At-Tawba 9:32

At-Tawba · from ayah 32

9:32

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِـُٔوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَیَاْبَی اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ ۟يُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يُّطۡفِـئُــوۡا نُوۡرَ اللّٰهِ بِاَ فۡوَاهِهِمۡ وَيَاۡبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنۡ يُّتِمَّ نُوۡرَهٗ وَلَوۡ كَرِهَ الۡـكٰفِرُوۡنَ

یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو پورا کئے بغیر رہنے کا نہیں۔ اگرچہ کافروں کو برا ہی لگے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They want to extinguish the light of Allah with their mouths, but Allah refuses except to perfect His light, although the disbelievers dislike it.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 5 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:32

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں مگر اللہ اپنی روشنی کو مکمل کیے بغیر ماننے والا نہیں ہے خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو پورا کئے بغیر رہنے کا نہیں۔ اگرچہ کافروں کو برا ہی لگے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منھ سے بجھا دیں اور اللہ تعالیٰ انکاری ہے مگر اسی بات کا کہ اپنا نور پورا کرے گو کافر نا خوش رہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں، حالانکہ اللہ کو اپنے نور کی تکمیل کے سوا ہر بات نامنظور ہے، چاہے کافروں کو یہ بات کتنی بری لگے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنے منہ سے بُجھا دیں اور اللہ نہ مانے گا مگر اپنے نور کا پورا کرنا پڑے برا مانیں کافر،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ (یہ بات) قبول نہیں فرماتا مگر یہ (چاہتا ہے) کہ وہ اپنے نور کو کمال تک پہنچا دے اگرچہ کفار (اسے) ناپسند ہی کریں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں سے بجھا دیں اور اللہ نہیں مانتا مگر یہ کہ اپنے نور کو پورا کرے، خواہ کافر لوگ برا جانیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ چاہتے یہ ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے گل کردیں لیکن اللہ کو یہ بات منظور نہیں وہ اپنے نور کو پورا کرکے رہے گا، خواہ یہ بات کافروں کو کتنی ہی بری لگے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ وہ کافروں کے علی الرغم اپنے نور کو کامل کر کے رہے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ چاہتے ہیں کہ بجھا دیں اللہ کے نور کو اپنے مونہوں (کی پھونکوں) سے مگر اللہ انکار کرتا ہے (ہر صورت کا) بجز اس کے کہ وہ پورا کر کے رہے اپنے نور کو، اگرچہ یہ امر برا لگے کافروں کو،

— مولانا اسحاق مدنی

چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں حالانکہ اللہ کو نامنظور ہے (ہرصورت) بجز اس کے کہ اپنے نورک کو کمال تک پہنچائے خواہ کافروں کو (کیسا ہی) ناگوار گزرے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو بجھا دیں اپنے منہ (کی پھونکوں) سے اور اللہ کو ہرگز منظور نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اپنے نور کا اتمام فرما کر رہے چاہے یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے پھونک مار کر بھجادیں۔ اور اللہ اپنی روشنی (نور) پورا کیے بغیر نہ رہے گا۔ اگرچہ کفار کو برا ہی لگے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They seek to extinguish the light of Allah by blowing through their mouths; but Allah refuses everything except that He will perfect His light howsoever the unbelievers might abhor it.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They wish to blow out the Light of Allah with their mouths, and Allah rejects everything short of making His light perfect, no matter how the disbelievers may hate it.

— Muhammad Taqi Usmani

They wish to blow out the Light of Allah with their mouths, and Allah rejects everything short of making His light perfect, no matter how the disbelievers may hate it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They want to extinguish Allah's Light with their mouths, but Allah will not allow except that His Light should be perfected even though the disbelievers hate (it).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Fain would they put out the light of Allah with their mouths, but Allah disdaineth (aught) save that He shall perfect His light, however much the disbelievers are averse.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They want to extinguish the light of Allah with their mouths, but Allah refuses except to perfect His light, although the disbelievers dislike it.

— Saheeh International

They would like to extinguish the light of God with a blow from their mouths, but even though the unbelievers may dislike it, God has decided to let His light shine forever.

— Muhammad Sarwar

They desire to put out the light of Allah with their mouths, and Allah will not consent save to perfect His light, though the unbelievers are averse.

— Muhammad Habib Shakir

They seek to extinguish the light of Allah with their mouths; and Allah refuseth to do otherwise than perfect His light, although the infidels may detest.

— Abdul Majid Daryabadi

Fain would they extinguish Allah's light with their mouths, but Allah will not allow but that His light should be perfected, even though the Unbelievers may detest (it).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 32–33

کفارہ کی دلی مذموم خواہش۔ فرماتا ہے کہ ہر قسم کے کفار کا ارادہ اور چاہت یہی ہے کہ نور الٰہی بجھا دیں ہدایت ربانی اور دین حق کو مٹا دیں تو خیال کرلو کہ اگر کوئی شخص اپنے منہ کی پھونک سے آفتاب یا مہتاب کی روشنی بجھانی چاہے تو کیا یہ ہوسکتا ہے ؟ اسی طرح یہ لوگ بھی نور رب کے بجھانے کی چاہت میں اپنی امکانی کوشش کریں آخر عاجز ہو کر رہ جائیں گے۔ ضروری بات ہے اور اللہ کا فیصلہ ہے کہ دین حق تعلیم رسول ﷺ کا بول بالا ہوگا۔ تم مٹانا چاہتے ہو اللہ اس کو بلند کرنا چاہتا ہے ظاہر ہے کہ اللہ کی چاہت تمہاری چاہت پر غالب رہے گی۔ تم گو ناخوش رہو لیکن آفتاب ہدایت بیچ آسمان میں پہنچ کر ہی رہے گا۔ عربی لغت میں کافر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 31–32

