Explained with ayahs 19–22
سب سے بری عبادت اللہ کی راہ میں جہاد ہے
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کافروں کا قول تھا کہ بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کے پانی پلانے کی سعادت ایمان وجہاد سے بہتر ہے ہم چونکہ یہ دونوں خدمتیں انجام دے رہے ہیں اس لیے ہم سے بہتر کوئی نہیں۔ اللہ نے ان کے فخر و غرور اور حق سے تکبر اور منہ پھیرنے کو بےنقاب کیا کہ میری آیتوں کی تمہارے سامنے تلاوت ہوتے ہوئے تم ان سے بےپرواہی سے منہ موڑ کر اپنی بات چیت میں مشغول رہتے ہو۔ پس تمہارا گمان بیجا تمہارا غرور غلط، تمہارا فخر نامناسب ہے یوں بھی اللہ کے ساتھ ایمان اور اس کی راہ میں جہاد بہت بڑی چیز ہے لیکن تمہارے مقابلے میں تو وہ اور بھی بڑی چیز ہے کیونکہ تمہاری تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
سورة التَّوْبَة 21
یعنی کسی زیارت گاہ کی سجادہ نشینی، مجاوری اور چند نمائشی مذہبی اعمال کی بجا آوری، جس پر دنیا کے سطح بیں لوگ بالعموم شرف اور تقدس کا مدار رکھتے ہیں، خدا کے نزدیک کوئی قدر و منزلت نہیں رکھتی۔ اصلی قدر و قیمت ایمان اور راہ خدا میں قربانی کی ہے۔ ان صفات کا جو شخص بھی حامل ہو وہ قیمتی آدمی ہے خواہ وہ کسی اونچے خاندان سے تعلق نہ رکھتا ہو اور کسی قسم کے امتیازی طرّے اس کو لگے ہوئے نہ ہوں۔ لیکن جو لوگ ان صفات سے خالی ہیں وہ محض اس لیے کہ بزرگ زادے ہیں۔ سجادہ نشینی ان کے خاندان میں مدتوں سے چلی آرہی ہے اور خاص خاص موقعوں پر کچھ مذہبی مراسم کی نمائش وہ بڑی شان کے ساتھ کردیا کرتے ہیں،…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
کیا تم لوگوں نے حجاج کے پانی پلانے کو اور مسجد حرام کے آباد رکھنے کو اس شخص (کے عمل) کی برابر قرار دے لیا جو کہ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لایا ہو، اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہو (وہ عمل ایمان اور جہاد ہے، یعنی یہ عمل برابر نہیں اور جب اعمال برابر نہیں تو) یہ (عامل) لوگ (بھی باہم) برابر نہیں اللہ کے نزدیک (غرض عمل عمل باہم اور عامل عامل باہم برابر نہیں مقصود بقرینہ سیاق یہ ہے کہ ایمان اور جہاد میں سے ہر واحد افضل ہے، سقایہ اور عمارت کے ہر واحد سے یعنی ایمان بھی دونوں سے افضل ہے، اور اس سے جواب ہوگیا مشرکین کا کہ ان میں ایمان نہ تھا، اور جہاد بھی دونوں سے افضل ہے، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
تفسیر آیات 17۔ 22:۔
آیت 17: مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ ۭاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ښ وَفِي النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ۔
جزوی نیکی اصل مقصود کی قائم مقام نہیں ہوسکتی : اوپر کے پیرے میں مشرکین قریش کے ان جرائم کی طرف اشارے کیے گئے ہیں جو ان کو اعلان براءت اور جنگ کا سزاوار قرار دیتے ہیں۔ اب یہ تولیت بیت اللہ کے سلسلہ میں ان کی بعض خدمات کا حوالہ دے کر یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ ان کی یہ خدمات بالکل بےحقیقت اور بےوزن ہیں۔ انکی بنیاد پر یہ ہرگز اس کے بات کے سزاوار نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی رعایت کی جائے۔ کوئی خدمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
19۔ 1 مشرکین حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی دیکھ بھال کا کام جو کرتے تھے، اس پر انہیں بڑا فخر تھا اور اس کے مقابلے میں وہ ایمان و جہاد کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے جس کا اہتمام مسلمانوں کے اندر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تم سقایت حاج اور عمارت مسجد حرام کو ایمان باللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کے برابر سمجھتے ہو ؟ یاد رکھو اللہ کے نزدیک یہ برابر نہیں، بلکہ مشرک کا کوئی عمل بھی قبول نہیں، چاہے وہ صورۃً خیر ہی ہو۔ جیسا کہ پہلی آیت کے جملے (حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ) 2۔ البقرۃ :217) میں واضح کیا جا چکا ہے۔ بعض روایت میں اس کا سبب نزول مسلمانوں کی آپس میں ایک گفتگو کو بتلایا گیا ہے کہ ایک روز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
