Explained with ayahs 23–24
ترک موالات و مودت کا حکم
اللہ تعالیٰ کافروں سے ترک موالات کا حکم دیتا ہے ان کی دوستیوں سے روکتا ہے گوہ وہ ماں باپ ہوں بہت بھائی ہوں۔ بشرطیکہ وہ کفر کو اسلام پر ترجیح دیں اور آیت میں ہے (آیت لا تجد قوما یومنوں باللہ الخ،) اللہ پر اور قیامت پر ایمان لانے والوں کو تو ہرگز اللہ رسول کے دشمنوں سے دوستی کرنے والا نہیں پائے گا گو وہ ان کے باپ ہوں بیٹے یا بھائی ہوں یا رشتے دار ہوں یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان رکھ دیا گیا ہے اور اپنی خاص روح سے ان کی تائید فرمائی ہے۔ انہیں نہروں والی جنت میں پہنچائے گا۔ بیہقی میں ہے حضرت ابو عبیدبن جراح ؓ کے باپ نے بدر والے دن ان کے سامنے اپنے بتوں کی تعریفیں شروع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
سورة التَّوْبَة 21
یعنی کسی زیارت گاہ کی سجادہ نشینی، مجاوری اور چند نمائشی مذہبی اعمال کی بجا آوری، جس پر دنیا کے سطح بیں لوگ بالعموم شرف اور تقدس کا مدار رکھتے ہیں، خدا کے نزدیک کوئی قدر و منزلت نہیں رکھتی۔ اصلی قدر و قیمت ایمان اور راہ خدا میں قربانی کی ہے۔ ان صفات کا جو شخص بھی حامل ہو وہ قیمتی آدمی ہے خواہ وہ کسی اونچے خاندان سے تعلق نہ رکھتا ہو اور کسی قسم کے امتیازی طرّے اس کو لگے ہوئے نہ ہوں۔ لیکن جو لوگ ان صفات سے خالی ہیں وہ محض اس لیے کہ بزرگ زادے ہیں۔ سجادہ نشینی ان کے خاندان میں مدتوں سے چلی آرہی ہے اور خاص خاص موقعوں پر کچھ مذہبی مراسم کی نمائش وہ بڑی شان کے ساتھ کردیا کرتے ہیں،…
Read the full tafseer →آیات مذکورہ میں ہجرت اور جہاد کے فضائل کا بیان آیا ہے، جن میں وطن اور اعزاء و اقارب اور احباب و اصحاب اور اموال و املاک سب کو چھوڑنا پڑتا ہے اور ظاہر ہے کہ انسان کی طبیعت پر یہ کام سب سے زیادہ شاق اور دشوار ہیں، اس لئے اگلی آیت میں ان چیزوں کے ساتھ حد سے زیادہ تعلق اور محبت کی مذمت فرما کر مسلمانوں کے ذہنوں کو ہجرت و جہاد کے لئے آمادہ کیا گیا ہے، ارشاد فرمایا (آیت) يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰبَاۗءَكُمْ وَاِخْوَانَكُمْ اَوْلِيَاۗءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَي الْاِيْمَانِ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ،“ یعنی اے ایمان والو تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
تفسیر آیات 23، 24۔
آیت 23۔ اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ وَلَمْ يَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰٓى اُولٰۗىِٕكَ اَنْ يَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ۔
سچے اہل ایمان کی صفات : اوپر آیت 16 میں یہ مضمون گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ پسند نہیں کرتا کہ اہل ایمان کے اندر وہ لوگ بھی رلے ملے رہیں جو ایمان کا دعوی بھی رکھتے ہیں اور کفار و مشرکین سے دوستی بھی قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ اللہ پر سچا ایمان رکھنے والے صرف وہی لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جہاد کریں اور اللہ و رسول اور اہل ایمان کے مقابل میں کسی اور کو اپنا دوست اور…
Read the full tafseer →23۔ 1 یہ وہی مضمون ہے جو قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے (چونکہ اس کی اہمیت واضح ہے اس لئے) اسے یہاں بھی بیان کیا گیا ہے یعنی جہاد و ہجرت میں تمہارے لئے تمہارے باپوں اور بھائیوں وغیرہ کی محبت آڑے نہ آئے، کیونکہ وہ ابھی تک کافر ہیں، تو پھر وہ تمہارے دوست ہو ہی نہیں سکتے، بلکہ وہ تمہارے دشمن ہیں اگر تم ان سے محبت کا تعلق رکھو گے تو یاد رکھو تم ظالم قرار پاؤ گے۔
