان ہے کہ وہ آں حضرت ﷺ کے ہمراہ جانے سے حیلے اور بہانے ڈھونڈتے تھے اور چاہتے تھے کہ کسی طرح جہاد میں جانا نہ پڑے اخیر سورت تک زیادہ تر منافقین ہی کے اقوال کا ذکر ہے کہ باوجود عذر نہ ہونے کے نفاق کے سبب غزوہ میں شریک نہیں ہونا چاہتے تھے اور اس درمیاں میں کسی مناسبت کی بنا پر دوسرے مضامین کا بھی ذکر آگیا۔ چناچہ فرماتے ہیں اگر ہوتی وہ چیز جس کی طرف آپ نے ان کو بلایا نفع قریب الحصول یعنی سہل الحصول…
Read the full tafseer →43: اس میں مخلصین صحابہ کا ذکر ہے اور مراد خاص واقعہ ہے یعنی اس خاص موقع پر مخلص مومنین اپنے مال وجان سے جہاد میں شریک ہونے سے چھٹی نہیں مانگتے۔ البتہ اگر وہ کسی دوسرے موقع پر اپنے کسی ذاتی کام کے لیے اجازت چاہیں تو آپ جسے مناسب سمجھیں اجازت دے دیں جیسا کہ سورة نور میں فرمایا۔ “ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْکَ لِبَعْضِ شَانِھِمْ الخ ”۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
ربط آیات :
یہ غزوہ تبوک ہی کا سلسلہ جاری ہے۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے جہاد کی ترغیب دی اور پھر اہل ایمان کو خبردار کیا کہ وہ اس معامالہ میں سستی نہ دکھائیں بلکہ ہر حالت میں جہاد میں شریک ہوں۔ پھر جہاد کی حکمت بھی بیان فرمائی کہ اس سے مقصود اللہ کے کلمے کی بلندی ہے ایمان والوں کو اسی وجہ سے عزت نصیب ہوتی ہے۔ اگر ایمان والے آگے نہیں بڑھیں گے تو اللہ تعالیٰ دین کا کام کسی اور جماعت سے لے لیگا اور یہ چیز پیچھے رہ جانے والوں کے لیے تذلیل کا باعث ہوگی۔ پھر اللہ نے منافقین کا حال بیان کیا کہ جہاں انہیں کوئی مفاد نظر آتا ہے وہاں حضور ﷺ کے ساتھ چل نکلتے ہیں اور جہاں کوئی مشقت طلب کام ہوتا ہے وہاں جانے سے…
Read the full tafseer →لَا يَسْـتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ يُّجَاہِدُوْا بِاَمْوَالِـہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ 0 ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌۢ بِالْمُتَّقِيْنَ 44
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–48
1 ؎ کہ اجازت مانگ کر بہانہ بنا کر جہاد سے بیٹھ رہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
لَایَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ یُؤمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاھِدُوْ بِاَمْوالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْطوَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بِالْمُتَّقِیْنَ اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوْبُھُمْ فَھُمْ فِیْ رَیْبِھِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ (التوبۃ : 44، 45)
(وہ کبھی آپ سے اجازت طلب نہیں کریں گے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں کہ وہ اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد نہ کریں اللہ اپنے متقی بندوں کو خوب جاننے والا ہے۔ رخصت مانگنے کے لیے تو وہی آتے ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور جن کے دل شک میں مبتلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کا کردار پیش کیا جا رہا ہے۔ منافق کی چکنی چپڑی باتوں میں آنے کے بجائے اسے اچھی طرح جاننا اور پرکھنا چاہیے۔
