At-Tawba 9:33

At-Tawba · from ayah 33

9:33

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَی الدِّیْنِ كُلِّهٖ ۙ— وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ ۟هُوَ الَّذِىۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰى وَدِيۡنِ الۡحَـقِّ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖۙ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُشۡرِكُوۡنَ

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس (دین) کو (دنیا کے) تمام دینوں پر غالب کرے۔ اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

It is He who has sent His Messenger with guidance and the religion of truth to manifest it over all religion, although they who associate others with Allah dislike it.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 5 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:33

وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پوری جنس دین پر غالب کر دے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس (دین) کو (دنیا کے) تمام دینوں پر غالب کرے۔ اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اسی نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا ہے کہ اسے اور تمام مذہبوں پر غالب کر دے اگر چہ مشرک برا مانیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ اللہ ہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے ہر دوسرے دین پر غالب کردے، چاہے مشرک لوگوں کو یہ بات کتنی ناپسند ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے پڑے برا مانیں مشرک،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہی (اللہ) ہے جس نے اپنے رسول ﷺ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہر دین (والے) پر غالب کر دے اگرچہ مشرکین کو برا لگے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے، خواہ مشرک لوگ برا جانیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس دین کو سب ادیان پر غالب کردے۔ خواہ یہ بات مشرکوں کو کتنی ہی ناگوار ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ اس کو سارے دین پر غالب کردے ان مشرکوں کے علی الرغم

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ (اللہ) وہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ، تاکہ وہ اس کو غالب کرے تمام دینوں پر، اگرچہ یہ امر برا لگے مشرکوں کو۔

— مولانا اسحاق مدنی

وہ اللہ وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے وہ غالب کردے سارے بقیہ دینوں پر خواہ مشرکوں کو (کیسا ہی) ناگوار ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہی تو ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول ﷺ کو الہدیٰ اور دین حق دے کرتا کہ غالب کردے اسے کل کے کل دین (نظام زندگی) پر خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار گزرے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس دین کو دنیا کے تمام دینوں پر غالب کرے اگرچہ کفار ناخوش ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He it is Who has sent His Messenger with the guidance and the True Religion that He may make it prevail over all religions, howsoever those who associate others with Allah in His Divinity might detest it.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He is the One who has sent down His Messenger with guidance and the Faith of Truth, so that He makes it prevail over every faith, no matter how the Mushriks may hate it.

— Muhammad Taqi Usmani

He is the One who has sent down His Messenger with guidance and the Faith of Truth, so that He makes it prevail over every faith, no matter how the Mushriks may hate it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It is He Who has sent His Messenger with guidance and the religion of truth, to make it superior over all religions even though the idolators hate (it).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He it is Who hath sent His messenger with the guidance and the Religion of Truth, that He may cause it to prevail over all religion, however much the idolaters may be averse.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It is He who has sent His Messenger with guidance and the religion of truth to manifest it over all religion, although they who associate others with Allah dislike it.

— Saheeh International

It is God Who sent His Messenger with guidance and a true religion that will prevail over all other religions, even though the pagans may dislike it.

— Muhammad Sarwar

He it is Who sent His Apostle with guidance and the religion of truth, that He might cause it to prevail over all religions, though the polytheists may be averse.

— Muhammad Habib Shakir

He it is who hath sent His apostle with the guidance and the true religion that he may make it prevail over all religions, although the associators may detest.

— Abdul Majid Daryabadi

It is He Who hath sent His Messenger with guidance and the Religion of Truth, to proclaim it over all religion, even though the Pagans may detest (it).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 32–33

