Explained with ayahs 30–31
بزرگ بڑے نہیں اللہ جل شانہ سب سے بڑا ہے
ان تمام آیتوں میں بھی جناب باری عزوجل مومنوں کو مشرکوں، کافروں، یہودیوں اور نصرانیوں سے جہاد کرنے کی رغبت دلاتا ہے۔ فرماتا ہے دیکھو وہ اللہ کی شان میں کیسی گستاخیاں کرتے ہیں یہود و عزیر کو اللہ کا بیٹا بتاتے ہیں اللہ اس سے پاک اور برتر و بلند ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ ان لوگوں کو حضرت عزیر کی نسبت جو یہ وہم ہوا اس کا قصہ یہ ہے کہ جب عمالقہ بنی اسرائیل پر غالب آگئے ان کے علماء کو قتل کردیا ان کے رئیسوں کو قید کرلیا۔ عزیر ؑ کا علم اٹھ جانے اور علماء کے قتل ہوجانے سے اور بنی اسرائیل کی تباہی سے سخت رنجیدہ ہوئے اب جو رونا شروع کیا تو آنکھوں سے آنسو نہ تھمتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
سورة التَّوْبَة 31
حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عدی بن حاتم، جو پہلے عیسائی تھے، جب نبی ﷺ کے پاس حاضر ہو کر مشرف با اسلام ہوئے تو انہوں نے منجملہ اور سوالات کے ایک یہ سوال بھی کیا تھا کہ اس آیت میں ہم پر اپنے علماء اور درویشوں کو خدا بنا لینے کا جو الزام عائد کیا گیا ہے اس کی اصلیت کیا ہے۔ جواب میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ واقعہ نہیں ہے کہ جو کچھ یہ لوگ حرام قرار دیتے ہیں اسے تم حرام مان لیتے ہو اور جو کچھ یہ حلال قرار دیتے ہیں اسے حلال مان لیتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ یہ تو ضرور ہم کرتے رہے ہیں۔ فرمایا بس یہی ان کو خدا بنا لینا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کتاب اللہ کی سند کے بغیر جو لوگ انسانی زندگی کے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(آگے افعال کفریہ کا بیان ہے کہ) انہوں نے (یعنی یہود و نصاری نے) خدا (کی توحید فی الطاعۃ) کو چھوڑ کر اپنے علماء اور مشائخ کو (باعتبار اطاعت کے) رب بنا رکھا ہے (کہ ان کی اطاعت تحلیل اور تحریم میں مثل اطاعت خدا کے کرتے ہیں کہ نص پر ان کے قول کو ترجیح دیتے ہیں اور ایسی اطاعت بالکل عبادت ہے پس اس حساب سے وہ ان کی عبادت کرتے ہیں) اور مسیح بن مریم ؑ کو بھی (ایک اعتبار سے رب بنا رکھا ہے کہ ان کو ابن اللہ کہتے ہیں کہ الوہیت اس کے لوازم سے ہے) حالانکہ ان کو (کتب الہیہ میں) صرف یہ حکم کیا گیا ہے کہ فقط ایک معبود (برحق) کی عبادت کریں جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں وہ ان کے شرک سے پاک ہے (اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
تفسیر آیت 30، 31:
آیت 30: وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ عُزَيْرُۨ ابْنُ اللّٰهِ وَقَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِيْحُ ابْنُ اللّٰهِ۔ عیزر، کا نام تورات میں عزرا آیا ہے۔ ان کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح کے لگ بھگ بتایا جاتا ہے۔ بخت نصر کے ہاتھوں یہود پر جو تباہی آئی اس میں تورات کے صحیفے بھی بالکل ناپید ہوگئے کہا جاتا ہے کہ یہ عزرا ہیں جنہوں نے اپنی یاد داشت سے ازسرنو تورات کو مرتب کیا۔ عجب نہیں کہ ان کے اسی کارنامے کی بنا پر یہود نے ان کو ابن اللہ بنا دیا ہوتا کہ اس دھونس سے ان کی مرتب کی ہوئی تورات کو درجہ استناد حاصل ہوسکے اور اگر کوئی اس پر شبہ وارد کرے تو اس کو یہ جواب دے کر چپ کیا جاسکے کہ یہ وہی…
Read the full tafseer →31۔ 1 اس کی تفسیر حضرت عدی بن حاتم کی بیان کردہ حدیث سے بخوبی ہوجاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے یہ آیت سن کر عرض کیا کہ یہود و نصاریٰ نے تو اپنے علماء کی کبھی عبادت نہیں کی، پھر یہ کیوں کہا گیا کہ انہوں نے ان کو رب بنا لیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ' یہ ٹھیک ہے کہ انہوں نے ان کی عبادت نہیں کی لیکن یہ بات تو ہے نا، کہ ان کے علماء نے جس کو حلال قرار دے دیا، اس کو انہوں نے حلال اور جس چیز کو حرام کردیا اس کو حرام ہی سمجھا۔ یہی ان کی عبادت کرنا ہے ' (صحیح ترمذی) کیونکہ حرام وحلال کرنے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے یہی حق اگر کوئی شخص کسی اور کے اندر تسلیم کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
