مسلمان بھی آزمائے جائیں گے
یہ ناممکن ہے کہ امتحان بغیر مسلمان بھی چھوڑ دیئے جائیں سچے اور جھوٹے مسلمان کو ظاہر دینا ضروری ہے ولیجہ کے معنی بھیدی اور دخل دینے والے کے ہیں۔ پس سچے وہ ہیں جو جہاد میں آگے بڑھ کر حصہ لیں اور ظاہر باطن میں اللہ رسول کی خیر خواہی اور حمایت کریں ایک قسم کا بیان دوسری قسم کو ظاہر کردیتا تھا اس لیے دوسری قسم کے لوگوں کا بیان چھوڑ دیا۔ ایسی عبارتیں شاعروں کے شعروں میں بھی ہیں ایک جگہ قرآن کریم ہے کہ کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ صرف یہ کہنے سے چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش ہوگی ہی نہیں حالانکہ اگلے مومنوں کی بھی ہم نے آزمائش کی یاد رکھو…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 18
خطاب ہے ان نئے لوگوں سے جو قریب کے زمانہ میں اسلام لائے تھے۔ ان سے ارشاد ہو رہا ہے کہ جب تک تم اس آزمائش سے گزر کر یہ ثابت نہ کردو گے کہ واقعی تم خدا اور اس کے دین کو اپنی جان و مال اور اپنے بھائی بندوں سے بڑھ کر عزیز رکھتے ہو، تم سچے مومن قرار نہیں دیے جاسکتے۔ اب تک تو ظاہر کے لحاظ سے تمہاری پوزیشن یہ ہے کہ اسلام چونکہ مومنین صادقین اور سابقین اوّلین کی جانفشانیوں سے غالب آگیا اور ملک پر چھا گیا اس لیے تم مسلمان ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
چوتھی چیز یہ ارشاد فرمائی (آیت) وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ، یعنی ان میں سے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا اس کی توبہ قبول فرمالیں گے“۔
جس سے معلوم ہوا کہ اس جہاد کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ دشمن کی جماعت میں سے بہت سے لوگوں کو اسلام کی توفیق ہوجائے گی، وہ مسلمان ہوجائیں گے، چناچہ فتح مکہ میں بہت سے سرکش ذلیل و خوار ہوئے اور بہت سے لوگ مشرف باسلام ہوگئے۔
ان آیات میں جن حالات و واقعات کی خبر بطور پشیگوئی دی گئی ہے تاریخ شاہد ہے کہ وہ سب ایک ایک کرکے اسی طرح مشاہدہ میں آئے جس طرح قرآن حکیم نے خبر دی تھی، اس لئے یہ آیات بہت سے معجزات پر مشتمل ہیں۔
Read the full tafseer →اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً ۭ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔
ولیجہ، بطانۃ الاسنان و خاصۃ او من یتخذہ معتمدا علیہ من غیر اھلہ۔ یعنی محرم راز، دوست اور معتمد۔
اوپر ہم اشارہ کر آئے ہیں کہ ہرچند یہاں خطاب باعتبار الفاظ ام ہے لیکن روئے سخن ان مسلمانوں ہی کی طرف ہے جو ابھی اپنے سابق روابط و تعلقات کے بندھنوں سے پوری طرح آزاد نہیں ہوئے تھے اس وجہ سے ان کے لیے یہ اعلان براءت ایک سخت آزمائش بن گیا۔ ان کو خطاب کر کے فرمایا کہ یہ اعلان ایک کسوٹی…
Read the full tafseer →16۔ 1 یعنی بغیر امتحان اور آزمائش کے۔
16۔ 2 گویا جہاد کے ذریعے امتحان لیا گیا۔
16۔ 3 وَ لِیْجَۃ، ُ گہرے اور دلی دوست کو کہتے ہیں مسلمانوں کو چونکہ اللہ اور رسول کے دشمنوں سے محبت کرنے اور دوستانہ تعلقات رکھنے سے منع کیا گیا تھا لہذا یہ بھی آزمائش کا ایک ذریعہ تھا، جس سے مخلص مومنوں کو دوسروں سے ممتاز کیا گیا۔
16۔ 4 مطلب یہ ہے کہ اللہ کو پہلے ہی ہر چیز کا علم ہے۔ لیکن جہاد کی حکمت یہ ہے کہ اس سے مخلص اور غیر مخلص، فرماں بردار اور نافرمان بندے نمایاں ہو کر سامنے آجاتے، جنہیں ہر شخص دیکھ اور پہچان لیتا ہے۔
