Explained with ayahs 23–24
ترک موالات و مودت کا حکم
اللہ تعالیٰ کافروں سے ترک موالات کا حکم دیتا ہے ان کی دوستیوں سے روکتا ہے گوہ وہ ماں باپ ہوں بہت بھائی ہوں۔ بشرطیکہ وہ کفر کو اسلام پر ترجیح دیں اور آیت میں ہے (آیت لا تجد قوما یومنوں باللہ الخ،) اللہ پر اور قیامت پر ایمان لانے والوں کو تو ہرگز اللہ رسول کے دشمنوں سے دوستی کرنے والا نہیں پائے گا گو وہ ان کے باپ ہوں بیٹے یا بھائی ہوں یا رشتے دار ہوں یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان رکھ دیا گیا ہے اور اپنی خاص روح سے ان کی تائید فرمائی ہے۔ انہیں نہروں والی جنت میں پہنچائے گا۔ بیہقی میں ہے حضرت ابو عبیدبن جراح ؓ کے باپ نے بدر والے دن ان کے سامنے اپنے بتوں کی تعریفیں شروع…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 22
یعنی تمہیں ہٹا کر سچی دینداری کی نعمت اور اس کی علمبرداری کا شرف اور رشد و ہدایت کی پیشوائی کا منصب کسی اور گروہ کو عطا کر دے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(آگے اسی مضمون کی زیادہ تفصیل ہے کہ اے محمد ﷺ آپ (ان سے) کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہا ری بیبیاں اور تمہارا کنبہ اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس میں نکاسی نہ ہونے کا تم کو اندیشہ ہو اور وہ گھر جن میں (رہنے) کو تم پسند کرتے ہو (اگر یہ چیزیں) تم کو اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیاری ہوں تو تم منتظر رہو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم (سزائے ترک ہجرت کا) بھیج دیں (جیسا دوسری آیت میں ہے (آیت) ان الذین تو فھم الملئکہ الی قولہ فاولئک ماوھم جھنم) اور اللہ تعالیٰ بےحکمی کرنے والے لوگوں کو ان کے مقصود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
تفسیر آیات 23، 24۔
آیت 23۔ اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ وَلَمْ يَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰٓى اُولٰۗىِٕكَ اَنْ يَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ۔
سچے اہل ایمان کی صفات : اوپر آیت 16 میں یہ مضمون گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ پسند نہیں کرتا کہ اہل ایمان کے اندر وہ لوگ بھی رلے ملے رہیں جو ایمان کا دعوی بھی رکھتے ہیں اور کفار و مشرکین سے دوستی بھی قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ اللہ پر سچا ایمان رکھنے والے صرف وہی لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جہاد کریں اور اللہ و رسول اور اہل ایمان کے مقابل میں کسی اور کو اپنا دوست اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
24۔ 1 اس آیت میں بھی اس مضمون کو بڑے مؤکد انداز میں بیان کیا گیا ہے عشیرۃ اسم جمع ہے، وہ قریب ترین رشتہ دار جن کے ساتھ آدمی زندگی کے شب و روز گزارتا ہے، یعنی کنبہ قبیلہ، اقتراف، کسب (کمائی) کے معنی کے لئے آتا ہے، تجارت، سودے کی خریدو فروخت کو کہتے ہیں جس کا مقصد نفع کا حصول ہو، کساد، مندے کو کہتے ہیں یعنی سامان فروخت موجود ہو لیکن خریدار نہ ہو یا اس چیز کا وقت گز رچکا ہو، جس کی وجہ سے لوگوں کو ضرورت نہ رہے۔ دونوں صورتیں مندے کی ہیں۔ مساکن سے مراد وہ گھر ہیں جنہیں انسان موسم کے شدائد و حوادث سے بچنے آبرومندانہ طریقے سے رہنے سہنے اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کے لئے تعمیر کرتا ہے، یہ ساری چیزیں…
Read the full tafseer →18: فیصلے سے مراد سزا کا فیصلہ ہے اس آیت نے واضح فرمادیا ہے کہ ماں باپ، بھائی بہن، بیوی، بچے، مال و دولت، گھر، جائیداد، تجارت اور کاروبار، ہر چیز اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے ؛ لیکن اسی وقت جب وہ اللہ تعالیٰ کے احکام بجالانے میں رکاوٹ نہ بنے، اگر رکاوٹ بن جائے تو یہی چیزیں انسان کے لئے عذاب بن جاتی ہیں، اعاذنا اللہ منہ۔