30: ان کو خدا بنانے کا جو مطلب آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے علماء کو یہ اختیارات دے رکھے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں حلال اور جس چیز کو چاہیں حرام قرار دے دیں، واضح رہے کہ عام لوگ جو کسی آسمانی کتاب کا براہ راست علم نہیں رکھتے، ان کو شریعت کا حکم معلوم کرنے کے لئے علماء سے رجوع تو کرنا ہی پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے شارح کی حیثیت میں ان کی بات ماننی بھی پڑتی ہے، اس کا حکم خود قرآن کریم نے سورة نحل (14۔ 43) اور سورة انبیاء (17۔ 21) میں دیا ہے، اس حد تک تو کوئی بات قابل اعتراض نہیں، لیکن یہود و نصاری نے اس سے آگے بڑھ کر اپنے علماء کو بذات خود احکام وضع کرنے…
Read the full tafseer →اب قرآن کریم اہل کتاب کی گمراہیوں اور انحرافات کا ایک دوسرا ورق الٹتا ہے۔ یہاں اب ان کی گمراہی محض اعتقاد اور اقوال تک محدود نہیں ہے بلکہ اس فاسد اعتقادات و تصورات پر ان کی جو عملی صورت حال بنتی ہے اس کے اعتبار سے بھی وہ گمراہ اور منحرف ہیں۔
۔۔۔
اس آیت میں بھی یہی بات جاری ہے جو اس سبق کا اصلی موضوع یعنی یہ کہ یہ لوگ در اصل اہل کتاب ہی نہیں۔ لہذا اس حوالے سے ان کو دین حق پر نہیں سمجھا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ دین اسلام پر نہیں ہیں۔ اس بات کی شہادت ان کی عملی زندگی دے رہی ہے۔ اس کی شہادت ان کے تصورات دے رہے ہیں ، ان کو حکم تو یہ دیا گیا تھا کہ وہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کریں مگر انہوں نے…
Read the full tafseer →7 ان کے علماء و مشائخ جو کچھ اپنی طرف سے مسئلہ بنا دیتے خواہ حلال کو حرام یا حرام کو حلال کہہ دیتے اسی کو سند سمجھتے کہ بس خدا کے ہاں ہم کو چھٹکارا ہوگیا۔ کتب سماویہ سے کچھ سروکار نہ رکھا تھا، محض احبارو رہبان کے احکام پر چلتے تھے۔ اور ان کا یہ حال تھا کہ جہاں تھوڑا سا مال یا جاہی فائدہ دیکھا حکم شریعت کو بدل ڈالا جیسا کہ دو تین آیتوں کے بعد مذکور ہے پس جو منصب خدا کا تھا (یعنی حلال و حرام کی تشریع) وہ علماء و مشائخ کو دے دیا گیا تھا۔ اس لحاظ سے فرمایا کہ انہوں نے عالموں اور درویشوں کو خدا ٹھہرا لیا نبی کریم ﷺ نے عدی بن حاتم کو اعتراض کا جواب دیتے ہوئے اسی طرح کی تشریح فرمائی ہے اور حضرت…
Read the full tafseer →آیت 31 اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ ج
عیسائیوں میں دوسری بڑی گمراہی یہ پیدا ہوئی تھی کہ انہوں نے اپنے علماء و مشائخ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی الوہیت میں حصہ دار بنا لیا تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو ان کے ہاں باقاعدہ تین خداؤں میں سے ایک تھے اور اس حیثیت میں وہ آپ علیہ السلام کی پرستش بھی کرتے تھے ‘ مگر احبارو رہبان کو رب ماننے کی کیفیت ذرا مختلف تھی۔ حضرت عدی بن حاتم رض جنہوں نے عیسائیت سے اسلام قبول کیا تھا حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس آیت کے بارے میں وضاحت کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے فرمایا :
اَمَا…
Read the full tafseer →31 اہل کتاب کا اپنے علماء ومشائخ کو رب بنانا :۔ ان اہل کتاب کا دوسرا شرک یہ تھا کہ حلت و حرمت کے اختیارات انہوں نے اپنی علماء و مشائخ کو سونپ رکھے تھے۔ حالانکہ یہ اختیار صرف اللہ کو ہے۔ وہ کتاب اللہ کو دیکھتے تک نہ تھے بس جو کچھ ان کے علماء و مشائخ کہہ دیتے اسے اللہ کا حکم سمجھ لیتے تھے جبکہ ان کے علماء و مشائخ کا یہ حال تھا کہ تھوڑی سی رقم لے کر بھی فتوے ان کی مرضی کے مطابق دے دیا کرتے تھے۔ اس طرح انہوں نے اپنے علماء و مشائخ کو رب کا درجہ دے رکھا تھا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے :۔
سیدنا عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ کے پاس آیا میری گردن میں سونے کی صلیب تھی۔ آپ نے فرمایا عدی…
