At-Tawba 9:21

At-Tawba · from ayah 21

9:21

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌ ۟ۙيُبَشِّرُهُمۡ رَبُّهُمۡ بِرَحۡمَةٍ مِّنۡهُ وَرِضۡوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمۡ فِيۡهَا نَعِيۡمٌ مُّقِيۡمٌ

ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے نعمت ہائے جاودانی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Their Lord gives them good tidings of mercy from Him and approval and of gardens for them wherein is enduring pleasure.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 3 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:21

ان کا رب انہیں اپنی رحمت اور خوشنودی اور ایسی جنتوں کی بشارت دیتا ہے جہاں ان کے لیے پائیدار عیش کے سامان ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے نعمت ہائے جاودانی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہیں ان کا رب خوشخبری دیتا ہے اپنی رحمت کی اور رضامندی کی اور جنتوں کی، ان کے لئے وہاں دوامی نعمت ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان کا پروردگار انہیں اپنی طرف سے رحمت اور خوشنودی کی، اور ایسے باغات کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے دائمی نعمتیں ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان کا رب انہیں خوشی سنا تا ہے اپنی رحمت اور اپنی رضا کی اور ان باغوں کی جن میں انہیں دائمی نعمت ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان کا رب انہیں اپنی جانب سے رحمت کی اور (اپنی) رضا کی اور (ان) جنتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لئے دائمی نعمتیں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان کا رب انھیں اپنی طرف سے بڑی رحمت اور عظیم رضامندی اور ایسے باغوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی نعمت ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان کا پروردگار انہیں اپنی رحمت اور رضا مندی کی خوشخبری دیتا ہے اور ان کے لئے ایسے باغات ہیں جن کی نعمتیں دائمی ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کا رب ان کو خوش خبری دیتا ہے، اپنی رحمت اور خوشنودی اور ایسے باغوں کی جن میں ان کے لیے ابدی نعمت ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان کو خوشخبری سناتا ہے ان کا رب ایک عظیم الشان رحمت کی اپنی طرف سے، اور ایک بڑی رضامندی، اور ایسی عظیم الشان جنتوں کی، جن میں ان کے لئے دائمی نعمتیں ہوں گی،

— مولانا اسحاق مدنی

انہیں ان کا رب خوش خبری سناتا ہے اپنی رحمت اور رضامندی اور (ایسے) باغوں کی کہ ان کے لئے ان میں دائمی نعمت ہوگی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہیں بشارت دیتا ہے ان کا رب اپنی رحمت خاص اور رضا مندی کی اور ان باغات کی جن کے اندر ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہوگی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان کا رب ان کو اپنی رحمت اور رضا مندی کی خوشخبری دیتا ہے اور ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کی نعمتیں ہمیشہ کی ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Their Lord gives them glad tidings of mercy from Him and of His good pleasure. For them await Gardens of eternal bliss.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Their Lord gives them the happy news of Mercy from Him, and of (His) Pleasure, and of Gardens having an everlasting bliss for them,

— Muhammad Taqi Usmani

Their Lord gives them the happy news of Mercy from Him, and of (His) Pleasure, and of Gardens having an everlasting bliss for them,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Their Lord gives them glad tidings of mercy from Him, and His being pleased (with them), and of Gardens (Paradise) for them wherein are everlasting delights.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Their Lord giveth them good tidings of mercy from Him, and acceptance, and Gardens where enduring pleasure will be theirs;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Their Lord gives them good tidings of mercy from Him and approval and of gardens for them wherein is enduring pleasure.

— Saheeh International

Their Lord will give the glad news of His granting mercy to them, His pleasure, and His admitting them to a Paradise full of everlasting bounties wherein they will live forever.

— Muhammad Sarwar

Their Lord gives them good news of mercy from Himself and (His) good pleasure and gardens, wherein lasting blessings shall be theirs;

— Muhammad Habib Shakir

Their Lord giveth them glad tidings of a mercy from Him and of goodwill and of the Gardens wherein theirs will be a delight lasting:

— Abdul Majid Daryabadi

Their Lord doth give them glad tidings of a Mercy from Himself, of His good pleasure, and of gardens for them, wherein are delights that endure:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–22