16: اس آیت کریمہ نے یہ اصول بھی بتادیا ہے کہ تمام نیک کام ایک درجے کے نہیں ہوتے، اگر کوئی شخص فرائض تو ادا نہ کرے، اور نفلی عبادتوں میں لگا رہے تو یہ کوئی نیکی نہیں ہے، حاجیوں کو پانی پلانا بیشک ایک نیک کام ہے، مگر وہ نفلی حیثیت رکھتا ہے، اور مسجد حرام کی دیکھ بھال بھی بعض حیثیتوں سے فرض کفایہ اور بعض حیثیتوں سے نفلی عبادت ہے، اس کے مقابلے میں ایمان انسان کی نجات کے لئے بنیادی شرط ہے، اور جہاد کبھی فرض عین اور کبھی فرض کفایہ، لہذا کسی کو صرف ان خدمات کی وجہ سے کسی مومن پر فوقیت حاصل نہیں ہوسکتی۔
Read the full tafseer →اور مسلمانوں اور مشرکوں دونوں کے سامنے یہ اصول رکھا جاتا ہے۔ لہذا وہ لوگ جو جاہلیت میں خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے تھے اور اس میں حاجیوں کو پانی پلاتے تھے ، لیکن ان کے عقائد خالص نہ تھے اور انہوں نے نیک اعمال اور جہاد فی سبیل اللہ میں حصہ بھی نہیں لیا اور لوگ جنہوں نے بیت اللہ کی تعمیر میں حصہ لیا اور جن کا ایمان صحیح کیا اور اس صحیح ایمان پر انہوں نے اچھے اعمال بھی کیے اور اللہ کی راہ میں جہاد بھی کیا باہم برابر نہیں ہوسکتے۔
اَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاۗجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰهَدَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰه ِ ۭ لَا يَسْتَوٗنَ عِنْدَ…
Read the full tafseer →2 مشرکین مکہ کو اس پر بڑا فخر و ناز تھا کہ ہم حاجیوں کی خدمت کرتے، انہیں پانی پلاتے، کھانا کپڑا دیتے اور مسجد حرام کی مرمت یا کسوۃ کعبہ یا تیل بتی وغیرہ کا انتظام کرتے ہیں۔ اگر مسلمان اپنے جہاد و ہجرت وغیرہ پر نازاں ہیں تو ہمارے پاس عبادات کا یہ ذخیرہ موجود ہے۔ ایک زمانہ میں حضرت عباس ؓ نے بھی حضرت علی ؓ کے مقابلہ میں اسی طرح کی بحث کی تھی، بلکہ صحیح مسلم میں ہے کہ ایک دفعہ چند مسلمان آپس میں جھگڑ رہے تھے، کوئی کہتا تھا کہ میرے نزدیک اسلام لانے کے بعد حاجیوں کو پانی پلانے سے زیادہ کوئی عبادت نہیں۔ دوسرے نے کہا میرے خیال میں اسلام کے بعد بہترین عمل مسجد حرام کی خدمت ہے، (مثلاً جھاڑو دینا یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
آیت 19 اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰہَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط
مشرکین مکہ اس بات پر بہت نازاں ہیں کہ انہوں نے بیت اللہ کو آباد رکھا ہوا ہے اور وہ حاجیوں کو پانی پلانے جیسا کار خیر سر انجام دیتے ہیں ‘ تو کیا ان کے یہ امور ایمان باللہ ‘ ایمان بالآ خرت اور جہاد فی سبیل اللہ کے برابر ہوجائیں گے ؟
Read the full tafseer →18 جہاد کے مسائل :۔ اس آیت کے شان نزول سے متعلق درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے :۔
سیدنا نعمان بن بشیر کہتے ہیں کہ میں آپ کے منبر کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص کہنے لگا مجھے کوئی پروا نہیں اگر میں اسلام لانے کے بعد کوئی عمل نہ کروں سوائے حاجیوں کو پانی پلانے کے۔ دوسرے نے کہا مجھے کوئی پروا نہیں اگر میں اسلام لانے کے بعد کوئی عمل نہ کروں سوائے مسجد حرام کی تعمیر و آبادی کے۔ تیسرے نے کہا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ان کاموں سے افضل ہے جن کا تم ذکر کر رہے ہو۔ سیدنا عمر نے ڈانٹا کہ منبر کے پاس اپنی آوازیں بلند نہ کرو۔ نعمان کہتے ہیں کہ وہ جمعہ کا دن تھا۔ پھر سیدنا عمر نے کہا کہ میں جمعہ کی نماز کے بعد…
Read the full tafseer →31 ۔ کہ جس طرح عمل عمل برابر نہیں ہوتے اسی طرح عامل عامل بھی برابر نہیں ہوسکتے، کہاں ایمان صحیح وکامل اور جہاد فی سبیل اللہ اور کہاں بلااعتقاد صحیح محض سقایۃ حجاج و خدمت حرم ! کہاں مومن کامل ومجاہد اور کہاں غیر مومن ساقی حجاج ! کعبہ چونکہ مشرکین کے نزدیک بھی مقدس تھا اس کی خدمت اور اس کے زائروں کی خدمت سرداران قریش نے بھی اپنے ذمہ لے لی تھی۔ روایتوں میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عباس ؓ بن المطلب نے اپنے زمانہ کفر میں اور شیبہ نے حضرت علی ؓ کے مقابلہ میں اپنی خدمات کعبہ وزائرین کعبہ پر فخر کیا تھا۔ یہ آیت اسی موقع پر نازل ہوئی (آیت) ” القوم الظلمین “۔ یعنی اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے یا مشرکین۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
