At-Tawba 9:34

At-Tawba · from ayah 34

9:34

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ؕ— وَالَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ۙ— فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۟ۙيٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡاَحۡبَارِ وَالرُّهۡبَانِ لَيَاۡكُلُوۡنَ اَمۡوَالَ النَّاسِ بِالۡبَاطِلِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ؕ وَالَّذِيۡنَ يَكۡنِزُوۡنَ الذَّهَبَ وَالۡفِضَّةَ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَهَا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِۙ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍۙ

مومنو! (اہل کتاب کے) بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے اور (ان کو) راہ خدا سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو خدا کے رستے میں خرچ نہیں کرتے۔ ان کو اس دن عذاب الیم کی خبر سنادو

— Fateh Muhammad Jalandhari

O you who have believed, indeed many of the scholars and the monks devour the wealth of people unjustly and avert [them] from the way of Allah. And those who hoard gold and silver and spend it not in the way of Allah - give them tidings of a painful punishment.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 5 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:34

اے ایمان لانے والو، اِن اہل کتاب کے اکثر علماء اور درویشوں کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں دردناک سزا کی خوش خبری دو ان کو جو سونے اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور انہیں خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مومنو! (اہل کتاب کے) بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے اور (ان کو) راہ خدا سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو خدا کے رستے میں خرچ نہیں کرتے۔ ان کو اس دن عذاب الیم کی خبر سنادو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ایمان والو! اکثر علما اور عابد، لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے ہیں اور اللہ کی راه سے روک دیتے ہیں اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راه میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ایمان والو ! (یہودی) احبار اور (عیسائی) راہبوں میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونے چاندی کو جمع کر کر کے رکھتے ہیں، اور اس کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، ان کو ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ایمان والو! بیشک بہت پادری اور جوگی لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں، اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ایمان والو! بیشک (اہلِ کتاب کے) اکثر علماء اور درویش، لوگوں کے مال ناحق (طریقے سے) کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں (یعنی لوگوں کے مال سے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں اور دینِ حق کی تقویت و اشاعت پر خرچ کئے جانے سے روکتے ہیں)، اور جو لوگ سونا اور چاندی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو انہیں دردناک عذاب کی خبر سنا دیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! بیشک بہت سے عالم اور درویش یقینا لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور جو لوگ سونا اور چاندی خزانہ بنا کر رکھتے ہیں اور اسے اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، تو انھیں دردناک عذاب کی خوشخبری دے دے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ایمان والو ! یہودیوں کے اکثر عالم اور درویش لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے اور اللہ کے راستہ سے روکتے ہیں۔ جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے (اے نبی) انہیں آپ دردناک عذاب کی خوشخبری دے دیجئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ایمان والو، ان فقیہوں اور راہبوں میں بہتیرے ایسے ہیں جو لوگوں کا مال باطل طریقوں سے ہڑپ کرتے اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور جو لوگ سونا اور چاندی ڈھیر کر رہے ہیں اور اسے خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ہیں ان کو ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ایمان والو، یقینا بہت سے عالم اور پیر ایسے ہیں جو کھاتے ہیں لوگوں کا مال باطل (اور ناحق) طریقوں سے، اور روکتے ہیں اللہ کی راہ سے، اور جو لوگ جوڑ جوڑ کر رکھتے ہیں سونے اور چاندی کو، اور وہ ان کو خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں، تو خوشخبری سنادو ان کو ایک دردناک عذاب کی۔

— مولانا اسحاق مدنی

اے ایمان والواہل کتاب کے اکثر علماء ومشائخ لوگوں کے مال باطل طریقوں پر کھاتے (اڑاتے) رہتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے رہتے ہیں۔ اور جو لوگ کہ سونا اور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور اس کو خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں۔ آپ انہیں ایک درد ناک عذاب کی خبر سنا دیجیے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے اہل ایمان یقیناً بہت سے علماء اور درویش ہڑپ کرتے ہیں لوگوں کے مال باطل طریقے سے اور روکتے ہیں لوگوں کو اللہ کے راستے سے اور وہ لوگ جو جمع کرتے ہیں اپنے پاس سونا اور چاندی اور خرچ نہیں کرتے اس کو اللہ کی راہ میں تو ان کو بشارت دے دیجیے درد ناک عذاب کی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مومنو ! اہل کتاب کے بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو اس دن کے دردناک عذاب کی خبر سنا دو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Believers! Many of the rabbis and monks wrongfully devour mankind's possessions and hinder people from the Way of Allah. And there are those who amass gold and silver and do not spend it in the Way of Allah. Announce to them the tidings of a painful chastisement

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O you who believe, many of the rabbis and the monks do eat up the wealth of the people by false means and prevent (them) from the way of Allah. As for those who accumulate gold and silver and do not spend it in the way of Allah, give them the _good‘ news of a painful punishment,

— Muhammad Taqi Usmani

O you who believe, many of the rabbis and the monks do eat up the wealth of the people by false means and prevent (them) from the way of Allah. As for those who accumulate gold and silver and do not spend it in the way of Allah, give them the _good‘ news of a painful punishment,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O you who believe! Verily, there are many of the Ahbar (rabbis) and the Ruhban (monks) who devour the wealth of mankind in falsehood, and hinder (them) from the way of Allah. And those who hoard up gold and silver and spend them not in the way of Allah, announce unto them a painful torment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye who believe! Lo! many of the (Jewish) rabbis and the (Christian) monks devour the wealth of mankind wantonly and debar (men) from the way of Allah. They who hoard up gold and silver and spend it not in the way of Allah, unto them give tidings (O Muhammad) of a painful doom,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O you who have believed, indeed many of the scholars and the monks devour the wealth of people unjustly and avert [them] from the way of Allah. And those who hoard gold and silver and spend it not in the way of Allah - give them tidings of a painful punishment.