سب سے بری عبادت اللہ کی راہ میں جہاد ہے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کافروں کا قول تھا کہ بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کے پانی پلانے کی سعادت ایمان وجہاد سے بہتر ہے ہم چونکہ یہ دونوں خدمتیں انجام دے رہے ہیں اس لیے ہم سے بہتر کوئی نہیں۔ اللہ نے ان کے فخر و غرور اور حق سے تکبر اور منہ پھیرنے کو بےنقاب کیا کہ میری آیتوں کی تمہارے سامنے تلاوت ہوتے ہوئے تم ان سے بےپرواہی سے منہ موڑ کر اپنی بات چیت میں مشغول رہتے ہو۔ پس تمہارا گمان بیجا تمہارا غرور غلط، تمہارا فخر نامناسب ہے یوں بھی اللہ کے ساتھ ایمان اور اس کی راہ میں جہاد بہت بڑی چیز ہے لیکن تمہارے مقابلے میں تو وہ اور بھی بڑی چیز ہے کیونکہ تمہاری تو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 19–23

سورة التَّوْبَة 21 یعنی کسی زیارت گاہ کی سجادہ نشینی، مجاوری اور چند نمائشی مذہبی اعمال کی بجا آوری، جس پر دنیا کے سطح بیں لوگ بالعموم شرف اور تقدس کا مدار رکھتے ہیں، خدا کے نزدیک کوئی قدر و منزلت نہیں رکھتی۔ اصلی قدر و قیمت ایمان اور راہ خدا میں قربانی کی ہے۔ ان صفات کا جو شخص بھی حامل ہو وہ قیمتی آدمی ہے خواہ وہ کسی اونچے خاندان سے تعلق نہ رکھتا ہو اور کسی قسم کے امتیازی طرّے اس کو لگے ہوئے نہ ہوں۔ لیکن جو لوگ ان صفات سے خالی ہیں وہ محض اس لیے کہ بزرگ زادے ہیں۔ سجادہ نشینی ان کے خاندان میں مدتوں سے چلی آرہی ہے اور خاص خاص موقعوں پر کچھ مذہبی مراسم کی نمائش وہ بڑی شان کے ساتھ کردیا کرتے ہیں،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–22

اکیسویں اور بائیسویں آیتوں میں ان کامیاب لوگوں کے اجر عظیم اور درجات آخرت کا بیان ہے (آیت) يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمْ فِيْهَا نَعِيْمٌ مُّقِيْمٌ 21 ۝ ۙخٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭاِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ، یعنی ان لوگوں کو ان کا پروردگار خوش خبری سناتا ہے اپنی رحمت اور رضا کی اور ایسی جنتوں کی جن میں ان کے لئے ہمشہ قائم رہنے والی نعمیتیں ہوں گی اور یہ لوگ بھی ان نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے، ان کو یہاں سے کبھی نہ نکالا جائے، بیشک اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے“۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 17–22

تفسیر آیات 17۔ 22:۔ آیت 17: مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ ۭاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ښ وَفِي النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ۔ جزوی نیکی اصل مقصود کی قائم مقام نہیں ہوسکتی : اوپر کے پیرے میں مشرکین قریش کے ان جرائم کی طرف اشارے کیے گئے ہیں جو ان کو اعلان براءت اور جنگ کا سزاوار قرار دیتے ہیں۔ اب یہ تولیت بیت اللہ کے سلسلہ میں ان کی بعض خدمات کا حوالہ دے کر یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ ان کی یہ خدمات بالکل بےحقیقت اور بےوزن ہیں۔ انکی بنیاد پر یہ ہرگز اس کے بات کے سزاوار نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی رعایت کی جائے۔ کوئی خدمت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 19–21

19۔ 1 مشرکین حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی دیکھ بھال کا کام جو کرتے تھے، اس پر انہیں بڑا فخر تھا اور اس کے مقابلے میں وہ ایمان و جہاد کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے جس کا اہتمام مسلمانوں کے اندر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تم سقایت حاج اور عمارت مسجد حرام کو ایمان باللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کے برابر سمجھتے ہو ؟ یاد رکھو اللہ کے نزدیک یہ برابر نہیں، بلکہ مشرک کا کوئی عمل بھی قبول نہیں، چاہے وہ صورۃً خیر ہی ہو۔ جیسا کہ پہلی آیت کے جملے (حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ) 2۔ البقرۃ :217) میں واضح کیا جا چکا ہے۔ بعض روایت میں اس کا سبب نزول مسلمانوں کی آپس میں ایک گفتگو کو بتلایا گیا ہے کہ ایک روز…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–22

16: اس آیت کریمہ نے یہ اصول بھی بتادیا ہے کہ تمام نیک کام ایک درجے کے نہیں ہوتے، اگر کوئی شخص فرائض تو ادا نہ کرے، اور نفلی عبادتوں میں لگا رہے تو یہ کوئی نیکی نہیں ہے، حاجیوں کو پانی پلانا بیشک ایک نیک کام ہے، مگر وہ نفلی حیثیت رکھتا ہے، اور مسجد حرام کی دیکھ بھال بھی بعض حیثیتوں سے فرض کفایہ اور بعض حیثیتوں سے نفلی عبادت ہے، اس کے مقابلے میں ایمان انسان کی نجات کے لئے بنیادی شرط ہے، اور جہاد کبھی فرض عین اور کبھی فرض کفایہ، لہذا کسی کو صرف ان خدمات کی وجہ سے کسی مومن پر فوقیت حاصل نہیں ہوسکتی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 20–22

