Explained with ayahs 30–31
بزرگ بڑے نہیں اللہ جل شانہ سب سے بڑا ہے
ان تمام آیتوں میں بھی جناب باری عزوجل مومنوں کو مشرکوں، کافروں، یہودیوں اور نصرانیوں سے جہاد کرنے کی رغبت دلاتا ہے۔ فرماتا ہے دیکھو وہ اللہ کی شان میں کیسی گستاخیاں کرتے ہیں یہود و عزیر کو اللہ کا بیٹا بتاتے ہیں اللہ اس سے پاک اور برتر و بلند ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ ان لوگوں کو حضرت عزیر کی نسبت جو یہ وہم ہوا اس کا قصہ یہ ہے کہ جب عمالقہ بنی اسرائیل پر غالب آگئے ان کے علماء کو قتل کردیا ان کے رئیسوں کو قید کرلیا۔ عزیر ؑ کا علم اٹھ جانے اور علماء کے قتل ہوجانے سے اور بنی اسرائیل کی تباہی سے سخت رنجیدہ ہوئے اب جو رونا شروع کیا تو آنکھوں سے آنسو نہ تھمتے تھے…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 29
عُزَیر سے مراد عزرا (ezra) ہیں جن کو یہودی اپنے دین کا مجدد مانتے ہیں۔ ان کا زمانہ سن 450 قبل مسیح کے لگ بھگ بتایا جاتا ہے۔ اسرائیلی روایات کے مطابق حضرت سلیمان ؑ کے بعد جو دور ابتلاء بنی اسرائیل پر آیا اس میں نہ صرف یہ کہ توراۃ دنیا سے گم ہوگئی تھی بلکہ بابل کی اسیری نے اسرائیلی نسلوں کو اپنی شریعت، اپنی روایات اور اپنی قومی زبان، عبرانی تک سے ناآشنا کردیا تھا۔ آخر کار انہی عزیر یا عزرا نے بائیبل کے پرانے عہد نامے کو مرتب کیا، اور شریعت کی تجدید کی۔ اسی وجہ سے بنی اسرائیل ان کی بہت تعظیم کرتے ہیں اور یہ تعظیم اس حد تک بڑھ گئی کہ بعض یہودی گروہوں نے ان کو ابن اللہ تک…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں اسی مضمون کی مزید تفصیل ہے، جس کا ذکر پہلی آیت میں اجمالا آیا ہے کہ یہ اہل کتاب اللہ پر ایمان نہیں رکھتے، اس دوسری آیت میں فرمایا کہ یہود تو عزیر ؑ کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور نصارٰی حضرت عیسیٰ ؑ کو، اس لئے ان کا دعوٰی توحید اور ایمان کا غلط ہوا۔ پھر فرمایا (آیت) ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ ، یعنی یہ ان کا قول ہے ان کے منہ سے، اس کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ لوگ صاف طور پر اپنی زبانوں سے اس کا اقرار کرتے ہیں کوئی مخفی چیز نہیں، اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ یہ کلمہ کفر صرف ان کی زبانوں پر ہے نہ اس کی کوئی وجہ بتاسکتے ہیں نہ دلیل۔
پھر ارشاد فرمایا (آیت)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
تفسیر آیت 30، 31:
آیت 30: وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ عُزَيْرُۨ ابْنُ اللّٰهِ وَقَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِيْحُ ابْنُ اللّٰهِ۔ عیزر، کا نام تورات میں عزرا آیا ہے۔ ان کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح کے لگ بھگ بتایا جاتا ہے۔ بخت نصر کے ہاتھوں یہود پر جو تباہی آئی اس میں تورات کے صحیفے بھی بالکل ناپید ہوگئے کہا جاتا ہے کہ یہ عزرا ہیں جنہوں نے اپنی یاد داشت سے ازسرنو تورات کو مرتب کیا۔ عجب نہیں کہ ان کے اسی کارنامے کی بنا پر یہود نے ان کو ابن اللہ بنا دیا ہوتا کہ اس دھونس سے ان کی مرتب کی ہوئی تورات کو درجہ استناد حاصل ہوسکے اور اگر کوئی اس پر شبہ وارد کرے تو اس کو یہ جواب دے کر چپ کیا جاسکے کہ یہ وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
29۔ 1 مشرکین سے قتال عام کے حکم کے بعد اس آیت میں یہود و نصاریٰ سے قتال کا حکم دیا جا رہا ہے (اگر وہ اسلام نہ قبول کریں) یا پھر وہ جزیہ دے کر مسلمانوں کی ماتحتی میں رہنا قبول کرلیں جزیہ ایک متعین رقم ہے جو سالانہ ایسے غیر مسلموں سے لی جاتی ہے جو کسی اسلامی مملکت میں رہائش پذیر ہوں اس کے بدلے میں ان کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمے داری اسلامی مملکت کی ہوتی ہے۔ یہود و نصاریٰ باوجود اس بات کے وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے تھے، ان کی بابت کہا گیا کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے، اس سے واضح کردیا گیا کہ انسان جب تک اللہ پر اس طرح ایمان نہ رکھے جس طرح اللہ نے اپنے…
