Explained with ayahs 28–29
مشرکین کو حدود حرم سے نکال دو
اللہ تعالیٰ احکم الحاکمین اپنے پاک دین والے پاکیزگی اور طہارت والے مسلمان بندوں کو حکم فرماتا ہے کہ وہ دین کی رو سے نجس مشرکوں کو بیت اللہ شریف کے پاس نہ آنے دیں یہ آیت سنہ 9 ہجری میں نازل ہوئی اسی سال آنحضرت رسول مقبول ﷺ حضرت علی ؓ کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ بھیجا اور حکم دیا کہ مجمع حج میں اعلان کردو کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہ آئے اور کوئی ننگا شخص بیت اللہ شریف کا طواف نہ کرے اس شرعی حکم کو اللہ تعالیٰ قادر وقیوم نے یوں ہی پورا کیا کہ نہ وہاں مشرکوں کو داخلہ نصیب ہوا نہ کسی نے اس کے بعد عریانی کی حالت میں اللہ کے گھر کا طواف کیا۔ حضرت جابر بن…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 25
یعنی آئندہ کے لیے ان کا حج اور ان کی زیارت ہی بند نہیں بلکہ مسجد حرام کے حدود میں ان کا داخلہ بھی بند ہے تاکہ شرک و جاہلیت کے اعادہ کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔”ناپاک“ ہونے سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ بذات خود ناپاک ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اعتقادات، ان کے اخلاق، ان کے اعمال اور ان کے جاہلانہ طریق زندگی ناپاک ہیں اور اسی نجاست کی بنا پر حدود حرم میں ان کا داخلہ بند کیا گیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس سے مراد صرف یہ ہے کہ وہ حج اور عمرہ اور مراسم جاہلیت ادا کرنے کے لیے حدود حرم میں نہیں جاسکتے۔ امام شافعی کے نزدیک اس حکم کا منشا یہ ہے کہ یہ مسجد حرام میں جاہی نہیں…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو مشرک لوگ (بوجہ عقائد خبیثہ کے) نرے ناپاک ہیں سو (اس ناپاکی پر جو احکام متفرع ہوئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ) یہ لوگ اس سال کے بعد مسجد حرام (یعنی حرم) کے پاس (بھی) نہ آنے پائیں (یعنی حرم کے اندر داخل نہ ہوں) اور اگر تم کو (اس حکم کے جاری کرنے سے بدیں وجہ) مفلسی کا اندیشہ ہو (کہ لین دین انہی سے زیادہ متعلق ہے جب یہ نہ رہیں گے تو کام کیسے چلے گا) تو (تم خدا پر توکل رکھو) خدا تم کو اپنے فضل سے اگر چاہے گا (ان کا) متحاج نہ رکھے گا، بیشک اللہ تعالیٰ (احکام کی مصلحتوں کو) خوب جاننے والا ہے (اور ان مصلحتوں کی تکمیل کے باب میں) بڑا حکمت والا ہے (اس لئے یہ حکم مقرر کیا اور…
Read the full tafseer →اعلان براءت کے سلسلہ کی آخری ہدایت، مشرکین کو مسجد حرام کے پاس آنے کی ممانعت :
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا۔ یہ اس اعلان براءت کے سلسلہ کی آخری ہدایت ہے جس کا ذکر شروع سے چلا آ رہا ہے۔ فرمایا کہ یہ مشرکین نجس ہیں اس وجہ سے اس سال کے بعد سے یہ مسجد حرام کے پاس پھٹکنے نہ پائیں۔ نجاست سے مراد ظاہر ہے کہ یہاں وہ عقائدی نجاست مراد ہے جس کی تفصیلات دوسرے مقامات میں بیان ہوچکی ہیں۔ فتح مکہ کے بعد بیت اللہ پر سے مشرکین کا تسلط تو ختم ہوچکا تھا۔ لیکن سن 9 ہجری کے حج تک ان کو یہ مہلت حاصل رہی کہ وہ حج کے…
Read the full tafseer →28۔ 1 مشرک کے (پلید، ناپاک) ہونے کا مطلب، عقائد و اعمال کے لحاظ سے ناپاک ہونا ہے۔ بعض کے نزدیک مشرک ظاہر و باطن دونوں اعتبار سے ناپاک ہے۔ کیونکہ وہ طہارت (صفائی و پاکیزگی) کا اس طرح اہتمام نہیں کرتا، جس کا حکم شریعت نے دیا ہے۔
28۔ 2 یہ وہی حکم ہے جو سن 9 ہجری میں اعلان برات کے ساتھ کیا گیا تھا، جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے ممانعت بعض کے نزدیک صرف مسجد حرام کے لئے ہے۔ ورنہ حسب ضرورت مشرکین دیگر مساجد میں داخل ہوسکتے ہیں جس طرح نبی کریم ﷺ نے ثمامہ بن اثال کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھے رکھا تھا حتیٰ کہ اللہ نے ان کے دل میں اسلام کی اور نبی ﷺ کی محبت ڈال دی اور وہ مسلمان ہوگئے۔ علاوہ ازیں اکثر…
Read the full tafseer →22: اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ ان کے جسم بذات خود ناپاک ہیں، بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان کے عقائد ناپاک ہیں جو ان کے وجود میں سرایت کرچکے ہیں
