At-Tawba 9:25

At-Tawba · from ayah 25

9:25

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ ۙ— وَّیَوْمَ حُنَیْنٍ ۙ— اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْـًٔا وَّضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَ ۟ۚلَـقَدۡ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِىۡ مَوَاطِنَ كَثِيۡرَةٍ‌ ۙ وَّيَوۡمَ حُنَيۡنٍ‌ ۙ اِذۡ اَعۡجَبَـتۡكُمۡ كَثۡرَتُكُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنۡكُمۡ شَيۡئًـا وَّضَاقَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ ثُمَّ وَلَّـيۡتُمۡ مُّدۡبِرِيۡنَ‌ۚ

خدا نے بہت سے موقعوں پر تم کو مدد دی ہے اور (جنگ) حنین کے دن۔ جب تم کو اپنی (جماعت کی) کثرت پر غرّہ تھا تو وہ تمہارے کچھ بھی کام نہ آئی۔ اور زمین باوجود (اتنی بڑی) فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ پھیر کر پھر گئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah has already given you victory in many regions and [even] on the day of Hunayn, when your great number pleased you, but it did not avail you at all, and the earth was confining for you with its vastness; then you turned back, fleeing.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 4 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:25

اللہ اس سے پہلے بہت سے مواقع پر تمہاری مدد کر چکا ہے ابھی غزوہ حنین کے روز (اُس کی دستگیری کی شان تم دیکھ چکے ہو) اس روز تمہیں اپنی کثرت تعداد کا غرہ تھا مگر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا نے بہت سے موقعوں پر تم کو مدد دی ہے اور (جنگ) حنین کے دن۔ جب تم کو اپنی (جماعت کی) کثرت پر غرّہ تھا تو وہ تمہارے کچھ بھی کام نہ آئی۔ اور زمین باوجود (اتنی بڑی) فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ پھیر کر پھر گئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً اللہ تعالیٰ نے بہت سے میدانوں میں تمہیں فتح دی ہے اور حنین کی لڑائی والے دن بھی جب کہ تمہیں اپنی کثرت پر ناز ہوگیا تھا، لیکن اس نے تمہیں کوئی فائده نہ دیا بلکہ زمین باوجود اپنی کشادگی کے تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ پھیر کر مڑ گئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بہت سے مقامات پر مدد کی ہے، اور (خاص طور پر) حنین کے دن جب تمہاری تعداد کی کثرت نے تمہیں مگن کردیا تھا، مگر وہ کثرت تعداد تمہارے کچھ کام نہ آئی، اور زمین اپنی ساری وسعتوں کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی، پھر تم نے پیٹھ دکھا کر میدان سے رخ موڑ لیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک اللہ نے بہت جگہ تمہاری مدد کی اور حنین کے دن جب تم اپنی کثرت پر اترا گئے تھے تو وہ تمہارے کچھ کام نہ ا ٓئی اور زمین اتنی وسیع ہوکر تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ دے کر پھرگئے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک اللہ نے بہت سے مقامات میں تمہاری مدد فرمائی اور (خصوصاً) حنین کے دن جب تمہاری (افرادی قوت کی) کثرت نے تمہیں نازاں بنا دیا تھا پھر وہ (کثرت) تمہیں کچھ بھی نفع نہ دے سکی اور زمین باوجود اس کے کہ وہ فراخی رکھتی تھی، تم پر تنگ ہو گئی چنانچہ تم پیٹھ دکھاتے ہوئے پھر گئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ یقینا اللہ نے بہت سی جگہوں میں تمہاری مدد فرمائی اور حنین کے دن بھی، جب تمہاری کثرت نے تمہیں خود پسند بنادیا، پھر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور تم پر زمین تنگ ہوگئی، باوجود اس کے کہ وہ فراخ تھی، پھر تم پیٹھ پھیرتے ہوئے لوٹ گئے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ (اس سے پہلے) بہت سے موقعوں پر تمہاری مدد کرچکا ہے اور حنین کے دن (بھی تمہاری مدد کی تھی) جبکہ تمہیں اپنی کثرت پر ناز تھا مگر وہ کثرت تمہارے کسی کام نہ آئی اور زمین اپنی فراخی کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی اور تم پیٹھ دیکھا کر بھاگ کھڑے ہوئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک اللہ نے بہت سے موقعوں پر تمہاری مدد فرمائی ہے اور حنین کے دن بھی جب کہ تمہاری کثرت نے تمہیں غرور میں مبتلا کردیا تو وہ کثرت تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعتوں کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ دکھا کر بھاگ کھڑے ہوئے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ اللہ مدد فرماچکا ہے تمہاری (اے مومنو !) بہت سے موقعوں میں، اور حنین کے دن بھی، جب کہ تم غرے میں آگئے تھے اپنی کثرت کی بناء پر، پھر تمہاری وہ کثرت تمہارے کچھ بھی کام نہ آسکی، اور تنگ ہوگئی تم پر زمین اپنی فراخی کے باوجود، پھر تم لوگ بھاگ نکلے پیٹھ دے کر،

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک اللہ نے بہت سے موقعوں پر تمہاری نصرت کی ہے۔ اور حنین کے دن بھی جب کہ اپنی کثرت (تعداد) پر غرہ ہوگیا تھا پھر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور تم پر زمین باوجود اپنی فراخی کے تنگی کرنے لگی پھر تم پیٹھ دے کر بھاگ کھڑے ہوئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے مسلمانو !) اللہ نے تمہاری مدد کی ہے بہت سے مواقع پر اور (خاص طور پر) حنین کے دن جب تمہیں اپنی کثرت پر ناز ہوگیا تھا تو وہ (کثرت) تمہارے کچھ کام نہ آسکی اور زمین پوری فراخی کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ موڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ نے بہت سے موقعوں پر تم کو مدد دی ہے اور جنگ ِ حنین کے دن جب تم اپنی جماعت کی کثرت پر خوش ہوئے تو وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین باوجود اپنی فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی، پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely Allah has succoured you before on many a battlefield, and (you have yourselves witnessed His succour to you) on the day of Hunayn when your numbers made you proud, but they did you no good, and the earth, for all its vastness, constrained you, and you turned your backs in retreat.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah has surely blessed you with His help on many battlefields, and on the day of Hunain, when you were proud of your great number, then it did not help you at all, and the earth was straitened for you despite all its vastness, then you turned back on your heels.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah has surely blessed you with His help on many battlefields, and on the day of Hunain, when you were proud of your great number, then it did not help you at all, and the earth was straitened for you despite all its vastness, then you turned back on your heels.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Truly, Allah has given you victory on many battlefields, and on the day of Hunayn (battle) when you rejoiced at your great number, but it availed you naught and the earth, vast as it is, was straitened for you, then you turned back in flight.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah hath given you victory on many fields and on the day of Huneyn, when ye exulted in your multitude but it availed you naught, and the earth, vast as it is, was straitened for you; then ye turned back in flight;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah has already given you victory in many regions and [even] on the day of Hunayn, when your great number pleased you, but it did not avail you at all, and the earth was confining for you with its vastness; then you turned back, fleeing.