— Saheeh International

Believers, many rabbis and monks consume other people's property by false means and create obstacles in the way of God. Those who horde gold and silver and do not spend (anything out of it) for the cause of God, should know that their recompense will be a painful torment

— Muhammad Sarwar

O you who believe! most surely many of the doctors of law and the monks eat away the property of men falsely, and turn (them) from Allah's way; and (as for) those who hoard up gold and silver and do not spend it in Allah's way, announce to them a painful chastisement,

— Muhammad Habib Shakir

O Ye who believe! verily many of the priests and the monks devour the substances of men in falsehood and hinder People from the way of Allah. And those who treasure up gold and silver and expend them not in the way of Allah -announce thou unto them a torment afflictive.

— Abdul Majid Daryabadi

O ye who believe! there are indeed many among the priests and anchorites, who in Falsehood devour the substance of men and hinder (them) from the way of Allah. And there are those who bury gold and silver and spend it not in the way of Allah: announce unto them a most grievous penalty-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:34

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–35

یہودیوں کے علماء کو احبار اور نصاریٰ کے عابدوں کو رہبان کہتے ہیں۔ (لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ 63؀) 5۔ المآئدہ :63) میں یہود کے علماء کو احبار کہا گیا ہے۔ نصرانیوں کے عابدوں کو رہبان اور ان کے علماء کو قسیس۔ اس آیت میں کہا گیا (ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا وَّاَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ 82؀) 5۔ المآئدہ :82) آیت کا مقصود لوگوں کو بڑے علماء اور گمراہ صوفیوں اور عابدوں سے ہوشیار کرانا اور ڈرانا ہے۔ حضرت سفیان بن عینیہ ؒ فرماتے ہیں۔ ہمارے علماء میں سے وہی بگڑتے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 34–35

سورة التَّوْبَة 33 یعنی ظالم صرف یہی ستم نہیں کرتے کہ فتوے بیچتے ہیں، رشوتیں کھاتے ہیں، نذرانے لوٹتے ہیں، ایسے ایسے مذہبی ضابطے اور مراسم ایجاد کرتے ہیں جن سے لوگ اپنی نجات ان سے خریدیں اور ان کا مرنا جینا اور شادی و غم کچھ بھی ان کو کھلائے بغیر نہ ہو سکے اور وہ اپنی قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کا ٹھیکہ دار ان کو سمجھ لیں۔ بلکہ مزید براں اپنی انہی اغراض کی خاطر یہ حضرات خلق خدا کو گمراہیوں کے چکر میں پھنسائے رکھتے ہیں اور جب کبھی کوئی دعوت حق اصلاح کے لیے اٹھتی ہے تو سب سے پہلے یہی اپنی عالمانہ فریب کاریوں اور مکاریوں کے حربے لے لے کر اس کا راستہ روکنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

چو تھی آیت میں مسلمانوں کو مخاطب بنا کر یہود و نصارٰی کے علماء و مشائخ کے ایسے حالات کا ذکر ہے جن کی وجہ سے عوام میں گمراہی پھیلی، مسلمانوں کو مخاطب کرنے سے شاید اس طرف اشارہ ہے کہ اگرچہ یہ حالات یہود و نصارٰی کے علماء و مشائخ کے بیان ہو رہے ہیں لیکن ان کو بھی اس سے متنبہ رہنا چاہئے کہ ان کے ایسے حالات نہ ہوجائیں۔ اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ یہود و نصارٰی کے بہت سے علماء و مشائخ کا یہ حال ہے کہ باطل طریقوں سے لوگوں کا مال کھاتے ہیں اور اللہ کے سیدھے راستہ سے ان کو روکتے ہیں۔ یہود و نصارٰی کے اکثر علماء و مشائخ کا یہی حال تھا اور ایسے حالات میں عام طور پر کہنے والے سبھی کو برا کہا کرتے ہیں،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 34–35

تفسیر آیت 34، 35۔ آیت 34۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ۔ اہل کتاب کے جرائم خلق کے باب میں : يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ۔ اوپر اہل کتاب کے وہ جرائم بیان ہوئے ہیں جن کے مرتکب وہ خالق کے حقوق کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 34–35

34۔ 1 احبار حبر کی جمع ہے یہ ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو بات کو خوبصورت طریقہ سے پیش کرنے کا طریقہ رکھتا ہو خوبصورت اور منقش کپڑے کو ثوب مُحَبُّر کہا جاتا ہے مراد علماء یہود ہیں، رہبان راہب کی جمع ہے جو رہبنہ سے مشتق ہے۔ اس سے مراد علماء نصاریٰ ہیں بعض کے نزدیک یہ صوفیائے نصاریٰ ہیں۔ یہ دونوں ایک تو کلام اللہ میں تحریف و تغیر کر کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق مسئلے بتاتے اور یوں لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں، نبی ﷺ کا یہ فرمان باب کا عنوان ہے ' تم پچھلی امتوں کے طور طریقوں کی ضرور پیروی کرو گے '۔ 34۔ 2 حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ یہ زکٰوۃ کے حکم سے پہلے کا حکم ہے۔ زکٰوۃ کا حکم نازل…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 34–35

