Explained with ayahs 25–27
نصرت الٰہی کا ذکر
مجاہد کہتے ہیں براۃ کی یہ پہلی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بہت بڑا احسان مومنوں پر ذکر فرما رہا ہے کہ اس نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھیوں کی آپ امداد فرمائی انہیں دشمنوں پر غالب کردیا اور ایک جگہ نہیں ہر جگہ اس کی مدد شامل حال رہی اسی وجہ سے فتح و ظفر نے کبھی ہم رکابی نہ چھوڑی۔ یہ صرف تائید ربانی تھی نہ کہ مال اسباب اور ہتھیار کی فراوانی اور نہ تعداد کی زیادتی۔ یاد کرلو حنین والے دن تمہیں ذرا اپنی تعداد کی کثرت پر ناز ہوگیا تو کیا حال ہوا ؟ پیٹھ دکھا کر بھاگ نکلے تھے۔ معدودے چند ہی اللہ کے پیغمبر ﷺ کے ساتھ ٹھہرے اسی وقت اللہ کی مدد نازل ہوئی اس نے دلوں میں تسکین ڈال دی یہ اس لیے…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 24
غزوہ حنین میں فتح حاصل کرنے کے بعد نبی ﷺ نے شکست خوردہ دشمنوں کے ساتھ جس فیاضی و کریم النفسی کا برتاؤ کیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں سے بیشتر آدمی مسلمان ہوگئے۔ اس مثال سے مسلمانوں کو یہ بتانا مقصود ہے کہ تم نے یہی کیوں سمجھ رکھا ہے کہ بس اب سارے مشرکین عرب تہس نہس کر ڈالے جائیں گے۔ نہیں، پہلے کے تجربات کو دیکھتے ہوئے تو تم کو یہ توقع ہونی چاہیے کہ جب نظام جاہلیت کے فروغ و بقا کی کوئی امید ان لوگوں کو باقی نہ رہے گی اور وہ سہارے ختم ہوجائیں گے جن کی وجہ سے یہ اب تک جاہلیت کو چمٹے ہوئے ہیں تو خود بخود یہ اسلام کے دامن رحمت میں پناہ لینے کے لیے آجائیں گے۔
Read the full tafseer →(آیت) ثُمَّ يَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ، یعنی پھر خدا تعالیٰ جس کو چاہیں توبہ نصیب کردیں، اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والے بڑی رحمت کرنیوالے ہیں“۔
اس میں اشارہ ہے کہ اس جہاد میں جن لوگوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب اور مفتوح ہونے کی سزا مل چکی ہے، اور ابھی تک وہ اپنے کفر پر قائم ہیں، ان میں سے بھی کچھ لوگوں کو توفیق ایمان نصیب ہوگی، چناچہ ایسا ہی واقعہ پیش آیا جس کی تفصیل یہ ہے
حنین کی فتح اور ہوازن و ثقیف کے سرداروں کا مسلمان ہو کر حاضر ہونا قیدیوں کی واپسی
حنین میں قبیلہ ہوازن و ثقیف کے کچھ سردار مارے گئے، کچھ بھاگ کھڑے ہوئے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
تفسیر آیت 25، 27۔
آیت 65۔ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ۔
کمزروں کی ہمت افزائی : لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ۔ یہ بات انہی مذبذبین کی ہمت افزائی کے لیے فرمائی گئی ہے کہ ان سے جنگ کرنے میں ہچکچاؤ نہیں، جس خدا نے بہت سے مواقع پر تمہاری مدد فرمائی ہے اس کی مدد اب بھی تہارے شامل حال ہے۔ ہجرت کے بعد سے فتح مکہ تک متعدد جنگیں مشرکین کے ساتھ ہوچکی تھیں جن میں سے ایک آدھ کے سوا سب میں اللہ…
Read the full tafseer →27۔ 1 حُنَیْن مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی ہے۔ یہاں ھَوَاذِن اور ثَقِیْف رہتے تھے، یہ دونوں قبیلے تیر اندازی میں مشہور تھے۔ یہ مسلمانوں کے خلاف لڑنے کی تیاری کر رہے تھے جس کا علم رسول اللہ ﷺ کو ہوا تو آپ 21 ہزار کا لشکر لے کر ان قبیلوں سے جنگ کے لئے حنین تشریف لے گئے، یہ فتح مکہ کے 18، 19 دن بعد، شوال کا واقعہ ہے۔ مذکورہ قبیلوں نے بھرپور تیاری کر رکھی تھی اور مختلف کمین گاہوں میں تیر اندازوں کو مقرر کردیا تھا۔ ادھر مسلمانوں میں یہ عجب پیدا ہوگیا کہ آج کم از کم قلت کی وجہ سے ہم مغلوب نہیں ہونگے۔ یعنی اللہ کی مدد کے بجائے اپنی کثرت تعداد پر اعتماد زیادہ ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کو یہ عجب کا کلمہ…