— Saheeh International

God has helped you on many occasions including the day of Hunayn (name of a place near Mecca). When you were happy with the number of your men who proved to be of no help to you and the whole vast earth seemed to have no place to hide you (from your enemies) and you turned back in retreat.

— Muhammad Sarwar

Certainly Allah helped you in many battlefields and on the day of Hunain, when your great numbers made you vain, but they availed you nothing and the earth became strait to you notwithstanding its spaciousness, then you turned back retreating.

— Muhammad Habib Shakir

Assuredly Allah hath succoured you on many fields and on the day of Hunain, When your number elated you; then it availed you naught, and the earth, wide as it is, straitened unto you; then ye turned away in retreat.

— Abdul Majid Daryabadi

Assuredly Allah did help you in many battle-fields and on the day of Hunain: Behold! your great numbers elated you, but they availed you naught: the land, for all that it is wide, did constrain you, and ye turned back in retreat.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 25–27

نصرت الٰہی کا ذکر مجاہد کہتے ہیں براۃ کی یہ پہلی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بہت بڑا احسان مومنوں پر ذکر فرما رہا ہے کہ اس نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھیوں کی آپ امداد فرمائی انہیں دشمنوں پر غالب کردیا اور ایک جگہ نہیں ہر جگہ اس کی مدد شامل حال رہی اسی وجہ سے فتح و ظفر نے کبھی ہم رکابی نہ چھوڑی۔ یہ صرف تائید ربانی تھی نہ کہ مال اسباب اور ہتھیار کی فراوانی اور نہ تعداد کی زیادتی۔ یاد کرلو حنین والے دن تمہیں ذرا اپنی تعداد کی کثرت پر ناز ہوگیا تو کیا حال ہوا ؟ پیٹھ دکھا کر بھاگ نکلے تھے۔ معدودے چند ہی اللہ کے پیغمبر ﷺ کے ساتھ ٹھہرے اسی وقت اللہ کی مدد نازل ہوئی اس نے دلوں میں تسکین ڈال دی یہ اس لیے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 25–26

سورة التَّوْبَة 23 جو لوگ اس بات سے ڈرتے تھے کہ اعلان براءت کی خطرناک پالیسی پر عمل کرنے سے تمام عرب کے گوشے گوشے میں جنگ کی آگ بھڑک اٹھے گے اور اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہوگا، ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ ان اندیشوں سے کیوں ڈرے جاتے ہو، جو خدا اس سے بہت زیادہ سخت خطرات کے موقعوں پر تمہاری مدد کرچکا ہے وہ اب بھی تمہاری مدد کو موجود ہے۔ اگر یہ کام تمہاری قوت پر منحصر ہوتا تو مکہ ہی سے آگے نہ بڑھتا، ورنہ بدر میں تو ضرور ہی ختم ہوجاتا۔ مگر اس کی پشت پر تو اللہ کی طاقت ہے اور پچھلے تجربات تم پر ثابت کرچکے ہیں کہ اللہ ہی کی طاقت اب تک اس کو فروغ دیتی رہی ہے۔ لہٰذا یقین رکھو کہ آج بھی وہی اسے فروغ دے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر تم کو خدا تعالیٰ نے (لڑائی کے) بہت موقعوں میں (کفار پر) غلبہ دیا (جیسے بدر وغیرہ) اور حنین کے دن بھی (جس کا قصہ عجیب و غریب ہے تم کو غلبہ دیا) جبکہ (یہ واقعہ ہوا تھا کہ) تم کو اپنے مجمع کی کثرت سے غرہ ہوگیا تھا، پھر وہ کثرت تمہارے کچھ کارآمد نہ ہوئی اور (کفار کے تیر برسانے سے ایسی پریشانی ہوئی کہ) تم پر زمین باوجود اپنی (اس) فراخی کے تنگی کرنے لگی پھر (آخر) تم) بیٹھ دے کر بھاگ کھڑے ہوئے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (کے قلب) پر اور دوسرے مومنین (کے قلوب) پر اپنی (طرف سے) تسلی نازل فرمائی، اور (مدد کے لئے) ایسے لشکر (آسمان سے) نازل فرمائے جن کو تم نے نہیں دیکھا (مراد فرشتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 25–27

تفسیر آیت 25، 27۔ آیت 65۔ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ۔ کمزروں کی ہمت افزائی : لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ۔ یہ بات انہی مذبذبین کی ہمت افزائی کے لیے فرمائی گئی ہے کہ ان سے جنگ کرنے میں ہچکچاؤ نہیں، جس خدا نے بہت سے مواقع پر تمہاری مدد فرمائی ہے اس کی مدد اب بھی تہارے شامل حال ہے۔ ہجرت کے بعد سے فتح مکہ تک متعدد جنگیں مشرکین کے ساتھ ہوچکی تھیں جن میں سے ایک آدھ کے سوا سب میں اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 24–26

24۔ 1 اس آیت میں بھی اس مضمون کو بڑے مؤکد انداز میں بیان کیا گیا ہے عشیرۃ اسم جمع ہے، وہ قریب ترین رشتہ دار جن کے ساتھ آدمی زندگی کے شب و روز گزارتا ہے، یعنی کنبہ قبیلہ، اقتراف، کسب (کمائی) کے معنی کے لئے آتا ہے، تجارت، سودے کی خریدو فروخت کو کہتے ہیں جس کا مقصد نفع کا حصول ہو، کساد، مندے کو کہتے ہیں یعنی سامان فروخت موجود ہو لیکن خریدار نہ ہو یا اس چیز کا وقت گز رچکا ہو، جس کی وجہ سے لوگوں کو ضرورت نہ رہے۔ دونوں صورتیں مندے کی ہیں۔ مساکن سے مراد وہ گھر ہیں جنہیں انسان موسم کے شدائد و حوادث سے بچنے آبرومندانہ طریقے سے رہنے سہنے اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کے لئے تعمیر کرتا ہے، یہ ساری چیزیں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