Read the full tafseer →14: بظاہر اس کا اشارہ ان حضرات کی طرف ہے جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے تھے، اور ابھی تک ان کو کسی جہاد میں شرکت کا موقع نہیں ملا تھا، ورنہ دوسرے صحابہ تو فتح مکہ سے پہلے بہت سی جنگوں میں حصہ لے چکے تھے، ان نو مسلموں سے کہا جارہا ہے کہ ان کو بھی جہاد کے لئے تیار رہنا چاہیے اگرچہ اعلان براءت کے بعد کسی بڑی جنگ کی نوبت نہیں آئی ؛ لیکن ان حضرات کو پوری قوت سے تیار رہنے کی تاکید اس لئے کی گئی ہے کہ وہ اپنی رشتہ داریوں کی وجہ سے کہیں اس اعلان براءت کے تمام تقاضوں پر عمل کرنے سے ہچکچانے نہ لگیں، اسی لئے جہاد کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا گیا کہ وہ اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے سوا کسی سے دوستی یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
تفسیر آیات 13 تا 16:۔
تو یہ پیرا گراف اس لیے آیا ہے کہ اس وقت اسلامی سوسائٹی میں مختلف سطح لوگ تھے اور بعض لوگوں کے دلوں میں یہ کھٹک تھی کہ وہ اس قدر فیصلہ کن اور سخت اقدام کیوں کریں۔ اس نکتے کے بارے میں ہم اس سے قبل تفصیل سے بحث کر آئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں یہ خواہش تھی اور وہ یہ امید بھی رکھتے تھے کہ شاید بقیہ مشرکین بھی اسلام قبول کرلیں گے اور شاید یہ قتال اور سختی ضروری نہ ہو۔ اس کے علاوہ دوسری مصلحتیں بھی ان کے پیش نظر ہوں گی اور وہ یہ ہی سمجھتے ہیں کہ آسان راستہ کیوں اختیار نہ کیا جائے۔
ان آیات میں انہی تصورات ، اندیشوں اور وجوہات کو دفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ماضی قریب و…
Read the full tafseer →5 مشروعیت جہاد کی یہاں ایک اور حکمت بیان فرمائی۔ یعنی ایمان اور بندگی کے زبانی دعوے کرنے والے تو بہت ہیں لیکن امتحان کی کسوٹی پر جب تک کسا نہ جائے کھرا اور کھوٹا ظاہر نہیں ہوتا۔ جہاد کے ذریعہ سے خدا دیکھنا چاہتا ہے کہ کتنے مسلمان ہیں جو اس کی راہ میں جان و مال نثار کرنے کو تیار ہیں اور خدا اور رسول اور مسلمانوں کے سوا کسی کو اپنا راز دار یا خصوصی دوست بنانا نہیں چاہتے، خواہ وہ ان کا کتنا ہی قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہو۔ یہ معیار ہے جس پر مومنین کا ایمان پرکھا جاتا ہے۔ جب تک عملی جہاد نہ ہو صرف زبانی جمع خرچ سے کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ پھر عمل بھی جو کچھ کیا جائے اس کی خبر خدا کو ہے کہ صدق و…
Read the full tafseer →آیت 16 اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَکُوْا وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جٰہَدُوْا مِنْکُمْ
دوسری قوموں کے خلاف برسر پیکار ہونا اور بات ہے ‘ تمہیں اب اپنی قوم کے خلاف جہاد کرنے کے لیے جانا ہے۔ گویا اس حکم کے اندر نسبتاً سخت امتحان ہے۔ چناچہ اللہ تمہارا یہ امتحان بھی لینا چاہتا ہے۔
وَلَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلاَ رَسُوْلِہٖ وَلاَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَۃً ط
یہ دنیوی رشتوں کے خوشنما بندھن جب تک ایمان کی تلوار سے کٹیں گے نہیں ‘ اس وقت تک اللہ اور دین کے ساتھ تمہارا خلوص کیسے ثابت ہوگا !