Read the full tafseer →28: حضرت عزیر ؑ ایک جلیل القدر پیغمبر تھے، (ان کو بائبل میں عزرا کے نام سے یاد کیا گیا ہے، اور ایک پوری کتاب ان کے نام سے منسوب ہے) اور جب بخت نصر کے حملے میں تورات کے نسخے ناپید ہوگئے تھے تو انہوں نے اپنی یادداشت سے دوبارہ لکھوایا تھا، اور شائد اسی وجہ سے بعض یہودی انہیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا ماننے لگے تھے، یہاں یہ واضح رہے کہ ان کا بیٹا ماننے کا عقیدہ سب یہودیوں کا نہیں ہے ؛ بلکہ بعض یہودیوں کا ہے جو عرب میں بھی آباد تھے۔
29: اس سے مراد غالباً عرب کے مشرکین ہیں جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →(سابقہ آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ)
اسلام اس کرہ ارض پر ایک دین برحق ہے۔ اور اس یہ حق ہے کہ وہ اپنی راہ سے ناجائز مادی رکاوٹوں کو دور کرے۔ اور تمام انسانوں کو دین حق (اسلام) کے علاوہ تمام دینوں سے آزاد کرکے چھوڑے کہ وہ جبری حالت سے نکل کر آزادانہ ، جو دین چاہیں اختیار کریں۔ ہر انسان کو آزادانہ طور پر یہ اختیار ہو کہ وہ جو دین چاہے اختیار کرے۔ کوئی بھی دین اختیار کرنے کے سلسلے میں اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔
یہ حق کہ کوئی انسان کسی مادی رکاوٹ کے ہاتھوں مجبور نہ ہو اور اسلام یا گیر اسلام کوئی بھی دین قبول کرنے کے لیے آزاد ہو ، تب ہی متحقق ہوسکتا ہے کہ جاہلیت کی قوت اور شوکت کو تور دیا جائے۔…
Read the full tafseer →4 روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت بعض یہود کا یہ عقیدہ تھا کہ حضرت عزیر خدا کے بیٹے ہیں۔ لیکن یہ عقیدہ عام یہود کا نہ تھا اور نہ زمانہ مابعد میں تو بعض علماء نے لکھا ہے کہ اب کوئی یہودی اس عقیدے کا باقی نہیں رہا۔ اگر عہد نبوی ﷺ میں یہود کا کوئی فرقہ اس کا قائل نہ ہوتا تو ضرور تھا کہ اس وقت یہود قرآن کی حکایت کی تغلیط کرتے۔ جیسا کہ (اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ ) 9 ۔ التوبہ :31) کو سن کر عدی بن حاتم نے اعتراض کیا تھا کہ احبارو رہبان کو رب تو کوئی نہیں مانتا اس کا جواب نبی کریم ﷺ نے دیا جو آگے آتا ہے۔ پس ابنیت عزیر کے عقیدہ کو ان کی طرف نسبت…
Read the full tafseer →آیت 30 وَقَالَتِ الْیَہُوْدُ عُزَیْرُ نِ ابْنُ اللّٰہِ وَقَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰہِ ط ذٰلِکَ قَوْلُہُمْ بِاَفْوَاہِہِمْ ج یُضَاہِءُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ ط
ان کی ان باتوں یا من گھڑت عقیدوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے ‘ بلکہ یہ لوگ اپنے سے پہلے والے مشرکین کے عقائد کی نقل کر رہے ہیں۔ متھرا ازم ایک قدیم مذہب تھا جس کا مرکز مصر تھا۔ اس مذہب میں پہلے سے یہ تثلیث موجود تھی : " God the Father , Horus the Son of God and Isis the Mother Goddess." یعنی خدا ‘ خدا کا بیٹا اور اس کی ماں آئسس دیوی۔ یہ پہلی تثلیث تھی جو مصر میں بنی۔ پھر جب سینٹ پال نے عیسائیت کی تبلیغ شروع…
Read the full tafseer →30 بخت نصر بابلی سے یہودیوں کی پٹائی :۔ سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت کے بعد پھر یہودیوں پر اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے زوال آیا اور بخت نصر بابلی نے فلسطین پر پے در پے حملے کر کے اس کو تباہ و برباد کردیا۔ تورات اور تمام مذہبی کتابوں کو جلا کر خاکستر کرایا اور بنی اسرائیل کی ایک کثیر تعداد کو قید کر کے اپنے ساتھ بابل لے گیا۔ انہیں قیدیوں میں عزیر (علیہ السلام) بھی تھے جو ابھی کمسن ہی تھے۔ کچھ مدت غالباً سات سال بعد اس نے ان قیدیوں کو رہا کیا۔ اس دوران یہ اسرائیل اپنی زبان تک بھول چکے تھے۔ عزیر (علیہ السلام) نے اپنے وطن واپسی کے دوران ایک اجڑی بستی کو دیکھا جو بخت نصر کے ہاتھوں ہی برباد…
