Explained with ayahs 34–35
یہودیوں کے علماء کو احبار اور نصاریٰ کے عابدوں کو رہبان کہتے ہیں۔ (لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ 63) 5۔ المآئدہ :63) میں یہود کے علماء کو احبار کہا گیا ہے۔ نصرانیوں کے عابدوں کو رہبان اور ان کے علماء کو قسیس۔ اس آیت میں کہا گیا (ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا وَّاَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ 82) 5۔ المآئدہ :82) آیت کا مقصود لوگوں کو بڑے علماء اور گمراہ صوفیوں اور عابدوں سے ہوشیار کرانا اور ڈرانا ہے۔ حضرت سفیان بن عینیہ ؒ فرماتے ہیں۔ ہمارے علماء میں سے وہی بگڑتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
سورة التَّوْبَة 33
یعنی ظالم صرف یہی ستم نہیں کرتے کہ فتوے بیچتے ہیں، رشوتیں کھاتے ہیں، نذرانے لوٹتے ہیں، ایسے ایسے مذہبی ضابطے اور مراسم ایجاد کرتے ہیں جن سے لوگ اپنی نجات ان سے خریدیں اور ان کا مرنا جینا اور شادی و غم کچھ بھی ان کو کھلائے بغیر نہ ہو سکے اور وہ اپنی قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کا ٹھیکہ دار ان کو سمجھ لیں۔ بلکہ مزید براں اپنی انہی اغراض کی خاطر یہ حضرات خلق خدا کو گمراہیوں کے چکر میں پھنسائے رکھتے ہیں اور جب کبھی کوئی دعوت حق اصلاح کے لیے اٹھتی ہے تو سب سے پہلے یہی اپنی عالمانہ فریب کاریوں اور مکاریوں کے حربے لے لے کر اس کا راستہ روکنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →پانچویں آیت میں اس عذاب الیم کی تفصیل اس طرح بیان فرمائی ہے(آیت) يَّوْمَ يُحْمٰي عَلَيْهَا فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰي بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوْبُهُمْ وَظُهُوْرُهُمْ ۭهٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ ، یعنی زکوٰة نہ ادا کرنے والوں کو یہ عذاب الیم اس دن ہوگا جب کہ ان کے جمع کئے ہوئے سونے چاندی کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان کی پیشانیوں، پہلوؤں اور پشتوں پر داغ دیئے جائیں گے، اور ان سے زبانی سزا کے طور پر کہا جائے گا کہ یہ وہ چیز ہے جس کو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا، سو اپنے جمع کئے ہوئے سرمایہ کو چکھو، اس سے معلوم ہوا کہ جزاء عمل عین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
تفسیر آیت 34، 35۔
آیت 34۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ۔
اہل کتاب کے جرائم خلق کے باب میں : يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ۔ اوپر اہل کتاب کے وہ جرائم بیان ہوئے ہیں جن کے مرتکب وہ خالق کے حقوق کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
34۔ 1 احبار حبر کی جمع ہے یہ ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو بات کو خوبصورت طریقہ سے پیش کرنے کا طریقہ رکھتا ہو خوبصورت اور منقش کپڑے کو ثوب مُحَبُّر کہا جاتا ہے مراد علماء یہود ہیں، رہبان راہب کی جمع ہے جو رہبنہ سے مشتق ہے۔ اس سے مراد علماء نصاریٰ ہیں بعض کے نزدیک یہ صوفیائے نصاریٰ ہیں۔ یہ دونوں ایک تو کلام اللہ میں تحریف و تغیر کر کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق مسئلے بتاتے اور یوں لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں، نبی ﷺ کا یہ فرمان باب کا عنوان ہے ' تم پچھلی امتوں کے طور طریقوں کی ضرور پیروی کرو گے '۔
34۔ 2 حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ یہ زکٰوۃ کے حکم سے پہلے کا حکم ہے۔ زکٰوۃ کا حکم نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
31: لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھانے کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں، لیکن ان علماء کے حوالے سے خاص طور پر جو بات کہی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگ رشوت لے کر لوگوں کی مرضی کے مطابق شریعت کو توڑ موڑ ڈالتے ہیں، اور اس طرح اللہ کے مقرر کئے ہوئے صحیح راستے سے لوگوں کو روک دیتے ہیں۔
