Explained with ayahs 17–18
مشرکوں کو اللہ کے گھر سے کیا تعلق ؟
یعنی اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں کو اللہ کی مسجدوں (کی تعمیر) کرنے والے بننا لائق ہی نہیں یہ مشرک ہیں بیت اللہ سے انہیں کیا تعلق ؟ مساجد کو مسجد بھی پڑھا گیا ہے پس مراد مسجد حرام ہے جو روئے زمین کی مسجدوں سے اشرف ہے جو اول دن سے صرف اللہ کی عبادت کے لیے بنائی گئی ہے جس کی بنیادیں خلیل اللہ نے رکھیں تھیں اور یہ لوگ مشرک ہیں حال و قال دونوں اعتبار سے تم نصرانی سے پوچھو وہ صاف کہے گا میں نصرانی ہوں، یہود سے پوچھو وہ اپنی یہودیت کا اقرار کریں گے، صابی سے پوچھو وہ بھی اپنا صابی ہونا اپنی زبان سے کہے گا، مشرک بھی اپنے مشرک ہونے کے لیے اقراری ہیں ان کے اس شرک کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
سورة التَّوْبَة 19
یعنی جو مساجد خدائے واحد کی عبادت کے لیے بنی ہوں ان کے متولی، مجاور، خادم اور آباد کار بننے کے لیے وہ لوگ کسی طرح موزوں نہیں ہو سکتے جو خدا کے ساتھ خداوندی کی صفات، حقوق اور اختیارات میں دوسروں کو شریک کرتے ہوں۔ پھر جبکہ وہ خود بھی توحید کی دعوت قبول کرنے سے انکار کرچکے ہوں اور انہوں نے صاف صاف کہہ دیا ہو کہ ہم اپنی بندگی و عبادت کو ایک خدا کے لیے مخصوص کردینا قبول نہیں کریں گے تو آخر انہیں کیا حق ہے کہ کسی ایسی عبادت گاہ کے متولی بنے رہیں جو صرف خدا کی عبادت کے لیے بنائی گئی تھی۔
یہاں اگرچہ بات عام کہی گئی ہے اور اپنی حقیقت کے لحاظ سے یہ عام ہے بھی لیکن خاص طور پر یہاں اس…
Read the full tafseer →اس آیت میں عمارت مسجد کا منفی پہلو بیان کیا گیا تھا کہ مشرکین اس کے اہل نہیں ہیں۔
دوسری آیت میں عمارت مسجد کا مثبت پہلو اس طرح ارشاد فرمایا(آیت) اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَام الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ وَلَمْ يَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰٓى اُولٰۗىِٕكَ اَنْ يَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ ، یعنی مسجدوں کو آباد کرنا انہی لوگوں کا کام ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لاویں اور نماز کی پابندی کریں اور زکوٰة دیں اور بجز اللہ تعالیٰ کے کسی سے نہ ڈریں سو ایسے لوگوں کے متعلق توقع ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے“۔
مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
تفسیر آیات 17۔ 22:۔
آیت 17: مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ ۭاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ښ وَفِي النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ۔
جزوی نیکی اصل مقصود کی قائم مقام نہیں ہوسکتی : اوپر کے پیرے میں مشرکین قریش کے ان جرائم کی طرف اشارے کیے گئے ہیں جو ان کو اعلان براءت اور جنگ کا سزاوار قرار دیتے ہیں۔ اب یہ تولیت بیت اللہ کے سلسلہ میں ان کی بعض خدمات کا حوالہ دے کر یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ ان کی یہ خدمات بالکل بےحقیقت اور بےوزن ہیں۔ انکی بنیاد پر یہ ہرگز اس کے بات کے سزاوار نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی رعایت کی جائے۔ کوئی خدمت…
Read the full tafseer →18۔ 1 جس طرح حدیث میں بھی ہے نبی ﷺ نے فرمایا ' جب تم دیکھو کہ ایک آدمی مسجد میں پابندی سے آتا ہے تو تم اس کے ایمان کی گواہی دو ' قرآن کریم میں یہاں بھی ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کے بعد جن اعمال کا ذکر کیا گیا ہے، وہ نماز زکٰوۃ اور مشیت الٰہی ہے، جس سے نماز، زکٰوۃ اور تقویٰ کی اہمیت واضح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