شان نزول : اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَاجَ (الآیة) مشرکین حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی دیکھ بھال کا جو کام کرتے تھے اس پر انہیں بڑا فخر تھا، اس کے مقابلہ میں وہ ایمان و جہاد کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے جس کا اہتمام مسلمانوں کے اندر تھا، اس غلط فہمی اور زعم باطل کو رد کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اَجَعَلتم سقایة الحاج الخ کیا تم سقایة حاج اور عمارت مسجد حرام کا ایمان باللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کے برابر سمجھتے ہو ؟ یاد رکھو یہ اللہ کے نزدیک برابر نہیں بلکہ مشرک کا کوئی عمل بھی عند اللہ مقبول نہیں۔
اس آیت کے شان نزول کے سلسلہ میں تین واقعات نقل کئے گئے ہیں۔
پہلا واقعہ : ایک روایت…
Read the full tafseer →اجعلتم سقایۃ الحاج وعمارۃ المسجد الحرام کمن امن باللہ والیوم الاخر وجاھد فی سبیل اللہ لا یستون عند اللہ وا اللہ لا یھدی القوم الظلمین۔ کیا تم لوگوں نے حاجیوں کے پانی پلانے کو اور مسجد حرام کے آباد رکھنے کو اس شخص کے برابر قرار دے لیا ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لایا ہو اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہو۔ یہ سب برابر نہیں اللہ کے نزدیک اور جو لوگ بےانصاف ہیں ‘ اللہ ان کو سمجھ نہیں دیتا۔
فریابی نے ابن سرین کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت علی بن ابی طالب مکہ پہنچے اور حضرت عباس سے فرمایا : چچا ! آپ ہجرت کر کے رسول اللہ ﷺ سے جا کر کیوں نہیں مل جاتے (کہ دینی اور دنیوی سعادت حاصل ہو)…
Read the full tafseer →(19) یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جسے بدر کے دن قید کرلیا گیا تھا اس نے حضرت علی ؓ یا بدرین میں سے کسی پر فخریہ یہ اظہار کیا کہ ہم حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور مسجد حرام کو آباد کرتے ہیں اور فلاں فلاں کام کرتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تم نے حجاج کو پانی پلانے کو اس شخص یعنی بدری کے عمل کے برابر قرار دے لیا جو کہ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لایا ہو اور اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہو، یہ اعمال ثواب اور (وہ حضرات) اطاعت خداوندی میں برابر نہیں ہوسکتے اور اللہ تعالیٰ مشرکوں کو جو کہ بذات خود اس کے اہل نہیں ہوتے اپنے دین کی سمجھ نہیں دیتا۔
شان نزول : (آیت) ”اجعلتم سقایۃ…
Read the full tafseer →اَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاۗجِّ : اس آیت کے مخاطب مشرکین اور مسلمان دونوں ہیں، کیونکہ مشرکین کعبہ کی خدمت، تولیت اور حاجیوں کو شربت اور پانی پلانے پر بہت فخر کرتے تھے اور بعض مسلمان بھی اس کو سب سے اعلیٰ عمل سمجھتے تھے۔ نعمان بن بشیر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے منبر کے پاس آپ کے اصحاب کی ایک جماعت میں بیٹھا ہوا تھا، تو ایک آدمی نے کہا کہ اسلام لانے کے بعد حاجیوں کو پانی پلانے کے علاوہ میں کوئی کام نہ کروں تو مجھے کچھ پروا نہیں۔ دوسرے نے کہا، بلکہ مسجد حرام کی آباد کاری (افضل ہے)۔ ایک اور نے کہا، بلکہ جہاد فی سبیل اللہ اس سے بہتر ہے جو تم کہہ رہے ہو۔ تو عمر ؓ نے انھیں ڈانٹا اور فرمایا کہ…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : اجعلتم سقایۃ احآ ج عربی میں تقدیر یہ ہے : اجعلتم اصحاب سقایۃ الحاج و اھل سقایۃ الحاج، مثل من باللہ و جاھد فی سبیلہ (کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے والوں کو ان کی مثل بنا لیا ہے جو اللہ کے ساتھ ایمان لے آیا اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا) اور صحیح یہ کہ من امن میں حذف کو مقدر مانا جائے یعنی اجعلتم عمل سقی الحجاج کعمل من امن (کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے کے عمل کو ایمان کی مثل جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان لیا ہے ) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ تقدیر کلام ہے کل ایمان من آمن (یعنی اس کے ایمان کی مثل جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان لایا) السقایۃ یہ مصدر ہے جیسا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