Read the full tafseer →یہاں سیاق کلام میں یہ نہیں کہا گیا کہ اس اصول کو بیان کردیا جائے بلکہ محبتوں کی مثالیں اور رنگ بھی بتا دیے جاتے ہیں۔ کون سے تعلقات ، کون سے روابط اور کون سے لذائذ ایمان کے خلاف ہوں گے تاکہ انہیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور ایمان اور اسلام کے تقاضون کو دوسرے پلڑے میں رکھ کر مشخص اور ممثل انداز میں بتایا جائے۔ مثلاً اباء ، ابناء ، اخوان ، میاں بیوی اور خاندان یعنی عام خون اور نسب کے رشتے اور قرابت داریاں اور اموال تجارت جن کے ساتھ فطری رغبت ہوتی ہے اور مکانات اور کوٹھیاں جہاں آرام کیا جاتا ہے اور زندگی کی لذتوں سے لطف اندوز ہوا جاتا ہے ہے ان سب کو ایک پلڑے میں رکھ کر اور حب خدا ، حب…
Read the full tafseer →1 یعنی اگر خدا اور رسول کے احکام کا امتثال اور ہجرت یا جہاد کرنے سے یہ خیال مانع ہو کہ کنبہ برادری چھوٹ جائے گی۔ اموال تلف ہوں گے، تجارت مندی پڑجائے گی، یا بند ہوجائے گی۔ آرام کے مکانوں سے نکل کر بےآرام ہونا پڑے گا، تو پھر خدا کی طرف سے حکم سزا کا انتظار کرو، جو اس تن آسانی اور دنیا طلبی پر آنے والا ہے۔ جو لوگ مشرکین کی موالات یا دنیاوی خواہشات میں پھنس کر احکام الٰہیہ کی تعمیل نہ کریں ان کو حقیقی کامیابی کا راستہ نہیں مل سکتا۔ حدیث میں ہے کہ جب تم بیلوں کی دم پکڑ کر کھیتی باڑی پر راضی ہوجاؤ گے اور " جہاد " چھوڑ بیٹھو گے تو خدا تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا جس سے کبھی نکل نہ سکو گے یہاں تک کہ…
Read the full tafseer →آیت 24 قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُنِ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ ط وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ
یہاں آٹھ چیزیں گنوا دی گئی ہیں کہ اگر ان آٹھ چیزوں کی محبتوں میں سے کسی ایک یا سب محبتوں کا جذبہ اللہ ‘ اس کے رسول اور اس کے رستے میں جہاد کی محبتوں کے جذبے کے مقابلے میں زیادہ ہے تو پھر اللہ کے فیصلے کا انتظار کرو۔ یہ بہت سخت اور رونگٹے…
Read the full tafseer →22 دنیوی مرغوبات میں پھنس کر جہاد چھوڑنے کی سزا :۔ اس آیت میں جن رشتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان سے انسان کو فطری لگاؤ ہوتا ہے اور بعض مسلمانوں کے باپ یا بیٹے یا بیویاں کافر تھیں جنہیں چھوڑ کر ہجرت کرنا مشکل سی بات تھی۔ اسی طرح انسان کو اپنے کمائے ہوئے مال و دولت، اپنے کاروبار سے اور جائیداد سے بھی بہت محبت ہوتی ہے کیونکہ یہ چیزیں اس کے گاڑھے خون پسینے کی کمائی کے نتیجہ میں اسے حاصل ہوتی ہے لہذا انہی چیزوں سے مومنوں کے ایمان کا امتحان لیا گیا ہے کہ آیا وہ ان چیزوں کو چھوڑ کر دین کی خاطر ہجرت اور جہاد کرتے ہیں یا نہیں ؟ چناچہ صحابہ کرام ؓ کی اکثریت اس معیار پر بھی پوری اتری۔ تھوڑے ہی مسلمان ایسے…
Read the full tafseer →36 ۔ (اور وہ حکم سزائے ترک ہجرت کا ہوگا) (آیت) ” احب الیکم “۔ نے اس مسئلہ کو اور زیادہ صاف کردیاجس کا ذکر ابھی اوپر کی آیت میں آچکا ہے یعنی عزیزوں کی محبت بجائے خود ممنوع نہیں، صرف اس کی وہ صورت ممنوع ہے جب وہ احکام شریعت کی تعمیل میں سد راہ بننے لگے، فقہاء مفسرین نے آیت سے یہ حکم بھی اخذ کیا ہے کہ اللہ اور رسول کی محبت کا درجہ وجوب کا ہے۔ وفی الایۃ دلیل علی وجوب حب اللہ رسولہ ولا خلاف فی ذلک بین الامۃ (قرطبی) (آیت) ” من اللہ ورسولہ “۔ سے مرا دمن العمل (آیت) ” بامر اللہ ورسولہ “۔ ہے یعنی احکام خدا اور رسول پر عمل سے عزیز تر۔ وفی الکلام حذف اے احب الیکم من امتثال امر اللہ تعالیٰ ورسولہ (بحر)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
شان نزول : اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَاجَ (الآیة) مشرکین حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی دیکھ بھال کا جو کام کرتے تھے اس پر انہیں بڑا فخر تھا، اس کے مقابلہ میں وہ ایمان و جہاد کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے جس کا اہتمام مسلمانوں کے اندر تھا، اس غلط فہمی اور زعم باطل کو رد کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اَجَعَلتم سقایة الحاج الخ کیا تم سقایة حاج اور عمارت مسجد حرام کا ایمان باللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کے برابر سمجھتے ہو ؟ یاد رکھو یہ اللہ کے نزدیک برابر نہیں بلکہ مشرک کا کوئی عمل بھی عند اللہ مقبول نہیں۔
