Explained with ayahs 25–27
نصرت الٰہی کا ذکر
مجاہد کہتے ہیں براۃ کی یہ پہلی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بہت بڑا احسان مومنوں پر ذکر فرما رہا ہے کہ اس نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھیوں کی آپ امداد فرمائی انہیں دشمنوں پر غالب کردیا اور ایک جگہ نہیں ہر جگہ اس کی مدد شامل حال رہی اسی وجہ سے فتح و ظفر نے کبھی ہم رکابی نہ چھوڑی۔ یہ صرف تائید ربانی تھی نہ کہ مال اسباب اور ہتھیار کی فراوانی اور نہ تعداد کی زیادتی۔ یاد کرلو حنین والے دن تمہیں ذرا اپنی تعداد کی کثرت پر ناز ہوگیا تو کیا حال ہوا ؟ پیٹھ دکھا کر بھاگ نکلے تھے۔ معدودے چند ہی اللہ کے پیغمبر ﷺ کے ساتھ ٹھہرے اسی وقت اللہ کی مدد نازل ہوئی اس نے دلوں میں تسکین ڈال دی یہ اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
سورة التَّوْبَة 23
جو لوگ اس بات سے ڈرتے تھے کہ اعلان براءت کی خطرناک پالیسی پر عمل کرنے سے تمام عرب کے گوشے گوشے میں جنگ کی آگ بھڑک اٹھے گے اور اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہوگا، ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ ان اندیشوں سے کیوں ڈرے جاتے ہو، جو خدا اس سے بہت زیادہ سخت خطرات کے موقعوں پر تمہاری مدد کرچکا ہے وہ اب بھی تمہاری مدد کو موجود ہے۔ اگر یہ کام تمہاری قوت پر منحصر ہوتا تو مکہ ہی سے آگے نہ بڑھتا، ورنہ بدر میں تو ضرور ہی ختم ہوجاتا۔ مگر اس کی پشت پر تو اللہ کی طاقت ہے اور پچھلے تجربات تم پر ثابت کرچکے ہیں کہ اللہ ہی کی طاقت اب تک اس کو فروغ دیتی رہی ہے۔ لہٰذا یقین رکھو کہ آج بھی وہی اسے فروغ دے…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰي رَسُوْلِهٖ وَعَلَي الْمُؤ ْمِنِيْنَ ، یعنی پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور سب مسلمانوں پر اپنی تسلی نازل فرمادی“۔
معنی اس کے یہ ہیں کہ غزوہ حنین کے ابتدائی ہلہ میں جن صحابہ کرام کے پاؤں اکھڑ گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے قلوب پر اپنی تسلی نازل فرمادی، جس سے ان کے اکھڑے ہوئے قدم جم گئے اور بھاگنے والے پھر لوٹ آئے، اور رسول کریم ﷺ پر اور ان صحابہ پر جو مضبوطی کے ساتھ محاذ پر جمے رہے تسلی نازل فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو اپنی فتح قریب نظر آنے لگی، اور چونکہ تسلی کی یہ دو قسمیں تھیں ایک بھاگنے والوں کے لئے دوسری رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
تفسیر آیت 25، 27۔
آیت 65۔ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ۔
کمزروں کی ہمت افزائی : لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ۔ یہ بات انہی مذبذبین کی ہمت افزائی کے لیے فرمائی گئی ہے کہ ان سے جنگ کرنے میں ہچکچاؤ نہیں، جس خدا نے بہت سے مواقع پر تمہاری مدد فرمائی ہے اس کی مدد اب بھی تہارے شامل حال ہے۔ ہجرت کے بعد سے فتح مکہ تک متعدد جنگیں مشرکین کے ساتھ ہوچکی تھیں جن میں سے ایک آدھ کے سوا سب میں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
24۔ 1 اس آیت میں بھی اس مضمون کو بڑے مؤکد انداز میں بیان کیا گیا ہے عشیرۃ اسم جمع ہے، وہ قریب ترین رشتہ دار جن کے ساتھ آدمی زندگی کے شب و روز گزارتا ہے، یعنی کنبہ قبیلہ، اقتراف، کسب (کمائی) کے معنی کے لئے آتا ہے، تجارت، سودے کی خریدو فروخت کو کہتے ہیں جس کا مقصد نفع کا حصول ہو، کساد، مندے کو کہتے ہیں یعنی سامان فروخت موجود ہو لیکن خریدار نہ ہو یا اس چیز کا وقت گز رچکا ہو، جس کی وجہ سے لوگوں کو ضرورت نہ رہے۔ دونوں صورتیں مندے کی ہیں۔ مساکن سے مراد وہ گھر ہیں جنہیں انسان موسم کے شدائد و حوادث سے بچنے آبرومندانہ طریقے سے رہنے سہنے اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کے لئے تعمیر کرتا ہے، یہ ساری چیزیں…
Read the full tafseer →20: یہ اس وقت کا ذکر ہے جب میدان چھوڑنے والے مسلمان حضرت عباس ؓ کی آواز سن کر واپس آئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کی ایسی تسکین پیدا فرما دی کہ ان پر دشمن کا جو رعب وقتی طور پر چھا گیا تو وہ دور ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