15: مشرکین مکہ اس بات پر فخر کیا کرتے تھے کہ وہ مسجد حرام کے پاسبان ہیں، اس کی خدمت، دیکھ بھال اور تعمیر جیسے نیک انجام دیتے ہیں اس لئے ان کو مسلمانوں پر فوقیت حاصل ہے، اس آیت نے ان کے اس زعم باطل کی تردید فرمائی ہے، اور وہ اس طرح کہ مسجد حرام یا کسی بھی مسجد کی خدمت یقیناً بڑی عبادت ہے، بشرطیکہ وہ ایمان کے ساتھ ہو، کیونکہ مسجد کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی ایسی عبادت ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو شریک نہ ٹھہرایا جائے، اگر یہ بنیادی مقصد ہی مفقود ہو تو مسجد کی خدمت کا کیا فائدہ، لہذا کفر وشرک کے ساتھ کوئی بھی شخص مسجد کا پاسبان بننے کا اہل نہیں ہے، چنانچہ آگے آیت نمبر 28 میں مشرکین کو…
Read the full tafseer →عبادات و اعمال میں سے معتبر وہ ہوتے ہیں جو عقائد صحیحہ پر مبنی ہوں۔ اگر عقیدہ ہی ٹھیک نہ ہو تو اعمال کیسے ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ اس لیے جب تک ایمان و عقیدہ درست نہ ہوگا مسجد حرام کی تعمیر اور اس میں مراسم عبودیت بجا لانا کوئی معنی نہیں رکھتے۔ لہذا اعمال کو خالص عقیدہ توحید پر مبنی ہونا چاہیے اور یہ اعمال خالص اللہ کے لیے ہونے ضروری ہیں ، تب قبول ہوں گے۔
یہاں دو شرائط ، یعنی ایمان باللہ جو باطنی صفت ہے اور اعمال ظاہریہ کے ساتھ ایک شرط یہ ہے کہ انسان اللہ کے سوا کسی چیز سے خائف نہ ہو ، لازمی شرط ہے۔ یہ نفلی شرط نہیں ہے۔ لہذا اللہ کے لیے خالص ہونا لازمی ہے۔ اور انسان کے شعور ، اس کے طرز عمل میں شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
1 پہلے فرمایا تھا کہ مسلمان بدون امتحان کے یونہی نہیں چھوڑے جاسکتے، بلکہ بڑے بڑے عزائم اعمال (مثلاً جہاد وغیرہ) میں ان کی ثابت قدمی دیکھی جائے گی اور یہ کہ تمام دنیا کے تعلقات پر کس طرح خدا اور رسول کی جانب کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس رکوع میں یہ بتلایا کہ خدا کی مساجد (عبادت گاہیں) حقیقتہ ایسے ہی اولوالعزم مسلمانوں کے دم سے آباد رہ سکتی ہیں۔ مساجد کی حقیقی آبادی یہ ہے کہ ان میں خدائے واحد کی عبادت اس کی شان کے لائق ہو۔ " ذکر اللہ " کرنے والے کثرت سے موجود ہوں جو بےروک ٹوک خدا کو یاد کریں۔ لغویات و خرافات سے ان پاک مقامات کو محفوظ رکھا جائے۔ یہ مقصد کفار و مشرکین سے کب حاصل ہوسکتا ہے ؟ دیکھئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
آیت 17 مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰہِ شٰہِدِیْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ بالْکُفْرِ ط
یہ مساجد تو اللہ کے گھر ہیں ‘ یہ کعبہ اللہ کا گھر اور توحید کا مرکز ہے ‘ جبکہ قریش علی اعلان کفر پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اللہ کے گھر کے متولی بھی بنے بیٹھے ہیں۔ ایسا کیونکر ممکن ہے ؟ اللہ کے ان دشمنوں کا اس کی مساجد کے اوپر کوئی حق کیسے ہوسکتا ہے ؟
اُولٰٓءِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْج وَفِی النَّارِ ہُمْ خٰلِدُوْنَ
بیت اللہ کی دیکھ بھال اور حاجیوں کی خدمت جیسے وہ اعمال جن پر مشرکین مکہ پھولے نہیں سماتے ‘ ایمان کے بغیر اللہ کے نزدیک ان کے ان اعمال کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ان کے کفر کے سبب…
Read the full tafseer →17 مساجد کی آبادی کا مطلب آباد کرنے والوں کی صفات :۔ آباد کرنے سے مراد مساجد میں نمازوں کے لیے آنا جانا، مساجد کی صفائی، ان میں روشنی کا انتظام، مساجد کی تعمیر، ان کی مرمت اور تولیت وغیرہ سب کچھ شامل ہے اور یہ صرف ان لوگوں کا کام ہے جن میں بالخصوص چار باتیں پائی جائیں۔ اللہ اور روز آخرت پر ایمان پھر اسی ایمان کی ظاہری شہادت کے طور پر نماز کا قیام اور زکوٰۃ کی ادائیگی اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرنا۔ یعنی اللہ کے سوا دوسرے دیوی، دیوتا، بزرگ یا فرشتوں اور ستاروں کی ارواح کے متعلق یہ گمان رکھنا کہ اگر وہ ناراض ہوگئے تو اسے کوئی نقصان پہنچا سکتے یا کسی مصیبت سے دو چار کرسکتے ہیں پھر اسی بنا پر ان…
Read the full tafseer →30 ۔ (اور اپنے مقصود کو پہنچ جائیں جو نجات اور جنت ہے) اے الی الجنۃ وما اعدا للہ تعالیٰ فیھا لعبادہ (روح) (آیت) ” من امن باللہ والیوم الاخر “۔ یہ بیان ہوا ان کے بنیادی عقاید کا۔ (آیت) ” واقام الصلوۃ واتی الزکوۃ ولم یخش الا اللہ “۔ یہ بیان ہوا ان کے اعمال واحوال کا۔ عسی کے لئے اوپر کئی بار آچکا ہے کہ جب یہ وعدۂ الہی کے سیاق میں آتا ہے تو اس میں معنی یقین کے پیدا ہوجاتے ہیں۔ اور درجہ احتمال باقی نہیں رہتا۔ عسی من اللہ واجب (معالم) وعسی من اللہ واجبۃ عن ابن عباس وغیرھا (قرطبی) (آیت) ” ولم یخش الا اللہ “۔ محققین نے یہاں یہ قید لگادی ہے کہ دین کے باب میں بجز اللہ کے کسی سے نہیں ڈرتے جیسا کہ عوام…