19: حنین کی جنگ کا واقعہ مختصراً یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے مکہ مکرمہ فتح کرلیا تو آپ کو یہ اطلاع ملی کہ عرب کا ایک مشہور قبیلہ بنو ہوازن اپنے سردار مالک بن عوف کی سر کردگی میں آپ پر حملہ کرنے کے لیے ایک بڑا لشکر جمع کر رہا ہے۔ ہوازن ایک بڑا قبیلہ تھا جس کی کئی شاخیں تھیں، اور طائف کا قبیلہ ثقیف بھی اسی کا ایک حصہ تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علی ہو سلم نے اپنے جاسوس بھیج کر خبر کی تصدیق فرمائی۔ اور معلوم ہوا کہ خبر صحیح ہے، اور وہ لوگ بڑے جوش و خروش سے تیاری میں مصروف ہیں۔ ہوازن کے لوگوں کی تعداد حافظ ابن حجر ؒ کے بیان کے مطابق چوبیس ہزار سے اٹھائیس ہزار تک تھی، چنانچہ آپ چودہ ہزار صحابہ کرام پر مشتمل…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 25–27

25 ۔ تا۔ 27: اب ذرا ماضی قریب کی یادوں کی ایک جھلکی ملاحظہ فرمائیں۔ مسلمان قریب ہی کے زمانے میں ان حالات ہو کر گزرے تھے۔ ان حالات میں اللہ کی خاص نصرت نے کرشمہ دکھایا تھا۔ یہ کرشمہ ان کی قوت اور تعداد کا نہ تھا۔ حنین کے دن تو وہ بڑی تعداد میں تھے اور بڑی قوت رکھتے تھے مگر شکست کھا گئے۔ بعد میں اللہ کی نصرت جب آئی تو حالات کا نقشہ بدل گیا۔ اس دن فتح مکہ کے دو ہزار طلقاء اسلامی لشکر میں گھل مل گئے تھے۔ چند لمحے مسلمانوں پر ایسے آگئے تھے جب وہ قوت اور کثرت کے نشے غافل ہوگئے تھے۔ محض تعداد اور سازوسامان کی وجہ سے۔ یہ سبق تھا اہل ایمان کے لیے کہ خلوص اور للہ فی اللہ جہاد کے کیا معنی ہوتے ہیں کہ جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 25–26

2 پچھلی آیت میں تنبیہ کی گئی تھی کہ جہاد فی سبیل اللہ کے وقت مومنین کو کنبہ، برداری، اموال و املاک وغیرہ کسی چیز پر نظر نہ ہونی چاہیے، یہاں آگاہ فرمایا ہے کہ مجاہدین کو خود اپنی فوجی جمعیت و کثرت پر گھمنڈ نہ کرنا چاہیے۔ نصرت و کامیابی اکیلے خدا کی مدد سے ہے۔ جس کا تجربہ پیشتر بھی بہت سے میدانوں میں تم کرچکے ہو۔ بدر، قریظہ و نضیر اور حدیبیہ وغیرہ میں جو کچھ نتائج رونما ہوئے، وہ محض امداد الٰہی و تائید غیبی کا کرشمہ تھا۔ اور اب اخیر میں غزوہ حنین کا واقعہ تو ایسا صریح اور عجیب و غریب نشان آسمانی نصرت و امداد کا ہے جس کا اقرار سخت معاند دشمنوں تک کو کرنا پڑا ہے۔ فتح مکہ کے بعد فوراً آپ کو اطلاع…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 25–27

آیت 25 لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَۃٍلا وَّیَوْمَ حُنَیْنٍلا جیسا کہ قبل ازیں بیان ہوچکا ہے ‘ پہلے ‘ چوتھے اور پانچویں رکوع پر مشتمل یہ خطبہ ذوالقعدہ 9 ہجری میں نازل ہوا تھا ‘ جبکہ اس سے پہلے غزوۂ حنین شوال 8 ہجری میں وقوع پذیر ہوچکا تھا۔ اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ معاملہ یوں نہیں تھا کہ لشکر میں شامل تمام مسلمانوں کو اپنی کثرت پر ناز اور فخر محسوس ہو رہا تھا۔ غزوۂ حنین میں مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی ‘ جو اس سے پہلے کبھی کسی غزوہ میں اکٹھی نہیں ہوئی تھی۔ ان میں سے دس ہزار مسلمان تو وہ تھے جو فتح مکہ کے وقت حضور ﷺ کے ہمراہ تھے ‘ اور دو ہزار لوگ مکہ سے شامل ہوئے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

23 غزوہ حنین اور اس کے اسباب :۔ حنین مکہ اور طائف کے درمیان ایک مقام ہے جہاں فتح مکہ کے بعد شوال 8 ھ میں حق و باطل کا ایک بہت بڑا معرکہ پیش آیا تھا۔ عرب کے اکثر بدوی قبائل اس انتظار میں تھے کہ اگر محمد ﷺ قریش پر غالب آگئے اور مکہ فتح ہوگیا تو بلاشبہ وہ پیغمبر ہیں اور ان کی دعوت کو قبول کرلینا چاہیے۔ چناچہ مکہ کی فتح کے بعد بہت سے قبائل خودبخود آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام لے آئے لیکن ہوازن اور ثقیف کا معاملہ دوسرے قبائل کے بالکل برعکس تھا۔ یہ قبائل نہایت جنگجو اور فنون حرب و ضرب کے خوب ماہر تھے اور جوں جوں اسلام کو غلبہ حاصل ہوتا تھا یہ قبائل اس غلبہ کو اپنی ریاست و اقتدار کے لیے خطرہ سمجھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

38 ۔ جیسے جنگ بدر میں اور فتح مکہ کے موقع پر، اور بنو قریظہ وبنونضیر کے مقابلہ میں وقس علی ھذا۔ نصرت غیبی وتائید ایزدی کا منظر تو کہنا چاہیے کہ ہر موقع پر نمایاں رہتا تھا، علماء نے 80 ایسے موقع گنائے ہیں۔ وان ائمۃ التاریخ وعلماء المغازی نقلوا انما کانت ثمانین موطنا (بحر) حنین، طائف کے راستہ میں مکہ کی ایک وادی کا نام ہے، مکہ سے غالبا 3 میل کے فاصلہ پر، فتح مکہ کے دو ہی ہفتہ بعد یہاں مسلمانوں کا مقابلہ ہوازن اور ثقیف کے مشہور تیر انداز قبیلوں سے ہوا تھا، معرکہ کی تاریخ 6 شوال 8 ھ ؁ مطابق یکم فروری 630 ء ؁ ہے۔ 39 ۔ مسلمان فتح مکہ کے 2 ہزار طلقاء یعنی جدید العہد نو مسلموں کو ملاکر 12 ہزار کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 25–27