سورة التَّوْبَة 31 حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عدی بن حاتم، جو پہلے عیسائی تھے، جب نبی ﷺ کے پاس حاضر ہو کر مشرف با اسلام ہوئے تو انہوں نے منجملہ اور سوالات کے ایک یہ سوال بھی کیا تھا کہ اس آیت میں ہم پر اپنے علماء اور درویشوں کو خدا بنا لینے کا جو الزام عائد کیا گیا ہے اس کی اصلیت کیا ہے۔ جواب میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ واقعہ نہیں ہے کہ جو کچھ یہ لوگ حرام قرار دیتے ہیں اسے تم حرام مان لیتے ہو اور جو کچھ یہ حلال قرار دیتے ہیں اسے حلال مان لیتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ یہ تو ضرور ہم کرتے رہے ہیں۔ فرمایا بس یہی ان کو خدا بنا لینا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کتاب اللہ کی سند کے بغیر جو لوگ انسانی زندگی کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اس کے بعد فرمایا کہ ان لوگوں نے یہ گمراہی اختیار کرلی حالانکہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جو ان تمام چیزوں کے شرک سے پاک ہے جن کو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ اس آیت میں تو ان کے اتباع باطل اور غیر اللہ کی ناجائز اطاعت کا ذکر تھا، اس کے بعد کی آیت میں ان کی ایک اور گمراہی کا ذکر ہے کہ یہ لوگ صرف اسی پر بس نہیں کرتے کہ خود گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں، بلکہ ہدایت اور دین حق کے مٹانے اور رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اسی مضمون کو بطور مثال کے اس طرح فرمایا ہے کہ یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں، حالانکہ یہ ان کے بس کی بات…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 32–33

تفسیر آیت 32، 33۔ آیت 32۔ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَيَاْبَى اللّٰهُ اِلَّآ اَنْ يُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ ، حق کی مخالفت من گھڑت باتوں سے : يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّطْفِــــُٔـوْا۔ اوپر آیات 29۔ 30 میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ اللہ نے ان کو گمراہی سے نکالنے کے لیے اپنا دین حق بھیجا ہے لیکن یہ اس کی پیروی پر آمادہ نہیں ہیں اور ان باتوں کی آڑ لے کر اس کی مخالفت کررہے ہیں جو محض ان کے منہ کی باتیں ہیں، نہ ان کے لیے ان کے پاس خدا کی کوئی سند ہے، نہ عقل و فطرت ہی کے اندر ان کی کوئی شہادت ہے۔ اب یہ اسی حقیقت کو ایک تمثیلی رنگ میں نمایاں کیا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

32۔ 1 یعنی اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو جو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے، یہود و نصاریٰ اور مشرکین چاہتے ہیں کہ اپنے جدال و افترا سے اس کو مٹا دیں۔ ان کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص سورج کی شعاعوں کو یا چاند کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دے پس ! جس طرح یہ ناممکن ہے اسی طرح جو دین حق اللہ نے اپنے رسول کو دے کر بھیجا ہے اس کا مٹانا بھی ناممکن ہے۔ وہ تمام دینوں پر غالب آ کر رہے گا، جیسا کہ اگلے جملے میں اللہ نے فرمایا، کافر کے لغوی معنی ہیں چھپانے والا اسی لئے رات کو بھی ' کافر ' کہا جاتا ہے کہ وہ تمام چیزوں کو اپنے اندھیروں میں چھپا لیتی ہے کاشت کار کو بھی ' کافر ' کہتے ہیں کیونکہ وہ غلے کے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 31–33