1:۔ مسلم وابوداود وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن حبان والطبرانی وابو الشیخ وابن مردویہ نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس تھا آپ کے صحابہ کی ایک جماعت میں انمیں سے ایک آدمی نے کہا مجھ کو کوئی پرواہ نہیں کہ میں اسلام قبول کرنے کے بعد حاجیوں کو پانی پلانے کے سوا کوئی عمل نہ کروں اور دوسرے نے کہا بلکہ مسجد حرام کو آباد کرنے کے سوا کوئی عمل کروں تیسرے نے کہا بلکہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا افضل ہے ان سب کاموں سے جو تم نے کہا حضرت عمر ؓ نے ان کو ڈانٹا اور فرمایا اپنی آواز کو رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس بلند نہ کرو اور یہ جمعہ کا دن تھا لیکن جب تم جمعہ (کی…
Read the full tafseer →اَ [ کیا ] جَعَلْتُمْ [ تم لوگوں نے بنایا ] سِقَايَةَ الْحَاۗجِّ [ حاجیوں کی سبیل کو ] وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ [ اور مسجد حرام کی آبادی کو ] كَمَنْ [ اس کے جیسا جو ] اٰمَنَ [ جو ایمان لایا ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ [ اور آخری دن پر ] وَجٰهَدَ [ اور اس نے جدوجہد کی ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰه ِ ۭ [ اللہ کی راہ میں ] لَا يَسْتَوٗنَ [ اور برابر نہیں ہوتے ] عِنْدَ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے پاس ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] لَا يَهْدِي [ ہدایت نہیں دیتا ] الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ : ظالم لوگوں کو ]
ترکیب : (آیت ۔ 19) الحاج پر لام جنس ہے ۔ اس لیے ترجمہ جمع میں ہوگا ۔
نوٹ ۔ 1: صحیح…
Read the full tafseer →حجاج کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا ایمان اور جہاد کے برابر نہیں :
پھر فرمایا (اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ) (الآیۃ) اس کے بارے میں دو سبب نزول نقل کیے گئے ہیں۔ ان میں ایک تو وہی ہے جو پہلے مذکور ہوا کہ جب بدر میں مشرکین کو قید کیا جن میں عباس بن عبدالمطلب بھی تھے اور عباس کو کفر اختیار کرنے پر عار دلائی گئی تو انہوں نے کہا کہ اگر تم ہم سے اسلام میں اور ہجرت میں اور جہاد میں آگے بڑھ گئے تو ہم بھی تو مسجد حرام کو آباد کرتے ہیں اور حجاج کو پانی پلاتے ہیں اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔ (معالم التنزیل ص 275 ج 2)
مطلب یہ ہے کہ کیا حاجیوں کو پانی پلانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–24
مشرکین عرب کے فخر اور ناز کا جواب اور اعمال فاضلہ کا بیان
قال اللہ تعالیٰ ۔ ماکان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ عندہ اجر عظیم۔
(ربط): سورت کا آغاز مشرکین کی براءت اور بیزاری سے فرمایا بعد ازاں ان کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ اسی قابل ہیں کہ ان سے براءت اور بیزار اختیار کی جائے ان لوگوں کا خدا تعالیٰ کے یہاں کوئی مرتبہ نہیں۔ چونکہ یہ اعلان براءت ان کی اہانت اور تحقیر پر مبنی تھا اس لیے مشرکین مکہ نے اپنی فضیلت ثابت کرنے کے لیے بڑے فخر اور ناز سے یہ کہا کہ ہم بہت سی خاص حمیدہ اور افعال پسندیدہ کے حامل ہیں ہم سے براءت اور بیزاری کی کوئی وجہ نہیں ہم…
Read the full tafseer →16: خطاب مشرکین سے ہے یعنی ایک وہ شخص ہے جو دل و جان سے ایمان لایا اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کی اور ایک وہ ہے جو بحالت شرک حاجیوں کو پانی پلاتا اور بیت اللہ کی تعمیر کرتا ہے یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ مومن کے تمام اعمال عنداللہ مقبول ہیں اور مشرک کے تمام اعمال مردود اور رائیگاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