Read the full tafseer →17: اسکا مطلب یہ ہے کہ ان سے ایسے تعلقات نہ رکھو جو تمہارے لئے دینی فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹ بن جائیں، جہاں تک اپنے ایمان اور دینی فرائض کا تحفظ کرتے ہوئے ان کے ساتھ حسن سلوک کا تعلق ہے اس کو قرآن کریم نے مستحسن قراردیا ہے۔ (دیکھئے سورة لقمان 15:31 اور سورة ممتحنہ 8:60)
Read the full tafseer →اب اگلی آیات میں مسلمانوں کی سوچوں ، شعور اور باہمی روابط کو پاک وصاف کردیا جاتا ہے اس طرح کہ وہ دین رب العالمین کے لیے یکسو ہوجائیں چناچہ تمام رشتہ داریوں کی محبت ، ہر قسم کے مفادات اور تمام انسانی لذات اور خوشیوں کو ترازوں کے ایک پلڑے میں رکھا جاتا ہے اور اللہ ، رسول اللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کو دوسرے پلڑے میں رکھا جاتا ہے اور مسلمانوں کو اختیار دیا جاتا ہے کہ آپ اب جو چاہیں ، پسند کرلیں۔
اسلامی نظریہ حیات بھی اس بات کو گوارا نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ قلب مومن میں کوئی شریک ہو ، یا تو ہم اپنے دل میں صرف اسلامی نظریہ حیات کو جگہ دیں گے اور یا پھر ہم اسے ترک کرکے دوسری محبتوں کو دل میں جگہ…
Read the full tafseer →4 پچھلی آیات میں بتلایا تھا کہ جہاد و ہجرت اعظم و افضل ترین اعمال ہیں۔ بسا اوقات ان دونوں اعمال میں خویش و اقارب، کنبہ اور برادری کے تعلقات خلل انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے فرما دیا کہ جن لوگوں کو ایمان سے زیادہ کفر عزیز ہے، ایک مومن انہیں کیسے عزیز رکھ سکتا ہے۔ مسلمان کی شان نہیں کہ ان سے رفاقت اور دوستی کا دم بھرے حتٰی کہ یہ تعلقات اس کو جہاد و ہجرت سے مانع ہوجائیں، ایسا کرنے والے گنہگار بن کر اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 23 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْٓا اٰبَآءَ کُمْ وَاِخْوَانَکُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْکُفْرَ عَلَی الْاِیْمَانِ ط
اگر اب بھی تمہارے دلوں میں اپنے کافر اقرباء کے لیے محبت موجود ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پھر ایمان کے ساتھ تمہارا رشتہ مضبوط نہیں ہے۔ اللہ ‘ اس کے دین اور توحید کے لیے تمہارے جذبات میں غیرت وحمیت نہیں ہے۔
وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ
اب وہ آیت آرہی ہے جو اس موضوع پر قرآن کریم کی اہم ترین آیت ہے۔
Read the full tafseer →21 ایمان کی تکمیل کب ؟ :۔ یعنی ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اگر باپ یا بھائی کافر ہوں تو ان سے قرابت تو کیا رفاقت بھی نہ رکھی جائے اور اگر مومن یا مسلمان اس معیار پر پورا نہیں اترتا تو سمجھ لے کہ اس کا ایمان مکمل نہیں۔ اس مضمون کو کتاب و سنت میں متعدد مقامات پر مختلف پیرایوں میں بیان کیا گیا ہے چناچہ ایک دفعہ سیدنا عمر نے آپ سے کہا کہ آپ مجھے اپنی ذات کے سوا سب سے زیادہ محبوب ہیں تو آپ نے فرمایا ابھی تمہارا ایمان مکمل نہیں ہوا۔ پھر کسی وقت سیدنا عمر نے آپ سے کہا اللہ کی قسم ! آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ آپ نے فرمایا اب تمہارا ایمان مکمل ہوا۔ (بخاری۔ کتاب الایمان والنذور۔ باب کیف کانت…
Read the full tafseer →35 ۔ (خود اپنے حق میں) ہجرت کی راہ میں عموما انہی عزیزوں قریبوں کی محبت حائل ہوجاتی تھی، شریعت نے ایسی اور اس درجہ کی محبت کو ناجائز قرار دیا ہے۔ (آیت) ” ان استحبوا الکفر علی الایمان “۔ یہاں سے یہ مسئلہ فقہاء نے مستنبط کیا ہے۔ کہ جس کافر کے ایمان لانے کی توقع ہو تو اس مصلحت سے اس سے تعلق رکھنا جائز ہے۔ (آیت) ” اولئک ھم الظلمون “۔ بعض نے یہاں تک کہا ہے کہ یہ لوگ بھی مشرکوں کے حکم میں داخل ہوں گے کہ رضا بالشرک بھی شرک ہی ہے۔ قال ابن عباس ھو مشرک مثلھم لان من رضی بالشرک فھو مشرک (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