رسول رحمت ﷺ نے اپنے حلم اور بردباری کی بناء پر منافقین کو غزوۂ تبوک سے پیچھے رہنے کی اجازت دی لیکن وقت آچکا تھا کہ انھیں بالکل آشکار کردیا جائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت شفقت و مہربانی کے لہجے کے ساتھ آپ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اے نبی ! اللہ آپ کو معاف کرے جس کا دوسرا مطلب ہے کہ اللہ نے آپ کو معاف کردیا ہے۔ منافقین کو
اس وقت تک اجازت نہیں دینا چاہیے تھی جب تک کھرے اور کھوٹے، سچے اور جھوٹے کا فرق نمایاں نہ ہوجاتا۔ آپ کے اجازت دینے کی وجہ سے منافقین آپس…
Read the full tafseer →مومن پیچھے رہنے کی اجازت نہیں مانگتے :
آیت 44: لَایَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰ خِرِ اَنْ یُّجَاھِدُوْا (جو لوگ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں وہ آپ سے اجازت نہیں مانگیں گے۔ جہاد کرنے میں) مسلمانوں کی یہ عادت نہیں کہ وہ جہاد سے اعراض کرتے ہوئے آپ سے اجازت طلب کریں۔ بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بِالْمُتَّقِیْنَ (اپنے مال اور جان کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ ان متقیوں کو خوب جانتا ہے) ان کے لئے بہت بڑے ثواب کا وعدہ ہے۔
Read the full tafseer →44۔” لا یستاذنک الذین یومنون باللہ والیوم الاخر ان یجاھدوا باموالھم وانفسھم “ یعنی آپ سے پیچھے رہ جانے کی اجازت نہ مانگیں ” واللہ علیم بالمتقین “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
44۔ 45۔ جب منافقوں نے حضرت ﷺ سے جہاد میں نہ شریک ہونے اور گھروں میں بیٹھ رہنے کی اجازت چاہی اور آپ نے نہیں اجازت دی جس کا ذکر اوپر گذرا تو اب اس کے بعد یہ بات بیان فرمائی کہ جو لوگ ایمان دار ہیں خدا پر اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں وہ کبھی گھر میں بیٹھ رہنے کی اجازت نہیں چاہتے ہیں انہیں تو یہی بات پسند ہے کہ جس طرح ممکن ہو جان سے مال سے جہاد میں شریک ہوں بلکہ اگر انہیں بیٹھ رہنے کا حکم بھی دیا جائے تو ان پر شاق گذرتا ہے چناچہ صحیح بخاری کہ حوالہ سے سعد بن ابی وقاض ؓ کی حدیث اوپر گذر چکی ہے کہ حضرت علی ؓ کو آنحضرت ﷺ نے اسی لڑائی پر جاتے وقت یہ حکم فرمایا تھا کہ تم مدینہ میں رہو ان پر یہ حکم نہایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
آیت 43
(عفا اللہ عنک) ” اللہ نے آپ سے درگزر فرمایا “ اور آپ سے جو کچھ صادر ہوا اسے بخش دیا۔ (لم اذنت لھم) ” آپ نے (انہیں پیچھے رہ جانے کی) اجازت کیوں دی۔ “ (حتی یتبین لک الذین صدقوا و تعلم الکذبین) ” حتی کہ آپ پر وہ لوگ ظاہر ہوجاتے جو سچے ہیں اور وہ بھی آپ کو معلوم ہوجاتے جو جھوٹے ہیں۔ “ یعنی ان کو آزمانے کے بعد معلوم ہوتا کہ سچا کون اور جھوٹن کون ہے، تب آپ اس شخص کا عذر قبول فرماتے جو اس کا مستحق ہے اور اس شخص کا عذر قبول نہ فرماتے جو اس کا مستق نہیں۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے اپنے جان و مال کے ذریعے سے جہاد ترک کرنے کی اجازت طلب نہیں کرتے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