ربط ِ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کے مشروع ہونے کی وجوہات بیان فرمائی تھیں ان میں سے بعض وجوہات وہ تھیں جو مشرکین کی طرف سے پیدا ہوئیں مثلا دین میں طعن کرنا اور اسے مٹانے کی کوشش کرنا ، عہدوپیمان کو توڑنا ، نبی کو اس کے گھر سے نکالنا اور جنگ میں پہل کرنا وغیرہ ، پھر اللہ تعالیٰ نے جہاد کا ایک سبب یہ بھی بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا امتحان لینا چاہتا ہے اور وہ اس بات کو ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ کون ہے جو جہاد میں بخوشی حصہ لیتا ہے اور کون ہے جو پیچھے رہتا ہے۔
مشرکین اور مساجد
سورۃ ہذا کی ابتداء میں مشرکین کے ساتھ بیزاری اور جنگ کا اعلان کیا گیا تھا ( آیت) ” براء ۃ من اللہ…
Read the full tafseer →اَجَعَلْتُمْ سِقَايَۃَ الْحَاۗجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰہَدَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ 0 ۭ لَا يَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللہِ 0 ۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِـمِيْنَ 19 ۘ
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
سقاية
ما يجعل فيه ما يسقی، وأسقیتک جلدا : أعطیتکه لتجعله سقاء، وقوله تعالی:
جَعَلَ السِّقايَةَ فِي رَحْلِ أَخِيهِ [يوسف/ 70] ، فهو المسمّى صواع الملک، فتسمیته السِّقَايَةَ تنبيها أنه يسقی به،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
ترکیب : شاھدین حال ہے فاعل یعمروا سے ‘ ان یعمروا کان کا اسم للمشرکین خبر۔ فی النار ظرف مقدم ہے تخصیص کے لئے۔ من موصولہ آمن و معطوف تھا صلہ سب فاعل یعمر سقایۃ مصدر کا لعمارۃ و صحت الیاء لما کانت بعد ھاتاء التانیث والتقدیر اجعلتم اصحاب السقایۃ الخ مثل من امن الذین الخ مبتداء اعظم خبر۔
تفسیر : مکہ کے بت پرست قدیم سے خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے تھے اور ایام حج میں لوگوں کو پانی بھی پلایا کرتے تھے۔ اسلام کے مقابلہ میں وہ اپنی نیکیوں پر فخر کرتے تھے کہ ہم مجاور بیت اللہ اور اس کے خادم ہیں۔ ہم سے بڑھ کر خدا کے نزدیک کس کا رتبہ ہے ؟ پھر اس پر محمد ﷺ ہم سے لڑنے اور عہد تمام کردینے کا حکم دیتا ہے۔ چناچہ…
Read the full tafseer →اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَعِمَارَۃَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِوَجٰھَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَاللّٰہِ ط وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ م (التوبۃ : 19)
(کیا تم نے کردیا ہے حاجیوں کا پانی پلانا اور مسجد حرام کا بسانا اس شخص کے برابر جو ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور جہاد کیا اللہ کے راستے میں، یہ برابر نہیں اللہ کے نزدیک اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ )
ایک خوش فہمی کا ازالہ
میں اس سے پہلے عرض کرچکا ہوں کہ قریش کے فخر و امتیاز کا سب سے بڑا سرمایہ بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کی دیکھ بھال تھی۔…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ ہر قسم کے جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود سمجھتے تھے کہ وہ حرم کے موروثی وارث اور حجاج کرام کے خدام ہیں اس لیے ہماری تولیت کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ اس پر مؤاخذہ کرتے ہوئے حرم کے متولی کے اوصاف کا ذکر ضروری سمجھا گیا ہے۔
مسجد حرام اور دیگر مساجد کی تولیت کا استحقاق رکھنے والوں کے اوصاف بیان کرنے کے بعد مشرکین مکہ کے حوالے سے واضح کیا جا رہا ہے کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ حجاج کرام کی خدمت کرنا، انھیں زمزم پلانا، مسجد حرام کی تولیت اور تعمیر کرنا نیک کام ہیں۔ بیشک یہ عظیم کام ہیں لیکن ایمان باللہ، ایمان بالآخرت اور جہاد فی سبیل اللہ کے برابر نہیں ہوسکتے۔ مسجد حرام کی…
Read the full tafseer →کفر کے ہوتے ہوئے تعمیر مسجد ‘ سقایہ حجاج بےوزن اعمال ہیں :
آیت 19: اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ ٰامَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰھَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ لَایَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (کیا تم نے حجاج کے پانی پلانے کو اور مسجد حرام کے آباد رکھنے کو اس شخص کے برابر قرار دے لیا ہے جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لایا اور اس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا ہو۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک برابر نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ بےانصاف لوگوں کو سمجھ نہیں دیتا) السقایہ۔ العمارۃ۔ یہ دونوں مصدر…
