At-Tawba 9:20

At-Tawba · from ayah 20

9:20

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ ۙ— اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ ؕ— وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ ۟اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ هَاجَرُوۡا وَجَاهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡۙ اَعۡظَمُ دَرَجَةً عِنۡدَ اللّٰهِ‌ؕ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ‏

جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے۔ خدا کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں۔ اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

The ones who have believed, emigrated and striven in the cause of Allah with their wealth and their lives are greater in rank in the sight of Allah. And it is those who are the attainers [of success].

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 3 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:20

اللہ کے ہاں تو انہی لوگوں کا درجہ بڑا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اس کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جان و مال سے جہاد کیا وہی کامیاب ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے۔ خدا کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں۔ اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو لوگ ایمان ﻻئے، ہجرت کی، اللہ کی راه میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کیا وه اللہ کے ہاں بہت بڑے مرتبہ والے ہیں، اور یہی لوگ مراد پانے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی ہے اور اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کیا ہے، وہ اللہ کے نزدیک درجے میں کہیں زیادہ ہیں، اور وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مال و جان سے اللہ کی راہ میں لڑے، اللہ کے یہاں ان کا درجہ بڑا ہے اور وہی مراد کو پہنچے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے اموال اور اپنی جانوں سے جہاد کرتے رہے وہ اللہ کی بارگاہ میں درجہ کے لحاظ سے بہت بڑے ہیں، اور وہی لوگ ہی مراد کو پہنچے ہوئے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کیا، اللہ کے ہاں درجے میں زیادہ بڑے ہیں اور وہی لوگ کامیاب ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے اموال اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اللہ کے ہاں ان کا بہت بڑا درجہ ہے اور ایسے ہی لوگ کامیاب ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو ایمان لائے، جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جنہوں نے اپنے جان و مال سے جہاد کیا، ان کا درجہ اللہ کے ہاں بڑا ہے اور وہی لوگ فائز المرام ہونے والے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو لوگ ایمان لائے، انہوں نے ہجرت کی، اور جہاد کیا اللہ کی راہ میں، اپنے مالوں سے بھی، اور اپنی جانوں سے بھی، اللہ کے یہاں ان کا درجہ بہت بڑا ہے، اور یہی لوگ ہیں کامیاب ہونے والے،

— مولانا اسحاق مدنی

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد اپنے مال اور اپنی جان سے کیا وہ درجہ میں بہت بڑے ہیں اللہ کے نزدیک اور یہی لوگ (پورے) کامیاب ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ لوگ جو ایمان لائے جنہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ ان کا بہت عظیم رتبہ ہے اللہ کے نزدیک اور وہی لوگ ہیں کامیاب ہونے والے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرتے رہے اللہ کے ہاں ان کے بڑے درجے ہیں اور وہی مراد پانے والے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The higher rank with Allah is for those who believed and migrated and strove in His cause with their belongings and their persons. It is they who are triumphant.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those who believed and emigrated and carried out Jihad in the way of Allah with their wealth and lives are greater in rank in the sight of Allah, and it is they who are the successful.

— Muhammad Taqi Usmani

Those who believed and emigrated and carried out Jihad in the way of Allah with their wealth and lives are greater in rank in the sight of Allah, and it is they who are the successful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those who believed and emigrated and strove hard and fought in Allah's cause with their wealth and their lives, are far higher in degree with Allah. They are the successful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those who believe, and have left their homes and striven with their wealth and their lives in Allah's way are of much greater worth in Allah's sight. These are they who are triumphant.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The ones who have believed, emigrated and striven in the cause of Allah with their wealth and their lives are greater in rank in the sight of Allah. And it is those who are the attainers [of success].

— Saheeh International

To those who have believed in God, left their homes, and fought for His cause with their possessions and in person, God will grant high ranks and success.

— Muhammad Sarwar

Those who believed and fled (their homes), and strove hard in Allah's way with their property and their souls, are much higher in rank with Allah; and those are they who are the achievers (of their objects).

— Muhammad Habib Shakir

Those who have believed and emigrated and have striven hard in the way of Allah with their riches and their lives are for higher in degree with Allah. Those! they are the achievers.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who believe, and suffer exile and strive with might and main, in Allah's cause, with their goods and their persons, have the highest rank in the sight of Allah: they are the people who will achieve (salvation).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:20

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–22

سب سے بری عبادت اللہ کی راہ میں جہاد ہے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کافروں کا قول تھا کہ بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کے پانی پلانے کی سعادت ایمان وجہاد سے بہتر ہے ہم چونکہ یہ دونوں خدمتیں انجام دے رہے ہیں اس لیے ہم سے بہتر کوئی نہیں۔ اللہ نے ان کے فخر و غرور اور حق سے تکبر اور منہ پھیرنے کو بےنقاب کیا کہ میری آیتوں کی تمہارے سامنے تلاوت ہوتے ہوئے تم ان سے بےپرواہی سے منہ موڑ کر اپنی بات چیت میں مشغول رہتے ہو۔ پس تمہارا گمان بیجا تمہارا غرور غلط، تمہارا فخر نامناسب ہے یوں بھی اللہ کے ساتھ ایمان اور اس کی راہ میں جہاد بہت بڑی چیز ہے لیکن تمہارے مقابلے میں تو وہ اور بھی بڑی چیز ہے کیونکہ تمہاری تو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 19–23