31: لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھانے کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں، لیکن ان علماء کے حوالے سے خاص طور پر جو بات کہی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگ رشوت لے کر لوگوں کی مرضی کے مطابق شریعت کو توڑ موڑ ڈالتے ہیں، اور اس طرح اللہ کے مقرر کئے ہوئے صحیح راستے سے لوگوں کو روک دیتے ہیں۔ 32: اگرچہ یہ آیت براہ راست ان اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بخل کی وجہ سے مال جمع کرتے رہتے تھے، اور اس کے شرعی حقوق ادا نہیں کرتے تھے، لیکن آیت کے الفاظ عام ہیں اور ان کا اطلاق ان مسلمانوں پر بھی ہوتا ہے جو مال و دولت اکھٹا کرتے چلے جائیں اور وہ حقوق ٹھیک ٹھیک ادا نہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے مال پر عائد کئے ہیں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس سورة کے اس سبق کی آخری یونٹ پر ہم پہنچ چکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اہل کتاب اللہ کے حرا کیے ہوئے کو کس طرح حرام نہیں کرتے۔ جبکہ اس سے پہلے کہا تھا کہ وہ اپنے احبارو رہبان کو رب سمجھتے ہیں۔ اللہ کے سوا رب قرار دیتے ہیں اور جس کی تفسیر رسول اللہ نے یہ فرمائی تھی کہ یہ اہل کتاب احبارو رہبان کے حلال کردہ کو حلال اور حرام کردہ کو حرام سمجھتے ہیں۔ یہاں یہ بتایا گیا کہ یہ احبارو رہبان اللہ کے حرام کردہ کو حرام نہیں سمجھتے۔ اللہ کے حلال کردہ کو حلال نہیں سمجھتے۔ ۔۔۔ آیت میں احبارو رہبان کے کردار کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ عوام نے تو ان کو اللہ کے علاوہ رب بنا رکھا ہے۔ اور یہ لوگ نتیجتاً لوگوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی روپیہ لے کر احکام شریعہ اور اخبار الٰہیہ کو بدل ڈالتے ہیں۔ ادھر عوام الناس نے انہیں جیسے پہلے گزرا خدائی کا مرتبہ دے رکھا ہے جو کچھ غلط سلط کہہ دیں وہی ان کے نزدیک حجت ہے، اس طرح یہ علماء و مشائخ نذرانے وصول کرنے، ٹکے بٹورنے اور اپنی سیاست اور ریاست قائم رکھنے کے لیے عوام کو مکروفریب کے جال میں پھنسا کر راہ حق سے روکتے رہتے ہیں، کیونکہ عوام اگر ان کے جال سے نکل جائیں اور دین حق اختیار کرلیں تو ساری آمدنی بند ہوجائے۔ یہ حال مسلمانوں کو سنایا تاکہ متنبہ ہوجائیں کہ امتوں کی خرابی اور تباہی کا بڑا سبب تین جماعتوں کا خراب وبے راہ ہونا اور اپنے فرائض کو چھوڑ دینا ہے۔ علماء ومشائخ اور اغنیاء…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 34–35

آیت 34 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّہْبَانِ لَیَاْکُلُوْنَ اَمْوَال النَّاس بالْبَاطِلِ مختلف مسلمان امتوں میں مذہبی پیشواؤں کے لیے مختلف نام اور القاب رائج رہے ہیں۔ بنی اسرائیل کے ہاں انہیں احبار اور رہبان کہا جاتا تھا۔ آیت زیر نظر کے مطابق اس طبقے میں اکثریت ایسے لوگوں کی رہی ہے جو باطل اور ناجائز ذرائع سے مال و دولت جمع کرنے اور جائیداد بنانے کے مکروہ دھندے میں ملوث رہے ہیں۔ ایک عام دنیا دار آدمی جائز طریقے سے مال و دولت کماتا ہے یا جائیداد بناتا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ مگر ایک ایسا شخص جو دین کی خدمت میں مصروف ہے اور اسی حقیقت سے جانا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

34 اہل کتاب کی حرام خوری :۔ ان کے ناجائز طریقے یہ تھے کہ انہوں نے سود کو جائز قرار دے لیا تھا۔ بالخصوص غیر یہود سے سود وصول کرنا نیکی کا کام سمجھتے تھے۔ نیز غیر یہود کے اموال جس جائز و ناجائز طریقہ سے ہاتھ لگ جائیں وہ ان کے نزدیک حلال اور طیب تھے۔ رشوتیں لے کر غلط فتوے دیتے تھے۔ نجات نامے فروخت کرتے تھے۔ حرام کردہ چیزوں مثلاً چربی کو پگھلا کر ان کی قیمت کھالیتے تھے۔ شادی یا غمی کی کوئی رسم ہو اس میں اپنا حصہ اور نذرانے وصول کرتے تھے۔ اور ان کی یہی کارستانیاں بالواسطہ اللہ کے دین میں رکاوٹ کا سبب بن جاتی تھیں۔ 35 خزانہ جمع کرنے سے مراد :۔ اس جملہ کے مخاطب صرف اہل کتاب ہیں یا ان میں مسلمان بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

62 ۔ اور خود حق کی تلاش وطلب رکھنا تو الگ رہا، اسے قبول تک نہیں کرتے) یاکلون اموال الناس بالباطل۔ سلیس وعام فہم اردو میں لوگوں کو ٹھگتے رہتے ہیں۔ مثلا یہ کہ معقتدین کی مرضی دیکھ کر انہیں ان کے موافق فتوی دے دیا اور ان سے نذارنہ وصول کرلیا، ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ (آیت) ” الباطل “۔ کے تحت میں رشوت اور ناجائز نذرانوں کی ہر صورت آگئی۔ (آیت) ” یصدون عن سبیل اللہ “۔ عوام ان کے انہی جھوٹے سچے فتو وں میں آکر عمر بھر گمراہی میں پھنسے رہتے ہیں۔ 63 ۔ یعنی شریعت کے واجب کئے ہوئے مصارف خیر میں۔ (آیت) ” یکنزون “۔ کنز کے لغوی معنی اس مال کے ہیں جو کسی ظرف میں محفوظ کرکے رکھا گیا ہو یا زیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 34–35