Read the full tafseer →56 ۔ یعنی انہیں مستقلا ایسا صاحب اختیار مان رکھا ہے کہ گویا وہی معبود اور رب ہیں، جو چاہیں وہ جائز کردیں، جو چاہیں، وہ حرام ٹھہرا دیں۔ سارے اختیارات چرچ (کلیسا) کو دے رکھے ہیں۔ یہود کے ہاں بھی ربیون کے احکام، خود توریت کی تعلیمات پر غالب آگئے تھے، الاکثرون من المفسرین قالوا لیس المراد من الارباب انھم اعتقدوا الھھم انھم الھۃ العالم بل المراد انھم اطاعوھم فی اوامرھم ونواھیھم (کبیر) آیت کی تفسیر ماثور بھی یہی ہے۔ عدی بن حاتم نومسلم عیسائی کی روایت کتب حدیث میں درج ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ ہم لوگ اپنے مقتداؤں اور پیشواؤں کو خدا کب مانتے ہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ حلال و…
Read the full tafseer →اِتَّخَذُوْا اَحْبَارَھُم وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَاباً مِّنْ دُوْنِ اللہ، اس کی تفسیر حضرت عدی بن حاتم ؓ کی بیان کردہ حدیث سے بخوبی ہوجاتی ہے، عدی فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے یہ آیت سن کر عرض کیا کہ یہود و نصاریٰ نے تو اپنے علماء کی بھی عبادت نہیں کی پھر یہ کیوں کہا گیا کہ انہوں نے ان کو رب بنا لیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا '' یہ ٹھیک ہے کہ انہوں نے ان کی عبادت نہیں کی مگر یہ بات تو ہے تا، کہ ان کے علماء نے جس کو حلال قرار دے دیا اسکو انہوں نے حلال اور جس چیز کو حرام کردیا اس کو حرام ہی سمجھا یہی ان کی عبادت کرنا ہے، (ترمذی) کیونکہ حلال حرام کرنے کا اختیار صرف اللہ کو ہے یہی حق اگر غیر اللہ کو دے دیا…
Read the full tafseer →اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ انہوں نے اپنے علماء اور دریشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا ہے۔ احبار ‘ حِبْرکی جمع ہے۔ حِبر عالم اور (دینی کتابیں) پڑھنے والے کو کہتے ہیں۔ رُہبان (راہب کی جمع ہے) گرجوں میں رہنے والے (تارک الدنیا) عیسائی (جیسے مسلمانوں میں خانقاہ نشین پیر اور درویش) رب قرار دینے سے یہ مراد ہے کہ وہ اللہ کی نافرمانی کرتے اور علماء و فقراء کے احکام کو مانتے ہیں۔ ترمذی نے صحیح میں اور بغوی نے حضرت عدی بن حاتم کا بیان نقل کیا ہے۔ عدی نے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میرے گلے میں سونے کی صلیب پڑی ہوئی تھی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : عدی ! اس بت کو اپنی گردن سے نکال…
Read the full tafseer →(31) ان یہودیوں نے اپنے علماء کو اور عیسائیوں نے اپنے مشائخ کو رب بنارکھا ہے معصیت خداوندی میں ان کی اطاعت کرتے ہیں اور حضرت مسیح ؑ کو بھی ایک اعتبار سے خدا بنا رکھا ہے حالانکہ ان کو تمام آسمانی کتب میں صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کریں
Read the full tafseer →اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ : ”حَبْرٌ“ حاء کی زبر اور زیر دونوں کے ساتھ آتا ہے اور باء ساکن ہے، وہ عالم جو بہت خوب صورت اور پختہ بات کہے۔ یہ ”تَحْبِیْرٌ“ سے ہے جس کا معنی مزین کرنا ہے۔ رہبان، راہب کی جمع ہے، ڈرنے والا، یعنی جو اللہ کے خوف سے دنیا ترک کر کے لوگوں سے الگ کسی کٹیا میں جا ڈیرہ لگائے۔ ان کے مسیح ابن مریم ؑ کو رب بنانے کا ذکر تو اوپر بھی آچکا ہے، کیونکہ بیٹا باپ کے اختیارات میں اس کا شریک اور جانشین ہوتا ہے، اس لیے مسیح ؑ کو بیٹا ماننے پر ان کو رب بنانے میں کیا کسر رہ گئی۔ رہے ان کے عالم اور درویش تو انھیں رب بنانے والے کچھ لوگ تو وہ تھے جو واقعی کائنات میں ان کا…
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : اتخذوٓا احبار ھم ور ھبا نھم اربابا من دون اللہ والمسیح ابن مریم احبار ‘ حبر کی جمع ہے اور اس سے مراد وہ ہے جو اچھا قول کرتا ہو ‘ اسے منظم کرسکتا ہو اور اپنے حسن بیان کے ساتھ اسے انتہائی مضبوط اور پختہ بنا سکتا ہو۔ اور اسی سے ثوب محبر ہے یعنی ایسا کپڑا جو حسین خو بصورتی کو جامع ہو (1) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ الاحبار کی واح حبر حاء کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ اور مفسرین حا پر فتحہ اور اس پر دلیل یہ ہے کہ انہوں نے کہا ہے (مداد) حبر مراد عالم کی سیاہی ہے ‘ پھر استعمال کثیر ہوگیا یہاں تک کہ انہوں نے مدد (سیاہی) کو ہی حبر (سیاہی) کہہ دیا۔ فراء نے کہا ہے : اس میں کسرہ اور فتحہ کی دونوں…