سورة التَّوْبَة 21 یعنی کسی زیارت گاہ کی سجادہ نشینی، مجاوری اور چند نمائشی مذہبی اعمال کی بجا آوری، جس پر دنیا کے سطح بیں لوگ بالعموم شرف اور تقدس کا مدار رکھتے ہیں، خدا کے نزدیک کوئی قدر و منزلت نہیں رکھتی۔ اصلی قدر و قیمت ایمان اور راہ خدا میں قربانی کی ہے۔ ان صفات کا جو شخص بھی حامل ہو وہ قیمتی آدمی ہے خواہ وہ کسی اونچے خاندان سے تعلق نہ رکھتا ہو اور کسی قسم کے امتیازی طرّے اس کو لگے ہوئے نہ ہوں۔ لیکن جو لوگ ان صفات سے خالی ہیں وہ محض اس لیے کہ بزرگ زادے ہیں۔ سجادہ نشینی ان کے خاندان میں مدتوں سے چلی آرہی ہے اور خاص خاص موقعوں پر کچھ مذہبی مراسم کی نمائش وہ بڑی شان کے ساتھ کردیا کرتے ہیں،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

بیسویں آیت میں اس مضمون کی تفصیل ہے جو پہلی آیت میں لَا يَسْتَوٗنَ کے الفاظ سے بیان کیا گیا ہے یعنی ایمان لانے والے مجاہد اور صرف عمارت مسجد اور سقایہ حجاج کرنے والے اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہیں، اس میں ارشاد فرمایا(آیت) اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ ، یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، وہ اللہ کے نزدیک درجہ میں بڑے ہیں، اور پورے کامیاب یہی لوگ ہیں“ کیونکہ ان کے مقابلہ میں جو مشرک ہیں ان کو تو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 17–22

تفسیر آیات 17۔ 22:۔ آیت 17: مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ ۭاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ښ وَفِي النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ۔ جزوی نیکی اصل مقصود کی قائم مقام نہیں ہوسکتی : اوپر کے پیرے میں مشرکین قریش کے ان جرائم کی طرف اشارے کیے گئے ہیں جو ان کو اعلان براءت اور جنگ کا سزاوار قرار دیتے ہیں۔ اب یہ تولیت بیت اللہ کے سلسلہ میں ان کی بعض خدمات کا حوالہ دے کر یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ ان کی یہ خدمات بالکل بےحقیقت اور بےوزن ہیں۔ انکی بنیاد پر یہ ہرگز اس کے بات کے سزاوار نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی رعایت کی جائے۔ کوئی خدمت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 19–21

19۔ 1 مشرکین حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی دیکھ بھال کا کام جو کرتے تھے، اس پر انہیں بڑا فخر تھا اور اس کے مقابلے میں وہ ایمان و جہاد کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے جس کا اہتمام مسلمانوں کے اندر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تم سقایت حاج اور عمارت مسجد حرام کو ایمان باللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کے برابر سمجھتے ہو ؟ یاد رکھو اللہ کے نزدیک یہ برابر نہیں، بلکہ مشرک کا کوئی عمل بھی قبول نہیں، چاہے وہ صورۃً خیر ہی ہو۔ جیسا کہ پہلی آیت کے جملے (حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ) 2۔ البقرۃ :217) میں واضح کیا جا چکا ہے۔ بعض روایت میں اس کا سبب نزول مسلمانوں کی آپس میں ایک گفتگو کو بتلایا گیا ہے کہ ایک روز…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–22

16: اس آیت کریمہ نے یہ اصول بھی بتادیا ہے کہ تمام نیک کام ایک درجے کے نہیں ہوتے، اگر کوئی شخص فرائض تو ادا نہ کرے، اور نفلی عبادتوں میں لگا رہے تو یہ کوئی نیکی نہیں ہے، حاجیوں کو پانی پلانا بیشک ایک نیک کام ہے، مگر وہ نفلی حیثیت رکھتا ہے، اور مسجد حرام کی دیکھ بھال بھی بعض حیثیتوں سے فرض کفایہ اور بعض حیثیتوں سے نفلی عبادت ہے، اس کے مقابلے میں ایمان انسان کی نجات کے لئے بنیادی شرط ہے، اور جہاد کبھی فرض عین اور کبھی فرض کفایہ، لہذا کسی کو صرف ان خدمات کی وجہ سے کسی مومن پر فوقیت حاصل نہیں ہوسکتی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 20–22

