Explained with ayahs 28–29
مشرکین کو حدود حرم سے نکال دو
اللہ تعالیٰ احکم الحاکمین اپنے پاک دین والے پاکیزگی اور طہارت والے مسلمان بندوں کو حکم فرماتا ہے کہ وہ دین کی رو سے نجس مشرکوں کو بیت اللہ شریف کے پاس نہ آنے دیں یہ آیت سنہ 9 ہجری میں نازل ہوئی اسی سال آنحضرت رسول مقبول ﷺ حضرت علی ؓ کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ بھیجا اور حکم دیا کہ مجمع حج میں اعلان کردو کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہ آئے اور کوئی ننگا شخص بیت اللہ شریف کا طواف نہ کرے اس شرعی حکم کو اللہ تعالیٰ قادر وقیوم نے یوں ہی پورا کیا کہ نہ وہاں مشرکوں کو داخلہ نصیب ہوا نہ کسی نے اس کے بعد عریانی کی حالت میں اللہ کے گھر کا طواف کیا۔ حضرت جابر بن…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 26
”اگرچہ اہل کتاب خدا اور آخرت پر ایمان رکھنے کے مدعی ہیں لیکن فی الواقع نہ وہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں نہ آخرت پر۔ خدا پر ایمان رکھنے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ آدمی بس اس بات کو مان لے کہ خدا ہے، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ آدمی خدا کو الٰہ واحد اور رب واحد تسلیم کرے اور اس کی ذات، اس کی صفات، اس کے حقوق اور اس کے اختیارات میں نہ خود شریک بنے نہ کسی کو شریک ٹھہرائے۔ لیکن نصاریٰ اور یہود دونوں اس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں، جیسا کہ بعد والی آیات میں بتصریح بیان کیا گیا ہے۔ اس لیے ان کا خدا کو ماننا بےمعنی ہے اور اسے ہرگز ایمان باللہ نہیں کہا جاسکتا۔ اسی طرح آخرت کو ماننے کے معنی صرف یہی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اہل کتاب جو کہ نہ خدا پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں اور نہ قیامت کے دن پر (پورا ایمان رکھتے ہیں) اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے اور اس کے رسول (محمد ﷺ نے حرام بتلایا ہے اور نہ سچے دین (اسلام) کو قبول کرتے ہیں ان سے یہاں تک لڑو کہ وہ ماتحت ہو کر اور رعیت بن کر جزیہ دینا منظور کریں، اور یہود (میں سے بعض) نے کہا کہ (نعوذ باللہ) عزیر ؑ خدا کے بیٹے ہیں اور نصاری (میں سے اکثر) نے کہا کہ میسح ؑ خدا کے بیٹے ہیں، یہ ان کا قول ہے ان کے منہ سے کہنے کا (جس کا واقع میں کہیں نام و نشان نہیں) یہ بھی ان لوگوں کی سی باتیں کرنے لگے جو ان سے پہلے کافر ہوچکے ہیں (مراد مشرکین…
Read the full tafseer →آیات 29 تا 35: آگے اہل کتاب۔ یہود و نصاری۔ سے جہاد کا حکم دیا ہے اور اوپر جس طرح مشرکین کے باب میں ایک واضح اور قطعی پالیسی سامنے رکھ دی ہے اسی طرح ان کے باب میں بھی ایک واضح اور قطعی پالیسی کا اعلان کردیا ہے کہ اب یہ اسلامی حکومت میں رہنا چاہتے ہیں تو صرف ذمی بن کر رہ سکتے ہیں۔ ان کے نقض عہد اور ان کی سازشوں کی تفصیل انفال میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی ان کے عقائد اور ان کے کردار کے ان پہلوؤں کی طرف بعض اشارات فرما دیے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ ایک مذہبی گروہ کی حیثیت سے اب ان کا وجود نہ صرف ایک ناکارہ وجود ہے بلکہ یہ سزاوار ہیں کہ اپنی کرتوتوں کی سزا بھگتیں۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
اہل کتاب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
29۔ 1 مشرکین سے قتال عام کے حکم کے بعد اس آیت میں یہود و نصاریٰ سے قتال کا حکم دیا جا رہا ہے (اگر وہ اسلام نہ قبول کریں) یا پھر وہ جزیہ دے کر مسلمانوں کی ماتحتی میں رہنا قبول کرلیں جزیہ ایک متعین رقم ہے جو سالانہ ایسے غیر مسلموں سے لی جاتی ہے جو کسی اسلامی مملکت میں رہائش پذیر ہوں اس کے بدلے میں ان کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمے داری اسلامی مملکت کی ہوتی ہے۔ یہود و نصاریٰ باوجود اس بات کے وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے تھے، ان کی بابت کہا گیا کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے، اس سے واضح کردیا گیا کہ انسان جب تک اللہ پر اس طرح ایمان نہ رکھے جس طرح اللہ نے اپنے…