25 ۔ تا۔ 27: اب ذرا ماضی قریب کی یادوں کی ایک جھلکی ملاحظہ فرمائیں۔ مسلمان قریب ہی کے زمانے میں ان حالات ہو کر گزرے تھے۔ ان حالات میں اللہ کی خاص نصرت نے کرشمہ دکھایا تھا۔ یہ کرشمہ ان کی قوت اور تعداد کا نہ تھا۔ حنین کے دن تو وہ بڑی تعداد میں تھے اور بڑی قوت رکھتے تھے مگر شکست کھا گئے۔ بعد میں اللہ کی نصرت جب آئی تو حالات کا نقشہ بدل گیا۔ اس دن فتح مکہ کے دو ہزار طلقاء اسلامی لشکر میں گھل مل گئے تھے۔ چند لمحے مسلمانوں پر ایسے آگئے تھے جب وہ قوت اور کثرت کے نشے غافل ہوگئے تھے۔ محض تعداد اور سازوسامان کی وجہ سے۔ یہ سبق تھا اہل ایمان کے لیے کہ خلوص اور للہ فی اللہ جہاد کے کیا معنی ہوتے ہیں کہ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
2 پچھلی آیت میں تنبیہ کی گئی تھی کہ جہاد فی سبیل اللہ کے وقت مومنین کو کنبہ، برداری، اموال و املاک وغیرہ کسی چیز پر نظر نہ ہونی چاہیے، یہاں آگاہ فرمایا ہے کہ مجاہدین کو خود اپنی فوجی جمعیت و کثرت پر گھمنڈ نہ کرنا چاہیے۔ نصرت و کامیابی اکیلے خدا کی مدد سے ہے۔ جس کا تجربہ پیشتر بھی بہت سے میدانوں میں تم کرچکے ہو۔ بدر، قریظہ و نضیر اور حدیبیہ وغیرہ میں جو کچھ نتائج رونما ہوئے، وہ محض امداد الٰہی و تائید غیبی کا کرشمہ تھا۔ اور اب اخیر میں غزوہ حنین کا واقعہ تو ایسا صریح اور عجیب و غریب نشان آسمانی نصرت و امداد کا ہے جس کا اقرار سخت معاند دشمنوں تک کو کرنا پڑا ہے۔ فتح مکہ کے بعد فوراً آپ کو اطلاع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
آیت 25 لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَۃٍلا وَّیَوْمَ حُنَیْنٍلا
جیسا کہ قبل ازیں بیان ہوچکا ہے ‘ پہلے ‘ چوتھے اور پانچویں رکوع پر مشتمل یہ خطبہ ذوالقعدہ 9 ہجری میں نازل ہوا تھا ‘ جبکہ اس سے پہلے غزوۂ حنین شوال 8 ہجری میں وقوع پذیر ہوچکا تھا۔
اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ
معاملہ یوں نہیں تھا کہ لشکر میں شامل تمام مسلمانوں کو اپنی کثرت پر ناز اور فخر محسوس ہو رہا تھا۔ غزوۂ حنین میں مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی ‘ جو اس سے پہلے کبھی کسی غزوہ میں اکٹھی نہیں ہوئی تھی۔ ان میں سے دس ہزار مسلمان تو وہ تھے جو فتح مکہ کے وقت حضور ﷺ کے ہمراہ تھے ‘ اور دو ہزار لوگ مکہ سے شامل ہوئے…
Read the full tafseer →24 آپ کا ریت کی مٹھی پھینکنا اور نصرت الہٰی کی صورتیں :۔ مدد کی بھی کئی صورتیں تھیں ان میں سے دو کا ذکر تو اس آیت میں ہے۔ یعنی اونگھ طاری کر کے مسلمانوں کو تسکین بخشنا اور فرشتوں کا نزول جو اس جنگ میں لڑے نہیں بلکہ صرف کافروں کو مرعوب کرنے کے لیے بھیجے گئے اور تیسری قسم کا ذکر درج ذیل حدیث میں ہے۔ مدد کی انہی صورتوں سے پہلے اللہ نے بدر اور احد میں بھی مسلمانوں کی مدد فرمائی تھی۔
سیدنا سلمہ بن اکوع کہتے ہیں کہ جب دشمنوں نے آپ کو گھیر لیا تو آپ خچر سے اترے اور زمین سے ایک مٹھی خاک اٹھائی اور کفار کی طرف پھینکی۔ پھر آپ نے فرمایا دشمنوں کے چہرے بگڑ جائیں۔ پھر کفار میں سے کوئی بھی ایسا نہ بچا جس…
Read the full tafseer →40 ۔ چناچہ جو ہٹ گئے تھے، وہ پھر میدان میں آکر جم گئے، (آیت) ” سکینتہ علی رسولہ “۔ مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ مراد اس سے مطلق تسلی نہیں، وہ تو آپ ﷺ کو اور جو صحابی آپ کے ہمراہ رہ گئے تھے انہیں حاصل ہی تھی، اور اسی بنا پر وہ ثابت قدم بھی رہے بلکہ مراد اس سے تسلی خاص ہے جس سے سب کو غلبہ کی امید ہوگئی، مرشد تھانوی نے فرمایا کہ ترک عجب نزول سکینت کا سبب ہوجاتا ہے۔
41 ۔ (یعنی ملائکہ آسمانی) یعنی الملائکہ (مدارک) ھم الملائکۃ بلاخلاف (بحر) (آیت) ” لم تروھا “۔ سے مراد صرف اس قدر ہے کہ وہ لشکر عام طور سے انسان کے لئے غیر مرئی تھا، اگر اتفاق سے کسی صحابی کو بہ طور کرامت یا خرق عادت کوئی فرشتہ نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
آیت نمبر 25 تا 29