شان نزول : اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَاجَ (الآیة) مشرکین حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی دیکھ بھال کا جو کام کرتے تھے اس پر انہیں بڑا فخر تھا، اس کے مقابلہ میں وہ ایمان و جہاد کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے جس کا اہتمام مسلمانوں کے اندر تھا، اس غلط فہمی اور زعم باطل کو رد کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اَجَعَلتم سقایة الحاج الخ کیا تم سقایة حاج اور عمارت مسجد حرام کا ایمان باللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کے برابر سمجھتے ہو ؟ یاد رکھو یہ اللہ کے نزدیک برابر نہیں بلکہ مشرک کا کوئی عمل بھی عند اللہ مقبول نہیں۔
اس آیت کے شان نزول کے سلسلہ میں تین واقعات نقل کئے گئے ہیں۔
پہلا واقعہ : ایک روایت…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا لا تتخذوا اباء کم واخوانکم اولیا اللہ استحبوا الکفر علی الایمانط اے ایمان والو ! اپنے باپ (دادا) اور بھائیوں کو دوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر کو پسند کرتے ہوں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ مجاہد نے اس آیت کو گزشتہ آیت سے مربوط قرار دیا ہے ‘ جو حضرت عباس و حضرت طلحہ کے متعلق نازل ہوئی تھی (یعنی اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَاجِّ الخ سے اس کا تعلق ہے جس کا نزول اس وقت ہوا جب حضرت عباس و حضرت طلحہ نے اپنے کارناموں کو بطور فخر پیش کیا اور ہجرت سے انکار کیا) کلبی نے ابو صالح کی وساطت سے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو ہجرت کا حکم دیا تو بعض لوگوں کے اہل و…
Read the full tafseer →(23) اور جو کافر رشتہ دار مکہ مکرمہ میں ہیں، اگر وہ کفر کو ایمان کے مقابلہ میں عزیز سمجھیں تو ان کو رفیق مت بناؤ اور جو ان کے ساتھ رفاقت رکھیں گے وہ ان ہی جیسے کافر ہیں۔
یا یہ کہ اے مومنوا اپنے ان مسلمان والدین اور بھائیوں کو جو مکہ مکرمہ میں ہیں اور تمہیں ہجرت سے روکتے ہیں، ان کو مدد میں اپنا رفیق مت بناؤ اگر وہ دار الکفر یعنی مکہ مکرمہ کو دار الاایمان یعنی مدینہ منورہ سے عزیز سمجھیں اور جو تم میں سے ان کے ساتھ رفاقت کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰبَاۗءَكُمْ : یعنی بعض لوگ دل سے مسلمان ہیں لیکن برادری سے تعلق توڑ بھی نہیں سکتے کہ اپنے اسلام کا اعلان کردیں، ان کا حال یہاں سے سمجھو۔ (موضح) مزید دیکھیے سورة مجادلہ (22) ، سورة ممتحنہ (1 تا 3) ، سورة آل عمران (28، 118) اور سورة مائدہ (51)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
اس آیت کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ خطاب تمام مومنوں کے لیے ہے اور مومنوں اور کافروں کے مابین ولایت کو مقطع کرنے والا یہ حکم یوم قیامت تک باقی رہے والا ہے۔ اور ایک جماعت نے یہ روایت کیا ہے کہ یہ آیت بلا شبہ ہجرت پر ابھارنے کے لیے اور کافروں کے شہروں کو چھوڑنے کے بارت میں نازل ہوئی۔ پس اس با پر یہ خطاب ان مومنوں کے لیے جو مکہ مکرمہ اور اس کے علاوہ بلاد عرب میں سے دیگر شہروں میں رہتے تھے۔ انہیں خطاب کیا گیا کہ وہ باپوں اور بھائیوں کو والی اور دوست بنالیں کہ وہ بلاد کفر میں رہائش کے دوران ان کے تابع ہوجائیں۔ (1)
ان استجبوا یعنی اگر وہ پسند کریں : ( اس میں استجبوا بمعنی احبوا ہے) جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
1:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم ابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ہجرت کا حکم دیا گیا تو عباس بن عبدالمطلب ؓ نے کہا کہ میں حاجیوں کو پانی پلاتا ہوں اور طلحہ بن عبداللہ کے بھائیوں نے کہا کہ ہم کعبہ کی دربانی کرتے ہیں ہم ہجرت نہیں کریں گے تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” لا تتخذوا ابآء کم واخوانکم اولیآء ان استحبوا الکفر علی الایمان “۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت ہجرت کے بارے میں نازل ہوئی۔
3:۔ عبدبن حمید وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واموال اقترفتموھا “ سے مراد ہے کہ وہ مال جو تم…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] لَا تَتَّخِذُوْٓا [ تم لوگ مت بناؤ] اٰبَاۗءَكُمْ [ اپنے آباواجداد کو ] وَاِخْوَانَكُمْ [ اور اپنے بھائیوں کو ] اَوْلِيَاۗءَ [ کار ساز ] اِنِ [ اگر ] اسْتَحَبُّوا [ وہ لوگ ترجیح دیں ] الْكُفْرَ [ کفر کو ] عَلَي الْاِيْمَانِ ۭ [ ایمان پر ] وَمَنْ [ اور جو ] يَّتَوَلَّهُمْ [ دوستی کرے گا ان سے ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] فَاُولٰۗىِٕكَ [ تو وہ لوگ ] هُمُ الظّٰلِمُوْنَ : ہی ظلم کرنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
اللہ تعالیٰ کی محبت کے سامنے باپ، بھائی، بیوی، کنبہ، قبیلہ، مکان، دکان، آل اولاد کی کوئی حقیقت نہیں
گزشتہ آیات میں جہاد اور ہجرت کی فضیلت بیان فرمائی۔ جب ہجرت کا حکم ہوا تھا اس وقت ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے اسلام تو قبول کرلیا لیکن ہجرت کرنے میں پس و پیش کرتے تھے اور ہجرت کی ہمت کرنے سے عاجز بنے ہوئے تھے۔ یہ آیات ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئیں۔ معالم التنزیل (ص 276 ج 2) میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ کو ہجرت کرنے کا حکم فرمایا ( اور یہ وہ وقت تھا جبکہ مدینہ منورہ ہی دارالاسلام تھا اور مدینہ منورہ کو ہجرت کرنا فرض تھا) تو بعض لوگوں نے ہجرت کرنے کا ارادہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–24
مشرکین عرب کے فخر اور ناز کا جواب اور اعمال فاضلہ کا بیان
قال اللہ تعالیٰ ۔ ماکان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ عندہ اجر عظیم۔
(ربط): سورت کا آغاز مشرکین کی براءت اور بیزاری سے فرمایا بعد ازاں ان کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ اسی قابل ہیں کہ ان سے براءت اور بیزار اختیار کی جائے ان لوگوں کا خدا تعالیٰ کے یہاں کوئی مرتبہ نہیں۔ چونکہ یہ اعلان براءت ان کی اہانت اور تحقیر پر مبنی تھا اس لیے مشرکین مکہ نے اپنی فضیلت ثابت کرنے کے لیے بڑے فخر اور ناز سے یہ کہا کہ ہم بہت سی خاص حمیدہ اور افعال پسندیدہ کے حامل ہیں ہم سے براءت اور بیزاری کی کوئی وجہ نہیں ہم…
Read the full tafseer →18: یہ مانع ثالث کا جواب ہے۔ یعنی مشرکین سے جہاد کرنے میں یہ خیال ہر حائل نہ ہونا چاہئے کہ ان میں تمہارے قریبی اور عزیز ترین رشتہ دار موجود ہیں۔ یاد رکھو اگر تمہارے ماں باپ اور تمہارے بھائی اور دیگر اعزہ ایمان کے مقابلے میں کفر و شرک کو ترجیح دیتے اور پسند کرتے ہیں تو تم ان سے ہرگز دوستی نہ رکھو۔ ان سے محبت و شفقت کا رشتہ توڑ لو اور اللہ کے دین کو سربلند کرنے کیلئے ان سے جہاد کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ربط آیات :
پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کو افضل الاعمال سے تعبیر کیا ، ایمان لانا ، ہجرت کرنا اور جہاد کرنا اللہ کے نزدیک بہت بڑا کارنامہ ہے ، اللہ تعالیٰ نے مومنین ، مہاجرین اور مجاہدین کے لیے اپنی رحمت ، خوشنودی اور جنت کی بشارت سنائی اور فرمایا کہ اللہ کے ہاں ان لوگوں کے لیے اجر عظیم ہے ، چونکہ یہ جہاد کا موضوع چل رہا ہے تو اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کے بلند مرتبت ہونے کا ذکر کیا ہے ابتدائی دور کے مسلمانوں کے اکثر اعزہ و اقارب کے آمنے سامنے آنے کا احتمال پیدا ہوگیا۔ قرابت داری ایک ایسی چیز ہے جو جہاد کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی تھی ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آج کے درس میں قربتداری کے مقابلہ…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰبَاۗءَكُمْ وَاِخْوَانَكُمْ اَوْلِيَاۗءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَي الْاِيْمَانِ 0 ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّہُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ 23
أخذ ( افتعال، مفاعله)
والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
ترکیب : اولیاء جمع ولی مفعول لاتتخذوا ان شرط جملہ ما قبل دال برجز۔ حسب خبر کان یہ تمام جملہ شرط فتربصوا جواب یوم حنین مواطن سے بدل جو نصرکم ظرف ہے۔ اذ کا عامل نصر ہے تغن کا فاعل ضمیر جو کثرت کی طرف راجع ہے۔
تفسیر : مسلمانوں کو کفار سے اعلاناً جنگ کا حکم دیا گیا جہاں فریق مخالف میں سے ان کو اپنے بال بچوں کنبہ برادری سے لڑنا پڑتا تھا۔ ایک شخص مسلمان اور باقی کافر ‘ دشمن اسلام۔ ایسی صورت واقع تھی اور نیز عموماً ہجرت کا بھی حکم صادر ہوا تھا جس میں کنبہ ‘ بھائی بند ‘ جگر کے ٹکڑے ‘ چھٹتے تھے۔ تجارت بگڑتی تھی۔ افلاس کا منہ دیکھنا پڑتا تھا۔ یہ ساری باتیں ایسی تھیں جو انسان کو فطرتی طور پر جہاد و ہجرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَتَّخِذُوْآ اٰبَآئَ کُمْ وَاِخْوَانَکُمْ اَوْلِیَآئَ اِنِ اسْتَحَبُّوْاالْکُفْرَ عَلَی الْاِیْمَانِط وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَاؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُنِ افْتَرَفْتُمُوْھَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَھَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْ تِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖطوَاللّٰہُ لَایَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ ع
(التوبۃ : 23، 24)
(اے ایمان والو ! تم…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جہاد کا حق تب ادا ہوسکتا ہے جب مومن اللہ ہی کے لیے محبت کرے اور اسی کی خاطر کسی سے دشمنی رکھے۔
قرآن مجید نے مختلف الفاظ اور انداز میں یہ بات بار بار باور کروائی گئی ہے کہ مسلمانوں کو کفار اور مشرکین کے ساتھ قلبی محبت نہیں رکھنی چاہیے۔ جس کا بدیہی تقاضا ہے کہ ایمان اور مسلمانوں کو ہر چیز سے مقدم سمجھا جائے یہی امت کو متحد اور منظم رکھنے کا آخری اور بنیادی اصول ہے۔ اس کے لیے حکم دیا گیا ہے کہ اے مسلمانو ! اگر تمہارے والدین اور بھائی ایمان پر کفر کو ترجیح دینے والے ہوں تو انھیں بھی اپنا رشتہ دار اور خیر خواہ مت سمجھو اگر تم نے اس حکم کے باوجود ان سے قلبی دوستی اور رشتے ناطے…
Read the full tafseer →آیت 23: شان نزول : جب اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو ہجرت کا حکم دیا تو ایک آدمی اپنے بیٹے کو کہنے لگا اور اپنے بھائی اور دیگر قرابتداروں کو کہ ہمیں تو ہجرت کا حکم مل گیا۔ ان میں سے بعض نے جلدی سے ہجرت کو اختیار کرلیا۔ اور بعض سے ان کے بیٹے اور ازواج چمٹ گئیں ہمیں تو یہاں خالی ہاتھ چھوڑ رہا ہے۔ ہم ضائع ہوجائیں گے۔ وہ یہ سن کر ان کے ساتھ رہ پڑا اور ہجرت کو چھوڑ بیٹھا پس یہ آیت اتری۔
کافر غیر ہے خواہ باپ ہو :
یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا ٰابَآئَ کُمْ وَ اِخْوَانَکُمْ اَوْلِیَآئَ اِنِ اسْتَحَبُّّوا الْکُفْرَ عَلَی الْاِیْمَانِ (اے ایمان والو۔ اپنے باپوں اور اپنے بھائیوں…
Read the full tafseer →23” یایھا الذین امنوا لاتتخذوآ آبآء کم و اخوانکم اولیآء “ یہ آیت ماقبل سے متصل ہے۔ حضرت عباس اور طلحہ ؓ کے قصہ اور ان کے ہجرت سے رکنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا تو ان کو ان کے گھر والوں اور اولاد نے روکا اور ان کو قسمیں دیں کہ ہمیں ضائع نہ کرو تو ان کے دل نرم ہوگئے اور ہجرت چھوڑ کر ان کے پاس رہ گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت ان نو لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو مرتد ہو کہ مکہ چلے گئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دوستی سے منع کردیا اور یہ آیت نازل فرمائی ” یا یھا…
Read the full tafseer →23۔ اس آیت کی نشان نزول میں مفسروں نے اختلاف کیا ہے مجاہد کہتے ہیں کہ اس آیت کو اوپر کی آیتوں سے لگاؤ ہے عباس ؓ اور طلحہ ؓ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی کہ جب یہ دونوں مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے رک گئے تو یہ فرمایا کہ تم لوگ جب ایمان لا چکے تھے تو تم کو اپنے باپ بھائی کے سبب سے ہجرت کو نہ چھوڑنا چاہئے تھا کیونکہ وہ رشتہ دار تو ایسے ہیں جو کفر پر جمے ہوئے ہیں اور ایمان کے مقابلہ میں کفر کو اچھا جانتے ہیں اس لئے جو کوئی ان کی رفاقت کریگا تو وہ ظالم ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول یہ ہے کہ اس میت کی شان نزول یوں ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے لوگوں کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنیکا حکم دیا تو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
آیت 23
اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے اے ” مومنوں ! “ ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ جو ایمان کے تقاضوں کو پارا کرتا ہے اس کے ساتھ موالات رکھو ‘ جو ان تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ان سے عداوت رکھو اور ” نہ بناؤ تم اپنے باپوں اور بھائیوں کو دوست “ جو لوگوں میں سے سب سے زیادہ تمہارے قریب ہیں اور دوسرے لوگوں کے بارے میں تو زیادہ اولٰی ہے کہ تم ان کو دوست نہ بناؤ۔ ” اگر وہ کفر کو پسند کریں ایمان کے مقابلے میں “ یعنی اگر وہ برضاو رغبت اور محبت سے ایمان پر کفر کو ترجیح دیں۔ ” اور جو بھی دوستی کرے گا ان سے تم میں سے ‘ پس وہی لوگ ہیں ظالم “ کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جسارت کی اور اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
دین میں رشتوں کی اہمیت
قول باری ہے (یا ایھا الذین امنوا لا تتنخذوا اباء کم و اخوانکم اولیاء ان استحبوا الکفر علی الایمان۔ اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بنائو اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں) آیت میں مسلمانوں کو کافروں سے دوستی کرنے، ان کی مدد کرنے، ان سے مدد حاصل کرنے اور اپنے معاملات ان کے حوالے کرنے سے روک دیا گیا ہے نیز ان سے بیزاری کا اظہار اور ان کی ترک تعظیم و تکریم واجب کردی گئی ہے۔ اس معاملے میں باپ بھائی سب یکساں حیثیت رکھت ہیں تاہم کافر باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور معروف طریقے سے وقت گزارنے کا حکم دیا گیا ہے چناچہ ارشاد باری ہے (ووصینا…