کفارہ کی دلی مذموم خواہش۔ فرماتا ہے کہ ہر قسم کے کفار کا ارادہ اور چاہت یہی ہے کہ نور الٰہی بجھا دیں ہدایت ربانی اور دین حق کو مٹا دیں تو خیال کرلو کہ اگر کوئی شخص اپنے منہ کی پھونک سے آفتاب یا مہتاب کی روشنی بجھانی چاہے تو کیا یہ ہوسکتا ہے ؟ اسی طرح یہ لوگ بھی نور رب کے بجھانے کی چاہت میں اپنی امکانی کوشش کریں آخر عاجز ہو کر رہ جائیں گے۔ ضروری بات ہے اور اللہ کا فیصلہ ہے کہ دین حق تعلیم رسول ﷺ کا بول بالا ہوگا۔ تم مٹانا چاہتے ہو اللہ اس کو بلند کرنا چاہتا ہے ظاہر ہے کہ اللہ کی چاہت تمہاری چاہت پر غالب رہے گی۔ تم گو ناخوش رہو لیکن آفتاب ہدایت بیچ آسمان میں پہنچ کر ہی رہے گا۔ عربی لغت میں کافر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّوْبَة 32 متن میں ”الدین“ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا ترجمہ ہم نے ”جنس دین“ کیا ہے۔ دین کا لفظ، جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں، عربی زبان میں اس نظام زندگی یا طریق زندگی کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کے قائم کرنے والے کو سند اور مطاع تسلیم کر کے اس کا اتباع کیا جائے۔ پس بعثت رسول کی غرض اس آیت میں یہ بتائی گئی ہے کہ جس ہدایت اور دین حق کو وہ خدا کیطرف سے لایا ہے اسے دین کی نوعیت رکھنے والے تمام طریقوں اور نظاموں پر غالب کر دے۔ دوسرے الفاظ میں رسول کی بعثت کبھی اس غرض کے لیے نہیں ہوئی کہ جو نظام زندگی لے کر وہ آیا ہے وہ کسی دوسرے نظام زندگی کا تابع اور اس سے مغلوب بن کر اور اس کی دی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اس کے بعد تسیری آیت کے مضمون کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہدایت کا سامان یعنی قرآن اور دین حق یعنی اسلام دے کر اسی لئے بھیجا ہے تاکہ اس کو دنیا کے تمام بقیہ دینوں پر غالب کردے، تقریباً انہی لفظوں کے ساتھ قرآن کریم میں متعدد آیات آئی ہیں جن میں یہ وعدہ ہے کہ دین اسلام کو تمام دنیا کے ادیان پر غالب کیا جائے گا۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ دین اسلام کو تمام دوسرے دینوں پر غالب کرنے کی خوشخبری اکثر زمانوں اور اکثر حالات کے اعتبار سے ہے جیسا کہ حضرت مقداد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ روئے زمین پر کوئی کچا پکا مکان باقی نہ رہے گا جس میں اسلام کا کلمہ داخل نہ ہوجائے،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 32–33

تفسیر آیت 32، 33۔ آیت 32۔ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَيَاْبَى اللّٰهُ اِلَّآ اَنْ يُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ ، حق کی مخالفت من گھڑت باتوں سے : يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّطْفِــــُٔـوْا۔ اوپر آیات 29۔ 30 میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ اللہ نے ان کو گمراہی سے نکالنے کے لیے اپنا دین حق بھیجا ہے لیکن یہ اس کی پیروی پر آمادہ نہیں ہیں اور ان باتوں کی آڑ لے کر اس کی مخالفت کررہے ہیں جو محض ان کے منہ کی باتیں ہیں، نہ ان کے لیے ان کے پاس خدا کی کوئی سند ہے، نہ عقل و فطرت ہی کے اندر ان کی کوئی شہادت ہے۔ اب یہ اسی حقیقت کو ایک تمثیلی رنگ میں نمایاں کیا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

33۔ 1 دلائل وبراہین کے لحاظ سے تو یہ غلبہ ہر وقت حاصل ہے۔ تاہم مسلمانوں نے دین پر عمل کیا تو انہیں دنیاوی غلبہ بھی حاصل ہوا۔ اور اب بھی مسلمان اگر اپنے دین کے عامل بن جائیں تو ان کا غلبہ یقینی ہے، اس لئے کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ حزب اللہ غالب و فاتح ہوگا۔ شرط یہی ہے کہ مسلمان حزب اللہ بن جائیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 31–33

30: ان کو خدا بنانے کا جو مطلب آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے علماء کو یہ اختیارات دے رکھے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں حلال اور جس چیز کو چاہیں حرام قرار دے دیں، واضح رہے کہ عام لوگ جو کسی آسمانی کتاب کا براہ راست علم نہیں رکھتے، ان کو شریعت کا حکم معلوم کرنے کے لئے علماء سے رجوع تو کرنا ہی پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے شارح کی حیثیت میں ان کی بات ماننی بھی پڑتی ہے، اس کا حکم خود قرآن کریم نے سورة نحل (14۔ 43) اور سورة انبیاء (17۔ 21) میں دیا ہے، اس حد تک تو کوئی بات قابل اعتراض نہیں، لیکن یہود و نصاری نے اس سے آگے بڑھ کر اپنے علماء کو بذات خود احکام وضع کرنے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دین حق سے مراد وہ دین ہے جو آیت قتال میں دین مراد ہے : قَاتِلُوا الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلا بِالْيَوْمِ الآخِرِ وَلا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ (29) جنگ کرو اہل کتاب میں سے ان لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔ (ان سے لڑو) یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔ اور یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 اسلام کا غلبہ باقی ادیان پر معقولیت اور حجت و دلیل کے اعتبار سے، یہ تو ہر زمانہ میں بحمد اللہ نمایاں طور پر حاصل رہا۔ باقی حکومت و سلطنت کے اعتبار سے وہ اس وقت حاصل ہوا ہے اور ہوگا، اور جبکہ مسلمان اصول اسلام کے پوری طرح پابند اور ایمان وتقویٰ کی راہوں میں مضبوط اور جہاد فی سبیل اللہ میں ثابت قدم تھے یا آئندہ ہوں گے۔ اور دین حق کا ایسا غلبہ کہ باطل ادیان کو مغلوب کر کے بالکل صفحہ ہستی سے محو کر دے۔ یہ نزول مسیح (علیہ السلام) کے بعد قیامت کے قریب ہونے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 33 ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖلا وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ یہ آیت بہت واضح انداز میں محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی امتیازی یا تکمیلی شان کا مظہر ہے۔ جیسے کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ حضور ﷺ کی رسالت کا بنیادی مقصد تو دوسرے انبیاء ورسل کی طرح تبشیر ‘ انذار ‘ تذکیر ‘ دعوت اور تبلیغ ہے ‘ جس کا تذکرہ سورة النساء آیت 165 میں بایں الفاظ موجود ہے : رُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِءَلاَّ یَکُوْنَ للنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِ ط لیکن اس کے علاوہ حضور ﷺ کی بعثت کا ایک امتیازی اور خصوصی مقصد بھی ہے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