Read the full tafseer →51 ۔ عزیر یا تو ریت کے تلفظ میں عزرا (متوفی غالبا 458 ق، م) یہود کے مذہبی نوشتوں میں زیادہ ” کاتب “ کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ بخت نصر (متوفی 56 1 ق، م) کے حملہ اور کامل تباہی اور بربادی کے بعد جب توریت کے نسخہ یہود کے پاس سے بالکل غائب ہوگئے تو انہی عزیر (عزرا) نے توریت کو ازسر نو اپنی یادداشت سے لکھ دیا اور اس لئے انہیں یہود مثیل موسیٰ تسلیم کرتے ہیں بلکہ بعض نے غلو کرکے اس مرتبہ سے بھی بڑھا دیا ہے۔ (آیت) ” ابن اللہ “۔ عربی میں ابن اور ولد دو الگ الگ مفہوم رکھنے والے لڑکے اور بیٹے کے مرادف لفظ ہیں اور انگریزی میں بھی ان کے مقابلہ میں دو اصطلاحین Son of god اور Child of god کی الگ الگ ہیں۔…
Read the full tafseer →آیت نمبر 30 تا 37
ترجمہ : یہود نے کہا کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں، اور نصاریٰ نے کہا عیسیٰ مسیح، اللہ کے بیٹے ہیں یہ ان کے منہ سے نکلی ہوئی (بےحقیقت) باتیں ہیں جن پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں، یہ بھی ان لوگوں کی تقلید میں ان ہی کی سی باتیں کرتے ہیں جو ان کے آباء (و اجداد) میں سے پہلے کافر ہوچکے ہیں اللہ کی ان پر مار (لعنت) ہو دلیل قائم ہونے کے باوجود کہاں بھٹکے چلے جا رہے ہیں ؟ یہود نے اپنے علماء کو اور نصاریٰ نے اپنے درویشوں کو اللہ کے علاوہ رب بنا لیا ہے، اس طریقہ پر کہ حرام کو حلال کرنے میں اور حلال کو حرام کرنے میں ان کی اتباع کی، اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی ( رب بنا لیا ہے) اور تورات…
Read the full tafseer →وقالت الیھود عزیر ابن اللہ اور یہودیوں نے کہا : عزیر اللہ کا بیٹا ہے۔ عزیرٌ تنوین کے ساتھ عربی لفظ ہے ‘ اسم تصغیر ہے۔ بعض کے خیال میں عجمی لفظ ہے اور (اس پر تنوین آنے کی وجہ یہ ہے کہ) یہ عربی کے اسم تصغیر کے مشابہ ہے (باوجود چہارحرفی ہونے کے) اتنا ہی خفیف لفظ ہے جیسے نوح ‘ ہود ‘ لوط (پس سہ حرفی عجمی ناموں کی طرح یہ منصرف ہے) ۔
عاصم کسائی اور یعقوب کے علاوہ باقی قاریوں نے اس لفظ کو بغیر تنوین کے پڑھا ہے کیونکہ غیر منصرف ہے۔
عبید بن عمیر نے کہا : اس قول کا قائل صرف فتحاص بن عاذورا یہودی تھا (کوئی اور قائل نہ تھا) اسی نے اِنَّ اللّٰہَ فَقِیْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِیَآءُبھی کہا تھا۔ بغوی نے عطیہ عوفی…
Read the full tafseer →(30) یعنی مدینہ منورہ کے یہودی حضرت عزیر ؑ کو خدا کا بیٹا اور نجران کے عیسائی حضرت مسیح ؑ کو خدا کا بیٹا کہتے تھے یہ انکی زبانی باتیں ہیں جو ان سے پہلے لوگوں یعنی کفار مکہ کے مشابہ ہیں۔
کیوں کہ وہ بھی اللہ معاف کرے اس بات کا دعوی کرتے تھے کہ لات، عزی اور منات خدا کی بیٹیاں ہیں اسی طرح یہود حضرت عزیر ؑ کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور نصاری میں سے بعض حضرت مسیح ؑ کو خدا کا بیٹا اور بعض خدا کا شریک اور بعض بعینہ خدا اور بعض تین میں ایک کہتے ہیں خدا ان لوگوں پر اپنی لعنت نازل فرمائے یہ خدا پر جھوٹا الزام لگاتے ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”وقالت الیھود“۔ (الخ)
جناب ابن ابی حاتم ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت…
Read the full tafseer →وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ عُزَيْرُۨ ابْنُ اللّٰهِ : پچھلی آیت میں اہل کتاب کے ساتھ قتال کی چار وجوہ بیان فرمائی تھیں، اب ان میں سے بعض کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ فرمایا کہ یہود نے عزیر ؑ کو اور نصاریٰ نے مسیح ؑ کو اللہ کا بیٹا قرار دیا، جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ۔ اَللّٰهُ الصَّمَدُ۔ لَمْ يَلِدْ ڏ وَلَمْ يُوْلَدْ۔ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ) [ الإخلاص ] ”کہہ دے اللہ ایک ہے، اللہ ہی بےنیاز ہے، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور نہ کبھی کوئی اس کے برابر کا ہے۔“ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کا بیٹا ماننے کی صورت میں اس کی بیوی بھی ماننا پڑے گی اور خاوند، بیوی، باپ،…
Read the full tafseer →وقالت الیھود عزیر ن ابن اللہ وقالت النصری المسیح ابن اللہ ط ذلک قولھم بافواھھم ج یضاھئون قول الذین کفروا من قبل ط قتلھم اللہ ج انی یؤ فکون۔ ” اور کہا یہود نے کہ عزیر اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہے اور کہا نصرانیوں نے کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ ان کی (بےسروپا) بات ہے ان کے مونہوں نے سے نکلی ہوئی ‘ نقل اتار رہے ہیں ان لوگوں کے قول کی جنہوں نے کفر کیا پہلے ‘ ہلاک کرے انہیں اللہ تعالیٰ ‘ کدھر بھٹکے چلے جارہے ہیں “۔