32: اگرچہ یہ آیت براہ راست ان اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بخل کی وجہ سے مال جمع کرتے رہتے تھے، اور اس کے شرعی حقوق ادا نہیں کرتے تھے، لیکن آیت کے الفاظ عام ہیں اور ان کا اطلاق ان مسلمانوں پر بھی ہوتا ہے جو مال و دولت اکھٹا کرتے چلے جائیں اور وہ حقوق ٹھیک ٹھیک ادا نہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے مال پر عائد کئے ہیں…
Read the full tafseer →يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ " ایک دن آئے گا کہ اسی سونے چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی "۔۔ اب اس کے بعدسامع دیکھتا ہے کہ ان دھاتوں کو کس طرح گرم کیا جاتا ہے۔ اب اگلے منظر میں ہاتھوں میں گرم سلاخیں لیے ہوئے کارندے نظر آتے ہیں۔ سلاخیں تیار ہیں اور دردناک عذاب کا عمل شروع ہوتا ہے۔ اب ان مجرموں کے ہاتھوں اور چہروں کو داغا جاتا ہے اور جب ان کے چہروں کو اچھی طرح داغ دیا جاتا ہے تو اب ان کے پہلوؤں پر داغ لگائے جاتے ہیں اور جب ان کے پہلو داغ دیے جاتے ہیں تو ان کی پیٹھوں پر داغ دہی کا عمل شروع ہوتا ہے اور جب یہ جسمانی عذاب ختم ہوتا ہے تو اب ان کو سرزنش کی جاتی ہے تاکہ ان کی روحانی…
Read the full tafseer →5 بخیل دولت مند سے جب خدا کے راستہ میں خرچ کرنے کو کہا جائے تو اس کی پیشانی پر بل پڑجاتے ہیں زیادہ کہو تو اعراض کر کے ادھر سے پہلو بدل لیتا ہے۔ اگر اس پر بھی جان نہ بچے تو پیٹھ پھیر کر چل دیتا ہے۔ اس لیے سونا چاندی تپا کر ان ہی تین موقعوں (پیشانی، پہلو، پیٹھ) پر داغ دیئے جائیں گے تاکہ اس کی جمع کرنے اور گاڑھنے کا مزہ چکھ لے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
آیت 34 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّہْبَانِ لَیَاْکُلُوْنَ اَمْوَال النَّاس بالْبَاطِلِ
مختلف مسلمان امتوں میں مذہبی پیشواؤں کے لیے مختلف نام اور القاب رائج رہے ہیں۔ بنی اسرائیل کے ہاں انہیں احبار اور رہبان کہا جاتا تھا۔ آیت زیر نظر کے مطابق اس طبقے میں اکثریت ایسے لوگوں کی رہی ہے جو باطل اور ناجائز ذرائع سے مال و دولت جمع کرنے اور جائیداد بنانے کے مکروہ دھندے میں ملوث رہے ہیں۔ ایک عام دنیا دار آدمی جائز طریقے سے مال و دولت کماتا ہے یا جائیداد بناتا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ مگر ایک ایسا شخص جو دین کی خدمت میں مصروف ہے اور اسی حقیقت سے جانا…
Read the full tafseer →36 زکوٰۃ ادا نہ کرنے کی وعید :۔ اس آیت کی وضاحت کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :۔
1۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جسے اللہ نے مال دیا اور اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی تو اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں اس کے پاس لایا جائے گا جس کی پیشانی پر دو نقطے ہوں گے۔ قیامت کے دن اس کا طوق بنایا جائے گا، پھر وہ اس کے دونوں جبڑوں کو کاٹے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں۔ میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے سورة آل عمران کی یہ آیت تلاوت فرمائی :۔ (وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِھٖ ھُوَ خَيْرًا لَّھُمْ ۭ بَلْ ھُوَ شَرٌّ لَّھُمْ ۭ سَيُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا…
Read the full tafseer →64 ۔ اتنی صریح، شدید، مؤکدوعید عذاب سے ظاہر ہے کہ بڑے بڑے کوٹھی وال مہاجنوں بینکروں کی طرح سونے چاندی کے ڈھیر پر ڈھیر جمع کرتے رہنے کی گنجائش اسلام میں نہیں۔ (آیت) ‘’ ماکنتم تکنزون “۔ سے قبل لفظ عذاب محذوف ہے۔ اے عذاب ما کنتم تکنزون (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ربط آیات : یاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّھْبَانِ الخ متبعین کے عقائد واوصاف بیان کرنے کے بعد اب ان کے رئوساء اور متبوعین کے اخلاق وصفات بیان فرماتے ہیں، احبار علماء یہود اور رہبان زہاد نصاری کو کہتے ہیں احبار '' حبر '' کی جمع ہے ایسے شخص کو کہتے ہیں جو خوبصورت طریقہ سے بات پیش کرنے کا سلیقہ رکھتا ہو، '' محبر '' خوبصورت اور منقش کپڑے کو اسی مناسبت سے کہتے ہیں، '' رہبان '' بعض کے نزدیک صوفیاء نصاری کو کہتے ہیں اور علماء نصاری کو '' قسیسین '' کہا جاتا ہے، یہ دونوں گروہ ایک تو کلام میں تحریف و تغیر کر کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق مسئلے بتاتے تھے اس طرح…