Read the full tafseer →25: اس سے اوپر کی اٹھائیس آیات عرب کے بت پرستوں کے بارے میں تھیں۔ اور یہاں سے وہ آیات شروع ہورہی ہیں جو غزوہ تبوک کے بارے میں نازل ہوئی ہیں (الدر المثور بحوالہ مجاہد ج :4 ص : 153) اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیتیں اوپر کی اٹھائیس آیتوں سے پہلے نازل ہوئی تھیں۔ کیونکہ غزوہ تبوک اعلان براءت سے پہلے پیش آیا ہے اور اس کا واقعہ انشاء اللہ آگے قدرے تفصیل کے ساتھ آئے گا۔ چونکہ یہ غزوہ روم کی سلطنت کے ماتحت زندگی گزار رہی تھی۔ اور دونوں کو قرآن کریم نے اہل کتاب کا نام دیا ہے، اس لیے ان سے جنگ کرنے کا حکم دینے کے ساتھ ان کے عقائد اور اعمال کی کچھ خرابیاں ان آیات میں بیان فرمائی گئی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل…
Read the full tafseer →درس نمبر 88 ایک نظر میں
اس سورت کا یہ دوسرا سبق ہے۔ اس دوسرے حصے میں اسلامی مملکت اور اہل کتاب کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کی آخری شکل بتائی گئی ہے۔ جیسا کہ پہلے حصے میں اسلامی مملکت اور جزیرۃ العرب کے مشرکین کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کی آخری نوعیت کی حد بندی کی گئی تھی۔
پہلے حصے کی آیت کا تعلق جزیرۃ العرب کے مشرکین کے ساتھ تھا اور ان آیات میں ان صفات کا ذکر تھا جو مشرکین میں پائی جاتی تھیں۔ وہ واقعات اور حادثات جو عملاً اس وقت جزیرۃ العرب میں واقع ہوئے تھے پہلے سبق کے موضوع بحث تھے اور یہ آیات ان پر براہ راست منطبق تھیں جبکہ اس حصے کی آیات کا تعلق عموماً اہل کتاب کے ساتھ ہے۔ اور اس حصے…
Read the full tafseer →3 جب مشرکین کا قصہ پاک ہوگیا اور ملکی سطح ذرا ہموار ہوئی تو حکم ہوا کہ " اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) کی قوت و شوکت کو توڑو۔ مشرکین کے وجود سے تو بالکل عرب کو پاک کردینا مقصود تھا لیکن یہود و نصاریٰ کے متعلق اس وقت صرف اسی قدر مطمح نظر تھا کہ وہ اسلام کے مقابلہ میں زور نہ پکڑیں اور اس کی اشاعت و ترقی کے راستہ میں حائل نہ ہوں۔ اس لیے اجازت دی گئی کہ اگر یہ لوگ ماتحت رعیت بن کر جزیہ دینا منظور کریں تو کچھ مضائقہ نہیں، قبول کرلو، پھر حکومت اسلامیہ ان کے جان و مال کی محافظ ہوگی، ورنہ ان کا اعلان بھی وہ ہی ہے جو مشرکین کا تھا (یعنی مجاہدانہ قتال) کیونکہ یہ بھی اللہ اور یوم آخرت پر جیسا چاہیے ایمان…
Read the full tafseer →آیت 29 قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَلا بالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلاَ یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلاَ یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّہُمْ صٰغِرُوْنَ
اس آیت میں بھی دین کا بہت اہم فلسفہ بیان ہوا ہے۔ اس حکم میں مشرکین عرب اور نسل انسانی کے باقی لوگوں کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ سورة التوبہ کی آیت 5 کی رو سے مشرکین عرب کو جو مہلت یا امان دی گئی تھی اس مدت کے گزرنے کے بعد ان کے لیے تو کوئی اور راستہ option اس کے علاوہ نہیں تھا کہ یا وہ ایمان لے آئیں یا انہیں قتل کردیا جائے گا ‘ یا وہ…
Read the full tafseer →27 اللہ اور آخرت پر ایمان کا صحیح مفہوم :۔ یہ خطاب اہل کتاب سے ہے حالانکہ وہ اللہ پر بھی اور آخرت پر بھی ایمان رکھنے کے مدعی تھے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ پر ایمان لانے کا حق ہے ویسے وہ ایمان نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے اللہ کے شریک بھی بنائے۔ خود باتیں گھڑ کر اللہ کے نام منسوب کیں۔ اللہ کی آیات کو چھپایا، انہیں بیچا، ان میں تحریف و تاویل کی۔ اگر وہ فی الواقع اللہ اور اس کی صفات پر ایمان لانے والے ہوتے تو یہ کام کبھی نہ کرتے۔ اسی طرح ان کا آخرت پر ایمان اس طرح کا تھا کہ بس ہم ہی جنت میں جائیں گے باقی سب دوزخ میں جائیں گے اس لیے کہ ہم اللہ کے چہیتے اور پیغمبروں کی اولاد ہیں اور اگر…
Read the full tafseer →49 ۔ یعنی ان سے جنگ و قتال اس وقت تک واجب ہے جب تک وہ ہتھیار رکھ کر، امن طلب کرکے جزیہ دینے پر مجبور نہ ہوجائیں۔ (آیت) ” لایؤمنون “۔ الخ۔ یعنی ان تعلیمات پر حسب تعلیم اسلام پورا پورا ایمان نہیں رکھتے، آیت کے عموم میں جملہ اہل کفر آجاتے ہیں قتال ان سب سے واجب ہے۔ اہل کتاب کا تصریحی ذکر صرف ان کے شرف مرتبہ اور ان کی امتیازی خصوصیات کی بنا پر ہے۔ امر سبحانہ وتعالیٰ بمقاتلۃ جمیع الکفار لاتصافھم علی ھذا الوصف وخص اھل الکتاب بالذکر اکراما لکتابھم ولکونھم عالمین بالتوحید والرسل والشرائع والملل (قرطبی) (آیت) ” الذین اوتوا الکتب “۔ یہ تصریح تو اہل کتاب کی ہے، لیکن جو صفات ان کی بیان ہوئی ہیں وہ ان سے…
