At-Tawba 9:22

At-Tawba · from ayah 22

9:22

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا ؕ— اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ ۟خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ

(اور وہ) ان میں ابدالاآباد رہیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کے ہاں بڑا صلہ (تیار) ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[They will be] abiding therein forever. Indeed, Allah has with Him a great reward.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 3 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:22

ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے یقیناً اللہ کے پاس خدمات کا صلہ دینے کو بہت کچھ ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اور وہ) ان میں ابدالاآباد رہیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کے ہاں بڑا صلہ (تیار) ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وہاں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اللہ کے پاس یقیناً بہت بڑے ﺛواب ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یقینا اللہ ہی ہے جس کے پاس عظمت والا اجر موجود ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے، بیشک اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(وہ) ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے بیشک اللہ ہی کے پاس بڑا اجر ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ۔ بیشک اللہ ہی ہے جس کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ بلاشبہ اللہ کے ہاں (ان کے لئے) بہت بڑا اجر ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کا رب ان کو خوش خبری دیتا ہے، اپنی رحمت اور خوشنودی اور ایسے باغوں کی جن میں ان کے لیے ابدی نعمت ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جن میں ہمیشہ ہمیش رہنا نصیب ہوگا ان کو، بیشک اللہ کے یہاں بہت بڑا اجر ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

ان میں یہ ہمیشہ ہمیش کیلئے رہیں گے بیشک اللہ ہی کے پاس بڑا اجر ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جن میں وہ رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔ یقیناً اللہ ہی کے پاس ہے بہت بڑا اجر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے کچھ شک نہیں کہ اللہ کے ہاں بڑا ثواب ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Therein they shall abide forever. Surely with Allah a mighty reward awaits them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

where they shall dwell forever. Surely, it is Allah with whom lies a great reward.

— Muhammad Taqi Usmani

where they shall dwell forever. Surely, it is Allah with whom lies a great reward.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They will dwell therein forever. Verily, with Allah is a great reward.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

There they will abide for ever. Lo! with Allah there is immense reward.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[They will be] abiding therein forever. Indeed, Allah has with Him a great reward.

— Saheeh International

The reward that God will bestow on His servants is the greatest.

— Muhammad Sarwar

Abiding therein for ever; surely Allah has a Mighty reward with Him.

— Muhammad Habib Shakir

As abiders therein for evermore. Verily Allah: with Him is a hire mighty.

— Abdul Majid Daryabadi

They will dwell therein for ever. Verily in Allah's presence is a reward, the greatest (of all).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–22

سب سے بری عبادت اللہ کی راہ میں جہاد ہے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کافروں کا قول تھا کہ بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کے پانی پلانے کی سعادت ایمان وجہاد سے بہتر ہے ہم چونکہ یہ دونوں خدمتیں انجام دے رہے ہیں اس لیے ہم سے بہتر کوئی نہیں۔ اللہ نے ان کے فخر و غرور اور حق سے تکبر اور منہ پھیرنے کو بےنقاب کیا کہ میری آیتوں کی تمہارے سامنے تلاوت ہوتے ہوئے تم ان سے بےپرواہی سے منہ موڑ کر اپنی بات چیت میں مشغول رہتے ہو۔ پس تمہارا گمان بیجا تمہارا غرور غلط، تمہارا فخر نامناسب ہے یوں بھی اللہ کے ساتھ ایمان اور اس کی راہ میں جہاد بہت بڑی چیز ہے لیکن تمہارے مقابلے میں تو وہ اور بھی بڑی چیز ہے کیونکہ تمہاری تو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 19–23

سورة التَّوْبَة 21 یعنی کسی زیارت گاہ کی سجادہ نشینی، مجاوری اور چند نمائشی مذہبی اعمال کی بجا آوری، جس پر دنیا کے سطح بیں لوگ بالعموم شرف اور تقدس کا مدار رکھتے ہیں، خدا کے نزدیک کوئی قدر و منزلت نہیں رکھتی۔ اصلی قدر و قیمت ایمان اور راہ خدا میں قربانی کی ہے۔ ان صفات کا جو شخص بھی حامل ہو وہ قیمتی آدمی ہے خواہ وہ کسی اونچے خاندان سے تعلق نہ رکھتا ہو اور کسی قسم کے امتیازی طرّے اس کو لگے ہوئے نہ ہوں۔ لیکن جو لوگ ان صفات سے خالی ہیں وہ محض اس لیے کہ بزرگ زادے ہیں۔ سجادہ نشینی ان کے خاندان میں مدتوں سے چلی آرہی ہے اور خاص خاص موقعوں پر کچھ مذہبی مراسم کی نمائش وہ بڑی شان کے ساتھ کردیا کرتے ہیں،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–22

