Explained with ayahs 17–18
مشرکوں کو اللہ کے گھر سے کیا تعلق ؟
یعنی اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں کو اللہ کی مسجدوں (کی تعمیر) کرنے والے بننا لائق ہی نہیں یہ مشرک ہیں بیت اللہ سے انہیں کیا تعلق ؟ مساجد کو مسجد بھی پڑھا گیا ہے پس مراد مسجد حرام ہے جو روئے زمین کی مسجدوں سے اشرف ہے جو اول دن سے صرف اللہ کی عبادت کے لیے بنائی گئی ہے جس کی بنیادیں خلیل اللہ نے رکھیں تھیں اور یہ لوگ مشرک ہیں حال و قال دونوں اعتبار سے تم نصرانی سے پوچھو وہ صاف کہے گا میں نصرانی ہوں، یہود سے پوچھو وہ اپنی یہودیت کا اقرار کریں گے، صابی سے پوچھو وہ بھی اپنا صابی ہونا اپنی زبان سے کہے گا، مشرک بھی اپنے مشرک ہونے کے لیے اقراری ہیں ان کے اس شرک کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
سورة التَّوْبَة 19
یعنی جو مساجد خدائے واحد کی عبادت کے لیے بنی ہوں ان کے متولی، مجاور، خادم اور آباد کار بننے کے لیے وہ لوگ کسی طرح موزوں نہیں ہو سکتے جو خدا کے ساتھ خداوندی کی صفات، حقوق اور اختیارات میں دوسروں کو شریک کرتے ہوں۔ پھر جبکہ وہ خود بھی توحید کی دعوت قبول کرنے سے انکار کرچکے ہوں اور انہوں نے صاف صاف کہہ دیا ہو کہ ہم اپنی بندگی و عبادت کو ایک خدا کے لیے مخصوص کردینا قبول نہیں کریں گے تو آخر انہیں کیا حق ہے کہ کسی ایسی عبادت گاہ کے متولی بنے رہیں جو صرف خدا کی عبادت کے لیے بنائی گئی تھی۔
یہاں اگرچہ بات عام کہی گئی ہے اور اپنی حقیقت کے لحاظ سے یہ عام ہے بھی لیکن خاص طور پر یہاں اس…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
مشرکین کی یہ لیاقت ہی نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو (جن میں مسجد حرام بھی آگئی) آباد کریں جس حالت میں وہ خود اپنے کفر (کی باتوں) کا اقرار کر رہے ہیں) (چنانچہ وہ خود اپنا مشرب بتلانے کے وقت ایسے عقائد کا اقرار کرتے تھے جو واقع میں کفر ہیں، مطلب یہ کہ عمارت مساجد گو عمل محمود ہے لیکن باوجود شرک کے کہ اس کے منافی ہے اس عمل کی اہلیت ہی مفقود ہے اور اس لئے وہ محض غیر معتدبہ ہے، پھر فخر کی کیا گنجائش ہے) ان لوگوں کے (جو مشرک ہیں) سب اعمال (نیک مثل عمارت مسجد وغیرہ) اکارت (اور ضائع) ہیں (بوجہ اس کے کہ ان کی قبولیت کی شرط نہیں پائی جاتی اور ضائع عمل پر فخر ہی کیا) اور دوزخ میں وہ لوگ ہمیشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
تفسیر آیات 17۔ 22:۔
آیت 17: مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ ۭاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ښ وَفِي النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ۔
جزوی نیکی اصل مقصود کی قائم مقام نہیں ہوسکتی : اوپر کے پیرے میں مشرکین قریش کے ان جرائم کی طرف اشارے کیے گئے ہیں جو ان کو اعلان براءت اور جنگ کا سزاوار قرار دیتے ہیں۔ اب یہ تولیت بیت اللہ کے سلسلہ میں ان کی بعض خدمات کا حوالہ دے کر یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ ان کی یہ خدمات بالکل بےحقیقت اور بےوزن ہیں۔ انکی بنیاد پر یہ ہرگز اس کے بات کے سزاوار نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی رعایت کی جائے۔ کوئی خدمت…
Read the full tafseer →17۔ 1 مَسَا جِدَ اللّٰہِ سے مراد مسجد حرام ہے جمع کا لفظ اس لئے استعمال کیا گیا کہ یہ تمام مساجد کا قبلہ و مرکز ہے یا عربوں میں واحد کے لئے بھی جمع کا استعمال جائز ہے
17۔ 2 یعنی ان کے وہ عمل جو بظاہر نیک لگتے ہیں، جیسے طواف وعمرہ اور حاجیوں کی خدمت وغیرہ۔ کیونکہ ایمان کے بغیر یہ اعمال ایسے درخت کی طرح ہیں جو بےثمر ہیں یا ان پھولوں کی طرح ہیں جن میں خو شبو نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
15: مشرکین مکہ اس بات پر فخر کیا کرتے تھے کہ وہ مسجد حرام کے پاسبان ہیں، اس کی خدمت، دیکھ بھال اور تعمیر جیسے نیک انجام دیتے ہیں اس لئے ان کو مسلمانوں پر فوقیت حاصل ہے، اس آیت نے ان کے اس زعم باطل کی تردید فرمائی ہے، اور وہ اس طرح کہ مسجد حرام یا کسی بھی مسجد کی خدمت یقیناً بڑی عبادت ہے، بشرطیکہ وہ ایمان کے ساتھ ہو، کیونکہ مسجد کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی ایسی عبادت ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو شریک نہ ٹھہرایا جائے، اگر یہ بنیادی مقصد ہی مفقود ہو تو مسجد کی خدمت کا کیا فائدہ، لہذا کفر وشرک کے ساتھ کوئی بھی شخص مسجد کا پاسبان بننے کا اہل نہیں ہے، چنانچہ آگے آیت نمبر 28 میں مشرکین کو…