Read the full tafseer →قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لاَ یُؤمِنُوْنَ باِ اللہ وَلاَ باِ الْیُوْمِ الْاٰخِرِ ، مشرکین سے قتال عام کے حکم کے بعد اس آیت میں یہود و نصاری سے قتال کا حکم دیا جا رہا ہے (اگر وہ اسلام قبول نہ کریں) یا پھر وہ جزیہ دینا قبول کر کے مسلمانوں کی بالادستی قبول کرلیں، جزیہ ایک متعین رقم ہے جو سالانہ ایسے غیر مسلموں سے لی جاتی ہے جو کسی اسلامی مملکت میں رہائش پذیر ہوں، اسلئے بدلے انکے جان ومال، اور عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ اری اسلامی مملکت کی ہوتی ہے۔
جزیہ کی غایت اسلام نہیں : قتال و جہاد کی غایت یہ نہیں ہے کہ وہ ایمان لے آئیں اور دین حق کے پیرو بن جائیں بلکہ اس کی غایت یہ ہے کہ اسلام کی بالادستی قبول…
Read the full tafseer →قاتلوا الذین لا یؤمنون باللہ ولا بالیوم الاخر ولایحرمون ما حرم اللہ ورسولہ ولا یدینون دین الحق من الدین اوتو الکتب حتی یعطوا الجزیق عن یدوھم صاغرون۔ جو اہل کتاب نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ روز آخرت پر اور نہ اس چیز کو حرام قرار دیتے ہیں جس کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کردیا ہے اور نہ دین حق اختیار کرتے ہیں ‘ ان سے اس وقت تک لڑو کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھوں سے جزیہ پیش کریں۔ مجاہد نے کہا : جب رسول اللہ ﷺ کو رومیوں سے جہاد کرنے کا حکم دے دیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اس کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ غزوۂ تبوک پر تشریف لے گئے۔
ایک شبہ : اہل کتاب تو اللہ کو بھی مانتے ہیں اور روز آخرت کو بھی ‘ ان…
Read the full tafseer →(29) اور جو جنت کی نعمتوں پر بھی ایمان نہیں رکھتے اور توریت میں جن چیزوں کو حرام کردیا گیا ہے ان کو حرام نہیں سمجھتے اور نہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کی توحید کے قائل ہو کر جھکتے ہیں اب اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں، وہ یہود و نصاری ہیں ان لوگوں سے اس وقت تک جہاد کرو جب تک کہ وہ ماتحت اور رعیت بن کر جزیہ دینا منظور نہ کرلیں۔
Read the full tafseer →قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ : مشرکین عرب سے قتال (لڑائی) کا حکم دینے کے بعد اب اہل کتاب سے قتال کا حکم دیا جا رہا ہے اور اس کی چار وجہیں بیان فرمائی ہیں : 1 ان کا اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں ہے۔ رہا ان کا اللہ تعالیٰ پر ایمان کا دعویٰ تو وہ درست نہیں، کیونکہ وہ اس کے مطابق نہیں جو رسول اللہ ﷺ اور تمام رسولوں نے بتایا، بلکہ وہ اللہ پر ایمان کے بجائے اللہ تعالیٰ کی توہین والا عقیدہ رکھتے ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں فرمایا : (وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ عُزَيْرُۨ ابْنُ اللّٰهِ وَقَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِيْحُ ابْنُ اللّٰهِ) [ التوبۃ : 30 ] ”اور یہودیوں نے کہا عزیر اللہ کا…
Read the full tafseer →اس میں پندرہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : قاتلو الذین لا یومنون باللہ ولا بالیومر الاخر جب اللہ تعالیٰ نے کفار پر مسجد حرام کے قریب آنا حرام قرار دیا، تو مسلمانوں نے اپنے دلوں میں اس تجار کے بارے خوف سا محسوس کیا جو ان سے ختم کردی گئی (کیونکہ) مشرکین سے اپنائے ہوئے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : وان خفتم عیلۃ، الآیہ، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ پھر اس آیت میں جزیہ کو حلال قرار دیا اور یہ اس سے پہلے نہیں لیا جاتا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کا عوض بنا دیا جو انہیں مشرکین کے ساتھ تجارت میں شریک ہونے سے منع کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : قاتلو الذین لا یومنوں باللہ والا…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوہریرہ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت) اس سال میں اتاری جس میں ابوبکر ؓ نے مشرکین کے ساتھ عہد توڑنے کا اعلان کیا۔ یعنی (آیت) یایھا الذین امنوا انما المشرکون نجس “ (اور) مشرکین تجارت کا مال لے کر آتے تھے جس سے مسلمان بھی نفع اٹھاتے تھے جب اللہ تعالیٰ نے مشرکین مسجد حرام کے قریب آنے کو حرام کو دیا تو مسلمانوں کے دلوں میں یہ خیال آیا کہ ان کی وہ تجارت ختم ہوجائے گی جس کا لین دین مشرک کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) ” وان خفتم عیلۃ فسوف یغنیکم اللہ من فضلہ ان شآء “ اس لئے آیت میں جو اس کے پیچھے آرہی ہے (کافروں سے) جزیہ (لینے کا حکم فرمایا) اس سے پہلے…