Read the full tafseer →14 کافروں کو دخیل یا ہمراز بنانے کے مہلک نتائج :۔ یہ خطاب ان مسلمانوں کے لیے ہے جو نئے نئے اسلام لائے تھے۔ ورنہ ابتدائی مہاجرین و انصار تو اس معیار پر، جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے، پہلے ہی کئی بار پورے اتر چکے تھے اور اپنے اس امتحان میں کامیاب ہوچکے تھے اس معیار میں بالخصوص دو باتیں بیان فرمائیں ایک اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد، دوسرے صرف اللہ اس کے رسول اور مومنوں سے ہی دلی اور راز داری کی دوستی۔ یعنی کسی مسلمان کے لیے یہ کسی صورت میں جائز نہیں کہ وہ غیر مسلم کو اپنے معاملات میں دخیل اور اپنا ہم راز بنائے۔ غیر مسلم کو اسلامی حکومت کے کسی ذمہ دار منصب پر فائز کرنا، یا کسی غیر مسلم کو…
Read the full tafseer →27 ۔ (آیت) ” ان تترکوا “۔ یعنی کیا مومنین صادقین یوں ہی بلاامتحان وآزمائش چھوڑ دیئے جائیں گے۔ (آیت) ” ولما یعلم اللہ الذین جھدوا منکم ولم یتخذوا من دون اللہ ولا رسولہ ولا ال مومنین ولیجۃ “۔ یعنی اصل امتحان کا موقع تو اب آیا ہے، جب اپنے عزیزوں، قریبوں سے قتال کرنا ہوگا، اور اللہ اور اسلام کی خاطر اپنے ہر تعلق، ہر محبت کو قربان کرنا پڑے گا۔ (آیت) ” لما یعلم اللہ “۔ اللہ تعالیٰ کا علم ذاتی تحقیقی اور ازلی ہے۔ لیکن معلومات جب تک حدوث میں نہ آئیں، علم الہی کا تعلق فعلی ان سے پیدا نہیں ہوتا۔ اس حقیقت کو یہاں (آیت) ” لما یعلم اللہ “ سے تعبیر کیا ہے۔ (آیت) ” ولا ال مومنین ولیجۃ “۔ اس سے فقہاء نے حجیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
آیت نمبر 8 تا 16
ترجمہ : مشرکوں کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے ؟ یعنی نہیں ہوسکتا، مراد وہ مشرکین ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ (عہد شکنی کر کے) غداری کی، البتہ جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام (حرم) کے قریب حدیبیہ کے مقام پر معاہدہ کیا اور وہ قریش ہیں جن کا ماقبل میں استثنا ہوچکا ہے، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ عہد پر قائم رہیں اور معاہدہ کو نہ توڑیں، تو تم بھی ان کے ساتھ وفاء عہد پر قائم رہو، اور ما شرطیہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ متقیوں سے محبت رکھتا ہے، اور رسول ان کے ساتھ عہد پر قائم رہے یہاں تک کہ قریش نے خزاعہ کے خلاف بنی بکر کی مدد کر کے عہد کو توڑ دیا ان…
Read the full tafseer →ام حسبدتم ان تترکوا او لما یعلم اللہ الذین جاھدوا منکم ولم یتخذوا من دون اللہ ولا رسولہ ولا المؤمنین ولیجۃ ط کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ تم یونہی چھوڑ دئیے جاؤ گے حالانکہ اللہ نے (ظاہر طور پر) ابھی ان لوگوں کو تو تمہارے اندر سے چھانٹا ہی نہیں جنہوں نے (ایسے موقع پر) جہاد کیا اور اللہ اور اللہ کے رسول اور مسلمانوں کے سوا کسی کو خاص دوست نہ بنایا ہو۔
مسلمانوں کو جہاد جب کسی قدر ناگوار ہوا تو اَمْ حَسْبِتُمْ سے خطاب کر کے ان کو توبیخ کی گئی۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ یہ خطاب منافقوں کو ہے۔ اَمْ بمعنی بَلْہے اور استفہام زجر کیلئے ہے۔ اَنْ تُتْرَکُواسے یہ مراد ہے کہ تم کو جہاد کا حکم نہیں دیا جائے گا ‘…