20 ۔ 22: یہ مضمون اب اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ مومنین ، مہاجرین اور مجاہدین بلند مرتبہ لوگ ہیں۔ اللہ کی رحمت اور رضامندی ان کے انتظار میں ہے اور ان کے لیے جنت میں نعیم مقیم ہے۔ اور اس کے علاوہ اجر عظیم بھی ہے۔ اس آیت میں افضل تفضیل کے صیغے استعمال ہوئے ہیں اعظم درجۃ ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسرے لوگوں کے درجے اسفل ہیں بلکہ اس سے مطلق فضیلت مراد ہے کیونکہ ان لوگوں کے بالمقابل وہ لوگ جن کے اعمال اکارت گئے اور جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ لہذا ایسے لوگوں کے درمیان اعمال و درجات کا کوئی تناسب نہیں ہے۔ ایک طرف کافر ہیں اور دوسری جانب مومنین مہاجرین اور مجاہدین ہیں جو اعلی درجوں میں اور دائمی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 20–22

3 یعنی اس کے یہاں ثواب اور درجات کی کیا کمی ہے جس کو جتنا چاہے مرحمت فرمائے۔ پہلی آیت میں تین چیزوں کا ذکر تھا۔ ایمان، جہاد، ہجرت، ان تین پر بشارت بھی تین چیزوں کی دی۔ رحمت، رضوان، خلود فی الجنۃ۔ ابو حیان نے لکھا ہے کہ " رحمت " ایمان پر مرتب ہے، ایمان نہ ہو تو آخرت میں خدا کی رحمت و مہربانی سے کوئی حصہ نہیں مل سکتا اور " رضوان " (جو بہت ہی اعلیٰ مقام ہے) جہاد فی سبیل اللہ کا صلہ ہے۔ مجاہد فی سبیل اللہ تمام نفسانی حظوظ و تعلقات ترک کر کے خدا کے راستہ میں جان و مال نثار کرتا اور خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے انتہائی قربانی پیش کرتا ہے۔ لہذا اس کا صلہ بھی انتہائی ہونا چاہیے اور وہ حق تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 19–21

آیت 19 اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰہَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط مشرکین مکہ اس بات پر بہت نازاں ہیں کہ انہوں نے بیت اللہ کو آباد رکھا ہوا ہے اور وہ حاجیوں کو پانی پلانے جیسا کار خیر سر انجام دیتے ہیں ‘ تو کیا ان کے یہ امور ایمان باللہ ‘ ایمان بالآ خرت اور جہاد فی سبیل اللہ کے برابر ہوجائیں گے ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 21–22

20 ایمان جہاد اور ہجرت کا اجررحمت رضائے الہٰی اور جنت :۔ پہلی آیت میں تین چیزوں کا ذکر تھا۔ ایمان، جہاد اور ہجرت ان تین اعمال کے بدلے تین طرح کی بشارت دی گئی۔ رحمت، اللہ کی رضا اور ہمیشہ کے لیے جنت میں قیام۔ بعض علماء نے ان اعمال اور ان کے اجر میں یہ نسبت قائم کی ہے کہ اللہ کی رحمت تو ایمان کی وجہ سے ہوگی کیونکہ آخرت میں اللہ کی رحمت اور مہربانی صرف اس شخص پر ہوگی جو ایمان لایا ہوا ور رضوان یا اللہ کی رضامندی جہاد کے عوض ہوگی۔ کیونکہ جس طرح سب اعمال سے افضل اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال کی قربانی پیش کرنا ہے اسی طرح جنت کی سب نعمتوں سے بڑی نعمت اللہ کی رضامندی ہے جیسا کہ متعدد احادیث صحیحہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

33 ۔ اور اس خوشخبری سنانے کا ذریعہ بھی قرآن ہے۔ مقیم کے لفظ نے اسے صاف کردیا کہ انعامات جنت جتنے بھی ہوں گے مستقل، پائدار، دائمی ہوں گے، مسافرانہ انداز کے نہ ہوں گے۔ استعارۃ للدائم (روح) رحمۃ اور رضوان کے صیغہ نکرہ رحمت اور رضوان الہی کی عظمت و کثرت کے اظہار کے لئے ہیں۔ نکر الرحمۃ والرضوان للتفخیم والتعظیم (بحر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–24