Read the full tafseer →یوم یحمیٰ علیھا فی نار جھنم کہ اسی روز واقع ہوگی جبکہ دوزخ کی آگ میں اوّل ان کو تپایا جائے گا۔ یعنی ان کو آگ میں داخل کیا جائے گا ‘ پھر آگ کو سونے چاندی یا دراہم و دنانیر پر دہکایا جائے گا۔
فتکوٰی بھا جباھھم وجنوبھم وظہورھم پھر اس سے ان کی پیشانیوں اور پہلوؤں کو اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ جباہ سے مراد ہیں : جسم کے سامنے کے حصے (چہرہ ‘ ناک ‘ سینہ ‘ پیٹ ‘ ران کا اگلا حصہ ‘ زانو وغیرہ) جنوب سے مراد ہیں : دائیں بائیں کے حصے ( پہلو) اور ظہور سے مراد ہیں : جسم کے پچھلے حصے (کمر ‘ سرین ‘ پشت ‘ گردن ‘ گدی وغیرہ) مراد یہ ہے کہ ہر طرف سے ان کو دہکتے سونے چاندی سے داغا جائے گا۔ بعض علماء نے کہا کہ…
Read the full tafseer →(35) جو کہ اس دن واقع ہوگی، جب ان کو ان خزانوں یا آگ پر ڈال کر تپایا جائے گا اور پھر ان خزانوں سے ان کی پیشانیوں وغیرہ کو داغا جائے گا اور ان کو یہ بتلا دیا جائے گا کہ یہ اس کی سزا ہے جو تم لوگ دنیا میں اپنے لیے مال جمع کر رکھتے تھے، سو اب اس جمع کرنے کا مزہ چکھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ : سلسلۂ کلام کو دیکھیں تو یہاں احبارو رہبان سے مراد اہل کتاب کے عالم اور درویش ہیں، مگر الفاظ عام ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے علماء اور زہاد و صوفیا بھی اس میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا انصاف ملاحظہ فرمائیں کہ سب احبارو رہبان کو ایک جیسا قرار نہیں دیا بلکہ ان میں سے بہت سے لوگوں کا یہ حال بیان فرمایا کہ وہ لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں۔ دیکھیے سورة مائدہ (62، 59) رازی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہود و نصاریٰ کے بہت سے احبارو رہبان کے فخر و کبر، اللہ کے محبوب ہونے،…
Read the full tafseer →اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : یوم یحمی علیھا فی نارجھنم ‘ یوم ظرف ہے اور تقدیر عبارت ہے : یعذبون یوم یحمی (وہ عذاب دیئے جائیں گے اس دن جس دن سے تپایا جائے گا) اور یہ صحیح نہیں ہے کہ تقدیر کلام اس طرح ہو : فبشر ھم یوم یحمی علیھا کیونکہ اس دن بشارت نہیں ہوگی۔ کہا جاتا ہے : أحمیت الحدیدۃ فی النار ‘ ای أوقدت علیھا (یعنی لوہے کو آگ پر جلایا گیا) اور کہا جاتا ہے : أحمیتہ ( میں نے اسے گرم کیا اور یہ نہیں کہا جاتا : أحمیت علیہ ( میں نے اس پر گرم کیا) اور یہاں علیھا فرمایا ہے : کیونکہ یاں علی ‘ احماء کے معنی کا صلہ بنایا ہے اور احماء کا معنی ایقاد (بھڑکانا) ہے یعنی اسے آگ پر…
Read the full tafseer →زکوۃ ادا نہ کرنے پر وعید :
1:۔ بخاری ومسلم وابوداود وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سونے والا چاندی والا جو اس کو حق ادا کرے گا تو ان کو قیامت کے دن اس کی چوڑی تلواریں بنادی جائیں گی۔ پھر ان کو جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا پھر اس کے ساتھ اس کے پہلووں کو اس کی پیشانی کو اور اس کی پیٹھ کو داغا جائے گا اس دن میں کہ اس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے جائے گا اور ہر کوئی اپنا دانہ دیکھے گا جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔
2:۔ ابویعلی وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دینار کو…