Read the full tafseer →(آیت 19)
آیت کا شان نزول
تفسیر 19” اجعلتم سقایۃ الحاج “ نعمان بن بشیر ؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس تھا کہ ایک شخص نے کہا کہ حاجیوں کو پانی پلانے کے بعد مجھے یہ پرواہ نہیں کہ میں کوئی عمل نہ کروں اور دوسرے نے کہا کہ مجھے پرواہ نہیں کہ کوئی عمل نہ کروں مسجد حرام کی تعمیر کے بعد اور تیسرے نے کہا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ان دونوں عملوں سے افضل ہے جو تم نے کہے تو حضرت عمر ؓ نے ان کو ڈانٹا اور فرمایا کہ تم اپنی آوازیں رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس بلند نہ کرو وہ جمعہ کا دن تھا لیکن جب میں نما زپڑھ کر حضور ﷺ کی مجلس میں جائوں گا تو اس بارے میں پوچھوں گا جس میں تمہارا اختلاف ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
17۔ 22۔ صحیح مسلم ابوداؤد صحیح ابن حبان تفسیر ابن ابی حاتم میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں قریش کے ستر آدمی جو گرفتار ہوئے جن میں حضرت عباس ؓ بھی تھے تو مسلمانوں نے ان ستر آدمیوں کے روبرو بت پرستی اور شرک کی مذمت بیان کی یہ مذمت سن کر حضرت عباس ؓ نے کہا کہ ہم بھی مکہ میں اچھے کاموں میں لگے ہوئے تھے مسجد حرام کو آباد رکھتے تھے حاجیوں کو پانی پلاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ بغیر خالص السلام کے یہ اچھے کام اللہ کے نزدیک کچھ قبول نہیں اس سے معلوم ہوا بغیر صفائی عقیدہ کے کوئی ظاہری عمل قبول نہیں ہوتا۔ یہ اچھے کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
آیت نمبر ( 18)
اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے ” مشرکوں کو زیبا نہیں “ یعنی مشرکین کے لائق اور ان کے لیے مناسب نہیں ” کہ آباد کریں وہ اللہ کی مسجدوں کو “ یعنی عبادات ‘ نماز اور مختلف انواع کی نیکوں کے ذریعے سے اللہ کی مساجد کو آباد کریں اور حال ان کا یہ ہے کہ وہ اپنی فطرت اور شہادت حال کے ذریعے سے اپنے کفر کا اقرار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر لوگوں کی بابت علم ہے کہ وہ کفر اور باطل پر ہیں۔” جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر ( اور عدم ایمان) کی گواہی دیتے ہیں۔ “ ایمان اعمال کی قبولیت کی شرط ہے ‘ تب وہ کیوں کر یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کہ مساجد کو آباد کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے اعمال کی بنیاد ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
مساجد اللہ پر تولیت صرف مسلمانوں کی ہو
قول باری ہے (ما کان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ۔ مشرکین کا یہ کام نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے مجاور اور خادم بنیں) عمارۃ المسجد کے دو معنی ہیں۔ اول مسجد کی زیارت اور اس میں موجودگی یعنی اسے آباد کرنا، دوم مسجد کی تعمیر اور اس کے شکستہ حصوں کی مرمت و تجدید۔ اس لئے کہ جب کوئی زیارت کرے تو کہا جاتا ہے۔ اعتمر فلان (فلاں نے زیارت کی) اسی سے عمرہ کا لفظ ماخوذ ہے اس میں بیت اللہ کی زیارت ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص بکثرت مساجد میں آتا جاتا ہو اور وہاں وقت گزارتا ہو تو کہا جاتا ہے ’ دفلان من عمار المساجد “ (فلاں شخص مساجد کو آباد رکھنے والوں میں سے ہے) اسی طرح اگر…
Read the full tafseer →44 اعمال ایمان کا بدل نہیں ہوسکتے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اعمال ایمان کا بدل نہیں ہوسکتے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور استفہام انکاری کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے [ اے مشرکو ! ] حاجیوں کے پانی پلانی کو اور مسجد حرام کی آبادکاری یعنی اس کے مجاور وخادم بننے کو اس شخص کے برابر ٹھہرا رکھا ہے جو ایمان رکھتا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ؟ استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی یہ اعمال ایمان باللہ کا بدل اور اس کے برابر نہیں ہوسکتے بلکہ ایمان کے بغیر ان کی سرے سے کوئی قدر و قیمت ہی نہیں۔ اس میں رد ہے ان مشرکین عرب پر جو اپنے ان اعمال پر فخر جتایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