20 ۔ 22: یہ مضمون اب اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ مومنین ، مہاجرین اور مجاہدین بلند مرتبہ لوگ ہیں۔ اللہ کی رحمت اور رضامندی ان کے انتظار میں ہے اور ان کے لیے جنت میں نعیم مقیم ہے۔ اور اس کے علاوہ اجر عظیم بھی ہے۔ اس آیت میں افضل تفضیل کے صیغے استعمال ہوئے ہیں اعظم درجۃ ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسرے لوگوں کے درجے اسفل ہیں بلکہ اس سے مطلق فضیلت مراد ہے کیونکہ ان لوگوں کے بالمقابل وہ لوگ جن کے اعمال اکارت گئے اور جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ لہذا ایسے لوگوں کے درمیان اعمال و درجات کا کوئی تناسب نہیں ہے۔ ایک طرف کافر ہیں اور دوسری جانب مومنین مہاجرین اور مجاہدین ہیں جو اعلی درجوں میں اور دائمی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 20–22

3 یعنی اس کے یہاں ثواب اور درجات کی کیا کمی ہے جس کو جتنا چاہے مرحمت فرمائے۔ پہلی آیت میں تین چیزوں کا ذکر تھا۔ ایمان، جہاد، ہجرت، ان تین پر بشارت بھی تین چیزوں کی دی۔ رحمت، رضوان، خلود فی الجنۃ۔ ابو حیان نے لکھا ہے کہ " رحمت " ایمان پر مرتب ہے، ایمان نہ ہو تو آخرت میں خدا کی رحمت و مہربانی سے کوئی حصہ نہیں مل سکتا اور " رضوان " (جو بہت ہی اعلیٰ مقام ہے) جہاد فی سبیل اللہ کا صلہ ہے۔ مجاہد فی سبیل اللہ تمام نفسانی حظوظ و تعلقات ترک کر کے خدا کے راستہ میں جان و مال نثار کرتا اور خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے انتہائی قربانی پیش کرتا ہے۔ لہذا اس کا صلہ بھی انتہائی ہونا چاہیے اور وہ حق تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 19–21

آیت 19 اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰہَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط مشرکین مکہ اس بات پر بہت نازاں ہیں کہ انہوں نے بیت اللہ کو آباد رکھا ہوا ہے اور وہ حاجیوں کو پانی پلانے جیسا کار خیر سر انجام دیتے ہیں ‘ تو کیا ان کے یہ امور ایمان باللہ ‘ ایمان بالآ خرت اور جہاد فی سبیل اللہ کے برابر ہوجائیں گے ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

19 جہاد کے فضائل کتاب و سنت میں بہت سے مقامات پر مذکور ہیں یہاں ہم صرف دو احادیث پر اکتفا کرتے ہیں۔ 1۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے ایسا عمل بتلائیے جو جہاد کے ہم پلہ ہو ؟ آپ نے فرمایا میں ایسا کوئی عمل نہیں پاتا۔ (بخاری۔ کتاب الجہاد۔ باب فضل الجھاد والسیر) 2۔ سیدنا ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ آپ سے سوال کیا گیا : اللہ کے رسول ! لوگوں میں سب سے افضل کون ہے ؟ فرمایا مومن جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرتا ہو۔ (بخاری۔ کتاب الجہاد۔ باب أفضل الناس مومن۔۔ مسلم۔ کتاب الجہاد۔ باب فضل الجھاد والرباط)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

32 ۔ یہاں یہ بتایا ہے کہ اصل شئے تو ایمان باللہ اور اقرار توحید ہے۔ اور پھر جو اس پر ہجرت و جہاد کا اضافہ کرے اس کے مرتبہ کا کیا کہنا ! خانہ کعبہ کی عظمت جو کچھ ہے وہ مرکز توحید ہی ہونے کی بنا پر تو ہے۔ (آیت) ” اعظم درجۃ عند اللہ “۔ سے یہ خیال نہ گزرے کہ بلاایمان والوں یعنی کافروں کا بھی کوئی درجہ اللہ کے ہاں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو درجہ و مرتبہ اپنے نزدیک انہوں نے سمجھ رکھا ہے۔ والمراد انھم قدروا لانفسھم الدرجۃ بالعمارۃ والسقی فخاطبھم علی ما قدروہ فی انفسھم وان کان التقدیر خطا (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–24