23: یہ اعلان براءت کا تکملہ ہے۔ اور اس کے ذریعے مشرکین کو مسجد حرام کے قریب آنے سے منع فرما دیا گیا ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ نے اس کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ مشرکین کو اگلے سال سے حج کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس لیے کہ اس آیت کریمہ کی تعمیل میں آنحضرت صلی اللہ علی ہو سلم نے حضرت علی سے جو اعلان کروایا اس کے الفاظ یہ تھے کہ لا یجمعن بعد ھذا العام مشرک، یعنی اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرسکے گا (صحیح بخاری، کتاب التفسیر، سورة براءۃ)۔ اس سے معلوم ہوا کہ ”مسجد…
Read the full tafseer →مشرکین نجس عین ہیں ، ان کی روح اس قدر ناپاک ہے کہ یہ ناپاکی ان کے خون اور گوشت میں بھی سرایت کرگئی ہے۔ لہذا وہ کلیۃً نجس ہیں۔ پاکیزہ احساس ان کا تصور کرتے ہی ابا کرتا ہے۔ کراہت محسوس کرتا ہے اور پاکیزہ مزاج لوگ ان سے دور رہنا پسند کرتے ہیں۔ یہ معنوی نجاست ہے جو حسی نجاست سے زیادہ تیز ہے۔ ان کے اجسام نجس نہ ہوگے یہ قرآن کریم کا نہایت ہی موثر انداز تعبیر ہے جو روحانیات کو بھی حسی بنا دیتا ہے۔ جب نجس ہیں تو پھر کیا حکم ہے ؟
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، مشرکین ناپاک…
Read the full tafseer →1 جب حق تعالیٰ نے شرک کی قوت کو توڑ کر جزیرۃ العرب کا صدر مقام (مکہ معظمہ) فتح کرا دیا اور قبائل عرب جوق جوق دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے تب 9 ہجری میں یہ اعلان کرایا گیا کہ آئندہ کوئی مشرک (یا کافر) مسجد حرام میں داخل نہ ہو بلکہ اس کے نزدیک یعنی حدود حرم میں بھی نہ آنے پائے۔ کیونکہ ان کے قلوب شرک و کفر کی نجاست سے اس قدر پلید اور گندے ہیں کہ اس سب سے بڑے مقدس مقام اور مرکز توحید و ایمان میں داخل ہونے کے لائق نہیں، اس کے بعد صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے جزیرۃ العرب سے مشرکین اور یہود و نصاریٰ سب کے نکال دینے کا حکم دیا۔ چناچہ حضور کی آخری وصیت کے موافق حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں یہ حکم…
Read the full tafseer →آیت 28 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلاَ یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا ج
یعنی اس سال 9 ہجری کے حج میں تو مشرکین بھی شامل ہیں ‘ مگر آئندہ کبھی کوئی مشرک حج کے لیے نہیں آسکے گا اور نہ کسی مشرک کو بیت اللہ یا مسجد حرام کے قریب آنے کی اجازت ہوگی۔
وَاِنْ خِفْتُمْ عَیْلَۃً فَسَوْفَ یُغْنِیْکُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖٓ اِنْ شَآءَط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ
اگر کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ اس حکم کے بعد حاجیوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور ان کے نذرانوں اور قربانیوں سے ہونے والی آمدنی میں بھی کمی آجائے گی ‘ تو اسے اللہ کی ذات پر پورا…
Read the full tafseer →26 مشرکوں کے جانے سے میدان معیشت میں خلا کا خدشہ :۔ اس آیت میں مشرکوں کو ناپاک کہا گیا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ فی ذاتہ ناپاک ہوتے ہیں کہ ان سے اگر ہاتھ لگ جائے تو ہاتھ دھونا پڑے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان کے عقائد ناپاک اور گندے، اخلاق ناپاک اور نیتوں میں ہر وقت فتور اور مکر و فریب اور اعمال گندے ہیں۔ جو ہر وقت اسلام دشمنی، مسلمانوں پر ظلم و تشدد اور معاندانہ سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔
اس آیت کی رو سے مسلمانوں کو واضح حکم دے دیا گیا کہ اب مشرکین بیت اللہ کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتے۔ مکہ جہاں ایک مقدس مقام تھا وہاں تجارتی مرکز بھی تھا اور یہ تجارت زیادہ تر مشرکین مکہ کے ہاتھ میں تھی۔ لہذا مکہ…
Read the full tafseer →44 ۔ (بہ لحاظ خبث عقاید) (آیت) ” نجس “۔ مراد اس نجاست سے نجاست عقاید ہے نہ کہ نجاست اعیان و اجسام۔ والمراد ذو ونجس لخبث بواطنھم و فساد عقائد ھم (روح)