Read the full tafseer →قَاتِلُوا [ تم لوگ جنگ کرو ] الَّذِيْنَ [ ان سے جو ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان نہیں لاتے ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ [ اور نہ ہی آخری دن پر ] وَلَا يُحَرِّمُوْنَ [ اور نہ ہی وہ حرام ٹھہراتے ہیں ] مَا [ اسے جس کو ] حَرَّمَ [ حرام کیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] وَرَسُوْلُهٗ [ اور اس کے رسول نے ] وَلَا يَدِيْنُوْنَ [ اور نہ ہی وہ ضابطہ حیات بناتے ہیں ] دِيْنَ الْحَقِّ [ حق کے ضابطہ کو ] مِنَ الَّذِيْنَ [ ان لوگوں میں سے ] اُوْتُوا [ جن کو دی گئی ] الْكِتٰبَ [ کتاب ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] يُعْطُوا [ وہ دے دیں ] الْجِزْيَةَ [ جزیہ ] عَنْ يَّدٍ [ ہاتھ سے ] وَّ [ اس حال میں کہ ]…
Read the full tafseer →اہل کتاب سے قتال کرنے کا حکم
سابقہ آیات میں مشرکین سے جہاد کرنے کا حکم تھا۔ اس آیت میں اہل کتاب سے قتال کرنے کا حکم ہے۔ اسلام کا قانون ہے کہ کافروں سے جب جہاد کیا جائے تو اول ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جائے اگر انہوں نے اسلام قبول کرلیا تو آگے کوئی جنگ نہیں۔ اب وہ اپنے ہوگئے ان سے جنگ کرنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔ اب تو انہیں دین سکھائیں گے۔ اسلام کے احکام بتائیں گے اور نئے پرانے مسلمان سب اتحاد و اتفاق کے ساتھ اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ کر چلیں گے۔ اگر کافر اسلام قبول نہ کریں تو ان سے کہا جائے گا کہ تم جزیہ دو یعنی ملک ہمارا ہوگا تم اس ملک میں رہو اور تمہاری جانوں کی ہم حفاظت کریں گے۔ اس…
Read the full tafseer →حکم جہاد و قتال با اہل کتاب
قال اللہ تعالی۔۔ قاتلوا الذین لا یؤمنون باللہ ولا بالیوم الاخر۔۔۔ الی۔۔۔ وھم صاغرون۔۔۔
(ربط) : گزشتہ رکوعات وآیات میں براءت اور فتح مکہ وحنین کا ذکر تھا جن میں یہ حکم تھا کہ مشرکین سے لڑو اور ان کو ملک سے باہر نکال دو اور جزیرۃ العرب کو مشرکین کے وجود سے بالکل پاک کردو۔ تاکہ جزیرۃ العرب میں سوائے مسلمان کے کوئی باقی نہ رہے جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جزیرۃ العرب میں دو دین جمع نہیں ہوسکتے خلاصہ یہ کہ گزشتہ رکوعات اور آیات میں مشرکین سے جہاد وقاتل کا بیان تھا اب ان آیات میں اہل کتاب (یہود ونصاری) سے جہاد و قتال کا حکم ہے کہ یہ بھی دین حق…
Read the full tafseer →24: سورة انفال و توبہ کا دعوی علی سبیل التفصیل یہاں قتال کرنے کا حکم فرمایا اور تفصیل سے یہ بھی بتا دیا کہ کن لوگوں سے جہاد کرنا ہے اور ان سے جہاد و قتال کی وجوہ کیا ہیں۔
وجوہ قتال : وجہ اول :“ لَا یُؤمِنُوْنَ بِاللّٰهِ ” وہ اللہ کی توحید پر ایمان نہیں لاتے اور غیر اللہ کو متصرف و کارساز سمجھتے ہیں۔ ان کی خاطر خود ساختہ تحری میں کرتے اور ان کی خوشنودی کے لیے نذریں نیازیں دیتے ہیں۔ وجہ ثانی :“ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ ” اللہ تعالیٰ کے محرمات کو حرام نہیں سمجھتے اور اس کی تحریمات کو قائم نہیں رکھتے۔ مثلاً غیر اللہ کی نذریں نیازیں کھاتے ہیں۔
Read the full tafseer →ربطِ آیات :
کذشتہ دروس میں مشرکوں کے ساتھ جہاد کا ذکر تھا ، ان کا کام تو تمام ہوگیا۔ عرب کا خطہ تو حضور ﷺ کے زمانہ مبارک میں ہی شرک اور کفر سے پاک ہوگیا تھا۔
مشرکین کی اکثریت نے اسلام قبول کرلیا اور جو باقی رہ گئے ان میں مقابلے کی سکت نہ تھی فتح مکہ کے بعد قبیلہ ثقیف ، ہوازن اور بنی بکر والے جو حنین کے مقام پر مسلمانوں کے بالمقابل آئے تھے ، وہ سب آخر میں مسلمان ہوگئے۔ البتہ جعلی نبوت کا مسئلہ ابھی باقی تھا۔ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کا فتنہ سر اٹھا رہا تھا اور دوسری اسود عنسی کی جماعت اسلام کے متوازی پروگرام جاری کرنا چاہتی تھی ان کا قلع قمع بھی ہوگیا۔ اب یہود ونصاریٰ باقی رہ گئے جو عرب کے مختلف…