Read the full tafseer →يَّوْمَ [ جس دن ] يُحْمٰي [ خوب گرم کیا جائے گا ] عَلَيْهَا [ ان کو (یعنی اموال کو ) ] فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ [ جہنم کی آگ میں ] فَتُكْوٰي [ پھر داغا جائے گا ] بِهَا [ ان سے ] جِبَاهُهُمْ [ ان کی پیشانیوں کو ] وَجُنُوْبُهُمْ [ اور ان کے پہلوؤں کو ] وَظُهُوْرُهُمْ ۭ [ اور ان کی پیٹھوں کو ] هٰذَا [ یہ ] مَا [ وہ ہے جو ] كَنَزْتُمْ [ تم نے ذخیرہ کیا ] لِاَنْفُسِكُمْ [ اپنی جانوں کے لیے ] فَذُوْقُوْا [ تو چکھو ] مَا [ اس کو جو ] كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ [ تم لوگ ذخیرہ کرتے تھے ]
ک و ی : (ض) ۔ کیا ۔ لوہے وغیرہ سے کسی کو داغنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 35 ۔
ج ب ھ ۔ (ف) : جبھا ۔ پیشانی پر مارنا۔ جبھۃ ۔ ج :…
Read the full tafseer →(یَّوْمَ یُحْمٰی عَلَیْھَا فِیْ نَارِ جَھَنَّمَ فَتُکْوٰی بِھَا جِبَاھُھُمْ وَ جُنُوْبُھُمْ وَ ظُھُوْرُھُمْ ھٰذَا مَا کَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ فَذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَکْنِزُوْنَ ) (جس روز ان کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا پھر ان کی پیشانیوں اور ان کی کروٹوں اور اس کی پشتوں کو داغ دیا جائے گا کہ یہ وہ ہے جس کو تم نے اپنی جانوں کے لیے جمع کیا تھا۔ سو اب تم چکھ لو جسے جمع کرتے تھے) ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص چاندی سونے کا مالک تھا جس میں سے اس کا حق ادا نہیں کرتا تھا۔ (یعنی زکوٰۃ نہیں دیتا تھا) تو جب قیامت کا دن ہوگا اس کے لیے آگ کی تختیاں بنائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
حبار اور رہبان کی حرص اور طمع کا بیان
قال اللہ تعالی۔ یا ایہالذین امنوا ان کثیرا من الحبار والرھبان۔۔۔ الی۔۔ فذوقوا ما کنتم تکنزون۔
(ربط): اوپر یہ بیان فرمایا کہ عوام الناس نے احبار اور رہبان کو اپنا رب بنا لیا ہے اب یہ بتلاتے ہیں کہ ان احبارو رہبان کی حرص اور طمع کا یہ حال ہے کہ وہ لوگوں سے روپیہ لے کر احکام شرعیہ اور اخبار الٰہیہ کو بدل ڈالتے ہیں اور اس مضمون کا مخاطب مومنین کو اس لیے بنایا کہ متنبہ ہوجائیں اور ایسے علماء اور مشائخ سے پرہیز کریں جو دنیا کی حرص اور طمع میں گرفتار ہیں ایسے گرفتارانِ آز و ہوا کی تو تعظیم تکریم بھی جائز نہیں چہ جائیکہ ان کو رب بنا لیا جائے۔ چناچہ فرماتے ہیں اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
29: یہ قتال کی پانچویں وجہ ہے یعنی یہود و نصاریٰ کے علماء اور پیر فقیر غلط اور ناجائز طریقوں سے لوگوں کا مال کھاتے ہیں۔ مثلاً کتمان حق پر رشوتیں لینا اور عوام سے غیر اللہ کے نام کی نذریں نیازیں وصول کرنا وغیرہ اور عوام کو حق بات نہیں بتاتے اور مسئلہ توحید نہیں بیان کرتے بلکہ اس کے برعکس لوگوں کو شرک و بدعت کی تعلیم دے کر ان کو اللہ کی راہ اور اس کے سچے دین توحید سے رکتے ہیں۔ “ عَلَیْھَا ” جار مجرور مل کر “ یُحْمیٰ ” کا مفعول ما لم یسم فاعلہ ہے۔ یہ جھوٹے عالموں اور مشرک پیروں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والے دولت مندوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے ساتھ جہاد کا ذکر فرمایا تھا پھر اس جہاد کی وجوہات بھی بیان ہوئیں ۔ اہل کتاب کے عقائد باطلہ کا ذکر ہوا ، اور ان حیلہ سازیوں کی بات ہوئی جو وہ اسلام کو مٹانے کے لیے کرتے رہتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تمام ادیان پر دین اسلام کے غلبے کا ذکر کیا۔ پہلے اہل کتاب کے عام لوگوں کی خرابیوں کا بیان ہوچکا ہے ، اب آج کے درس میں ان کے خواص یعنی عالموں اور درویشوں کی خرابیوں کا ذکر ہے۔ اس کے ساتھ حضور ﷺ کی امت کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ جو خرابیاں اہل کتاب میں تھیں وہ تم میں بھی پیدا ہوجائیں گی جس کے بڑے خطرناک نتائج ظاہر ہوں گے۔
اہل کتاب کی خرابیاں :
یہود…
Read the full tafseer →يَّوْمَ يُحْمٰي عَلَيْہَا فِيْ نَارِ جَہَنَّمَ فَتُكْوٰي بِہَا جِبَاہُہُمْ وَجُنُوْبُہُمْ وَظُہُوْرُہُمْ 0 ۭ ہٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ 35