45 ۔ (بہ غرض خدمت وتولیت یا بہ غرض حج و طواف وغیرہ) یعنی حدود حرم کے اندربہ غرض حج وعمرہ نہ داخل ہونے پائیں، ممانعت کا تعلق مطلق داخلہ حرم وداخلہ مسجد حرام سے نہیں۔ اے فلایحجوا ولا یعتمروا کما کانوا یفعلون فی الجاھلیۃ (مدارک) حنفی مذہب میں مشرکوں کے عام داخلہ حرم یا داخلہ مساجد کی ممانعت نہیں، اور فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ اہل کتاب بھی اس حیثیت سے مشرکین ہی کے حکم میں داخل ہیں۔ ولا یمنعون من دخول الحرم والمسجد الحرام وسائر المساجد عندنا (مدارک)…
Read the full tafseer →یَاَیُّھَا الَّذِیْنَ ۔۔۔۔ (الآیة) مشرکوں کے نجس ہونے کا مطلب عقائد و اعمال کے لحاظ سے نجس ہونا ہے، بعض کے نزدیک مشرک ظاہر و باطن دونوں اعتبار سے ناپاک ہیں اس لئے کہ وہ اس طہارت و صفائی کا لحاظ نہیں کرتے جس کا حکم شریعت نے دیا ہے، بعض ناپاک چیزوں کو مثلاً گائے کا پیشاب اور گوبر وغیرہ کو ناپاک نہیں سمجھتے اور معنوی نجاست مثلاً غسل جنابت وغیرہ بھی ضروری نہیں سمجھتے اسی لئے مشرکوں کو آیت مذکورہ میں نجاست محض قرار دے کر فلا یقربوا المسجد الحرام الخ میں مشرکوں کو مسجد حرام کے پاس آنے سے منع کیا گیا ہے، مسجد حرام عام طور پر اس جگہ کو کہا جاتا ہے جو بیت اللہ کے چاروں طرف چہار دیواری گھری ہوئی ہے،…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا انما المشرکون نجس اے ایمان والو ! مشرک تو ناپاک ہی ہیں۔ نجَسٌ باب سَمِعَ اور کَرُمَ سے مصدر ہے ‘ اسی لئے اس کا تثنیہ آتا ہے نہ جمع۔ مذکر اور مؤنث دونوں کیلئے ایک ہی لفظ مستعمل ہے (مصدر ‘ غیر مصدر پر محمول نہیں ہوتا اور خبر کا ثبوت مبتداء کیلئے ہوتا ہے اور خبر ہونے کی وجہ سے اس جگہ باوجود مصدر ہونے کے نجسٌ کا ثبوت المشرکون کیلئے ہو رہا ہے تو یہ حمل) یا بطور مبالغہ کے ہے (یعنی مشرک اتنے ناپاک ہیں کہ بعینہٖ نجاست بن گئے ہیں کہ جو ان کو چھوئے ‘ اس کا ہاتھ بھی ناپاک ہوجائے ‘ یا مصدر سے مراد ہے صفت (یعنی نجاست سے مراد ہے نجاست والے) ۔
نَجْسٌ‘ نِجْسٌ‘ نَجِسٌ‘ نَجُسٌ سب کے معنی ہیں…
Read the full tafseer →(28) مشرک عام برأت یعنی یوم النحر کے بعد حج اور طواف کے لیے نہ آئیں اور اگر تمہیں اس حکم کے اجراء میں فقر ومفلسی کا ڈر ہے تو اللہ تعالیٰ دوسرے طریقہ سے اپنا رزق خاص عطا فرمائے گا اور بکربن وائل کی تجارت سے تمہیں مالا مال کردے گا اور تمہاری روزیوں کو جاننے والا اور جو فیصلہ فرمایا ہے اس میں حکمت والا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”وان خفتم عیلۃ“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ مشرکین بیت اللہ آیا کرتے اور اپنے ساتھ کھانے کی چیزیں بھی لاتے تھے اور وہاں تجارت کرتے جب ان کو بیت اللہ آنے سے روک دیا گیا تو مسلمان کہنے لگے کہ اب کھانے پینے کی چیزیں کہاں سے آئیں گی اس پر اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ : زمخشری نے فرمایا : ”نَجَسٌ“ مصدر ہے، کہا جاتا ہے ”نَجَِسَ نَجَسًا وَ قَذَِرَ قَذَرًا (ع، ن)“ گندا، ناپاک، پلید ہونا۔ گویا تمام مشرک اتنے ناپاک ہیں کہ یوں سمجھو کہ وہ سراسر نجاست ہیں۔ ناپاک ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ عقائد و اعمال اور اخلاق کے لحاظ سے گندے ہیں، ان کی نجاست معنوی نجاست ہے، بدن ناپاک ہونا مراد نہیں کہ اسے ہاتھ لگنے یا اس کے ہاتھ لگانے سے کوئی چیز پلید ہوجاتی ہو، اس لیے اہل کتاب عورتوں سے نکاح کرنا، انھیں لونڈی و غلام بنا کر خدمت لینا جائز ہے اور یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مشرک عورت کے مشکیزوں کا پانی…
Read the full tafseer →اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : یایھا الذین امنو انما المشرکون نجس یہ مبتد اور خبر ہے۔ مشرک کے نجس ( ناپاک ہونے) کے ساتھ متصف ہونے کے معنی میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔ پس حضرت قتادہ اور معمر بن راشد وغیرہ ہما نے کہا ہے :