قول باری ہے (لایستاذنک الذین یومنون باللہ والیوم الاٰخر۔ جو لوگ سچے دل سے اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کبھی تم سے درخواست نہیں کریں گے) تا قول باری (باموالھم وانفسھم۔ اپنی جا و مال کے ساتھ) تا آخر آیت۔ یعنی اہل ایمان تم سے اس بات کی درخواست نہیں کریں گے کہ انہیں اپنی جان و مان کے ساتھ جہاد کرنے سے معاف رکھا جائے۔ قول باری (ان یجاھذوا) میں حرف لا پوشیدہ ہے اس لئے کہ اس پر کلام دلالت کررہا ہے۔ یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ جہاد سے پیچھے رہ جانے کی اجازت طلب کرنا ان کے لئے ممنوع تھا اور یہ بات قول باری (عفا اللہ عنک) کی اس تفسیر کی صحت پر دلالت کرتی ہے جس کے مطابق آیت کو کسی گناہ سے عفو…
Read the full tafseer →99 قوت ایمان سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قوت ایمان و یقین سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایمان والے تو آپ سے پیچھے رہنے کی اجازت مانگتے ہی نہیں۔ بلکہ وہ تو جہاد و قتال کے ایسے موقعوں میں شامل و شریک ہونا اور ان میں حصہ لینا ایک عظیم سعادت اور ذریعہ قرب و نجات سمجھتے ہیں۔ اور اس کی آرزو اور تمنا رکھتے ہیں۔ ہاں مرض نفاق کے روگی اور مریض ہیں جو اس طرح کے جھوٹے حیلے بہانوں کے ذریعے اجازت مانگتے اور جہاد و قتال میں شرکت کے شرف سے محروم رہتے ہیں۔ سو ایمان و یقین کی قوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
منافقوں کی پہچان اور بہانے
تشریح : ان آیات میں منافقین کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر سفر تھوڑا اور مال غنیمت کی امید ہوتی تو یہ لوگ ضرور آپ کے ساتھ چل پڑتے۔ مگر غزوئہ تبوک مسافت، موسم کی گرمی اور ہرقل جیسی بڑی طاقت کا مقابلہ تھا جو کہ مسلمانوں کے لیے بڑی آزمائش کا وقت تھا۔ ویسے بھی جہاد منافقین کی پہچان کا بہت بڑا ذریعہ ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ یہاں یہ لوگ آپ سے اجازت لینے کے لیے بڑے بہانے کریں گے اور اس طرح یہ صرف اپنا ہی نقصان کریں گے۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔ پھر اللہ فرماتا ہے کہ آپ نے ان کو ابھی رخصت کی اجازت نہیں دینی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–59
آیات 43 تا 59
اللہ نے آپ کو معاف تو کردیا مگر آپ ﷺ نے انھیں جہاد سے رہ جانے کی اجازت ہی کیوں دی ؟ اگر آپ ایسانہ کرتے تو بھی یہ جہاد میں شامل ہونے سے تو رہے ہاں سب لوگوں پہ ان کی اصلیت کھل جاتی اور نفاق واضح ہوجاتا ۔
رشتہ قلبی کے انداز
یہاں اگر چہ بات ایک مشورے کے انداز میں ارشاد ہے کہ اگر آپ اجازت نہ دیتے تو ان کے پاس بہانہ نہ ہوتا مگر نبی اکرم ﷺ کے قلب اطہر کو جو تعلق ذات باری سے تھا وہ اس قدربات بھی برداشت نہ کرپاتا ۔ لہٰذ اسوالیہ انداز میں بات ارشاد فرمانے سے پہلے فرمایا عفا اللہ عنک اللہ نے آپ کو معاف فرمادیا کوئی نارزضگی یا خفگی کی بات نہیں مگر آپ نے ایسا کیوں کیا یہ معافی گناہ کی نہیں…
Read the full tafseer →ف 5 کیونکہ انہیں تو خود جہاد کا شوق ہے اور وہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب انہیں اللہ راہ میں شہید ہونے کا موقع ملتا ہے۔ ( از وحیدی )