Read the full tafseer →1:۔ ابن سعد وعبد بن حمید والترمذی اور آپ نے اس کی تحسین کی وابن منذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابوالشیخ وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں عدی بن حاتم ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سورة براۃ میں (یہ آیت) پڑھ رہے تھے (آیت) ” اتخذوا احبارہم ورھبانہم اربابا من دون اللہ “ پھر آپ نے فرمایا بلاشبہ وہ ان (احبار اور رھبان) کی عبادت نہیں کرتے تھے لیکن جب انہوں نے ان کے لئے کسی چیز کو حلال کردیا تو ان لوگوں نے بھی اس کو حلال کرلیا اور جب انہوں نے ان پر کسی چیز کو حرام کردیا تو ان لوگوں نے بھی اس کو حرام کرلیا۔
2:۔ عبدالرزاق والفریابی وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ…
Read the full tafseer →اِتَّخَذُوْٓا [ انھوں نے بنایا ] اَحْبَارَهُمْ [ اپنے علماء کو ] [ وَرُهْبَانَهُمْ : اور اپنے درویشوں کو ] اَرْبَابًا [ بہت سے رب ] مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ ۚ [ اور ابن مریم مسیح کو (بھی ) ] وَمَآ اُمِرُوْٓا [ اور ان کو حکم نہیں دیا گیا ] اِلَّا [ سوائے اس کے ] لِيَعْبُدُوْٓا [ کہ وہ بندگی کریں ] اِلٰــهًا وَّاحِدًا ۚ [ واحد الہ کی ] لَآ اِلٰهَ [ کوئی الہ نہیں ہے ] اِلَّا [ سوائے ] هُوَ ۭ [ اس کے ] سُبْحٰنَهٗ [ پاکیزگی اس کی ہے ] عَمَّا [ اس سے جو ] يُشْرِكُوْنَ [ یہ لوگ شرک کرتے ہیں ]
نوٹ ۔ 1: حضرت عدی بن حاتم ؓ ایمان لانے سے پہلے عیسائی تھے ۔…
Read the full tafseer →تحلیل و تحریم کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے :
پھر فرمایا (اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَھُمْ وَ رُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ ) کہ ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے احبار (یعنی علماء یہود) کو اور راہبوں (یعنی نصاریٰ کے درویشوں) کو اپنا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو (بھی) رب بنا لیا۔ نصاریٰ کے راہب تارک دنیا ہو کر اپنے ان گھروں میں رہتے تھے جو جنگلوں میں بنا لیتے تھے اس لیے رہبان کا ترجمہ درویش کیا گیا۔
حضرت عدی بن حاتم ؓ جو پہلے نصرانی تھے (بعد میں مسلمان ہوئے) انہوں نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اس وقت میری گردن میں سونے کی صلیب تھی۔ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
اہل کتاب کے فضائح اور قبائح کا بیان
قال اللہ تعالی۔ وقالت الیھود عزیر ابن اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ لو کرہ المشکرون۔
(ربط): گزشتہ آیات میں مشرکین کے قبائح کا بیان ہوا اب اہل کتاب کے قبائح اور فضائح اور ان کے ععقائد باطلہ اور افعال شرکیہ کو بیان کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ مشرکین کی طرح اہل کتاب بھی دین حق کے مطیع اور فرمانبردار نہیں اور ان کی طرح یہ مستوجب قتل و قتال ہیں اس لیے اب آئندہ آیات میں اہل کتاب کے عقائد باطلہ اور ان کے کفریات قولیہ و فعلیہ اور جہالت عملیہ کی کسی قدرت فصیل کرتے ہیں تاکہ گزشتہ آیت میں جو اہل کتاب کے متعلق لا یؤمنین باللہ ولا بالیوم الاخر اور ولا یدینون دین الحق فرمایا تھا اس…
Read the full tafseer →26: قتال کی وجہ رابع :“ احبار ” علماء اہل کتاب۔ “ رُھْبَان ” تارک الدنیا، صوفی۔ مراد روحانی پیشوا اور سجادہ نشین۔ یہود و نصٓریٰ اپنے علماء اور پیروں فقیروں کو متصرف و کارساز سمجھ کر ان کو پکارتے اور ان کے آگے سجدے کرتے تھے۔ اور ان کو تحلیل وتحریم کے مختار مانتے تھے۔ “ کانوا یسجدون لھم کما یسجدون لله والسجود لا یکون الا لله فاطلق علیھم ذلک مجازا (بحرج 5 ص 32) حیث اطاعوھم فی تحلیل ما حرم اللہ و تحریم ما احل اللہ کما یطاع الارباب فی اوامرھم ونواھیھم ” (مدارک ج 2 ص 94) ۔
27:“ اُمِرُوْا ” کی ضمیر سے وہی یہود و نصاریٰ مراد ہیں جو “ اِتَّخَذُوْا ” کے فاعل ہیں یعنی انہوں نے اپنے عالموں اور پیروں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ربطِ آیات :