کیونکہ وہ جنبی ہوتا ہے (اس لیے ناپاک ہے) کیونکہ جب وہ غسل جنابت کرے تو وہ غسل نہیں ہوتا۔ اور حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ نے کہا ہے : بلک شرک ہی وہ شے ہے جس نے اسے نجس اور ناپاک بنادیا ہے۔ امام حسن بصری ؓ نے فرمایا : جس نے مشرک کے ساتھ مصافحہ کیا تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے۔ اور تمام مذاہب اس پر متفق ہیں کہ کافر جب اسلام قبول کرے تو اس پر غسل کرنا واجب ہوتا ہے،…
Read the full tafseer →1:۔ احمد ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے اس سال کے بعد کوئی مشرک مسجد حرام میں داخل نہیں ہوگا سوائے معاہدہ کرنے والوں اور تمہارے خدمت کرنے والوں کے۔
2:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجدالحرام بعد عامہم ھذا “ (یعنی مشرک اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ جائیں) مگر وہ (کسی مسلمان کا) غلام ہو یا ذمی لوگوں میں سے ہو (ان کو اجازت ہے)
3:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انما المشرکون نجس “ یعنی پلید و ناپاک ہیں…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْٓا [ ایمان لائے ] اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] الْمُشْرِكُوْنَ [ مشرک لوگ ] نَجَسٌ [ نجس ہیں ] فَلَا يَقْرَبُوا [ پس وہ لوگ نزدیک مت ہوں ] الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ [ مسجد حرام کے ] بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا ۚ [ اپنے اس سال کے بعد ] وَاِنْ [ اور اگر ] خِفْتُمْ [ خوف ہو تم کو ] عَيْلَةً [ تنگ دستی کا ] فَسَوْفَ [ تو عنقریب ] يُغْنِيْكُمُ [ غنی کردے گا تم کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] مِنْ فَضْلِهٖٓ [ اپنے فضل سے ] اِنْ [ اگر ] شَاۗءَ ۭ [ اس نے چاہا ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ]
ع ی ل : (ض) عیلا ۔…
Read the full tafseer →مشرکین نجس ہیں مسجد حرام کے پاس نہ جائیں
یہ آیت بھی سورة برأت کی شروع کی ان چالیس آیات میں سے ہے جن کا اعلان 9 ھ میں حضرت علی ؓ کے ذریعہ حج کے موقعہ پر کرایا گیا تھا جس میں حضرت ابوبکر امیر الحج تھے۔ جن چیزوں کا اعلان کیا تھا۔ ان میں یہ بھی تھا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور کوئی شخص ننگا ہونے کی حالت میں طواف نہ کرے (جیسا کہ مشرکین کیا کرتے تھے) اس آیت میں جو یہ فرمایا ہے کہ ” مشرکین پلید ہی ہیں سو وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس نہ آئیں۔ “ اس میں حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ حکم دیا ہے کہ آئندہ مشرکین کو حج نہ کرنے دیا جائے، مسجد حرام میں نہ آنے دینے کا یہی مطلب ہے۔ اگر کسی…
Read the full tafseer →تتمۂ اعلان براءت وتسلیہ اہل ایمان
قال اللہ تعالیٰ ۔ یا ایہا الذین امنوا انما المشرکون نجس۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ علیم حکیم
(ربط ): شروع سورت میں اعلان براءت کا ذکر تھا اب اسی اعلان کا ایک تتمہ ذکر کیا جاتا ہے وہ یہ کہ ایک سال کے اندر مشرکین حدود حرم سے باہر نکل جائیں تاکہ حرم کی پاک زمین مشرکین کے ناپاک وجود سے پاک ہوجائے کیونکہ مشرک نجس ہیں اس ایک سال گزرجانے کے بعد مشرکین کو حج اور خانہ کعبہ کے طواف کی اجازت نہیں۔ اعلان براءت میں چار ماہ کی مہلت دی تھی اور مسجد حرام کے داخلہ کے لیے ایک سال کی مہلت دی۔
اس حکم سے مسلمانوں کو یہ اندیشہ ہوا کہ جب حرم میں مشرکین کی آمدورفت بند ہوجائے گی تو اس سے…
Read the full tafseer →22: جب کفر کی قوت ٹوٹ گئی اور سارا عرب اسلام کے زیر نگیں آگیا تو مکہ مکرمہ کو اسلامی حکومت کا مرکز قرار دیدیا گیا اور اعلان کردیا گیا کہ آئندہ سال سے کوئی مشرک حدود حرم میں داخل نہ ہونے پائے اور انہیں حج کرنے کا بھی موقع نہ دیا جائے۔ “ اَلْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ” سے مسمجد حرام اور مایتعلق بہ یعنی حدود حرم مراد ہیں۔ جیسا کہ “ سُبْحٰنَ الَّذِيْ اَسْرٰ بِعَبْدِہٖ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ” میں ہے کیونکہ معراج حضرت ام ہانی کے گھر سے ہوا تھا۔ “ فلا یحجوا ولا یعتمروا کما کانوا یعمرون فی الجاھلیة ” (مدارک ج 2 ص 93) “ وقال عطاء المراد بالمسجد الحرام الحرم وان علی المسلمین ان لایمکنوھم من…