Read the full tafseer →اعلان براءت کے بعد کسی کے لیے اب کوئی حجت باقی نہ رہی کہ کیوں وہ مشرکین کے ساتھ نہ لڑے۔ اب لوگوں کے ذہن میں یہ خلجان بھی نہ رہے کہ مشرکین زیارت حرم سے مھروم ہوں گے الا یہ کہ وہ اب مسجد حرام کی عمارت میں حصہ نہ لے سکیں گے جبکہ جاہلیت میں یہ مشرکین ان کاموں میں شریک ہوا کرتے تھے۔ اس لیے کہ مشرکین کا حق ہی نہیں ہے کہ وہ مسجدیں تعمیر کریں۔ یہ صرف اہل ایمان کا حق ہے کہ وہ مساجد تعمیر کریں اور ان میں فرائض دینی ادا کریں۔ دور جاہلیت میں تو وہ یہ کام کرتے تھے۔ مسجد حرام کی تعمیر اور حاجیوں کو پانی پلانے کا تو اب اس قاعدہ کلیہ سے مستثنی نہیں کیا جاسکتا۔ ان آیات میں ان خلجانات کو رفع کیا گیا ہے جو بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
1 پہلے فرمایا تھا کہ مسلمان بدون امتحان کے یونہی نہیں چھوڑے جاسکتے، بلکہ بڑے بڑے عزائم اعمال (مثلاً جہاد وغیرہ) میں ان کی ثابت قدمی دیکھی جائے گی اور یہ کہ تمام دنیا کے تعلقات پر کس طرح خدا اور رسول کی جانب کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس رکوع میں یہ بتلایا کہ خدا کی مساجد (عبادت گاہیں) حقیقتہ ایسے ہی اولوالعزم مسلمانوں کے دم سے آباد رہ سکتی ہیں۔ مساجد کی حقیقی آبادی یہ ہے کہ ان میں خدائے واحد کی عبادت اس کی شان کے لائق ہو۔ " ذکر اللہ " کرنے والے کثرت سے موجود ہوں جو بےروک ٹوک خدا کو یاد کریں۔ لغویات و خرافات سے ان پاک مقامات کو محفوظ رکھا جائے۔ یہ مقصد کفار و مشرکین سے کب حاصل ہوسکتا ہے ؟ دیکھئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
آیت 17 مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰہِ شٰہِدِیْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ بالْکُفْرِ ط
یہ مساجد تو اللہ کے گھر ہیں ‘ یہ کعبہ اللہ کا گھر اور توحید کا مرکز ہے ‘ جبکہ قریش علی اعلان کفر پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اللہ کے گھر کے متولی بھی بنے بیٹھے ہیں۔ ایسا کیونکر ممکن ہے ؟ اللہ کے ان دشمنوں کا اس کی مساجد کے اوپر کوئی حق کیسے ہوسکتا ہے ؟
اُولٰٓءِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْج وَفِی النَّارِ ہُمْ خٰلِدُوْنَ
بیت اللہ کی دیکھ بھال اور حاجیوں کی خدمت جیسے وہ اعمال جن پر مشرکین مکہ پھولے نہیں سماتے ‘ ایمان کے بغیر اللہ کے نزدیک ان کے ان اعمال کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ان کے کفر کے سبب…
Read the full tafseer →15 مشرکین مکہ کن کن باتوں سے بیت اللہ کی توہین کرتے تھے ؟:۔ یعنی کعبہ یا کسی بھی مسجد کی تولیت، مجاوری اور آباد کاری مشرکوں کے لیے مناسب ہی نہیں۔ کعبہ خالصتاً اللہ کی عبادت کے لیے بنایا گیا تھا اور ایسے ہی دوسری مساجد بھی اسی غرض کے لیے بنائی جاتی ہیں لیکن یہ مشرک بیت اللہ میں بھی اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے تھے۔ چناچہ مشرکوں نے اللہ کے اس گھر میں تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ دیواروں پر اپنے بزرگوں اور دیوی دیوتاؤں کی تصویریں بنا رکھی تھیں۔ اور ان ظالموں نے سیدنا ابراہیم اور سیدنا اسماعیل کے مجسمے بنا کر ان کے ہاتھوں میں فال گیری کے تیر پکڑا رکھے تھے۔ رسول اللہ نے فتح مکہ کے بعد بیت…
Read the full tafseer →28 ۔ یعنی ایسے عقاید کا اقرار کررہے ہوں جو داخل کفر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکین میں اپنے عقاید شرکیہ کے ساتھ عمل آبادی مساجد کی اہلیت ہی مفقود ہے۔ یہ اگر آبادی مساجد کریں بھی تو اس سے انہیں کیا نفع حاصل ہوگا ؟ (آیت) ” ماکان للمشرکین “۔ یعنی اگر وہ ایسا کرنا بھی چاہیں تو اس کے لایق ہی نہیں۔ انہیں اس سے روکا جائے گا۔ اے لاینبغی لھم ولا یلیق وان وقع (روح) ماینبغی للمشرکین باللہ ان یعمروا مساجد اللہ التی بنیت علی اسمہ وحدہ لاشریک لہ (ابن کثیر) ما ینبغی للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ اوجب علی المسلمین منعھم من ذلک لان المساجد تعمر لعبادۃ اللہ وحدہ (معالم) (آیت) ” ان یمروا “۔ عمارۃ عربی محاورہ میں ضد…