اس آیت کے شان نزول کے سلسلہ میں تین واقعات نقل کئے گئے ہیں۔
پہلا واقعہ : ایک روایت…
Read the full tafseer →قل (اے محمد ! ہجرت ترک کرنے والوں سے) آپ کہہ دیجئے۔
ان کان اباؤکم وابناؤکم واخوانکم وازواجکم وعشیرتکم واموال اقتراف تموھا وتجارۃ تخشون کسادھا ومسکن ترضونھا احب الیکم من اللہ ورسولہ وجھاد فی سبیلہ فتربصوا حتی یاتی اللہ بامرہط کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بی بیاں اور تمہارا کنبہ اور وہ مال جو تم کماتے ہو اور وہ تجارت جس میں نکاسی نہ ہونے کا تم کو اندیشہ ہو اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو ‘ تم کو اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیارے ہوں تو رکے رہو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم (یعنی ہجرت ترک کرنے والوں کو سزا کا فیصلہ) بھیج…
Read the full tafseer →(24) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ تمہارے یہ رشتہ دار اور تمہاری وہ قوم جو مکہ مکرمہ میں ہے اور وہ مال جو تم نے کمائے ہو اگر یہ تمام چیزیں تمہیں اطاعت الہی اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیاری ہوں تو عذاب الہی یعنی فتح مکہ کے دن قتل ہونے کا انتظار کرو اور پھر اسکے بعد ہجرت کرتے پھرو اور اللہ تعالیٰ ان کافروں کو جو اس کے دین کے اہل نہیں ہوتے اپنے دین تک نہیں پہنچاتا۔
Read the full tafseer →قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ : یہ اور اس سے پہلی آیت دونوں مسلمانوں کے کسی خاص گروہ یا واقعہ سے متعلق نہیں بلکہ عام اور ہر زمانے کے لیے ہیں، ان میں تمام مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کی محبت انھیں دنیا کی ہر چیز سے زیادہ ہونی چاہیے، یہ تمام چیزیں جو اللہ تعالیٰ نے شمار فرمائی ہیں ہر انسان کو طبعی طور پر محبوب ہوتی ہیں، فرمایا : (زُيِّنَ للنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَاۗءِ وَالْبَنِيْنَ وَالْقَنَاطِيْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّھَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۭ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ…
Read the full tafseer →جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم ارشاد فرمایا تو ایک آدمی بیوی کو کہنے لگا : بیشک ہمیں ہجرت کا حکم دیا گیا ہے۔ تو ان میں سے بعض نے اس کے لیے تیزی اور جلدی کی۔ اور بعض نے ہجرت سے انکار کرد کیا : تو وہ کہتا : قسم بخدا ! اگر تم دار الحجرت کی طرف نہ نکلے میں تمہیں کوئی فائدہ نہیں دوں گا اور نہ تم پر کبھی کوئی شی خرچ کروں گا۔ اور ان میں سے وہ بھی تھے جس کے ساتھ اس کی بیوی اور اولاد چمٹ گئی اور وہ اسے کہنے لگے : میں تجھے اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہتی ہون کہ تو نہ نکل پس تیرے بعد ہم ضائع ہوجائیں گے۔ پھر ان میں سے بعض تھے جو نرم ہوگئے اور انہوں نے ہجرت کو چھوڑ دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
1:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم ابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ہجرت کا حکم دیا گیا تو عباس بن عبدالمطلب ؓ نے کہا کہ میں حاجیوں کو پانی پلاتا ہوں اور طلحہ بن عبداللہ کے بھائیوں نے کہا کہ ہم کعبہ کی دربانی کرتے ہیں ہم ہجرت نہیں کریں گے تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” لا تتخذوا ابآء کم واخوانکم اولیآء ان استحبوا الکفر علی الایمان “۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت ہجرت کے بارے میں نازل ہوئی۔