ترجمہ : بیشک اللہ تعالیٰ نے لڑائی کے بہت سے موقعوں پر تمہاری مدد کی ہے مثلاً بدرو (بنو) قریظہ اور (بنو) نضیر (کے مقابلہ میں) اور حنین کے دن کو یاد کرو، یہ مکہ اور طائف کے درمیان وادی ہے، یعنی اس دن میں ہوازن کے ساتھ جنگ کو یاد کرو، اور یہ شوال 8 ھ میں پیش آئی جبکہ تم کو تمہاری کثرت پر نازہو گیا تھا سو تم نے کہا تھا کہ آج ہم قلت کی وجہ سے مغلوب نہ ہوں گے، اور (مسلمانوں کی تعداد) بارہ ہزار تھی اور کفار چار ہزار تھے، اِذْ یَوْمَ سے بدل ہے، لیکن اس (کثرت نے تمہیں کوئی فائدہ نہ دیا، اور زمین اپنی کشادگی کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی، ما، مصدریہ ہے یعنی اپنی وسعت کے باوجود، تم کو کوئی…
Read the full tafseer →ثم انزل اللہ سکینتہ علی رسولہ وعلی المؤمنین اس کے بعد اللہ نے رسول (کے قلب) پر اور مؤمنوں (کے دلوں) پر تسلی نازل فرمائی۔ سکینہ سے مراد ہے اللہ کی رحمت جس کی وجہ سے لوگ جم گئے اور محفوظ رہے۔ المؤمنین سے مراد وہ مسلمان ہیں جو شکست کھا کر تتر بتر ہوگئے تھے۔ رسول کا ذکر اس وجہ سے کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی کی برکت اور آپ کے وسیلہ سے ہی شکست پانے والوں پر اللہ کی رحمت نازل ہوئی تھی اور چونکہ رسول ﷺ اور مؤمنین کے احوال الگ الگ تھے ‘ اسلئے عَلٰی کو بھی الگ الگ دو بار ذکر کیا۔
بعض کے نزدیک المؤمنین سے مراد وہ مسلمان ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہے ‘ بھاگے نہ تھے۔ بیہقی نے دلائل میں اور…
Read the full tafseer →(26) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تسلی نازل فرمائی اور آسمان سے تمہاری مدد کے لیے فرشتے اتارے اور مالک بن عوف وہمانی کی قوم اور کنانۃ بن عبد یا لیل ثقفی کی قوم کو قتل وشکست کا عذاب دیا ان لوگوں کی یہی سزا ہے ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ : بدر میں اپنے انعامات کے تذکرے، جہاد کی ترغیب، کفار سے دوستی ترک کرنے کی تلقین اور دنیا کی ہر چیز پر اللہ اور اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ کی ترجیح کے حکم کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے اپنے کچھ مزید انعامات ذکر فرمائے، جن میں حنین کا خاص ذکر فرمایا، مگر حنین کا ذکر کرنے سے پہلے بہت سے گزشتہ مواقع میں (فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ) اپنی مدد کا ذکر فرمایا، ان میں ہجرت (فَقَدْ نَــصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا) [ التوبۃ : 40 ] بدر (وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ) [ آل عمران : 123 ] احد (وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
مسئلہ نمبر . جب رسول اللہ ﷺ نے جعرانہ کے مقام پر حنین کے مال غنیمت تقسیم فرمائے، تو ہوازن کا ایک وفد اسلام کا اظہار کرتے ہوئے، اپنے اوپر عطف و مہربانی چاہتے ہوئے اور اپنے اوپر احسان کرنے کی خواہش اور طلب لے کر حاضر ہوا اور انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ بیشک آپ سارے لوگوں سے بہتر اور لوگوں سے بڑھ کر نیکو کار ہیں۔ تحقیق آپ نے ہماری اولاد ہماری عورتیں اور ہماری اموال لے لیے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے انہیں فرمایا : ” بلا شبہ میں تمہارے بارے میں غورو فکر کرتا رہاحالان کہ تقسیم واقع ہوچکی ہے اور میرے پاس وہ ہیں جنہیں تم دیکھ رہے ہو اور بیشک قول وہی ہے جو زیادہ سچا ہو پس تم اپنی اولاد یا اپنے مالوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
1:۔ فریابی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ “ کے بارے میں فرمایا یہ پہلی آیت ہے جو اللہ تعالیٰ نے سورة براۃ میں نازل فرمائی۔
2:۔ ابن ابی شیبہ و سعید ابن جبروابن منذروابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ پہلی آیت سورة براۃ میں ہے (آیت) ” لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ “ نازل ہوئی انہوں نے مدد کو پہچان لیا اور ان کو غزوہ تبوک کے لئے آمادہ کرلیا۔
3:۔ ابوالشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ ان کاموں میں سے ہے کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان پر احسان فرمایا خاص طور پر انکی مدد سے بہت…