Read the full tafseer →آیت نمبر 17 تا 24
ترجمہ : مشرکین اس لائق ہی نہیں کہ مساجد میں آمد ورفت کے ذریعہ مساجد کو آباد کرسکیں (مساجد) مفرد اور جمع کے ساتھ ہے، حال یہ ہے کہ وہ خود اپنے اوپر کفر کی گواہی دے رہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے اعمال (شرائط صحت) نہ پانے کی وجہ سے ضائع ہوگئے اور وہ دوزخ ہی میں ہمیشہ پڑے رہیں گے، مساجد کا آباد کرنا تو بس ان لوگوں کا کام ہے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہوں اور زکوٰة ادا کرتے ہوں اور بجز اللہ کے کسی سے نہ ڈرتے ہوں امید ہے کہ ایسے لوگ راہ یاب ہوجائیں گے، کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کے آباد رکھنے والوں کے عمل کو اس شخص کے عمل کے (برابر) قرار دے لیا ہے جو…
Read the full tafseer →ما کان للمشرکین ان یعمروا مسجد اللہ شھدین علی انفسھم بالکفر اولئک حبطت اعمالھم وفی النار ھم خلدون۔ مشرکوں کی یہ لیاقت ہی نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں ایسی حالت میں کہ وہ خود اپنے کافر ہونے کا (کھلم کھلا) اقرار کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سب اعمال اکارت ہیں اور دوزخ ہی میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
مَسَاجِدَ اللّٰہِ یعنی کسی مسجد کو آباد کرنے کا مشرکوں کو حق نہیں ‘ کعبہ کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ اس کی تعمیر کے حقدار تو صرف مسلمان ہی ہیں۔ تعمیر کرنے یا آباد کرنے سے کیا مراد ہے ‘ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک تو اللہ کی عبادت کرنی مراد ہے۔ مسجد کی آبادی اللہ کی عبادت سے ہوتی ہے اور کافر چونکہ اللہ واحد کی…
Read the full tafseer →(17) شرک کرنے والوں کی یہ لیاقت نہیں، کیونکہ وہ خود اپنے اوپر کفر کا اقرار کرتے ہیں ان کے زمانہ کفر کی تمام نیکیاں برباد ہوگئیں ان لوگوں کو دوزخ میں نہ موت آئے گی اور نہ یہ وہاں سے باہر نکالے جائیں گے ،
Read the full tafseer →مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ : یہاں تک کفار کے عہد و پیمان سے براءت کا اعلان، کفار سے جہاد، اس کے فوائد اور حکمتوں کا بیان تھا۔ اب یہ بیان شروع ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مساجد کی آباد کاری، ان کی نگرانی اور تولیت و خدمت مشرکین کا کسی صورت حق نہیں بنتا، کیونکہ مساجد تو خالص اللہ کے لیے ہیں : (وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا) [ الجن : 18 ] ”اور یہ کہ بلاشبہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو۔“ سو ان کی نگرانی اور آباد کاری ان لوگوں کا حق کیسے ہوسکتا ہے جو خود اپنے آپ پر اس اکیلے مالک کے ساتھ کفر کے گواہ اور شاہد ہیں، جو حج اور عمرہ کے وقت بھی…
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : ما کان للمشرکین ان یعمروا مسجد اللہ ان یعمرو سے جملہ رفع کان کا اہم ہے۔ شھدین حال ہے۔ اس آیت کا تاویل میں علماء کا اختلاف ہے پس کہا گیا ہے : اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے بعد ان کے لیے کوئی حج نہیں جب اسن میں مسجد حرام سے روکنے کے بارے اعلان کردیا گیا۔ اور بیت اللہ شریف کے امور مثلاً خدمت کرنا، پانی پلانا اور نیابت کی ذمہ داری ادا کرنا مشرکین کے سپرد تھے، تو یہ بیان کردیا گیا کہ وہ اس کے اہل نہیں، بلکہ اس کے اہل مومن ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ حضرت عباس ؓ نے فرمایا : کیا تمہارے محاسن بھی رہیں ؟ انہوں نے کہا : ہاں بیشک ہم مسجد حرام کو آباد کرتے ہیں، کعبہ معظمہ کی خدمت اور دربانی کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ماکان للمشرکین ان یعمروا مسجد اللہ “ اور فرمایا (آیت) ” انما یعمرمسجد اللہ من امن باللہ “ کہ ان دونوں آیتوں میں مشرکین کو مسجد سے روکتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ جب شخص نے اللہ تعالیٰ کو ایک مانا اور اس چیز پر ایمان لایا جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” واقام الصلوۃ “ یعنی پانچوں نمازوں کو قائم کیا (آیت) ” ولم یخش الا اللہ “ اور اس نے اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کی (آیت) ” فعسی اولیک “ یعنی یہ لوگ ہدایت پانے والے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اپنے نبی کریم ﷺ کے لئے (آیت) عسی ان یبعثک ربک…