Read the full tafseer →21: اس آیت میں اشارہ فرمادیا گیا کہ ہوازن کے جو لوگ بڑے جوش و خروش کے ساتھ لڑنے کے لیے آئے تھے، ان میں سے بہت سے لوگوں کو ایمان اور توبہ کی توفیق ہوجائے گی، چنانچہ ایسا ہی ہوا، اور ہوازن اور ثقیف کے لوگوں کی بہت بڑی تعداد بعد میں مسلمان ہوئی۔ خود مالک بن عوف جو ہوازن کے سب سے بڑے سردار تھے، مسلمان ہوئے اور اسلام کے بڑے علم برداروں میں ان کا شمار ہوا۔ آج انہیں حضرت مالک بن عوف ؓ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
25 ۔ تا۔ 27: اب ذرا ماضی قریب کی یادوں کی ایک جھلکی ملاحظہ فرمائیں۔ مسلمان قریب ہی کے زمانے میں ان حالات ہو کر گزرے تھے۔ ان حالات میں اللہ کی خاص نصرت نے کرشمہ دکھایا تھا۔ یہ کرشمہ ان کی قوت اور تعداد کا نہ تھا۔ حنین کے دن تو وہ بڑی تعداد میں تھے اور بڑی قوت رکھتے تھے مگر شکست کھا گئے۔ بعد میں اللہ کی نصرت جب آئی تو حالات کا نقشہ بدل گیا۔ اس دن فتح مکہ کے دو ہزار طلقاء اسلامی لشکر میں گھل مل گئے تھے۔ چند لمحے مسلمانوں پر ایسے آگئے تھے جب وہ قوت اور کثرت کے نشے غافل ہوگئے تھے۔ محض تعداد اور سازوسامان کی وجہ سے۔ یہ سبق تھا اہل ایمان کے لیے کہ خلوص اور للہ فی اللہ جہاد کے کیا معنی ہوتے ہیں کہ جب…
Read the full tafseer →3 چناچہ ہوازن وغیرہ کو اس کے بعد توبہ نصیب ہوئی۔ اور اکثر مسلمان ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
آیت 25 لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَۃٍلا وَّیَوْمَ حُنَیْنٍلا
جیسا کہ قبل ازیں بیان ہوچکا ہے ‘ پہلے ‘ چوتھے اور پانچویں رکوع پر مشتمل یہ خطبہ ذوالقعدہ 9 ہجری میں نازل ہوا تھا ‘ جبکہ اس سے پہلے غزوۂ حنین شوال 8 ہجری میں وقوع پذیر ہوچکا تھا۔
اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ
معاملہ یوں نہیں تھا کہ لشکر میں شامل تمام مسلمانوں کو اپنی کثرت پر ناز اور فخر محسوس ہو رہا تھا۔ غزوۂ حنین میں مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی ‘ جو اس سے پہلے کبھی کسی غزوہ میں اکٹھی نہیں ہوئی تھی۔ ان میں سے دس ہزار مسلمان تو وہ تھے جو فتح مکہ کے وقت حضور ﷺ کے ہمراہ تھے ‘ اور دو ہزار لوگ مکہ سے شامل ہوئے…
Read the full tafseer →25 لونڈی غلاموں کی واپسی :۔ جنگ کا یہ انجام دیکھ کر ان قبائل کے بہت سے لوگ اسلام لے آئے۔ پھر تقریباً دو مہینہ بعد یہ لوگ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جو اس وقت مکہ میں مقیم تھے اور درخواست کی کہ ان کے اموال ان کو واپس کردیئے جائیں اور لونڈی غلام آزاد کردیئے جائیں۔ آپ اس وقت تک یہ سب کچھ مجاہدین میں تقسیم کرچکے تھے۔ آپ نے انہیں جواب دیا کہ تم بہت دیر سے آئے۔ میں تمہارا انتظار کرتا رہا۔ اب تو میں سب کچھ تقسیم کرچکا ہوں۔ اب تو یہی ہوسکتا ہے کہ تم اپنے اموال واپس لے لو یا لونڈی غلام۔ ان لوگوں نے لونڈی غلام لینے کو ترجیح دی چناچہ آپ کے ارشاد کی تعمیل کرتے ہوئے برضا ورغبت مسلمانوں نے سارے کے…
Read the full tafseer →43 ۔ چناچہ انہیں صفات مغفرت و رحمت کے تقاضہ سے بہت سے کافر مسلمان بھی ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
آیت نمبر 25 تا 29
ترجمہ : بیشک اللہ تعالیٰ نے لڑائی کے بہت سے موقعوں پر تمہاری مدد کی ہے مثلاً بدرو (بنو) قریظہ اور (بنو) نضیر (کے مقابلہ میں) اور حنین کے دن کو یاد کرو، یہ مکہ اور طائف کے درمیان وادی ہے، یعنی اس دن میں ہوازن کے ساتھ جنگ کو یاد کرو، اور یہ شوال 8 ھ میں پیش آئی جبکہ تم کو تمہاری کثرت پر نازہو گیا تھا سو تم نے کہا تھا کہ آج ہم قلت کی وجہ سے مغلوب نہ ہوں گے، اور (مسلمانوں کی تعداد) بارہ ہزار تھی اور کفار چار ہزار تھے، اِذْ یَوْمَ سے بدل ہے، لیکن اس (کثرت نے تمہیں کوئی فائدہ نہ دیا، اور زمین اپنی کشادگی کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی، ما، مصدریہ ہے یعنی اپنی وسعت کے باوجود، تم کو کوئی…