شان نزول : اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَاجَ (الآیة) مشرکین حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی دیکھ بھال کا جو کام کرتے تھے اس پر انہیں بڑا فخر تھا، اس کے مقابلہ میں وہ ایمان و جہاد کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے جس کا اہتمام مسلمانوں کے اندر تھا، اس غلط فہمی اور زعم باطل کو رد کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اَجَعَلتم سقایة الحاج الخ کیا تم سقایة حاج اور عمارت مسجد حرام کا ایمان باللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کے برابر سمجھتے ہو ؟ یاد رکھو یہ اللہ کے نزدیک برابر نہیں بلکہ مشرک کا کوئی عمل بھی عند اللہ مقبول نہیں۔ اس آیت کے شان نزول کے سلسلہ میں تین واقعات نقل کئے گئے ہیں۔ پہلا واقعہ : ایک روایت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذین امنوا وھاجروا وجاھدوا فی سبیل اللہ باموالھم وانفسھم اعظم درجۃ عند اللہ واولئک ھم الفائزون۔ جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کی اور جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ‘ وہ اللہ کے ہاں بڑے مرتبہ والے ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ یعنی مسجد حرام کی آباد کاری اور حاجیوں کو پانی پلانے پر فخر کرنے والوں سے ان لوگوں کا مرتبہ اونچا ہے اور اللہ کے نزدیک ان کا اعزاز زیادہ ہے ‘ یا ان لوگوں سے مرتبہ بلند ہے جن میں یہ خصوصی صفات نہ ہوں۔ اور یہ ہی (جامع الصفات) لوگ دوزخ سے محفوظ رہنے والے ‘ جنت میں پہنچنے والے اور اونچے اونچے رتبوں پر پہنچنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(20) بیشک جو حضرات رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور مکہ مکرمہ چھوڑ کر مدینہ منورہ آگئے اور اطاعت خداوندی میں اپنے مال و دولت خرچ کیے اور جہاد وہ بمقابل اہل سقایہ اور اہل عمارت وغیرہ کے درجہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت ہی بڑے ہیں اور ان ہی حضرات نے جنت کے ذریعے کامیابی حاصل کی اور دوزخ سے مکمل نجات حاصل کی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا : ”هَاجَرُوْا“ یعنی اپنا دین اور جان و مال بچانے کے لیے اپنا گھر بار اور رشتہ داروں کو چھوڑا۔ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ : اس آیت سے مہاجرین کی بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے جن میں ابو بکر، عمر، عثمان، علی، ابو عبیدہ بن جراح، طلحہ، زبیر اور بہت سے دوسرے صحابہ کرام ؓ شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب پر راضی ہو اور ہمیں ان کے ساتھ اٹھائے۔ قرآن خود ان کے آخرت میں فائز و سرخرو ہونے کی شہادت دے رہا ہے۔ معلوم ہوا کہ جو لوگ انھیں برا بھلا کہتے اور ان پر لعنت بھیجتے ہیں وہ خود لعنتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قولہ تعالیٰ : الذین امنوا یہ مبتدا ہونے کے سبب محل رفع میں ہے اور اس کی خبر اعظم درجۃ عنداللہ ہے۔ اور درجۃ بیان (اور تمیز) کو پانی پلانے کے سبب ایک درجہ اور رتبہ کا اندازہ لگایا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس پر خطاب کیا جو انہوں نے اپنے نفسوں کے بارے میں اندازہ لگایا اگرچہ وہ انداز مقرر کرنا غلطی اور خطا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اصحب اجنۃ یو مئذ خیر مستقرا (الفرقان :24) (اہل جنت کا اس دن بہت اچھا ٹھکانہ ہوگا) اور یہ بھی کہا گیا ہے : اعظم درجۃ، من کل ذی ررجۃ یعنی ان کا درجہ ہر صاحب درجہ سے زیادہ اور بلند رتبہ ہے۔ واولئک ھم الفآء زون اور یہی ہیں جس کے سبب کا میاب ہونے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–20

1:۔ مسلم وابوداود وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن حبان والطبرانی وابو الشیخ وابن مردویہ نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس تھا آپ کے صحابہ کی ایک جماعت میں انمیں سے ایک آدمی نے کہا مجھ کو کوئی پرواہ نہیں کہ میں اسلام قبول کرنے کے بعد حاجیوں کو پانی پلانے کے سوا کوئی عمل نہ کروں اور دوسرے نے کہا بلکہ مسجد حرام کو آباد کرنے کے سوا کوئی عمل کروں تیسرے نے کہا بلکہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا افضل ہے ان سب کاموں سے جو تم نے کہا حضرت عمر ؓ نے ان کو ڈانٹا اور فرمایا اپنی آواز کو رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس بلند نہ کرو اور یہ جمعہ کا دن تھا لیکن جب تم جمعہ (کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَلَّذِيْنَ [ جو لوگ ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَهَاجَرُوْا [ اور ہجرت کی ] وَجٰهَدُوْا [ اور جدوجہد کی ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ میں ] بِاَمْوَالِهِمْ [ اپنے مالوں سے [ وَاَنْفُسِهِمْ ۙ [ اور اپنی جانوں سے ] اَعْظَمُ [ (وہ) سب سے عظیم ہیں ] دَرَجَةً [ بلحاظ درجہ کے ] عِنْدَ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے پاس ] وَاُولٰۗىِٕكَ [ اور وہ لوگ ] هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ [ ہی کامیاب ہونے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مومن مہاجرین اور مجاہدین کو بشارت : اس کے بعد ایمان اور ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ ھَاجَرُوْا وَجٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ اَعْظَمُ دَرَجَۃً عِنْدَ اللّٰہِ ) (جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا درجہ کے اعتبار سے اللہ کے نزدیک یہ لوگ بہت بڑے ہیں، اور یہ لوگ ہی کامیاب ہیں)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–24