Read the full tafseer →مَا كَانَ [ نہیں ہے ] لِلْمُشْرِكِيْنَ [ مشرکین ] اَنْ [ کہ ] يَّعْمُرُوْا [ وہ لوگ آباد کریں ] مَسٰجِدَ اللّٰهِ [ اللہ کی مسجدوں کو ] شٰهِدِيْنَ [ گواہ ہوتے ہوئے ] عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ [ اپنے اوپر ] بِالْكُفْرِ ۭ [ کفر کے ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ہیں ] حَبِطَتْ [ (کہ ) اکارت ہوئے ] اَعْمَالُهُمْ ښ [ جن کے اعمال ] وَفِي النَّارِ [ اور آگ میں ہی ] هُمْ [ وہ لوگ ] خٰلِدُوْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →مشرکین اس کے اہل نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کو آباد کریں
معالم التنزیل (ص 273 ج 2) میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب غزوۂ بدر کے موقع پر حضرت عباس کو قید کرلیا گیا تو مسلمانوں نے عباس کو عار دلائی کہ تم کفر اختیار کیے ہوئے ہو اور اور تمہارے اندر قطع رحمی بھی ہے (کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو مشرکین نے مکہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا تھا) اور اس بارے میں حضرت علی نے سخت باتیں کہہ دیں تو اس کے جواب میں عباس نے کہا کہ آپ لوگ ہماری برائیاں تو ذکر کرتے ہیں کیا بات ہے کہ ہماری خوبیاں ذکر نہیں کرتے حضرت علی نے فرمایا کیا تمہارے پاس خوبیاں بھی ہیں ؟ عباس نے کہا کہ ہاں ! ہم مسجد حرام کو آباد کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–24
مشرکین عرب کے فخر اور ناز کا جواب اور اعمال فاضلہ کا بیان
قال اللہ تعالیٰ ۔ ماکان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ عندہ اجر عظیم۔
(ربط): سورت کا آغاز مشرکین کی براءت اور بیزاری سے فرمایا بعد ازاں ان کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ اسی قابل ہیں کہ ان سے براءت اور بیزار اختیار کی جائے ان لوگوں کا خدا تعالیٰ کے یہاں کوئی مرتبہ نہیں۔ چونکہ یہ اعلان براءت ان کی اہانت اور تحقیر پر مبنی تھا اس لیے مشرکین مکہ نے اپنی فضیلت ثابت کرنے کے لیے بڑے فخر اور ناز سے یہ کہا کہ ہم بہت سی خاص حمیدہ اور افعال پسندیدہ کے حامل ہیں ہم سے براءت اور بیزاری کی کوئی وجہ نہیں ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
15: یہ قتال کے مانع ثانی کا جواب ہے۔ مانع یہ تھا کہ مشرکین بیت اللہ کی تعمیر اور اس قسم کے دوسرے نیک اعمال بجا لاتے ہیں لہذا ان سے قتال کیونکر روا ہے۔ فرمایا مشرکین کا کوئی عمل قبول نہیں۔ کفر و شرک کی حالت میں ان کے تمام نیک اعمال ضائع اور رائیگاں ہیں۔ لہذا ان کے دوسرے شر انگیز اعمال کی وجہ سے ان سے جہاد لازم ہے۔ “ اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ الخ ” بیت اللہ کی تعمیر اور دوسرے اعمال صالحہ صرف انہی لوگوں سے قبول کیے جاتے ہیں جو شرک سے توبہ کریں۔ خدائے واحد پر اور آخر پر ایمان لائیں اور تمام اعمال شریعت کے مطابق بجا لائیں۔ “ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ ” اور صرف اللہ سے ڈرے اور معبودان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
ربط ِ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کے مشروع ہونے کی وجوہات بیان فرمائی تھیں ان میں سے بعض وجوہات وہ تھیں جو مشرکین کی طرف سے پیدا ہوئیں مثلا دین میں طعن کرنا اور اسے مٹانے کی کوشش کرنا ، عہدوپیمان کو توڑنا ، نبی کو اس کے گھر سے نکالنا اور جنگ میں پہل کرنا وغیرہ ، پھر اللہ تعالیٰ نے جہاد کا ایک سبب یہ بھی بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا امتحان لینا چاہتا ہے اور وہ اس بات کو ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ کون ہے جو جہاد میں بخوشی حصہ لیتا ہے اور کون ہے جو پیچھے رہتا ہے۔