30: ان کو خدا بنانے کا جو مطلب آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے علماء کو یہ اختیارات دے رکھے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں حلال اور جس چیز کو چاہیں حرام قرار دے دیں، واضح رہے کہ عام لوگ جو کسی آسمانی کتاب کا براہ راست علم نہیں رکھتے، ان کو شریعت کا حکم معلوم کرنے کے لئے علماء سے رجوع تو کرنا ہی پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے شارح کی حیثیت میں ان کی بات ماننی بھی پڑتی ہے، اس کا حکم خود قرآن کریم نے سورة نحل (14۔ 43) اور سورة انبیاء (17۔ 21) میں دیا ہے، اس حد تک تو کوئی بات قابل اعتراض نہیں، لیکن یہود و نصاری نے اس سے آگے بڑھ کر اپنے علماء کو بذات خود احکام وضع کرنے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس کے بعد سیاق کلام یوں بڑھتا ہے : " یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں۔ مگر اللہ اپنی روشنی کو مکمل کیے بغیر ماننے والا نہیں ہے خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پوری جنس دین پر غالب کردے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو " یعنی اہل کتاب کا قصور صرف یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے حقیقی دین سے منحرف ہوگئے ہیں جو سچا دین تھا اور ان کا جرم صرف یہ نہیں ہے کہ انہوں نے اللہ کے سوا اور شخصیات کو رب بنا رکھا تھا اور آخرت پر ایمان نہ لاتے تھے جیسا کہ آخرت کے صحیح مفہوم کے تقاضے ہیں بلکہ اس کے علاوہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی توحید خالص اور اسلام کا آفتاب جب چمک اٹھا، پھر یہ دوغلی باتیں اور مشرکانہ دعاوی کہاں فروغ پاسکتے ہیں یہ کوشش کہ بےحقیقت اور بےمغز باتیں بنا کر اور فضول بحث و جدل کر کے نور حق کو مدہم کردیں، ایسی ہے کہ کوئی بیوقوف منہ سے پھونکیں مار کر چاند یا سورج کی روشنی کو بجھانا اور ماند کرنا چاہے، یاد رکھو خواہ یہ کتنے ہی جلیں مگر خدا نور اسلام کو پوری طرح پھیلا کر رہے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 32 یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِءُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَیَاْبَی اللّٰہُ اِلَّآاَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ اس اسلوب میں یہودیوں پر ایک طرح کا طنز ہے کہ وہ خفیہ سازشوں کے ذریعے سے اس دین کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی علی الاعلان میدان میں آکر مقابلہ کرنے کی جرأت نہیں کرتے۔ اس آیت کی ترجمانی مولانا ظفر علی خان نے اپنے ایک شعر میں اس طرح کی ہے : ؂ نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

32 اللہ کے نور سے مراد :۔ اللہ کے نور سے مراد آفتاب ہدایت یا کتاب و سنت کی روشنی ہے جس طرح سورج کی روشنی کو پھونکوں سے بجھایا یا ماند نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح ان کافروں کی معاندانہ سرگرمیوں سے، ان کے لغو اعتراضات سے، ان کی آیات الٰہی میں شبہات پیدا کرنے سے یا اللہ کی آیات، اللہ کے رسول اور مسلمانوں کا مذاق اڑانے سے دین اسلام کی راہ کو روکا نہیں جاسکتا۔ جسے اللہ ہر صورت میں پورا کرنا چاہتا ہے اور یہ تو یقینی بات ہے کہ کافروں کو اسلام کی ترقی ایک آنکھ بھی نہیں بھاتی۔ ہر ترقی کے قدم پر وہ جل بھن کے رہ جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

60 ۔ آیت کی صداقت پر امت کی ساڑھے تیرہ سو سال کی پوری تاریخ گواہ ہے، یہود نصاری، مشرکین غرض ہر مخالفت ومعاند مکروحیلہ زوروجبر کے ہر ممکن طریقہ سے اسلام کی بیخ کنی میں لگا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود اسلام ہے کہ پھیلاتا ہی جاتا ہے اور پیروان اسلام کی تعداد میں اضافہ ہی روز افزوں ہے، یہاں تک کہ مسیحی مشنریوں کو اعتراف ہے کہ یہ بےدریغ روپیہ خرچ کرنے اور نہایت درجہ مستحکم نظام کے باوجود مسلمانوں کے مقابلہ میں ان کے مشن افریقہ وغیرہ میں ناکام ہورہے ہیں۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ (آیت) ” نور اللہ “ یعنی دین اسلام (آیت) ” یطفؤا بافواھم “۔ جس طرح پھونک مار کر بجھایا جاتا ہے یہ مخالفین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–33