حمی
الحَمْيُ : الحرارة المتولّدة من الجواهر المحمية، کالنّار والشمس، ومن القوّة الحارة في البدن، قال تعالی: في عين حامية أي : حارة، وقرئ : حَمِئَةٍ وقال عزّ وجل : يَوْمَ يُحْمى عَلَيْها فِي نارِ جَهَنَّمَ [ التوبة/ 35] ، وحَمِيَ النهار وأَحْمَيْتُ الحدیدة إِحْمَاء . وحُمَيّا الكأس : سورتها وحرارتها، وعبّر عن القوة الغضبية إذا ثارت و کثرت بالحمِيَّة، فقیل : حَمِيتُ علی فلان، أي : غضبت عليه، قال تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ف یہود و نصاریٰ کے احبارو رہبان جو کچھ جال پھیلاتے اور بہروپ بدلتے تھے سب مال و زر کے لئے تھا جس کا انجام جہنم میں داغ دیا جانا ہوگا۔ یہود و نصاریٰ پر کیا موقوف ہے یہ مال و زر کی طمع ایسی بلا ہے کہ جس سے بشربمشکل نجات پاسکتے ہیں۔ مسلمانوں کے بعض گروہ کو بھی اس مرض مہلک نے ہلاک کیا اور اولیاء کرام کا بہروپ بدل کر درویشوں ‘ پیر زادوں نے وہ ڈھونگ بنائے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ کہیں میلہ ‘ کہیں نذر و نیاز کا طریقہ اور پھر اس بزرگ کے خدائی اختیارات کی حکایات اور پھر ان علمائِ سوء کا ان کی تاویلات کرنا اور علمی قلعی چڑھا کر رواج دینا ‘ کہیں راگ رنگ کی مجالس کو اور جملہ لہو و لعب کو دین بنانا اور بحث میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
یٰٓاَ یُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّھْبَانِ لَیَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنْفِقُوْنَھَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لا فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ لا یَّوْمَ یُحْمٰی عَلَیْھَا فِیْ نَارِجَھَنَّمَ فَتُکْوٰی بِھَا جِبَاھُھُمْ وَجُنُوْبُھُمْ وَظُھُوْرُھُمْ ط ھٰذَامَاکَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ فَذُوْقُوْامَاکُنْتُمْ تَکْنِزُوْنَ (التوبۃ : 34، 35 )
(اے ایمان والو ! بیشک بہت سے پادری اور راہب ایسے ہیں جو لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب نے اپنے علماء اور صلحاء کو خدائی کا درجہ دیا ہوا تھا ان صلحاء اور علماء نے اپنی مسند کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنالیا اس طرح دین کے داعی ہی دین کے راستے میں رکاوٹ ثابت ہوئے۔ ایسے پادری، درویش اور علماء ہمیشہ دین اسلام کے مخالف رہے ہیں اور ہر زمانے میں رہیں گے۔
یہودیوں کے علماء کا مدینہ، خیبر اور ان کے گرد و نواح پر اور پادریوں کا روم شام وغیرہ پر مذہبی تسلط تھا۔ عوام علماء اور صلحاء کے ظاہری رکھ رکھاؤ اور تقدس سے بڑے مرعوب تھے جس وجہ سے لوگ سمجھتے تھے کہ اگر اتنے بڑے صلحاء، بڑے بڑے مربی اور پوپ، پادری، نامور علماء اسلام قبول نہیں کر رہے تو کوئی ایسی بات ہے جو اسلام…
Read the full tafseer →قیامت کے دن یہی مال آلہ سزا ہوگا :
آیت 35: اور اس ارشاد کا معنی یَّوْمَ یُحْمٰٰی عَلَیْھَا فِیْ نَارِ جَھَنَّمَ (جو کہ اس روز واقع ہوگی جبکہ ان کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا) آگ ان پر بھڑکائی جائے گی۔
نحو : فعل کا ذکر کردیا کیونکہ اس کا اسناد جار مجرور کی طرف ہے۔ اس کی اصل یہ ہے : یوم تحمی النار علیھا۔ جس دن
آگ اس پر بھڑکائی جائے گی۔ جب النار کا لفظ حذف کیا اور کہا : یحمٰی کیونکہ اسناد سے منتقل ہو کر علیہا کی طرف منتقل ہوگیا۔ جیسا کہا جاتا ہے رفعت القصۃ الی الامیر اگر قصہ کا ذکر نہ کریں اور کہہ دیں رفع الی الامیر۔ تو تب بھی درست ہے۔
فَتُکْوٰی بِھَا جِبَا ھُھُمْ وَجُنُوْبُھُمْ وَظُھُوْرُھُمْ…