Read the full tafseer →49 ایمان کا رشتہ سب رشتوں پر مقدم : سو اہل ایمان کو ہدایت فرمائی گئی کہ تم لوگ اپنے باپوں، بھائیوں یعنی اپنے ایسے قریبی رشتہ داروں کو بھی اپنا دوست نہ بنانا اگر وہ کفر کو ایمان پر ترجیح دیں۔ کہ ایمان کا رشتہ اصل اور سب رشتوں پر مقدم اور سب سے بڑھ کر ہے۔ سو مومن صادق کے نہ یہ شایان شان ہے اور نہ اس کے لئے یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ رشتہء ایمانی کی قیمت اور اس کی قربانی پر دوسرے کسی رشتہ کو اپنائے اور اس کو دین و ایمان کے رشتے پر ترجیح دے۔ اور جو ایسا کرے گا اس کے ایمان کا دعویٰ محض زبانی جمع خرچ ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو رشتہ ایمان کو ہمیشہ اور ہر حال میں ہر چیز پر مقدم اور فائق رکھنا ایمان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ایمان، ہجرت اور جہاد کی فضیلت، ایمان کی تکمیل کب ؟
تشریح : مطلب یہ ہے کہ بہترین عمل ارکان اسلام کی پابندی، بہترین ذکر، اللہ کا ذکر اور بہترین دوست اللہ ہے جیسا کہ فرمایا :
” خبردار ! اللہ کے دوستوں کو غم لاحق ہوگا اور نہ کوئی پریشانی۔ “ ( یونس آیت : 62)
پھر جنت کا ذکر اور تعریف اللہ یوں فرماتا ہے :
” نیک لوگوں کا صلہ انکے رب کے پاس ہمیشہ رہنے کی جنتیں ہیں۔ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی۔ وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے یہ اس شخص کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔ “ (البینہ آیت : 8)
جب اس جنت کا تصور کرتے ہیں تو بےاختیار یہ دعا منہ سے نکلتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
آیات 17 تا 24
اسرار و معارف
فتح مکہ کے بعد اگر چہ بیت اللہ کو بتوں سے پاک کردیا گیا تھا مگر مشرکین اپنی رسومات تو اپنے ہی طور پر ادا کرتے تھے اور یہ ضروری تھا کہ بیت اللہ کو ان خرافات سے بھی پاک کیا جاتا مگر اس میں رکاوٹ یہ تھی کہ بعض قبائل کے ساتھ مسلمانوں کے معادہ صلح کی مدت باقی تھی اور انھوں نے عہد شکنی بھی نہ کی تھی لہٰذا ایک سال تک مہلت دی گئی اس میں وہ مدت بھی گزرگئی اور کوئی نیا معاہدہ نہ کیا گیا بلکہ 9 ھجری کے حج میں آپ ﷺ نے اعلان کرادیا کہ آئندہ کوئی مشرک بیت اللہ کی حدود میں داخل نہ ہوگا اور نہ کافر انہ رسوم ادا کرسکے گا۔
مشرکین اپنے زعم باطل میں بتوں کی پوجا اور عمارت کی تعمیر…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی بعض لوگ دل سے مسلمان ہیں لیکن برادری سے تعلق توڑ بھی نہیں سکتے کہ اپنے اسلام کا اعلان کردیں ان کا حال یہاں سے سمجھو۔ ( از مو ضح )
Read the full tafseer →(9:23) لا تتخذو اولیائ۔ تم دوست مت بناؤ۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ اتخاذ (افتعال) سے۔
استحبوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ استحباب (استفعال) سے (اگر) وہ عزیز رکھیں۔
یتولہم۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب تولیٰ سے جو ان سے دوستی رکھے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 24
لاتنخذوا (تم نہ بنائو) ابآء کم (اپنے باپ داداکو) اخوانکم (تمہارے اپنے بھائیوں کو) اولیاء (دوست) ان استحبوا (اگر وہ پسند کریں) عشیرۃ (خاندانی، کنبہ والے ) افتر فتموا (تم نے اس کو کمایا) تخشون (تم ڈرتے ہو) کساد (تجارتی نقصان) مسکن (گھر) ترضون (تم پسند کرتے ہو) احب (زیادہ محبوب، پسندیدہ) تربصوا (انتظار کرو) حتی یاتی (یہاں تک کہ آجائے)
تشریح : آیت نمبر 23 تا 24
یہ دو آیتیں گزشتہ مضامین کے پس منظر میں ایک خاص اہمیت رکھتی ہیں جن کے گہرے اثرات معاشرت، معیشت، تمدن و تہذیب، ملکی اور غیر ملکی اور صلح و جنگ وغیرہ سب پر پڑتے ہیں۔
(1) یہ آیتیں خونی اور ایمانی رشتوں کی سرحدوں…
Read the full tafseer →ہجرت اور جہاد کا حکم