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: عاصم اور کسائی نے عزیر ابن اللہ عزیر کو تنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اس کا معنی ہے کہ اس بنا پر ابن ‘ عزیر مبتدا کی خبر ہے اور عزیر منصرف ہے چاہے عجمی ہو…
Read the full tafseer →1:۔ ابن اسحاق وابن جریر وابن ابی حاتم ابوالشیخ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سلام بن شکم نعمان بن اوفی، ابوانس، شاس بن قیس اور مالک بن صیف آئے۔ اور انہوں نے کہا ہم آپ کی کیسے تابعداری کریں آپ نے ہمارے قبلہ بھی چھوڑ دیا اور آپ عزیر کو اللہ کا بیٹا بھی نہیں مانتے (مزید) انہوں نے کہا کہ وہ اللہ کا بیٹا اس وجہ سے ہے کہ عزیز اہل کتاب میں سے تھے اور تورات ان کے پاس تھی وہ اس سے اپنا علم حاصل کرلیتے جو اللہ تعالیٰ چاہتے کہ وہ جان لیں پھر انہوں نے تورات کو ضائع کردیا اور حق کے خلاف پر عمل کرنے لگے ان میں تابوت بھی تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے تابوت کو اٹھالیا اور ان کو…
Read the full tafseer →وَقَالَتِ [ اور کہا ] الْيَهُوْدُ [ یہود نے کہ ] عُزَيْرُۨ [ عزیر ] ابْنُ اللّٰهِ [ اللہ کے بیٹے ہیں ] وَقَالَتِ [ اور کہا ] النَّصٰرَى [ نصاری نے کہ ] الْمَسِيْحُ [ مسیح ] ابْنُ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے بیٹے ہیں ] ذٰلِكَ [ یہ ] قَوْلُهُمْ [ ان کی بات ] بِاَفْوَاهِهِمْ ۚ [ ان کے مونہوں سے ] يُضَاهِــــُٔـوْنَ [ مشابہت کرتے ہیں ] قَوْلَ الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کی بات سے جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] مِنْ قَبْلُ ۭ [ اس سے پہلے ] قٰتَلَهُمُ [ ہلاک کرے ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] اَنّٰى [ کہاں سے ] يُؤْفَكُوْنَ [ یہ پھیرے جاتے ہیں ]
ض ھ ی : (ف) ضھی ۔ زمین کا بنجر ہونا ۔ (مفاعلہ) مضاھاۃ ۔ کسی کے مشابہ…
Read the full tafseer →یہود و نصاریٰ کی تردید جنہوں نے حضرت عزیر اور حضرت مسیح ( علیہ السلام) کو خدا تعالیٰ کا بیٹا بتایا
پہلی آیت میں اہل کتاب سے قتال کرنے کا حکم دیا اور ارشاد فرمایا کہ ان سے یہاں تک قتال کرو کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔ اس کے بعد یہود و نصاریٰ کا عقیدہ شرکیہ بیان فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ جیسے دوسرے مشرک اپنے شرک میں لگے ہوئے ہیں اسی طرح یہود و نصاریٰ بھی مشرک ہیں۔ جن انبیاء کرام (علیہ السلام) سے اپنا تعلق جوڑتے ہیں انہوں نے توحید کی دعوت دی تھی اور اسی دعوت کو لے کر اللہ پاک کی طرح مبعوث ہوئے تھے بعد میں ان کے ماننے والوں نے (جو ماننے کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں) توحید کو چھوڑ دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
اہل کتاب کے فضائح اور قبائح کا بیان
قال اللہ تعالی۔ وقالت الیھود عزیر ابن اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ لو کرہ المشکرون۔
(ربط): گزشتہ آیات میں مشرکین کے قبائح کا بیان ہوا اب اہل کتاب کے قبائح اور فضائح اور ان کے ععقائد باطلہ اور افعال شرکیہ کو بیان کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ مشرکین کی طرح اہل کتاب بھی دین حق کے مطیع اور فرمانبردار نہیں اور ان کی طرح یہ مستوجب قتل و قتال ہیں اس لیے اب آئندہ آیات میں اہل کتاب کے عقائد باطلہ اور ان کے کفریات قولیہ و فعلیہ اور جہالت عملیہ کی کسی قدرت فصیل کرتے ہیں تاکہ گزشتہ آیت میں جو اہل کتاب کے متعلق لا یؤمنین باللہ ولا بالیوم الاخر اور ولا یدینون دین الحق فرمایا تھا اس…