Read the full tafseer →تفسیر 35۔” یوم یحمی علیھا فی نارجھنم “ آگ میں داخل ہوں گے پھر ان خزانوں پر آگ بھڑکائی جائے گی ۔ ” فتکویٰ بھا “ جلائے جائیں گے اس کے ساتھ ” جباھھم وجنوبھم وظھورھم “ ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ دینا رکو دینار پر اور درہم کو درہم پر نہیں رکھا جائے گا بلکہ اس کی جلد اتنی وسیع کردی جائے گی کہ ہر درہم الگ جگہ پر رکھا جائے گا ۔ ابوبکر وراق (رح) سے سوال کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے چہرے پہلو اور پیٹھ کو کیوں خاص کیا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اس لیے کہ مال دار شخص جب فقیر کو دیکھتا ہے تو اس کی پیشانی سکڑ جاتی ہے اور اس سے پہلو موڑ کر اعراض کرتا ہے اور پیٹھ پھیر لیتا ہے۔ ” ھذا ما کنزتم لا نفسکم فذوقوا ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
34۔ 35۔ یہ اور ایک مذمت اہل کتاب کے عالموں کی بیان کی گئی ہے کہ اکثر علمائے یہود اور علمائے نصاریٰ سچ میں جھوٹ ملا کر لوگوں کے مال کھالیتے ہیں اور لوگوں کو راہ حق سے روکتے ہیں ناحق سے مقصد ان کی وہ کتابیں ہیں جو انہوں نے لکھ رکھی ہیں خدا نے نہیں اتاریں انہی کتابوں کے حوالہ سے لوگوں کی مرضی کے موافق فتوے دیتے تھے اور ان فتو وں کے بدلہ میں لوگوں سے مال لے کر کھاتے تھے اور ان ایجادی فتو وں کے سبب سے عام لوگوں کو تو رات اور انجیل کے حکم سے روکتے تھے مثال یہود کے علماء نے جس طرح سنگ ساری کے حکم اور علمائے نصاریٰ نے ختنہ کے حکم سے عام لوگوں کو رد کیا جس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے اب آگے یہ جو فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
آیت 34
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے اہل ایمان بندوں کو تحذیر ہے کہ وہ بہت سے احبار اور رہبان، یعنی اہل کتاب کے علماء اور عبادت گزاروں سے بچیں جو باطل یعنی ناحق طریقے سے لوگوں کا مال کھاتے ہیں اور انہیں اللہ کے راستے سے روکتے ہیں، کیونکہ ان کے علم، ان کی عبادت اور ان کی پیشوائی کی وجہ سے لوگوں کے مال اور ان کے چندوں میں سے ان کے وظائف مقرر ہیں۔ یہ احبارو رہبان وظائف لییت ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ ان کا اس طریقے سے وظائف لینا حرام اور ظلم ہے، کیونکہ لوگ ان پر اپنا مال اس لئے خرچ کرتے ہیں، تاکہ وہ راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کریں اور ناحق طریقے سے لوگوں کا مال…
Read the full tafseer →مہینوں کی تعداد اور ترتیب، روز اول سے مقرر ہے
قول باری ہے (ان عدۃ الشھود عند اللہ اثنا عشر شھراً فی کتٰب اللہ یوم خلق السموت والارض منھا اربعۃ حرم۔ حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں) اللہ تعالیٰ نے دیگر مواقع پر فرمایا (الحج اشھر معلومات حج کے معلوم مہینے ہیں/ نیز فرمایا (یسئلونک عن الاھلۃ قلھی مواقیت للناس والحج۔ آپ سے چاند کے گھٹنے بڑھنے کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ کہہ دیجئے یہ لوگوں کے لئے تاریخوں کی تعیین کی اور حج کی علامتیں ہیں) اور مہینوں کے ساتھ لوگوں کے بہت سے دینی اور دنیوی مصالح کو…
Read the full tafseer →79 اہل دوزخ سے تحقیر و تذلیل کا خطاب : سو ان بدبختوں سے قیامت کے روز اس طرح کہا جائے گا کہ یہ ہے تمہارا وہ مال جو تم لوگ اپنے جانوں کے جوڑ جوڑ کر رکھا کرتے تھے۔ سو اب تم لوگ مزہ چکھو اپنی دولت کا جو تم اس طرح جوڑ جوڑ کر رکھا کرتے تھے۔ سو ان سے ایسا کہا جائے گا۔ ان کی تذلیل و تحقیر کے لئے۔ اور اس طرح یہ لوگ وہاں پر دوزخ کی ظاہری آگ کے ساتھ ساتھ حسرت و افسوس اور تذلیل و تحقیر کی اس باطنی آگ سے بھی جلیں گے اور " عَذَابًا فَوْقَ عَذَابٍ " کی دوہری سزا میں مبتلا ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا کس قدر کرم اور احسان ہے کہ آخرت کے اس غیبی جہان میں ہونے والے اس طرح کے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
یہود و نصارٰی کی گمراہی کی وجہ اور زکوٰۃ نہ دینے والوں کی سزا