Read the full tafseer →قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَۃَ عَنْ يَّدٍ وَّہُمْ صٰغِرُوْنَ 29 ۧ
قتل
أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144]
( ق ت ل ) القتل
( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا…
Read the full tafseer →1 ؎ جزیہ دینا ہی ان کی ذلت ہے جیسا کہ امام شافعی فرماتے ہیں نہ کہ اور زیادہ اہانت۔ 12 منہ
Read the full tafseer →قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلَابِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَایُحَرِّمُوْنَ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْکِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوْالْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّھُمْ صٰغِرُوْنَ ع ( التوبۃ : 29)
(لڑو ان اہل کتاب سے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ روز آخرت پر اور نہ حرام ٹھہراتے ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے اور نہ دین حق کو دین بناتے ہیں تاآنکہ وہ مغلوب ہو کر جزیہ ادا کریں اور ماتحت بن کر زندگی بسر کرنے پر راضی ہوں۔ )
اہلِ کتاب کے بارے میں پالیسی کا اعلان
گزشتہ آیت کریمہ تک اللہ تعالیٰ نے مشرکین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
فہم القرآن
ربط کلام : جہاد فی سبیل اللہ کے مسائل کے دوران دیگر مسائل کا تذکرہ ہوا۔ اب پھر قتال فی سبیل اللہ کا حکم دیا جا رہا ہے۔
اللہ اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں سے پہلی مراد مشرک، دوسرے اہل کتاب اور کفار ہیں۔ کیونکہ مشرک اللہ تعالیٰ پر اس طرح ایمان نہیں رکھتا جس طرح اللہ پر بلا شرکت غیر ایمان لانا فرض ہے اور یہی صورت مشرک کی آخرت کے متعلق ہوتی ہے۔ بظاہر آخرت کو مانتا ہے لیکن وہ آخرت کے دن کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ کو بلا شرکت غیرے حاکم ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا اس کا عقیدہ ہوتا ہے کہ آخرت میں فلاں اور فلاں بزرگ ہمیں چھڑوا لیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی بات ماننے پر مجبور ہوگا۔ اس حوالے…
Read the full tafseer →اہل کتاب اور دیگر کفار سے حکم قتال :
آیت 29: یہ اہل کتاب کے متعلق اتری۔ قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ (تم ان لوگوں سے لڑو جو نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں) کیونکہ یہ یہود دو خدا اور نصاریٰ تثلیث کے قائل ہیں۔ وَلَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ (اور نہ آخرت پر) کیونکہ اس کے متعلق وہ اس کے بر خلاف ہیں جو ان پر لازم ہے انکا عقیدہ ہے کہ جنت میں اکل و شرب نہیں ہے۔ وَلَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ (اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے حرام بتلایا ہے) کیونکہ جو اللہ تعالیٰ نے کتاب و سنت میں حرام کیا اس کو حرام قرار نہیں دیتے۔ یا…
Read the full tafseer →29۔” قاتلوا الذین لا یومنون باللہ “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ کو روم سے قتال کا حکم دیا گیا تو اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ (علیہ السلام) نے غزوہ تبوک کیا اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت یہود کے قبیلہ بنو نضیر اور بنو فریظہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے صلح کی اور مسلمانوں کو پہلا جزیہ ان سے ملا اور مسلمانوں کی طرف سے پہلی ذلت ان کو یہی ملی ۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ اہل کتاب تو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے تھے تو اس آیت سے وہ کیسے مراد ہوسکتے ہیں ؟ تو جواب یہ ہے کہ وہ مؤمنین جیسا ایمان نہ رکھتے تھے کیونکہ جب وہ عزیر اور مسیح (علیہما…