ربط آیات : یاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّھْبَانِ الخ متبعین کے عقائد واوصاف بیان کرنے کے بعد اب ان کے رئوساء اور متبوعین کے اخلاق وصفات بیان فرماتے ہیں، احبار علماء یہود اور رہبان زہاد نصاری کو کہتے ہیں احبار '' حبر '' کی جمع ہے ایسے شخص کو کہتے ہیں جو خوبصورت طریقہ سے بات پیش کرنے کا سلیقہ رکھتا ہو، '' محبر '' خوبصورت اور منقش کپڑے کو اسی مناسبت سے کہتے ہیں، '' رہبان '' بعض کے نزدیک صوفیاء نصاری کو کہتے ہیں اور علماء نصاری کو '' قسیسین '' کہا جاتا ہے، یہ دونوں گروہ ایک تو کلام میں تحریف و تغیر کر کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق مسئلے بتاتے تھے اس طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایھا الذین امنوا ان کثیرًا من الاحبار والرھبان اے اہل ایمان ! بکثرت علماء اہل کتاب اور عیسائیوں کے درویش۔ احبار سے مراد ہیں : اہل کتاب کے علماء (خواہ یہودی ہوں یا عیسائی) اور رہبان سے مراد ہیں عیسائی درویش (کیونکہ یہودیوں میں رہبانیت کا دستور نہ تھا) ۔ لیاکلون بلاشبہ کھاتے ہیں۔ کھانے سے مراد ہے فائدہ اندوز ہونا۔ چونکہ فائدہ اندوز ہونے کی سب سے بڑی صورت کھانا ہے ‘ اسلئے لیاکلون فرمایا (مال کا مقصد کھانا ‘ پینا ‘ پہننا اور استعمال کرنا ہے۔ کھانے کا درجہ سب سے مقدم ہے ‘ یہ مدار زندگی ہے) ۔ اموال الناس بالباطل لوگوں کے مال ناجائز طور پر۔ باطل سے مراد ہے رشوت لے کر لوگوں کے فیصلے کرنا ‘ اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(34) رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھنے والو، اکثر علماء یہود اور مشائخ نصاری رشوت اور حرام کا مال کھاتے ہیں اور دین الہی اور اطاعت سے لوگوں کو باز رکھتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا چاندی کو جمع کرکے رکھتے ہیں اور ان خزانوں کو اطاعت خداوندی میں خرچ نہیں کرتے اور اس مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے، اے محمد ﷺ آپ انھیں درد ناک سزا کی خبر سنا دیجیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 34–35

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ : سلسلۂ کلام کو دیکھیں تو یہاں احبارو رہبان سے مراد اہل کتاب کے عالم اور درویش ہیں، مگر الفاظ عام ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے علماء اور زہاد و صوفیا بھی اس میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا انصاف ملاحظہ فرمائیں کہ سب احبارو رہبان کو ایک جیسا قرار نہیں دیا بلکہ ان میں سے بہت سے لوگوں کا یہ حال بیان فرمایا کہ وہ لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں۔ دیکھیے سورة مائدہ (62، 59) رازی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہود و نصاریٰ کے بہت سے احبارو رہبان کے فخر و کبر، اللہ کے محبوب ہونے،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں گیارہ مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : لیاکلون اموال الناس بالباطل اس میں فعل مضارع پر لام داخل ہوا ہے (فعل) فعل ماضی پر لام داخل نہیں ہوا۔ اس لیے کہ یفعل (فعل مضارع) اسماء کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے اور الا حبار سے مراد علماء یہود ہیں۔ اور الرھبان سے مراد وہ عیسائی ہیں جو عبادت میں مستغرق رہنے والے اور انتہائی کوشش کرنے والے ہیں۔ بالباطل کہا گیا ہے کہ بیشک وہ اپنے متبعین اور پیروکاروں کے اموال کئی شکلوں اور معین طریقوں سے کنیسوں ‘ عبادت گاہوں اور کئی دوسرے ناموں پر لیتے تھے۔ جس سے وہ انہیں یہ وہم دلاتے تھے کہ ان میں مال خرچ کرنا شرعی حکم ہے اور اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کا ذریعہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابوالشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یایھا الذین امنوا ان کثیرا من الاحبار “ میں احبار سے مراد ہے یہود کے علماء والرھبان یعنی نصاری کے علماء ”(آیت) لیاکلون اموال الناس بالباطل “ سے باطل سے مراد ہے کہ (سائل کو ایسا حکم لکھ دیتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے نازل نہیں فرمایا تھا اور اس کے ذریعہ لوگوں سے (مال لے کر) کھاتے تھے اور اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فویل للذین یکتبون الکتب بایدیہم ثم یقولون ھذا من عند اللہ “۔ 2:۔ ابوالشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ اس (آیت) کے بارے میں فرمایا کہ احبار یہود سے ہیں اور رھبان نصاری میں سے ہیں اور سبیل اللہ سے مراد محمد ﷺ ہیں۔ 3:۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ [ اے لوگوجو ] اٰمَنُوْٓا [ ایمان لائے ] اِنَّ [ بیشک ] كَثِيْرًا [ بہت سے ] مِّنَ الْاَحْبَارِ [ علماء میں سے ] وَالرُّهْبَانِ [ اور درویشوں میں سے ] لَيَاْكُلُوْنَ [ کھاتے ہیں ] اَمْوَالَ النَّاسِ [ لوگوں کے مال ] بِالْبَاطِلِ [ باطل (طریقوں ) سے ] وَيَصُدُّوْنَ [ اور روکتے ہیں ] عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کی راہ میں ] وَالَّذِيْنَ [ اور جو لوگ ] يَكْنِزُوْنَ [ ذخیرہ کرتے ہیں ] الذَّهَبَ [ سونے کا ] وَالْفِضَّةَ [ اور چاندی کا ] وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا [ اور وہ لوگ خرچ نہیں کرتے ان کو ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۙ [ اللہ کی راہ میں ] فَبَشِّرْهُمْ [ تو آپ خوشخبری دیں ان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