3:۔ عبدبن حمید وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واموال اقترفتموھا “ سے مراد ہے کہ وہ مال جو تم…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہہ دیجیے ] اِنْ [ اگر ] كَانَ [ ہیں ] اٰبَاۗؤُكُمْ [ تمہارے آباواجداد ] وَاَبْنَاۗؤُكُمْ [ اور تمہارے بیٹے ] وَاِخْوَانُكُمْ [ اور تمہارے بھائی ] وَاَزْوَاجُكُمْ [ اور تمہاری بیویاں ] وَعَشِيْرَتُكُمْ [ اور تمہارے رشتہ دار ] وَاَمْوَالُۨ [ اور تمہارے وہ مال ] اقْتَرَفْتُمُوْهَا [ تم نے کمایا جن کو ] وَتِجَارَةٌ [ اور وہ تجارت ] تَخْشَوْنَ [ تم لوگ ڈرتے ہو ] كَسَادَهَا [ جس کی مندی سے ] وَمَسٰكِنُ [ اور وہ مکانات ] تَرْضَوْنَهَآ [ تم لوگ پسند کرتے ہو جن کو ] اَحَبَّ [ زیادہ پیارے ہیں ] اِلَيْكُمْ [ تمہارے لیے ] مِّنَ اللّٰهِ [ اللہ سے ] وَرَسُوْلِهٖ [ اور اس کے رسول سے ] وَجِهَادٍ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
اللہ تعالیٰ کی محبت کے سامنے باپ، بھائی، بیوی، کنبہ، قبیلہ، مکان، دکان، آل اولاد کی کوئی حقیقت نہیں
گزشتہ آیات میں جہاد اور ہجرت کی فضیلت بیان فرمائی۔ جب ہجرت کا حکم ہوا تھا اس وقت ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے اسلام تو قبول کرلیا لیکن ہجرت کرنے میں پس و پیش کرتے تھے اور ہجرت کی ہمت کرنے سے عاجز بنے ہوئے تھے۔ یہ آیات ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئیں۔ معالم التنزیل (ص 276 ج 2) میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ کو ہجرت کرنے کا حکم فرمایا ( اور یہ وہ وقت تھا جبکہ مدینہ منورہ ہی دارالاسلام تھا اور مدینہ منورہ کو ہجرت کرنا فرض تھا) تو بعض لوگوں نے ہجرت کرنے کا ارادہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–24
مشرکین عرب کے فخر اور ناز کا جواب اور اعمال فاضلہ کا بیان
قال اللہ تعالیٰ ۔ ماکان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ عندہ اجر عظیم۔
(ربط): سورت کا آغاز مشرکین کی براءت اور بیزاری سے فرمایا بعد ازاں ان کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ اسی قابل ہیں کہ ان سے براءت اور بیزار اختیار کی جائے ان لوگوں کا خدا تعالیٰ کے یہاں کوئی مرتبہ نہیں۔ چونکہ یہ اعلان براءت ان کی اہانت اور تحقیر پر مبنی تھا اس لیے مشرکین مکہ نے اپنی فضیلت ثابت کرنے کے لیے بڑے فخر اور ناز سے یہ کہا کہ ہم بہت سی خاص حمیدہ اور افعال پسندیدہ کے حامل ہیں ہم سے براءت اور بیزاری کی کوئی وجہ نہیں ہم…
Read the full tafseer →19: یہ زجر ہے یعنی اگر ماں باپ، بیٹے، بھائی، بیویاں اور دیگر رشتہ دار، مال و دولت، کاروبار اور مکانات تمہیں اللہ اور اس کے سول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر اللہ کے عذاب کیلئے تیار ہوجاؤ۔ یہ پہلے حکم “ لَا تَتَّخِذُوْا اٰبَاء کُمْ وَ اِخْوَانَکُمْ اَوْلِیَاءَ اِنِ اسْتَحَبُّوْ الْکُفْرَ عَلَی الْاِیْمَانِ ” کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے تہدید و تخویف ہے۔ “ فَتَرَبَّصُوْا، و ھٰذا امر تھدید و تخویف ” (خازن ج 3 ص 58) “ (حَتّٰی یَاتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ) الحسن بعقوبة اٰجلة او عاجلة ” (قرطبی ج 8 ص 96) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ربط آیات :
پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کو افضل الاعمال سے تعبیر کیا ، ایمان لانا ، ہجرت کرنا اور جہاد کرنا اللہ کے نزدیک بہت بڑا کارنامہ ہے ، اللہ تعالیٰ نے مومنین ، مہاجرین اور مجاہدین کے لیے اپنی رحمت ، خوشنودی اور جنت کی بشارت سنائی اور فرمایا کہ اللہ کے ہاں ان لوگوں کے لیے اجر عظیم ہے ، چونکہ یہ جہاد کا موضوع چل رہا ہے تو اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کے بلند مرتبت ہونے کا ذکر کیا ہے ابتدائی دور کے مسلمانوں کے اکثر اعزہ و اقارب کے آمنے سامنے آنے کا احتمال پیدا ہوگیا۔ قرابت داری ایک ایسی چیز ہے جو جہاد کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی تھی ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آج کے درس میں قربتداری کے مقابلہ…