Read the full tafseer →(16) اے مسلمانوں کی جماعت کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ تمہیں یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا اور تمہیں جہاد کا حکم نہیں دیا جائے گا حالانکہ ابھی ظاہری طور پر تو اللہ تعالیٰ نے جہاد فی سبیل اللہ کرنے والوں کو دیکھا ہی نہیں اور جنہوں نے کافروں کو خصوصیت کا دوست نہ بنایا ہو اور اللہ تعالیٰ جہاد وغیرہ میں نیکی اور برائی ہر ایک چیز کو دیکھنے والا ہے۔
Read the full tafseer →اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا : ”وَلِيْجَةً“ ”وَلَجَ یَلِجُ“ (وَعَدَ) سے ہے جس کا معنی داخل ہونا ہے، یعنی دل کے اندر داخل ہوجانے والا، قلبی دوست اور محبوب، جس کے سامنے آدمی اپنے دلی راز بھی رکھ دے۔ مسلمانوں کو حکم ہے کہ کفار کو کسی صورت دلی دوست نہ بناؤ، فرمایا : (لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا يَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا) [ آل عمران : 118 ] ”اپنے سوا کسی کو دلی دوست نہ بناؤ، وہ تمہیں کسی طرح نقصان پہنچانے میں کمی نہیں کرتے۔“ احکام جہاد کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جہاد کی ایک حکمت بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے کھرے اور کھوٹے اہل ایمان کو الگ الگ کرنا…
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : ام حسبتم ایک شے سے دوسری شے کی طرف خروج ہے۔ ان تترکوا یہ سیبویہ کے قول کے مطابق دو مفعلوں کے محل میں ہے۔ اور مبرد کے نزدیک دوسرامفعول حذف کردیا گیا ہے (1) اور کلام کا معنی ہے : ام حسبتم ان تترکو امن غیرء ان تبتلو بما یظھر بما یظھر الموء من و المنافق الظھور الذی یستحق بہ الثواب و العقاب (کیا تم یہ خیال کر رہے ہو کہ تمہیں اس کے بغیر ہی چھوڑ دیا جائے گا کہ تم ایسی شے کے ساتھ آزمائے جائو جس کے ساتھ مومن اور منافق اس طرح ظاہر ہوجاتے ہیں جس کے سبب وہ ثواب و عقاب کے مستحق بنتے ہیں) یہ معنی کئی مقامات پر پہلے گزر چکا ہے۔
ولم یعلم اس کی جزم لما کے سبب ہے اگرچہ ماز ائدہ ہے، کیونکہ سیبویہ…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ام حسبتم ان تترکوا ولما یعلم اللہ الذین جھدوا منکم “ کے بارے میں میرے باپ نے فرمایا کہ (کیا تم گمان کرتے ہو) کہ اللہ تعالیٰ چھوڑ دے انکو آزمائے بغیر۔
2:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولیجۃ “ سے اہل و عیال میں سے خاص افراد مراد ہیں دین کے علاوہ۔
3:۔ عبد بن حمید وابن منذر نے قتادہ (رح) سے فرمایا کہ (آیت) ’ ولیجۃ “ سے مراد ہے مہربانی اور شفقت ورحمت کرنے والا۔
Read the full tafseer →اَمْ [ یا ] حَسِبْتُمْ [ تو لوگوں نے گمان کیا ] اَنْ [ کہ ] [ تُتْرَكُوْا : تمہیں چھوڑ دیا جائے گا ] وَ [ حالانکہ ] لَمَّا يَعْلَمِ [ ابھی تک نہیں جانا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] الَّذِيْنَ [ ان کو جنھوں نے ] جٰهَدُوْا [ جہاد کیا ] مِنْكُمْ [ تم میں سے ] وَلَمْ يَتَّخِذُوْا [ اور انھوں نے نہیں بنایا ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے سوا ] وَلَا رَسُوْلِهٖ [ اور نہ اس کے رسول کے سوا ] وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ [ اور نہ مومنوں کے سوا ] وَلِيْجَةً ۭ [ کسی کو دل کا بھیدی ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] خَبِيْرٌۢ [ باخبر ہے [ بِمَا [ اس سے جو ] تَعْمَلُوْنَ تم لوگ کرتے ہو ]