یہود و نصاریٰ دین حق سے روکتے ہیں اس آیت میں اول تو اہل کتاب کے علماء اور مشائخ یعنی درویشی اختیار کرنے والے لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ یہ لوگ باطل طریقہ پر لوگوں کا مال کھاتے ہیں۔ ان میں بعض لوگ پرہیز بھی کرتے ہوں گے اس لیے لفظ کثیرا کا اضافہ فرما دیا۔ ان کا باطل طریقہ پر مال کھانا اس طرح سے تھا کہ توریت شریف میں تحریف کرتے تھے اور اپنے پاس سے احکام بنا دیتے تھے اور اس پر اپنے عوام سے پیسے لے کر کھا جاتے تھے۔ اہل ایمان کو خطاب فرما کر اہل کتاب کے علماء اور مشائخ کی حرام خوری کا تذکرہ فرمایا جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ تمہارے اندر بھی اس طرح کے علماء اور مشائخ ہوسکتے ہیں۔ ان سے پرہیز کرنا لازم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–35

حبار اور رہبان کی حرص اور طمع کا بیان قال اللہ تعالی۔ یا ایہالذین امنوا ان کثیرا من الحبار والرھبان۔۔۔ الی۔۔ فذوقوا ما کنتم تکنزون۔ (ربط): اوپر یہ بیان فرمایا کہ عوام الناس نے احبار اور رہبان کو اپنا رب بنا لیا ہے اب یہ بتلاتے ہیں کہ ان احبارو رہبان کی حرص اور طمع کا یہ حال ہے کہ وہ لوگوں سے روپیہ لے کر احکام شرعیہ اور اخبار الٰہیہ کو بدل ڈالتے ہیں اور اس مضمون کا مخاطب مومنین کو اس لیے بنایا کہ متنبہ ہوجائیں اور ایسے علماء اور مشائخ سے پرہیز کریں جو دنیا کی حرص اور طمع میں گرفتار ہیں ایسے گرفتارانِ آز و ہوا کی تو تعظیم تکریم بھی جائز نہیں چہ جائیکہ ان کو رب بنا لیا جائے۔ چناچہ فرماتے ہیں اے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 34–35

29: یہ قتال کی پانچویں وجہ ہے یعنی یہود و نصاریٰ کے علماء اور پیر فقیر غلط اور ناجائز طریقوں سے لوگوں کا مال کھاتے ہیں۔ مثلاً کتمان حق پر رشوتیں لینا اور عوام سے غیر اللہ کے نام کی نذریں نیازیں وصول کرنا وغیرہ اور عوام کو حق بات نہیں بتاتے اور مسئلہ توحید نہیں بیان کرتے بلکہ اس کے برعکس لوگوں کو شرک و بدعت کی تعلیم دے کر ان کو اللہ کی راہ اور اس کے سچے دین توحید سے رکتے ہیں۔ “ عَلَیْھَا ” جار مجرور مل کر “ یُحْمیٰ ” کا مفعول ما لم یسم فاعلہ ہے۔ یہ جھوٹے عالموں اور مشرک پیروں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والے دولت مندوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 34–35

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے ساتھ جہاد کا ذکر فرمایا تھا پھر اس جہاد کی وجوہات بھی بیان ہوئیں ۔ اہل کتاب کے عقائد باطلہ کا ذکر ہوا ، اور ان حیلہ سازیوں کی بات ہوئی جو وہ اسلام کو مٹانے کے لیے کرتے رہتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تمام ادیان پر دین اسلام کے غلبے کا ذکر کیا۔ پہلے اہل کتاب کے عام لوگوں کی خرابیوں کا بیان ہوچکا ہے ، اب آج کے درس میں ان کے خواص یعنی عالموں اور درویشوں کی خرابیوں کا ذکر ہے۔ اس کے ساتھ حضور ﷺ کی امت کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ جو خرابیاں اہل کتاب میں تھیں وہ تم میں بھی پیدا ہوجائیں گی جس کے بڑے خطرناک نتائج ظاہر ہوں گے۔ اہل کتاب کی خرابیاں : یہود…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّہْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ۝ 0 ۭ وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا يُنْفِقُوْنَہَا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ۝ 0 ۙ فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ۝ 34 ۙ كثر الْكِثْرَةَ والقلّة يستعملان في الكمّيّة المنفصلة كالأعداد قال تعالی: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] ( ک ث ر ) کثرت اور قلت کمیت منفصل یعنی اعداد میں استعمال ہوتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر اور بڑ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 34–35

ف یہود و نصاریٰ کے احبارو رہبان جو کچھ جال پھیلاتے اور بہروپ بدلتے تھے سب مال و زر کے لئے تھا جس کا انجام جہنم میں داغ دیا جانا ہوگا۔ یہود و نصاریٰ پر کیا موقوف ہے یہ مال و زر کی طمع ایسی بلا ہے کہ جس سے بشربمشکل نجات پاسکتے ہیں۔ مسلمانوں کے بعض گروہ کو بھی اس مرض مہلک نے ہلاک کیا اور اولیاء کرام کا بہروپ بدل کر درویشوں ‘ پیر زادوں نے وہ ڈھونگ بنائے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ کہیں میلہ ‘ کہیں نذر و نیاز کا طریقہ اور پھر اس بزرگ کے خدائی اختیارات کی حکایات اور پھر ان علمائِ سوء کا ان کی تاویلات کرنا اور علمی قلعی چڑھا کر رواج دینا ‘ کہیں راگ رنگ کی مجالس کو اور جملہ لہو و لعب کو دین بنانا اور بحث میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 34–35

یٰٓاَ یُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّھْبَانِ لَیَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنْفِقُوْنَھَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لا فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ لا یَّوْمَ یُحْمٰی عَلَیْھَا فِیْ نَارِجَھَنَّمَ فَتُکْوٰی بِھَا جِبَاھُھُمْ وَجُنُوْبُھُمْ وَظُھُوْرُھُمْ ط ھٰذَامَاکَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ فَذُوْقُوْامَاکُنْتُمْ تَکْنِزُوْنَ (التوبۃ : 34، 35 ) (اے ایمان والو ! بیشک بہت سے پادری اور راہب ایسے ہیں جو لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 34–35