Read the full tafseer →قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَہَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِيْ سَبِيْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللہُ بِاَمْرِہٖ 0 ۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ 24 ۧ
( ابْنُ )
أصله : بنو، لقولهم في الجمع :
أَبْنَاء، وفي التصغیر : بُنَيّ ، قال تعالی: يا بُنَيَّ لا تَقْصُصْ رُؤْياكَ عَلى إِخْوَتِكَ [يوسف/ 5] ، يا بُنَيَّ إِنِّي أَرى فِي الْمَنامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ [ الصافات/ 102] ، يا بُنَيَّ لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
ترکیب : اولیاء جمع ولی مفعول لاتتخذوا ان شرط جملہ ما قبل دال برجز۔ حسب خبر کان یہ تمام جملہ شرط فتربصوا جواب یوم حنین مواطن سے بدل جو نصرکم ظرف ہے۔ اذ کا عامل نصر ہے تغن کا فاعل ضمیر جو کثرت کی طرف راجع ہے۔
تفسیر : مسلمانوں کو کفار سے اعلاناً جنگ کا حکم دیا گیا جہاں فریق مخالف میں سے ان کو اپنے بال بچوں کنبہ برادری سے لڑنا پڑتا تھا۔ ایک شخص مسلمان اور باقی کافر ‘ دشمن اسلام۔ ایسی صورت واقع تھی اور نیز عموماً ہجرت کا بھی حکم صادر ہوا تھا جس میں کنبہ ‘ بھائی بند ‘ جگر کے ٹکڑے ‘ چھٹتے تھے۔ تجارت بگڑتی تھی۔ افلاس کا منہ دیکھنا پڑتا تھا۔ یہ ساری باتیں ایسی تھیں جو انسان کو فطرتی طور پر جہاد و ہجرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَتَّخِذُوْآ اٰبَآئَ کُمْ وَاِخْوَانَکُمْ اَوْلِیَآئَ اِنِ اسْتَحَبُّوْاالْکُفْرَ عَلَی الْاِیْمَانِط وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَاؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُنِ افْتَرَفْتُمُوْھَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَھَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْ تِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖطوَاللّٰہُ لَایَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ ع
(التوبۃ : 23، 24)
(اے ایمان والو ! تم…
Read the full tafseer →ہے مکان صرف سر چھپانے کی جگہ ہی نہیں غور کیا جائے تو انسان کی حقیقی دنیا ہی اس کا مکان ہوا کرتا ہے۔ باقی جہاں چلنے، پھرنے اٹھنے بیٹھنے اور کاروبار کے لیے ہے۔ زندگی میں گھر کی ہر آدمی کو خواہش ہوتی ہے کہ اس کی رہائش گاہ بہتر سے بہتر اور آرام دہ ہوحتی کہ پرندے رات کے وقت اپنے گھونسلے اور کیڑے مکوڑے اپنی بل کی طرف پلٹتے ہیں۔ اس کے لیے تَرْضَوْنَھَا کا لفظ استعمال فرمایا کہ جنھیں تم نہایت پسند کرتے ہو یہ مکانات اور سب کی سب چیزیں اور رشتے ناطے جو تمہیں ایک سے ایک بڑھ کر محبوب اور پسند ہیں اگر یہ اللہ اور اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ سے بڑھ کر تمہیں عزیز ہیں تو اللہ کے عذاب کا انتظار…
Read the full tafseer →یہ رشتہ داریاں اللہ اور رسول کے مقابلے میں بےحیثیت ہیں :
آیت 24: قُلْ اِنْ کَانَ ٰابَآ ؤُ کُمْ وَاَبْنَآ ؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ (آپ کہہ دیں کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا کنبہ) تمہارے اقارب۔ قراءت ؛ ابوبکر نے وعشیراتکم پڑھا ہے۔ وَاَمْوَالُ اڑقْتَرَفْتُمُوْھَا (اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں) جو مال تم نے کمایا۔ وَ تِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا (اور وہ تجارت جس میں نکاسی ہونے کا تم کو خطرہ ہو) گرم بازاری کے وقت فوت ہونے کا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَھَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَ جِھَادٍ فِیْ…