33 آپ کی بعثت کا مقصد اسلام کی نظریاتی اور سیاسی بالادستی :۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ نے رسول اس لیے بھیجا ہے کہ ساری دنیا کو مسلمان بنا کے چھوڑے۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ دنیا میں جو جو دین یا نظام ہائے زندگی رائج ہیں ان سب پر بلحاظ عقل اور دلیل و حجت اسلام کی بالادستی قائم ہوجائے۔ مثلاً دور نبوی میں یہودیت ایک دین تھا۔ عیسائیت، مجوسیت، منافقت، صائبیت، مشرکین کا دین۔ ان سب ادیان کے عقائد الگ الگ تھے۔ اور انہی عقائد کی مناسبت سے ان کا پورے کا پورا نظام زندگی ترتیب پاتا تھا۔ رسول کی بعثت کا مقصد اللہ کے نزدیک یہ ہے کہ ان تمام باطل ادیان کے نظام ہائے زندگی پر اسلام کی برتری اور بالادستی قائم کر دے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

61 ۔ (آیت) ” لیظھرہ علی الدین کلہ “۔ یہ غلبہ دین بہ لحاظ قوت دلائل کے ہے کہ یہی نور اللہ کا اتمام ہے۔ اے بالحجۃ والبراھین (قرطبی) محققین نے کہا ہے کہ اسلام کا غلبہ سارے ادیان پر عقل و استدلال کی رو سے تو مطلق ہے اور کسی وقت وزمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں، البتہ مادی غلبہ اہل اسلام کی صلاحیت واہلیت کے ساتھ مخصوص ومشروط ہے (آیت) ” المشرکون “۔ اشارہ خاص یہود ونصاری کی جانب ہے۔ اور مشرک انہیں ان کے شرک فی التوحید کے اعتبار سے کہا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–33

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُطْفِئُوْا نُوْرَ اللہ باَِفْوَاھِھِمْ الخ یعنی اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو جو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے یہودونصاری و مشرکین چاہتے ہیں کہ اپنے جدال وافتراء سے اسے مٹا دیں ان کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی شخص سورج کی شعاعوں کو اور چاند کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھانے کی کوشش کرے جس طرح یہ ناممکن ہے اسی طرح جو دین حق اللہ نے اپنے رسول کو دے کر بھیجا ہے اس کو مٹانا بھی ناممکن ہے، وہ تمام دینوں پر غالب ہو کر رہے گا، دلائل وبراہین کے اعتبار سے تو یہ غلبہ ہر وقت حاصل ہے تاہم جب مسلمانوں سے دین پر عمل کیا تو انہیں بےدینوں پر غلبہ بھی حاصل ہوا، اور اب بھی اگر مسلمان اپنے دین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق اسی نے بھیجا اپنے رسول (محمد ﷺ کو ہدایت اور دین حق دے کر۔ اَلْھُدٰی سے مراد قرآن مجید ہے جو حلال حرام فرائض اور احکام کو کھول کر بیان کرتا ہے اور جنت کا راستہ بتاتا ہے۔ دین الحق سے مراد اسلام ہے۔ لیظھرہ علی الدین کلہلا تاکہ اس دین کو تمام مذاہب پر غالب کر دے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس جگہ اظہار سے مراد ہے واقف بنا دینا اور ہٗٓ ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے اور الدِّیْنِ کلِّہٖ سے مراد ہیں تمام شریعتیں ‘ یعنی اللہ نے اپنے رسول کو دین حق کا حامل بنا کر بھیجا تاکہ تمام شریعتوں سے ان کو واقف کر دے۔ دوسرے مفسرین نے لکھا ہے کہ اظہار سے مراد ہے غالب کردینا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(33) اس ذات نے رسول اکرم ﷺ کو قرآن و ایمان اور دین اسلام یعنی شہادت ”اشھد ان لاالہ اللہ“۔ دے کر بھیجا تاکہ قیام قیامت تک دین اسلام کو تمام سابقہ دینوں پر غلبہ دے دے اگرچہ مشرکین اس سے کتنے ہی ناخوش ہوں،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بالْهُدٰي وَدِيْنِ الْحَقِّ : اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کا دین اس لیے نہیں آیا کہ وہ کسی دوسرے دین، بت پرستی، دہریت، یہودیت، عیسائیت، جمہوریت یا سوشلزم سے مغلوب ہو کر اس سے مصالحت کرکے دنیا میں زندہ رہے، بلکہ دین اسلام کا اول و آخر مقصد یہ ہے کہ وہ دوسرے تمام ادیان اور نظام ہائے زندگی کو مغلوب کرکے ساری دنیا پر غالب دین اور نظام زندگی کی حیثیت سے زندہ رہے۔ یہاں ”لِيُظْهِرَهٗ“ میں ظہور (غلبہ) سے مراد دلائل وبراہین کے ساتھ غلبہ بھی ہے اور حکمرانی کے لحاظ سے بھی۔ پہلی قسم کا غلبہ تو ہمیشہ اور دائمی ہے اور آج تک کوئی شخص قرآن کے چیلنج تین آیتوں کی سورت کا جواب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قولہ تعالیٰ : ھوالذی ارسل رسولہ مراد حضور نبی رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات گرای ہے۔ بالھدی یعنی فرقان (قرآن مجیدض کے ساتھ۔ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ یعنی دلائل اور براہین کے ساتھ ( تمام دینوں پر اس دین حق کو غالب کردے) تحقیق اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین کے شرائع (اور احکامض پر غالب کردیا یہاں تک کہ آپ پر ان میں سے کوئی شے مخفی نہ رہی یہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : لیظھرہ یعنی تاکہ وہ دین اسلام کو تمام دینوں پر غالب کردے۔ حضرت ابوہریرہ اور حضرت ضحاک ؓ نے فرمایا : یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول کے وقت ہوگا۔ اور سدی (رح) نے کہا ہے : یہ امام مہدی کے خروج کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ احمد ومسلم والحاکم وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رات اور دن نہیں گزریں گے (یعنی ختم نہیں ہوں گے) یہاں تک کہ لات اور عزی کی عبادت کی جائے گی۔ عائشہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں نے تو یہ خیال کیا تھا جب اللہ تعالیٰ نے (آیت) ” لیظہرہ علی الدین کلہ “ نازل فرمائی کہ عنقریب (دین) پورا ہوجائے گا۔ آپ نے فرمایا جب تک اللہ تعالیٰ چاہیں گے ہوتا رہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا کو بھیجیں گے تو ہر وہ آدمی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر خیر ہوگی وہ فوت ہوجائے اور وہ آدمی باقی رہے گا جس میں کوئی خیر نہیں ہوگی وہ لوٹ جائیں گے اپنے آباواجداد کے دین کے طرف۔ 2:۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