Read the full tafseer →مسجدوں کی آبادکاری کا حق صرف مومنین باعمل کو ہے : دوسری آیت میں عمارت مسجد کا مثبت پہلو اس طرح ارشاد فرمایا ہے، '' اِنَّمَا یَعْمُرْوْ مَسَاجِدَ اللہ مَنْ اٰمَنَ بِا للہ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلوٰةَ وَاٰتَی الذَّکٰوةَ وَلَمْ یَخْشَ اِلاَّ اللہ فَعَسٰی اُولئِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ ۔ یعنی مسجدوں کو آباد کرنا انہی لوگوں کا کام ہے جو اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتے ہوں اور نماز کی پابندی کریں اور زکوٰة ادا کریں، بجز اللہ کے کسی سے نہ ڈریں، ایسے لوگوں کے متعلق امید ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے۔
مذکورہ آیات سے متعلق بعض مسائل
مسئلہ : کافروں کے لئے جس عمارت…
Read the full tafseer →انما یعمر مسجد اللہ من امن باللہ والیوم الاخر واقام الصلوۃ واتی الزکوۃ ولم یخش الا اللہ قف اللہ کی مسجدوں کو آباد کرنا تو صرف ان لوگوں کا کام ہے جو اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان لائیں اور نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیں اور سوائے اللہ کے اور کسی سے نہ ڈریں۔ خوفناک چیزوں سے ڈرنا فطری ہے ‘ ہر ہوشمند کا فطرتاً ہولناک چیزوں سے (کم و بیش بغیر ارادہ و اختیار کے) ڈرنا ضروری ہے ‘ اسلئے آیت کی یہ مراد ہے کہ دین کے معاملہ میں وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور کسی کے خوف سے اللہ کے حکم کی پابندی نہیں چھوڑتے۔ آیت میں رسول پر ایمان لانے کا ذکر نہیں ہے کیونکہ اللہ پر صحیح ایمان ‘ رسول پر ایمان لانے کے…
Read the full tafseer →(18) مسجد حرام کو آباد کرنا تو ان ہی لوگوں کا کام ہے جو بعث بعد الموت پر ایمان لاتے ہیں اور پانچوں نمازیں اور زکوٰۃ کو ادا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرتے ہیں تو ایسے لوگ یقیناً اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی حجت کو پالیں گے۔
Read the full tafseer →اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ : آباد کرنے میں مساجد کی تعمیر، ان میں نمازوں کے لیے آنا، صفائی، روشنی، مرمت اور نگرانی وغیرہ سب چیزیں شامل ہیں اور یہ صرف ان لوگوں کا کام ہے جن میں خصوصاً چار چیزیں پائی جائیں : 1 اللہ اور یوم آخرت پر ایمان۔ 2 ظاہر میں اس ایمان کی شہادت کے لیے نماز کا قیام۔ 3 زکوٰۃ کی ادائیگی۔ 4 اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرنا، جبکہ مشرکین ان چاروں صفات سے عاری ہیں۔ مساجد کی تعمیر، آباد کاری اور ان کا ادب و احترام نہایت اعلیٰ درجے کا عمل ہے۔ امیر المومنین عثمان ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جو شخص اللہ کے لیے کوئی مسجد بنائے تو اللہ تعالیٰ جنت…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : انما یعمر مسجد اللہ یہ اس پر دلیل ہے کہ مساجد کو آباد کرنے والوں کے لیے ایمان کی شہادت دینا صحیح ہے، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اسے اس کے ساتھ ہی مربوط کیا ہے اور اسی کے بارے مساجد کو لازم پکڑنے کی خبر دی ہے۔ اور بعض سلف نے کہا ہے ــ: جب تم کسی آدمی کو دیکھو وہ مسجد آباد کررہا ہے تو تم اس کے ساتھ حسن ظن رکھو۔ ترمذی نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم کسی آدمی کو دیکھو وہ مسجد کے اہتمام کا عادی ہے تو تم اس کے لیے ایمان کی شہادت دو ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ انما یعمر مسجد اللہ من امن باللہ والیوم الاخر اور ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ماکان للمشرکین ان یعمروا مسجد اللہ “ اور فرمایا (آیت) ” انما یعمرمسجد اللہ من امن باللہ “ کہ ان دونوں آیتوں میں مشرکین کو مسجد سے روکتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ جب شخص نے اللہ تعالیٰ کو ایک مانا اور اس چیز پر ایمان لایا جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” واقام الصلوۃ “ یعنی پانچوں نمازوں کو قائم کیا (آیت) ” ولم یخش الا اللہ “ اور اس نے اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کی (آیت) ” فعسی اولیک “ یعنی یہ لوگ ہدایت پانے والے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اپنے نبی کریم ﷺ کے لئے (آیت) عسی ان یبعثک ربک…
Read the full tafseer →اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يَعْمُرُ [ آباد کرتا ہے ] مَسٰجِدَ اللّٰهِ [ اللہ کی مسجدوں کو ] مَنْ [ وہ جو ] اٰمَنَ [ ایمان لایا ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ [ اور آخری دن پر ] وَاَقَامَ [ اور اس نے قائم کی ] الصَّلٰوةَ [ نماز ] وَاٰتَى الزَّكٰوةَ [ اور زکوۃ دی ] وَلَمْ يَخْشَ [ اور وہ نہیں ڈرا ] اِلَّا [ مگر ] اللّٰهَ [ اللہ سے ] فَعَسٰٓى [ تو امید ہے ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] اَنْ [ کہ ] يَّكُوْنُوْا [ ہوجائیں ] مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ [ ہدایت پانے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →مساجد کو آباد کرنا اہل ایمان کا کام ہے :
اس کے بعد فرمایا (اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَام الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ ) (اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور جنہوں نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے) اس میں بتایا کہ مسجدوں کو آباد کرنا اہل ایمان کا کام ہے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کے مقرر فرمودہ فرائض کو انجام دیتے ہیں (اس میں دو چیزوں کا خصوصی تذکرہ فرمایا یعنی نماز قائم کرنا زکوٰۃ دینا) اور اللہ کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–24
مشرکین عرب کے فخر اور ناز کا جواب اور اعمال فاضلہ کا بیان
قال اللہ تعالیٰ ۔ ماکان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ عندہ اجر عظیم۔
(ربط): سورت کا آغاز مشرکین کی براءت اور بیزاری سے فرمایا بعد ازاں ان کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ اسی قابل ہیں کہ ان سے براءت اور بیزار اختیار کی جائے ان لوگوں کا خدا تعالیٰ کے یہاں کوئی مرتبہ نہیں۔ چونکہ یہ اعلان براءت ان کی اہانت اور تحقیر پر مبنی تھا اس لیے مشرکین مکہ نے اپنی فضیلت ثابت کرنے کے لیے بڑے فخر اور ناز سے یہ کہا کہ ہم بہت سی خاص حمیدہ اور افعال پسندیدہ کے حامل ہیں ہم سے براءت اور بیزاری کی کوئی وجہ نہیں ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
15: یہ قتال کے مانع ثانی کا جواب ہے۔ مانع یہ تھا کہ مشرکین بیت اللہ کی تعمیر اور اس قسم کے دوسرے نیک اعمال بجا لاتے ہیں لہذا ان سے قتال کیونکر روا ہے۔ فرمایا مشرکین کا کوئی عمل قبول نہیں۔ کفر و شرک کی حالت میں ان کے تمام نیک اعمال ضائع اور رائیگاں ہیں۔ لہذا ان کے دوسرے شر انگیز اعمال کی وجہ سے ان سے جہاد لازم ہے۔ “ اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ الخ ” بیت اللہ کی تعمیر اور دوسرے اعمال صالحہ صرف انہی لوگوں سے قبول کیے جاتے ہیں جو شرک سے توبہ کریں۔ خدائے واحد پر اور آخر پر ایمان لائیں اور تمام اعمال شریعت کے مطابق بجا لائیں۔ “ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ ” اور صرف اللہ سے ڈرے اور معبودان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
ربط ِ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کے مشروع ہونے کی وجوہات بیان فرمائی تھیں ان میں سے بعض وجوہات وہ تھیں جو مشرکین کی طرف سے پیدا ہوئیں مثلا دین میں طعن کرنا اور اسے مٹانے کی کوشش کرنا ، عہدوپیمان کو توڑنا ، نبی کو اس کے گھر سے نکالنا اور جنگ میں پہل کرنا وغیرہ ، پھر اللہ تعالیٰ نے جہاد کا ایک سبب یہ بھی بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا امتحان لینا چاہتا ہے اور وہ اس بات کو ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ کون ہے جو جہاد میں بخوشی حصہ لیتا ہے اور کون ہے جو پیچھے رہتا ہے۔