شان نزول : اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَاجَ (الآیة) مشرکین حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی دیکھ بھال کا جو کام کرتے تھے اس پر انہیں بڑا فخر تھا، اس کے مقابلہ میں وہ ایمان و جہاد کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے جس کا اہتمام مسلمانوں کے اندر تھا، اس غلط فہمی اور زعم باطل کو رد کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اَجَعَلتم سقایة الحاج الخ کیا تم سقایة حاج اور عمارت مسجد حرام کا ایمان باللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کے برابر سمجھتے ہو ؟ یاد رکھو یہ اللہ کے نزدیک برابر نہیں بلکہ مشرک کا کوئی عمل بھی عند اللہ مقبول نہیں۔ اس آیت کے شان نزول کے سلسلہ میں تین واقعات نقل کئے گئے ہیں۔ پہلا واقعہ : ایک روایت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یبشرھم ربھم برحمۃ منہ ورضوان وجنات لھم فیھا نعیم مقیم : ان کا رب ان کو بشارت دیتا ہے اپنی طرف سے بڑی رحمت اور بڑی رضامندی اور (جنت کے) ایسے باغوں کی جن کے اندر ان کیلئے دائمی نعمت ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(21) ان کا پروردگار ان کو عذاب سے نجات اور بڑی رضا مندی اور خوشنودی کی اور جنت کے باغوں اور اس کی ابدی نعمتوں کی خوشخبری دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 21–22

يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ : ”بِرَحْمَةٍ“ اور ”وَرِضْوَانٍ“ پر تنوین تعظیم کی ہے۔ اب اس رحمت اور رضا مندی کا کون اندازہ کرسکتا ہے جسے خود اللہ تعالیٰ خاص اپنی طرف سے اور عظیم قرار دے رہا ہے، اگلی آیت میں دوبارہ اسے اجر عظیم قرار دیا ہے۔ جب مالک خود ان لوگوں سے راضی اور انھیں اپنی رحمت اور جنت کی خوش خبری دے رہا ہے، تو ڈوب مرنا چاہیے ان لوگوں کو جو ان کے خلاف اپنی زبانیں کھولتے ہیں، اگر ان میں ذرہ بھر بھی غیرت اور شرم و حیا ہے۔ ورنہ سیدھی طرح اپنی بد تمیزی اور گستاخی سے توبہ کر کے ان کا وہ مقام تسلیم کرنا چاہیے جو اللہ اور اس کے رسول نے انھیں دیا ہے۔ یاد رہے کہ ایمان، جہاد اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قولہ تعالیٰ : یبشر ھم ربھم یعنی اللہ تعالیٰ انہیں دنیا بتا رہا ہے اس بہت بڑے ثواب اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے بارے جو آخرت میں ان کے لیے ہوگی۔ اور نعیم سے مراد زندگی کا پرسکون اور خوشحال ہونا ہے۔ خلدین یہ حال کی بنا پر منصوب ہے۔ اور الخلود کا معنی مقیم رہنا ہے۔ ان اللہ عندہ اجر عظیم یعنی بیشک اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اپنے دار کرامت میں وہ ثواب تیار کر رکھا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 21–22

1:۔ ابوالشیخ نے طلحہ بن مصرف (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” یبشرھم ربہم “ پڑھا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يُبَشِّرُهُمْ [ خوشبخری دیتا ہے ان کو ] رَبُّهُمْ [ ان کا رب ] بِرَحْمَةٍ [ رحمت کی ] مِّنْهُ [ اپنے پاس سے ] وَرِضْوَانٍ [ اور رضا مندی کی ] وَّجَنّٰتٍ : اور باغات کی ] لَّهُمْ [ ان کے لیے ] فِيْهَا [ ان میں ] نَعِيْمٌ مُّقِيْمٌ [ قائم رہنے والی خوشحالی ہے ] (آیت ۔ 21) برحمۃ کی با پر عطف ہونے کی وجہ رضوان اور جنت حالت جر میں آئے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مزید فرمایا (یُبَشِّرُھُمْ رَبُّھُمْ بِرَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّھُمْ فِیْھَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌ) (ان کا رب انہیں بشارت دیتا ہے اپنی رحمت کی اور رضا مندی کی اور باغوں کی جن میں ان کے لیے دائمی نعمتیں ہوں گی)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–24