هُوَ [ وہ ] الَّذِيْٓ [ وہ ہے جس نے ] اَرْسَلَ [ بھیجا ] رَسُوْلَهٗ [ اپنے رسول کو ] بِالْهُدٰي [ ہدایت کے ساتھ ] وَدِيْنِ الْحَقِّ [ اور حق کے دین کے ساتھ ] لِيُظْهِرَهٗ [ تاکہ وہ غالب کرے اس کو ] عَلَي الدِّيْنِ [ ضابطہ حیات پر ] كُلِّهٖ ۙ [ اس کے کل پر ] وَلَوْ [ اور اگرچہ ] كَرِهَ [ کراہیت کریں ] الْمُشْرِكُوْنَ [ مشرک لوگ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ رات اور دن ختم ہونے سے پہلے ایسا ضرور ہوگا کہ لات اور عزیٰ کی پرستش کی جائے گی (یہ زمانہ جاہلیت میں دو بت تھے) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں تو یہ سمجھتی تھی کہ جب اللہ تعالیٰ نے آیت شریفہ (ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بالْھُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَ لَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ ) نازل فرمائی تو یہ وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔ (یعنی دین حق تمام دینوں پر غالب ہوگا) آپ نے فرمایا، کہ جب تک اللہ چاہے گا ایسا ہوگا (جو آیت شریفہ میں مذکور ہے) پھر اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیج دے گا۔ جس کی وجہ سے ہر اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–33

اہل کتاب کے فضائح اور قبائح کا بیان قال اللہ تعالی۔ وقالت الیھود عزیر ابن اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ لو کرہ المشکرون۔ (ربط): گزشتہ آیات میں مشرکین کے قبائح کا بیان ہوا اب اہل کتاب کے قبائح اور فضائح اور ان کے ععقائد باطلہ اور افعال شرکیہ کو بیان کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ مشرکین کی طرح اہل کتاب بھی دین حق کے مطیع اور فرمانبردار نہیں اور ان کی طرح یہ مستوجب قتل و قتال ہیں اس لیے اب آئندہ آیات میں اہل کتاب کے عقائد باطلہ اور ان کے کفریات قولیہ و فعلیہ اور جہالت عملیہ کی کسی قدرت فصیل کرتے ہیں تاکہ گزشتہ آیت میں جو اہل کتاب کے متعلق لا یؤمنین باللہ ولا بالیوم الاخر اور ولا یدینون دین الحق فرمایا تھا اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 32–33