گذشتہ آیات میں اہل کتاب کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ وہ جزیہ ادا کر کے ذمی بن جائیں۔ اگر وہ اس طرح مسلمانوں کی ماتحتی قبول کرلیں تو ان کو امن حاصل ہوجائے گا اہل کتاب کے ساتھ لڑائی کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ یہ لوگ اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ اشیاء کو حرام نہیں سمجھتے اور دین حق کو قبول نہیں کرتے۔ تو فرمایا یہ لوگ خود اپنے ہاتھوں سے جزیہ ادا کر کے ذلت قبول کریں۔ یہاں پر اشارتا یہ بات نکل آئی کہ ان کا ایمان حقیقت میں نہ اللہ تعالیٰ پر ہے اور نہ قیامت کے دن پر اور نہ ہی یہ دین حق کو قبول کرتے ہیں۔ اب آج کی آیات میں اللہ…
Read the full tafseer →اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ 0 ۚ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰــہًا وَّاحِدًا 0 ۚ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ 0 ۭ سُبْحٰنَہٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 31
أخذ ( افتعال، مفاعله)
والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ،…
Read the full tafseer →ف اسلام میں بھی جو اپنے مشائخ اور ان کی قبور سے ایسا کرتے ہیں کہ ان کو سجدہ کرتے اور قاضی الحاجات جانتے اور خلاف شریعت باتوں کو مانتے ہیں اسی میں داخل ہیں۔ اتخذوا احبارہم۔ الخ
Read the full tafseer →اِتَّخَذُوْآ اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ ج وَمَا اُمِرُوْآ اِلَّا لِیَعْبُدُوْآ اِلٰھًا وَّاحِدًاج لَآاِلٰہَ اِلَّا ھُوَطسُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ
(التوبۃ : 31)
(انھوں نے اللہ کے سوا اپنے فقیہوں اور راہبوں کو رب بناڈالا اور مسیح ابن مریم کو بھی حالانکہ انھیں حکم نہیں دیا گیا تھا مگر صرف اس بات کا کہ وہ ایک ہی معبود کی عبادت کریں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ پاک ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں۔ )
دوسرے الزام کا ثبوت
گزشتہ سے پیوستہ آیت کریمہ کو ایک نظر پھر دیکھ لیجئے، اس میں پروردگار نے اہل کتاب پر جو الزامات لگائے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب کے ساتھ اس لیے قتال کرنا ہے کیونکہ وہ واضح طور پر شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔
اہل کتاب سے مراد یہودی اور عیسائی ہیں۔ یہودیوں نے اپنی جہالت کی بناء پر یہ عقیدہ بنایا کہ عزیر (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں جس کے دو سبب مفسرین بیان کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی موت کے بعد یہودیوں پر بخت نصر نے حملہ کیا اور اس نے تورات کلی طور پر ختم کرنے کا حکم دیا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ تورات دنیا میں بالکل ناپید ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے دین موسوی کی تجدید کے لیے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ جنھوں نے وحی الہی کی روشنی میں تورات کو دوبارہ لکھوایا۔ دوسری…
Read the full tafseer →انہوں نے حلال و حرام اپنے علماء و عابدوں کے حوالہ کردیا ہے :
آیت 31: اِتَّخَذوْٓا (انہوں نے بنا رکھا ہے) اہل کتاب نے اَحْبَارَھُمْ (اپنے علماء کو) اپنے علماء وَرُھْبَانَھُمْ (اپنے عابدوں کو) اَرْبَابًا (معبود) مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اللہ کو چھوڑ کر) اس طرح کہ ان کی اطاعت اس چیز کو حلال کرنے میں جو اللہ تعالیٰ نے حرام کی ہے اور اس چیز کو حرام کرنے میں جس کو اللہ تعالیٰ نے حلال کیا۔ اسی طرح کرتے جیسے ارباب کی اطاعت اوامر ونواہی میں کی جاتی ہے۔ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ (اور مسیح ابن مریم کو بھی) یہ احبار پر عطف ہے انہوں نے مسیح کو رب یعنی ابن اللہ بنایا۔ وَمَآاُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوْٓا…