Read the full tafseer →ثم یتوب اللہ من بعد ذلک علی من یشائط پھر اس کے بعد اللہ جس کو (اسلام کی ہدایت دینی) چاہے گا اس کو توبہ کی توفیق دے دے گا۔
وا اللہ غفور رحیم۔ اور اللہ بڑا معاف کرنے والا ‘ مہربان ہے۔ ابن اسحاق نے یونس بن بکر کی وساطت سے حضرت ابن عمر کا بیان نقل کیا ہے ‘ حضرت ابن عمر نے فرمایا : میں حنین میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا۔ جب ہوازن پر مال اور اہل و عیال کی گرفتاری کی مصیبت جو پڑنی تھی ‘ وہ پڑگئی تو پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بمقام جعرانہ ‘ ہوازن کا ایک وفد آیا جس میں چودہ آدمی تھے ‘ جن میں رسول اللہ ﷺ کا رضاعی چچا بویرقان بھی شامل تھا۔ اس وفد کا سرگردہ زہیر بن صرر تھا۔ یہ سب لوگ مسلمان ہوگئے تھے۔…
Read the full tafseer →(27) پھر اس قتال اور شکست کے بعد جس نے ان میں سے توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی مغفرت فرمانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →ثُمَّ يَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ : چناچہ غزوۂ حنین کے تقریباً بیس روز بعد ہوازن کے بقیہ لوگ مسلمان ہو کر جعرانہ کے مقام پر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، رسول اللہ ﷺ کا ان لوگوں سے رضاعی رشتہ بھی تھا، کیونکہ آپ کی رضاعی ماں حلیمہ ؓ انھی سے تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو مسلمان ہونے کی توفیق بخشی، یہ اپنے اموال اور قیدی واپس لینے کی درخواست لے کر آئے۔ آپ نے فرمایا : ”تم نے آنے میں دیر کردی، میں نے غنیمت تقسیم کرنے سے پہلے تمہارا بہت انتظار کیا، اب دیکھ رہے ہو یہ لشکر میرے ساتھ ہے، اب ایک چیز کا انتخاب کرلو، یا اپنے اموال لے لو یا قیدی۔“ انھوں نے کہا، آپ ہمارے قیدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
مسئلہ نمبر . جب رسول اللہ ﷺ نے جعرانہ کے مقام پر حنین کے مال غنیمت تقسیم فرمائے، تو ہوازن کا ایک وفد اسلام کا اظہار کرتے ہوئے، اپنے اوپر عطف و مہربانی چاہتے ہوئے اور اپنے اوپر احسان کرنے کی خواہش اور طلب لے کر حاضر ہوا اور انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ بیشک آپ سارے لوگوں سے بہتر اور لوگوں سے بڑھ کر نیکو کار ہیں۔ تحقیق آپ نے ہماری اولاد ہماری عورتیں اور ہماری اموال لے لیے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے انہیں فرمایا : ” بلا شبہ میں تمہارے بارے میں غورو فکر کرتا رہاحالان کہ تقسیم واقع ہوچکی ہے اور میرے پاس وہ ہیں جنہیں تم دیکھ رہے ہو اور بیشک قول وہی ہے جو زیادہ سچا ہو پس تم اپنی اولاد یا اپنے مالوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
1:۔ فریابی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ “ کے بارے میں فرمایا یہ پہلی آیت ہے جو اللہ تعالیٰ نے سورة براۃ میں نازل فرمائی۔
2:۔ ابن ابی شیبہ و سعید ابن جبروابن منذروابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ پہلی آیت سورة براۃ میں ہے (آیت) ” لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ “ نازل ہوئی انہوں نے مدد کو پہچان لیا اور ان کو غزوہ تبوک کے لئے آمادہ کرلیا۔
3:۔ ابوالشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ ان کاموں میں سے ہے کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان پر احسان فرمایا خاص طور پر انکی مدد سے بہت…