آیت نمبر 25 تا 29 ترجمہ : بیشک اللہ تعالیٰ نے لڑائی کے بہت سے موقعوں پر تمہاری مدد کی ہے مثلاً بدرو (بنو) قریظہ اور (بنو) نضیر (کے مقابلہ میں) اور حنین کے دن کو یاد کرو، یہ مکہ اور طائف کے درمیان وادی ہے، یعنی اس دن میں ہوازن کے ساتھ جنگ کو یاد کرو، اور یہ شوال 8 ھ میں پیش آئی جبکہ تم کو تمہاری کثرت پر نازہو گیا تھا سو تم نے کہا تھا کہ آج ہم قلت کی وجہ سے مغلوب نہ ہوں گے، اور (مسلمانوں کی تعداد) بارہ ہزار تھی اور کفار چار ہزار تھے، اِذْ یَوْمَ سے بدل ہے، لیکن اس (کثرت نے تمہیں کوئی فائدہ نہ دیا، اور زمین اپنی کشادگی کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی، ما، مصدریہ ہے یعنی اپنی وسعت کے باوجود، تم کو کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ ویوم حنین اذ اعجبتکم کثرتکم بلاشبہ اللہ نے بہت موقعوں پر مدد کی اور حنین کے دن بھی جبکہ تم کو تمہاری کثرت نے مغرور کردیا تھا۔ مواطن کثیرۃ سے مراد ہے بدر ‘ قینقاع اور احزاب اور نضر کی لڑائیاں یا قریظہ ‘ حدیبیہ ‘ خیبر اور مکہ کی فتوحات۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک مہینہ کی مسافت سے (کافروں) پر میرا رعب ڈال کر میری مدد کی گئی۔ یوم حنین کا عطف مواطن پر ہے اور معطوف میں مضاف محذوف ہے ‘ یعنی مواطن حنین۔ یا معطوف علیہ میں محذوف ہے ‘ یعنی ایام مواطن کثیرۃ۔ یا مواطن سے مراد (مواقع نہیں بلکہ) ایام و اوقات ہیں ‘ جیسے مقتل حسین کا معنی ہے وقت شہادت حسین۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(25) قتال کے وقت بہت سے غزوات میں تمہیں غلبہ دیا اور خاص طور پر حنین کے دن بھی جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی ہے جب کہ تمہیں اپنی جماعت پر جو کہ دس ہزار تھی جس کی زیادتی پر تمہیں غرور ہوگیا تھا مگر یہ زیادتی شکست سے روک نہ سکی اور خوف سے زمین باوجود کشادہ ہونے کے تنگ ہوگئی اور پھر تم دشمن سے جس کی تعداد چار ہزار تھی شکست کھا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ شان نزول : (آیت) ”ویوم حنین“۔ (الخ) امام بیہقی ؒ نے دلائل میں ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حنین کے دن ایک شخص نے کہا کہ ہم کمی سے مغلوب نہیں ہوں گے اور صحابہ کرام ؓ تعداد میں بارہ ہزار تھے، رسول اکرم ﷺ کو یہ بات بری لگی اس پر اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 25–26

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ : بدر میں اپنے انعامات کے تذکرے، جہاد کی ترغیب، کفار سے دوستی ترک کرنے کی تلقین اور دنیا کی ہر چیز پر اللہ اور اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ کی ترجیح کے حکم کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے اپنے کچھ مزید انعامات ذکر فرمائے، جن میں حنین کا خاص ذکر فرمایا، مگر حنین کا ذکر کرنے سے پہلے بہت سے گزشتہ مواقع میں (فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ) اپنی مدد کا ذکر فرمایا، ان میں ہجرت (فَقَدْ نَــصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا) [ التوبۃ : 40 ] بدر (وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ) [ آل عمران : 123 ] احد (وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں آٹھ مسائل ہیں : مسئل نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : لقد نصر کم اللہ فی مواطن کثیرۃ جب بنی ہوازن کو مکہ مکرمہ فتح ہونے کی خبر پہنچی تو مالک بن عوف انصری جو بنی نصر مالک میں سے تھا، نے انہیں جمع کیا اور تمام لشکر میں ریاست و حکومت اس کی تھی اور وہ کفار کو ان کے مالوں، مویشیوں، عورتوں اور ان کی اولاد سمیت ساتھ لے کر چلا۔ اور اس کا خیال یہ تھا کہ اس کے سبب ان کی جانیں محفوظ رہیں گی اور اس طرح جنگ میں ان کی قوت و طاقت انتہائی مضبوط ہوگی۔ حضرت حسن اور مجاہد ؓ کے قول کے مطابق ان کی تعاد آٹھ ہزار تھی۔ اور یہ کہا گیا ہے کہ ہوازن وثقیف میں سے چار ہزار تھے۔ اور ہوازن پر مالک بن عوف اور ثقیف پر کنانہ بن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 25–27

1:۔ فریابی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ “ کے بارے میں فرمایا یہ پہلی آیت ہے جو اللہ تعالیٰ نے سورة براۃ میں نازل فرمائی۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ و سعید ابن جبروابن منذروابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ پہلی آیت سورة براۃ میں ہے (آیت) ” لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ “ نازل ہوئی انہوں نے مدد کو پہچان لیا اور ان کو غزوہ تبوک کے لئے آمادہ کرلیا۔ 3:۔ ابوالشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ ان کاموں میں سے ہے کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان پر احسان فرمایا خاص طور پر انکی مدد سے بہت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَقَدْ نَصَرَكُمُ [ یقینا مدد کرچکا ہے تم لوگوں ] اللّٰهُ [ اللہ ] فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ ۙ [ بہت سے جنگ کے میدانوں میں ] وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ [ اور حنین کے دن (بھی ) ] اِذْ [ جب ] اَعْجَبَتْكُمْ [ بھلی لگی تم کو ] كَثْرَتُكُمْ [ تمہاری کثرت ] فَلَمْ تُغْنِ [ تو وہ کام نہ آئی ] عَنْكُمْ [ تمہارے ] شَيْــــًٔـا [ کچھ بھی ] وَّضَاقَتْ [ اور تنگ ہوئی ] عَلَيْكُمُ [ تم پر ] الْاَرْضُ [ زمین ] بِمَا [ ساتھ اس کے جو ] رَحُبَتْ [ وہ کشادہ تھی ] ثُمَّ [ پھر ] وَلَّيْتُمْ [ تم لوگوں نے پیٹھ پھیری ] مُّدْبِرِيْنَ [ پیٹھ دینے والا ہوتے ہوئی ] وط ن (ص) ۔ وطنا ۔ کسی جگہ اقامت کرنا ۔ وطن بنانا ۔ موطن ۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