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُطْفِئُوْا نُوْرَ اللہ باَِفْوَاھِھِمْ الخ یعنی اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو جو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے یہودونصاری و مشرکین چاہتے ہیں کہ اپنے جدال وافتراء سے اسے مٹا دیں ان کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی شخص سورج کی شعاعوں کو اور چاند کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھانے کی کوشش کرے جس طرح یہ ناممکن ہے اسی طرح جو دین حق اللہ نے اپنے رسول کو دے کر بھیجا ہے اس کو مٹانا بھی ناممکن ہے، وہ تمام دینوں پر غالب ہو کر رہے گا، دلائل وبراہین کے اعتبار سے تو یہ غلبہ ہر وقت حاصل ہے تاہم جب مسلمانوں سے دین پر عمل کیا تو انہیں بےدینوں پر غلبہ بھی حاصل ہوا، اور اب بھی اگر مسلمان اپنے دین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یریدون ان یطفؤا نور اللہ بافوھھم ویابی اللہ الا ان یتم نورہ ولو کرہ الکافرون وہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ نہیں پسند کرتا مگر اپنے نور کو پورا کرنا اگرچہ کافروں کو یہ بات ناگوار ہو۔ نور سے مراد ہیں وہ دلائل وبراہین جو اللہ کی وحدانیت اور قدوہیت پر دلالت کر رہی ہیں ‘ یا قرآن مراد ہے ‘ یا رسول اللہ ﷺ کی نبوت۔ اَفْوَاھِھِمْ سے مراد ہیں ان کے منہ سے نکلی ہوئی جھوٹی ‘ بےحقیقت باتیں۔ لفظ افواہ سے اس طرف اشارہ ہے کہ قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت باطل کرنے کیلئے جو تکذیبی قول یہ لوگ منہ سے نکالتے ہیں ‘ وہ ایسے ہی بیکار ہیں جیسے کوئی سورج یا چاند کی روشنی اپنی پھونک…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(32) یہ چاہتے ہیں کہ دین الہی کو اپنے جھوٹ اور اپنی زبان درازیوں سے مٹا ڈالیں حالانکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہرگز مہلت نہیں دے گا جب تک کہ اپنے دین اسلام کو وہ غالب نہ کردے گو کہ کفار کو یہ چیز ناگوار گزرے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ : اللہ کے نور سے مراد اسلام اور اس کے صدق کے دلائل ہیں جو بےانتہا روشن ہیں۔ اس آیت میں یہودو نصاریٰ کی تیسری قبیح صفت کا بیان ہے کہ وہ اسلام کے پھیلاؤ کو روکنے اور اسے مٹانے کے لیے ہر قسم کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ یہاں ان کی اسلام کو روکنے اور مٹانے کی تمام کوششوں کے بےکار ہونے کو استعارے کے رنگ میں پیش کیا گیا ہے کہ ایک طرف بہت ہی بڑا نور مثلاً سورج یا چاند ہو اور دوسری طرف اسے بجھانے کی سب سے کمزور کوشش منہ سے پھونکیں مارنا ہو تو ان پھونکوں کا انجام ہر ایک پر واضح ہے۔ اسی طرح ایک طرف اللہ کا نور، یعنی اسلام ہے، جسے اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قولہ تعالیٰ : یریدون ان یطفئوا نور اللہ مراد اللہ تعالیٰ کی توحید پر اس کے دلائل اور حجتیں ہیں۔ تو اس میں براہین و دلائل کو نور کے قائم ومقام رکھا ہے ‘ کیونکہ ان میں بیان اور وضاحت ہوتی ہے۔ اور یہ بھی کہا ہے کہ اس کا معنی نور اسلام ہے ‘ یعنی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو اپنی تکذیب کے ساتھ بجھا دیں (ختم کردیں) با فواھھم یہ اصل کی بنا پر فوہ کی جمع ہے ‘ کیونکہ فم میں اصل فوہ ہے ‘ جیسے حوض اور احواض ہے۔ ویابی اللہ الا ان یتم نورہ کہا جاتا ہے : الا کیسے داخل کردیا گیا حالانکہ کلام میں حرف نفی نہیں ہے اور ضربت الا زیدا کہنا جائز نہیں ہے۔ تو فراء کا خیال یہ ہے کہ الا اس لیے داخل ہوا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یریدون ان یطفئوا نور اللہ بافواہم “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اسلام کو مٹانا چاہتے ہیں اپنی باتوں سے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” یریدون ان یطفئوا نور اللہ “۔ کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگ چاہتے ہیں کہ محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ ہلاک ہوجائیں کہ یہ لوگ مسلمان ہو کر زمین میں اللہ کی عبادت نہ کریں۔ یعنی اس سے عرب کے لوگ ہلاک ہوجائیں کہ یہ لوگ مسلمان ہو کر زمین میں اللہ کی عبادت نہ کریں یعنی اس سے عرب کے لوگ ہلاک ہوجائیں کہ لوگ مسلمان ہو کر زمین میں اللہ کی عبادت نہ کریں یعنی اس سے عرب کے وہ کافر اور اہل کتاب مراد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يُرِيْدُوْنَ [ وہ لوگ ارادہ کرتے ہیں ] اَنْ [ کہ ] يُّطْفِــــُٔـوْا [ بجھا دیں ] نُوْرَ اللّٰهِ [ اللہ کے نور کو ] بِاَفْوَاهِهِمْ [ اپنے مونہوں سے ] وَيَاْبَى [ اور انکار کرتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] اِلَّآ اَنْ [ مگر یہ کہ ] يُّتِمَّ [ وہ پورا کرکے رہے گا ] نُوْرَهٗ [ اپنے نور کو ] وَلَوْ [ اور اگرچہ ] كَرِهَ [ کراہیت کریں ] الْكٰفِرُوْنَ [ کافر لوگ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھونکوں سے اللہ تعالیٰ کا نور بجھایا نہ جائے گا ان دونوں آیات میں دشمنان اسلام کے عزائم باطلہ کا تذکرہ فرمایا ہے۔ پہلی آیت میں فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں سے بجھا دینا چاہتے ہیں، یعنی اسلام پر اعتراض کر کے مہمل باتیں کر کے لوگوں کو اسلام سے دور رکھنا چاہتے ہیں اور خود بھی دور رہتے ہیں۔ ان کی باتوں سے اسلام کا نوربجھنے والا نہیں اور ان کی شرارتوں سے اسلام کو ٹھیس لگنے والی نہیں ہے۔ اللہ جل شانہٗ نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ اس کا نور پورا ہو کر رہے گا۔ اگرچہ کافروں کو نا گوار ہو اور برا لگے۔ اور دوسری آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–33