28: یہ ایک تمثیل ہے۔ “ نُوْرُ اللّٰهِ ” سے اللہ کی توحید یا اللہ کا دین مراد ہے۔ “ اي دلالته وحججه علی توحیده ” (قرطبی ص 121 ج 8) وہ شرک و کفر کے دبیز پردوں سے نور توحید کو چھپانا اور اس کے دلائل کی تذیب و انکار سے شمع توحید کو بجھانے کی کوشش کر رہے مگر ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ اللہ کا دین توحید اپنی پوری شان کے ساتھ درجہ کمال وتمام کو پہنچ کر رہے گا۔ “ ھُوَ الَّذِيْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ الخ ” اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری رسول بھیجا ہے اس لیے ہے تاکہ تمام ادیان باطلہ پر دین حق اور فوقیت ثابت کردے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 32–33

ربطِ آیات : مشرکین سے براءت کے اعلان کے بعد جہاد کا حکم ہوا اور پھر اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کا ذکر بھی فرمایا۔ ان کے خلاف بھی جہاد کا حکم ہوا ، کیونکہ وہ بھی صحیح معنوں میں اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے اور نہ ہی دین حق کو قبول کرتے ہیں۔ فرمایا ان کے خلاف جنگ کرو یہاں تک کہ یہ مغلوب ہو کر جزیہ دینا قبول کرلیں پھر فرمایا کہ ان کے عقائد اس قدر فاسد ہیں کہ ان میں سے ایک گروہ (یہود) نے عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہا اور دوسرے گروہ ” نصاری “ نے مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بنا دیا۔ اہل کتاب نے تحریم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ہُوَالَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰي وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ۝ 0 ۙ وَلَوْ كَرِہَ الْمُشْرِكُوْنَ۝ 33 رسل ( ارسال) والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، ( ر س ل ) الرسل الارسال ( افعال ) کے معنی بھیجنے کے ہیں اور اس کا اطلاق انسان پر بھی ہوتا ہے اور دوسری محبوب یا مکروہ چیزوں کے لئے بھی آتا ہے ۔ رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 32–33

ترکیب : ان یطفئوا مفعول یریدون یا اس کی تفسیر۔ لیاکلون خبر ہے ان کی ویصدون اس پر معطوف والذین مبتداء یکنزون خبر علیہا مفعول مالم یسم فاعلہ یحمٰی کا جو یوم کا معنی عامل ہے اے یعذب فی یحمٰی سے متعلق جباھہم الخ مفعول مالم یسم فاعلہ تکوی کا بہا تکوٰی سے متعلق اس کا آلہ ھذا مبتدا ماکنزتم الخ خبر۔ تفسیر : کافروں کے پہلے تین عیب قابل جنگ و تقرر جزیہ بیان فرمائے تھے : اول یہ کہ وہ دین الٰہی کے برخلاف چلتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتے۔ دوم یہ کہ یہود نے عزیر اور نصاریٰ نے مسیح کو اللہ کا بیٹا کہا۔ نصاریٰ تو اب تک مسیح کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔ یہود میں سے یہ بات سب نے نہیں کہی تھی بلکہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ھُوَالَّذِیْ ٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ لا وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ (التوبۃ : 33) (وہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر تاکہ وہ اس دین کو غالب کردے تمام دینوں پر اگرچہ مشرکوں کو ناگوار گزرے۔ ) آپ کی بعثت کا مقصد بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ کے نبی اور رسول دنیا کی اصلاح اور ہدایت کے لیے تشریف لاتے ہیں ان کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو نصیحت فرماتے اور افہام و تفہیم سے کام لیتے ہیں۔ سعید روحیں انھیں قبول کرلیتی ہیں لیکن بگڑے ہوئے بداطوار لوگ نہ صرف قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں بلکہ اللہ کے نبیوں کو ہر ممکن…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 32–33

فہم القرآن ربط کلام : دین حق کے خلاف مشرکین کی مذموم کوششیں۔ مشرکین توحید کا نوربجھانا اور قرآن کی روشنی کو مٹانا چاہتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ اسے مکمل فرماکر قیامت تک غالب رکھے۔ کفار، مشرکین اور اہل کتاب پہلے دن سے ہی اس کوشش میں ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے کہ وہ اپنے نور کو مکمل کرکے رہے گا۔ بیشک یہ کفار اور مشرکوں کے لیے کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔ اس نے تو اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ اس لیے بھیجا ہے تاکہ دین اسلام تمام باطل ادیان پر غالب آجائے خواہ مشرکوں اور کفار کے لیے یہ بات کتنی ہی ناپسند کیوں نہ ہو۔ نور سے پہلی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اللہ تعالیٰ نے دین کو بہرصورت تمام ادیان پر غلبہ دینا ہے : آیت 33: ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی (وہ اللہ ایسا ہے کہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت دیکر بھیجا) محمد ﷺ بِالْہُدٰی قرآن کے ساتھ وَدِیْنِ الحَقِّ (اور سچا دین) اسلام لِیُظْھِرَہٗ (تاکہ وہ غالب کر دے) وہ بلندو غالب کرے عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ (تمام دینوں پر) تمام اہل ادیان پر نمبر 2۔ دین حق کو ہر دین پر غالب کرے۔ وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ (اگرچہ مشرک کیسے ہی ناخوش ہوں) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