Read the full tafseer →ثُمَّ [ پھر ] يَتُوْبُ [ توبہ قبول کرے گا ] اللّٰهُ [ اللہ ] مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ [ اس کے بعد ] عَلٰي مَنْ [ اس کی جس کی ] يَّشَاۗءُ ۭ [ وہ چاہے گا ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] غَفُوْرٌ [ بخشنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ رحم کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا۔ (ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰہُ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ عَلٰی مَنْ یَّشآءُ وَ اللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) (پھر اس کے بعد اللہ جس کی چاہے توبہ قبول فرمائے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے) ۔
جو کافر مقتول ہوجائیں وہ تو دنیا کا عذاب یہیں چکھ لیتے ہیں اور آخرت کے دائمی عذاب کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں۔ لیکن جو لوگ قتل سے بچ جائیں اللہ تعالیٰ ان میں سے جس کو چاہے توبہ کی توفیق دے دیتا ہے جو کفر چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوجاتا ہے۔ انہیں میں سے مالک بن عوف بھی تھا جو بہت بڑی جمعیت کو لے کر مقابلہ کے لیے حنین میں آیا تھا۔ جب شکست ہوئی تو طائف جا کر قلعہ بند ہوگیا لیکن آنحضرت سرور عالم ﷺ کا پیغام پہنچنے پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
ذکر قصۂ غزوہ حنین وتذکیر انعامات و عنایات در سرایا وغزوات
قال اللہ تعالیٰ ٰ ۔ لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ ویوم حنین۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ غفور رحیم۔
(ربط): شروع سورت میں براءت کا ذکر تھا جس کے ضمن میں صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کا ذکر فرمایا۔ اب ان آیات میں غزوہ حنین کا ذکر فرماتے ہیں اور اپنی ان عنایات کو یاد دلاتے ہیں کہ جو اس نے دیگر مقامات مثل جنگ بدر اور فتح مکہ میں دشمنوں کے مقابلہ میں مسلمانوں پر مبذول فرمائیں۔ تاکہ اس کی عنایات کو یاد کر کے دل اس کے شکر پر برانگیختہ ہوجائیں اور انے منعم حقیقی کے بھروسہ پر بےخوف وہراس دشمنان اسلام سے جہاد کریں اور سمجھیں کہ اصل مددگار وہی پروردگار ہے اور جانیں…
Read the full tafseer →21: چناچہ مشرکین کی فوج کے جو سپاہی قید ہوئے یا قتل سے بچ گئے تھے ان میں سے اکثریت کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی توفیق عطا فرمائی اور وہ مسلمان ہو کر دین اسلام کے سچے اور مخلص خادم بن گئے “ یعنی فبھدیه الی الاسلام کما فعل بمن بقی من ھوازن حیث اسلموا وقدموا علی رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم تائبین فمن علیھم واطلق سبیھم ” (خازن ج 3 ص 63) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں جہاد کا ذکر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو متنبہ کیا کہ اگر ان کے عزیز و اقارب ایمان کے مقابلے میں کفر کو پسند کرتے ہیں۔ تو انہیں اپنا رفیق اور دوست نہ بنائو ، ایسا کرنے والا ظالم ٹھہرے گا ، پھر فرمایا اگر تمہارے ابائو اجداد ، اولاد ، بھائی ، خاندان ، مال اور تجارت اور مکانات تمہیں اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر اللہ کی طرف سے کسی افتاد کے منتظر رہو۔ اور یہ چیز اس وقت تک دور نہیں ہوگی جب تک تم دین کی طرف واپس نہیں آجائو گے۔
اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی کثرت اور قلت تعداد کے پیش نظر فتح وشکست کا ذکر فرمایا ہے جب حضور ﷺ نے…
Read the full tafseer →ثُمَّ يَتُوْبُ اللہُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ 0 ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 27
توب
التَّوْبُ : ترک الذنب علی أجمل الوجوه وهو أبلغ وجوه الاعتذار،
فإنّ الاعتذار علی ثلاثة أوجه : إمّا أن يقول المعتذر : لم أفعل، أو يقول :
فعلت لأجل کذا، أو فعلت وأسأت وقد أقلعت، ولا رابع لذلک، وهذا الأخير هو التوبة، والتَّوْبَةُ في الشرع :
ترک الذنب لقبحه والندم علی ما فرط منه، والعزیمة علی ترک المعاودة، وتدارک ما أمكنه أن يتدارک من الأعمال بالأعمال بالإعادة، فمتی اجتمعت هذه الأربع فقد کملت شرائط التوبة . وتاب إلى الله، فذکر «إلى الله» يقتضي الإنابة، نحو : فَتُوبُوا إِلى بارِئِكُمْ [ البقرة/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