اہل کتاب کے فضائح اور قبائح کا بیان قال اللہ تعالی۔ وقالت الیھود عزیر ابن اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ لو کرہ المشکرون۔ (ربط): گزشتہ آیات میں مشرکین کے قبائح کا بیان ہوا اب اہل کتاب کے قبائح اور فضائح اور ان کے ععقائد باطلہ اور افعال شرکیہ کو بیان کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ مشرکین کی طرح اہل کتاب بھی دین حق کے مطیع اور فرمانبردار نہیں اور ان کی طرح یہ مستوجب قتل و قتال ہیں اس لیے اب آئندہ آیات میں اہل کتاب کے عقائد باطلہ اور ان کے کفریات قولیہ و فعلیہ اور جہالت عملیہ کی کسی قدرت فصیل کرتے ہیں تاکہ گزشتہ آیت میں جو اہل کتاب کے متعلق لا یؤمنین باللہ ولا بالیوم الاخر اور ولا یدینون دین الحق فرمایا تھا اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 32–33

28: یہ ایک تمثیل ہے۔ “ نُوْرُ اللّٰهِ ” سے اللہ کی توحید یا اللہ کا دین مراد ہے۔ “ اي دلالته وحججه علی توحیده ” (قرطبی ص 121 ج 8) وہ شرک و کفر کے دبیز پردوں سے نور توحید کو چھپانا اور اس کے دلائل کی تذیب و انکار سے شمع توحید کو بجھانے کی کوشش کر رہے مگر ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ اللہ کا دین توحید اپنی پوری شان کے ساتھ درجہ کمال وتمام کو پہنچ کر رہے گا۔ “ ھُوَ الَّذِيْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ الخ ” اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری رسول بھیجا ہے اس لیے ہے تاکہ تمام ادیان باطلہ پر دین حق اور فوقیت ثابت کردے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 32–33

ربطِ آیات : مشرکین سے براءت کے اعلان کے بعد جہاد کا حکم ہوا اور پھر اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کا ذکر بھی فرمایا۔ ان کے خلاف بھی جہاد کا حکم ہوا ، کیونکہ وہ بھی صحیح معنوں میں اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے اور نہ ہی دین حق کو قبول کرتے ہیں۔ فرمایا ان کے خلاف جنگ کرو یہاں تک کہ یہ مغلوب ہو کر جزیہ دینا قبول کرلیں پھر فرمایا کہ ان کے عقائد اس قدر فاسد ہیں کہ ان میں سے ایک گروہ (یہود) نے عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہا اور دوسرے گروہ ” نصاری “ نے مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بنا دیا۔ اہل کتاب نے تحریم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَيَاْبَى اللہُ اِلَّآ اَنْ يُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْ كَرِہَ الْكٰفِرُوْنَ۝ 32 رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 32–33

ترکیب : ان یطفئوا مفعول یریدون یا اس کی تفسیر۔ لیاکلون خبر ہے ان کی ویصدون اس پر معطوف والذین مبتداء یکنزون خبر علیہا مفعول مالم یسم فاعلہ یحمٰی کا جو یوم کا معنی عامل ہے اے یعذب فی یحمٰی سے متعلق جباھہم الخ مفعول مالم یسم فاعلہ تکوی کا بہا تکوٰی سے متعلق اس کا آلہ ھذا مبتدا ماکنزتم الخ خبر۔ تفسیر : کافروں کے پہلے تین عیب قابل جنگ و تقرر جزیہ بیان فرمائے تھے : اول یہ کہ وہ دین الٰہی کے برخلاف چلتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتے۔ دوم یہ کہ یہود نے عزیر اور نصاریٰ نے مسیح کو اللہ کا بیٹا کہا۔ نصاریٰ تو اب تک مسیح کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔ یہود میں سے یہ بات سب نے نہیں کہی تھی بلکہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّطْفِئُوْا نُوْرَاللّٰہِ بِاَفْوَاھِھِمْ وَیَاْبَی اللّٰہُ اِلَّآ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْکَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ (التوبۃ : 32) (وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو بجھادیں اپنی پھونکوں سے اور اللہ انکار کرتا ہے مگر یہ کہ وہ پورا کر کے رہے گا اپنے نور کو اگرچہ کافر ناپسند کریں۔ ) یہود کا اصل چہرہ سابقہ آیات میں مسلمانوں کو اہل کتاب سے اس وقت تک لڑنے کا حکم دیا یہاں تک کہ وہ اسلام کی حاکمیت اور اپنی محکومیت کو قبول کرکے جزیہ دینا قبول کرلیں۔ اہل کتاب کے بارے میں ان کے ہم عصر دوسرے لوگ ہمیشہ اس غلط فہمی میں مبتلا رہتے تھے کہ ان کے پاس اللہ کی کتاب ہے، وہ کتاب کا علم رکھتے ہیں،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 32–33