مشرکین عرب کے فخر اور ناز کا جواب اور اعمال فاضلہ کا بیان قال اللہ تعالیٰ ۔ ماکان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ عندہ اجر عظیم۔ (ربط): سورت کا آغاز مشرکین کی براءت اور بیزاری سے فرمایا بعد ازاں ان کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ اسی قابل ہیں کہ ان سے براءت اور بیزار اختیار کی جائے ان لوگوں کا خدا تعالیٰ کے یہاں کوئی مرتبہ نہیں۔ چونکہ یہ اعلان براءت ان کی اہانت اور تحقیر پر مبنی تھا اس لیے مشرکین مکہ نے اپنی فضیلت ثابت کرنے کے لیے بڑے فخر اور ناز سے یہ کہا کہ ہم بہت سی خاص حمیدہ اور افعال پسندیدہ کے حامل ہیں ہم سے براءت اور بیزاری کی کوئی وجہ نہیں ہم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 20–22

17: یہ ان صحابہ کرام کے لیے بشارت اخروی ہے جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں تن من دھن سے جہاد کیا ان کے حسب ذیل فضائل بیان کیے گئے۔ (1) وہ غیر مہاجرین اور غیر مجاہدین مومنوں سے افضل ہیں۔ (2) وہ آخرت میں کامیاب اور بامراد رہیں گے۔ (3) اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے۔ (4) اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جنات نعیم کا فیصلہ فرمادیا ہے جن کی ہر نعمت دائمی اور لازوال ہوگی اور وہ بھی ابد الآباد ان میں رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–22

ربط ِ آیات گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کے مشروع ہونے کی وجوہات بیان فرمائی تھیں ان میں سے بعض وجوہات وہ تھیں جو مشرکین کی طرف سے پیدا ہوئیں مثلا دین میں طعن کرنا اور اسے مٹانے کی کوشش کرنا ، عہدوپیمان کو توڑنا ، نبی کو اس کے گھر سے نکالنا اور جنگ میں پہل کرنا وغیرہ ، پھر اللہ تعالیٰ نے جہاد کا ایک سبب یہ بھی بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا امتحان لینا چاہتا ہے اور وہ اس بات کو ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ کون ہے جو جہاد میں بخوشی حصہ لیتا ہے اور کون ہے جو پیچھے رہتا ہے۔ مشرکین اور مساجد سورۃ ہذا کی ابتداء میں مشرکین کے ساتھ بیزاری اور جنگ کا اعلان کیا گیا تھا ( آیت) ” براء ۃ من اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يُبَشِّرُہُمْ رَبُّہُمْ بِرَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَرِضْوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّہُمْ فِيْہَا نَعِيْمٌ مُّقِيْمٌ۝ 21 ۙ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] . وعلی هذا قوله تعالی: وَلا يَأْمُرَكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلائِكَةَ وَالنَّبِيِّينَ أَرْباباً [ آل عمران/ 80] أي : آلهة، وتزعمون أنهم الباري مسبّب الأسباب،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–22

ترکیب : شاھدین حال ہے فاعل یعمروا سے ‘ ان یعمروا کان کا اسم للمشرکین خبر۔ فی النار ظرف مقدم ہے تخصیص کے لئے۔ من موصولہ آمن و معطوف تھا صلہ سب فاعل یعمر سقایۃ مصدر کا لعمارۃ و صحت الیاء لما کانت بعد ھاتاء التانیث والتقدیر اجعلتم اصحاب السقایۃ الخ مثل من امن الذین الخ مبتداء اعظم خبر۔ تفسیر : مکہ کے بت پرست قدیم سے خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے تھے اور ایام حج میں لوگوں کو پانی بھی پلایا کرتے تھے۔ اسلام کے مقابلہ میں وہ اپنی نیکیوں پر فخر کرتے تھے کہ ہم مجاور بیت اللہ اور اس کے خادم ہیں۔ ہم سے بڑھ کر خدا کے نزدیک کس کا رتبہ ہے ؟ پھر اس پر محمد ﷺ ہم سے لڑنے اور عہد تمام کردینے کا حکم دیتا ہے۔ چناچہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 20–22

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَھَاجَرُوْا وَجٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ لا اَعْظَمُ دَرَجَۃً عِنْدَاللّٰہِ ط وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفَآئِزُوْنَ یُبَشِّرُھُمْ رَبُّھُمْ بِرَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَرِضْوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّھُمْ فِیْھَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌ لا خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًاطاِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ اَجْرٌ عَظِیْمٌ (التوبۃ : 20 تا 22) (جو ایمان لائے اور جنھوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کیا ان کا درجہ اللہ کے ہاں بہت بڑا ہے اور وہی لوگ کامیاب وکامران ہیں۔ خوشخبری دیتا ہے ان کو ان کا رب اپنی رحمت اور خوشنودی کی اور ایسے باغوں کی جن…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–22