Read the full tafseer →ثُمَّ [ پھر ] اَنْزَلَ [ اتاری ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] سَكِيْنَتَهٗ [ اپنی سکینت ] عَلٰي رَسُوْلِهٖ [ اپنے رسول پر ] وَعَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ [ اور مومنوں پر ] وَاَنْزَلَ [ اور اس نے اتارے ] جُنُوْدًا [ ایسے لشکر ] لَّمْ تَرَوْهَا ۚ [ تم لوگوں نے نہیں دیکھا جن کو ] وَعَذَّبَ [ اور اس نے عذاب دیا ] الَّذِيْنَ [ ان کو جنھوں نے ] كَفَرُوْا ۭ [ کفر کیا ] وَذٰلِكَ [ اور یہ (ہی ) ] جَزَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ [ کافروں کا بدلہ ہے ]
Read the full tafseer →حنین میں فرشتوں کا نزول :
مسلمانوں کو اول شکست ہوئی۔ اور ایسی شکست ہوئی کہ زمین ان کے لیے تنگ ہوگئی اور سبب اس کا وہی ہوا کہ بعض مسلمانوں نے کہہ دیا کہ آج تو ہم تعداد میں بہت ہیں شکست کا احتمال ہی نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور رسول اللہ ﷺ پر سکینہ نازل فرمایا اور سکون و اطمینان کے ساتھ دو بارہ جنگ کرنے لگے جس سے دشمنوں نے شکست کھائی۔
قرآن مجید میں غزوۂ حنین کا ذکر کرتے ہوئے (وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا) بھی فرمایا (اور اللہ نے لشکر اتارے جنہیں تم نے نہیں دیکھا) صاحب معالم التنزیل (ص 281 ج 2) میں فرماتے ہیں یعنی : الملائکۃ قیل لا للقتال و لکن لتجبین الکفار و تشجیع المسلمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
ذکر قصۂ غزوہ حنین وتذکیر انعامات و عنایات در سرایا وغزوات
قال اللہ تعالیٰ ٰ ۔ لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ ویوم حنین۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ غفور رحیم۔
(ربط): شروع سورت میں براءت کا ذکر تھا جس کے ضمن میں صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کا ذکر فرمایا۔ اب ان آیات میں غزوہ حنین کا ذکر فرماتے ہیں اور اپنی ان عنایات کو یاد دلاتے ہیں کہ جو اس نے دیگر مقامات مثل جنگ بدر اور فتح مکہ میں دشمنوں کے مقابلہ میں مسلمانوں پر مبذول فرمائیں۔ تاکہ اس کی عنایات کو یاد کر کے دل اس کے شکر پر برانگیختہ ہوجائیں اور انے منعم حقیقی کے بھروسہ پر بےخوف وہراس دشمنان اسلام سے جہاد کریں اور سمجھیں کہ اصل مددگار وہی پروردگار ہے اور جانیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
20: خطاب ایمان والوں سے ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے مومنین پر اپنے اعنامِ نصرت کا اظہار فرمایا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے بہت سے مواقع پر دشمن کے مقابلے میں تمہاری مدد کی اور تمہیں فتح عطا فرمائی اس لیے تم کسی وقت بھی مشرکین سے قتال کرنے سے ہمت مت ہارو اللہ تمہارا حامی و مددگار ہے۔ “ خطاب للمومنین خاصة وامتنان علیھم بالنصرة علی الاعدء التی یترک لھا الیغیور احب الاشیاء الیه ” (روح ج 10 ص 72) ۔ حنین مکہ اور طائف کے درمیان مکہ سے تین میل کے فاصلہ پر واقع ایک وادی کا نام ہے۔ یہاں فتح مکہ کے بعد ہوازن، ثقیف وغیرہ قبائل مشرکین سے مسلمانوں کی جنگ ہوئی تھی۔ مشرکین چار ہزار تھے اور مسلمان بارہ ہزار۔ بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں جہاد کا ذکر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو متنبہ کیا کہ اگر ان کے عزیز و اقارب ایمان کے مقابلے میں کفر کو پسند کرتے ہیں۔ تو انہیں اپنا رفیق اور دوست نہ بنائو ، ایسا کرنے والا ظالم ٹھہرے گا ، پھر فرمایا اگر تمہارے ابائو اجداد ، اولاد ، بھائی ، خاندان ، مال اور تجارت اور مکانات تمہیں اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر اللہ کی طرف سے کسی افتاد کے منتظر رہو۔ اور یہ چیز اس وقت تک دور نہیں ہوگی جب تک تم دین کی طرف واپس نہیں آجائو گے۔
اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی کثرت اور قلت تعداد کے پیش نظر فتح وشکست کا ذکر فرمایا ہے جب حضور ﷺ نے…
Read the full tafseer →ثُمَّ اَنْزَلَ اللہُ سَكِيْنَتَہٗ عَلٰي رَسُوْلِہٖ وَعَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْہَا وَعَذَّبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا 0 ۭ وَذٰلِكَ جَزَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ 26