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب نے اپنے علماء اور صلحاء کو خدائی کا درجہ دیا ہوا تھا ان صلحاء اور علماء نے اپنی مسند کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنالیا اس طرح دین کے داعی ہی دین کے راستے میں رکاوٹ ثابت ہوئے۔ ایسے پادری، درویش اور علماء ہمیشہ دین اسلام کے مخالف رہے ہیں اور ہر زمانے میں رہیں گے۔ یہودیوں کے علماء کا مدینہ، خیبر اور ان کے گرد و نواح پر اور پادریوں کا روم شام وغیرہ پر مذہبی تسلط تھا۔ عوام علماء اور صلحاء کے ظاہری رکھ رکھاؤ اور تقدس سے بڑے مرعوب تھے جس وجہ سے لوگ سمجھتے تھے کہ اگر اتنے بڑے صلحاء، بڑے بڑے مربی اور پوپ، پادری، نامور علماء اسلام قبول نہیں کر رہے تو کوئی ایسی بات ہے جو اسلام…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

حرام خور احبارو رہبان : آیت 34: یٰٓاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّھْبَانِ لََیَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ (اے ایمان والو اکثر احبار اور درویش لوگوں کے مال کھاتے ہیں) لینے کو کھانے کے لفظ سے بطور استعارہ کے لائے بِالْبَاطِلِ (ناجائز طریقے سے) احکام میں رشوت کے ذریعہ وَیَصُدُّوْنَ (اور وہ روکتے ہیں) اپنے ماتحتوں کو عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اللہ کی راہ سے) اس کے دین سے۔ جس مال سے اللہ کا حق نہ دیا جائے وہ کنز ہے اس کی یہ سزا ہے : وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ (اور جو لوگ سونا چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں) جائز ہے کہ اکثریت نمبر 1۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 34۔” یا ایھا الذین امنوا ان کثیرا من الاحبار والرھبان “ یعنی اہل کتاب کے علماء اور قراء ” لیاکلون اموال الناس بالباطل “ یعنی اپنے احکام میں رشوت لیتے ہیں اور اللہ کی کتاب میں تحریف کرتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھ کر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اپنے بیوقوفوں سے اس پر کچھ قیمت لیتے ہیں یہ ان کے کمائی کے ذریعے ہیں جن کی وجہ سے انہوں نے توریت میں موجود نبی کریم ﷺ کی صفات تبدیل کردیں تا کہ ان کی کمائی نہ بند ہوجائے۔ ” ویصدون عن سبیل اللہ والذین یکنزون الذھب والفضۃ ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ فبشرھم بعذاب الیم “ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جس مال کی زکوٰۃ ادا کر دے وہ کنز نہیں ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 34–35

34۔ 35۔ یہ اور ایک مذمت اہل کتاب کے عالموں کی بیان کی گئی ہے کہ اکثر علمائے یہود اور علمائے نصاریٰ سچ میں جھوٹ ملا کر لوگوں کے مال کھالیتے ہیں اور لوگوں کو راہ حق سے روکتے ہیں ناحق سے مقصد ان کی وہ کتابیں ہیں جو انہوں نے لکھ رکھی ہیں خدا نے نہیں اتاریں انہی کتابوں کے حوالہ سے لوگوں کی مرضی کے موافق فتوے دیتے تھے اور ان فتو وں کے بدلہ میں لوگوں سے مال لے کر کھاتے تھے اور ان ایجادی فتو وں کے سبب سے عام لوگوں کو تو رات اور انجیل کے حکم سے روکتے تھے مثال یہود کے علماء نے جس طرح سنگ ساری کے حکم اور علمائے نصاریٰ نے ختنہ کے حکم سے عام لوگوں کو رد کیا جس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے اب آگے یہ جو فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 34–35

آیت 34 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے اہل ایمان بندوں کو تحذیر ہے کہ وہ بہت سے احبار اور رہبان، یعنی اہل کتاب کے علماء اور عبادت گزاروں سے بچیں جو باطل یعنی ناحق طریقے سے لوگوں کا مال کھاتے ہیں اور انہیں اللہ کے راستے سے روکتے ہیں، کیونکہ ان کے علم، ان کی عبادت اور ان کی پیشوائی کی وجہ سے لوگوں کے مال اور ان کے چندوں میں سے ان کے وظائف مقرر ہیں۔ یہ احبارو رہبان وظائف لییت ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ ان کا اس طریقے سے وظائف لینا حرام اور ظلم ہے، کیونکہ لوگ ان پر اپنا مال اس لئے خرچ کرتے ہیں، تاکہ وہ راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کریں اور ناحق طریقے سے لوگوں کا مال…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

اخبار و رہبان کی اکثریت لوگوں کے مال باطل طریقے سے ہڑپ کرتی ہے قول باری ہے (یایھا الذین اٰمنوا ان کثیراً من الاحبار والرھبان لیاکلون اموال الناس باباطل اے ایمان لانے والو ! ان اہل کتاب کے اکثر علماء اور درویشوں کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں) باطل طریقوں سے مال کھانے کا مفہوم یہ ہے کہ مال پر ناجائز طریقوں سے قبضہ کرلیا جائے جن سے مروی ہے کہ یہ لوگ فیصے کرنے میں رشوتیں لیتے تھے۔ یہاں صرف اکل یعنی کھانے کا ذکر ہوا ہے لیکن مراد تمام منافع و فوائد اور تصرفات ہیں چونکہ مال کا سب سے بڑا فائدہ اکل و شرب کی صورت میں حاصل ہوتا ہے اس لئے اس کا ذکر ہوا۔ اس کی نظیر یہ قول باری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