Read the full tafseer →(9:44) لا یستاذنکمضارع منفی واحد مذکر غائب ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر استیذان مصدر۔ تجھ سے اجازت نہیں مانگیں گے۔ لا یستاذنک الذین یؤمنون باللہ والیوم الاخر ان تجاھدوا باموالہم وانفسہم۔ اگر ان یجاھدوا بمعنی فی ان یجاھدوا لیا جاوے تو معنی ہوگا وہ لوگ جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اپنے مال اور جانوروں سے جہاد کرنے سے بچنے کی خاطر تم سے پیچھے رہنے کی اجازت نہیں مانگیں گے۔ یا یہ اس طرح ہے ان یستاذنون فی التخلف کراھۃ ان یجاھدوا۔ کہ وہ تجھ سے پیچھے رہنے کی اجازت طلب کریں کیونکہ وہ اپنے مال اور اجن سے جہاد کرنا نہیں چاہتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 46
عرض (اسباب، مال غنیمت) سفر قاصد (آرام والا سفر) ، لاتبعوک (البتہ وہ آپ کے پیچھے چل پڑتے) بعدت (دور لگا) الشقۃ (فاصلہ، حصہ) استطعنا (ہماری استطاعت ہوتی) عفا اللہ (اللہ نے معاف کردیا ) لم اذنت (آپ نے کیوں اجازت دی ؟ ) حتی یتبین (جب تک واضح نہ ہوجاتا) صدقوا (جنہوں نے سچ کہا) لا یستاذنو (وہ اجازت نہیں مانگتے ) ارتابت (شک کیا) ریب (شک) یترددون (وہ بھٹک رہے ہیں) لاعدوا (البتہ وہ تیاری کرتے) کرہ اللہ (اللہ نے پسند نہیں کیا) انبعاث (اٹھنا) ثبط (ہم نے جما دیا، روک دیا) افعدوا (بیٹھے رہو)
تشریح آیت نمبر 42 تا 46
تاریخ گواہ ہے کہ جب جنگیں لڑی جاتی ہیں تو ان میں موسم، وسائل،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ ایماندار ہیں خدا پر اور آخرت پر یوین رکھتے ہیں وہ کبھی گھر میں رہنے کی اجازت نہیں چاہتے ہیں۔ انہیں تو یہی بات پسند ہے کہ جس طرح ممکن ہو اپنی جان سے مال سے جہاد میں شریک ہوں۔ بلکہ اگر انہیں بیٹھ رہنے کا حکم بھی دیاجائے تو انہیں شاق گزرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کا حال بیان فرما کر یہ ذکر کیا کہ خدا سب کو جانتا ہے کہ کون کون ان میں متقی ہیں۔ اور پھر یہ فرمایا کہ جو لوگ خدا پر پورا ایمان نہیں رکھتے اور نہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں، وہی لوگ بیٹھ رہنے کو پسند کرتے ہیں اور گھروں میں رہ جانے کی اجازت بھی چاہتے ہیں۔ کیونکہ ان کے دلوں میں دین کی طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–47
[26] یعنی خوشی یا گرانی سے، سرو سامان کے ساتھ یا بےسروسامانی سے، حالات خواہ موافق ہوں یا ناموافق، جب نکلنے کا حکم ہوچکا تو جس حال میں ہو نکل کھڑے ہو۔ یہ آیت اس باب میں قطعی ہے کہ دفاع کے لئے جب امام بلائے تو بجزان معذوروں کے جنہیں آگے چل کر آیت 91 میں مستثنیٰ کردیا ہے ہر شخص پر واجب ہوجاتا ہے کہ جان و مال سے شریک جہاد ہو اور اس بارے میں کسی عذر کی گنجائش نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
(ف 2) مقصد یہ ہے کہ متخلفین کو اجازت دینے میں آپ سے تسامح ہوا ہے ، چاہئے یہ تھا کہ چندے انتظار فرما لیتے اور دیکھ لیتے کہ اللہ تعالیٰ ان کے باب میں کیا تصریحات نازل فرمانے والا ہے ۔