Read the full tafseer →تفسیر 24۔” قل “ اے محمد ! (ﷺ) ان ہجرت سے پیچھے رہنے والوں کو کہہ دیں کہ ” ان کان ایائو کم “ جب پہلی آیت نازل ہوئی تو وہ لوگ کہنے لگے جو ایمان تو لائے تھے لیکن ہجرت نہ کی کی تھی کہ اگر ہم ہجرت کرتے تو ہمارے مال ضائع ہوجاتے اور تجارت ختم ہوجاتی اور گھر ویران ہوجاتے اور ہم رشتہ داری کو توڑدیتے تو یہ آیت نازل ہوئی۔” ان کان ابائوکم وابناوکم اخوانکم وازواجکم وعشیرتکم “ ابوبکر نے عاصم رحمہما اللہ سے ” عشر اتکم “ الف کے ساتھ جمع کا صیغہ ہونے کی بناء پر پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے بغیر الف کے واحد کا صیغہ پڑھا ہے ۔ اس لیے کہ عشیرۃ جمع پر واقع ہوا ہے اور اس قرأت کو یہ بات تقویت دیتی ہے کہ ابو الحسن اخفش…
Read the full tafseer →24۔ اللہ پاک نے اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو حکم فرمایا کہ تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم ایمان لانے کے بعد قرابت داروں ترقی مال وتجارت اور اچھے اچھے مکانوں کے آباد رکھنے کی الفت میں ایسے گرفتار رہو گے کہ ان چیزوں سے زیادہ خدا اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے کو عزیز نہ جانو گے تو ایسی حالت میں تمہارا ایمان پورا انہیں ہوسکتا اور اگر انہی چیزوں کی محبت میں پڑے رہو گے تو پھر خدا کے عذاب کے منتظر رہو مسند امام احمد اور بخاری میں عبداللہ بن ہشام ؓ کی ایک روایت ہے کہ ایک روز ہم آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھے اور آپ حضرت عمر ؓ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے حضرت عمر ؓ نے کہا کہ یارسول اللہ ﷺ آپ دنیا میں ہر شے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
آیت 23
اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے اے ” مومنوں ! “ ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ جو ایمان کے تقاضوں کو پارا کرتا ہے اس کے ساتھ موالات رکھو ‘ جو ان تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ان سے عداوت رکھو اور ” نہ بناؤ تم اپنے باپوں اور بھائیوں کو دوست “ جو لوگوں میں سے سب سے زیادہ تمہارے قریب ہیں اور دوسرے لوگوں کے بارے میں تو زیادہ اولٰی ہے کہ تم ان کو دوست نہ بناؤ۔ ” اگر وہ کفر کو پسند کریں ایمان کے مقابلے میں “ یعنی اگر وہ برضاو رغبت اور محبت سے ایمان پر کفر کو ترجیح دیں۔ ” اور جو بھی دوستی کرے گا ان سے تم میں سے ‘ پس وہی لوگ ہیں ظالم “ کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جسارت کی اور اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
دین میں رشتوں کی اہمیت
قول باری ہے (یا ایھا الذین امنوا لا تتنخذوا اباء کم و اخوانکم اولیاء ان استحبوا الکفر علی الایمان۔ اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بنائو اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں) آیت میں مسلمانوں کو کافروں سے دوستی کرنے، ان کی مدد کرنے، ان سے مدد حاصل کرنے اور اپنے معاملات ان کے حوالے کرنے سے روک دیا گیا ہے نیز ان سے بیزاری کا اظہار اور ان کی ترک تعظیم و تکریم واجب کردی گئی ہے۔ اس معاملے میں باپ بھائی سب یکساں حیثیت رکھت ہیں تاہم کافر باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور معروف طریقے سے وقت گزارنے کا حکم دیا گیا ہے چناچہ ارشاد باری ہے (ووصینا…
Read the full tafseer →51 اللہ اور اس کے رسول کی محبت سب سے مقدم اور سب پر فائق : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ اگر تم لوگوں کو یہ اور یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد سے زیادہ پیاری ہیں تو تم لوگ انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ لے آئے اپنا حکم۔ یعنی اپنا عذاب خواہ وہ فوری طور پر اسی دنیا میں ہو خواہ آخرت میں۔ سو اس ارشاد ربانی میں ان لوگوں کے لئے بڑی تہدید اور تخویف ہے، جو اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے میں ان مذکورہ چیزوں کو ترجیح دیں۔ پس مومن صادق کا کام اور اس کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے میں دنیا کی ہر چیز کو ٹھکرا دے، جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ میں مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ…