مشرکین اور مساجد
سورۃ ہذا کی ابتداء میں مشرکین کے ساتھ بیزاری اور جنگ کا اعلان کیا گیا تھا ( آیت) ” براء ۃ من اللہ…
Read the full tafseer →مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللہِ شٰہِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ بِالْكُفْرِ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ 0 ۚۖ وَفِي النَّارِ ہُمْ خٰلِدُوْنَ 17
شرك
وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان :
أحدهما : الشِّرْكُ العظیم،
وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ،
والثاني : الشِّرْكُ الصّغير،
وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
[ الأعراف/ 190] ،
( ش ر ک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
ترکیب : شاھدین حال ہے فاعل یعمروا سے ‘ ان یعمروا کان کا اسم للمشرکین خبر۔ فی النار ظرف مقدم ہے تخصیص کے لئے۔ من موصولہ آمن و معطوف تھا صلہ سب فاعل یعمر سقایۃ مصدر کا لعمارۃ و صحت الیاء لما کانت بعد ھاتاء التانیث والتقدیر اجعلتم اصحاب السقایۃ الخ مثل من امن الذین الخ مبتداء اعظم خبر۔
تفسیر : مکہ کے بت پرست قدیم سے خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے تھے اور ایام حج میں لوگوں کو پانی بھی پلایا کرتے تھے۔ اسلام کے مقابلہ میں وہ اپنی نیکیوں پر فخر کرتے تھے کہ ہم مجاور بیت اللہ اور اس کے خادم ہیں۔ ہم سے بڑھ کر خدا کے نزدیک کس کا رتبہ ہے ؟ پھر اس پر محمد ﷺ ہم سے لڑنے اور عہد تمام کردینے کا حکم دیتا ہے۔ چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
مَاکَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰہِ شٰھِدِیْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ بِالْکُفْرِطاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ ج وَفِی النَّارِ ھُمْ خٰلِدُوْنَ اِنَّمَا یَعْمُرُمَسٰجِدَاللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِوَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰٓی اُولٰٓئِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ (التوبۃ : 17، 18)
(مشرکین کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں اس حال میں کہ وہ خود اپنے نفسوں پر کفر کے گواہ ہیں، ان لوگوں کے سارے اعمال برباد ہوگئے اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں۔ اللہ کی مسجدوں کو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین اور کفار کے ساتھ اس لیے بھی قتال کرنے کا حکم ہوا۔ تاکہ ان سے حرم ہمیشہ کے لیے خالی کروالیا جائے۔
سورۃ التوبہ کے تعارف میں عرض کیا تھا کہ اس کی اکثر آیات فتح مکہ کے موقع پر نازل ہوئیں اس لیے قتال فی سبیل اللہ کا حکم دیتے ہوئے مشرکین مکہ کی اس حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے جس بناء پر وہ پوری دنیا میں بالخصوص سرزمین عرب میں معزز اور محترم جانے جاتے تھے۔ لوگوں کی نظروں میں یہ اللہ کے گھر کے متولی اور خدمت گار تھے جس وجہ سے ان کا احترام کیا جاتا تھا لوگ سمجھتے کہ ان میں کوئی خاص خوبی نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ انھیں کیونکر اپنے گھر کا متولی اور خدمت گار بناتا۔ اس بنا پر لوگ…
Read the full tafseer →مشرک اللہ کی مسجد کو آباد کرنے والا کیسے ؟
آیت 17: مَاکَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ (مشرکین اس لائق نہیں) ان کے لئے درست اور مناسب نہیں اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰہِ (کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کو آباد کریں) قراءت : مکی، بصری نے مَسْجِدَ اللّٰہِ پڑھا اور اس سے مسجد حرام مراد لی۔ نمبر : 1 قراءت میں جمع اس لئے لائے کہ قبلہ مساجد وہی ہے اور تمام مساجد کا امام بیت اللہ ہے پس اس کی آبادی کرنے والا گویا تمام مساجد کو آباد کرنے والا ہے۔ کیونکہ اس کا ہر حصہ مسجد ہے۔