مشرکین عرب کے فخر اور ناز کا جواب اور اعمال فاضلہ کا بیان قال اللہ تعالیٰ ۔ ماکان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ عندہ اجر عظیم۔ (ربط): سورت کا آغاز مشرکین کی براءت اور بیزاری سے فرمایا بعد ازاں ان کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ اسی قابل ہیں کہ ان سے براءت اور بیزار اختیار کی جائے ان لوگوں کا خدا تعالیٰ کے یہاں کوئی مرتبہ نہیں۔ چونکہ یہ اعلان براءت ان کی اہانت اور تحقیر پر مبنی تھا اس لیے مشرکین مکہ نے اپنی فضیلت ثابت کرنے کے لیے بڑے فخر اور ناز سے یہ کہا کہ ہم بہت سی خاص حمیدہ اور افعال پسندیدہ کے حامل ہیں ہم سے براءت اور بیزاری کی کوئی وجہ نہیں ہم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 20–22

17: یہ ان صحابہ کرام کے لیے بشارت اخروی ہے جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں تن من دھن سے جہاد کیا ان کے حسب ذیل فضائل بیان کیے گئے۔ (1) وہ غیر مہاجرین اور غیر مجاہدین مومنوں سے افضل ہیں۔ (2) وہ آخرت میں کامیاب اور بامراد رہیں گے۔ (3) اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے۔ (4) اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جنات نعیم کا فیصلہ فرمادیا ہے جن کی ہر نعمت دائمی اور لازوال ہوگی اور وہ بھی ابد الآباد ان میں رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–22

ربط ِ آیات گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کے مشروع ہونے کی وجوہات بیان فرمائی تھیں ان میں سے بعض وجوہات وہ تھیں جو مشرکین کی طرف سے پیدا ہوئیں مثلا دین میں طعن کرنا اور اسے مٹانے کی کوشش کرنا ، عہدوپیمان کو توڑنا ، نبی کو اس کے گھر سے نکالنا اور جنگ میں پہل کرنا وغیرہ ، پھر اللہ تعالیٰ نے جہاد کا ایک سبب یہ بھی بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا امتحان لینا چاہتا ہے اور وہ اس بات کو ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ کون ہے جو جہاد میں بخوشی حصہ لیتا ہے اور کون ہے جو پیچھے رہتا ہے۔ مشرکین اور مساجد سورۃ ہذا کی ابتداء میں مشرکین کے ساتھ بیزاری اور جنگ کا اعلان کیا گیا تھا ( آیت) ” براء ۃ من اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ۝ 0 ۙ اَعْظَمُ دَرَجَۃً عِنْدَ اللہِ۝ 0 ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ۝ 20 هجر والمُهاجرَةُ في الأصل : مصارمة الغیر ومتارکته، من قوله عزّ وجلّ : وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهاجَرُوا وَجاهَدُوا[ الأنفال/ 74] ، وقوله : لِلْفُقَراءِ الْمُهاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيارِهِمْ وَأَمْوالِهِمْ [ الحشر/ 8] ، وقوله : وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهاجِراً إِلَى اللَّهِ [ النساء/ 100] ، فَلا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ أَوْلِياءَ حَتَّى يُهاجِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ النساء/ 89] فالظاهر منه الخروج من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–22

ترکیب : شاھدین حال ہے فاعل یعمروا سے ‘ ان یعمروا کان کا اسم للمشرکین خبر۔ فی النار ظرف مقدم ہے تخصیص کے لئے۔ من موصولہ آمن و معطوف تھا صلہ سب فاعل یعمر سقایۃ مصدر کا لعمارۃ و صحت الیاء لما کانت بعد ھاتاء التانیث والتقدیر اجعلتم اصحاب السقایۃ الخ مثل من امن الذین الخ مبتداء اعظم خبر۔ تفسیر : مکہ کے بت پرست قدیم سے خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے تھے اور ایام حج میں لوگوں کو پانی بھی پلایا کرتے تھے۔ اسلام کے مقابلہ میں وہ اپنی نیکیوں پر فخر کرتے تھے کہ ہم مجاور بیت اللہ اور اس کے خادم ہیں۔ ہم سے بڑھ کر خدا کے نزدیک کس کا رتبہ ہے ؟ پھر اس پر محمد ﷺ ہم سے لڑنے اور عہد تمام کردینے کا حکم دیتا ہے۔ چناچہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 20–22

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَھَاجَرُوْا وَجٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ لا اَعْظَمُ دَرَجَۃً عِنْدَاللّٰہِ ط وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفَآئِزُوْنَ یُبَشِّرُھُمْ رَبُّھُمْ بِرَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَرِضْوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّھُمْ فِیْھَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌ لا خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًاطاِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ اَجْرٌ عَظِیْمٌ (التوبۃ : 20 تا 22) (جو ایمان لائے اور جنھوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کیا ان کا درجہ اللہ کے ہاں بہت بڑا ہے اور وہی لوگ کامیاب وکامران ہیں۔ خوشخبری دیتا ہے ان کو ان کا رب اپنی رحمت اور خوشنودی کی اور ایسے باغوں کی جن…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–22