Read the full tafseer →جہاد کی بجائے دنیاوی مال و متاع کو ترجیح دینے کی سزا
تشریح : دراصل یہ آیت ان لوگوں کے لیے نازل ہوئی جنہوں نے ہجرت کا حکم ہوجانے کے بعد بھی ہجرت صرف اس لیے نہ کی کہ ہجرت کرنے سے وہ ماں باپ، بہن بھائی، اولاد بیوی مال و جائیداد اور کاروبار سے محروم ہوجائیں گے تو ایسے لوگوں کے لیے اس آیت میں پیغام دیا گیا ہے۔ کیونکہ ایمان کے مضبوط اور کامل ہونے کی نشانی یہ ہے کہ ان تمام دنیاوی تعلقات پر اللہ اور اس کے رسول کو فوقیت دی جائے۔ صاحب روح البیان نے فرمایا کہ ” یہ مقام خلت اسی کو حاصل ہوتا ہے جو خلیل اللہ کی طرح اپنے مال، اولاد اور جان کو اللہ کی محبت میں قربان کرنے کے لیے تیار ہو۔ “
اس آیت میں ہجرت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
آیات 17 تا 24
اسرار و معارف
فتح مکہ کے بعد اگر چہ بیت اللہ کو بتوں سے پاک کردیا گیا تھا مگر مشرکین اپنی رسومات تو اپنے ہی طور پر ادا کرتے تھے اور یہ ضروری تھا کہ بیت اللہ کو ان خرافات سے بھی پاک کیا جاتا مگر اس میں رکاوٹ یہ تھی کہ بعض قبائل کے ساتھ مسلمانوں کے معادہ صلح کی مدت باقی تھی اور انھوں نے عہد شکنی بھی نہ کی تھی لہٰذا ایک سال تک مہلت دی گئی اس میں وہ مدت بھی گزرگئی اور کوئی نیا معاہدہ نہ کیا گیا بلکہ 9 ھجری کے حج میں آپ ﷺ نے اعلان کرادیا کہ آئندہ کوئی مشرک بیت اللہ کی حدود میں داخل نہ ہوگا اور نہ کافر انہ رسوم ادا کرسکے گا۔
مشرکین اپنے زعم باطل میں بتوں کی پوجا اور عمارت کی تعمیر…
Read the full tafseer →ف 2 یہ دونوں آیتیں مسلمانوں کے کسی خاص گروہ یا واقعہ سے متعلق نہیں ہیں بلکہ عام اور ہر زمانے کے لیے ہیں۔ ان میں تمام مسلمانوں کے یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ و رسول ( علیہ السلام) کی محبت انہیں دنیا کی ہر چیز سے زیادہ ہونی چاہیے حتی کہ اگر کبھی ایساہو کہ ایک طرف اللہ و رسول کا حکم ہو اور دین اسلام کو بچا نے کے لیے جان ول مال سب کچھ قربان کردینے کی ضرورت ہو اور دوسری طر ما باپ اور دیگر خویش وقارب کی محبت ہو اور مالی دوسرے دنیوی مفادات و خطرات سدراہ ہو رہے ہوں تو مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ہر شخص اور ہر مصلحت سے بےپرواہ ہو کر اللہ و رسول ( علیہ السلام) کے حکم کی پیروی کرے اور کوئی دینوی مفاد یا خطرہ…
Read the full tafseer →(9:24) عشیرتکم۔ تمہاری برادی۔ تمہار کنبہ۔ تمہارا قبیلہ۔
اقترفتموھا۔ اصل میں اقترقتم ہے واؤ اشباع کا ہے۔ اقترف یقترف اقتاف (افتعال) کمانا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب اموال کی طرف راجع ہے۔ جو مال تم نے کمائے ہیں۔
کسادھا۔ مضاف مضاف الیہ کساد مصدر۔ تجارت نہ چلنا۔ سودا نہ بکنا۔ خریدار نہ ملنا۔ (باب نصر و کرم) سوق کا سد۔ وہ بازار جس میں خریدار کم ہوں ۔ اردو میں کساد بازاری اس وقت بولتے ہیں جب بازار میں خریدو فروکت مدہم پڑجائے۔
فتربصوا۔ پس تم انتظار کرو۔ تم منتظر رہو۔ تم راہ دیکھو۔ تربص (تفعل) سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ فتربصوا حتی یاتی اللہ بامرہ تہدید و تخویف کے لئے ہے (یعنی تو پھر اب عذاب الٰہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 24
لاتنخذوا (تم نہ بنائو) ابآء کم (اپنے باپ داداکو) اخوانکم (تمہارے اپنے بھائیوں کو) اولیاء (دوست) ان استحبوا (اگر وہ پسند کریں) عشیرۃ (خاندانی، کنبہ والے ) افتر فتموا (تم نے اس کو کمایا) تخشون (تم ڈرتے ہو) کساد (تجارتی نقصان) مسکن (گھر) ترضون (تم پسند کرتے ہو) احب (زیادہ محبوب، پسندیدہ) تربصوا (انتظار کرو) حتی یاتی (یہاں تک کہ آجائے)
تشریح : آیت نمبر 23 تا 24
یہ دو آیتیں گزشتہ مضامین کے پس منظر میں ایک خاص اہمیت رکھتی ہیں جن کے گہرے اثرات معاشرت، معیشت، تمدن و تہذیب، ملکی اور غیر ملکی اور صلح و جنگ وغیرہ سب پر پڑتے ہیں۔
(1) یہ آیتیں خونی اور ایمانی رشتوں کی سرحدوں…
Read the full tafseer →رسول کی فرمانبرداری عین اللہ کی فرمانبرداری ہے