اکیسویں اور بائیسویں آیتوں میں ان کامیاب لوگوں کے اجر عظیم اور درجات آخرت کا بیان ہے (آیت) يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمْ فِيْهَا نَعِيْمٌ مُّقِيْمٌ 21 ۝ ۙخٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭاِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ، یعنی ان لوگوں کو ان کا پروردگار خوش خبری سناتا ہے اپنی رحمت اور رضا کی اور ایسی جنتوں کی جن میں ان کے لئے ہمشہ قائم رہنے والی نعمیتیں ہوں گی اور یہ لوگ بھی ان نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے، ان کو یہاں سے کبھی نہ نکالا جائے، بیشک اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے“۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 17–22

تفسیر آیات 17۔ 22:۔ آیت 17: مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ ۭاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ښ وَفِي النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ۔ جزوی نیکی اصل مقصود کی قائم مقام نہیں ہوسکتی : اوپر کے پیرے میں مشرکین قریش کے ان جرائم کی طرف اشارے کیے گئے ہیں جو ان کو اعلان براءت اور جنگ کا سزاوار قرار دیتے ہیں۔ اب یہ تولیت بیت اللہ کے سلسلہ میں ان کی بعض خدمات کا حوالہ دے کر یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ ان کی یہ خدمات بالکل بےحقیقت اور بےوزن ہیں۔ انکی بنیاد پر یہ ہرگز اس کے بات کے سزاوار نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی رعایت کی جائے۔ کوئی خدمت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

22۔ 1 ان آیات میں ان اہل ایمان کی فضیلت بیان کی گئی جنہوں نے ہجرت کی اور اپنی جان مال کے ساتھ جہاد میں حصہ لیا۔ فرمایا۔ اللہ کے ہاں انہی کا درجہ سب سے بلند ہے اور یہی کامیاب ہیں، یہی اللہ کی رحمت و رضامندی اور دائمی نعمتوں کے مستحق ہیں نہ کہ وہ جو خود اپنے منہ میاں مٹھو بنتے اور اپنے آبائی طور طریقوں کو ہی ایمان باللہ کے مقابلے میں عزیز رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–22

16: اس آیت کریمہ نے یہ اصول بھی بتادیا ہے کہ تمام نیک کام ایک درجے کے نہیں ہوتے، اگر کوئی شخص فرائض تو ادا نہ کرے، اور نفلی عبادتوں میں لگا رہے تو یہ کوئی نیکی نہیں ہے، حاجیوں کو پانی پلانا بیشک ایک نیک کام ہے، مگر وہ نفلی حیثیت رکھتا ہے، اور مسجد حرام کی دیکھ بھال بھی بعض حیثیتوں سے فرض کفایہ اور بعض حیثیتوں سے نفلی عبادت ہے، اس کے مقابلے میں ایمان انسان کی نجات کے لئے بنیادی شرط ہے، اور جہاد کبھی فرض عین اور کبھی فرض کفایہ، لہذا کسی کو صرف ان خدمات کی وجہ سے کسی مومن پر فوقیت حاصل نہیں ہوسکتی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 20–22

20 ۔ 22: یہ مضمون اب اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ مومنین ، مہاجرین اور مجاہدین بلند مرتبہ لوگ ہیں۔ اللہ کی رحمت اور رضامندی ان کے انتظار میں ہے اور ان کے لیے جنت میں نعیم مقیم ہے۔ اور اس کے علاوہ اجر عظیم بھی ہے۔ اس آیت میں افضل تفضیل کے صیغے استعمال ہوئے ہیں اعظم درجۃ ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسرے لوگوں کے درجے اسفل ہیں بلکہ اس سے مطلق فضیلت مراد ہے کیونکہ ان لوگوں کے بالمقابل وہ لوگ جن کے اعمال اکارت گئے اور جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ لہذا ایسے لوگوں کے درمیان اعمال و درجات کا کوئی تناسب نہیں ہے۔ ایک طرف کافر ہیں اور دوسری جانب مومنین مہاجرین اور مجاہدین ہیں جو اعلی درجوں میں اور دائمی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 20–22