مساجد کو آباد کرنیوالے کون ہیں ؟
تشریح : ان آیات میں صاف طور پر حکم دے دیا گیا ہے کہ اب مسجد حرام کو ان کفار و مشرکین سے بالکل خالی کروا لیا جائے جو اس کے متولی بنے بیٹھے ہیں کیونکہ وہ بت پرستی اور کفر و شرک کے راستے کو اپنائے ہوئے ہیں۔ بھلا یہ اللہ کا گھر بت پرستوں کی حفاظت میں کس طرح رہ سکتا ہے ؟ اللہ کا گھر اللہ والوں کے لیے ہی مخصوص ہوسکتا ہے اور اللہ والے وہ ہیں جو اللہ کو خالق ومالک مانتے ہیں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔ قیامت کے دن پر یقین رکھتے ہیں نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی دوسری طاقت کو نہ مانتے ہیں نہ ڈرتے ہیں کیونکہ وہ صرف اللہ سے ڈرتے ہیں۔ ایسے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
آیات 17 تا 24
اسرار و معارف
فتح مکہ کے بعد اگر چہ بیت اللہ کو بتوں سے پاک کردیا گیا تھا مگر مشرکین اپنی رسومات تو اپنے ہی طور پر ادا کرتے تھے اور یہ ضروری تھا کہ بیت اللہ کو ان خرافات سے بھی پاک کیا جاتا مگر اس میں رکاوٹ یہ تھی کہ بعض قبائل کے ساتھ مسلمانوں کے معادہ صلح کی مدت باقی تھی اور انھوں نے عہد شکنی بھی نہ کی تھی لہٰذا ایک سال تک مہلت دی گئی اس میں وہ مدت بھی گزرگئی اور کوئی نیا معاہدہ نہ کیا گیا بلکہ 9 ھجری کے حج میں آپ ﷺ نے اعلان کرادیا کہ آئندہ کوئی مشرک بیت اللہ کی حدود میں داخل نہ ہوگا اور نہ کافر انہ رسوم ادا کرسکے گا۔
مشرکین اپنے زعم باطل میں بتوں کی پوجا اور عمارت کی تعمیر…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی یہ کام گو فضیلت کے ہیں مگر ایمان باللہ اور جہاد کے مقابلے میں کچھ حثیت نہیں رکھتے اور پھر ایمان کے بغیر یہ مقبول بھی نہیں، ( کبیر) مشرکین مکہ کو اس بڑا فخر تھا کہ ہم کعبہ کے متولی ہیں حاجیوں کی خدمت کرتے ہیں۔ لہذا مسلمانو جہاد اور ہجرت کی وجہ سے ہم سے افضل نہیں ہوسکتے۔ چناچہ جنگ بدر کے بعد حضرت ابن عباس ؓ قید ہو کر آئے تو ان کی حضرت علی ؓ سے اس قسم کی بحث بھی ہوئی۔ حضرت اعباس ؓ کہنے لگے، اگر تم ایمان جہاد اور ہجرت میں ہم سے سبقت رکھتے ہو تو ہم اس کے مقابلے میں مسجد حرام کی خدمت کرتے اور حاجیوں کو پانی پلاتے رہے ہیں پس تم ہم سے کسی صورت افضل نہیں ہوسکتے۔ بعض روایات میں ہے کہ ایک جمعہ…
Read the full tafseer →(9:19) سفایۃ۔ پانی پلانا۔ عمارۃ۔ آباد کرنا۔ صاحب ضیاء القرآن ۔ مظہری۔ قرطبی و بیضاوی لکھتے ہیں :۔ الفاظ آیت سقایۃ وعمارۃ مصدر ہیں۔ اگر یہ اسم فاعل کے معنی میں استعمال ہوں تو کلام میں کسی لفظ کو مقدر ماننے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی معنی ہوگا :۔ کہ حاجیوں کو پانی پلانے والا اور مسجد کو آباد کرنے والا اس شخص کی طرح نہیں ہوسکتا جو اللہ اور قیامت پر ایمان لائے اور جہاد کرے۔
اور اگر مصدری معنی ہی میں مستعمل ہو تو پھر کلام میں حذف ماننا پڑیگا۔ اور اس کی دو صورتیں ہیں یا تو مشبہ میں محذوف مانیں تو اس وقت تقدیر کلام یوں ہوگی۔ اجعلتم اہل السقایۃ الحاج وعمارۃ المسجد الحرام۔۔ اور یا مشبہ بہٖ میں محذوف مانیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 22
ان یعمروا (یہ کہ وہ آباد کریں) شھدین (گواہ ہیں (گواہی دینے والے) حبطت ضائع ہوگئی (ضائے ہوگئے) النار (آگ) لم یخش نہیں ڈرتا (نہیں ڈرا) عسی (شاید کہ، امید ہے کہ) المھتدین (ہدایت پانے والے ) اجعلتم (کیا تم نے بنا لیا ہے سقایۃ (پانی پلانا) عمارۃ (تعمیر کرنا، آباد کرنا، بسانا) لایستون (دونوں برابر نہیں ہیں) لایھدی (ہدایت نہیں دیتا ) اعظم (بہت بڑا) الفآئزون (کامیاب ہونے والے) رضوان (خوشنودی) نعیم مقیم (ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ) ابداً (ہمیشہ) اجر عظیم (بہت بڑا اجر، بدلہ)
تشریح :- آیت نمبر 17 تا 22
فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے خانہ کعبہ اور مسجد حرام سے بتوں کو ہٹوا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