ترکیب : اولیاء جمع ولی مفعول لاتتخذوا ان شرط جملہ ما قبل دال برجز۔ حسب خبر کان یہ تمام جملہ شرط فتربصوا جواب یوم حنین مواطن سے بدل جو نصرکم ظرف ہے۔ اذ کا عامل نصر ہے تغن کا فاعل ضمیر جو کثرت کی طرف راجع ہے۔
تفسیر : مسلمانوں کو کفار سے اعلاناً جنگ کا حکم دیا گیا جہاں فریق مخالف میں سے ان کو اپنے بال بچوں کنبہ برادری سے لڑنا پڑتا تھا۔ ایک شخص مسلمان اور باقی کافر ‘ دشمن اسلام۔ ایسی صورت واقع تھی اور نیز عموماً ہجرت کا بھی حکم صادر ہوا تھا جس میں کنبہ ‘ بھائی بند ‘ جگر کے ٹکڑے ‘ چھٹتے تھے۔ تجارت بگڑتی تھی۔ افلاس کا منہ دیکھنا پڑتا تھا۔ یہ ساری باتیں ایسی تھیں جو انسان کو فطرتی طور پر جہاد و ہجرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنِ کَثِیْرَۃٍ لا وَّیَوْمَ حُنَیْنٍلااِذْاَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْکُمُ الْاَرْضُ بِمَارَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَ ج ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا وَعَذَّبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا طوَذٰلِکَ جَزَآئُ الْکٰفِرِیْنَ ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰہُ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُطوَاللّٰہُ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ ( التوبۃ : 25 تا 27)
(بےشک اللہ نے تمہاری مدد فرمائی ہے بہت سے مواقع پر اور حنین کے دن بھی جبکہ تمہیں غرہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ دین کی سربلندی کے لیے کسی کا محتاج نہیں اگر وہ چاہے تو غائبانہ اسباب سے اپنے دین کو سربلند رکھ سکتا ہے۔ جیسا کہ اس نے ہجرت کے وقت نبی ﷺ کی حفاظت کا بندوبست فرمایا تھا۔
اس سے پہلے والدین، بیٹے، بھائی، بیویاں، رشتے دار اور سب چیزوں کو اللہ اور اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ کے مقابلہ میں ناچیز سمجھنے کا حکم دیا تھا۔ جس سے مسلمان ذہنی دباؤ میں آکر اپنے آپ کو تھوڑے اور کمزور سمجھنے لگے۔ اس فکری دباؤ کو ختم کرنے کے لیے مسلمانوں کو یاد دلایا گیا ہے کہ فکر مند ہونے کے بجائے وہ مواقع یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد فرمائی۔ حالانکہ تم افرادی قوت اور جنگی سازو…
Read the full tafseer →آیت 27: ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰہُ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ (پھر اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں توبہ نصیب کردیں) اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو ان میں سے اسلام لے آئے۔ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ (اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے ہیں) اسلام کے ذریعہ وہ کافر کے کفر کو چھپا دیتا ہے۔ رَّحِیْمٌ (بڑی رحمت کرنے والے ہیں) شکست کے بعد بھی دوست کی مدد کرتا ہے۔
Read the full tafseer →27۔” ثم یتوب اللہ من بعد ذلک علی من یشاء “ پس اس کو اسلام کی طرف ہدایت دے دیتا ہے۔” واللہ غفور رحیم “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
26۔ اوپر کی آیت میں اللہ پاک نے جنگ حنین کا یہ قصہ بیان فرمایا تھا کہ مسلمانوں کو اس روز اپنی فوج کی زیادتی پر یہ خیال ہوا تھا کہ اب ہم کسی سے مغلوب نہ ہوں گے کیونکہ اس وقت کل مسلمان قریب بارہ ہزار کے تھے فتح مکہ کے بعد کل لوگ مکہ اور مدینہ کے مسلمان جب جمع ہوئے تو سب نے مل کر یہ سوچا کہ اب ہم خوب لڑیں گے اب ہم پر کوئی غالب نہیں ہوسکتا حضرت کو ان کا یہ کہنا برا معلوم ہوا تھا۔ غرض حنین کی لڑائی میں جب ہو ازن اور ثقیف کے لشکر سے مسلمانوں کا مقابلہ ہوا تو کچھ ایسا خوف دشمنوں کا ان کے دل میں سمایا کہ پیچھے ہٹ گئے مفسروں کا بیان ہے کہ ایک سو تینتیس مہاجر اور ستتر انصار کے سوا اس میدان میں کوئی بھی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 27