3 یعنی اس کے یہاں ثواب اور درجات کی کیا کمی ہے جس کو جتنا چاہے مرحمت فرمائے۔ پہلی آیت میں تین چیزوں کا ذکر تھا۔ ایمان، جہاد، ہجرت، ان تین پر بشارت بھی تین چیزوں کی دی۔ رحمت، رضوان، خلود فی الجنۃ۔ ابو حیان نے لکھا ہے کہ " رحمت " ایمان پر مرتب ہے، ایمان نہ ہو تو آخرت میں خدا کی رحمت و مہربانی سے کوئی حصہ نہیں مل سکتا اور " رضوان " (جو بہت ہی اعلیٰ مقام ہے) جہاد فی سبیل اللہ کا صلہ ہے۔ مجاہد فی سبیل اللہ تمام نفسانی حظوظ و تعلقات ترک کر کے خدا کے راستہ میں جان و مال نثار کرتا اور خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے انتہائی قربانی پیش کرتا ہے۔ لہذا اس کا صلہ بھی انتہائی ہونا چاہیے اور وہ حق تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 22 خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًاط اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌ عَظِیْمٌ اگلی دو آیات اپنے موضوع اور فلسفۂ دین کے اعتبار سے بہت اہم ہیں۔ جیسا کہ اس سے پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ مکہ پر چڑھائی کے سلسلے میں بعض مسلمانوں میں تذبذب پایا جاتا تھا۔ اس کی ایک بہت ہی اہم وجہ یہ تھی کہ مشرکین مکہ میں سے اکثر کے ساتھ مہاجرین کی بہت قریبی عزیز داریاں تھیں۔ ابھی تک تو کچھ امید تھی کہ شاید وہ لوگ ایمان لے آئیں گے ‘ مگر اب صاف نظر آ رہا تھا کہ مکہ پر چڑھائی کی صورت میں اپنے قریبی عزیزوں کے خلاف لڑنا ہوگا ‘ اپنے بھائیوں ‘ بیٹوں اور باپوں کے گلے کاٹنا ہوں گے۔ انسانی سطح پر یہ کوئی آسان کام نہیں تھا ‘ مگر اللہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 21–22

20 ایمان جہاد اور ہجرت کا اجررحمت رضائے الہٰی اور جنت :۔ پہلی آیت میں تین چیزوں کا ذکر تھا۔ ایمان، جہاد اور ہجرت ان تین اعمال کے بدلے تین طرح کی بشارت دی گئی۔ رحمت، اللہ کی رضا اور ہمیشہ کے لیے جنت میں قیام۔ بعض علماء نے ان اعمال اور ان کے اجر میں یہ نسبت قائم کی ہے کہ اللہ کی رحمت تو ایمان کی وجہ سے ہوگی کیونکہ آخرت میں اللہ کی رحمت اور مہربانی صرف اس شخص پر ہوگی جو ایمان لایا ہوا ور رضوان یا اللہ کی رضامندی جہاد کے عوض ہوگی۔ کیونکہ جس طرح سب اعمال سے افضل اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال کی قربانی پیش کرنا ہے اسی طرح جنت کی سب نعمتوں سے بڑی نعمت اللہ کی رضامندی ہے جیسا کہ متعدد احادیث صحیحہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

34 ۔ یہاں خلود کے ساتھ (آیت) ” ابدا “۔ کی بھی تصریح کردی ہے کہ محض خلود کے معنی زمانہ طویل کے بھی آتے ہیں۔ اکد الخلود بالتابید لانہ قد یستعمل للمکث الطویل (بیضاوی) اور یہ حقیقت ایک بار اور صاف ہوگئی ہے کہ اجر جنت عظیم وگرانقدر ہونے کے ساتھ دائمی اور غیر منقطع بھی ہوگا۔ (آیت) ” لا تتخذوا ابآء کم واخوانکم اولیآء “۔ جس محبت سے یہاں ممانعت ہورہی ہے اس سے محبت طبعی مراد نہیں ہے وہ تو ہر عزیز سے ہونا بہتر ہے، قید صرف یہ لگا دی ہے کہ وہ محبت طبعی عمل میں محبت ایمانی پر غالب نہ آنے پائے، مغلوب ہی رہے اور غالب ہمیشہ ہر معاملہ میں محبت ایمانی رہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–24

شان نزول : اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَاجَ (الآیة) مشرکین حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی دیکھ بھال کا جو کام کرتے تھے اس پر انہیں بڑا فخر تھا، اس کے مقابلہ میں وہ ایمان و جہاد کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے جس کا اہتمام مسلمانوں کے اندر تھا، اس غلط فہمی اور زعم باطل کو رد کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اَجَعَلتم سقایة الحاج الخ کیا تم سقایة حاج اور عمارت مسجد حرام کا ایمان باللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کے برابر سمجھتے ہو ؟ یاد رکھو یہ اللہ کے نزدیک برابر نہیں بلکہ مشرک کا کوئی عمل بھی عند اللہ مقبول نہیں۔ اس آیت کے شان نزول کے سلسلہ میں تین واقعات نقل کئے گئے ہیں۔ پہلا واقعہ : ایک روایت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