فہم القرآن ربط کلام : دین حق کے خلاف مشرکین کی مذموم کوششیں۔ مشرکین توحید کا نوربجھانا اور قرآن کی روشنی کو مٹانا چاہتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ اسے مکمل فرماکر قیامت تک غالب رکھے۔ کفار، مشرکین اور اہل کتاب پہلے دن سے ہی اس کوشش میں ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے کہ وہ اپنے نور کو مکمل کرکے رہے گا۔ بیشک یہ کفار اور مشرکوں کے لیے کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔ اس نے تو اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ اس لیے بھیجا ہے تاکہ دین اسلام تمام باطل ادیان پر غالب آجائے خواہ مشرکوں اور کفار کے لیے یہ بات کتنی ہی ناپسند کیوں نہ ہو۔ نور سے پہلی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا : آیت 32: یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاھِھِمْ وَیَاْبَی اللّٰہُ اِلَّآ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْکَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ (وہ لوگ اس طرح چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں مگر اللہ بغیر اس کے کہ اپنے نور کو پورا کمال تک پہنچا دے مانے گا نہیں اگرچہ کافر لوگوں کو یہ بات ناگوار ہو) ان کی مثال نبوت محمد ﷺ کو ناکام کرنے میں اور تکذیب میں اس طرح ہے جیسے کوئی شخص کسی عظیم روشنی کو پھونک ماررہا ہو جو روشنی آفاق میں پھیلنے والی ہو۔ اللہ تعالیٰ اس روشنی کو بڑھانے والے ہوں اور اس کو چمکا کر انتہاء تک پہنچانے والے ہوں۔ پھونک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 32۔” یریدون ان یطفئوا نور اللہ بافواھھم “ یعنی اللہ کے دین کو اپنی زبانوں کے ساتھ باطل کردیں اس کی تکذیب کر کے ۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں نور سے قرآن مراد ہے یعنی ان کا ارادہ ہے کہ وہ اپنی زبانوں کے ساتھ تکذیب کر کے قرآن کو رد کریں ۔” ویاتی اللہ الا ان یتم نورہ “ یعنی اپنے دین کو بلند کر دے اور اپنے کلمہ کو ظاہر کر دے اور اس حق کو مکمل کر دے جس کے ساتھ محمد ﷺ کو بھیجا ہے۔” ولوکرہ الکفرون “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–33

32۔ 33۔ اللہ پاک نے اس آیت میں یہودی و نصارا اور مشرکین مکہ کی ایک اور حالت بیان فرمائی کہ یہ سب مل کر خدا کا دین جو نہایت سچا ہے اور اس کی روشنی آفتاب سے بھی کہیں زیادہ ہے اس کو اپنی ان ایجادی باتوں سے اس طرح بجھانا چاہتے ہیں جس طرح کوئی پھونک سے چراغ کو بجھانا چاہے پھر فرمایا کہ ان کی ان باتوں سے کیا ہوتا ہے اللہ تو اپنے دین کو پھیلا کر رہے گا یہ لوگ اگر برا مانیں تو برا مانا کریں پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ اللہ نے اپنے رسول برحق خاتم النبیین ﷺ کو دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اس دین کو تمام روئے زمین کے دینوں پر غالب کر کے ظاہر کر دے اس پر یہ مشرک برا مانیں تو مانا کریں۔ اللہ سچا ہے اور اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 30–33

آیت 30 جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے ساتھ قتال کا حکم دیا تو ان کے ان خبیث اقوال کا ذکر کیا، جو اہل ایمان کو، جن کے اندر اپنے دین اور اپنے رب کے بارے میں غیرت ہوتی ہے، ان کے ساتھ جنگ کرنے، ان کے خلاف جدوجہد کرنے اور اس میں پوری کوشش صرف کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا (وقالت الیھود عزیز ابن اللہ) ” یہود نے کہا، عزیز اللہ کے بیٹے ہیں “ ان کا یہ قول ان کے تمام عوام کا قول نہ تھا بلکہ ان میں سے ایک فرقے کا قول تھا۔ البتہ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہودیوں کی سرشت میں خباثت اور شر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا جس نے ان کو یہاں تک پہنچا دیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 31–32

احبار و رہبان قول باری ہے (اتخذوا العبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ والمسیح ابن مریم انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنالیا ہے) ایک قول کے مطابق حبر اس عالم کو کہتے ہیں جس کے اندر یہ خوبی ہو کہ وہ اپنے حسین انداز بیان کے ذریعے معانی میں عمدگی پیدا کردے۔ ایسے شخص کو جبر اور جبیر بھی کہا جاتا ہے۔ راہب ڈر اور خوف رکھنے والے انسان کو کہتے ہیں جس کے لباس سے خوف و خشیت ظاہر ہورہی ہو۔ راہب کی جمع رہبان ہے۔ اس لفظ کا استعمال عیسائیوں کے درویشوں کے لئے کیا جاتا ہے۔ علماء اور درویش کن معنوں میں رب بنائے گئے قول باری (ارباباً من دون اللہ) کی تفسیر میں دو وجوہ بیان کئے گئے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