فہم القرآن ربط کلام : مسجد حرام کی تعمیر و ترقی اور حجاج کی خدمت کا ایمان اور کردار کے ساتھ موازنہ کرنے کے بعد حقیقی ایمان کے تقاضے بیان کیے گئے ہیں۔ ایمان صرف فکر اور عقیدہ کا نام نہیں یہ اس وقت تک مکمل اور اکمل نہیں ہوتا۔ جب تک اس کے تقاضے پورے نہ کیے جائیں۔ اس کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس پر لازم ہوجاتا ہے کہ وہ اس نظریے کی خاطر ہر اس بات اور عمل کو چھوڑ دے جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے۔ ہجرت کا حقیقی اور جامع مفہوم بیان کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ حقیقی مہاجر وہ ہے کہ جو ہر اس کام کو چھوڑ دے جس سے اللہ نے منع کیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 21: یُبَشِّرُھُمْ رَبُّھُمْ (ان کا رب ان کو بشارت دیتا ہے) قراءت : حمزہ نے یُبْشِرُھمْ پڑھابِرَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَرِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ (اپنی طرف سے بڑی رحمت اور بڑی رضا مندی اور ایسے باغات) رحمت، رضوان، جنات کی بشارت دی اور ان کو نکرہ ذکر کیا تاکہ بتلایا جائے کہ یہ انعامات غیر معمولی ہیں اور کسی وصف کے ساتھ بیان سے باہر ہیں اور معر ّف کو معرفہ ذکر کیا گیا۔ لَّھُمْ فِیْھَا (جن میں ان کیلئے) ان جَنّات میں نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌ (دائمی نعمتیں ہوں گی) دائمی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–22

17۔ 22۔ صحیح مسلم ابوداؤد صحیح ابن حبان تفسیر ابن ابی حاتم میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں قریش کے ستر آدمی جو گرفتار ہوئے جن میں حضرت عباس ؓ بھی تھے تو مسلمانوں نے ان ستر آدمیوں کے روبرو بت پرستی اور شرک کی مذمت بیان کی یہ مذمت سن کر حضرت عباس ؓ نے کہا کہ ہم بھی مکہ میں اچھے کاموں میں لگے ہوئے تھے مسجد حرام کو آباد رکھتے تھے حاجیوں کو پانی پلاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ بغیر خالص السلام کے یہ اچھے کام اللہ کے نزدیک کچھ قبول نہیں اس سے معلوم ہوا بغیر صفائی عقیدہ کے کوئی ظاہری عمل قبول نہیں ہوتا۔ یہ اچھے کام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 18–21

آیت نمبر ( 18) اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے ” مشرکوں کو زیبا نہیں “ یعنی مشرکین کے لائق اور ان کے لیے مناسب نہیں ” کہ آباد کریں وہ اللہ کی مسجدوں کو “ یعنی عبادات ‘ نماز اور مختلف انواع کی نیکوں کے ذریعے سے اللہ کی مساجد کو آباد کریں اور حال ان کا یہ ہے کہ وہ اپنی فطرت اور شہادت حال کے ذریعے سے اپنے کفر کا اقرار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر لوگوں کی بابت علم ہے کہ وہ کفر اور باطل پر ہیں۔” جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر ( اور عدم ایمان) کی گواہی دیتے ہیں۔ “ ایمان اعمال کی قبولیت کی شرط ہے ‘ تب وہ کیوں کر یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کہ مساجد کو آباد کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے اعمال کی بنیاد ہی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–22

مساجد اللہ پر تولیت صرف مسلمانوں کی ہو قول باری ہے (ما کان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ۔ مشرکین کا یہ کام نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے مجاور اور خادم بنیں) عمارۃ المسجد کے دو معنی ہیں۔ اول مسجد کی زیارت اور اس میں موجودگی یعنی اسے آباد کرنا، دوم مسجد کی تعمیر اور اس کے شکستہ حصوں کی مرمت و تجدید۔ اس لئے کہ جب کوئی زیارت کرے تو کہا جاتا ہے۔ اعتمر فلان (فلاں نے زیارت کی) اسی سے عمرہ کا لفظ ماخوذ ہے اس میں بیت اللہ کی زیارت ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص بکثرت مساجد میں آتا جاتا ہو اور وہاں وقت گزارتا ہو تو کہا جاتا ہے ’ دفلان من عمار المساجد “ (فلاں شخص مساجد کو آباد رکھنے والوں میں سے ہے) اسی طرح اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 20–21