خلدین فیھا ابدًا ان اللہ عندہ اجر عظیم۔ اور ان میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ بلاشبہ اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ نعیمٌ مقیمٌ دوامی راحت۔ رحمۃ ‘ رضوان جنات اور نعیم کی تنوین تنکیر کیلئے ہے ‘ یعنی یہ غیر معروف اور غیر معمولی نعمتیں ہوں گی جن سے کوئی واقف ہی نہیں ہے۔ خلود کے معنی کبھی طویل مدت تک باقی رہنے کے بھی آتے ہیں لیکن ابدًا کا لفظ ذکر کرنے سے خلود ابدی ہوگیا ‘ یعنی مدت قیام لازوال ہوگئی۔ اجرعظیم سے یہ مراد ہے کہ جن اعمال کی وجہ سے ان کا استحقاق ثواب ہوا ‘ ان اعمال کے مقابلہ میں یہ نعمتیں بہت بڑی ہوں گی ‘ یا یہ مطلب کہ دنیوی نعمتوں کے مقابلہ میں وہ ثواب بڑا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(22) اور ان حضرات کو نہ وہاں موت آئے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے، اللہ کے پاس ایسے شخص کے لیے جو اس پر ایمان لائے اجر عظیم ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 21–22

يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ : ”بِرَحْمَةٍ“ اور ”وَرِضْوَانٍ“ پر تنوین تعظیم کی ہے۔ اب اس رحمت اور رضا مندی کا کون اندازہ کرسکتا ہے جسے خود اللہ تعالیٰ خاص اپنی طرف سے اور عظیم قرار دے رہا ہے، اگلی آیت میں دوبارہ اسے اجر عظیم قرار دیا ہے۔ جب مالک خود ان لوگوں سے راضی اور انھیں اپنی رحمت اور جنت کی خوش خبری دے رہا ہے، تو ڈوب مرنا چاہیے ان لوگوں کو جو ان کے خلاف اپنی زبانیں کھولتے ہیں، اگر ان میں ذرہ بھر بھی غیرت اور شرم و حیا ہے۔ ورنہ سیدھی طرح اپنی بد تمیزی اور گستاخی سے توبہ کر کے ان کا وہ مقام تسلیم کرنا چاہیے جو اللہ اور اس کے رسول نے انھیں دیا ہے۔ یاد رہے کہ ایمان، جہاد اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 22–23

اس آیت کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ خطاب تمام مومنوں کے لیے ہے اور مومنوں اور کافروں کے مابین ولایت کو مقطع کرنے والا یہ حکم یوم قیامت تک باقی رہے والا ہے۔ اور ایک جماعت نے یہ روایت کیا ہے کہ یہ آیت بلا شبہ ہجرت پر ابھارنے کے لیے اور کافروں کے شہروں کو چھوڑنے کے بارت میں نازل ہوئی۔ پس اس با پر یہ خطاب ان مومنوں کے لیے جو مکہ مکرمہ اور اس کے علاوہ بلاد عرب میں سے دیگر شہروں میں رہتے تھے۔ انہیں خطاب کیا گیا کہ وہ باپوں اور بھائیوں کو والی اور دوست بنالیں کہ وہ بلاد کفر میں رہائش کے دوران ان کے تابع ہوجائیں۔ (1) ان استجبوا یعنی اگر وہ پسند کریں : ( اس میں استجبوا بمعنی احبوا ہے) جیسے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 21–22

1:۔ ابوالشیخ نے طلحہ بن مصرف (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” یبشرھم ربہم “ پڑھا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

خٰلِدِيْنَ [ ایک حالت میں رہنے والے ہیں ] فِيْهَآ [ ان میں ] اَبَدًا ۭ [ ہمیشہ ہمیش ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] عِنْدَهٗٓ [ اس کے پاس ہی ] اَجْرٌ عَظِيْمٌ [ عظیم اجر ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا) (وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے) (اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌ عَظِیْمٌ) (بےشک اللہ کے پاس بڑا اجر ہے) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–24

مشرکین عرب کے فخر اور ناز کا جواب اور اعمال فاضلہ کا بیان قال اللہ تعالیٰ ۔ ماکان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ عندہ اجر عظیم۔ (ربط): سورت کا آغاز مشرکین کی براءت اور بیزاری سے فرمایا بعد ازاں ان کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ اسی قابل ہیں کہ ان سے براءت اور بیزار اختیار کی جائے ان لوگوں کا خدا تعالیٰ کے یہاں کوئی مرتبہ نہیں۔ چونکہ یہ اعلان براءت ان کی اہانت اور تحقیر پر مبنی تھا اس لیے مشرکین مکہ نے اپنی فضیلت ثابت کرنے کے لیے بڑے فخر اور ناز سے یہ کہا کہ ہم بہت سی خاص حمیدہ اور افعال پسندیدہ کے حامل ہیں ہم سے براءت اور بیزاری کی کوئی وجہ نہیں ہم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 20–22

17: یہ ان صحابہ کرام کے لیے بشارت اخروی ہے جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں تن من دھن سے جہاد کیا ان کے حسب ذیل فضائل بیان کیے گئے۔ (1) وہ غیر مہاجرین اور غیر مجاہدین مومنوں سے افضل ہیں۔ (2) وہ آخرت میں کامیاب اور بامراد رہیں گے۔ (3) اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے۔ (4) اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جنات نعیم کا فیصلہ فرمادیا ہے جن کی ہر نعمت دائمی اور لازوال ہوگی اور وہ بھی ابد الآباد ان میں رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–22