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ تم ان لوگوں سے کہ دو کہ اگر تم ایمان لانے کے بعد قرابت داروں اور ترقی مال و تجارت اور اچھے اچھے مکانوں کے آباد رکھنے کی الفت میں ایسے گرفتار ہوگئے کہ ان چیزوں سے زیادہ خدا اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے کو عزیز نہ جانوگے، تو ایسی حالت میں تمہارا ایمان پورا نہیں ہوسکتا ہے، اور اگر انہی چیزوں کی محبت میں پڑے رہوگے تو پھر خدا کے عذاب کے منتظر رہو۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کوئی کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ سمجھے۔ کیونکہ احکام الہی اللہ کے رسول کے ذریعہ…
Read the full tafseer →[11] یعنی اس تن آسانی اور دنیا طلبی پر اللہ کی طرف سے سزا کے حکم کا انتظار کرو۔
Read the full tafseer →دین کی محبت :
(ف 2) غرض یہ ہے کہ مسلمان رشتہ اطاعت کو ہر آن ملحوظ خاطر رکھے ، اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں تمام تعلقات کو ٹھکرا دے ۔
اور جو شخص اس طرح دار محبت کی دولت سے بہرہ ور نہیں جس کی لگن دنیوی مال اور عزیز و اقارب سے زیادہ ہے جو ان بندھنوں میں بندھا ہے ، اور ایثار وقربانی کے جذبہ سے محروم ہے ، وہ فاسق ہے اسے عذاب الہی کا منتظر رہنا چاہئے مسلمان وہ ہے جو ہر گھاٹے اور نقصان کو برداشت کرلے ، مگر دین کا نقصان اور دین کا گھاٹا اس کے لئے ناقابل برداشت ہو ۔
Read the full tafseer →24 اے پیغمبر ﷺ ! مسلمانوں سے کہہ دیجئے کہ تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے والے اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے مندے سے اور نکاسی کا وقت نکل جانے سے ڈرتے ہو اور وہ مکانات جن کو تم پسند کرتے ہو اگر یہ سب چیزیں تم کو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب اور پیاری ہیں تو اچھا تم انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم بھیج دے اور اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کی رہنمائی اور رہبری نہیں فرماتا اور ان کو ان کے مقصود تک نہیں پہنچاتا۔ یعنی سز کا انتظار کرو یا کافروں کے اخراج کا۔
حضرت شاہ صاحب (رح)…
Read the full tafseer →ف 4۔ ان شیاء کا زیادہ پیارا ہونا جو برا ہے مراد اس سے وہ محبت ہے جو احکام الہیہ ونبویہ پر عمل کرنے سے باز رکھے میلان طبعی مراد نہیں۔
5۔ یعنی ان کا مقصو تھا ان چیزوں سے تمتع وہ بہت جلد خلاف ان کی توقع کے موت سے منقطع ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے محبوب رکھنے کا مطلب :
35: آیت مذکورہ میں براہ راست خطاب اگرچہ ان لوگوں سے ہے جنہوں نے ہجرت فرض ہونے کے وقت دنیوی تعلقات کی محبت سے مغلوب ہو کر ہجرت نہ کی اور اس طرح ان لوگوں سے جو تجارت کے مال و اسباب میں لگے رہے اور تبوک کی طرف بلائے جانے کے باوجود وہ نہ نکلے اور سستی سے کام لیا اور ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے فتح مکہ کے وقت مکہ کی طرف مسلمانوں کی پیش قدمی کی خبر مکہ والوں کو پہنچانے کی سعی بےجا کی۔ لیکن الفاظ آیت کا عموم تمام مسلمانوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی محبت اس درجہ ہونا لازم و ضروری ہے کہ دوسرا کوئی تعلق اور کوئی محبت اس پر…
Read the full tafseer →Commentary
This verse of Surah At-Taubah was revealed essentially about people who did not migrate from Makkah at the time migration was made obligatory for them. Their love for family and property had stopped them from carrying out their obligation to migrate. In their case, Allah Almighty asked the Holy Prophet ﷺ to tell them what appears in the verse cited above.
As for the statement: "Wait until Allah comes with His command," Tafsir authority Mujahid has said that 'command' referred to here, means the command to carry out Jihad and conquer Makkah. The sense of the statement is that the…
Read the full tafseer →