46 اہل ایمان کے لیے سب سے بڑے درجے کی خوشخبری : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سچے ایمان والوں کیلئے اللہ تعالیٰ کے یہاں سب سے بڑا درجہ ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ ایمان لائے انہوں نے ہجرت اور جہاد کیا اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا و خوشنودی کے لیے ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے یہاں بہت بڑا درجہ ہے۔ سو ایسوں کا درجہ و مرتبہ بہت بڑا ہے۔ ان لوگوں کے مقابلے میں جو ان صفات سے محروم ہیں۔ اور پھر ان کا درجہ کتنا بڑا ہے اس کی تحدید نہیں فرمائی گئی کہ اس کی عظمت اور بڑائی کو اللہ پاک ہی جانتا ہے ۔ جل جلالہ وعم نوالہ ۔ سو سچے ایمان والوں کا درجہ اللہ تعالیٰ کے یہاں بہت بڑا ہے۔ اور جتنا کوئی ایمان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 20–23

ایمان، ہجرت اور جہاد کی فضیلت، ایمان کی تکمیل کب ؟ تشریح : مطلب یہ ہے کہ بہترین عمل ارکان اسلام کی پابندی، بہترین ذکر، اللہ کا ذکر اور بہترین دوست اللہ ہے جیسا کہ فرمایا : ” خبردار ! اللہ کے دوستوں کو غم لاحق ہوگا اور نہ کوئی پریشانی۔ “ ( یونس آیت : 62) پھر جنت کا ذکر اور تعریف اللہ یوں فرماتا ہے : ” نیک لوگوں کا صلہ انکے رب کے پاس ہمیشہ رہنے کی جنتیں ہیں۔ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی۔ وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے یہ اس شخص کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔ “ (البینہ آیت : 8) جب اس جنت کا تصور کرتے ہیں تو بےاختیار یہ دعا منہ سے نکلتی ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 17–24

آیات 17 تا 24 اسرار و معارف فتح مکہ کے بعد اگر چہ بیت اللہ کو بتوں سے پاک کردیا گیا تھا مگر مشرکین اپنی رسومات تو اپنے ہی طور پر ادا کرتے تھے اور یہ ضروری تھا کہ بیت اللہ کو ان خرافات سے بھی پاک کیا جاتا مگر اس میں رکاوٹ یہ تھی کہ بعض قبائل کے ساتھ مسلمانوں کے معادہ صلح کی مدت باقی تھی اور انھوں نے عہد شکنی بھی نہ کی تھی لہٰذا ایک سال تک مہلت دی گئی اس میں وہ مدت بھی گزرگئی اور کوئی نیا معاہدہ نہ کیا گیا بلکہ 9 ھجری؁ کے حج میں آپ ﷺ نے اعلان کرادیا کہ آئندہ کوئی مشرک بیت اللہ کی حدود میں داخل نہ ہوگا اور نہ کافر انہ رسوم ادا کرسکے گا۔ مشرکین اپنے زعم باطل میں بتوں کی پوجا اور عمارت کی تعمیر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 21–22

ف 7 جب مالک خود ان لوگوں سے راض اور انہیں اپنی رحمت اور جنت کی خوشخبری دے رہا ہے تو ڈوب مرنا چاہیے۔ ان لو گو کو جو ان کے خلاف اپنی زبانیں کھولتے ہیں۔ اگر ان میں ذرہ بھر بھی غیرت اور شرم وحیا ہے۔ ورنہ سیدھی طرح اپنی بدتمیزی اور گستاخی سے تو بہ کر کے ان کا وہ مقام تسلیم کرنا چاہیے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ان کو دیا ہے۔ ( کذافی الو حیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 20–22

(9:20) اعظم درجۃ عند اللہ۔ ای اعظم درجۃ من اہل السقایۃ والعمارۃ عند اللہ۔ یعنی اللہ کے نزدیک ایمان والوں۔ ہجرت کرنے والوں اور اپنے جان و مال سے جہاد کرنے والوں کو درجہ اہل سقاء و اہل عمارت سے بہت بڑا ہے۔ یبشرہم۔ وہ ان کو خوشخبری دیتا ہے تبشیر (تفعیل) سے مضارع واحد مذکر غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ رضوان۔ رضا مندی، خوشنودی۔ مرضی۔ رضا۔ رضی یرضی کا مصدر ہے رضوان اور جنت۔ بوجہ ب حرف جر کے مجرور ہیں فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث جنت کی طرف راجع ہے۔ نعیم۔ اسم نکرہ۔ نعمت۔ راعت۔ نعمت کثیرہ۔ فی جنت النعیم (156:12) نعمتوں کی بہشت میں اور جنت النعیم (21:8) نعمتوں کے باغ میں ۔ مقیم۔ اسم فاعل واحد…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–22