ربط ِ آیات گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کے مشروع ہونے کی وجوہات بیان فرمائی تھیں ان میں سے بعض وجوہات وہ تھیں جو مشرکین کی طرف سے پیدا ہوئیں مثلا دین میں طعن کرنا اور اسے مٹانے کی کوشش کرنا ، عہدوپیمان کو توڑنا ، نبی کو اس کے گھر سے نکالنا اور جنگ میں پہل کرنا وغیرہ ، پھر اللہ تعالیٰ نے جہاد کا ایک سبب یہ بھی بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا امتحان لینا چاہتا ہے اور وہ اس بات کو ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ کون ہے جو جہاد میں بخوشی حصہ لیتا ہے اور کون ہے جو پیچھے رہتا ہے۔ مشرکین اور مساجد سورۃ ہذا کی ابتداء میں مشرکین کے ساتھ بیزاری اور جنگ کا اعلان کیا گیا تھا ( آیت) ” براء ۃ من اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

خٰلِدِيْنَ فِيْہَآ اَبَدًا۝ 0 ۭ اِنَّ اللہَ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ۝ 22 ابد قال تعالی: خالِدِينَ فِيها أَبَداً [ النساء/ 122] . الأبد : عبارة عن مدّة الزمان الممتد الذي لا يتجزأ كما يتجرأ الزمان، وذلک أنه يقال : زمان کذا، ولا يقال : أبد کذا . وكان حقه ألا يثنی ولا يجمع إذ لا يتصور حصول أبدٍ آخر يضم إليه فيثنّى به، لکن قيل : آباد، وذلک علی حسب تخصیصه في بعض ما يتناوله، کتخصیص اسم الجنس في بعضه، ثم يثنّى ويجمع، علی أنه ذکر بعض الناس أنّ آباداً مولّد ولیس من کلام العرب العرباء . وقیل : أبد آبد وأبيد أي : دائم «2» ، وذلک علی التأكيد . وتأبّد الشیء : بقي أبداً ، ويعبّر به عما يبقی مدة طویلة .…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–22

ترکیب : شاھدین حال ہے فاعل یعمروا سے ‘ ان یعمروا کان کا اسم للمشرکین خبر۔ فی النار ظرف مقدم ہے تخصیص کے لئے۔ من موصولہ آمن و معطوف تھا صلہ سب فاعل یعمر سقایۃ مصدر کا لعمارۃ و صحت الیاء لما کانت بعد ھاتاء التانیث والتقدیر اجعلتم اصحاب السقایۃ الخ مثل من امن الذین الخ مبتداء اعظم خبر۔ تفسیر : مکہ کے بت پرست قدیم سے خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے تھے اور ایام حج میں لوگوں کو پانی بھی پلایا کرتے تھے۔ اسلام کے مقابلہ میں وہ اپنی نیکیوں پر فخر کرتے تھے کہ ہم مجاور بیت اللہ اور اس کے خادم ہیں۔ ہم سے بڑھ کر خدا کے نزدیک کس کا رتبہ ہے ؟ پھر اس پر محمد ﷺ ہم سے لڑنے اور عہد تمام کردینے کا حکم دیتا ہے۔ چناچہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 20–22

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَھَاجَرُوْا وَجٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ لا اَعْظَمُ دَرَجَۃً عِنْدَاللّٰہِ ط وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفَآئِزُوْنَ یُبَشِّرُھُمْ رَبُّھُمْ بِرَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَرِضْوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّھُمْ فِیْھَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌ لا خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًاطاِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ اَجْرٌ عَظِیْمٌ (التوبۃ : 20 تا 22) (جو ایمان لائے اور جنھوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کیا ان کا درجہ اللہ کے ہاں بہت بڑا ہے اور وہی لوگ کامیاب وکامران ہیں۔ خوشخبری دیتا ہے ان کو ان کا رب اپنی رحمت اور خوشنودی کی اور ایسے باغوں کی جن…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–22

فہم القرآن ربط کلام : مسجد حرام کی تعمیر و ترقی اور حجاج کی خدمت کا ایمان اور کردار کے ساتھ موازنہ کرنے کے بعد حقیقی ایمان کے تقاضے بیان کیے گئے ہیں۔ ایمان صرف فکر اور عقیدہ کا نام نہیں یہ اس وقت تک مکمل اور اکمل نہیں ہوتا۔ جب تک اس کے تقاضے پورے نہ کیے جائیں۔ اس کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس پر لازم ہوجاتا ہے کہ وہ اس نظریے کی خاطر ہر اس بات اور عمل کو چھوڑ دے جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے۔ ہجرت کا حقیقی اور جامع مفہوم بیان کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ حقیقی مہاجر وہ ہے کہ جو ہر اس کام کو چھوڑ دے جس سے اللہ نے منع کیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 22: خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًاط اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ اَجْرٌ عَظِیْمٌ (ان میں یہ ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے پاس بڑا اجر ہے) جو غیر منقطع ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–22