نمبر 2۔ جنس مساجد مراد ہے۔ جب ان میں اس کی جنس کو درست کرنے کی صلاحیت نہیں تو اس کے تحت مسجد حرام بھی داخل ہوگئی کہ وہ اس کی آبادی کی…
Read the full tafseer →17” ما کان للمشرکین ان یعمروا مسجد اللہ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عباس ؓ کو بدر کے دن قید کیا گیا تو مسلمانوں نے ان کو کفر اور قطع رحمی پر شرم دلائی اور حضرت علی ؓ نے سخت باتیں کیں تو حضرت عباس ؓ کہنے لگے کہ تم ہماری برائیاں ذکر کرتے ہو اور ہماری اچھائیاں ذکر نہیں کرتے تو حضرت علی ؓ نے پوچھا کیا تمہاری بھی کوئی خوبیاں ہیں ؟ انہوں نے کہا ہم مسجد حرام کو آباد و تعمیر کرتے ہیں کعبہ کی چوکیداری کرتے ہیں اور حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے عباس ؓ کی تردید میں یہ آیت اتاری ” ما کان للمشرکین ان یعمروا مسجد اللہ “ یعنی مشرکین کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اللہ کی مساجد کو تعمیر کریں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
17۔ 22۔ صحیح مسلم ابوداؤد صحیح ابن حبان تفسیر ابن ابی حاتم میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں قریش کے ستر آدمی جو گرفتار ہوئے جن میں حضرت عباس ؓ بھی تھے تو مسلمانوں نے ان ستر آدمیوں کے روبرو بت پرستی اور شرک کی مذمت بیان کی یہ مذمت سن کر حضرت عباس ؓ نے کہا کہ ہم بھی مکہ میں اچھے کاموں میں لگے ہوئے تھے مسجد حرام کو آباد رکھتے تھے حاجیوں کو پانی پلاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ بغیر خالص السلام کے یہ اچھے کام اللہ کے نزدیک کچھ قبول نہیں اس سے معلوم ہوا بغیر صفائی عقیدہ کے کوئی ظاہری عمل قبول نہیں ہوتا۔ یہ اچھے کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
آیت 16
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو جہاد کا حکم دینے کے بعد ان سے فرماتا ہے : (آیت) ” کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم چھوٹ جاؤ گے “ یعنی تمہیں کسی آزمئاش اور امتحان میں مبتلا کئے بغیر اور تمہیں کوئی ایسا حکم دیئے بغیر چھوڑ دیا جائے گا جس سے سچے اور جھوٹے کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ (ولما
حا لان کہ ابھی معلوم نہیں کیا اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جنہوں نے جہاد کیا ہے “ یعنی ایسا علم جو اس چیز کو خارج میں ظاہر کردے جو قوت میں موجود ہے، تاکہ اس پر ثواب و عقاب مرتب ہو۔ پس ان لوگوں کو جان لے جو اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے اس کے راستے میں جہاد کرتے ہیں۔” اور نہیں بنایا انہوں نے اللہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
مساجد اللہ پر تولیت صرف مسلمانوں کی ہو
قول باری ہے (ما کان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ۔ مشرکین کا یہ کام نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے مجاور اور خادم بنیں) عمارۃ المسجد کے دو معنی ہیں۔ اول مسجد کی زیارت اور اس میں موجودگی یعنی اسے آباد کرنا، دوم مسجد کی تعمیر اور اس کے شکستہ حصوں کی مرمت و تجدید۔ اس لئے کہ جب کوئی زیارت کرے تو کہا جاتا ہے۔ اعتمر فلان (فلاں نے زیارت کی) اسی سے عمرہ کا لفظ ماخوذ ہے اس میں بیت اللہ کی زیارت ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص بکثرت مساجد میں آتا جاتا ہو اور وہاں وقت گزارتا ہو تو کہا جاتا ہے ’ دفلان من عمار المساجد “ (فلاں شخص مساجد کو آباد رکھنے والوں میں سے ہے) اسی طرح اگر…
Read the full tafseer →40 مشرک کا کام نہیں کہ وہ مسجد کو آباد کرے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ مشرکوں کا یہ کام نہیں کہ وہ آباد کریں اللہ کی مسجدوں کو ( اور وہ انکے متولی اور مجاور بنیں) درآنحالیکہ وہ خود گواہی دے رہے ہوں اپنے اوپر کفر کی۔ اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ مسجد تو توحید و ایمان کا مرکز ہوتا ہے۔ اس کو آباد کرنا بھی مومن موحد ہی کام ہوسکتا ہے، نہ کہ مشرک کا۔ مگر واضح رہے کہ یہاں آبادی سے مراد غلبہ اور کنٹرول والی آبادی ہے کہ یہ صرف مسلمان کا حق ہے۔ پس غیر مسلم و مشرک کے لئے مسجد کی تعمیر یا مرمت وغیرہ کا کوئی ایسا کام کرنا منع نہیں جو کہ مسلمانوں کی ماتحتی میں اور انہی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