Read the full tafseer →ربط آیات :
سورۃ کی پہلی آیت میں براءت کا اعلان تھا ، پھر جہاد کا اعلان ہوا۔ پھر ان اسباب کا ذکر ہوا جن کی وجہ سے جہاد ترک ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی قباحت اور برائی بھی بیان فرمائی اور اہل ایمان کو ان کے ساتھ دوستی کرنے سے منع کردیا گیا۔ اور صرف خدا کی ذات پر بھروسہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ پھر اللہ نے اہل ایمان کو یاد دلایا کہ اس نے ہمیشہ اپنے مخلص بندوں کی مدد کی ہے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو مسجد حرام کے قریب آنے سے منع فرمایا ہے اور ساتھ اس کی وجہ بھی بیان فرمائی ہے۔
مسجد حرام میں بےدخلی :
8 ھ میں مکہ فتح ہوا اور اس سے اگلے سال 9 ھ میں حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا 0 ۚ وَاِنْ خِفْتُمْ عَيْلَۃً فَسَوْفَ يُغْنِيْكُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖٓ اِنْ شَاۗءَ 0 ۭ اِنَّ اللہَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ 28
شرك
وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان :
أحدهما : الشِّرْكُ العظیم،
وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ،
والثاني : الشِّرْكُ الصّغير،
وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما…
Read the full tafseer →1 ؎ کہ ان کے نہ آنے سے تجازت بند ہوجاوے گی۔ 12 منہ
ترکیب : نجس بفتح بجیم بمعنی ناپاکی نجاستہ العین مصدر ہے مذکر مونث پر اطلاق ہوتا ہے بکسر الجیم ناپاک نجاستہ حکمی خبر ہے المشرکون کی۔ المسجد الحرام لایقربوا کا مفعول بعد متعلق ہے لایقربوا ہذا عامہم سے بدل یا بیان ہے وان خفتم شرط فسوف الخ جواب۔ ولا معطوف ہے باللّٰہ پر باعادۃ الجار ولا یحرمون لایؤمنون پر اور اسی طرح ولا یدینون من بیان ہے الذین کا حتی غایۃ ہے قاتلوا کی۔
تفسیر : ان آیات میں دو حکم صادر فرمائے ہیں۔ اول یہ کہ مشرکین اس سال کے بعد کہ جس میں یہ حکم سنایا گیا ہے مسجد الحرام یعنی خانہ کعبہ میں نہ آنے پاویں کیونکہ ناپاک ہیں جنس کے لفظ سے…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلاَ یَقْرَبُْوا الْمَسْجِدَالْحَرَامَ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا ج وَاِنْ خِفْتُمْ عَیْلَۃً فَسَوْفَ یُغْنِیْکُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ اِنْ شَآئَطاِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ ( التوبۃ : 28)
(اے ایمان والو ! بلاشبہ مشرکین بالکل پلید ہیں پس یہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی پھٹکنے نہ پائیں اور اگر تمہیں اندیشہ ہومعاشی بدحالی کا تو اللہ اگر چاہے تو تمہیں اپنے فضل سے مستغنی کردے گا بیشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ )
مشرکین کے بارے میں آخری ہدایت
سورة توبہ کے آغاز سے جو براءت کا مضمون شروع ہوا تھا اور مشرکین کے سامنے اس حوالے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مشرک فکری اور اعتقادی طور پر پلید ہوتا ہے۔ اسی لیے انبیاء اور موحدّین کی مخالفت کرتا ہے جب یہ عقیدہ توحید کے مخالف ہے تو اسے بیت اللہ میں داخلے کا کوئی حق نہیں پہنچتا کیونکہ بیت اللہ تو اللہ کی وحدت کا ترجمان ہے۔
اس سورة کی ابتداء میں مشرکین کو الٹی میٹم دیا گیا ہے کہ تم چار مہینے سے زیادہ حدود حرم میں نہیں رہ سکتے سوائے ان لوگوں کے جن کا مسلمانوں کے ساتھ کیے ہوئے معاہدہ کی مدت باقی ہے۔ جونہی معاہدہ کی مدت پوری ہوگی انھیں بھی حدود حرم سے نکل جانا ہوگا۔ اس کے بعد مشرکین مکہ کو آگاہ کیا گیا کہ آئندہ تمہارے ساتھ کوئی عہد نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ تم نے بار بار عہد شکنی کی ہے پھر…
Read the full tafseer →مشرکین نجس ہیں ان کا داخلہ مسجد حرام میں ممنوع ہے :