Read the full tafseer →25: قتال کی وجہ ثالث : ابن اللہ سے یہاں نسبی اور جسمانی بیٹا مراد نہیں بلکہ مراد نائب متصرف ہے۔ “ قال ابن عطیة ویقال ان بعضھم یعتقھا بنوة حنو و رحمة ” (قرطبی ج 8 ص 117) یعنی وہ اللہ کو اس قدر پیارے ہیں کہ اس نے ان کو اختیار دے رکھیں ہیں۔ یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا نائب متصرف اور کارساز سمجھتے ہیں۔ “ يُضَاھِئُونَ ای یُشَابِھُونَ ۔ الَّذينَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ ” سے ان کے آباء و اجداد مراد ہیں جن سے ان کو یہ کفریہ عقیدہ اور قول ورثہ میں ملا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ربطِ آیات :
گذشتہ آیات میں اہل کتاب کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ وہ جزیہ ادا کر کے ذمی بن جائیں۔ اگر وہ اس طرح مسلمانوں کی ماتحتی قبول کرلیں تو ان کو امن حاصل ہوجائے گا اہل کتاب کے ساتھ لڑائی کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ یہ لوگ اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ اشیاء کو حرام نہیں سمجھتے اور دین حق کو قبول نہیں کرتے۔ تو فرمایا یہ لوگ خود اپنے ہاتھوں سے جزیہ ادا کر کے ذلت قبول کریں۔ یہاں پر اشارتا یہ بات نکل آئی کہ ان کا ایمان حقیقت میں نہ اللہ تعالیٰ پر ہے اور نہ قیامت کے دن پر اور نہ ہی یہ دین حق کو قبول کرتے ہیں۔ اب آج کی آیات میں اللہ…
Read the full tafseer →وَقَالَتِ الْيَہُوْدُ عُزَيْرُۨ ابْنُ اللہِ وَقَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِيْحُ ابْنُ اللہِ 0 ۭ ذٰلِكَ قَوْلُہُمْ بِاَفْوَاہِہِمْ 0 ۚ يُضَاہِـــُٔـوْنَ قَوْلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ 0 ۭ قٰتَلَہُمُ اللہُ 0 ۚ ۡاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ 30
هَادَ ( یہودی)
فلان : إذا تحرّى طریقة الْيَهُودِ في الدّين، قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا
[ البقرة/ 62] والاسم العلم قد يتصوّر منه معنی ما يتعاطاه المسمّى به . أي : المنسوب إليه، ثم يشتقّ منه . نحو : قولهم تفرعن فلان، وتطفّل : إذا فعل فعل فرعون في الجور، وفعل طفیل في إتيان الدّعوات من غير استدعاء، وتَهَوَّدَ في مشيه :…
Read the full tafseer →2 ؎ یعنی بےاصل باتیں ہیں۔ 12 منہ
3 ؎ پہلے بت پرست قومیں بھی اپنے دیوتائوں کو ایسا ہی سمجھتی تھیں۔ مصر کے لوگ اور روم کے باشندے اور کنعان کی قومیں سو انہوں نے ان کی پیروی اختیار کی ہے۔ حالانکہ انبیائِ بنی اسرائیل کی معرفت خدائے واحد کی پرستش کا حکم ہوا تھا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَقَالَتِ الْیَھُوْدُ عُزَیْرُنِابْنُ اللّٰہِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰہِ ط ذٰلِکَ قَوْلُھُمْ بَاَفْوَاھِھِمْ ج یُضَاھِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُط قٰـتَلَھُمُ اللّٰہُ ج ز اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ
( التوبۃ : 30)
(اور یہود نے کہا عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ نے کہا مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ سب ان کے اپنے منہ کی باتیں ہیں۔ یہ نقل کررہے ہیں ان لوگوں کی جو ان سے پہلے کافر تھے۔ اللہ ان کو ہلاک کرے، کہاں ان کی عقل الٹی ہوئی جارہی ہے۔ )
سابقہ آیت میں لگائے گئے الزامات کے ثبوت
سابقہ آیت کریمہ میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو چارج شیٹ کیا۔ اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
فہم القرآن
ربط کلام : جہاد فی سبیل اللہ کے مسائل کے دوران دیگر مسائل کا تذکرہ ہوا۔ اب پھر قتال فی سبیل اللہ کا حکم دیا جا رہا ہے۔
اللہ اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں سے پہلی مراد مشرک، دوسرے اہل کتاب اور کفار ہیں۔ کیونکہ مشرک اللہ تعالیٰ پر اس طرح ایمان نہیں رکھتا جس طرح اللہ پر بلا شرکت غیر ایمان لانا فرض ہے اور یہی صورت مشرک کی آخرت کے متعلق ہوتی ہے۔ بظاہر آخرت کو مانتا ہے لیکن وہ آخرت کے دن کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ کو بلا شرکت غیرے حاکم ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا اس کا عقیدہ ہوتا ہے کہ آخرت میں فلاں اور فلاں بزرگ ہمیں چھڑوا لیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی بات ماننے پر مجبور ہوگا۔ اس حوالے…
Read the full tafseer →یہود و نصاریٰ پہلے کفار کی طرح ہیں :