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
ترکیب : اولیاء جمع ولی مفعول لاتتخذوا ان شرط جملہ ما قبل دال برجز۔ حسب خبر کان یہ تمام جملہ شرط فتربصوا جواب یوم حنین مواطن سے بدل جو نصرکم ظرف ہے۔ اذ کا عامل نصر ہے تغن کا فاعل ضمیر جو کثرت کی طرف راجع ہے۔
تفسیر : مسلمانوں کو کفار سے اعلاناً جنگ کا حکم دیا گیا جہاں فریق مخالف میں سے ان کو اپنے بال بچوں کنبہ برادری سے لڑنا پڑتا تھا۔ ایک شخص مسلمان اور باقی کافر ‘ دشمن اسلام۔ ایسی صورت واقع تھی اور نیز عموماً ہجرت کا بھی حکم صادر ہوا تھا جس میں کنبہ ‘ بھائی بند ‘ جگر کے ٹکڑے ‘ چھٹتے تھے۔ تجارت بگڑتی تھی۔ افلاس کا منہ دیکھنا پڑتا تھا۔ یہ ساری باتیں ایسی تھیں جو انسان کو فطرتی طور پر جہاد و ہجرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنِ کَثِیْرَۃٍ لا وَّیَوْمَ حُنَیْنٍلااِذْاَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْکُمُ الْاَرْضُ بِمَارَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَ ج ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا وَعَذَّبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا طوَذٰلِکَ جَزَآئُ الْکٰفِرِیْنَ ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰہُ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُطوَاللّٰہُ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ ( التوبۃ : 25 تا 27)
(بےشک اللہ نے تمہاری مدد فرمائی ہے بہت سے مواقع پر اور حنین کے دن بھی جبکہ تمہیں غرہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ دین کی سربلندی کے لیے کسی کا محتاج نہیں اگر وہ چاہے تو غائبانہ اسباب سے اپنے دین کو سربلند رکھ سکتا ہے۔ جیسا کہ اس نے ہجرت کے وقت نبی ﷺ کی حفاظت کا بندوبست فرمایا تھا۔
اس سے پہلے والدین، بیٹے، بھائی، بیویاں، رشتے دار اور سب چیزوں کو اللہ اور اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ کے مقابلہ میں ناچیز سمجھنے کا حکم دیا تھا۔ جس سے مسلمان ذہنی دباؤ میں آکر اپنے آپ کو تھوڑے اور کمزور سمجھنے لگے۔ اس فکری دباؤ کو ختم کرنے کے لیے مسلمانوں کو یاد دلایا گیا ہے کہ فکر مند ہونے کے بجائے وہ مواقع یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد فرمائی۔ حالانکہ تم افرادی قوت اور جنگی سازو…
Read the full tafseer →نزولِ سکینہ :
آیت 26: ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ (پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی تسلی اتاری) اس کی وہ رحمت جس سے ان کو سکون ملا اور وہ ایمان لائے۔ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا (اور ایسے لشکر نازل فرمائے جن کو تم نے نہیں دیکھا) یعنی ملائکہ، فرشتوں کی تعداد آٹھ ہزار تھی یا پانچ ہزار تھی یا سولہ ہزار تھی۔ وَعَذَّبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (اور کافروں کو سزا دی) قتل اور قید کا اور عورتوں اور بچوں کے قیدی بننے کا وَذٰلِکَ جَزَآئُ الْکٰفِرِیْنَ (اور یہ کافروں کی سزا ہے)
Read the full tafseer →تفسیر 26۔” ثم انزل اللہ “ شکست کے بعد ” سکینتہ “ کا معنی امن و اطمینان سے کیا ہے۔ یہ فعلیہ کے وزن پر سکون کے ساتھ ہے۔ ” علی رسولہ وعلی المومنین وانزل جنودالم تروھا “ جنود سے مراد فرشتے ہیں ۔ کہا گیا ہے کہ یہ فرشتے قتال کے لیے نہیں اتارے گئے تھے بلکہ کفار کوہ بزدل کرنے اور مومنین کو بہادر کرنے کے لیے اتارے گئے تھے کیونکہ یہ بات روایت کی گئی ہے کہ فرشتوں نے بدر کے علاوہ کسی جنگ میں قتال نہیں کیا ۔ ” وعذب الذین کفروا “ قتل ، قید اور مال چھین کر عذاب دیا گیا ” وذلک جزاء الکفرین “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