آیت 28: یٰٓاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ (اے ایمان والو۔ مشرک لوگ نرے ناپاک ہیں) پلیدی والے ہیں نجس مصدر ہے کہا جاتا ہے : نجس نجسًا و قذر قذرًا کیونکہ ان میں وہ شرک تھا۔ جو بمنزلہ نجاست ہے۔ اور اسلئے بھی کہ نہ وہ طہارت کرتے ہیں۔ نہ غسل کرتے ہیں نہ نجاسات سے بچتے ہیں تو گویا گندگی ان کو لباس کی طرح چمٹی ہوئی ہے۔ یا ان کو بعینہٖ نجاست قرار دیا۔ تاکہ وصف نجاست میں ان کے متعلق مبالغہ ظاہر ہو۔ فَـلَا یَقْرَبُوا الْمَسجِدَ الْحَرَامَ (وہ لوگ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں) نہ وہ حج کو آئیں اور نہ عمرہ کریں جیسا کہ…
Read the full tafseer →انما ا المشرکون نجس کی وضاحت
28۔” یایھا الذین امنوا انما المشرکون نجس “ ضحاک اور ابو عبیدہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ پلید ہیں اور بعض نے کہا خبیث ہیں ۔ نجس مصدر ہے اس میں مذکر ، مونث ، تثنیہ ، جمع سب برابر ہیں اور نجس نون کے کسرہ او جیم کے سکون کے ساتھ تو یہ اکیلا نہیں بولا جاتا بلکہ یوں کہا جاتا ہے ” رجس نجس “ اور جب اکیلا ذکر کیا جائے تو ’ نجس “ نون کے فتحہ اور جیم کے کسرہ کے ساتھ کہا جاتا ہے۔ آیت میں حکم کی نجاست مراد ہے نہ کہ جسم کی ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ان کو نجس کہا ہے کیونکہ وہ جنبی ہوں تو غسل نہیں کرتے اور حدث لاحق ہو تو وضو نہیں کرتے۔” فلا یقربوا المسجد الحرام “ مرادان کو حرم…
Read the full tafseer →28۔ اللہ پاک نے مشرکوں کے حق میں یہ حکم فرمایا کہ یہ لوگ ناپاک ہیں اس لئے 9 ہجری کے بعد پھر یہ لوگ حرم شریف میں داخل نہ ہونے پائیں کیونکہ کفرو شرک جو ان کے دلوں میں ہے وہ نجاست سے بھی بڑھ کر ہے اس لئے یہ لوگ پلید ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ مشرکوں کا بدن ناپاک ہے لیکن اس قول کی سند ضعیف ہے اس لئے قتادہ یہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ اپنی پاکی اور صفائی کی احتیاط نہیں کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں سے بچتے ہیں اس لئے وہ لوگ نجاست کے ساتھ موصوف ہیں خود انکا جسم ناپاک نہیں ہے جمہور مفسرین کا قول قتادہ کے قول موافق ہے معتبر سند سے مسند امام احمد اور ابوداؤد میں جابر ؓ بن عبداللہ سے روایت ہے جس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
آیت 28
(آیت) ” اے ایمان والو ! بیشک مشرکین “ یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا اور اس کے ساتھ غیروں کی عبادت کی (نجس) ” ناپاک ہیں “۔ یعنی اپنے عقائدو اعمال میں ناپاک ہیں اور اس شخص سے بڑھ کر ناپاک اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتا ہے جو نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان اور نہ وہ کوئی کام آسکتے ہیں اور ان لوگوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ کرنے، اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے، باطل کی مدد کرنے، حق کو ٹھکرانے اور زمین میں اصلاح کی بجائے فساد کے لئے کام کرنے جیسے افعال پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اس لئے تم پر فرض ہے کہ تم سب سے زیادہ شرف کے حامل اور سب سے زیادہ…
Read the full tafseer →حدود حرم میں مشرکین کا داخلہ ممنوع
قول باری ہے (انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامہم ھذا مشرکین ناپاک ہیں لہٰذا اس سال کے بعد یہ مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں) نجس کے اسم کا مشرکین پر اس لئے اطلاق ہوا ہے کہ جس شرک کا وہ اعتقاد رکھتے ہیں اس سے اس طرح اجتناب واجب ہے جس طرح نجاستوں اور گندگیوں سے اجتناب واجب ہے اسی بنا پر اسے نجس کہا گیا ہے۔
نجاست ظاہری و باطنی
شریعت میں نجاست کی دو صورتیں ہیں۔ ایک اعیان کی نجاست یعنی ایسی نجات جس کا تعلق ان چیزوں سے ہو جن کا مشاہدہ کیا جاسکتا یا انہیں محسوس کیا جاسکتا ہو دوم گناہوں کی نجاست اسی طرح رجس اور رجز کو بھی ان ہی دو صورتوں پر محمول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