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 22 ان یعمروا (یہ کہ وہ آباد کریں) شھدین (گواہ ہیں (گواہی دینے والے) حبطت ضائع ہوگئی (ضائے ہوگئے) النار (آگ) لم یخش نہیں ڈرتا (نہیں ڈرا) عسی (شاید کہ، امید ہے کہ) المھتدین (ہدایت پانے والے ) اجعلتم (کیا تم نے بنا لیا ہے سقایۃ (پانی پلانا) عمارۃ (تعمیر کرنا، آباد کرنا، بسانا) لایستون (دونوں برابر نہیں ہیں) لایھدی (ہدایت نہیں دیتا ) اعظم (بہت بڑا) الفآئزون (کامیاب ہونے والے) رضوان (خوشنودی) نعیم مقیم (ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ) ابداً (ہمیشہ) اجر عظیم (بہت بڑا اجر، بدلہ) تشریح :- آیت نمبر 17 تا 22 فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے خانہ کعبہ اور مسجد حرام سے بتوں کو ہٹوا دیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–22

جہاد سے حضرت عباس ؓ کی بحث، شرک کی وجہ سے نیک عمل رائیگاں ہوجاتے ہیں شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں قریش کے ستر آدمی جو گرفتار ہوئے اور ان میں حضور ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ بھی تھے۔ تو مسلمانوں نے ان ستر آدمیوں کے روبرو بت پرستی اور شرک کی مذمت بیان کی۔ یہ مذمت سن کر حضرت عباس ؓ نے کہا :'' ہم بھی مکہ میں اچھے کاموں میں لگے ہوئے تھے۔ مسجد حرام کو آباد رکھتے تھے حاجیوں کو پانی پلاتے تھے ''۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمادیا کہ بغیر اسلام خالص کے یہ اچھے کام اللہ کے نزدیک کچھ قبول نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بغیر صفائی عقیدہ کے کوئی ظاہری عمل قبول نہیں ہوتا۔ یہ بت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–23

[10] کیونکہ خانہ کعبہ مشرکین کے نزدیک بھی مقدس تھا، اس کی خدمت اور اس کے زائرین کی خدمت بھی سرداران قریش نے اپنے ذمے لے لی تھی اور اس پر فخر کرتے تھے۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–21

مفاخر قریش : (ف 1) قریش مکہ مسلمانوں سے فخریہ کہتے ، ہم تم سے اچھے ہیں ، بیت اللہ کے خادم ہیں ، حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں ، ان کی مہمان نوازی کرتے رہیں ، اور بیت اللہ کی آبادی کا خیال رکھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان مفاخر کا جواب دیا ہے کہ جب تک ایمان نہ ہو ، یہ فضائل قبول نہیں ، جب تم بناء کعبہ کے مقصد سے ہیں نا آشنا ہو تو تمہیں کیا فضیلت حاصل ہوسکتی ہے ، افضل وہ ہیں جو ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہیں ، جن کے دلوں میں ایمان جوش و حرارت ہے ، جو اس کے نام پر دشمنوں سے لڑ سکتے ہیں ، نہ وہ لوگ جو چھوٹی چھوٹی خدمات پر خوش ہیں ، اور روح دین سے بیگانہ ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

21 ان لوگوں کو ان کا پروردگار اپنی رحمت اور بڑی رضامندی اور ایسے باغات کی خوش خبری اور بشارت دیتا ہے جن میں ان کے لئے دوامی نعمت اور آسائش ہوگی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کی کامل خوشنودی کی بشارت انہی لوگوں کے لئے خاص ہے : 32: ایسے لوگ ہیں جن کو ان کا پروردگار خوشخبری سناتا ہے اپنی رحمت اور رضا کی اور ایسی جنتوں کی جن میں ان کے لئے ہمیشہ قائم رہنے والی نعمتیں ہوں گی اور یہ لوگ بھی ان نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے ان کو ایسی جگہ سے کبھی نکالا نہیں جائے گا بلاشبہ اللہ کے پاس بہت ہی بڑا اجر ہے۔ آیت بیس میں تین چیزوں کا ذکر تا یعنی ایمان ، جہاد اور ہجرت اور اس جگہ ان تینوں پر بشارت بھی تین ہی چیزوں کی دی گئی۔ فرمایا رحمت ، فضوان اور خلود فی الجنۃ ان لوگوں کے انتظار میں ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ رحمت ایمان پر مرتب ہے ایمان نہ ہو تو آخرت میں اللہ کی رحمت و مہربانی سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Verses 21 and 22 tell us about the great reward and ranks these successful people shall have in the life to come: يُبَشِّرُ‌هُمْ رَ‌بُّهُم بِرَ‌حْمَةٍ مِّنْهُ وَرِ‌ضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُّقِيمٌ ﴿21﴾ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ أَجْرٌ‌ عَظِيمٌ ﴿22﴾ Their Lord gives them the happy news of Mercy from Him, and Pleasure, and of Gardens having an everlasting bliss for them, where they shall dwell forever. Surely, 'it is Allah with whom there is a great reward.

Read the full tafseer →