26۔ اوپر کی آیت میں اللہ پاک نے جنگ حنین کا یہ قصہ بیان فرمایا تھا کہ مسلمانوں کو اس روز اپنی فوج کی زیادتی پر یہ خیال ہوا تھا کہ اب ہم کسی سے مغلوب نہ ہوں گے کیونکہ اس وقت کل مسلمان قریب بارہ ہزار کے تھے فتح مکہ کے بعد کل لوگ مکہ اور مدینہ کے مسلمان جب جمع ہوئے تو سب نے مل کر یہ سوچا کہ اب ہم خوب لڑیں گے اب ہم پر کوئی غالب نہیں ہوسکتا حضرت کو ان کا یہ کہنا برا معلوم ہوا تھا۔ غرض حنین کی لڑائی میں جب ہو ازن اور ثقیف کے لشکر سے مسلمانوں کا مقابلہ ہوا تو کچھ ایسا خوف دشمنوں کا ان کے دل میں سمایا کہ پیچھے ہٹ گئے مفسروں کا بیان ہے کہ ایک سو تینتیس مہاجر اور ستتر انصار کے سوا اس میدان میں کوئی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
آیت 23
اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے اے ” مومنوں ! “ ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ جو ایمان کے تقاضوں کو پارا کرتا ہے اس کے ساتھ موالات رکھو ‘ جو ان تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ان سے عداوت رکھو اور ” نہ بناؤ تم اپنے باپوں اور بھائیوں کو دوست “ جو لوگوں میں سے سب سے زیادہ تمہارے قریب ہیں اور دوسرے لوگوں کے بارے میں تو زیادہ اولٰی ہے کہ تم ان کو دوست نہ بناؤ۔ ” اگر وہ کفر کو پسند کریں ایمان کے مقابلے میں “ یعنی اگر وہ برضاو رغبت اور محبت سے ایمان پر کفر کو ترجیح دیں۔ ” اور جو بھی دوستی کرے گا ان سے تم میں سے ‘ پس وہی لوگ ہیں ظالم “ کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جسارت کی اور اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
دین میں رشتوں کی اہمیت
قول باری ہے (یا ایھا الذین امنوا لا تتنخذوا اباء کم و اخوانکم اولیاء ان استحبوا الکفر علی الایمان۔ اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بنائو اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں) آیت میں مسلمانوں کو کافروں سے دوستی کرنے، ان کی مدد کرنے، ان سے مدد حاصل کرنے اور اپنے معاملات ان کے حوالے کرنے سے روک دیا گیا ہے نیز ان سے بیزاری کا اظہار اور ان کی ترک تعظیم و تکریم واجب کردی گئی ہے۔ اس معاملے میں باپ بھائی سب یکساں حیثیت رکھت ہیں تاہم کافر باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور معروف طریقے سے وقت گزارنے کا حکم دیا گیا ہے چناچہ ارشاد باری ہے (ووصینا…
Read the full tafseer →56 فرشتوں کی غیبی مدد کی عنایت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر اللہ نے اتارے ایسے لشکر جو تم لوگوں کی نظر میں آ رہے تھے۔ یعنی فرشتوں کے لشکر (جامع البیان، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو فرشتوں کے یہ لشکر اللہ تعالیٰ نے تمہاری نصرت و امداد کیلئے فوری اور خاص طور پر بھیجے اور یہ بھی ظاہری اسباب کے درجے میں تاکہ اس سے تمہارے دلوں کے اطمینان کا سامان ہوسکے۔ ورنہ اصل مدد پھر بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے تھی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے کلمات حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا { وَمَا النَّصْرُ الاَّ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ }۔ یعنی " مدد تو اصل میں اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے جو کہ بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
غزوہ حنین میں اللہ کی مدد
تشریح : ان آیات میں اللہ اپنے ان احسانات کا ذکر کرتا ہے جو اکثر مسلمانوں پر خصوصی طور سے وقتاً فوقتاً کرتا رہا تو ان میں سے ایک غزوئہ حنین کا ذکر فرماتا ہے۔ پہلے حنین کا جغرافیہ جان لینا چاہیے۔ حنین مکہ اور طائف کے درمیان مکہ سے دس میل کے فاصلے پر واقعہ ہے۔ رمضان 8 ھ میں جب مکہ فتح ہوا تو قبیلہ ہوازن اور طائف کے رہنے والے بنو ثقیف نے مالک ابن عوف کی قیادت میں چار ہزار کے لشکر کے ساتھ بڑے جوش و جذبہ کے ساتھ مکہ پر حملہ کرنے کے لیے کوچ کیا (چونکہ اس وقت مسلمان مکہ میں جمع تھے) آنحضرت ﷺ کو پتہ چلا تو آپ بھی چودہ ہزار کے لشکر کے ساتھ جہاد کے لیے نکل آئے۔ مقام حنین پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
آیات 25 تا 29
اسرار و معارف
رہی بات نتائج کی تو اے مسلمانو ! اللہ نے تمہاری بیشمار مواقع پر مدد فرمائی ہے کہ قلت تعداد اور اسباب کی کمی کے باوجود تم فاتح اور غالب رہے یوم حنین ہی کو دیکھ لو !