58 عنایات خداوندی کا دارومدار انسان کے باطن پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ توبہ کی توفیق نصیب فرماتا ہے جن کو چاہتا ہے۔ ان کی نیت اور باطن کے ہی اعتبار سے کہ جن کا باطن صحیح اور ان کی نیت درست ہوگی ان کو توبہ کی توفیق ملے گی۔ اور جو ایسے نہیں ہوں گے وہ اس توفیق و عنایت سے محروم ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ چناچہ اس واقعہ کے کچھ ہی دنوں بعد ان ہی کفار میں سے بہت سے لوگ مسلمان بن کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور آپ ﷺ نے مسلمانوں کی رائے اور مشورے سے ان کے قیدی واپس کر دئیے اور ان کے اموال بطور غنیمت مسلمانوں کے درمیان تقسیم فرما دئیے۔ (جامع البیان، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر…
Read the full tafseer →مشرک ناپاک ہیں
تشریح : اس آیت میں پاکیزگی اور صفائی کا ذکر کیا گیا ہے وہ اس طرح کہ مسلمان تو ظاہری اور باطنی دونوں طرح سے پاک صاف ہوتا ہے جبکہ کافر و مشرک ظاہر و باطن ہر طرح سے ” نجس “ ، یعنی گندگی کے نام سے پکارا گیا ہے۔ ظاہری صفائی کا مطلب ہے۔
1 ناپاکی کی حالت میں نہ ہونا۔
2 جسم اور لباس کا صاف ستھرا ہونا۔
3 حالت وضو میں ہونا۔
باطنی صفائی کا مطلب ہے اعتقاد، اعمال اور اخلاق کا قرآن و سنت کے مطابق ہونا۔ جس کا دل ایمان اور صحیح عقیدہ سے منور ہوگا اور جس کے اعمال نیک اور پاکیزہ ہوں گے جس کے اخلاق بلند اور بےداغ ہوں گے وہ اللہ کا مقبول ترین بندہ ہوگا۔ اللہ پاک ہے پاکیزگی کو پسند کرتا ہے تو ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
آیات 25 تا 29
اسرار و معارف
رہی بات نتائج کی تو اے مسلمانو ! اللہ نے تمہاری بیشمار مواقع پر مدد فرمائی ہے کہ قلت تعداد اور اسباب کی کمی کے باوجود تم فاتح اور غالب رہے یوم حنین ہی کو دیکھ لو !
واقعہ حنین
غزوہ حنین بھی 8 ھجری میں فتح مکہ کے بعد وقوع پذیر ہوا اس کا سبب بنوہوازن کا حملہ آور ہونا بنا مقام حنین مکہ مکرمہ سے تقریبا دس میل کے فاصلہ پر طائف کی جانب ہے مکہ مکرمہ کے نواح میں طائف تک بنوہوازن کے مختلف قبائل بکھرے ہوئے تھے اور یہ لوگ جنگجو اور بہادر بھی تھے فتح مکہ کی خبرسن کر ان کے سردار جمع ہوئے اور یہ مشورہ کیا کہ قریش نے ہتھیارڈال دئیے اب مسلمان فوج کا رخ ہماری طرف ہوگا لہٰذ اپیشتر…
Read the full tafseer →ف 1 گندے ہونے یہ سے مراد نہیں ہے کہ ان کے بد ن گندے ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ عقائد اعمال اور اخلاق کے اعتبار سے گندے ہیں۔ اکثر علما نے سلف (رح) نے اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے۔2 یعنی آئندہ سے حدود حرم میں بھی ان کا داخلہ سر سے بند ہے۔ اس سے صرف ذمی اور غلام مستثنیٰ ہیں جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس سال کے بعد ذمی اور خدام کے سوا کوئی مشرک حرم میں داخل نہیں ہوسکتا۔ اس بنا پر 9 ھ کو حج کے موقع پر سورة تو بہ کے کی ابتدائی آیات کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا گیا الا لا یحجن بعد العام مشرک ولایطون فن بالبیت عریان، کہ آئندہ کوئی مشرک حج میں شریک نہیں ہو سکے گا اور نہ کوئی ننگاہو کر طواف…
Read the full tafseer →(9:28) نجس۔ نجس و نجاسۃ۔ مصدر (باب سمع ۔ نصر) ناپاک ، پلید، خواہ ظاہری ہو یا باطنی۔ یہاں مصدر استعمال ہوا ہے۔ مذکر، مؤنث۔ تثنیہ، جمع سب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔
عیلۃ۔ فقر۔ مفلسی۔ عال یعیل (ضرب) سے مصدر ہے (یعنی اگر مشرکین کے داخلہ پر بندش سے تمہیں تجارتی کاروبار میں کساد بازاری یا آمدنی میں کمی کا اندیشہ ہو تو فسوف یغنیکم اللہ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں غنی کر دے گا۔
Read the full tafseer →لغات القرآن آیت نمبر 28
نجس (گندگی، ناپاکی) عام (سال) عیلۃ (محتاجی) یغنی (مال دار کر دے گا، بےنیاز کر دے گا )
تشریح : آیت نمبر 28
ان آیات میں مشرکین کو نجس یعنی سر سے پیر تک ناپاکی ہی ناپاکی قرار دیا گیا ہے۔ جسمانی طور پر بھی اور روحانی حیثیت سے بھی …(1) وہ ظہارت و پاکیزگی کا اہتمام نہیں کرتے۔ وہ جنابت، حیض و نفاس وغیرہ کے بعد پاک صاف ہونے کا کوئی تصور نہیں رکھتے جس کو یہ صفائی کہتے اور سمجھتے ہیں وہ اللہ کے نزدیک صفائی ستھرائی نہیں ہے (2) ان کے عقیدوں کی گندگی، ان کے عبادت کے طریقے، ان کے کلام میں فحاشیا ور ننگاپن، شرک ، کفر اور فسق و فجور میں مبتلا رہنا بھی ایسی واضح گندگی ہے جس سے ان کی…