آیت 30: وَقَالَتِ الْیَھُوْدُ (اور یہود نے کہا) تمام یا بعض نے عُزَیْرُ ڑابْنُ اللّٰہِ (کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے) یہ مبتداء اور خبر ہے۔ جیسا کہ المسیح ابن اللہ کی ترکیب ہے۔ عزیر، یہ عجمی نام ہے غیر منصرف ہے علم و عجمیت کی وجہ سے ہے جنہوں نے اس کو منصرف مانا انہوں نے تنوین سے پڑھا وہ عاصم، علی ہیں۔ وَقَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰہِ ذٰلِکَ قَوْلُھُمْ بِاَفْوَاھِھِمْ (اور نصاریٰ نے کہا کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں یہ ان کا قول ہے۔ ان کے منہ سے کہنے کا) یہ ایسا قول ہے جس کی معاون کوئی دلیل صحیح موجود نہیں ہے۔ اور نہ کسی کا بیان اس کی سند میں پیش کیا…
Read the full tafseer →تفسیر 31۔” وقالت الیھود عزیز ابن اللہ وقالت النصری المسیح ابن اللہ “ سعید بن جبیرؓ اور عکرمہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس یہود کی ایک جماعت آئی جن میں سلام بنھ مشکم اور نعمان بن اوفی ٰ ، شاس بن قیس اور مالک بن قیس تھے تو یہ کہنے لگے ہم آپ (علیہ السلام) کی اتباع کیسے کریں حالانکہ آپ عزیز (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا نہیں سمجھتے تو یہ آیت نازل ہوئی ۔ عبید بن عمیر (رح) فرماتے ہیں کہ یہ بات یہود کے صرف ایک شخص فنحاص بن عاز وراء نے کہی تھی یہ وہی شخص ہے جس نے کہا تھا ” ان اللہ فقیر و نحن اغنیائ “ عطیہ عوفی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ یہود نے…
Read the full tafseer →30۔ تفسیر سدی اور تفسیر کلبی میں ہے کہ جب بنی اسرائیل پر بخت نصر بابلی کا غلبہ ہوا اور اس لڑائی میں علماء بنی اسرائیل کچھ قتل ہوئے اور کچھ قید کر لئے گئے صرف حضرت عزیز ؓ باقی رہ گئے ان کی عمر کچھ زیادہ نہ تھی اس لئے ان کو کسی نے نہ مارا نہ قید کیا علماء بنی اسرائیل کا یہ حال دیکھ کر عزیر (علیہ السلام) رونے اور یہ کہنے لگے کہ افسوس بنی اسرائیل میں کوئی عالم باقی نہ رہا اب علم جاتا رہے گا اور اس قدر روئے کہ ان کی پلکیں گر گئیں ایک روز ان کا گزر عیدگاہ پر ہوا وہاں ایک عورت قبر پر ایک قبر کے پاس رو رو کر یہ کہہ رہی تھی کہ اے میرے کھانا کھلانے والے اے میرے کمائی کرنے والے حضرت عزیر ( علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
آیت 30
جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے ساتھ قتال کا حکم دیا تو ان کے ان خبیث اقوال کا ذکر کیا، جو اہل ایمان کو، جن کے اندر اپنے دین اور اپنے رب کے بارے میں غیرت ہوتی ہے، ان کے ساتھ جنگ کرنے، ان کے خلاف جدوجہد کرنے اور اس میں پوری کوشش صرف کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا (وقالت الیھود عزیز ابن اللہ) ” یہود نے کہا، عزیز اللہ کے بیٹے ہیں “ ان کا یہ قول ان کے تمام عوام کا قول نہ تھا بلکہ ان میں سے ایک فرقے کا قول تھا۔ البتہ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہودیوں کی سرشت میں خباثت اور شر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا جس نے ان کو یہاں تک پہنچا دیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →یہودو نصاریٰ میں سے بعض نے کہا ” ابن اللہ “ سب نے نہیں کہا
قول باری ہے (وقالت الیھود عزیز ابن اللہ وقالت النصاری المسیح ابن اللہ۔ یہودی کہتے ہیں کہ عزیز اللہ کا بیٹا ہے اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے) ایک قول ہے کہ اس سے مراد یہودیوں کا ایک فرقہ ہے جس نے یہ بات کہی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی صداقت کی یہ دلیل ہے کہ حضور ﷺ کے زمانے میں یہودیوں نے یہ بات سن کر اس کی تردید نہیں کی تھی۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص یہ کہے ” خوارج استعراض یعنی دریافت حال کے بغیر قتل کردینے پر بچوں کو مار ڈالنے کو جائز سمجھتے ہیں “ اس قول سے یہ مراد لیا جائے گا کہ خوارج کے ایک گروہ کے نزدیک یہ بات…