Read the full tafseer →تفسیر 32۔” اتخذوا احبارھم ورھبانھم “ یعنی اپنے علماء اور قراء کو احبار حبر کی جمع ہے حبر عالم اور دینی کتابیں پڑھنے والے کو کہتے ہیں ۔ رہبان راہب کی جمع گرجوں میں رہنے والے عیسائیوں کو کہتے ہیں۔” اربابا ً “ اگر یہ اعتراض ہو کہ انہوں نے احبار اور رھبان کی عبادت تو نہیں کی تھی ؟ تو ہم جواب دیں گے کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ ان کی اطاعت کی تھی اللہ کی نا فرمانیوں میں اور جن چیزوں کو انہوں نے حلال سمجھا ان کو انہوں نے حلال سمجھا اور جن کو انہوں نے حرام سمجھا، ان کو انہوں نے حرام سمجھا تو ان کو خدا کی طرح بنادیا۔ عدی بن حاتم ؓ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں رسو ل اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میری گردن میں سونے…
Read the full tafseer →31۔ اس آیت کی تفسیر عدی بن حاتم طائی ؓ کی حدیث سے اچھی طرح ظاہر ہوتی ہے اس حدیث کو امام احمد اور ترمذی وغیرہ نے چند طریقوں سے روایت کیا اگرچہ ترمذی نے اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے لیکن اس حدیث کی کئی سندیں ہیں جس کے سبب سے ایک سند کو دوسری سند سے قوت ہوجاتی ہے ترمذی کی سند میں حسین بن یزیدی کوفی اور عفیف بن اعین ان دو راویوں میں اگرچہ بعضے علماء کو کلام ہے لیکن ابن حبان نے ان دونوں کو ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے اس صورت میں یہ حدیث معتبر ہے۔ عدی بن حاتم ؓ اپنی قوم کے سردار تھے جب یہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے حضرت ﷺ کو دیکھا کہ یہی آیت پڑھ رہے ہیں عدی ؓ نے کہا کہ نصرانی احبارو رہبان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
آیت 30
جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے ساتھ قتال کا حکم دیا تو ان کے ان خبیث اقوال کا ذکر کیا، جو اہل ایمان کو، جن کے اندر اپنے دین اور اپنے رب کے بارے میں غیرت ہوتی ہے، ان کے ساتھ جنگ کرنے، ان کے خلاف جدوجہد کرنے اور اس میں پوری کوشش صرف کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا (وقالت الیھود عزیز ابن اللہ) ” یہود نے کہا، عزیز اللہ کے بیٹے ہیں “ ان کا یہ قول ان کے تمام عوام کا قول نہ تھا بلکہ ان میں سے ایک فرقے کا قول تھا۔ البتہ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہودیوں کی سرشت میں خباثت اور شر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا جس نے ان کو یہاں تک پہنچا دیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
احبار و رہبان
قول باری ہے (اتخذوا العبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ والمسیح ابن مریم انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنالیا ہے) ایک قول کے مطابق حبر اس عالم کو کہتے ہیں جس کے اندر یہ خوبی ہو کہ وہ اپنے حسین انداز بیان کے ذریعے معانی میں عمدگی پیدا کردے۔ ایسے شخص کو جبر اور جبیر بھی کہا جاتا ہے۔ راہب ڈر اور خوف رکھنے والے انسان کو کہتے ہیں جس کے لباس سے خوف و خشیت ظاہر ہورہی ہو۔ راہب کی جمع رہبان ہے۔ اس لفظ کا استعمال عیسائیوں کے درویشوں کے لئے کیا جاتا ہے۔
علماء اور درویش کن معنوں میں رب بنائے گئے
قول باری (ارباباً من دون اللہ) کی تفسیر میں دو وجوہ بیان کئے گئے ہیں…
Read the full tafseer →70 اہل کتاب کے اپنے پیروں اور مولویوں کو رب بنانے کا مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنے عالموں اور پیروں کو اپنا رب بنادیا اللہ کے سوا کہ یہ لوگ کہ ان کے کہنے کے مطابق یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال اور اس کی حلال فرمودہ اشیاء کو حرام قرار دیتے ہیں، جیسا کہ سنن ترمذی اور مسند امام احمد کی روایت کے مطابق حضرت عدی بن حاتم ؓ سے مروی ہے۔ جس میں انہوں نے اپنے اسلام لانے کا طویل قصہ بھی ذکر فرمایا ہے۔ (ترمذی کتاب التفسیر، طبری، قرطبی، الاساس فی التفسیر، محاسن التاویل، ابن کثیر وغیرہ وغیرہ) ۔ سو مخلوق میں سے کسی کو تحلیل و تحریم کا مالک و مختار سمجھنا اس کو رب بنانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
یہود و نصارٰی کی گمراہی کی وجہ اور زکوٰۃ نہ دینے والوں کی سزا