فہم القرآن ربط کلام : مسجد حرام کی تعمیر و ترقی اور حجاج کی خدمت کا ایمان اور کردار کے ساتھ موازنہ کرنے کے بعد حقیقی ایمان کے تقاضے بیان کیے گئے ہیں۔ ایمان صرف فکر اور عقیدہ کا نام نہیں یہ اس وقت تک مکمل اور اکمل نہیں ہوتا۔ جب تک اس کے تقاضے پورے نہ کیے جائیں۔ اس کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس پر لازم ہوجاتا ہے کہ وہ اس نظریے کی خاطر ہر اس بات اور عمل کو چھوڑ دے جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے۔ ہجرت کا حقیقی اور جامع مفہوم بیان کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ حقیقی مہاجر وہ ہے کہ جو ہر اس کام کو چھوڑ دے جس سے اللہ نے منع کیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ایمان ‘ ہجرت و جہاد مقبول ترین عمل ہیں جو جنت کا باعث ہیں : آیت 20: الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَھَاجَرُوْا وَجٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ اَعْظَمُ دَرَجَۃً عِنْدَ اللّٰہِ (جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کی اور جان ومال سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑے مرتبہ والے ہیں) اہل سقا یہ اور اہل تعمیر کے مقابلہ میں وَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْفَآپزُوْنَ (اور یہی لوگ کامیاب ہیں) نہ کہ تم کامیابی سے مخصوص ہو ان کی بجائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 20” الذین امنوا وھاجروا وجھدوا فی سبیل اللہ باموالھم وانفسھم اعظم درجۃ “ درجہ سے مراد فضیلت ہے ” عند اللہ “ ان لوگوں سے جو حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی تعمیر پر فخر کرتے ہیں ” واولئک ھم الفآئزون “ آگ سے نجات پانے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–22

17۔ 22۔ صحیح مسلم ابوداؤد صحیح ابن حبان تفسیر ابن ابی حاتم میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں قریش کے ستر آدمی جو گرفتار ہوئے جن میں حضرت عباس ؓ بھی تھے تو مسلمانوں نے ان ستر آدمیوں کے روبرو بت پرستی اور شرک کی مذمت بیان کی یہ مذمت سن کر حضرت عباس ؓ نے کہا کہ ہم بھی مکہ میں اچھے کاموں میں لگے ہوئے تھے مسجد حرام کو آباد رکھتے تھے حاجیوں کو پانی پلاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ بغیر خالص السلام کے یہ اچھے کام اللہ کے نزدیک کچھ قبول نہیں اس سے معلوم ہوا بغیر صفائی عقیدہ کے کوئی ظاہری عمل قبول نہیں ہوتا۔ یہ اچھے کام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 18–21

آیت نمبر ( 18) اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے ” مشرکوں کو زیبا نہیں “ یعنی مشرکین کے لائق اور ان کے لیے مناسب نہیں ” کہ آباد کریں وہ اللہ کی مسجدوں کو “ یعنی عبادات ‘ نماز اور مختلف انواع کی نیکوں کے ذریعے سے اللہ کی مساجد کو آباد کریں اور حال ان کا یہ ہے کہ وہ اپنی فطرت اور شہادت حال کے ذریعے سے اپنے کفر کا اقرار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر لوگوں کی بابت علم ہے کہ وہ کفر اور باطل پر ہیں۔” جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر ( اور عدم ایمان) کی گواہی دیتے ہیں۔ “ ایمان اعمال کی قبولیت کی شرط ہے ‘ تب وہ کیوں کر یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کہ مساجد کو آباد کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے اعمال کی بنیاد ہی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–22

مساجد اللہ پر تولیت صرف مسلمانوں کی ہو قول باری ہے (ما کان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ۔ مشرکین کا یہ کام نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے مجاور اور خادم بنیں) عمارۃ المسجد کے دو معنی ہیں۔ اول مسجد کی زیارت اور اس میں موجودگی یعنی اسے آباد کرنا، دوم مسجد کی تعمیر اور اس کے شکستہ حصوں کی مرمت و تجدید۔ اس لئے کہ جب کوئی زیارت کرے تو کہا جاتا ہے۔ اعتمر فلان (فلاں نے زیارت کی) اسی سے عمرہ کا لفظ ماخوذ ہے اس میں بیت اللہ کی زیارت ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص بکثرت مساجد میں آتا جاتا ہو اور وہاں وقت گزارتا ہو تو کہا جاتا ہے ’ دفلان من عمار المساجد “ (فلاں شخص مساجد کو آباد رکھنے والوں میں سے ہے) اسی طرح اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 20–21