33۔” ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی “ ھدی سے قرآن مراد ہے اور بعض نے کہا فرائض کو بیان کر کے ” ودین الحق “ یعنی اسلام ” لیظھرہ علی الذین کلہ “ تمام ادیان پر۔ ولو کرہ المشرکون کی مختلف تفسیریں ” ولوکرہ المشرکون “ اس آیت کے معنی میں اختلاف ہے۔ (1) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ” لیظھرہ “ کی ھاء رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی تا کہ آپ (علیہ السلام) کو دین کے تمام احکام سکھا کر ان کو آپ (علیہ السلام) پر ظاہر کردیں حتیٰ کہ آپ (علیہ السلام) پر دین کے شرائع میں سے کوئی مخفی نہ ہو۔ (2) دیگر حضرات نے فرمایا کہ ھاء دین الحق کی طرف لوٹ رہی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ اور یہ عیسیٰ بن مریم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–33

32۔ 33۔ اللہ پاک نے اس آیت میں یہودی و نصارا اور مشرکین مکہ کی ایک اور حالت بیان فرمائی کہ یہ سب مل کر خدا کا دین جو نہایت سچا ہے اور اس کی روشنی آفتاب سے بھی کہیں زیادہ ہے اس کو اپنی ان ایجادی باتوں سے اس طرح بجھانا چاہتے ہیں جس طرح کوئی پھونک سے چراغ کو بجھانا چاہے پھر فرمایا کہ ان کی ان باتوں سے کیا ہوتا ہے اللہ تو اپنے دین کو پھیلا کر رہے گا یہ لوگ اگر برا مانیں تو برا مانا کریں پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ اللہ نے اپنے رسول برحق خاتم النبیین ﷺ کو دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اس دین کو تمام روئے زمین کے دینوں پر غالب کر کے ظاہر کر دے اس پر یہ مشرک برا مانیں تو مانا کریں۔ اللہ سچا ہے اور اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 30–33

آیت 30 جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے ساتھ قتال کا حکم دیا تو ان کے ان خبیث اقوال کا ذکر کیا، جو اہل ایمان کو، جن کے اندر اپنے دین اور اپنے رب کے بارے میں غیرت ہوتی ہے، ان کے ساتھ جنگ کرنے، ان کے خلاف جدوجہد کرنے اور اس میں پوری کوشش صرف کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا (وقالت الیھود عزیز ابن اللہ) ” یہود نے کہا، عزیز اللہ کے بیٹے ہیں “ ان کا یہ قول ان کے تمام عوام کا قول نہ تھا بلکہ ان میں سے ایک فرقے کا قول تھا۔ البتہ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہودیوں کی سرشت میں خباثت اور شر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا جس نے ان کو یہاں تک پہنچا دیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

بعثت نبوی کی غرض و غایت ، غلبہ اسلام کے لئے ہے قول باری ہے (ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ۔ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پوری جنس دین پر غالب کردے) اس میں حضور ﷺ اور اہل ایمان کے لئے بشارت ہے کہ اللہ ان کی مدد کرے گا اور ان کے دین کو تمام دوسرے ادیان پر غالب کردے گا۔ یعنی حجت و دلائل کی قوت اور غلبے کے ذریعے یہ دوسری تمام امتوں پر اس امت کو غلبہ عطا کرکے اللہ تعالیٰ دین اسلام کا پرچم بلند کردے گا۔ آیت میں جس امر کی خبر دی تھی واقعاتی دنیا میں بھی ایسا ہی پیش آیا۔ یہ امت دین اسلام کی مخالفت اور دشمن قوتوں اور قوموں پر غالب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

75 دین حق سب دینوں پر غالب ہونے کیلئے آیا ہے : یعنی یہ دین ماتحت اور مغلوب ہو کر رہنے کے لئے نہیں بھیجا گیا بلکہ اس لئے بھیجا گیا ہے کہ سب دینوں پر غالب ہو اور حکم اسی کا چلے کہ حق یہی اور صرف یہی ہے۔ اور حق کی شان ہے غالب ہونا نہ کہ مغلوب و ماتحت ہونا۔ سو حجت وبرہان کے اعتبار سے غلبہ تو ہمیشہ اسی دین حق کا رہا کہ یہ قطعی طور پر ثابت واضح اور حق ہے۔ اور سیاست و حکم کے اعتبار سے بھی غلبہ اسی کا ہے بشرطیکہ اس کے نام لیوا صحیح معنوں میں اس کے ماننے والے اور اس کی تعلیمات کے مطابق چلنے والے ہوں۔ اور وہ اس دین کے غلبہ اور سربلندی کے لئے ویسی محنت اور جدوجہد کریں جیسی کہ اس کے لئے درکار ہے۔ اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 30–35