تشریح : ان آیات میں یہود و نصارٰی کے بارے میں بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہود اہل کتاب ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کے پیرو ہیں۔ لیکن یہ قوم بڑی ضدی، نااہل اور نافرن ثابت ہوئی یہاں تک کہ اپنے نبیوں کو بھی قتل کردیا کرتے تھے تو ایسے لوگ اپنی آسمانی کتاب پر کیا عمل کرسکتے تھے بلکہ انہوں نے اس کو بالکل تبدیل کردیا۔ ان کے راہب اور علماء بڑے بڑے امیر لوگوں سے کچھ رقم لیکر ان کی مرضی کے مطابق کتاب سے غلط فتوے بنا دیا کرتے تھے۔ پھر لوگوں سے بڑی بڑی رقمیں لیکر لوگوں کو گمراہ کرنے پر لگے رہتے اور پھر کفر میں اس قدر بڑھ گئے کہ کیتھولک فرقہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–37
اسرار و معارف
چونکہ ایمان باللہ بھی وہی قابل قبول ہے جو ان اوصاف کے ساتھ ہو جو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمائی ہیں ۔ ان سے ہٹ کر اگر کسی نے اللہ کو مانا بھی تو وہ نہ ماننے کے برابر ہے جیسے اہل کتاب کہ اللہ پر اور آخرت پر ایمان تو رکھتے تھے مگر ظالموں نے اللہ کے لئے اولاد تجویز کردی یہود نے کہا حضرت عزیز (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے تھے اسی طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دے دیا اور بغیر کسی دلیل کے محض اپنی رائے سے گپ ہان کی ہے اللہ انھیں تباہ کرے کیسی غلط بات پر جم گئے ہیں ۔ اور یوں اپنے طور پر تو اللہ کا کوئی نہ کوئی تصور ہر قوم کے پاس ہے مگر یہ کوئی ماننا نہ ہوا۔…
Read the full tafseer →ف 11 یہ ان کے اوصاف قبیحہ کی دوسری قسم ہے اس معنی میں کہ جسے وہ حلال کہیں سے یہ حلال سمجھیں اور جسے وہ حرام کہیں سمجھیں جیسا کہ عد ؓ بن حاتم کی ایک روایت میں آنحضرت ﷺ نے اس کی یہی تفسیر بیان فرمائی ہے۔ ( ترمذی وغیرہ) بالکل یہی طرز علم فی زماننا مقلدین فقہا کا ہے۔ کہ قرآن و حدیث کے نصوح پر عمل کی بجائے اپنے ائمہ کے اقوال پر جمے رہتے ہیں۔ (رازی )
Read the full tafseer →(9:31) احبارھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ احبار جمع حبر کی۔ اہل تفسیر اسے حبر (بالفتح) اور اہل لغت حبر (بالجر) پڑھتے ہیں۔ فرار کے نزدیک دونوں طرح صحیح ہے اس کا معنی ہے جید عالم جو طڑی عمدگی اور سلیقہ سے بات کرسکے۔
رھبانھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ رھبان راھب کی جمع ہے جو رھبۃ بمعنی خوف سے ماخوذ ہے۔ یعنی وہ لوگ جو اپنی ساری زندگی اللہ کے خوف سے اس کی عبادت کے لئے وقف کردیں۔ ارباب۔ جمع ہے رب کی۔ معبود ان۔
المسیح ابن مریم ۔ فعل اتخذوا کا مفعول ثالث پہلے دو مفعول احبارھم اور رھبانہم ہیں۔ یہاں رب (اربابا) ماننے سے مراد یہ ہے کہ معاصی میں ان کا حکم ماننا۔ ان کے حرام کو حلال کہنے کو حلال ماننا۔ اور حلال کو حرام کہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
لغات القرآن آیت نمبر 29 تا 31
قاتلوا (جہاد کرو، قتال کرو) لایحرمون (حرام نہیں کرتے ہیں) لایدیون (چلتے نہیں ہیں) حتی یعطوا (جب تک وہ نہ دیں) الجزیہ (جزیہ، خراج جو اسلامی حکومت میں کافروں سے لیا جاتا ہے) عن ید (ہاتھ سے) فاغرون (ماتحت ہو کر رہنے والے) یضاھتون (وہ دوسروں کی نقل کرتے ہیں، برابر کرتے ہیں) قتلھم اللہ (اللہ کو غارت کر دے) انی یوفکون (یہ کہاں الٹے پھرے جا رہے ہیں) احبار (حبر) ، عالم ) رھبان (راھب) ، درویش ارباب (رب) ، پروردگار) ما امروا (حکم نہیں دیا گیا ) سبحان (پاک ذات، بےعیب ذات)
تشریح : آیت نمبر 29 تا 31
اس سورت میں اب تک قتال کے جو بھی احکامات آئے ہیں ان کا تعلق مشرکین سے ہے۔…
Read the full tafseer →عالم ودرویشوں کی حالت
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب نے حلال و حرام میں حضرات عالم اور درویشوں کی پیروی کی اور ان کے کہنے پر چلے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا یہ ان کو بھی اللہ کہنے لگے۔ حالانکہ یہ حضرت مریم (علیہا السلام) کے شک مبارک سے پیدا ہوئے اور جس طرح اور آدمی کھاتے پیتے چلتے پھرتے ہیں وہی حال ان کا ہے۔ پھر فرمایا کہ ان کو اور کسی بات