46 اہل ایمان کے لیے سب سے بڑے درجے کی خوشخبری : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سچے ایمان والوں کیلئے اللہ تعالیٰ کے یہاں سب سے بڑا درجہ ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ ایمان لائے انہوں نے ہجرت اور جہاد کیا اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا و خوشنودی کے لیے ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے یہاں بہت بڑا درجہ ہے۔ سو ایسوں کا درجہ و مرتبہ بہت بڑا ہے۔ ان لوگوں کے مقابلے میں جو ان صفات سے محروم ہیں۔ اور پھر ان کا درجہ کتنا بڑا ہے اس کی تحدید نہیں فرمائی گئی کہ اس کی عظمت اور بڑائی کو اللہ پاک ہی جانتا ہے ۔ جل جلالہ وعم نوالہ ۔ سو سچے ایمان والوں کا درجہ اللہ تعالیٰ کے یہاں بہت بڑا ہے۔ اور جتنا کوئی ایمان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 20–23

ایمان، ہجرت اور جہاد کی فضیلت، ایمان کی تکمیل کب ؟ تشریح : مطلب یہ ہے کہ بہترین عمل ارکان اسلام کی پابندی، بہترین ذکر، اللہ کا ذکر اور بہترین دوست اللہ ہے جیسا کہ فرمایا : ” خبردار ! اللہ کے دوستوں کو غم لاحق ہوگا اور نہ کوئی پریشانی۔ “ ( یونس آیت : 62) پھر جنت کا ذکر اور تعریف اللہ یوں فرماتا ہے : ” نیک لوگوں کا صلہ انکے رب کے پاس ہمیشہ رہنے کی جنتیں ہیں۔ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی۔ وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے یہ اس شخص کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔ “ (البینہ آیت : 8) جب اس جنت کا تصور کرتے ہیں تو بےاختیار یہ دعا منہ سے نکلتی ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 17–24

آیات 17 تا 24 اسرار و معارف فتح مکہ کے بعد اگر چہ بیت اللہ کو بتوں سے پاک کردیا گیا تھا مگر مشرکین اپنی رسومات تو اپنے ہی طور پر ادا کرتے تھے اور یہ ضروری تھا کہ بیت اللہ کو ان خرافات سے بھی پاک کیا جاتا مگر اس میں رکاوٹ یہ تھی کہ بعض قبائل کے ساتھ مسلمانوں کے معادہ صلح کی مدت باقی تھی اور انھوں نے عہد شکنی بھی نہ کی تھی لہٰذا ایک سال تک مہلت دی گئی اس میں وہ مدت بھی گزرگئی اور کوئی نیا معاہدہ نہ کیا گیا بلکہ 9 ھجری؁ کے حج میں آپ ﷺ نے اعلان کرادیا کہ آئندہ کوئی مشرک بیت اللہ کی حدود میں داخل نہ ہوگا اور نہ کافر انہ رسوم ادا کرسکے گا۔ مشرکین اپنے زعم باطل میں بتوں کی پوجا اور عمارت کی تعمیر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 رسول اللہ ﷺ کی رفاقت میں اپنے گھر بار اور رشتہ داروں کو چھوڑا۔ (وحیدی ) 6 اس آیت میں مہاجرین کی بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے جن میں سے حضرت ابوبکر ؓ ، عمر ؓ ، عثمان ؓ ، علی ؓ ، ابو عبیدہ ؓ ، بن جراح، طلحہٰ ؓ زبیر ؓ اروبہت سے دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں، قرآن خود ان کے آخرت میں فا ئز وسر خرو ہونے کی شہادت دے رہا ہے معلوم ہوا کہ جو لوگ انہیں بر بھلا کہتے اور ان پر لعنت بھیجتے ہیں وہ خود لعنتی اور نامراد ہیں۔ (وحیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 20–22

(9:20) اعظم درجۃ عند اللہ۔ ای اعظم درجۃ من اہل السقایۃ والعمارۃ عند اللہ۔ یعنی اللہ کے نزدیک ایمان والوں۔ ہجرت کرنے والوں اور اپنے جان و مال سے جہاد کرنے والوں کو درجہ اہل سقاء و اہل عمارت سے بہت بڑا ہے۔ یبشرہم۔ وہ ان کو خوشخبری دیتا ہے تبشیر (تفعیل) سے مضارع واحد مذکر غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ رضوان۔ رضا مندی، خوشنودی۔ مرضی۔ رضا۔ رضی یرضی کا مصدر ہے رضوان اور جنت۔ بوجہ ب حرف جر کے مجرور ہیں فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث جنت کی طرف راجع ہے۔ نعیم۔ اسم نکرہ۔ نعمت۔ راعت۔ نعمت کثیرہ۔ فی جنت النعیم (156:12) نعمتوں کی بہشت میں اور جنت النعیم (21:8) نعمتوں کے باغ میں ۔ مقیم۔ اسم فاعل واحد…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–22