17۔ 22۔ صحیح مسلم ابوداؤد صحیح ابن حبان تفسیر ابن ابی حاتم میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں قریش کے ستر آدمی جو گرفتار ہوئے جن میں حضرت عباس ؓ بھی تھے تو مسلمانوں نے ان ستر آدمیوں کے روبرو بت پرستی اور شرک کی مذمت بیان کی یہ مذمت سن کر حضرت عباس ؓ نے کہا کہ ہم بھی مکہ میں اچھے کاموں میں لگے ہوئے تھے مسجد حرام کو آباد رکھتے تھے حاجیوں کو پانی پلاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ بغیر خالص السلام کے یہ اچھے کام اللہ کے نزدیک کچھ قبول نہیں اس سے معلوم ہوا بغیر صفائی عقیدہ کے کوئی ظاہری عمل قبول نہیں ہوتا۔ یہ اچھے کام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت نمبر (22) جب بعض مسلمانوں کے درمیان یا بعض مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان اس امر میں اختلاف واقع ہوگیا کہ مسجد حرام کی تعمیر ‘ اس کے اند نماز پڑھنا ‘ اس میں عبادت کرنا اور حاجیوں کو پانی پلانا افضل ہے یا اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لنا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا ؟ تو اللّٰہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان دونوں کے درمیان بہت تفاوت ہے۔ چناچہ فرمایا ” کیا کردیا تم نے حاجیوں کے پانی پلانے کو “ یعنی ان کو آپ زم زم پلانا ‘ جیسا کہ معروف جب پلانے کا ذکر مطلق کیا جائے تو اس سے مراد آپ زم زم پلانا ہی ہوتا ہے ” اور مسجد حرام کے بسانے کو ] اس شخص کے برابر جو ایمان لایا اللّٰہ اور یوم آخرت پر اور لڑا اللہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–22

مساجد اللہ پر تولیت صرف مسلمانوں کی ہو قول باری ہے (ما کان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ۔ مشرکین کا یہ کام نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے مجاور اور خادم بنیں) عمارۃ المسجد کے دو معنی ہیں۔ اول مسجد کی زیارت اور اس میں موجودگی یعنی اسے آباد کرنا، دوم مسجد کی تعمیر اور اس کے شکستہ حصوں کی مرمت و تجدید۔ اس لئے کہ جب کوئی زیارت کرے تو کہا جاتا ہے۔ اعتمر فلان (فلاں نے زیارت کی) اسی سے عمرہ کا لفظ ماخوذ ہے اس میں بیت اللہ کی زیارت ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص بکثرت مساجد میں آتا جاتا ہو اور وہاں وقت گزارتا ہو تو کہا جاتا ہے ’ دفلان من عمار المساجد “ (فلاں شخص مساجد کو آباد رکھنے والوں میں سے ہے) اسی طرح اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

48 اللہ تعالیٰ کے یہاں بہت بڑا اجر ہے : اتنا اور ایسا بڑا کہ اس دنیائے دوں میں اس کی کوئی نظیر و مثال بھی ممکن نہیں ہوسکتی۔ پس ہر کام میں اسی کے اجر وثواب کو پیش نظر رکھنا اور مقصود اصلی بنانا چاہیئے ۔ فَوَفِّقْنَا اللّٰہُمَّ لِکُلِّ مَا تُحِبُّ وَتَرْضَاہُ ۔ سو آخرت کا اجر وثواب اور رب کی خوشنودی و رضا ہی وہ اصل اور حقیقی مقصود ہے جسکو ہمیشہ پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ پس جن خوش نصیبوں کو اپنے رب کی عنایت اس کی رضا و خوشنودی اور ایسی عظیم الشان جنتوں سے سرفرازی نصیب ہوگی جن میں سدا بہار دائمی نعمتیں موجود ہو نگی اور مزید یہ کہ ان کو ان عظیم الشان اور بےمثال جنتوں میں ہمیشہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 20–23

ایمان، ہجرت اور جہاد کی فضیلت، ایمان کی تکمیل کب ؟ تشریح : مطلب یہ ہے کہ بہترین عمل ارکان اسلام کی پابندی، بہترین ذکر، اللہ کا ذکر اور بہترین دوست اللہ ہے جیسا کہ فرمایا : ” خبردار ! اللہ کے دوستوں کو غم لاحق ہوگا اور نہ کوئی پریشانی۔ “ ( یونس آیت : 62) پھر جنت کا ذکر اور تعریف اللہ یوں فرماتا ہے : ” نیک لوگوں کا صلہ انکے رب کے پاس ہمیشہ رہنے کی جنتیں ہیں۔ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی۔ وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے یہ اس شخص کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔ “ (البینہ آیت : 8) جب اس جنت کا تصور کرتے ہیں تو بےاختیار یہ دعا منہ سے نکلتی ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 17–24