جہاد سے حضرت عباس ؓ کی بحث، شرک کی وجہ سے نیک عمل رائیگاں ہوجاتے ہیں
شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں قریش کے ستر آدمی جو گرفتار ہوئے اور ان میں حضور ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ بھی تھے۔ تو مسلمانوں نے ان ستر آدمیوں کے روبرو بت پرستی اور شرک کی مذمت بیان کی۔ یہ مذمت سن کر حضرت عباس ؓ نے کہا :'' ہم بھی مکہ میں اچھے کاموں میں لگے ہوئے تھے۔ مسجد حرام کو آباد رکھتے تھے حاجیوں کو پانی پلاتے تھے ''۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمادیا کہ بغیر اسلام خالص کے یہ اچھے کام اللہ کے نزدیک کچھ قبول نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بغیر صفائی عقیدہ کے کوئی ظاہری عمل قبول نہیں ہوتا۔ یہ بت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
[10] کیونکہ خانہ کعبہ مشرکین کے نزدیک بھی مقدس تھا، اس کی خدمت اور اس کے زائرین کی خدمت بھی سرداران قریش نے اپنے ذمے لے لی تھی اور اس پر فخر کرتے تھے۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
مفاخر قریش :
(ف 1) قریش مکہ مسلمانوں سے فخریہ کہتے ، ہم تم سے اچھے ہیں ، بیت اللہ کے خادم ہیں ، حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں ، ان کی مہمان نوازی کرتے رہیں ، اور بیت اللہ کی آبادی کا خیال رکھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان مفاخر کا جواب دیا ہے کہ جب تک ایمان نہ ہو ، یہ فضائل قبول نہیں ، جب تم بناء کعبہ کے مقصد سے ہیں نا آشنا ہو تو تمہیں کیا فضیلت حاصل ہوسکتی ہے ،
افضل وہ ہیں جو ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہیں ، جن کے دلوں میں ایمان جوش و حرارت ہے ، جو اس کے نام پر دشمنوں سے لڑ سکتے ہیں ، نہ وہ لوگ جو چھوٹی چھوٹی خدمات پر خوش ہیں ، اور روح دین سے بیگانہ ہیں ۔
Read the full tafseer →19 کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کے آباد کرنے کو اس شخص کے عمل کے برابر سجھ رکھا ہے اور اس شخص کے مساوی تجویز کررکھا ہے جو اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس نے جہاد کیا تو یہ دونوں عمل کرنے والے لوگ اللہ کے نزدیک برابر نہیں نہ دونوں عمل برابر نہ عمل کرنے والے برابر اور اللہ تعالیٰ بےانصاف لوگوں کی رہنمائی نہیں کرتا اور ان کو سمجھ نہیں دیتا۔
یعنی جو لوگ پانی پلانے اور مسجدِ حرام کی خدمت پر ان لوگوں کے روبرو فخر کررہے ہیں جو دل سے ایمان رکھتے ہیں اور جہاد فی سبیل اللہ کرتے ہیں تو ان کا یہ فخر بےسود اور لاحاصل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
ف 1۔ مراد مشرک ہیں۔
Read the full tafseer →حاجیوں کے لئے پانی کی سبیل لگانا اچھا کام ہے لیکن آخر کتنا ؟
28: مشرکین مکہ کو اپنے جن اعمال پر بہت ناز تھا اور وہ اپنی امتیازی حیثیت قائم کئے ہوئے تھے ان میں سے ایک حجاج کو پانی پلانے اور ٹھنڈا اور میٹھے پانی کی سبیلیں لگانے کا کام بھی تھا اور زیر نظر آیت میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ پانی پلانا بلاشبہ ایک نیکی ہے لیکن اس نیکی کا تصور دینے والا آخر کون ہے ؟ اللہ ، تو پھر اللہ ہی سے دوسروں کو شریک کیا جا رہا ہے اور ان شریک ٹھہرانے والوں کے ساتھ یہ نیکی بھی کیا نیکی ہی کہلائے گی ؟ شفقت و رحمت کو کون غلط کہہ سکتا ہے ؟ لیکن آپ کی ساری شفقت اس قاتل ہی کے لئے کیوں ؟ جس کو اس نے قتل کیا ہے کیا وہ شفقت…
Read the full tafseer →Commentary
The first four verses (19 - 22) relate to a particular event. A cursory look into its background shows that many Mushriks of Makkah felt proud that they kept the Sacred Mosque bustling with visitors and devotees and ran a drinking water service for the pilgrims. Keeping their rival Muslims in view, they claimed that no deed by anyone could match theirs. When Sayyidna ` Abbas ؓ came to Muslims as a prisoner from the battle of Badr, he had not embraced Islam by that time. His Muslim relatives reproached him for remaining deprived of the blessing of 'Iman. In response, he too had said…
Read the full tafseer →