تشریح : ان آیات میں یہود و نصارٰی کے بارے میں بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہود اہل کتاب ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کے پیرو ہیں۔ لیکن یہ قوم بڑی ضدی، نااہل اور نافرن ثابت ہوئی یہاں تک کہ اپنے نبیوں کو بھی قتل کردیا کرتے تھے تو ایسے لوگ اپنی آسمانی کتاب پر کیا عمل کرسکتے تھے بلکہ انہوں نے اس کو بالکل تبدیل کردیا۔ ان کے راہب اور علماء بڑے بڑے امیر لوگوں سے کچھ رقم لیکر ان کی مرضی کے مطابق کتاب سے غلط فتوے بنا دیا کرتے تھے۔ پھر لوگوں سے بڑی بڑی رقمیں لیکر لوگوں کو گمراہ کرنے پر لگے رہتے اور پھر کفر میں اس قدر بڑھ گئے کہ کیتھولک فرقہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–37
اسرار و معارف
چونکہ ایمان باللہ بھی وہی قابل قبول ہے جو ان اوصاف کے ساتھ ہو جو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمائی ہیں ۔ ان سے ہٹ کر اگر کسی نے اللہ کو مانا بھی تو وہ نہ ماننے کے برابر ہے جیسے اہل کتاب کہ اللہ پر اور آخرت پر ایمان تو رکھتے تھے مگر ظالموں نے اللہ کے لئے اولاد تجویز کردی یہود نے کہا حضرت عزیز (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے تھے اسی طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دے دیا اور بغیر کسی دلیل کے محض اپنی رائے سے گپ ہان کی ہے اللہ انھیں تباہ کرے کیسی غلط بات پر جم گئے ہیں ۔ اور یوں اپنے طور پر تو اللہ کا کوئی نہ کوئی تصور ہر قوم کے پاس ہے مگر یہ کوئی ماننا نہ ہوا۔…
Read the full tafseer →ف 6 اسی مضمون کو آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث میں یوں بیان فرمایا ہے : جو شخص سونے چاندی کا مالک ہو کر اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اس کے لیے اسی مال کی سلاخیں بنائی جائیں گی جنہیں آگ میں گرم کر کے اس کے دونوں پہلوؤں، پیشانی اور پیٹھ کو داغا جائے گا۔ یہ سب کچھ ایک ایسے دن میں ہوگا جو پچاس ہزار سال لمبا ہوگا۔ ( بخاری مسلم )
Read the full tafseer →(9:35) یحی۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب احماء (افعال) مصدر۔ خوب گرم کیا جائے گا۔ پتا یا جائے گا۔ حمی سے۔ اس مادہ سے متعدد الفاظ متعدد معانی میں استعمال ہوئے ہیں۔ مثلاً قرآن میں ہے فی عین حامیۃ (18:86) گرم چشمے میں۔ یا جیسا ایک دوسری قرأت میں ہے۔ فی عین حمیۃ۔ سیاہ بدبودار کیچڑ والے چشمے میں۔ حمیۃ الجاہلیۃ (48:36) جاہلانہ حمیت۔ (ضد۔ کد۔ نفرت) من حما مسنون۔ سڑے ہوئے گارے سے ۔ اسی طرح عربی میں بولتے ہیں حمیت انفی محمیۃ۔ میں نے اپنی عزت کی حفاظت کی۔ اسی سے حامی۔ مددگار۔ حمایت کرنے والا۔ وغیرہ وغیرہ۔
یحمی علیہا۔ اصل میں (یوم) تحمی الناد علیہا تھا۔ اس صورت میں تحمی مسند اور النار مسند الیہ ہے۔ النار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 35
لیا کلون (البتہ وہ کھاتے ہیں) یصدون (وہ روکتے ہیں) یکنزون (جمع کرتے ہیں) الذھب (سونا) الفضۃ (چاندی) لاینفقون (وہ خرچ نہیں کرتے ہیں) بشر (خوش خبری دے دیجیے ) یحمی (آگ میں دھونکا یا گیا ہے) تکویٰ (داغ لگایاج ائے گا) جباہ (جبہ) ، پیشانی، ماتھا جنوب (جنب) ، پیشانی، ماتھا) جنوب (جنب) ، پہلو کنزتم (تم نے جمع کیا) ذوقوا (تم چکھو)
تشریح : آیت نمبر 34 تا 35
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رسول ﷺ کا کام یہ ہے کہ وہ دین اسلام کو ہر مذہب اور طریقہ زندگی پر غالب کردیں تاکہ ساری دنیا سچائی کی اس روشنی میں اپنی منزل تلاش کرسکے۔
ان آیات میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ وہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
اہل کتاب کے علماء اور درویش، زکوٰۃ نہ دینے کا عذاب : یہ ایک اور مذمت اہل کتاب کے عالموں کی بیان کی گئ ہے۔ اکثر علماء یہود ونصاریٰ ، سچ میں جھوٹ ملا کر لوگوں کے مال کھالیتے ہیں اور لوگوں کو راہ حق سے روکتے ہیں۔ ناحق سے مقصد ان کی وہ کتابیں ہیں جو انہوں نے لکھ رکھی ہیں خدا نے نہیں اتاریں۔ انہیں کتابوں کے حوالے سے لوگوں کی مرضی کے موافق فتوے دیتے تھے اور ان فتوؤں کے بدلے میں لوگوں سے مال لے کر کھاتے تھے۔ اور ان ایجادی فتو وں کے سبب سے عام لوگوں کو تورات اور انجیل کے حکم سے روکتے تھے۔ مثلا یہود نے جس طرح سنگ باری کے حکم اور علماء نصاریٰ نے ختنہ کے حکم سے عام لوگوں کو روکا۔ اب آگے یہ جو فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