Read the full tafseer →67 یہود کے ایک شرک کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہود نے کہا کہ عزیز اللہ کے بیٹے ہیں۔ سو یہ اس کفر و شرک کا ایک اور ثبوت ہے جس کی بناء پر ان لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے کہ اللہ پاک کی صفت تو { لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ } ہے کہ " نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ خود کسی کی اولاد " ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کی کوئی اولاد کیونکر ہوسکتی ہے جب کہ اس کی کوئی بیوی ہی نہیں { اَنّٰی یَکُوْنُ لَہٗ وَلَدٌ وَلَمْ تَکُنْ لِّہُ صَاحِبۃ } مگر ان ظالموں نے اپنے ایمان اور اہل کتاب ہونے کے دعو وں کے باوجود اس سنگین کفر و شرک کا ارتکاب کیا کہ انہوں نے اللہ کی اولاد ٹھہرائی۔ اس لئے تم اے مسلمانو ! لڑو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
یہود و نصارٰی کی گمراہی کی وجہ اور زکوٰۃ نہ دینے والوں کی سزا
تشریح : ان آیات میں یہود و نصارٰی کے بارے میں بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہود اہل کتاب ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کے پیرو ہیں۔ لیکن یہ قوم بڑی ضدی، نااہل اور نافرن ثابت ہوئی یہاں تک کہ اپنے نبیوں کو بھی قتل کردیا کرتے تھے تو ایسے لوگ اپنی آسمانی کتاب پر کیا عمل کرسکتے تھے بلکہ انہوں نے اس کو بالکل تبدیل کردیا۔ ان کے راہب اور علماء بڑے بڑے امیر لوگوں سے کچھ رقم لیکر ان کی مرضی کے مطابق کتاب سے غلط فتوے بنا دیا کرتے تھے۔ پھر لوگوں سے بڑی بڑی رقمیں لیکر لوگوں کو گمراہ کرنے پر لگے رہتے اور پھر کفر میں اس قدر بڑھ گئے کہ کیتھولک فرقہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–37
اسرار و معارف
چونکہ ایمان باللہ بھی وہی قابل قبول ہے جو ان اوصاف کے ساتھ ہو جو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمائی ہیں ۔ ان سے ہٹ کر اگر کسی نے اللہ کو مانا بھی تو وہ نہ ماننے کے برابر ہے جیسے اہل کتاب کہ اللہ پر اور آخرت پر ایمان تو رکھتے تھے مگر ظالموں نے اللہ کے لئے اولاد تجویز کردی یہود نے کہا حضرت عزیز (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے تھے اسی طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دے دیا اور بغیر کسی دلیل کے محض اپنی رائے سے گپ ہان کی ہے اللہ انھیں تباہ کرے کیسی غلط بات پر جم گئے ہیں ۔ اور یوں اپنے طور پر تو اللہ کا کوئی نہ کوئی تصور ہر قوم کے پاس ہے مگر یہ کوئی ماننا نہ ہوا۔…
Read the full tafseer →ف 8 اوپر کی آیت میں دعویٰ کیا تھا کہ یہود و نصاری اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے اس آیت میں اسی کی تشریح ہے۔ اس وقت یہود کے بعض فرقے عزیر کا اللہ تعالیٰ بیٹا مانتے تھے مگر موجود زمانے کے یہودی اس سے انکار کرتے ہیں۔9 یعی عقل و نقل سے اس کو کوئی دلیل پیش نہیں کی جاسکتی۔10 یعنی اہل کتاب ہو کر بھی مشرکوں کی ریس کرنے لگے (موضح) اور پہلی مشرک اور کافر قوموں کی طرح یہ بھی گمراہ ہوگئے۔
Read the full tafseer →(9:30) یضاھئون۔ مضاھاۃ (مفاعلۃ) وہ مشابہت پیدا کر رہے ہیں۔ وہ نقل اتار رہے ہیں۔ ایسی باتیں کر رہے ہیں جیسے قول الذین کفروا۔ ضھی۔ مثل، مانند، شبیہ، ضھی۔ مصدر (ناقص یائی (باب سمع) عورت کا مرد کی طرح ہوجانا کہ نہ حیض ہو ۔ نہ حمل نہ پستان۔ ضھیائ۔ مرد نما عورت ۔ مضاھات مشابہت۔ ضھی مادہ ۔ بعض کے نزدیک یہ مہموز اللام (ضھائ) اور اس کی قرأت یضاھئون ہے ناقص یائی کی صورت میں قرأت یضاھون ہوگی۔
قاتلہم اللہ۔ بددعا کا کلمہ ہے : خدا ان کو غارت کرے۔ یا ان کے قول کی ” عزیر اللہ کا بیٹا ہے “ اور یہ کہ ” مسیح اللہ کا بیٹا ہے “ کی قباحت کر کلمہ تعجب ہے۔
انی یؤفکون۔ انی بمعنی کیف۔ کہاں ۔ کیسے۔ کیونکر۔ کتنے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
لغات القرآن آیت نمبر 29 تا 31
قاتلوا (جہاد کرو، قتال کرو) لایحرمون (حرام نہیں کرتے ہیں) لایدیون (چلتے نہیں ہیں) حتی یعطوا (جب تک وہ نہ دیں) الجزیہ (جزیہ، خراج جو اسلامی حکومت میں کافروں سے لیا جاتا ہے) عن ید (ہاتھ سے) فاغرون (ماتحت ہو کر رہنے والے) یضاھتون (وہ دوسروں کی نقل کرتے ہیں، برابر کرتے ہیں) قتلھم اللہ (اللہ کو غارت کر دے) انی یوفکون (یہ کہاں الٹے پھرے جا رہے ہیں) احبار (حبر) ، عالم ) رھبان (راھب) ، درویش ارباب (رب) ، پروردگار) ما امروا (حکم نہیں دیا گیا ) سبحان (پاک ذات، بےعیب ذات)