مساجد کو آباد کرنیوالے کون ہیں ؟
تشریح : ان آیات میں صاف طور پر حکم دے دیا گیا ہے کہ اب مسجد حرام کو ان کفار و مشرکین سے بالکل خالی کروا لیا جائے جو اس کے متولی بنے بیٹھے ہیں کیونکہ وہ بت پرستی اور کفر و شرک کے راستے کو اپنائے ہوئے ہیں۔ بھلا یہ اللہ کا گھر بت پرستوں کی حفاظت میں کس طرح رہ سکتا ہے ؟ اللہ کا گھر اللہ والوں کے لیے ہی مخصوص ہوسکتا ہے اور اللہ والے وہ ہیں جو اللہ کو خالق ومالک مانتے ہیں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔ قیامت کے دن پر یقین رکھتے ہیں نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی دوسری طاقت کو نہ مانتے ہیں نہ ڈرتے ہیں کیونکہ وہ صرف اللہ سے ڈرتے ہیں۔ ایسے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
آیات 17 تا 24
اسرار و معارف
فتح مکہ کے بعد اگر چہ بیت اللہ کو بتوں سے پاک کردیا گیا تھا مگر مشرکین اپنی رسومات تو اپنے ہی طور پر ادا کرتے تھے اور یہ ضروری تھا کہ بیت اللہ کو ان خرافات سے بھی پاک کیا جاتا مگر اس میں رکاوٹ یہ تھی کہ بعض قبائل کے ساتھ مسلمانوں کے معادہ صلح کی مدت باقی تھی اور انھوں نے عہد شکنی بھی نہ کی تھی لہٰذا ایک سال تک مہلت دی گئی اس میں وہ مدت بھی گزرگئی اور کوئی نیا معاہدہ نہ کیا گیا بلکہ 9 ھجری کے حج میں آپ ﷺ نے اعلان کرادیا کہ آئندہ کوئی مشرک بیت اللہ کی حدود میں داخل نہ ہوگا اور نہ کافر انہ رسوم ادا کرسکے گا۔
مشرکین اپنے زعم باطل میں بتوں کی پوجا اور عمارت کی تعمیر…
Read the full tafseer →ف 1 یا ایسے کام کرتے ہیں جن سے ان کا مشرک ہونا صاف معلوم ہوجاتا ہو۔ جیسے بتوں یا قبروں یا ستاروں کی پوجا کرنا یا زبان ایسی باتیں نکالتے ہوں جو صریحا شرک ہیں جیسے قریش جب تلبیہ کرتے تو یوں کہتے : لبیک لا شریک لک الا شریکا ھو لک تملکہ وما ملک ( اللہ ہم حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں، مگر وہ شریک کا تو مالک ہے اور وہ کسی چیز کا مالک نہیں ہے۔ ( وحیدی) مطلب یہ ہے کہ مسجدیں جو اللہ تعالیٰ کے نام پر اراسی کی عبادت کے لیے بنی ہیں مشرکین کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ انہیں آباد رکھیں ج اور ان کے متولی یا خادم بن کر ان پر اجارہ داری قائم کریں، یہ حکم اگرچہ تمام مساجد کے متعلق ہے مگر یہاں مسجد حرام مراد ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(9:17) ما کان للمشرکین۔ مشرکوں کو یہ روا نہیں۔ ان کو یہ حو نہیں پہنچتا۔ ان کے لئے یہ جائز نہیں۔ ان کا یہ کام نہیں۔
ان تعمروا۔ مضارع منصوب بوجہ عمل ان جمع مذکر غائب۔ عمران مصدر (باب نصر) عمر مادہ۔ وہ آباد کریں۔ (آباد کرنے والوں میں وہاں جاکر نماز پڑھنے والے۔ عبادت کرنے والے متولی۔ مجاور۔ خادم سب شامل ہیں۔
مسجد اللہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول یعمروا کا۔ اللہ کی مسجدیں۔ اگرچہ یہ حکم عام ہے اور اس کا اطلاق تمام مساجد پر ہوسکتا ہے لیکن یہاں مراد مسجد حرام ہے جس میں کعبہ شریف واقع ہے ۔ (یعنی مشرکین مسجد حرام اور کعبہ مکرمہ کے متولی اور مجاور۔ خادم وغیرہ نہیں بن سکتے اور نہ ہی وہ اس میں اب عبادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 22
ان یعمروا (یہ کہ وہ آباد کریں) شھدین (گواہ ہیں (گواہی دینے والے) حبطت ضائع ہوگئی (ضائے ہوگئے) النار (آگ) لم یخش نہیں ڈرتا (نہیں ڈرا) عسی (شاید کہ، امید ہے کہ) المھتدین (ہدایت پانے والے ) اجعلتم (کیا تم نے بنا لیا ہے سقایۃ (پانی پلانا) عمارۃ (تعمیر کرنا، آباد کرنا، بسانا) لایستون (دونوں برابر نہیں ہیں) لایھدی (ہدایت نہیں دیتا ) اعظم (بہت بڑا) الفآئزون (کامیاب ہونے والے) رضوان (خوشنودی) نعیم مقیم (ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ) ابداً (ہمیشہ) اجر عظیم (بہت بڑا اجر، بدلہ)
تشریح :- آیت نمبر 17 تا 22
فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے خانہ کعبہ اور مسجد حرام سے بتوں کو ہٹوا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