کا حکم ہی نہیں دیا گیا تھا بلکہ آسمانی کتابوں میں ان کو یہی بتایا گیا تھا کہ صرف اللہ ہی کی عبادت کرو۔ اور اللہ کی ذات کا کوئی شریک نہیں ہے وہ تو اکیلا ہے اور شرک سے بالکل بری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
[17] احادیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے جب یہ آیت پڑھی تو نومسلم عیسائی عدی بن حاتم نے عرض کیا کہ ہم اپنے علماء و مشائخ کو اِلٰہ کب مانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ کیا ایسا نہیں ہے کہ جس بات کو وہ حرام ٹھہرا دیتے ہیں تم حرام سمجھ لیتے ہو اور جس بات کو حلال کہہ دیتے ہیں تم حلال مان لیتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ یہ تو ہم ضرور کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ بس یہی ان کو اِلٰہ بنا لینا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اپنے پیشواؤں کو تشریع دین کا حق دے دینا یعنی اس بات کا حق کہ جو کچھ وہ اپنی خواہش اور رائے سے ٹھہرا دیں اس کی بلاچون و چرا اطاعت کرنی قرآن کے نزدیک انہیں اِلٰہ بنا لینا ہے۔ افسوس کہ مسلمان بھی اس گمراہی سے نہ…
Read the full tafseer →(ف 2) احبارو رہبان کو خدا ماننے کے معنی یہ ہیں ، کہ وہ علماء ومشائخ کی باتوں کو اندھا دھند بلا تحقیق کے مان لیتے تھے ، اور وہ اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے انہیں ہمیشہ گمراہی میں مبتلا رکھتے اور ہمیشہ الٹی سیدھی باتوں کی تلقین کرتے رہتے ، حالانکہ اللہ نے توحید کی تعلیم دی ہے ، جو روشنی اور تنویر کی تعلیم ہے جس میں انسانیت کا اعزاز ہے ، غرض یہ ہے کہ اندھی عقیدت ناجائز ہے ۔
Read the full tafseer →31 ان یہودونصاریٰ نے اپنے علماء اور مشائخ کو اپنا رب بنالیا ہے اور مسیح ابن مریم کو رب نے بنا رکھا ہے حالانکہ ان کو آسمانی کتب میں صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے وہ ان لوگوں کے شرک اور ان کے شریک کرنے سے پاک ہے۔
عالموں اور مشائخ کی ایسی اطاعت کہ خدا کے حکم کو پسِ پشت ڈال دیا جائے ایسی اطاعت بالکل عبادت ہے حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ان کے عالم یا درویش جو اپنی عقل سے ٹھہرا دیتے وہ جانتے خدا کے ہاں ہم کو چھٹکار ہوگیا اور ٹھہراتے خاطر کو یا طمع کو سو عالم کا قول عوام کو سند ہے جب تک وہ شرع سے سمجھ کر کہے جب معلوم ہو کہ طمع سے…
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی ان کی اطاعت تحلیل اور تحریم میں مثل طاعت خدا کے کرتے ہیں کہ نص پر ان کے قول کو ترجیح دیتے ہیں اور ایسی اطاعت بالکل عبادت ہے پس اس حساب سے وہ ان کی عبادت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →یہود و نصاریٰ نے احبارو رہبان کو رب بنا لیا لیکن مسلمانوں نے گدی نشینوں کو کیا بنایا :
46: اہل کتاب کے حالات پڑھتے جائیے اور اس وقت قوم مسلم کے حالات پر بھی نگاہ رکھئے کیونکہ اس لئے اہل کتاب کے حالات تم کو سنائے جا رہے ہیں۔ زیر نظر آیت میں اس گمراہی کی طرف اشارہ کیا جو یہود و نصاریٰ کی تمام فکری و عملی گمراہیوں کا سرچشمہ تھی یعنی انہوں نے خدا کو چھوڑ کر اپنے علماء و مشائخ کو پروردگار بنا لیا ہے ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ انہیں رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِکہتے ہیں کیونکہ اس طرح تو کبھی کسی نے کسی کو رب نہیں بنایا۔ مطلب یہ ہے کہ یہودیوں نے اپنے فقیہوں کو اور عیسائیوں نے اپنے پوپ اور اس کے…
Read the full tafseer →Commentary
The four verses cited above mention how astray the learned and the devoted and the abstaining among the Jews and Christians had gone and what blasphemies of word and deed they had come up with. The word: اَحبَار (ahbar) is the plural form of حبر (hibr) and رھبان (ruhban) is the plural of راھب (rahib). Hibr refers to a religious scholar among the Jews and Christians while a rahib denotes someone who devotes to worship and abstains from a worldly role in life.
In the first verse (31), it has been said that these people have taken their rabbis and monks as gods beside Allah and they…
Read the full tafseer →