آیات 17 تا 24 اسرار و معارف فتح مکہ کے بعد اگر چہ بیت اللہ کو بتوں سے پاک کردیا گیا تھا مگر مشرکین اپنی رسومات تو اپنے ہی طور پر ادا کرتے تھے اور یہ ضروری تھا کہ بیت اللہ کو ان خرافات سے بھی پاک کیا جاتا مگر اس میں رکاوٹ یہ تھی کہ بعض قبائل کے ساتھ مسلمانوں کے معادہ صلح کی مدت باقی تھی اور انھوں نے عہد شکنی بھی نہ کی تھی لہٰذا ایک سال تک مہلت دی گئی اس میں وہ مدت بھی گزرگئی اور کوئی نیا معاہدہ نہ کیا گیا بلکہ 9 ھجری؁ کے حج میں آپ ﷺ نے اعلان کرادیا کہ آئندہ کوئی مشرک بیت اللہ کی حدود میں داخل نہ ہوگا اور نہ کافر انہ رسوم ادا کرسکے گا۔ مشرکین اپنے زعم باطل میں بتوں کی پوجا اور عمارت کی تعمیر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 21–22

ف 7 جب مالک خود ان لوگوں سے راض اور انہیں اپنی رحمت اور جنت کی خوشخبری دے رہا ہے تو ڈوب مرنا چاہیے۔ ان لو گو کو جو ان کے خلاف اپنی زبانیں کھولتے ہیں۔ اگر ان میں ذرہ بھر بھی غیرت اور شرم وحیا ہے۔ ورنہ سیدھی طرح اپنی بدتمیزی اور گستاخی سے تو بہ کر کے ان کا وہ مقام تسلیم کرنا چاہیے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ان کو دیا ہے۔ ( کذافی الو حیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 20–22

(9:20) اعظم درجۃ عند اللہ۔ ای اعظم درجۃ من اہل السقایۃ والعمارۃ عند اللہ۔ یعنی اللہ کے نزدیک ایمان والوں۔ ہجرت کرنے والوں اور اپنے جان و مال سے جہاد کرنے والوں کو درجہ اہل سقاء و اہل عمارت سے بہت بڑا ہے۔ یبشرہم۔ وہ ان کو خوشخبری دیتا ہے تبشیر (تفعیل) سے مضارع واحد مذکر غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ رضوان۔ رضا مندی، خوشنودی۔ مرضی۔ رضا۔ رضی یرضی کا مصدر ہے رضوان اور جنت۔ بوجہ ب حرف جر کے مجرور ہیں فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث جنت کی طرف راجع ہے۔ نعیم۔ اسم نکرہ۔ نعمت۔ راعت۔ نعمت کثیرہ۔ فی جنت النعیم (156:12) نعمتوں کی بہشت میں اور جنت النعیم (21:8) نعمتوں کے باغ میں ۔ مقیم۔ اسم فاعل واحد…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–22

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 22 ان یعمروا (یہ کہ وہ آباد کریں) شھدین (گواہ ہیں (گواہی دینے والے) حبطت ضائع ہوگئی (ضائے ہوگئے) النار (آگ) لم یخش نہیں ڈرتا (نہیں ڈرا) عسی (شاید کہ، امید ہے کہ) المھتدین (ہدایت پانے والے ) اجعلتم (کیا تم نے بنا لیا ہے سقایۃ (پانی پلانا) عمارۃ (تعمیر کرنا، آباد کرنا، بسانا) لایستون (دونوں برابر نہیں ہیں) لایھدی (ہدایت نہیں دیتا ) اعظم (بہت بڑا) الفآئزون (کامیاب ہونے والے) رضوان (خوشنودی) نعیم مقیم (ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ) ابداً (ہمیشہ) اجر عظیم (بہت بڑا اجر، بدلہ) تشریح :- آیت نمبر 17 تا 22 فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے خانہ کعبہ اور مسجد حرام سے بتوں کو ہٹوا دیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–22