مشرکین اور مساجد
سورۃ ہذا کی ابتداء میں مشرکین کے ساتھ بیزاری اور جنگ کا اعلان کیا گیا تھا ( آیت) ” براء ۃ من اللہ…
Read the full tafseer →اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَى الزَّكٰوۃَ وَلَمْ يَخْشَ اِلَّا اللہَ فَعَسٰٓى اُولٰۗىِٕكَ اَنْ يَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُہْتَدِيْنَ 18
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
ترکیب : شاھدین حال ہے فاعل یعمروا سے ‘ ان یعمروا کان کا اسم للمشرکین خبر۔ فی النار ظرف مقدم ہے تخصیص کے لئے۔ من موصولہ آمن و معطوف تھا صلہ سب فاعل یعمر سقایۃ مصدر کا لعمارۃ و صحت الیاء لما کانت بعد ھاتاء التانیث والتقدیر اجعلتم اصحاب السقایۃ الخ مثل من امن الذین الخ مبتداء اعظم خبر۔
تفسیر : مکہ کے بت پرست قدیم سے خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے تھے اور ایام حج میں لوگوں کو پانی بھی پلایا کرتے تھے۔ اسلام کے مقابلہ میں وہ اپنی نیکیوں پر فخر کرتے تھے کہ ہم مجاور بیت اللہ اور اس کے خادم ہیں۔ ہم سے بڑھ کر خدا کے نزدیک کس کا رتبہ ہے ؟ پھر اس پر محمد ﷺ ہم سے لڑنے اور عہد تمام کردینے کا حکم دیتا ہے۔ چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
مَاکَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰہِ شٰھِدِیْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ بِالْکُفْرِطاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ ج وَفِی النَّارِ ھُمْ خٰلِدُوْنَ اِنَّمَا یَعْمُرُمَسٰجِدَاللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِوَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰٓی اُولٰٓئِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ (التوبۃ : 17، 18)
(مشرکین کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں اس حال میں کہ وہ خود اپنے نفسوں پر کفر کے گواہ ہیں، ان لوگوں کے سارے اعمال برباد ہوگئے اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں۔ اللہ کی مسجدوں کو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : پچھلی آیت میں مشرکین کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ لوگ مساجد کے متولی نہیں ہوسکتے یہاں وضاحت کی گئی کہ مساجد کے متولی حضرات کے کیا اوصاف ہونے چاہئیں۔
روئے زمین پر اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ جگہ اور مقام مسجد ہے جس کو ذکر وفکر اور اللہ کے حضور سجدہ گاہ بنایا گیا ہے۔ نبی محترم ﷺ نے اس زمین کے ٹکرے کو اللہ کے باغوں میں سے ایک باغ قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ لوگو ! اللہ کے باغوں میں داخل ہو کر خوب سیر ہو کر کھایا کرو۔ لوگوں نے پوچھا اللہ کے باغ کون سے ہیں اور ان میں کھانا پینا کیسا ؟ آپ ﷺ فرماتے ہیں مسجدیں اللہ کا گھر ہیں اور روح کے لیے ذکرواذکار تازہ پھل…
Read the full tafseer →مومن مسجد کو آباد کرنے والا ہے :
آیت 18: اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کرنا تو صرف ان لوگوں کا کام ہے) اس کی تعمیر، بوسیدہ کی مرمت، صفائی، روشنی کا انتظام، جن چیزوں کیلئے مساجد نہیں بنائی گئیں ان سے حفاظت مثلاً دنیا کی باتیں کیونکہ مسجد کی تعمیر کا مقصد عبادت اور ذکر الٰہی کیلئے ہے اور علم پڑھانا بھی اس ذکر میں شامل ہے۔ مَنْ ٰامَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ (جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان لائیں) یہاں ایمان بالرسول کا تذکرہ نہیں کیا۔ کیونکہ یہ خود معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے کو رسول پر ایمان لانا ضروری ہے۔ کیونکہ شہادت، اذان،…