73 دین حق ایک عظیم الشان اور بےمثال نور ہے : ایسا عظیم الشان اور بےمثال نور جو انسان کے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی راہیں روشن کرتا ہے۔ مگر یہ بدبخت چاہتے ہیں کہ اپنے مونہوں کی پھونکوں سے بجھادیں اللہ کے نور کو، یعنی دین حق اسلام کو جو کہ ایسا جلیل القدر معنوی نور اور ایسے عظیم الشان روشنی ہے، جس سے حق و صداقت اور حقیقی کامیابی کی وہ راہ روشن ہوتی ہے جو دارین کی سعادت و کامرانی کی ضامن و کفیل ہے۔ پس جس طرح یہ دین اپنی ہدایت اور معنوی روشنی کے اعتبار سے نور ہے اسی طرح ہمارے پیغمبر بھی معنوی اعتبار سے نور ہیں کہ آپ ﷺ ہی کے ذریعے دنیا کو ہدایت کی یہ عظیم الشان اور بےمثل روشنی نصیب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 30–35

یہود و نصارٰی کی گمراہی کی وجہ اور زکوٰۃ نہ دینے والوں کی سزا تشریح : ان آیات میں یہود و نصارٰی کے بارے میں بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہود اہل کتاب ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کے پیرو ہیں۔ لیکن یہ قوم بڑی ضدی، نااہل اور نافرن ثابت ہوئی یہاں تک کہ اپنے نبیوں کو بھی قتل کردیا کرتے تھے تو ایسے لوگ اپنی آسمانی کتاب پر کیا عمل کرسکتے تھے بلکہ انہوں نے اس کو بالکل تبدیل کردیا۔ ان کے راہب اور علماء بڑے بڑے امیر لوگوں سے کچھ رقم لیکر ان کی مرضی کے مطابق کتاب سے غلط فتوے بنا دیا کرتے تھے۔ پھر لوگوں سے بڑی بڑی رقمیں لیکر لوگوں کو گمراہ کرنے پر لگے رہتے اور پھر کفر میں اس قدر بڑھ گئے کہ کیتھولک فرقہ کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–37

اسرار و معارف چونکہ ایمان باللہ بھی وہی قابل قبول ہے جو ان اوصاف کے ساتھ ہو جو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمائی ہیں ۔ ان سے ہٹ کر اگر کسی نے اللہ کو مانا بھی تو وہ نہ ماننے کے برابر ہے جیسے اہل کتاب کہ اللہ پر اور آخرت پر ایمان تو رکھتے تھے مگر ظالموں نے اللہ کے لئے اولاد تجویز کردی یہود نے کہا حضرت عزیز (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے تھے اسی طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دے دیا اور بغیر کسی دلیل کے محض اپنی رائے سے گپ ہان کی ہے اللہ انھیں تباہ کرے کیسی غلط بات پر جم گئے ہیں ۔ اور یوں اپنے طور پر تو اللہ کا کوئی نہ کوئی تصور ہر قوم کے پاس ہے مگر یہ کوئی ماننا نہ ہوا۔…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 اس آیت میں رؤسا یہود و نصاری ٰ کی تیسری صفت قبیحہ کا بیان ہے کہ وہ تحریک اسلام کو کچلنے کے لیے مختلف قسم کی سازشیں کر رہے ہیں۔ یہاں جھوٹی باتوں کو پھو نک مارنے سے تشبیہ دی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے دن کو ( نور) یعنی چراغ سے، یا ان کے دلائل حقہ کو جو آنحضرت ﷺ کی صداقت ظاہر کر رہے تھے ان کو نور فرمایا ہے کیونکہ صدق وصواب کی طرف رہنمائی کرنے میں دلائل حقہ بھی نور یعنی روشنی کے مثل ہوتے ہیں۔ ( کبیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:32) یطفئوا۔ مضارع منصوب جمع مذکر غائب۔ اطفاء (افعال) سے مصدر ۔ اصل میں یطفئون تھا۔ ان کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ کہ وہ بجھا دیں۔ نور اللہ۔ یہاں مراد اسلام ہے۔ دین اللہ۔ افواھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کے منہ ۔ اس کا ترجمہ اپنی اپنی پھونکوں سے بھی ہوسکتا ہے۔ افواہ۔ فم کی جمع ہے جس کے معنی منہ کے ہیں۔ فم کی اصل فوۃ تھی۔ ہ کو گرا کر واؤ کو میم سے بدل دیا گیا۔ قرآن مجید میں جہاں صرف منہ سے کہنے پر بات رکھی گئی ہے وہاں دروح بیانی کی طرف اشارہ ہے اور اس طرف تنبیہ ہے کہ اعتقاد واقع کے مطابق نہیں۔ یابی۔ مضارع واحد مذکر غائب اباء مصدر (باب فتح) وہ انکار کرتا ہے وہ نہیں مانتا۔ لو۔ اگرچہ۔ کرہ۔ ناپسند…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 32–33

لغات القرآن آیت نمبر 32 تا 33 ان یطفنوا (یہ کہ وہ بجھا دیں) نور اللہ (اللہ کی روشنی) یابی اللہ (اللہ نہیں مانے گا) ان یتم (یہ کہ وہ پورا کر دے) کرہ (ناگوار گذرا) لیظھرۃ (تاکہ وہ غالب کر دے) تشریح : آیت نمبر 32 تا 33 اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو ہزاروں ان گنت نعمتوں سے نوازا ہے۔ ” عقل “ ان میں ایک بہت بڑی نعمت ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد جگہ یہ فرمایا ہے کہ وہ لوگ جو عقل سے کام نہیں لیتے انہیں اللہ پسند نہیں کرتا۔ لیکن جس طرح آنکھ دیکھنے میں روشنی کی محتاج ہے اسی طرح عقل “ روحانی روشنی اور نور الٰہی کی محتاج ہے ‘ اگر انسانی عقل کی مناسب رہنمائی کیلئے وحی الٰہی کی روشنی نہ ہو تو زندگی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 32–33