(آیت) ” عفا اللہ عنک “ ۔ کہہ کر بدرجہ غایت تلطف ومہربانی کا اظہار فرمایا ، جس کے معنی یہ ہیں کہ حضور ﷺ کا ہر تسامح چونکہ ایک بلند اخلاقی نصب العین کے ماتحت صادر ہوتا ہے ، اس لئے ابتدا ہی سے درخور عفو ہے ، گو اس سے منشاء الہی کی مخالفت ہو ۔
آپ نے انہیں اجازت اس لئے مرحمت فرما دی کیونکہ آپ کی فطرت میں عفو وکرم بدرجہ اتم موجود تھا ، آپ پیغمبرانہ محبت والفت کی وجہ سے مجبور تھے کہ ان کی معذرت قبول فرما لیں ۔
Read the full tafseer →44 اے پیغمبر ﷺ ! جو لوگ اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرنے اور جہاد کے میدان میں حاضر ہونے سے بچنے کے لئے آپ سے رخصت طلب نہیں کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان متقیوں کو خوب جانتا ہے۔ یعنی جو اہل ایمان اور اہل تقویٰ ہیں وہ اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال خرچ کرنے کو ہر وقت تیار رہتے ہیں وہ جہاد سے بچنے کے لئے نہ کوئی بہانہ بنائیں گے اور نہ رخصت طلب کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
ف 1۔ یہاں سے غزوہ تبوک کا بیان ہے تبوک ایک مقام ہے ملک شام میں رسول اللہ جب فتح مکہ و غزوہ حنین وغیرہما سے فارغ ہوئے تو آپ کو خبر ہوئی کہ روم کا بادشاہ مدینہ پر فوج بھیجنی چاہتا ہے اور وہ فوج تبوک میں جمع کی جائے گی آپ نے خود ہی قصد سفر کا مقابلہ کے لیے فرمایا اور مسلمانوں میں اس کا اعلان عام کردیا چونکہ وہ زمانہ گرمی کی شدت کا تھا اور مسلمانوں کے پاس سامان بہت کم تھا اور سفر بھی دوردراز کا تھا اس لیے اس غزوہ میں جانا بڑی ہمت کا کام تھا اس لیے ان آیا میں اس کی بہت ترغیب دی گئی اور چونکہ منافقین بوجہ عدم ایمان وعدم اخلاص کے اس میں طرح طرح کے بہانے پیش کرنے لگے اور ان کی طرح طرح کی خباثتیں ظاہر…
Read the full tafseer →سچے مومن کبھی بھی آپ سے اس طرح اجازت طلب نہ کریں گے :
65: پیچھے آپ پڑھ چکے ہیں کہ جہاد میں ہلکے اور بوجھل ہو کر نکلنے کا حکم دیا تھا کیوں ؟ اس لئے کہ جہاد کی استعداد رکھنے والے اور نہ استعداد رکھنے والے سب کو نکلنے کی ہدایت دی تھی کیونکہ نوجوان نکل چلنے میں ہلکا ہوتا ہے اور معمر آدمی بوجھل کیونکہ سرگرم عمل آدمی فوراً اٹھ کھڑا ہوگا اور کسل مند کے قدم بوجھل ہوں گے۔ جس کے علائق زیادہ ہیں وہ اپنے آپ کو اتنا ہلکا نہیں پائے گا جتنا ایک مجرد آدمی یا کم علائق رکھنے والا اس طرح کوئی سروسامان میں ہلکا ہوگا ، کوئی اسلحہ جنگ سے بھاری ہوگا چناچہ روایت میں آیا ہے کہ ابو راشد حرانی کہتے ہیں میں نے مقداد بن…
Read the full tafseer →In the second (44) and third (45) verses given there was the difference between believers and hypocrites. Those who believe in Allah Ta` ala truly and staunchly do not pick an occasion like that only to seek desertion from Jihad just for the sake of love for their lives and wealth and go about asking the permission of their prophet to stay back. In fact, this is the behavior of only those who do not believe in Allah and the Day of Judgment (Akhirah), truly and correctly - and, as for Allah, He knows the God-fearing perfectly well.
Read the full tafseer →