Read the full tafseer →29۔ اوپر کی آیت میں مشرکوں کو حرم میں آنے سے منع فرما کر مسلمانوں کو اس بات کی تسلی دی تھی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آسودہ حال کر دے گا مشرکوں کے مکہ میں نہ آنے کا کوئی غم نہ کیا جاوے اس کے بعد اب یہ فرمایا کہ مشرکوں سے اس واسطے لڑو کہ یہ لوگ بت پرست اور قیامت کے منکر ہیں اور اہل کتاب کے حق میں یہ فرمایا کہ یہ لوگ مومن نہیں ہیں کیونکہ یہود نے عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا ٹھہرایا اور نصاریٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں خدا کا بیٹا ہونے کا گمان کیا مجاہد اس آیت کی شان نزول یہ بتاتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت اتری ہے جب آنحضرت ﷺ کو جنگ روم کا حکم ہوا تھا اور اسی بنا پر آپ نے غزوہ تبوک کا قصد کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
آیت 28
(آیت) ” اے ایمان والو ! بیشک مشرکین “ یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا اور اس کے ساتھ غیروں کی عبادت کی (نجس) ” ناپاک ہیں “۔ یعنی اپنے عقائدو اعمال میں ناپاک ہیں اور اس شخص سے بڑھ کر ناپاک اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتا ہے جو نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان اور نہ وہ کوئی کام آسکتے ہیں اور ان لوگوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ کرنے، اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے، باطل کی مدد کرنے، حق کو ٹھکرانے اور زمین میں اصلاح کی بجائے فساد کے لئے کام کرنے جیسے افعال پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اس لئے تم پر فرض ہے کہ تم سب سے زیادہ شرف کے حامل اور سب سے زیادہ…
Read the full tafseer →کن لوگوں سے جزیہ وصول کیا جانا چاہیے
قول باری ہے (قاتلوا الذین لایومنون باللہ ولا بالیوم الآخر ولا یحرمون ماحرم اللہ ورسولہ) تا قول باری (حتی یعطوا لجزیۃ عن یدولم صاغرون) آیت کے مضمون اور اس کے انداز بیان سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے جزیہ ان لوگوں سے وصول کیا جائے گا جو جنگ کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں گے یعنی اہل قتال ہوں گے۔ اس لئے کہ خصاب الٰہی کا ایسے لوگوں کے ساتھ قتال کے حکم پر مشتمل ہونا محال ہے جو قتال کی اہلیت ہی نہ رکھتے ہوں کیونکہ قتال کا فعل ہمیشہ دو شخصوں کے درمیان سرانجام پاتا ہے اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کا مقاتل قرار پاتا ہے یعنی دونوں میں سے ہر ایک دوسرے…
Read the full tafseer →63 مشرکین کے بعد اہل کتاب سے جہاد و قتال کا حکم : سو مشرکین سے جہاد و قتال کے حکم کے بعد اب یہ اہل کتاب (یہود و نصاری) سے لڑنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ سب سے پہلی آیت کریمہ ہے جس میں اہل کتاب سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ چناچہ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے یہود بنو قریظہ و بنو نضیر سے بھی جہاد فرمایا اور نصاریٔ روم سے بھی۔ اور اس غرض کے لئے آپ ﷺ تیس ہزار کا لشکر لے کر سخت گرمی کے زمانے میں طویل اور مشکل سفر طے کر کے تبوک کے مقام پر پہنچے اور بیس دن تک وہاں قیام فرما کر واپس لوٹے ۔ صَلَوَات اللّہِ وَسَلاَمْہ عَلَیْہِ وَ عَلٰی اٰلہٖ وَ صَحْبِہ اَجْمَعِیْن ۔ پس جن حضرات نے اس…
Read the full tafseer →یہود و نصارٰی سے قتال یا جزیہ ؟
تشریح : پچھلی آیات میں کفار ومشرکین کو چار ماہ کی مہلت کے بعد قتل کرنے، قید کرنے اور خاص صورتوں میں مختصر قیام کی اجازت دی گئی تھی اس آیت میں خاص طور سے اہل کتاب کا نام لیا گیا ہے کیونکہ ہوسکتا ہے مسلمان ان کو اہل کتاب ہونے کی رعایت دے دیں ان کو رعایت اس لیے نہیں دی گئی کیونکہ وہ اپنی اصلی تعلیمات سے بڑی حدتک پھر چکے تھے اسی لیے وضاحت کردی گئی کہ جو ان چار اسباب کے دائرہ میں آئے اسے قتل کرو۔ وہ چار اسباب یوں بیان کی گئی ہیں۔
1 جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے۔
2 جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔
3 جو حرام چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے۔
4 جو سچے دین کو قبول نہیں کرتے۔
ان تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
آیات 25 تا 29
اسرار و معارف
رہی بات نتائج کی تو اے مسلمانو ! اللہ نے تمہاری بیشمار مواقع پر مدد فرمائی ہے کہ قلت تعداد اور اسباب کی کمی کے باوجود تم فاتح اور غالب رہے یوم حنین ہی کو دیکھ لو !