جہاد سے حضرت عباس ؓ کی بحث، شرک کی وجہ سے نیک عمل رائیگاں ہوجاتے ہیں
شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں قریش کے ستر آدمی جو گرفتار ہوئے اور ان میں حضور ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ بھی تھے۔ تو مسلمانوں نے ان ستر آدمیوں کے روبرو بت پرستی اور شرک کی مذمت بیان کی۔ یہ مذمت سن کر حضرت عباس ؓ نے کہا :'' ہم بھی مکہ میں اچھے کاموں میں لگے ہوئے تھے۔ مسجد حرام کو آباد رکھتے تھے حاجیوں کو پانی پلاتے تھے ''۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمادیا کہ بغیر اسلام خالص کے یہ اچھے کام اللہ کے نزدیک کچھ قبول نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بغیر صفائی عقیدہ کے کوئی ظاہری عمل قبول نہیں ہوتا۔ یہ بت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
[9] اللہ کو علم تو پہلے ہی سے ہے لیکن ازروئے عدل و انصاف ایک شخص نہ تو کسی جزاء کا مستحق ہوسکتا ہے نہ سزا کا جب تک اس کی صلاحیت اور استعداد کا عملاً ظہور نہیں ہوجاتا۔
Read the full tafseer →(ف 2) غرض یہ ہے کہ بیت اللہ کی تولیت کا مشرکین مکہ کو کوئی استحقاق نہیں کیونکہ وہ بت پرست ہیں اور بانی کعبہ موحد تھا ، اس کی تولیت تو انہی لوگوں کو دی جاسکتی ہے جو مسلک ابراہیم پر کاربند ہیں ، جو مومن ہیں اور صلوۃ وزکوۃ کے پابند ہیں ۔
غرض یہ ہے کہ مساجد پر قبضہ صرف ان لوگوں کا رہے گا جو اللہ کے مشن کو پورا کرتے رہیں گے ، وہ لوگ جنہیں دین سے کوئی واسطہ نہیں جو فسق وفجور میں مبتلا ہیں ، انہیں کیا حق حاصل ہے کہ اللہ کے گھر کی پاسبانی کریں ۔
حل لغات :
ولیجۃ : ولوج سے مشتق ہے جس کے معنی اندر آنے کے ہیں ۔
یہ اس شخص کو کہتے ہیں جو محرم راز دوست وہ مفرد وجمع دونوں کے لئے مستعمل ہے ۔
Read the full tafseer →17 مشرکین کا یہ کام نہیں اور مشرک اس کے اہل نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کریں جبکہ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ خود اپنے کردار اور اپنے اعمال سے اپنے اوپر کفر کی شہادت دے رہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے تمام اعمال ضائع اور خراب ہوئے اور وہ لوگ ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہیں۔
یعنی کفر و شرک کی حالت میں جو بھلے کام بھی کئے جائیں ان پر کوئی اجر مرتب نہیں ہوتا بعض لوگ خانۂ کعبہ کی مجاوری پر فخر کرتے تھے یہ ان کا جواب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ف 6۔ بوجہ اس کے کہ ان کی قبولیت کی شرط نہیں پائی جاتی۔
Read the full tafseer →مساجد کے متولی ہونے کا حق اہل توحید کے سوا کسی دوسرے کو نہیں ہے :
23: اس وقت تک مسجد حرام یعنی بیت اللہ کی تعمیر و ترقی جن ہاتھوں میں تھی وہ مکمل طور پر شرک میں ڈوب چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو مسلمانوں کے ہاتھ میں دے دیا اور نبی کریم ﷺ سے ہجرت کے وقت جو وعدہ فرمایا تھا وہ پورا ہوگیا تو نبی اعظم و آخر ﷺ نے بیت اللہ اور مسجد حرام سے ان تمام بتوں کو نکال باہر پھینکا جن کی مشرکین عبادت کیا کرتے تھے او ضرورت اس بات کی تھی کہ جس طرح بیت اللہ کو بتوں سے پاک کردیا گیا ہے اسی طرح باقی تمام رسومات سے بھی اس کو پاک کردیا جائے جو مشرکین نے محض رواج کے طور پر اپنا لی تھیں اور ان کے لئے اختراعی دلیلیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
Commentary
Mentioned in the previous verses was how crooked the Mushrikin of Makkah were, how they broke their pledges and what they did to defend their false ways in religion. With this in view, Muslims were also brought around to stand up against them. In the last previous verse (16), Muslims have been told that Jihad is a test for them. This test is necessary because it helps in marking out a sincere Muslim from hypocrites and the weak-in-faith. Says the verse: ` Do you think that you will be left alone while Allah has not seen those of you who struggle in jihad and never take anyone,…
Read the full tafseer →