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے مومن بندوں پر اپنے احسان کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے بہت سی لڑائیوں اور جنگی معرکوں میں انہیں اپنی نصرت سے نوازا حتٰی کہ ” حنین ‘ کی جنگ میں جب کہ وہ انتہائی شدید صورت حال سے دوچار تھے ‘ وہ دیکھ رہے تھے کہ لوگ ان کو چھوڑ کر فرار ہورہے ہیں اور زمین اپنی کشادگی اور وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہورہی ہے۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ کو خبر پہنچی کہ بنو ہوازن آپ پر حملہ کرنے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ چناچہ آپ صحابہ کرام ؓ اور فتح مکہ کے بعد مسلمان ہونے والے قریش کو ساتھ لے کر مقابلے کے لیے نکلے اس وقت ان کی تعداد بارہ ہزار اور مشرکین کی تعداد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
دین میں رشتوں کی اہمیت
قول باری ہے (یا ایھا الذین امنوا لا تتنخذوا اباء کم و اخوانکم اولیاء ان استحبوا الکفر علی الایمان۔ اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بنائو اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں) آیت میں مسلمانوں کو کافروں سے دوستی کرنے، ان کی مدد کرنے، ان سے مدد حاصل کرنے اور اپنے معاملات ان کے حوالے کرنے سے روک دیا گیا ہے نیز ان سے بیزاری کا اظہار اور ان کی ترک تعظیم و تکریم واجب کردی گئی ہے۔ اس معاملے میں باپ بھائی سب یکساں حیثیت رکھت ہیں تاہم کافر باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور معروف طریقے سے وقت گزارنے کا حکم دیا گیا ہے چناچہ ارشاد باری ہے (ووصینا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
58 عنایات خداوندی کا دارومدار انسان کے باطن پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ توبہ کی توفیق نصیب فرماتا ہے جن کو چاہتا ہے۔ ان کی نیت اور باطن کے ہی اعتبار سے کہ جن کا باطن صحیح اور ان کی نیت درست ہوگی ان کو توبہ کی توفیق ملے گی۔ اور جو ایسے نہیں ہوں گے وہ اس توفیق و عنایت سے محروم ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ چناچہ اس واقعہ کے کچھ ہی دنوں بعد ان ہی کفار میں سے بہت سے لوگ مسلمان بن کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور آپ ﷺ نے مسلمانوں کی رائے اور مشورے سے ان کے قیدی واپس کر دئیے اور ان کے اموال بطور غنیمت مسلمانوں کے درمیان تقسیم فرما دئیے۔ (جامع البیان، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
غزوہ حنین میں اللہ کی مدد
تشریح : ان آیات میں اللہ اپنے ان احسانات کا ذکر کرتا ہے جو اکثر مسلمانوں پر خصوصی طور سے وقتاً فوقتاً کرتا رہا تو ان میں سے ایک غزوئہ حنین کا ذکر فرماتا ہے۔ پہلے حنین کا جغرافیہ جان لینا چاہیے۔ حنین مکہ اور طائف کے درمیان مکہ سے دس میل کے فاصلے پر واقعہ ہے۔ رمضان 8 ھ میں جب مکہ فتح ہوا تو قبیلہ ہوازن اور طائف کے رہنے والے بنو ثقیف نے مالک ابن عوف کی قیادت میں چار ہزار کے لشکر کے ساتھ بڑے جوش و جذبہ کے ساتھ مکہ پر حملہ کرنے کے لیے کوچ کیا (چونکہ اس وقت مسلمان مکہ میں جمع تھے) آنحضرت ﷺ کو پتہ چلا تو آپ بھی چودہ ہزار کے لشکر کے ساتھ جہاد کے لیے نکل آئے۔ مقام حنین پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
آیات 25 تا 29
اسرار و معارف
رہی بات نتائج کی تو اے مسلمانو ! اللہ نے تمہاری بیشمار مواقع پر مدد فرمائی ہے کہ قلت تعداد اور اسباب کی کمی کے باوجود تم فاتح اور غالب رہے یوم حنین ہی کو دیکھ لو !