یہود ونصاریٰ اور مشرکین مکہ کی ناجائز حرکت اللہ ایک نے اس آیت میں یہود ونصاریٰ اور مشرکین مکہ کی ایک اور حالت بیان فرمائی کہ یہ سب مل کر خدا کا دین جو نہایت سچا ہے، اور اس کی روشنی آفتاب سے بھی کہیں زیادہ ہے، اس کو اپنی ان ایجادی باتوں سے اس طرح بجھانا چاہتے ہیں جس طرح کوئی پھونک سے چراغ کو بجھانا چاہے۔ پھر فرمایا کہ ان کی ان باتوں سے کیا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ تو اپنے دین کو پھیلا کر رہے گا، یہ اگر برا مانیں تو برا مانا کریں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ نے اپنے رسول برحق خاتم النبیین ﷺ کو دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اس دین کو تمام روئے زمین کے دینوں پر غالب کر کے ظاہر کردے۔ اس پر یہ مشرک…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 31–32

[17] احادیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے جب یہ آیت پڑھی تو نومسلم عیسائی عدی بن حاتم نے عرض کیا کہ ہم اپنے علماء و مشائخ کو اِلٰہ کب مانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ کیا ایسا نہیں ہے کہ جس بات کو وہ حرام ٹھہرا دیتے ہیں تم حرام سمجھ لیتے ہو اور جس بات کو حلال کہہ دیتے ہیں تم حلال مان لیتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ یہ تو ہم ضرور کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ بس یہی ان کو اِلٰہ بنا لینا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اپنے پیشواؤں کو تشریع دین کا حق دے دینا یعنی اس بات کا حق کہ جو کچھ وہ اپنی خواہش اور رائے سے ٹھہرا دیں اس کی بلاچون و چرا اطاعت کرنی قرآن کے نزدیک انہیں اِلٰہ بنا لینا ہے۔ افسوس کہ مسلمان بھی اس گمراہی سے نہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 3) یعنی کفار چراغ ہدایت کو بجھانے کی فکر میں ہیں ، اور یہ نہیں جانتے کہ اللہ کا فیصلہ کیا ہے ، اللہ چاہتا ہے کہ اس روشنی کو دنیا کے کناروں تک پہنچائے ، وہ پوری کوشش کر دیکھیں ، یہ مصباح منیر روشن ہی رہے گا ۔ حل لغات : احبار : جمع حبر ، بمعنی دانشمندان وعلماء یہود یعنی عابد وزاہد قوم نصارے وترسایان ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

32 وہ اہل کتاب یوں چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہوں سے پھونک مار کر بجھادیں حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے نورکو پورے کمال تک بدون پہنچائے نہیں رہے گا اگرچہ کافر کتنا ہی برا مانیں۔ یعنی یہ چاہتے ہیں کہ اسلام کی روشنی کو ختم کردیں اور اللہ تعالیٰ اس سے انکار کرتا ہے وہ اپنے نور کو پورا کئے بغیر نہیں رہے گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جیسا کوئی پھونک سے چراغ بجھا دے وہ چاہتے ہیں کہ اپنی جھوٹی باتوں سے دین اسلام کو نہ پھیلنے دیں۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ یعنی منہ سے رد و اعتراض کی باتیں اس غرض سے کرتے ہیں کہ دین حق کو فروغ نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

غور سے سن لو کہ ” پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔ “ 47: غور کرو کہ ابتدائے اسلام سے لے کر آج تک اسلام کے اس روشن چراغ کو بجھانے کی کتنی کو ششتین کی گئیں ، یہودیت ، عیسائیت اور شرک و کفر کی دوسری ساری طاقتوں نے سر جوڑ جوڑ کر اعلانیہ مقابلے بھی کئے اور سازشوں کے خطرناک جال بھی بچھائے لیکن اسلام کا نور درخشان ہی رہا اور انشاء اللہ رہے گا۔ اس کے ماننے والوں کی تعداد بڑھتی ہی تہی اور بڑھتی ہی رہے گی۔ رب العزت یعنی پروردگار عالم کا یہ وعدہ ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت نبی اعظم و آخر ﷺ کی نبوت کے آگرات جہانتاب کو گرھن نہیں کرسکتی۔ جہاں تک دلیل وبرہان کا تعلق ہے اسلام غلبہ تمام دوسرے مذاہب پر ہر جگہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Then, it was said that these people chose to take the way of error although they were asked by Allah to worship only one God who is free and pure from what they associated with Him. This verse limits itself to saying that they followed the false and obeyed people other than Allah, something they were not permitted to do. In the verse that follows (32), mentioned there is another error they make. It is said that they do not stop at the error they have already made. They, rather, like to compound their errors when they try to subvert Divine guidance and black out the Faith of Truth. The…

Read the full tafseer →