تشریح : آیت نمبر 29 تا 31
اس سورت میں اب تک قتال کے جو بھی احکامات آئے ہیں ان کا تعلق مشرکین سے ہے۔…
Read the full tafseer →یہود ونصاریٰ کو بد دعا
مطلب یہ ہے کہ نصاریٰ ، اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہنے لگے، جس طرح ان سے یہود نے عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہا تھا۔ بہر حال خدا تعالیٰ نے خفگی سے یہ فرمایا کہ خدا انہیں غارت کرے۔ یہ کیونکر ایسی باتیں کہتے ہیں اور کس طرح راہ حق سے بھٹکتے پھرتے ہیں۔ آسمانی کتابوں میں بہت سی دلیلیں اللہ کی وحدانیت کی ان کے پیش نظر ہیں۔ اور بہت سی حجتیں اس بات پر قائم ہوچکیں کہ خدا اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، نہ اس کی بی بی ہے نہ اس کا بیٹا۔ یہ باتیں مخلوق کے ساتھ مخصوص ہیں خالق جل شانہ ان باتوں سے بالکل پاک ہے۔
Read the full tafseer →[16] عزیر (یا عزرا) یہود کے مجدد۔ بخت نصر (متوفی 561 ق، م) کے حملے کے بعد جب تورات کے نسخے یہود کے پاس سے بالکل غائب ہوگئے تو انہیں عزیر یا عزرا نے تورات کو ازسر نَو اپنی یاد داشت سے لکھا۔
Read the full tafseer →(ف 1) یہود مدینہ کا عقیدہ تھا کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) خدا کے بیٹے ہیں ، موجودہ یہودی اس بات کے قائل نہیں ، نصرانی اب تک مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں ۔
قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ یہ بت پرستانہ عقیدہ اللہ کے دین پر افتراء ہے عیسائیوں نے اسے کفار کی تقلید میں گھڑ لیا ہے ۔
Read the full tafseer →30 اور یہود کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عزیر (علیہ السلام) خدا کا بیٹا ہے اور نصاریٰ عام طور سے کہتے ہیں کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) خدا کا بیٹا ہے یہ باتیں ان کے منہ کی ہیں یہ بھی ان لوگوں کی سی باتیں کرتے ہیں جوان سے پہلے کافر کہا کرتے تھے اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کرے یہ کدھر پھرے جارہے ہیں۔ کفار مکہ کہا کرتے تھے فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں یہودو نصاریٰ کا قول بھی انہی کافروں کے مشابہ ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اہل کتاب ہوکر مشرکوں کی ریس کرنے لگے۔
Read the full tafseer →ف 2۔ جس کا واقع میں کہیں نام ونشان نہیں۔
3۔ مراد مشرکین عرب میں جو ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔
Read the full tafseer →یہود نے عزیز (علیہ السلام) اور نصاریٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیا جو سراسر کفر ہے :
44 : عزیر وہی ہیں جن کو تورات کی زبان میں عزراء کہا گیا ہے جو یہود میں ایک بہت ؓ بڑے نبی گزرے ہیں ان کی عظمت علمائے طالمود نے بڑی وضاحت سے بیان کی ہے اور ان کو موسیٰ (علیہ السلام) کے پایہ کا نبی قرار دیا ہے اور یہاں تک کہا ہے کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) پر رسالت نہ آئی ہوتی تو عزیر (علیہ السلام) یقیناً رسول ہوتے۔ یہود کے عزیر (علیہ السلام) کو ابن اللہ ماننے کا ذکر ضرور کیا ہے لیکن یہود نے اس کی سند نہیں مانگی کہ تم عزیر کو کس طرح اللہ کا بیٹا مانتے اور تسلیم کرتے ہو لیکن اس کے برعکس نصاریٰ…
Read the full tafseer →In the second verse (30), the subject taken up briefly in verse 29 (where it was said that these people do not believe in Allah) has been enlarged. In the second verse, it has been said that the Jews take Sayyidna ` Uzayr (علیہ السلام) to be the Son of God.l So do the Christians. They say that Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) is the Son of God. Therefore, their claim that Allah is One and that they have faith turns out to be false.
1. This is not the belief of all the Jews; it was the belief of some Jews of the Arabia. Now, the Dead Sea Scrolls have also proved the fact that some Jewish sects…
Read the full tafseer →