واقعہ حنین
غزوہ حنین بھی 8 ھجری میں فتح مکہ کے بعد وقوع پذیر ہوا اس کا سبب بنوہوازن کا حملہ آور ہونا بنا مقام حنین مکہ مکرمہ سے تقریبا دس میل کے فاصلہ پر طائف کی جانب ہے مکہ مکرمہ کے نواح میں طائف تک بنوہوازن کے مختلف قبائل بکھرے ہوئے تھے اور یہ لوگ جنگجو اور بہادر بھی تھے فتح مکہ کی خبرسن کر ان کے سردار جمع ہوئے اور یہ مشورہ کیا کہ قریش نے ہتھیارڈال دئیے اب مسلمان فوج کا رخ ہماری طرف ہوگا لہٰذ اپیشتر…
Read the full tafseer →ف 7 چناچہ غزوہ حنین کے تقریبا بیس روز بعد ہوازن کے بقیہ لوگ مسلمان کے بقیہ لوگ مسلمان ہو کر جعرانہ کے مقام پر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے ان کے قیدی جو تقریبا چھ ہزار کی تعدان میں تھے انہیں واپس کردیتے ہیں لیکن مال واپس نہ کیا بلکہ اسے لڑنے والوں میں تقسیم فرمادیا۔ ( ابن کثیر )
Read the full tafseer →(9:27) یتوب اللہ۔ اللہ اپنے طرف لوٹنے کی توفیق دیگا۔ (یعنی کافروں میں سے جسے چاہے گا اپنی طرف لوٹنے کی توفیق عطا فرمائے گا اور ان کو اسلام سے مشرف فرمائیگا۔ تاب یتوب (نصر) بمعنی لوٹنا۔ رجوع کرنا (جب اللہ کی طرف اس کی نسبت ہو تو بمعنی لوٹنے یا رجوع کرنے کی توفیق بخشنا ۔ تو بہ قبول کرنا۔ رحمت سے توجہ فرمانا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 27
مواطن (موطن) ، مقامات، موقعے اعجیب (پسند ہے) لم تغن (کام نہ آئی) ضافت (تنگ ہوگئی) رحبت (وسعت، پھیلائو، گنجائش) ولیم (تم نے منہ موڑا) مدبرین (پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے) سکینۃ (سکون، اطمینان) جنود (جند) لشکر لم تروا (تم نے نہیں دیکھا)
تشریح : آیت نمبر 25 تا 27
ان تین آیتوں میں جنگ حنین میں مسلمانوں کی شکست اور پھر فتح و نصرت کی نعمت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
مکہ معظمہ سے پندرہ کلو میٹر دور طائف کے راستے میں ” حنین “ واقع ہے۔ فتح مکہ سے مشرکین کی کمر ٹوٹ چکی تھی لیکن ان کے ایک جنگ جو قبیلہ بنو ہوازن نے اسلام کے مقابلے میں ہزاروں کی فوج کو جمع کرل یا تھا۔ ان کے سردار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
گنہگاروں کی توبہ
جنگ حنین میں مسلمانوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے تسکین پیداکردی، اور علاوہ اس تسکین کے دوہری تسکین کے لئے آسمان سے فرشتے بھی بھیج دئے۔ مسلمانوں کے لشکر میں اس تسکین سے پہلے ایک صورت شکست کی پیدا ہوگئی تھی اس لئے اس دوہری تسکین کا یہ انتظام فرمایا گیا جس سے مسلمانوں کے دل خوب مظبوط ہوگئے اور وہ دوبارہ خوب جم کر لڑے۔ اس دوبارہ کی لڑائی میں مخالفوں کے بہت سے آدمی مارے گئے، ان کے بال بچے تو قید ہوگئے اور ان کا مال لوٹ لیا گیا جس کا زکر اوپر گزرا۔ غرضیکہ ان سب کو مخالفوں کے کفر کی سزا فرمائی۔ یہ پوری سزا تو انہیں کے حق میں ہوئی جن کا حالت کفر پر قتل ہونا علم الہی میں قرار پاچکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
[13] یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنگ حنین میں جو کفار مغلوب ہوئے ان میں سے اکثر مشرف با اسلام ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
غزوہ حنین :