غزوۂ حنین میں مسلمانوں کو کثرت پر گھمنڈ ہونا اور اس کی وجہ سے اولاً شکست کھا کر بھاگنا پھر اللہ تعالیٰ کا مدد فرمانا ان آیات میں اول تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خطاب کر کے یہ فرمایا کہ اللہ نے بہت سے مواقع میں تمہاری مدد فرمائی۔ پھر خصوصیت کے ساتھ غزوۂ حنین میں مدد فرمانے کا واقعہ یاد دلایا۔ حنین مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ ہے۔ مکہ فتح ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ بنی ہوازن کی طرف تشریف لے گئے۔ حضور اقدس ﷺ کے ساتھ بہت بڑی جماعت تھی، بعض صحابہ کے منہ سے نکل گیا کہ آج ہم کمی کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوسکتے۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ مسلمانوں کو اول شکست ہوئی اور بہت زیادہ پریشانی ہوئی اور چند…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–27

ذکر قصۂ غزوہ حنین وتذکیر انعامات و عنایات در سرایا وغزوات قال اللہ تعالیٰ ٰ ۔ لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ ویوم حنین۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ غفور رحیم۔ (ربط): شروع سورت میں براءت کا ذکر تھا جس کے ضمن میں صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کا ذکر فرمایا۔ اب ان آیات میں غزوہ حنین کا ذکر فرماتے ہیں اور اپنی ان عنایات کو یاد دلاتے ہیں کہ جو اس نے دیگر مقامات مثل جنگ بدر اور فتح مکہ میں دشمنوں کے مقابلہ میں مسلمانوں پر مبذول فرمائیں۔ تاکہ اس کی عنایات کو یاد کر کے دل اس کے شکر پر برانگیختہ ہوجائیں اور انے منعم حقیقی کے بھروسہ پر بےخوف وہراس دشمنان اسلام سے جہاد کریں اور سمجھیں کہ اصل مددگار وہی پروردگار ہے اور جانیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 25–26

20: خطاب ایمان والوں سے ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے مومنین پر اپنے اعنامِ نصرت کا اظہار فرمایا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے بہت سے مواقع پر دشمن کے مقابلے میں تمہاری مدد کی اور تمہیں فتح عطا فرمائی اس لیے تم کسی وقت بھی مشرکین سے قتال کرنے سے ہمت مت ہارو اللہ تمہارا حامی و مددگار ہے۔ “ خطاب للمومنین خاصة وامتنان علیھم بالنصرة علی الاعدء التی یترک لھا الیغیور احب الاشیاء الیه ” (روح ج 10 ص 72) ۔ حنین مکہ اور طائف کے درمیان مکہ سے تین میل کے فاصلہ پر واقع ایک وادی کا نام ہے۔ یہاں فتح مکہ کے بعد ہوازن، ثقیف وغیرہ قبائل مشرکین سے مسلمانوں کی جنگ ہوئی تھی۔ مشرکین چار ہزار تھے اور مسلمان بارہ ہزار۔ بعض…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 25–27

ربط آیات : گذشتہ آیات میں جہاد کا ذکر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو متنبہ کیا کہ اگر ان کے عزیز و اقارب ایمان کے مقابلے میں کفر کو پسند کرتے ہیں۔ تو انہیں اپنا رفیق اور دوست نہ بنائو ، ایسا کرنے والا ظالم ٹھہرے گا ، پھر فرمایا اگر تمہارے ابائو اجداد ، اولاد ، بھائی ، خاندان ، مال اور تجارت اور مکانات تمہیں اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر اللہ کی طرف سے کسی افتاد کے منتظر رہو۔ اور یہ چیز اس وقت تک دور نہیں ہوگی جب تک تم دین کی طرف واپس نہیں آجائو گے۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی کثرت اور قلت تعداد کے پیش نظر فتح وشکست کا ذکر فرمایا ہے جب حضور ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللہُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَۃٍ۝ 0 ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ۝ 0 ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ۝ 25 ۚ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 23–27

ترکیب : اولیاء جمع ولی مفعول لاتتخذوا ان شرط جملہ ما قبل دال برجز۔ حسب خبر کان یہ تمام جملہ شرط فتربصوا جواب یوم حنین مواطن سے بدل جو نصرکم ظرف ہے۔ اذ کا عامل نصر ہے تغن کا فاعل ضمیر جو کثرت کی طرف راجع ہے۔ تفسیر : مسلمانوں کو کفار سے اعلاناً جنگ کا حکم دیا گیا جہاں فریق مخالف میں سے ان کو اپنے بال بچوں کنبہ برادری سے لڑنا پڑتا تھا۔ ایک شخص مسلمان اور باقی کافر ‘ دشمن اسلام۔ ایسی صورت واقع تھی اور نیز عموماً ہجرت کا بھی حکم صادر ہوا تھا جس میں کنبہ ‘ بھائی بند ‘ جگر کے ٹکڑے ‘ چھٹتے تھے۔ تجارت بگڑتی تھی۔ افلاس کا منہ دیکھنا پڑتا تھا۔ یہ ساری باتیں ایسی تھیں جو انسان کو فطرتی طور پر جہاد و ہجرت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 25–27

لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنِ کَثِیْرَۃٍ لا وَّیَوْمَ حُنَیْنٍلااِذْاَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْکُمُ الْاَرْضُ بِمَارَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَ ج ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا وَعَذَّبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا طوَذٰلِکَ جَزَآئُ الْکٰفِرِیْنَ ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰہُ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُطوَاللّٰہُ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ ( التوبۃ : 25 تا 27) (بےشک اللہ نے تمہاری مدد فرمائی ہے بہت سے مواقع پر اور حنین کے دن بھی جبکہ تمہیں غرہ میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–27