76 لفظِ { باطل } کا عموم و شمول اور اسکی مختلف شکلیں : سو " باطل " کا کلمہ عام ہے جو اکل حرام کی ہر ناجائز شکل کو شامل ہے خواہ وہ رشوت ستانی و فتوی فروشی کی شکل میں ہو اور خواہ ناجائز تعویذ گنڈوں کے کاروبار کی شکل میں۔ اور اس سلسلے میں نت نئی بدعات کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی خرافات اور خود ساختہ رسوم کو رواج دینے کی صورت میں۔ خواہ غیر اللہ کے نام کی نذر و نیاز کے ذریعے اور دوسرے ان مختلف بدعی طور طریقوں سے ہو جن کا قرآن و سنت کی تعلیمات مقدسہ میں اور حضرات صحابہ کرام، تابعین عظام اور سلف صالحین کے دور میں کوئی ثبوت و وجود اور نام و نشان نہیں، بلکہ عربی زبان میں ایسا کوئی لفظ تک نہیں پایا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 30–35

یہود و نصارٰی کی گمراہی کی وجہ اور زکوٰۃ نہ دینے والوں کی سزا تشریح : ان آیات میں یہود و نصارٰی کے بارے میں بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہود اہل کتاب ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کے پیرو ہیں۔ لیکن یہ قوم بڑی ضدی، نااہل اور نافرن ثابت ہوئی یہاں تک کہ اپنے نبیوں کو بھی قتل کردیا کرتے تھے تو ایسے لوگ اپنی آسمانی کتاب پر کیا عمل کرسکتے تھے بلکہ انہوں نے اس کو بالکل تبدیل کردیا۔ ان کے راہب اور علماء بڑے بڑے امیر لوگوں سے کچھ رقم لیکر ان کی مرضی کے مطابق کتاب سے غلط فتوے بنا دیا کرتے تھے۔ پھر لوگوں سے بڑی بڑی رقمیں لیکر لوگوں کو گمراہ کرنے پر لگے رہتے اور پھر کفر میں اس قدر بڑھ گئے کہ کیتھولک فرقہ کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–37

اسرار و معارف چونکہ ایمان باللہ بھی وہی قابل قبول ہے جو ان اوصاف کے ساتھ ہو جو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمائی ہیں ۔ ان سے ہٹ کر اگر کسی نے اللہ کو مانا بھی تو وہ نہ ماننے کے برابر ہے جیسے اہل کتاب کہ اللہ پر اور آخرت پر ایمان تو رکھتے تھے مگر ظالموں نے اللہ کے لئے اولاد تجویز کردی یہود نے کہا حضرت عزیز (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے تھے اسی طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دے دیا اور بغیر کسی دلیل کے محض اپنی رائے سے گپ ہان کی ہے اللہ انھیں تباہ کرے کیسی غلط بات پر جم گئے ہیں ۔ اور یوں اپنے طور پر تو اللہ کا کوئی نہ کوئی تصور ہر قوم کے پاس ہے مگر یہ کوئی ماننا نہ ہوا۔…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 رشوت لے کر غلط مسئلے بتاکر آنحضرت ﷺ کے متعلق بشارتوں کو چھپا کر اور ان کو غلط معنی پہنا کرلو گوں کو دین کی حفاظت اور تبلیغ دین کا چکمہ دے کر۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں۔ فی زمانا وہ بھی بہت سے علما اور مشائخ اسی طرح کے حیلے حوالوں سے لوگوں کے مال ہضم کر رہے ہیں ،۔ ( کبیر، ابن کثیر)4 ان سے مراد یہود و نصاری ٰ کے علما بھی ہوسکتے ہیں جن کا بیان پہلے سے چلا آرہا ہے اور عام لوگ بھی ( کبیر) کنز کے معنی مال جمع کرنے کے ہیں اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا یہ ہے کہ زکوٰۃ ادا کرے ضرورت مند کو قر ض دے اور حق دار کا حق ادا کرتار ہے۔ ( از مو ضح)5 بعض صحابہ ؓ جیسے ابو ذر غفاری ؓ نے اس آیت کی رو سے مطلق…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:34) یصدون۔ ای ینعون الناس (عن الایمان وعن الاسلام لوگوں کو اسلام سے روکتے تھے۔ والذین یکنزون۔ میں اشارہ کثیرا من الاحبار والرھبان کی طرف ہے۔ یکنزون مضارع جمع مذکر غائب۔ کنز مصدر (باب ضرب) وہ جمع کرکے رکھ چھوڑتے ہیں۔ الذھب والفضۃ۔ سونا اور چاندی۔ بمعنی مال و دولت۔ فبشرھم۔ بشیر۔ تو خوشخبری دے۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تبشیر (تفعیل) سے بشارت کا لفظ طنزاً استعمال ہوا ہے۔ ہم ضمیر الذین یکنزون کی طرف راجع ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 34–35

لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 35 لیا کلون (البتہ وہ کھاتے ہیں) یصدون (وہ روکتے ہیں) یکنزون (جمع کرتے ہیں) الذھب (سونا) الفضۃ (چاندی) لاینفقون (وہ خرچ نہیں کرتے ہیں) بشر (خوش خبری دے دیجیے ) یحمی (آگ میں دھونکا یا گیا ہے) تکویٰ (داغ لگایاج ائے گا) جباہ (جبہ) ، پیشانی، ماتھا جنوب (جنب) ، پیشانی، ماتھا) جنوب (جنب) ، پہلو کنزتم (تم نے جمع کیا) ذوقوا (تم چکھو) تشریح : آیت نمبر 34 تا 35 گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رسول ﷺ کا کام یہ ہے کہ وہ دین اسلام کو ہر مذہب اور طریقہ زندگی پر غالب کردیں تاکہ ساری دنیا سچائی کی اس روشنی میں اپنی منزل تلاش کرسکے۔ ان آیات میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ وہ لوگ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 34–35