Read the full tafseer →تفسیر 18” انما یعمر مسجد اللہ من امن باللہ والیوم الاخر و اقام الصدوۃ واتی الزکوۃ ولم یخش الا اللہ “ دین کے معاملہ میں غیر اللہ سے نہ ڈرے اور اللہ کا حکم اس کے غیر سے ڈر کر نہ چھوڑے۔ ” فعسی اولئک ان یکونوا من المھتدین “ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عسیٰ امید کے معنی میں نہیں بلکہ واجب کے معنی میں ہوتا ہے یعنی پس یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ جو اللہ کی اطاعت کو مضبوطی سے تھامتے ہیں جو جنت تک پہنچا دیتی ہے۔ حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ مسجد کو آباد کر رہا ہے تو اس کے ایمان کی گواہی دے دو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” انما یعمر مسجد اللہ من امن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
17۔ 22۔ صحیح مسلم ابوداؤد صحیح ابن حبان تفسیر ابن ابی حاتم میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں قریش کے ستر آدمی جو گرفتار ہوئے جن میں حضرت عباس ؓ بھی تھے تو مسلمانوں نے ان ستر آدمیوں کے روبرو بت پرستی اور شرک کی مذمت بیان کی یہ مذمت سن کر حضرت عباس ؓ نے کہا کہ ہم بھی مکہ میں اچھے کاموں میں لگے ہوئے تھے مسجد حرام کو آباد رکھتے تھے حاجیوں کو پانی پلاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ بغیر خالص السلام کے یہ اچھے کام اللہ کے نزدیک کچھ قبول نہیں اس سے معلوم ہوا بغیر صفائی عقیدہ کے کوئی ظاہری عمل قبول نہیں ہوتا۔ یہ اچھے کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
آیت نمبر ( 18)
اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے ” مشرکوں کو زیبا نہیں “ یعنی مشرکین کے لائق اور ان کے لیے مناسب نہیں ” کہ آباد کریں وہ اللہ کی مسجدوں کو “ یعنی عبادات ‘ نماز اور مختلف انواع کی نیکوں کے ذریعے سے اللہ کی مساجد کو آباد کریں اور حال ان کا یہ ہے کہ وہ اپنی فطرت اور شہادت حال کے ذریعے سے اپنے کفر کا اقرار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر لوگوں کی بابت علم ہے کہ وہ کفر اور باطل پر ہیں۔” جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر ( اور عدم ایمان) کی گواہی دیتے ہیں۔ “ ایمان اعمال کی قبولیت کی شرط ہے ‘ تب وہ کیوں کر یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کہ مساجد کو آباد کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے اعمال کی بنیاد ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
مساجد اللہ پر تولیت صرف مسلمانوں کی ہو
قول باری ہے (ما کان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ۔ مشرکین کا یہ کام نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے مجاور اور خادم بنیں) عمارۃ المسجد کے دو معنی ہیں۔ اول مسجد کی زیارت اور اس میں موجودگی یعنی اسے آباد کرنا، دوم مسجد کی تعمیر اور اس کے شکستہ حصوں کی مرمت و تجدید۔ اس لئے کہ جب کوئی زیارت کرے تو کہا جاتا ہے۔ اعتمر فلان (فلاں نے زیارت کی) اسی سے عمرہ کا لفظ ماخوذ ہے اس میں بیت اللہ کی زیارت ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص بکثرت مساجد میں آتا جاتا ہو اور وہاں وقت گزارتا ہو تو کہا جاتا ہے ’ دفلان من عمار المساجد “ (فلاں شخص مساجد کو آباد رکھنے والوں میں سے ہے) اسی طرح اگر…
Read the full tafseer →42 مساجد کی تولیت کے حقداروں کی صفات کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ مساجد کو آباد کرنا اہل ایمان کا کام اور ان ہی کی شان ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور انما کے کلمہ حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کی مسجدوں کو تو وہی لوگ آباد کرسکتے ہیں جو ایمان رکھتے ہوں اللہ پر اور قیامت کے دن پر جو قائم کرتے ہوں نماز کو اور وہ ادا کرتے ہوں زکاۃ۔ اور وہ کسی سے نہ ڈرتے ہوں سوائے اللہ کی۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ مسجد کی تعمیر و تولیت کے لئے اولین شرط ایمان ہے جس کا تعلق قلب اور باطن سے ہے اور اس کی ظاہری علامت اور اثرات ایمان کے وہ آثار وثمرات ہیں جو اس پر مرتب ہوتے ہیں اور جن کا ذکر یہاں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