شان نزول : حضرت عباس اور طلحہ ؓ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی کہ جب یہ دونوں مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے رک گئے تو یہ فرمایا کہ تم لوگ جب ایمان لاچکے تھے تو تم کو اپنے باپ بھائیوں کے سبب سے ہجرت کو نہ چھوڑ نا چاہئے تھا کیونکہ وہ رشتہ دار تو ایسے ہیں جو کفر پر جمع ہوئے ہیں اور ایمان کے مقابلہ میں کفر کو اچھا جانتے ہیں۔ اس لئے جو کوئی ان کی رفاقت کرے گا وہ تو ظالم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
[10] کیونکہ خانہ کعبہ مشرکین کے نزدیک بھی مقدس تھا، اس کی خدمت اور اس کے زائرین کی خدمت بھی سرداران قریش نے اپنے ذمے لے لی تھی اور اس پر فخر کرتے تھے۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) غرض یہ ہے کہ اسلام کے بعد پرانے تعلقات منقطع ہوجاتے ہیں ، اور نئے رشتے استوار ہوتے ہیں ،
وہ لوگ جو منکر ہیں ، جنہوں نے کفر کو ترجیح دی اور ایمان کو ٹھکرا دیا ، ان سے ایک مسلم کا کوئی رشتہ ناطہ نہیں ‘ وہ اخلاقی اعانت کے مستحق ہیں ، مگر اس بات کی اجازت نہیں کہ مسلمان انہیں معتمد سمجھیں ، اور ان سے مسلمانوں کے راز کی بات کہہ دیں ان پر بھروسہ کرنا گناہ ہے کیونکہ ان کے تعلقات ذاتی طور پر مسلمان کے ساتھ ہو سکتے ہیں ، مگر بالعموم وہ اسلام کی شان و شوکت کو نہیں دیکھ سکتے ۔
بات یہ ہے کہ جب اعلان برات ہوا اور صاف طور پر کفر سے علیحدگی اختیار کرلی گئی تو اس وقت صحابہ کرام ؓ اجمعین نے کہا ، ہمارے…
Read the full tafseer →23 ایمان والو اگر تمہارے باپ اور بھائی ایمان کے مقابلہ میں کفر کو پسند کریں تو ایسے باپ اور بھائیوں کو اپنا رفیق نہ بنائو اور جو لوگ تم میں سے ایسے باپ اور بھائیوں کے ساتھ رفاقت رکھیں گے تو ایسے ہی لوگ ظالم اور ناانصاف۔ بعض صحابہ ؓ ان تعلقات کی وجہ سے ہجرت نہ کرسکے اور ہجرت سے رک گئے ان کو تنبیہہ کی گئی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بعضے شخص دل سے مسلمان ہیں لیکن برادری سے توڑ نہیں سکتے کہ ظاہر مسلمان ہوجاویں ان کا حال یہاں سے سمجھو۔ 12
Read the full tafseer →ف 3۔ مطلب یہ کہ برامانع ہجرت سے ان لوگوں کا تعلق ہے اور خوددہی جائز نہیں پھر ہجرت میں کیا دشواری ہے۔
Read the full tafseer →ایمان کے مقابلہ میں کفر کو عزیزسمجھنے والوں کو کبھی دوست نہ بنانے کی تاکید :
34: پیچھے آپ پڑھ چکے ہیں کہ آیت 16 میں فرمایا تھا کہ ایسا نہ سمجھو کہ اتنے ہی میں چھوڑ دیئے جاؤ گے جتنا کچھ ہوچکا ہے بلکہ ابھی ایمان و عمل کی آزمائشیں باقی ہیں اب اس جگہ سچے مومنوں کی فضیلت بیان کرنے کے بعد زیر نظر آیت میں خصوصیت کے ساتھ توجہ دلائی کہ ایمان کا دعویٰ اور ایمان کے دشمنوں سے موالات ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔ اگر باپ اور بھائی بھی دشمنوں میں سے ہوں جب بھی تم کو ان سے کوئی علاقہ نہیں رکھنا چاہئے اور یہ حکم جماعتی زندگی کے لئے ہے خصوصاً جس میں دارالحرب یا دارالکفر اور دارالسلام کے درمیان کی دیوار بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
These verses mention the merits of Hijrah and Jihad which require that one leaves his country, relatives, friends, companions, wealth and property, all in one stroke. As obvious, surrendering all these attachments is most difficult and painful. Therefore, in the next verse (23), the text disapproves of limitless attachment with these things and thereby prepares Muslim minds to welcome Hijrah and Jihad. It was said:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا آبَاءَكُمْ وَإِخْوَانَكُمْ أَوْلِيَاءَ إِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْإِيمَانِ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَأُولَـٰئِكَ…
Read the full tafseer →