واقعہ حنین
غزوہ حنین بھی 8 ھجری میں فتح مکہ کے بعد وقوع پذیر ہوا اس کا سبب بنوہوازن کا حملہ آور ہونا بنا مقام حنین مکہ مکرمہ سے تقریبا دس میل کے فاصلہ پر طائف کی جانب ہے مکہ مکرمہ کے نواح میں طائف تک بنوہوازن کے مختلف قبائل بکھرے ہوئے تھے اور یہ لوگ جنگجو اور بہادر بھی تھے فتح مکہ کی خبرسن کر ان کے سردار جمع ہوئے اور یہ مشورہ کیا کہ قریش نے ہتھیارڈال دئیے اب مسلمان فوج کا رخ ہماری طرف ہوگا لہٰذ اپیشتر…
Read the full tafseer →ف 5 مشرکین عرب سے مقاتلہ اور جہاد کا حکم دینے کے بعد اب اہل کتاب سے جہاد کا حکم دیا کیوں کہ وہ اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اہل کتاب گو اللہ و آخرت پر ایمان کا دعویٰ کرتے تھے لیکن حقیقت میں اعتقادی عملی اعتبار سے ان کی حالت کھلے کھلے کافروں اور مشرکوں کی سی تھی۔ اگر واقعی ان کا اللہ پر ص صحیح ایمان ہوتا عیسائی ( علیہ السلام) کو اور یہود عزیز ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار نہ دیتے۔ معلوم ہوا۔6 یعنی نہ وہ اس شریعت کو مانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعہ مقرر فرمائی ہے اور نہ دین حق کے تابع ہوتے ہیں۔7 یہ پہلی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اہل…
Read the full tafseer →(9:29) لا یحرمون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب تحریم (تفعیل) مصدر وہ حرام قرار نہیں دیتے۔
لا یدینون۔ مضارو منفی، جمع مذکر غائب (باب ضرب) وہ مذہب اختیار نہیں کرتے وہ دین اختیار نہیں کرتے۔ دان و تدین ب۔ مذہب اختیار کرنا۔
دین الحق۔ سچا دین یعنی اسلام۔ عن ید۔ (اپنے) ہاتھ سے ۔ دلی اطاعت کے طور پر۔
وہم صاغرون۔ اور وہ اپنے صغیر (حقیر اور مغلوب) ہونے کا دلی احساس رکھتے ہوں اپنے آپ کو حقیر و صغیر جانتے ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
لغات القرآن آیت نمبر 29 تا 31
قاتلوا (جہاد کرو، قتال کرو) لایحرمون (حرام نہیں کرتے ہیں) لایدیون (چلتے نہیں ہیں) حتی یعطوا (جب تک وہ نہ دیں) الجزیہ (جزیہ، خراج جو اسلامی حکومت میں کافروں سے لیا جاتا ہے) عن ید (ہاتھ سے) فاغرون (ماتحت ہو کر رہنے والے) یضاھتون (وہ دوسروں کی نقل کرتے ہیں، برابر کرتے ہیں) قتلھم اللہ (اللہ کو غارت کر دے) انی یوفکون (یہ کہاں الٹے پھرے جا رہے ہیں) احبار (حبر) ، عالم ) رھبان (راھب) ، درویش ارباب (رب) ، پروردگار) ما امروا (حکم نہیں دیا گیا ) سبحان (پاک ذات، بےعیب ذات)
تشریح : آیت نمبر 29 تا 31
اس سورت میں اب تک قتال کے جو بھی احکامات آئے ہیں ان کا تعلق مشرکین سے ہے۔…
Read the full tafseer →جزیہ کا حکم
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرکوں سے اس واسطے لڑو کہ یہ لوگ بت پرست اور قیامت کے منکر ہیں اور اہل کتاب بھی مومن نہیں ہیں۔ کیونکہ یہود نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا ٹھرایا اور نصاری نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں خدا یا خدا کا بیٹا ہونے کا گمان کیا۔ پھر فرمایا اگرچہ یہ لوگ اس بات کے بظاہر قائل ہیں کہ دوزخ جنت ہے مگر حقیقت میں ان کا ایمان اس پر نہیں ہے۔ علاوہ اس کے خدا نے جن چیزوں کو حرام ٹھرایا ہے یہ لوگ حرام نہیں سمجھتے۔ پھر فرمایا کہ یہ اہل کتاب دین اسلام کو اختیار نہیں کرتے حالانکہ یہ دین اسلام سارے پچھلے دینوں کا ناسخ ہے۔ اسی میں پارسی لوگ بھی شامل…
Read the full tafseer →[14] اگرچہ اہل کتاب اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے کے مدعی ہیں لیکن فی الواقع کہ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ آخرت پر۔ اللہ پر ایمان رکھنے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ آدمی بس اس بات کو مان لے کہ اللہ ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ آدمی اللہ کو واحد اِلٰہ تسلیم کرے اور اس کی ذات، صفات، حقوق اور اختیارات میں نہ خود شریک ہو اور نہ کسی کو شریک ٹھہرائے اسی طرح آخرت کو ماننے کے معنی صرف یہی نہیں ہیں کہ آدمی یہ بات مان لے کہ ہم مرنے کے بعد بھی اٹھائے جائیں گے، اس کے ساتھ یہ ماننا بھی ضروری ہے کہ وہاں کوئی سعی و سفارش اور فدیہ کام نہ آئے گا اور نہ کوئی کسی کا کفارہ بن سکے گا اور یہ کہ اللہ کی عدالت میں بےلاگ…