(ف 1) 8 ھ میں فتح مکہ کے بعد ہوازن وثقیف کے قبیلوں نے جنگ کی طرح ڈال دی ان کا خیال تھا کہ اگر ہم نے مسلمانوں کو شکست دے دی ، تو مکہ والوں کی تمام جائیداد جو طائف میں ہے ، وہ ہماری ہوجائے گی ، اور ہم مسلمانوں سے بت شکنی کا انتقام بھی لے سکیں گے ،
حضور ﷺ مقابلہ کے لئے نکلے ، تو ایک جم غفیر ساتھ ہوگیا ، جس کی تعداد تقریبا بارہ ہزار تھی اس لئے مسلمان مغرور تھے ، نہایت بےپروائی سے لڑے ، نتیجہ یہ ہوا کہ شکست کھائی ، اور میدان سے بھاگ نکلے ، حضور ﷺ پہاڑ کی طرح کھڑے رہے ، اور آپ نے للکار للکار کر کہا ۔
انا النبی لا کذب
انا ابن عبدالمطلب :
آپ کے استقلال کو دیکھ کر اور دعوت کو سن کر مسلمان…
Read the full tafseer →27 پھر اس جنگ کے بعد اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا توبہ کی توفیق دیدے گا اور جس پر چاہے گا توجہ فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ یعنی باقی ماندہ کافروں میں سے جس کو چاہے گا اسلام کی توفیق دیکر اس کے گناہ بخش دے گا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں فتح مکہ کے بعد حضرت نے سنا کہ مکہ اور طائف کے بیچ کافر جمع ہیں لڑائی کو حضرت ان پر چلے دس ہزار مسلمان ساتھ تھے اول سے اور دو ہزار مل گئے مکہ سے پہاڑوں کے بیچ گزارا فوج کا تنگی سے تھا کم کم گزرنے لگے قوم ہوازن گرد میں چھپے تھے جب مکہ ولے گزرنے لگے وہ ان پر آگرے یہ الٹے بھاگے حضرت کے ساتھ والے بھی بکھر گئے حضرت پیادہ ہوکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
ف 1۔ یہ جو فرمایا کہ رسول پر تسلی نازل ہوئی مراد اس سے مطلق تسلی نہیں وہ تو آپ کو بلکہ وہ صحابہ جو آپ کے ساتھ رہ گئے تھے ان کو بھی حاصل تھی اور وہ اسی وجہ سے ثابت قدم رہے بلکہ مراد اس سے خاصل تسلی ہے جس سے غلبہ کی امید قریب ہوگئی۔
Read the full tafseer →ابھی تک کفر پر قائم رہنے والوں میں سے بعض کے اسلام قبول کرلینے کی پیش گوئی :
39: فرمایا بنی تفیف اور ہوازن نے شکست کھانے کے باوجود اگر ابھی تک کفر نہیں چھوڑا تو ہم تم کو قبل از وقت بطور پیش گوئی اطلاع دیتے ہیں کہ ان میں سے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اسلام کی طرف رغبت کریں گے اور یقیناً مسلمان ہوجائیں گے اللہ جس کو چاہے توبہ کی توفیق عطا فرمادے کیونکہ اس کا قانون مشیت اپنا کام کرتا ہی رہتا ہے اور یہی کچھ ہوا ابھی ایک مہینہ پورا نہیں گزرا تھا کہ تفیف و ہوازن کے لاتعداد لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام کو قبول کیا اور ہوازن کے چودہ سرداروں کا یک وفد زہیر بن صرف کی قیادت میں آپ ﷺ کے…
Read the full tafseer →: ثُمَّ يَتُوبُ اللَّـهُ مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ (Yet Allah relents, after that, to whomsoever He wills). As for the details of events that came to pass during the battle of Hunain, part of it has been mentioned in the Qur'an while the rest has been taken from authentic narrations of Hadith. (Mazhari and Ibn Kathir)
Injunctions and Rulings
Many injunctions, rulings and subsidiary elements of guidance appear here under the shadows of these events. In fact, they are the very purpose of the narration of these events.
The very first instruction given in these verses is that Muslims should never wax…
Read the full tafseer →