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ دین کی سربلندی کے لیے کسی کا محتاج نہیں اگر وہ چاہے تو غائبانہ اسباب سے اپنے دین کو سربلند رکھ سکتا ہے۔ جیسا کہ اس نے ہجرت کے وقت نبی ﷺ کی حفاظت کا بندوبست فرمایا تھا۔ اس سے پہلے والدین، بیٹے، بھائی، بیویاں، رشتے دار اور سب چیزوں کو اللہ اور اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ کے مقابلہ میں ناچیز سمجھنے کا حکم دیا تھا۔ جس سے مسلمان ذہنی دباؤ میں آکر اپنے آپ کو تھوڑے اور کمزور سمجھنے لگے۔ اس فکری دباؤ کو ختم کرنے کے لیے مسلمانوں کو یاد دلایا گیا ہے کہ فکر مند ہونے کے بجائے وہ مواقع یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد فرمائی۔ حالانکہ تم افرادی قوت اور جنگی سازو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مواقع نصرت : آیت 25: لَقَدْ نََصَرَکُمْ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَ ۃٍ (اللہ تعالیٰ نے تم کو بہت مواقع میں غلبہ دیا) نمبر 1۔ جیسا واقعہ بدر، قریظہ، بنی نضیر، حدیبیہ، خبیر، فتح مکہ، نمبر 2۔ وہ مواقع جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کی مدد کی اور ایمان والوں کی امداد فرمائی وہ اسّی 80 ہیں۔ مواطن الحرب : مقامات و مواقف حرب وَیَوْمَ حُنَیْنٍ (اور حنین کے دن بھی) یہاں یوم سے پہلے اذکروا محذوف ہے۔ یعنی تم یوم حنین کو یاد کرو۔ غزوئہ حنین : حنین ایک وادی ہے جو مکہ اور طائف کے مابین ہے۔ اس میں مسلمانوں اور کفار کے درمیان معرکہ پیش آیا۔ مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی۔ ہوازن و ثقیف جنکی تعداد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

25۔” لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ و یوء حنین “ مکہ اور طائف کے درمیان وادی ہے اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں ذی المجاز کے پہلو میں جگہ ہے ۔ حنین کا واقعہ راویوں نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا اور رمضان کے کچھ دن باقی تھے۔ پھر حنین کی طرف کوچ کیا قبیلہ ھوازن اور ثقیف سے لڑائی کے لیے بارہ ہزا ر کے لشکر کے ساتھ دس ہزار مہاجرین اور انصار تھے اور دو ہزار وہ لوگ جو مکہ سے آزاد کیے گئے تھے ( نو مسلم) عطاء فرماتے ہیں کہ سولہ ہزار کا لشکر تھا اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ دس ہزار تھے اور اس غزوہ میں مسلمانوں کی تعداد ہر غزوہ سے زیادہ تھی پہلے کبھی اتنی تعداد نہ ہوئی تھی۔ اور ہوازن اور ثقیف کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

25۔ فتح مکہ کے بعد قریب دو ہفتہ کے آنحضرت ﷺ نے مکہ میں مقام کیا اسی اثنا میں آپ کو خبر پہنچی کہ حنین کے میدان میں ہوازن اور ثقیف قبیلہ کے چار ہزار آدمی اپنے اونٹ اور بکریاں لے کر مسلمانوں کا مال غنیمت ہوجاویگا مدینہ سے جب فتح مکہ کے وقت دوہزار کے قریب جو لوگ مسلمان ہوئے تھے وہ بھی ساتھ ہوگئے اسی واسطے مفسرین میں اختلاف ہے بعضے حنین کے وقت دس ہزار کا لشکر بتلاتے ہیں اور بعضے زیادہ لیکن اصل میں کچھ اختلاف نہیں ہے مدینہ کا آیا ہوا لشکر جنہوں نے معتبر رکھا انہوں نے دس ہزار کی تعداد قائم رکھی اور جنہوں نے مکہ کے لوگوں کو بھی گنتی میں لے لیا انہوں نے تعداد بڑھادی بعضے صحابہ کی زبان سے یہ کلمہ بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–26

آیت 23 اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے اے ” مومنوں ! “ ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ جو ایمان کے تقاضوں کو پارا کرتا ہے اس کے ساتھ موالات رکھو ‘ جو ان تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ان سے عداوت رکھو اور ” نہ بناؤ تم اپنے باپوں اور بھائیوں کو دوست “ جو لوگوں میں سے سب سے زیادہ تمہارے قریب ہیں اور دوسرے لوگوں کے بارے میں تو زیادہ اولٰی ہے کہ تم ان کو دوست نہ بناؤ۔ ” اگر وہ کفر کو پسند کریں ایمان کے مقابلے میں “ یعنی اگر وہ برضاو رغبت اور محبت سے ایمان پر کفر کو ترجیح دیں۔ ” اور جو بھی دوستی کرے گا ان سے تم میں سے ‘ پس وہی لوگ ہیں ظالم “ کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جسارت کی اور اللہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 23–27

دین میں رشتوں کی اہمیت قول باری ہے (یا ایھا الذین امنوا لا تتنخذوا اباء کم و اخوانکم اولیاء ان استحبوا الکفر علی الایمان۔ اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بنائو اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں) آیت میں مسلمانوں کو کافروں سے دوستی کرنے، ان کی مدد کرنے، ان سے مدد حاصل کرنے اور اپنے معاملات ان کے حوالے کرنے سے روک دیا گیا ہے نیز ان سے بیزاری کا اظہار اور ان کی ترک تعظیم و تکریم واجب کردی گئی ہے۔ اس معاملے میں باپ بھائی سب یکساں حیثیت رکھت ہیں تاہم کافر باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور معروف طریقے سے وقت گزارنے کا حکم دیا گیا ہے چناچہ ارشاد باری ہے (ووصینا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

53 معرکہ حنین میں اللہ کی مدد کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور بلاشبہ اللہ بہت سے مواقع پر تمہاری مدد فرما چکا ہے [ اے مسلمانو !] اور حنین کے دن بھی جبکہ تم لوگ غرے میں آگیے تھے اپنی کثرت کی بنا پر مگر وہ تمہارے کچھ بھی کام نہ آسکی۔ جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ فتح و نصرت کا مدار کثرت تعداد پر نہیں بلکہ اللہ کی نصرت و امداد پر ہے۔ حنین مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان ایک وادی کا نام ہے جس میں فتح مکہ کے بعد مسلمانوں اور کفار کے درمیان معرکہ ہوا تھا، جو غزوہ حنین کے علاوہ غزوئہ ہوازن و ثقیف کے نام سے بھی مشہور ہے۔ جس میں مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی۔ اور اپنی اس عددی کثرت کو دیکھ کر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 25–27