مساجد کو آباد کرنیوالے کون ہیں ؟
تشریح : ان آیات میں صاف طور پر حکم دے دیا گیا ہے کہ اب مسجد حرام کو ان کفار و مشرکین سے بالکل خالی کروا لیا جائے جو اس کے متولی بنے بیٹھے ہیں کیونکہ وہ بت پرستی اور کفر و شرک کے راستے کو اپنائے ہوئے ہیں۔ بھلا یہ اللہ کا گھر بت پرستوں کی حفاظت میں کس طرح رہ سکتا ہے ؟ اللہ کا گھر اللہ والوں کے لیے ہی مخصوص ہوسکتا ہے اور اللہ والے وہ ہیں جو اللہ کو خالق ومالک مانتے ہیں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔ قیامت کے دن پر یقین رکھتے ہیں نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی دوسری طاقت کو نہ مانتے ہیں نہ ڈرتے ہیں کیونکہ وہ صرف اللہ سے ڈرتے ہیں۔ ایسے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
آیات 17 تا 24
اسرار و معارف
فتح مکہ کے بعد اگر چہ بیت اللہ کو بتوں سے پاک کردیا گیا تھا مگر مشرکین اپنی رسومات تو اپنے ہی طور پر ادا کرتے تھے اور یہ ضروری تھا کہ بیت اللہ کو ان خرافات سے بھی پاک کیا جاتا مگر اس میں رکاوٹ یہ تھی کہ بعض قبائل کے ساتھ مسلمانوں کے معادہ صلح کی مدت باقی تھی اور انھوں نے عہد شکنی بھی نہ کی تھی لہٰذا ایک سال تک مہلت دی گئی اس میں وہ مدت بھی گزرگئی اور کوئی نیا معاہدہ نہ کیا گیا بلکہ 9 ھجری کے حج میں آپ ﷺ نے اعلان کرادیا کہ آئندہ کوئی مشرک بیت اللہ کی حدود میں داخل نہ ہوگا اور نہ کافر انہ رسوم ادا کرسکے گا۔
مشرکین اپنے زعم باطل میں بتوں کی پوجا اور عمارت کی تعمیر…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی انہی لوگوں کو ان کی تولیت کا حق پہنچتا ہے اور وہی ان کے خادم اور آبادی کارہو سکتے ہیں بعض احادیث میں بھی انما عمار والمساجد ھم اھل اللہ کہ مساجد کے آباد کار تو اہل اللہ ہی ہوسکتے ہیں۔ مسجدیں تعمیر کرنے انہیں آباد رکھنے اور ان میں عبادت کے لے بیٹھنے کی احادیث صحیحہ میں بہت فضیلت آئی ہے مثلا ایک حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : جب تم کسی کو باربار مسجد کی طر آتے جاتے دیکھو تو اس کے مومن ہونے کی شہادت دو ۔ ترمذی۔ دوسری حدیث میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے مسجد بنائے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔ ( بخاری مسلم )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(9:17) ما کان للمشرکین۔ مشرکوں کو یہ روا نہیں۔ ان کو یہ حو نہیں پہنچتا۔ ان کے لئے یہ جائز نہیں۔ ان کا یہ کام نہیں۔
ان تعمروا۔ مضارع منصوب بوجہ عمل ان جمع مذکر غائب۔ عمران مصدر (باب نصر) عمر مادہ۔ وہ آباد کریں۔ (آباد کرنے والوں میں وہاں جاکر نماز پڑھنے والے۔ عبادت کرنے والے متولی۔ مجاور۔ خادم سب شامل ہیں۔
مسجد اللہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول یعمروا کا۔ اللہ کی مسجدیں۔ اگرچہ یہ حکم عام ہے اور اس کا اطلاق تمام مساجد پر ہوسکتا ہے لیکن یہاں مراد مسجد حرام ہے جس میں کعبہ شریف واقع ہے ۔ (یعنی مشرکین مسجد حرام اور کعبہ مکرمہ کے متولی اور مجاور۔ خادم وغیرہ نہیں بن سکتے اور نہ ہی وہ اس میں اب عبادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 22
ان یعمروا (یہ کہ وہ آباد کریں) شھدین (گواہ ہیں (گواہی دینے والے) حبطت ضائع ہوگئی (ضائے ہوگئے) النار (آگ) لم یخش نہیں ڈرتا (نہیں ڈرا) عسی (شاید کہ، امید ہے کہ) المھتدین (ہدایت پانے والے ) اجعلتم (کیا تم نے بنا لیا ہے سقایۃ (پانی پلانا) عمارۃ (تعمیر کرنا، آباد کرنا، بسانا) لایستون (دونوں برابر نہیں ہیں) لایھدی (ہدایت نہیں دیتا ) اعظم (بہت بڑا) الفآئزون (کامیاب ہونے والے) رضوان (خوشنودی) نعیم مقیم (ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ) ابداً (ہمیشہ) اجر عظیم (بہت بڑا اجر، بدلہ)
تشریح :- آیت نمبر 17 تا 22
فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے خانہ کعبہ اور مسجد حرام سے بتوں کو ہٹوا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
جہاد سے حضرت عباس ؓ کی بحث، شرک کی وجہ سے نیک عمل رائیگاں ہوجاتے ہیں
شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں قریش کے ستر آدمی جو گرفتار ہوئے اور ان میں حضور ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ بھی تھے۔ تو مسلمانوں نے ان ستر آدمیوں کے روبرو بت پرستی اور شرک کی مذمت بیان کی۔ یہ مذمت سن کر حضرت عباس ؓ نے کہا :'' ہم بھی مکہ میں اچھے کاموں میں لگے ہوئے تھے۔ مسجد حرام کو آباد رکھتے تھے حاجیوں کو پانی پلاتے تھے ''۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمادیا کہ بغیر اسلام خالص کے یہ اچھے کام اللہ کے نزدیک کچھ قبول نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بغیر صفائی عقیدہ کے کوئی ظاہری عمل قبول نہیں ہوتا۔ یہ بت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
[9] اللہ کو علم تو پہلے ہی سے ہے لیکن ازروئے عدل و انصاف ایک شخص نہ تو کسی جزاء کا مستحق ہوسکتا ہے نہ سزا کا جب تک اس کی صلاحیت اور استعداد کا عملاً ظہور نہیں ہوجاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
مفاخر قریش :
(ف 1) قریش مکہ مسلمانوں سے فخریہ کہتے ، ہم تم سے اچھے ہیں ، بیت اللہ کے خادم ہیں ، حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں ، ان کی مہمان نوازی کرتے رہیں ، اور بیت اللہ کی آبادی کا خیال رکھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان مفاخر کا جواب دیا ہے کہ جب تک ایمان نہ ہو ، یہ فضائل قبول نہیں ، جب تم بناء کعبہ کے مقصد سے ہیں نا آشنا ہو تو تمہیں کیا فضیلت حاصل ہوسکتی ہے ،
افضل وہ ہیں جو ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہیں ، جن کے دلوں میں ایمان جوش و حرارت ہے ، جو اس کے نام پر دشمنوں سے لڑ سکتے ہیں ، نہ وہ لوگ جو چھوٹی چھوٹی خدمات پر خوش ہیں ، اور روح دین سے بیگانہ ہیں ۔
Read the full tafseer →18 اللہ کی مسجدوں کو تو بس وہی شخص آباد کرسکتا ہے جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان لایا اور اس نے نماز کی پابندی کی اور زکوٰۃ ادا کرتا رہا اور سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور سے نہیں ڈرا پس ایسے لوگوں کی نسبت خدا سے توقع ہے کہ یہ لوگ صحیح راہ پانے والوں میں سے ہوں گے۔ یعنی مساجد الٰہی کی آباد کاری کے وہی لوگ مستحق ہیں جو اہل ایمان ہوں زکوٰۃ و نماز کے پابند ہوں اور بجز اللہ تعالیٰ کے کسی اور کا دل میں خوف نہ رکھتے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ف 6۔ بوجہ اس کے کہ ان کی قبولیت کی شرط نہیں پائی جاتی۔
Read the full tafseer →مسجدوں کے آباد کرنے کا حق کن لوگوں کو دیا گیا ہے ؟
26: مسجدوں کو آباد کرنے کا حق صرف اور صرف ان لوگوں کو ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائیں ، نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور اللہ کے سوا کسی اور سے نہ ڈریں۔ مطلب یہ ہے کہ مسجدین آباد کرنے کا ان کو حق ہے جو اعمال و افعال کے لحاظ سے بھی توحید الٰہی کے پابند ہوں اور شرک کے قریب بھی نہ جائیں۔ ظاہر ہے کہ ان تمام صفات کے حامل وہی لوگ ہیں جو سچے دل سے ایمان لائے لیکن کتنی احتیاط سے کام لیا گیا کہ اس جگہ ایمان والوں کا نام نہیں لیا بلکہ ان صفات کا ذکر فرمایا جو منصب تولیت کے لئے بنیادی شرائط کی حیتد رکھتی تھیں تاکہ یہ حقیقت اچھی…
Read the full tafseer →Verse 17 was describing the negative aspect as related to the Mushriks. It said that they did not deserve the honor of building and maintaining mosques. Verse 18 takes up the positive aspect relating to mosques by saying:
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّـهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّـهَ ۖ فَعَسَىٰ أُولَـٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ ﴿18﴾
In fact, the mosques of Allah are built-up only by those who believe in Allah and in the Last Day and those who establish Salah and pay Zakah and who fear none but…
Read the full tafseer →