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 22 ان یعمروا (یہ کہ وہ آباد کریں) شھدین (گواہ ہیں (گواہی دینے والے) حبطت ضائع ہوگئی (ضائے ہوگئے) النار (آگ) لم یخش نہیں ڈرتا (نہیں ڈرا) عسی (شاید کہ، امید ہے کہ) المھتدین (ہدایت پانے والے ) اجعلتم (کیا تم نے بنا لیا ہے سقایۃ (پانی پلانا) عمارۃ (تعمیر کرنا، آباد کرنا، بسانا) لایستون (دونوں برابر نہیں ہیں) لایھدی (ہدایت نہیں دیتا ) اعظم (بہت بڑا) الفآئزون (کامیاب ہونے والے) رضوان (خوشنودی) نعیم مقیم (ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ) ابداً (ہمیشہ) اجر عظیم (بہت بڑا اجر، بدلہ) تشریح :- آیت نمبر 17 تا 22 فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے خانہ کعبہ اور مسجد حرام سے بتوں کو ہٹوا دیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–22

جہاد سے حضرت عباس ؓ کی بحث، شرک کی وجہ سے نیک عمل رائیگاں ہوجاتے ہیں شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں قریش کے ستر آدمی جو گرفتار ہوئے اور ان میں حضور ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ بھی تھے۔ تو مسلمانوں نے ان ستر آدمیوں کے روبرو بت پرستی اور شرک کی مذمت بیان کی۔ یہ مذمت سن کر حضرت عباس ؓ نے کہا :'' ہم بھی مکہ میں اچھے کاموں میں لگے ہوئے تھے۔ مسجد حرام کو آباد رکھتے تھے حاجیوں کو پانی پلاتے تھے ''۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمادیا کہ بغیر اسلام خالص کے یہ اچھے کام اللہ کے نزدیک کچھ قبول نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بغیر صفائی عقیدہ کے کوئی ظاہری عمل قبول نہیں ہوتا۔ یہ بت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–23

[10] کیونکہ خانہ کعبہ مشرکین کے نزدیک بھی مقدس تھا، اس کی خدمت اور اس کے زائرین کی خدمت بھی سرداران قریش نے اپنے ذمے لے لی تھی اور اس پر فخر کرتے تھے۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–21

مفاخر قریش : (ف 1) قریش مکہ مسلمانوں سے فخریہ کہتے ، ہم تم سے اچھے ہیں ، بیت اللہ کے خادم ہیں ، حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں ، ان کی مہمان نوازی کرتے رہیں ، اور بیت اللہ کی آبادی کا خیال رکھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان مفاخر کا جواب دیا ہے کہ جب تک ایمان نہ ہو ، یہ فضائل قبول نہیں ، جب تم بناء کعبہ کے مقصد سے ہیں نا آشنا ہو تو تمہیں کیا فضیلت حاصل ہوسکتی ہے ، افضل وہ ہیں جو ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہیں ، جن کے دلوں میں ایمان جوش و حرارت ہے ، جو اس کے نام پر دشمنوں سے لڑ سکتے ہیں ، نہ وہ لوگ جو چھوٹی چھوٹی خدمات پر خوش ہیں ، اور روح دین سے بیگانہ ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

20 جو لوگ ایمان لائے اور اللہ کے لئے ترکِ وطن کیا اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد بھی کیا تو یہ لوگ درجہ اور مرتبہ کے اعتبار سے خدا کے نزدیک بہت بڑے ہیں اور یہی لوگ اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب ہونے والے ہیں۔ یعنی مہاجرین اور مجاہدین کا مقابلہ کہاں ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کے نزدیک درجات میں بڑے کون لوگ ہیں ؟ 31: اس آیت میں ایک بار پھر واضح کردیا کہ اللہ کے نزدیک بزرگی و فضیلت کا معیار کیا ہے ؟ فرمایا سب سے بڑا درجہ انہی کا ہے جنہوں نے سچائی کی راہ میں ہر طرح کی قربانیاں کیں اور ایمان و عمل کی آزمائش میں پورے اترے ، تمہارے گھڑے ہوئے تقدس و بزرگی کی مناسب اور رواجی برائیاں اور بزرگیاں اللہ کے نزدیک کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ آج کل مسلمانوں کی عام مذہبی ذہنیت کس درجہ اسلام سے دور ہوگئی ہے۔ جاہلیت عرب کی طرح وہ بھی رواجی نیکیوں کو حقیقی اسلامی نیکیوں پر ترجیح دینے لگے ہیں ایک فاسق و فاجر امیر محرم میں سبیل لگا دیتا ہے یا ربیع الاول میں دھو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Verse 20 enlarges upon the subject initiated with the words: لَا يَسْتَوُونَ (la yastawun: they are not equal) in the previous verse (19) where it was said that the believing Mujahidin and those engaged only in maintaining the masjid and serving water to pilgrims are not equal. This was enlarged by saying: الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُ‌وا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَ‌جَةً عِندَ اللَّـهِ ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ ﴿20﴾ (those who believed and emigrated and took up jihad in the way of Allah, with their wealth and lives, are greater in rank…

Read the full tafseer →