غزوہ حنین میں اللہ کی مدد تشریح : ان آیات میں اللہ اپنے ان احسانات کا ذکر کرتا ہے جو اکثر مسلمانوں پر خصوصی طور سے وقتاً فوقتاً کرتا رہا تو ان میں سے ایک غزوئہ حنین کا ذکر فرماتا ہے۔ پہلے حنین کا جغرافیہ جان لینا چاہیے۔ حنین مکہ اور طائف کے درمیان مکہ سے دس میل کے فاصلے پر واقعہ ہے۔ رمضان 8 ھ میں جب مکہ فتح ہوا تو قبیلہ ہوازن اور طائف کے رہنے والے بنو ثقیف نے مالک ابن عوف کی قیادت میں چار ہزار کے لشکر کے ساتھ بڑے جوش و جذبہ کے ساتھ مکہ پر حملہ کرنے کے لیے کوچ کیا (چونکہ اس وقت مسلمان مکہ میں جمع تھے) آنحضرت ﷺ کو پتہ چلا تو آپ بھی چودہ ہزار کے لشکر کے ساتھ جہاد کے لیے نکل آئے۔ مقام حنین پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 25–29

آیات 25 تا 29 اسرار و معارف رہی بات نتائج کی تو اے مسلمانو ! اللہ نے تمہاری بیشمار مواقع پر مدد فرمائی ہے کہ قلت تعداد اور اسباب کی کمی کے باوجود تم فاتح اور غالب رہے یوم حنین ہی کو دیکھ لو ! واقعہ حنین غزوہ حنین بھی 8 ھجری؁ میں فتح مکہ کے بعد وقوع پذیر ہوا اس کا سبب بنوہوازن کا حملہ آور ہونا بنا مقام حنین مکہ مکرمہ سے تقریبا دس میل کے فاصلہ پر طائف کی جانب ہے مکہ مکرمہ کے نواح میں طائف تک بنوہوازن کے مختلف قبائل بکھرے ہوئے تھے اور یہ لوگ جنگجو اور بہادر بھی تھے فتح مکہ کی خبرسن کر ان کے سردار جمع ہوئے اور یہ مشورہ کیا کہ قریش نے ہتھیارڈال دئیے اب مسلمان فوج کا رخ ہماری طرف ہوگا لہٰذ اپیشتر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 حنین، مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ایک واد ہے۔ وہاں فتح مکہ (رمضان 8 ھ) کے ایک مابعد شوال 8 ھ میں مسلمانوں کی ہوازن، ثقیف، بنو جشم، بنو سعد اور بعض دوسرے قبائل سے جنگ ہوئی تھی ) ( ابن کثیر وغیرہ)4 نبی ﷺ کے ساتھ دس ہزار مہاجرین ؓ اور انصار ؓ کا لشکر تھا جو فتح مکہ کے لیے آپ ﷺ کے ساتھ مدینہ سے آئے تھے اور دوہزار آدمی آپ ﷺ کے ساتھ اہل مکہ ( طلقا) میں سے شامل ہوگئے تھے۔ اس طرح مسلمانوں کا کل لشکر بارہ ہزار لڑنے والوں پر مشتمل تھا جب کہ مقابلے میں دشمنوں کی تعداد صرف چار ہزار کے قریب تھی اس پر بہت سے مسلمانوں میں غرور کا جذبہ پیدا ہوگیا۔ حتی ٰ کہ بعض نے کہا آج ہم قلت تعداد کی وجہ سے مغلوب نہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:25) مواطن۔ مواقع جنگ۔ لوگوں کے رہنے کی جگہ۔ موطین واحد وطن مصدر (باب ضرب) جگہ پکڑنا۔ مقیم ہونا۔ ابطان (باب افعال) توطین (تفعیل) استیطان (استفعال) تینوں ابواب سے بمعنی رہنے کہ جگہ اختیار کرنا۔ توطن (تفعل) جگہ پکڑلینا۔ کسی چیز پر دل بستہ ہوجانا۔ مواطن۔ ظرف مکان فی حرف جاء کی وجہ سے ن مکسور ہونا چاہیے تھا ۔ لیکن ایسی جمع جو منتہی الجموع کے وزن پر ہو یعنی ایسی جمع جس کے پہلے دو حرف مفتوح اور تیسری جگہ الف ہو جیسے مساجد۔ مصابیح یہ جمع قائم مقام دو سببوں کے ہے۔ لہٰذا مواطن غیر منصرف ہے اور اس وجہ سے ن کے نیچے کسرہ نہیں آیا۔ مواطن کثیرۃ سے مراد یہاں وہ جنگیں ہیں جن میں باوجود دشمن کے مقابلہ میں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 25–27

لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 27 مواطن (موطن) ، مقامات، موقعے اعجیب (پسند ہے) لم تغن (کام نہ آئی) ضافت (تنگ ہوگئی) رحبت (وسعت، پھیلائو، گنجائش) ولیم (تم نے منہ موڑا) مدبرین (پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے) سکینۃ (سکون، اطمینان) جنود (جند) لشکر لم تروا (تم نے نہیں دیکھا) تشریح : آیت نمبر 25 تا 27 ان تین آیتوں میں جنگ حنین میں مسلمانوں کی شکست اور پھر فتح و نصرت کی نعمت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ مکہ معظمہ سے پندرہ کلو میٹر دور طائف کے راستے میں ” حنین “ واقع ہے۔ فتح مکہ سے مشرکین کی کمر ٹوٹ چکی تھی لیکن ان کے ایک جنگ جو قبیلہ بنو ہوازن نے اسلام کے مقابلے میں ہزاروں کی فوج کو جمع کرل یا تھا۔ ان کے سردار…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