Read the full tafseer →مشرک ناپاک ہیں : اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے حق میں یہ حکم فرمایا کہ یہ لوگ ناپاک ہیں اس لئے 9 ھ کے بعد یہ لوگ حرم شریف میں داخل نہ ہونے پائیں۔ کیونکہ کفر وشرک جو ان کے دلوں میں ہے وہ نجاست سے بھی بڑھ کر ہے اس لئے یہ لوگ پلید ہیں۔
حرم شریف میں مشرکوں کی (ممانعت) اور رزق کا ذکر
شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ جب 9 ھ میں آنحضرت ﷺ نے موسم حج کے وقت حضرت علی ؓ کو مکہ بھیج کر عام حکم سورة برات کا سنوادیا کہ آئندہ سال کوئی مشرک حج کو نہ آسکے، اور مکہ میں انہی لوگوں کے سبب سے تجارت کرنے اور کھانے پینے کا سامان لاکر اہل مکہ کی گزر ہوتی تھی۔ اب جب ان کا حرم کا آنا بند ہوگیا تو ان کا مکہ کا سفر بھی باقی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
[13] یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنگ حنین میں جو کفار مغلوب ہوئے ان میں سے اکثر مشرف با اسلام ہوئے۔
Read the full tafseer →مشرک ناپاک ہیں !:
(ف 1) یعنی مشرک عقیدوں کے ناپاک اور دلوں کے خبیث ہیں ، اس لئے اعلان برات کے بعد انہیں بیت الحرام کے قریب نہ آنے دیا جائے ،
مقصد یہ ہے کہ یہ خط پاک خالصۃ ایا ہو جس میں شرک وبت پرستی کے جراثیم کلیۃ ناپیدا ہوں ، تاکہ یہاں سے توحید خالص کے چشمے پھوٹیں اور ایک دنیا کو سیراب کردیں ۔
Read the full tafseer →28 اے ایمان والو ! سوائے اس کے نہیں کہ مشرکین ناپاک ہیں لہٰذا یہ لوگ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ انے پائیں اور اگر تم کو تجارت کے بند ہوجانے کی وجہ سے مفلسی اور تنگدستی کا خوف ہو اور تم افلاس سے ڈرتے ہو اللہ تعالیٰ چاہے گا تو بہت جلد اللہ تعالیٰ تم کو اپنے فضل سے غنی کردے گا اور ان کا محتاج نہ رکھے گا اللہ تعالیٰ بلاشبہ بڑے علم والا بڑی حکمت والا ہے۔ یعنی مشرک اپنے عقائد فاسدہ کے باعث باطنی طور پر ناپاک ہیں اور چونکہ مکہ میں آکر برہنہ ہوکر طواف کرتے ہیں اس لئے 9 ھ میں ان کا حرم میں آنا بند کردیا گیا ان مشرکوں کی وجہ سے مکہ والوں کی خوب تجارت ہوتی تھی اس لئے ان کو اطمینان دلایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
ف 1۔ یہ جو فرمایا کہ رسول پر تسلی نازل ہوئی مراد اس سے مطلق تسلی نہیں وہ تو آپ کو بلکہ وہ صحابہ جو آپ کے ساتھ رہ گئے تھے ان کو بھی حاصل تھی اور وہ اسی وجہ سے ثابت قدم رہے بلکہ مراد اس سے خاصل تسلی ہے جس سے غلبہ کی امید قریب ہوگئی۔
Read the full tafseer →اعلان عام کہ مشرک ناپاک ہیں وہ حدود حرم میں داخل نہ ہونے دیئے جائیں :
40: اس سورة مبارکہ کے شروع ہی میں کفار و مشرکین سے اعلان براءت کیا گیا تھا اور یہ اس اعلان براءت کے سلسلہ کی آخری ہدایت ہے جس کا ذکر شروع سے چلا آرہا ہے۔ اس اعلان میں فرمایا گیا کہ ” مشرکین نجس ہیں۔ “ نجس۔ نجاست پلیدی کو کہتے ہیں وہ پلیدی بھی جو ظاہری طور پر نظر سے محسوس ہو اور وہ بھی جو صرف بصیرت ہی سے معلوم ہو یعنی باطنی ناپاکی (امام راغب) اس جگہ مراد بصیرت سے معلوم ہونے والی ناپاکی ہی مراد لی جاسکتی ہے۔ مشرک خواہ کتنا ہی صاف ستھرا اور نہایا دھویا اور صاف لباس پہنے ہو ، ہر حال میں ناپاک ہے۔ ظاہر ہے کہ اس ناپاکی سے مراد…
Read the full tafseer →Commentary
A proclamation of withdrawal was made against Mushriks and disbelievers at the beginning of Surah At-Taubah. The verse appearing above describes injunctions related to this proclamation. In substance, it stipulated that treaties with disbelievers should be terminated or fulfilled within a year and after the passage of one year from this proc-lamation, no Mushrik should remain within the sacred precincts of the Haram.
This has been stated in the present verse in a particular manner that accomplishes two objectives simultaneously. It points out to the wisdom behind this injunction…
Read the full tafseer →