Read the full tafseer →جزیہ :
(ف 2) یہود بنی قریظہ وبنی نضیر باوجود اس کے کہ مسلمانوں سے پرامن رہنے کا وعدہ کرچکے تھے ، پھر بھی شرارت اور انگیخت سے باز وآئے ،
اس آیت میں ان سے مقاتلہ و جہاد کی اجازت دی گئی ہے یعنی ان کی شرارتیں چونکہ حد سے زیادہ بڑھ گئی ہیں اور یہ اپنے عہد پر قائم نہیں رہے ، اس لئے ان سے جہاد کرو ، جب تک کہ جزیہ نہ دیں ،
جزیہ ایک رقم ہے جو مصالحین سے لی جاتی ہے ، شرعا تعین نہیں کہ کس قدر ہو ، اس ٹیکس کے مقصد دو ہیں ، ایک تو یہ کہ ان کی ذلت وتحقیر کا احساس ہو ، اور پھر کبھی مسلمانوں کے خلاف آمادہ جنگ نہ ہوں ، دوسرے کہ یہ ان سے حفظ امن کے لئے بطور معاوضہ کے یہ رقم لی جائے اور انہیں فوجی خدمات سے…
Read the full tafseer →29 اہل کتاب جو نہ تو اللہ تعالیٰ پر پورا پورا ایمان رکھتے ہیں اور نہ آخرت کے دن پر پورا ایمان رکھتے ہیں اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام کہا ہے اور نہ دین حق یعنی اسلام کو قبول کرتے ہیں ان سے بھی جنگ کرو اور یہاں تک ان سے لڑو کہ وہ مطیع و محکوم ہوکر اور ماتحت و رعیت بن کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دینا قبول کرلیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلے حکم ہوا کہ مشرکوں سے لڑو اور ملک سے نکالو اب حکم ہوا اہل کتاب سے لڑائی کا یہ بھی دین حق سے منکر ہیں اور اللہ اور آخرت کو جیسے چاہئے نہیں مانتے لیکن ان سے جزیہ قبول رکھا بشرطیکہ ادنیٰ اعلیٰ سب ذلیل ہوکر جزیہ دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
ف 1۔ یہ جو فرمایا کہ رسول پر تسلی نازل ہوئی مراد اس سے مطلق تسلی نہیں وہ تو آپ کو بلکہ وہ صحابہ جو آپ کے ساتھ رہ گئے تھے ان کو بھی حاصل تھی اور وہ اسی وجہ سے ثابت قدم رہے بلکہ مراد اس سے خاصل تسلی ہے جس سے غلبہ کی امید قریب ہوگئی۔
Read the full tafseer →اہل کتاب کی مذہبی اور سیاسی حالت اور ان کے جرائم کا تذکرہ :
42: مشرکین کے بعد اب اہل کتاب کہلانے والے یہود و نصاریٰ کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ ان کا دعویٰ تو یہ ہے کہ وہ اللہ کو مانتے ہیں اور اس کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہیں۔ آسمانی کتب اور انبیائے کرام (علیہ السلام) پر ایمان رکھتے ہیں اور آخرت پر ان کا پختہ یقین ہے لیکن ان کا عمل ان کے اس سارے دعویٰ کی تکذیب کرتا ہے۔ اس لئے اب ان کے اس زبانی دعویٰ کا کچھ اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ وہ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ ہی آخرت پر ان کو کچھ یقین ہے اور نہ ہی ان چیزوں کو وہ حرام سمجھتے ہیں جن کو اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے اور یہ حرام ٹھہرانا ان کی اپنی…
Read the full tafseer →Commentary
Verse 28 appearing earlier referred to Jihad against the Mushirks of Makkah. The present verses talk about Jihad against the People of the Book. In a sense, this is a prelude to the battle of Tabuk that was fought against the People of the Book. In Tafsir al-Durr al-Manthur, it has been reported from the Qur'an commentator, Mujahid that these verses have been revealed about the battle of Tabuk. Then, there is the reference to ` those who were given the Book.' In Islamic religious terminology, they are referred to as ` ahl al-Kitab' or People of the Book. In its literal sense, it…
Read the full tafseer →