غزوہ حنین فتح مکہ کے بعد قریب دو ہفتہ کے آنحضرت ﷺ می مکہ میں (قیام) کیا۔ اسی اثناء میں آپ کو خبر پہنچی کہ حنین کے میدان میں ہوازن اور ثقیف قبیلہ کے چار ہزار آدمی اپنے اونٹ اور بکریاں لے کر مسلمانوں سے لڑائی کی نیت سے جمع ہوئے ہیں۔ آپ نے یہ سنتے ہی مسکرا کر فرمایا کہ : کل انشاء اللہ تعالیٰ وہ سب اونٹ اور بکریاں مسلمانوں کا مال غنیمت ہوجاوے گا۔ مدینہ سے جب فتح مکہ کی نیت سے آپ نکلے تھے تو آپ کے ساتھ دس ہزار کا لشکر تھا۔ وہی لشکر آپ نے اپنے ساتھ لیا اور حنین کی چڑھائی کا ارادہ کیا۔ اب فتح مکہ کے وقت دوہزار کے قریب جو لوگ مسلمان ہوئے تھے وہ بھی ساتھ ہوگئے۔ بعضے صحابہ کی زبان سے یہ کلمہ بھی نکل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 25–26

[12] حنین، طائف اور مکہ کے درمیان ایک وادی کا نام ہے۔ فتح مکہ کے دو ہی ہفتے کے بعد یہاں مسلمانوں کا مقابلہ ہوازن اور ثقیف کے مشہور تیر انداز قبیلوں سے ہوا۔ اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد دشمنوں سے تین گنا زیادہ تھی اس لئے اپنی کثرت تعداد پر گھمنڈ ہوگیا تھا۔ کہتے تھے کہ اب وہ دن نہیں رہا کہ تعداد کی کمی کی وجہ سے مغلوب ہوجائیں لیکن دشمنوں نے اس غضب کی تیراندازی کی کہ مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے اور صرف رسول اللہ ﷺ اور چند مٹھی بھر صحابہ اپنی جگہ پر جمے رہے اور ان کی ثابت قدمی کی وجہ سے دوبارہ فوج کی ترتیب قائم ہوسکی اور بالآخر مسلمان فتح یاب ہوئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–27

غزوہ حنین : (ف 1) 8 ھ؁ میں فتح مکہ کے بعد ہوازن وثقیف کے قبیلوں نے جنگ کی طرح ڈال دی ان کا خیال تھا کہ اگر ہم نے مسلمانوں کو شکست دے دی ، تو مکہ والوں کی تمام جائیداد جو طائف میں ہے ، وہ ہماری ہوجائے گی ، اور ہم مسلمانوں سے بت شکنی کا انتقام بھی لے سکیں گے ، حضور ﷺ مقابلہ کے لئے نکلے ، تو ایک جم غفیر ساتھ ہوگیا ، جس کی تعداد تقریبا بارہ ہزار تھی اس لئے مسلمان مغرور تھے ، نہایت بےپروائی سے لڑے ، نتیجہ یہ ہوا کہ شکست کھائی ، اور میدان سے بھاگ نکلے ، حضور ﷺ پہاڑ کی طرح کھڑے رہے ، اور آپ نے للکار للکار کر کہا ۔ انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب : آپ کے استقلال کو دیکھ کر اور دعوت کو سن کر مسلمان…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

25 بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے لڑائی کے اکثر مواقع پر تمہاری مدد فرمائی اور بہت سے میدانوں میں تم کو دشمنوں پر غالب کیا ہے اور خاص کر حنین کی لڑائی کے دن بھی جب کہ تم اپنی تعداد کی کثرت پر اترا گئے تھے اور خوشی کے مارے پھول گئے تھے پھر وہ تعداد کی کثرت تمہارے کچھ کام نہ آئی اور تم پر زمین باوجود اپنی فراخی اور وسعت کے تنگ ہوگئی پھر تم کافروں کو پیٹھ دکھاکر پیچھے ہٹے اور بھاگ کھڑے ہوئے۔ یعنی شروع میں مسلمانوں کے پائوں اکھڑ گئے تھے یہ لڑائی فتح مکہ کے تقریباً دو ہفتے بعد ہوئی تھی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 6۔ حنین ایک مقام ہے مکہ اور طائف کے درمیان میں یہاں قبیلہ ہوازن اور ثقیف سے فتح مکہ کے دوہفتہ بعد لڑائی ہوئی تھی مسلمان بارہ ہزار تھے ارمشرکین چار ہزار بعض مسلمان اپنا مجمع دیکھ کر ایسے طور کہ اس سے پندرا مرشح ہوتا تھا کہنے لگے کہ ہم آج کسی طرح مغلوب نہیں ہوسکتے چناچہ اول مقابلہ میں کفار کو ہزیمت ہوئی بعض مسلمان غنیمت کو جمع کرنے لگے اس وقت کفار لوٹ پڑے اور وہ تیر انداز بڑے تھے مسلمانوں پر تیر برسانے شروع کیے اس گھبراہٹ میں مسلمانوں کے پاوں اکھڑ گئے صرف رسول اللہ مع چند صحابہ کے میدان میں رہ گئے آپ نے حضرت عباس کو آواز دلوائی پھر سب لوٹ کر دوبارہ کفار سے مقابل ہوئے اور آسمان سے فرشتوں کی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ نے کتنے نازک موقعوں پر تمہاری مدد فرمائی اور خصوصاً حنین کے دن : 37: حنین کیا ہے اور حنین کا دن کیسا دن تھا ؟ حنین ایک وادی کا نام ہے جو مکہ سے تین دن کی مسافق شمال میں واقع ہے۔ اس وادی کے نواح میں تفیف و ہوازن آباد تھے۔ جب نبی اعظم و آخر ﷺ 6 شوال 8 ہجری کو بارہ ہزار مجاہدین جن میں سے دس ہزار مدنی اور دو ہزار مکی تھے کہ ہمراہ مکہ سے نکلے تو 10 شوال کو وادی حنین میں پہنچے۔ وہاں تفیف و ہوازن تقریباً ایک لاکھ کی تعداد میں پہلے ہی مقیم تھے جن کی قیادت مالک بن عوف کے ہاتھ میں تھی۔ ان لوگوں نے وہاں پہنچ کر تمام موزوں مقامات پر قبضہ کرلیا تھا اور تیر اندازوں کے دستے گھاٹیوں میں جا بجا جما دیئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary: Described in the verses cited about are events relating to the scenario of defeat and victory at the battle of Hunain. Along with it, several primary and subsidiary problems have also been resolved as a corollary. As the verse opens, Allah Ta` ala mentions His favour and grace which has descended upon Muslims on all occasions and under all conditions. It was said: لَقَدْ نَصَرَ‌كُمُ اللَّـهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَ‌ةٍ (Allah has surely blessed you with His help on many battlefields). Particularly cited soon after this opener was: وَيَوْمَ حُنَيْن (and on the day of Hunain) that is,…

Read the full tafseer →