یہود و نصارٰی کی گمراہی کی وجہ اور زکوٰۃ نہ دینے والوں کی سزا تشریح : ان آیات میں یہود و نصارٰی کے بارے میں بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہود اہل کتاب ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کے پیرو ہیں۔ لیکن یہ قوم بڑی ضدی، نااہل اور نافرن ثابت ہوئی یہاں تک کہ اپنے نبیوں کو بھی قتل کردیا کرتے تھے تو ایسے لوگ اپنی آسمانی کتاب پر کیا عمل کرسکتے تھے بلکہ انہوں نے اس کو بالکل تبدیل کردیا۔ ان کے راہب اور علماء بڑے بڑے امیر لوگوں سے کچھ رقم لیکر ان کی مرضی کے مطابق کتاب سے غلط فتوے بنا دیا کرتے تھے۔ پھر لوگوں سے بڑی بڑی رقمیں لیکر لوگوں کو گمراہ کرنے پر لگے رہتے اور پھر کفر میں اس قدر بڑھ گئے کہ کیتھولک فرقہ کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–37

اسرار و معارف چونکہ ایمان باللہ بھی وہی قابل قبول ہے جو ان اوصاف کے ساتھ ہو جو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمائی ہیں ۔ ان سے ہٹ کر اگر کسی نے اللہ کو مانا بھی تو وہ نہ ماننے کے برابر ہے جیسے اہل کتاب کہ اللہ پر اور آخرت پر ایمان تو رکھتے تھے مگر ظالموں نے اللہ کے لئے اولاد تجویز کردی یہود نے کہا حضرت عزیز (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے تھے اسی طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دے دیا اور بغیر کسی دلیل کے محض اپنی رائے سے گپ ہان کی ہے اللہ انھیں تباہ کرے کیسی غلط بات پر جم گئے ہیں ۔ اور یوں اپنے طور پر تو اللہ کا کوئی نہ کوئی تصور ہر قوم کے پاس ہے مگر یہ کوئی ماننا نہ ہوا۔…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کا دین اس لیے نہیں آیا کہ وہ دوسرے دین۔ یہودیت۔ عیسائیت، سرمایا داری ، کمیونزم، سوشلز ،۔ سے مغلوب ہو کر یا اس سے مصلحت کر کے دنیا میں زندہ رہے بلکہ دین اسلام کا اول و آخرت یہ ہے کہ وہ دوسرے ادیان اور نظام مہائے زندگی کو ختم کر کے ایک ہمہ گیر نظام زندگی کی حیثیت سے زندہ رہے۔ یہاں ظہور غلبہ سے مراد دلائل وبراہین کا غلبہ بھی ہوسکتا ہے اور سیاسی غلبہ بھی۔ پہلی قسم کا ظہور تو دائمی مگر دوسری قسم کا ظہور ایک مرتبہ تو ہم دور نبوت و خلافت میں دیکھ چکے ہیں اور دوسری بار اس وقت ہوگا جب عیسیٰ ( علیہ السلام) کا نزول اور حضرت امام مہد کا ظہور ہوگا۔ ( کبیر، ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:33) لیظھرہ۔ کہ اس کو غالب کرے ۔ ہ کی ضمیر دین کی طرف راجع ہے۔ علی الدین کلہ۔ تمام دینوں پر۔ اگر یظھرہ کی ضمیر کا مرجع رسول اللہ ﷺ ہوں تو علی الدین کلہ بمعنی علی اہل الادیان کلہم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو تمام دینوں کے پیرؤوں پر غالب کریگا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 32–33

لغات القرآن آیت نمبر 32 تا 33 ان یطفنوا (یہ کہ وہ بجھا دیں) نور اللہ (اللہ کی روشنی) یابی اللہ (اللہ نہیں مانے گا) ان یتم (یہ کہ وہ پورا کر دے) کرہ (ناگوار گذرا) لیظھرۃ (تاکہ وہ غالب کر دے) تشریح : آیت نمبر 32 تا 33 اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو ہزاروں ان گنت نعمتوں سے نوازا ہے۔ ” عقل “ ان میں ایک بہت بڑی نعمت ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد جگہ یہ فرمایا ہے کہ وہ لوگ جو عقل سے کام نہیں لیتے انہیں اللہ پسند نہیں کرتا۔ لیکن جس طرح آنکھ دیکھنے میں روشنی کی محتاج ہے اسی طرح عقل “ روحانی روشنی اور نور الٰہی کی محتاج ہے ‘ اگر انسانی عقل کی مناسب رہنمائی کیلئے وحی الٰہی کی روشنی نہ ہو تو زندگی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 32–33