واقعہ حنین
غزوہ حنین بھی 8 ھجری میں فتح مکہ کے بعد وقوع پذیر ہوا اس کا سبب بنوہوازن کا حملہ آور ہونا بنا مقام حنین مکہ مکرمہ سے تقریبا دس میل کے فاصلہ پر طائف کی جانب ہے مکہ مکرمہ کے نواح میں طائف تک بنوہوازن کے مختلف قبائل بکھرے ہوئے تھے اور یہ لوگ جنگجو اور بہادر بھی تھے فتح مکہ کی خبرسن کر ان کے سردار جمع ہوئے اور یہ مشورہ کیا کہ قریش نے ہتھیارڈال دئیے اب مسلمان فوج کا رخ ہماری طرف ہوگا لہٰذ اپیشتر…
Read the full tafseer →ف 6 اس جنگ میں بھی جنود ( فرشتے) نازل ہوئے مگر تحقیق یہ ہے کہ یہ فرشتے کافروں پر عب ڈالنے کے لی اترے تھے، انہوں نے اس لڑائی میں عملا حصہ نہیں لیا تھا، لڑائی صرف بدر میں لڑی۔ (وحیدی) سائب بن یسار ؓ کہتے ہیں کہ یزید بن عامر سوائی نے جنگ حنین میں کافروں کا ساتھ دیا تھا۔ بعد میں وہ مسلمان ہوگئے تھے ہم جنگ حنین میں اس رعب کی کی کیفیت دریافت کرتے تو تو وہ ایک کنکری ٹب میں پھینک کر کہا کرتے کہ جس طرح یہ ٹن کی آواز آتی ہے اسی طرح کی آواز ہم اپنے پیٹوں میں محسوس کرتے تھے اور اس سے ہماری دل لرز جاتے تھے، واللہ اعلم، ( ابن کثیر)
Read the full tafseer →(9:26) سکینتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ سکینہ وہ اطمینان ۔ چین و قرار اور سکون ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندہ کے قلب میں اس وقت نازل فرماتا ہے جب کہ وہ ہولناکیوں کی شدت سے مضطرب ہوجاتا ہے۔ پھر اس کے بعد جو کچھ بھی اس پر گزرے وہ اس سے گھبراتا نہیں یہ اس کے لئے ایمان کی زیادتی یقین میں قوت اور استقلال پیدا کردیتا ہے۔
لم تروھا۔ اصل میں ترون (مضارع جمع مذکر حاضر) لم کی وجہ سے ن اعرابی گرگیا ۔ جن کو تم نے نہ دیکھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 27
مواطن (موطن) ، مقامات، موقعے اعجیب (پسند ہے) لم تغن (کام نہ آئی) ضافت (تنگ ہوگئی) رحبت (وسعت، پھیلائو، گنجائش) ولیم (تم نے منہ موڑا) مدبرین (پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے) سکینۃ (سکون، اطمینان) جنود (جند) لشکر لم تروا (تم نے نہیں دیکھا)
تشریح : آیت نمبر 25 تا 27
ان تین آیتوں میں جنگ حنین میں مسلمانوں کی شکست اور پھر فتح و نصرت کی نعمت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
مکہ معظمہ سے پندرہ کلو میٹر دور طائف کے راستے میں ” حنین “ واقع ہے۔ فتح مکہ سے مشرکین کی کمر ٹوٹ چکی تھی لیکن ان کے ایک جنگ جو قبیلہ بنو ہوازن نے اسلام کے مقابلے میں ہزاروں کی فوج کو جمع کرل یا تھا۔ ان کے سردار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
گنہگاروں کی توبہ
جنگ حنین میں مسلمانوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے تسکین پیداکردی، اور علاوہ اس تسکین کے دوہری تسکین کے لئے آسمان سے فرشتے بھی بھیج دئے۔ مسلمانوں کے لشکر میں اس تسکین سے پہلے ایک صورت شکست کی پیدا ہوگئی تھی اس لئے اس دوہری تسکین کا یہ انتظام فرمایا گیا جس سے مسلمانوں کے دل خوب مظبوط ہوگئے اور وہ دوبارہ خوب جم کر لڑے۔ اس دوبارہ کی لڑائی میں مخالفوں کے بہت سے آدمی مارے گئے، ان کے بال بچے تو قید ہوگئے اور ان کا مال لوٹ لیا گیا جس کا زکر اوپر گزرا۔ غرضیکہ ان سب کو مخالفوں کے کفر کی سزا فرمائی۔ یہ پوری سزا تو انہیں کے حق میں ہوئی جن کا حالت کفر پر قتل ہونا علم الہی میں قرار پاچکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