[19] سنن ابی داؤد میں سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب سورة التوبہ کی آیت (وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ 34ۙ ) 9 ۔ التوبہ :34) نازل ہوئی تو جو صحابہ کرام دولت مند تھے بہت گھبرائے اور کہنے لگے کہ اس آیت کی رو سے ہم سب گنہگار ٹھہرے، اس پر سیدنا عمر ؓ نے کہا کہ میں اس آیت کا مطلب رسول اللہ ﷺ سے پوچھ کر آتا ہوں، چناچہ سیدنا عمر ؓ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے نبی ﷺ یہ آیت آپ ﷺ کے صحابہ پر گراں ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ اس لئے فرض کی ہے کہ وہ تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
(ف 2) مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ (یعنی یہودی) صرف شرک وبت پرستی میں مبتلا نہیں ، ان میں اخلاقی برائیاں بھی موجود ہیں ۔
علماء ومشائخ جو صحیح معنوں میں قومی اخلاق و عادات کے آئینہ دار ہوتے ہیں ، ان کی یہ حالت ہے کہ اکل حلال کی توفیق سے محروم ہیں مشخیت وعلم کو ذریعہ معاش بنا لیا ہے طرح طرح سے لوگوں کو ٹھگتے ہیں ، اور ہر دینی اصلاح کی مخالفت کرتے ہیں ، تاکہ لوگ ان کے دام تزویر میں بدستور پھلے رہیں ، عوام میں حرص وآز کے جذبات زیادہ ہیں ، ان کی زندگی محض روپیہ اکٹھا کرنا ہے ، مذہب وایثار سے کوئی واسطہ ہی نہیں ، دن رات دولت کی دھن میں لگے ہوئے ہیں ، ان کے لئے آخرت میں یہ عذاب ہے ، کہ سونے چاندی کے یہی سکے…
Read the full tafseer →35 یہ دردناک عذاب اس دن ہوگا جس دن اس سونے چاندی کو دوزخ کی آگ میں رکھ کر پہلے تپایا جائے گا پھر اس تپے ہوئے سونے چاندی سے ان کی پیشانیوں کو اور ان کے پہلوئوں کو اور ان کی پیٹھوں کو داغا جائے گا اور کہا جائے گا یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لئے جع کرکے رکھا تھا تو آج اس اپنے جمع کرنے کا مزہ چکھو یعنی جس مال میں سے اللہ تعایلٰ کا حق ادانہ کی جائے وہی مال قیامت میں موجب وبال ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ف 4۔ یعنی یہود و نصاری کے علماء اور مشائخ عوام کے مال نامشروع طریقے سے کھاتے اڑاتے ہیں۔
5۔ یعنی احکام حقہ کو پوشیدہ رکھ کرموافق مرضی عوام کے فتوی دے کر ان سے نذر انے لیتے ہیں۔
Read the full tafseer →ایسے زر پرستوں کا قیامت کے روز کیا حال ہوگا :
50: ایک حدیث جو ابوہریرہ ؓ نے روایت کی اس آیت کی تفسیر میں کفایت کرتی ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے فرمایا : (ما من صاحب ذھب و فضة لا یودی منھا حقھا الا اذا کان یوم القیامة سفخت لہ سفاخ من نار فاحمی علیھا فی نار جھنم فیکوی بھا جنبہ و جبینہ و ظھرہ کلما یودت ایدت لہ) جس شخص کے پاس سونا اور چاندی ہو لیکن وہ اس کا حق ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے روز اس کی تختیاں بنائی جائیں گی اور انہیں آتش جہنم میں گرم کر کے اس شخص کے پہلو ، پیشانی اور پشت پر داغ لگائے جائیں گے پھر جب وہ ٹھنڈی ہوجائیں گی انہیں پھر گرم کرلیا جائے گا۔
مفسرین اسلام نے اس سے یہ مسئلہ بھی اخذ…
Read the full tafseer →Explained in the fifth verse (35) is the detail of the ` painful punishment' referred to at the end of verse 34. There, it has been said: يَوْمَ يُحْمَىٰ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ ۖ هَـٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ ﴿35﴾(on the day it will be heated up in the fire of Jahannam, then their foreheads and their sides and their backs shall be branded with it: "This is what you had accumulated for yourselves. So, taste what you have been accumulating". It means that this ` painful punishment' will be…
Read the full tafseer →