یہود ونصاریٰ اور مشرکین مکہ کی ناجائز حرکت اللہ ایک نے اس آیت میں یہود ونصاریٰ اور مشرکین مکہ کی ایک اور حالت بیان فرمائی کہ یہ سب مل کر خدا کا دین جو نہایت سچا ہے، اور اس کی روشنی آفتاب سے بھی کہیں زیادہ ہے، اس کو اپنی ان ایجادی باتوں سے اس طرح بجھانا چاہتے ہیں جس طرح کوئی پھونک سے چراغ کو بجھانا چاہے۔ پھر فرمایا کہ ان کی ان باتوں سے کیا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ تو اپنے دین کو پھیلا کر رہے گا، یہ اگر برا مانیں تو برا مانا کریں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ نے اپنے رسول برحق خاتم النبیین ﷺ کو دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اس دین کو تمام روئے زمین کے دینوں پر غالب کر کے ظاہر کردے۔ اس پر یہ مشرک…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[18] اصل الفاظ ہیں (لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ 33؀) 9 ۔ التوبہ :33) دین کا لفظ عربی زبان میں اس نظام زندگی یا طریق کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کے قائم کرنے والے کو مطاع تسلیم کر کے اس کا اتباع کیا جائے پس بعثت رسول کی غرض اس آیت میں یہ بتائی گئی ہے کہ جس ہدایت اور دین حق کو وہ اللہ کی طرف سے لایا ہے اسے دین کی نوعیت رکھنے والے تمام طریقوں اور نظاموں پر غالب کر دے اگر کوئی دوسرا نظام زندگی دنیا میں رہے بھی تو اسے اسلامی نظام کی گنجائشوں میں سمٹ کر رہنا چاہئے جیسا کہ جزیہ ادا کرنے کی صورت میں ذمیوں کا نظام زندگی رہتا ہے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اسلام کا غلبہ باقی ادیان پر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

دین غالب : (ف 1) اسلام کی فطرت میں ایسی خصوصیات موجود ہیں ، جن کی وجہ سے یہ کائنات انسانی کا مشترکہ مذہب قرار دیا جاسکتا ہے ، اس میں توحید ہے ، مساوات ہے ، تمام انسانوں کا احرام ہے ، مکان وزمان کی حدود سے وراء ہے تعصبات سے پاک ہے مختصر ہے ، واضح ہے عمل ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بادلیل ہے ۔ اس لئے عالمگیر غلبہ وسطوت کے لئے جن محاسن کی ضرورت ہے ، وہ اس میں موجود ہیں ، دنیا کا علم پڑھنے دو تم دیکھو گے کہ اسلام اور عقل تجربہ دونوں ایک ہیں اور ان میں کوئی منافات نہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

33 وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دیکر بھیجا ہے تاکہ اس سچے دین کو تمام ادیانِ باطلہ پر غالب کردے خواہ مشرک کتنا ہی برا مانیں اور اگرچہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔ ہدایت سے مراد قرآن اور دین سے مراد اسلام، دین کا اتمام یہی کہ سب دینوں پر غلبہ حاصل ہو اور ادیانِ باطلہ اس کے مقابلہ میں شکست کھا جائیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ دین سب سے اوپر ہے عقل کے نزدیک اور خدا کے نزدیک یعنی جو اس سے قرب ملے اور سے نہیں۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ یعنی اسلام۔ 3۔ اتمام یعنی اثبات وتقویت بالدلائل تو اسلام کے لیے ہر زمانہ میں عام ہے اور یہی مقابل ہے اطفاء بمعنی رد کا اور تصیح تفسیر کے لیے کافی ہے اور مع اعتبار انضمام سلطنت مشروط ہے صلاح اہل دین کے ساتھ اور مع محو کال بقیہ ادیان واقع ہوگا زمانہ عیسیٰ (علیہ السلام) میں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اسلام کی نظر میں ” دین “ کیا ہے ؟ اور دین الٰہی کا غلبہ لازم ہے : 48: زیر نظر آیت اور اس مف ہوں کی دوسری اس آیات میں یہ بات اللہ تعالیٰ نے صاف صاف الفاظ میں ارشاد فرمائی ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی بعثت کا مقصد محض اس دین کی تبلیغ نہ تھا بلکہ اسے دین کی توعیت رکھنے والے تمام نظام زندگی پر غالب کردینا تھا۔ دوسرے لفظوں میں آپ ﷺ یہ دین اس لئے نہیں لائے تھے کہ زندگی کے سارے شعبوں پر غلبہ تو ہو کسی دین باطل کا اور اس کی قہر مانی کے تحت یہ دین اس حدود کے اندر سکڑ کر رہ جائے جن میں دینی غالب اسے جینے کی اجازت دے دے ، نہیں ، ہرگز نہیں بلکہ اسے نبی کریم ﷺ اس لئے لائے تھے کہ زندگی کا غالب دین یہ ہو اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

After that, the same subject has been further stressed in the third verse (33) by saying that Allah Ta` ala has sent His Messenger with guidance, that is, the Qur'an, and with the Faith of Truth, that is, Islam, in order to have it prevail over all other faiths. Appearing in almost the same words, there are several other verses of the Holy Qur'an promising that the religion of Islam shall be made to prevail over all other faiths of the world. This glad tiding regarding the ascendancy of Islam is, as in Tafsir Mazhari, for most times and circumstances. In a Hadith from Sayydina Miqdad ؓ ، the…

Read the full tafseer →