جہاد سے حضرت عباس ؓ کی بحث، شرک کی وجہ سے نیک عمل رائیگاں ہوجاتے ہیں شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں قریش کے ستر آدمی جو گرفتار ہوئے اور ان میں حضور ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ بھی تھے۔ تو مسلمانوں نے ان ستر آدمیوں کے روبرو بت پرستی اور شرک کی مذمت بیان کی۔ یہ مذمت سن کر حضرت عباس ؓ نے کہا :'' ہم بھی مکہ میں اچھے کاموں میں لگے ہوئے تھے۔ مسجد حرام کو آباد رکھتے تھے حاجیوں کو پانی پلاتے تھے ''۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمادیا کہ بغیر اسلام خالص کے یہ اچھے کام اللہ کے نزدیک کچھ قبول نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بغیر صفائی عقیدہ کے کوئی ظاہری عمل قبول نہیں ہوتا۔ یہ بت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–23

[10] کیونکہ خانہ کعبہ مشرکین کے نزدیک بھی مقدس تھا، اس کی خدمت اور اس کے زائرین کی خدمت بھی سرداران قریش نے اپنے ذمے لے لی تھی اور اس پر فخر کرتے تھے۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) ان آیات میں ان لوگوں کے درجات گنائے ہیں جنہوں نے ایمان کی نعمت کو قبل کیا اور اللہ کی راہ میں مالی وجانی جہاد کی ، فرمایا ان کے مرتبے بہت بلند ہیں ، یہ دراصل فائز اور کامیاب ہیں ، اللہ نے انہیں سند رضا عنایت کر رکھی ہے ، ان کے لئے جنات کے دروازے کھلے ہیں ، یہ اجر عظیم کے مستحق ہیں ، غور کرو ، قران جنہیں مہاجر ومجاہد کے لقب سے نوازے جنہیں جائزوکامران کہے جنہیں ادائے رضا دے جن کے مرتبے بلند کرے ، جنہیں اجر عظیم کا مستحق قرار دے ، انکی شان کتنی بلند ہوگی ، اور ان کا رتبہ کتنا اونچا ہوگا ۔ حل لغات : نعیم مقیم : دائمی نعمت ، ابدا : ہمیشہ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

22 ان باغات میں یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ سکونت پذیر ہوں گے بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے پاس بہت بڑا صلہ موجود ہے۔ رحمت و رضامندی اللہ تعالیٰ کی جانب سے حصول مقصد کی بہت بڑی بشارت ہے اور روحانی مدارج اور روحانی منازل کی بہت اونچی پائیگاہ ہے جو نصیبوں والوں کو میسر آتی ہے۔ وما یلقھا الاذو حظ عظیم۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اوپر سے یہاں تک پانچ آیتیں نازل ہوئیں اس پر کہ کچھ گفتگو ہوئی۔ حضرت علی ؓ میں اور حضرت عباس ؓ میں حضرت عباس ؓ نے آخر کو ہجرت کی ہے۔ حضرت علی ؓ نے کہا اگر تم اول ہجرت کرتے اور جہاد میں حاضر ہوتے تو مرتبے بلند پاتے جیسے ہم نے پائے حضرت عباس ؓ نے کہا کہ ہم بھی خدا کے کام میں تھے یعنی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ اوپر ہجرت کا ذکر تھا جس میں وطن اور اقارب اور اموال واملاک سے قطع تعلق کرنا پڑتا ہے جو کہ طبعا شاق معلوم ہوتا ہے جو گاہے سبب ہوسکتا ہے ترک ہجرت کا اس لیے آگے ان تعلقات کے غلبہ کی مذمت فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ لوگ ان باغات میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کا اجر عنداللہ محفوظ ہے : 33: مطلب یہ ہے کہ دنیا کی نعمتوں کی طرح ان نعمتوں کے لئے زوال نہیں ہے اور اس کامیابی کے بعد مزید کسی دوسری کامیابی کی خواہش انسان میں موجود ہی نہ ہوگی اور جس طرح دنیاوی نعمتوں سے کبھی انسان کا دل نہیں بھرتا بلکہ وہ خوب سے خوب تر کا خیال رکھتا ہے اور اس کی ترقی کی منزلیں کبھی ختم ہونے میں نہیں آتیں یہی وجہ ہے کہ وہ ایک لحاظ سے بد اطمینانی کا شکار رہتا ہے اور اپنی جدوجہد کو تیز سے تیز تر کرنے کی کوشش میں سرگرداں ہوتا ہے۔ یہ کیفیت آخرت کی کامیابی کے بعد ممکن نہیں یہ دنیا ہی کی نعمتیں ہیں جن کے متعلق کہا گیا ہے کہ : یا صاحبی لا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–23

These verses mention the merits of Hijrah and Jihad which require that one leaves his country, relatives, friends, companions, wealth and property, all in one stroke. As obvious, surrendering all these attachments is most difficult and painful. Therefore, in the next verse (23), the text disapproves of limitless attachment with these things and thereby prepares Muslim minds to welcome Hijrah and Jihad. It was said: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا آبَاءَكُمْ وَإِخْوَانَكُمْ أَوْلِيَاءَ إِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ‌ عَلَى الْإِيمَانِ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَأُولَـٰئِكَ…

Read the full tafseer →