اہل کتاب کے علماء اور درویش، زکوٰۃ نہ دینے کا عذاب : یہ ایک اور مذمت اہل کتاب کے عالموں کی بیان کی گئ ہے۔ اکثر علماء یہود ونصاریٰ ، سچ میں جھوٹ ملا کر لوگوں کے مال کھالیتے ہیں اور لوگوں کو راہ حق سے روکتے ہیں۔ ناحق سے مقصد ان کی وہ کتابیں ہیں جو انہوں نے لکھ رکھی ہیں خدا نے نہیں اتاریں۔ انہیں کتابوں کے حوالے سے لوگوں کی مرضی کے موافق فتوے دیتے تھے اور ان فتوؤں کے بدلے میں لوگوں سے مال لے کر کھاتے تھے۔ اور ان ایجادی فتو وں کے سبب سے عام لوگوں کو تورات اور انجیل کے حکم سے روکتے تھے۔ مثلا یہود نے جس طرح سنگ باری کے حکم اور علماء نصاریٰ نے ختنہ کے حکم سے عام لوگوں کو روکا۔ اب آگے یہ جو فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 34–35

[19] سنن ابی داؤد میں سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب سورة التوبہ کی آیت (وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ 34؀ۙ ) 9 ۔ التوبہ :34) نازل ہوئی تو جو صحابہ کرام دولت مند تھے بہت گھبرائے اور کہنے لگے کہ اس آیت کی رو سے ہم سب گنہگار ٹھہرے، اس پر سیدنا عمر ؓ نے کہا کہ میں اس آیت کا مطلب رسول اللہ ﷺ سے پوچھ کر آتا ہوں، چناچہ سیدنا عمر ؓ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے نبی ﷺ یہ آیت آپ ﷺ کے صحابہ پر گراں ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ اس لئے فرض کی ہے کہ وہ تمہارے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 34–35

(ف 2) مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ (یعنی یہودی) صرف شرک وبت پرستی میں مبتلا نہیں ، ان میں اخلاقی برائیاں بھی موجود ہیں ۔ علماء ومشائخ جو صحیح معنوں میں قومی اخلاق و عادات کے آئینہ دار ہوتے ہیں ، ان کی یہ حالت ہے کہ اکل حلال کی توفیق سے محروم ہیں مشخیت وعلم کو ذریعہ معاش بنا لیا ہے طرح طرح سے لوگوں کو ٹھگتے ہیں ، اور ہر دینی اصلاح کی مخالفت کرتے ہیں ، تاکہ لوگ ان کے دام تزویر میں بدستور پھلے رہیں ، عوام میں حرص وآز کے جذبات زیادہ ہیں ، ان کی زندگی محض روپیہ اکٹھا کرنا ہے ، مذہب وایثار سے کوئی واسطہ ہی نہیں ، دن رات دولت کی دھن میں لگے ہوئے ہیں ، ان کے لئے آخرت میں یہ عذاب ہے ، کہ سونے چاندی کے یہی سکے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

34 اے ایمان والو ! بلاشبہ یہودو نصاریٰ کے اکثر علماء اور مشائخ غیر مشروع طریقہ پر لوگوں کے مال کھا جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور اس سونے چاندی کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو اے پیغمبر ﷺ ! آپ ایسے حریصوں اور بخیلوں کو ایک دردناک عذاب کی بشارت اور خبر دیدیجئے۔ یعنی لوگوں کو غلط فتوے اور جھوٹی باتیں بتا کر اور سنا کر اسلام سے روکتے ہیں اور لوگوں کو ان کے حسب منشا مسائل بتاکر رشوتیں وصول کرتے ہیں اور ناجائز طور پر لوگوں کے مال مارتے ہیں پھر حرص کے ساتھ بخل سے بھی متصف ہیں روپیہ جمع کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 34–35

ف 4۔ یعنی یہود و نصاری کے علماء اور مشائخ عوام کے مال نامشروع طریقے سے کھاتے اڑاتے ہیں۔ 5۔ یعنی احکام حقہ کو پوشیدہ رکھ کرموافق مرضی عوام کے فتوی دے کر ان سے نذر انے لیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

زر پرستوں نے دوسروں کے اموال کو ہڑپ کرنے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا ؟ 49: زیر نظر آیت میں خصوصیت کے ساتھ مسلمانوں کو مخاطب کر کے علمائے یہود و نصاریٰ کی حالت بیان کردی تاکہ مسلمان اس سے نصیحت پکڑیں لیکن اس سے مسلمان علمائے کرام نے کتنی نصیحت حاصل کی اس کا فیصلہ آپ خود فرمالیں اس مضمون کو پڑھتے جائیں اور فیصلہ ساتھ ساتھ کرتے جائیں ممکن ہے کہ کسی صحیح نتیجہ پر پہنچ سکیں۔ چونکہ پچھلی آیت میں احبارو رہبان کا ذکر کیا گیا تھا اس لئے آیت (34) میں خصوصیت کے ساتھ مسلمانوں کو مخاطب کر کے ان کی حالت بیان فرمائی ہے تاکہ اس سے نصیحت پکڑیں۔ قرآن نے یہاں اور متعدد مقامات میں یہود و نصاریٰ کے علماء و مشائخ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the fourth verse (34), the address is to Muslims but the subject taken up concerns the conduct of rabbis and monks among the Jews and Christians, a conduct which led common people astray. Perhaps, the address to Muslims indicates a purpose behind the description of the conduct of Jewish rabbis and Christian monks. The purpose is to warn them as well in order that they too remain alert against such conditions prevailing among Muslims. The verse states that many rabbis and monks among the Jews and Christians eat up the wealth of the people by false means and prevent (them) from the way of…

Read the full tafseer →