[12] حنین، طائف اور مکہ کے درمیان ایک وادی کا نام ہے۔ فتح مکہ کے دو ہی ہفتے کے بعد یہاں مسلمانوں کا مقابلہ ہوازن اور ثقیف کے مشہور تیر انداز قبیلوں سے ہوا۔ اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد دشمنوں سے تین گنا زیادہ تھی اس لئے اپنی کثرت تعداد پر گھمنڈ ہوگیا تھا۔ کہتے تھے کہ اب وہ دن نہیں رہا کہ تعداد کی کمی کی وجہ سے مغلوب ہوجائیں لیکن دشمنوں نے اس غضب کی تیراندازی کی کہ مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے اور صرف رسول اللہ ﷺ اور چند مٹھی بھر صحابہ اپنی جگہ پر جمے رہے اور ان کی ثابت قدمی کی وجہ سے دوبارہ فوج کی ترتیب قائم ہوسکی اور بالآخر مسلمان فتح یاب ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
غزوہ حنین :
(ف 1) 8 ھ میں فتح مکہ کے بعد ہوازن وثقیف کے قبیلوں نے جنگ کی طرح ڈال دی ان کا خیال تھا کہ اگر ہم نے مسلمانوں کو شکست دے دی ، تو مکہ والوں کی تمام جائیداد جو طائف میں ہے ، وہ ہماری ہوجائے گی ، اور ہم مسلمانوں سے بت شکنی کا انتقام بھی لے سکیں گے ،
حضور ﷺ مقابلہ کے لئے نکلے ، تو ایک جم غفیر ساتھ ہوگیا ، جس کی تعداد تقریبا بارہ ہزار تھی اس لئے مسلمان مغرور تھے ، نہایت بےپروائی سے لڑے ، نتیجہ یہ ہوا کہ شکست کھائی ، اور میدان سے بھاگ نکلے ، حضور ﷺ پہاڑ کی طرح کھڑے رہے ، اور آپ نے للکار للکار کر کہا ۔
انا النبی لا کذب
انا ابن عبدالمطلب :
آپ کے استقلال کو دیکھ کر اور دعوت کو سن کر مسلمان…
Read the full tafseer →26 اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور مسلمانوں پر تسلی اور تسکین نازل فرمائی اور ایسے لشکر آسمان سے نازل فرمائے جو تم نہیں دیکھتے تھے اور جن کو تم نے نہیں دیکھا اور کافروں کو سخت سزا دی اور دین حق کے منکروں کی یہی سزا ہے۔ تسلی و تسکین کوئی خاص قسم کی ہمت اور اطمینان قلوب میں نازل فرمایا جس سے مسلمان ثابت قدم رہے اور جو پیچھے ہٹ گئے تھے وہ پھر آگئے لشکر سے مراد فرشتے ہیں جو غیر مرئی طور پر تقویت اور ہمت کے موجب ہوئے اور تثبیت قدم کے سبب بنے۔ سزا سے مراد کفار کا قتل اور قید ہونا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
ف 1۔ یہ جو فرمایا کہ رسول پر تسلی نازل ہوئی مراد اس سے مطلق تسلی نہیں وہ تو آپ کو بلکہ وہ صحابہ جو آپ کے ساتھ رہ گئے تھے ان کو بھی حاصل تھی اور وہ اسی وجہ سے ثابت قدم رہے بلکہ مراد اس سے خاصل تسلی ہے جس سے غلبہ کی امید قریب ہوگئی۔
Read the full tafseer →اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر جو احسان فرمایا اس کا مزید ذکر :
38: وادی حنین میں جو کچھ پیش آیا زیر نظر آیت کا اسلوب بیان اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ جو کچھ پیش آیا محض بطور تنبیہ و تذکر پیش آیا اس تنبیہہ کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اکھڑے ہوئے قدم جما دیئے اور وہ اس طرح کہ اللہ نے اپنے رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے مخلص جاں نثاروں پر سکینت کا ذکر فرما کر حالت کی نزاکت کو مزید واضح کردیا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے چند جاں نثار ساتھی جو اپنے قدموں پر پختگی سے جمے رہے اور بھاگنے والوں کو آواز اس طرح دی گویا بھاگنے کی کوئی وجہ موجود ہی نہ تھی۔ بھاگنے والوں کے قدم رک گئے اور وہ اس طرح…
Read the full tafseer →It will be useful to explain the statement: ثُمَّ أَنزَلَ اللَّـهُ سَكِينَتَهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِين (Then Allah sent down His tranquility upon His Messenger and upon the believers) appearing in verse 26 a little further. It means that Allah Ta` ala sent down His tranquility upon the hearts of the noble Companions who had lost their foothold on the battlefield during the initial attack of the enemy at Hunain. This caused their feet to become firm again and those who had run away came back. As for the sending of tranquility upon the Holy Prophet ﷺ and the Companions ؓ who had…
Read the full tafseer →