Read the full tafseer →اس کے بعد جہاد کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا : (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَکُوْا) (الآیۃ) کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ تم یونہی چھوڑ دیئے جاؤ گے اور تمہارا امتحان نہ ہوگا ؟ ایسا خیال نہ کرو۔ امتحان ضرور ہوگا اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جان لے گا جنہوں نے جہاد کیا اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور مومنین سے سچی محبت کرنے والے عملی طور پر ان لوگوں سے علیحدہ ہو کر ممتاز ہوجائیں گے جنہوں نے جہاد سے جان چھڑائی اور جنہوں نے کافروں اور مشرکوں کو راز داربنایا۔ یہ امتحان والا مضمون دیگر آیات میں بھی ہے۔ سورة نساء میں گزر چکا ہے۔
(مَا کَان اللّٰہُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ حَتّٰی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–24
مشرکین عرب کے فخر اور ناز کا جواب اور اعمال فاضلہ کا بیان
قال اللہ تعالیٰ ۔ ماکان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ عندہ اجر عظیم۔
(ربط): سورت کا آغاز مشرکین کی براءت اور بیزاری سے فرمایا بعد ازاں ان کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ اسی قابل ہیں کہ ان سے براءت اور بیزار اختیار کی جائے ان لوگوں کا خدا تعالیٰ کے یہاں کوئی مرتبہ نہیں۔ چونکہ یہ اعلان براءت ان کی اہانت اور تحقیر پر مبنی تھا اس لیے مشرکین مکہ نے اپنی فضیلت ثابت کرنے کے لیے بڑے فخر اور ناز سے یہ کہا کہ ہم بہت سی خاص حمیدہ اور افعال پسندیدہ کے حامل ہیں ہم سے براءت اور بیزاری کی کوئی وجہ نہیں ہم…
Read the full tafseer →14: یہ زجر ہے۔ خطاب مومنین سے ہے یا منافقوں سے جنہیں قتال کا حکم ناگوار محسوس ہوا۔۔ “ وَلِیْجَةً ” راز دار دوست۔
Read the full tafseer →ربطِ آیات :
گذشتہ آیات میں ان اسباب کا ذکر ہوچکا ہے جن کی وجہ سے کفار ومشرکین کے ساتھ جہاد کرنا ضروری ہے وہاں پر تین اسباب بیان فرمائے ہیں ، یعنی ان کی عہد شکنی اخراج رسول اور جنگ میں ابتداء بعض وجوہات کا ذکر اس سے پچھلی آیات میں بھی ہوچکا ہے مثلا یہ کہ اگر وہ اہل ایمان پر غالب آجائیں تو پھر نہ قرابتداری کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ عہدوپیمان کی پاسداری ، بلکہ وہ ایمان والوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اللہ نے ان کی ایک خصلت یہ بھی بیان فرمائی کہ وہ دین پر نکتہ چینی کرتے ہیں دین کے اصولوں پر فضول اعتراضات کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی ذات ، اس کے رسول اور دین کی باتوں پر طعن اور عیب جوئی کرتے…
Read the full tafseer →اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللہُ الَّذِيْنَ جٰہَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ وَلَا رَسُوْلِہٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَۃً 0 ۭ وَاللہُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ 16 ۧ
أَمْ»حرف
إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
ترکیب : قوما موصوف نکثوا وھموا صفت مفعول تقاتلون وھم الخ جملہ حال ہے تقاتلون سے۔ اول مرۃ منصوب ہے بَدْئُوْکُمْ کا ظرف ہو کہ فاللّٰہ مبتداء احق الخ ان تخشوہ مبتداء سے پھر یہ جملہ خبر ہے مبتداء سے ‘ پھر یہ جملہ دال برجزا ان کنتم الخ سے۔ یعذب ویخز وینصر ویشف جواب امر ہیں جو قاتلو ہے ویتوب جملہ مستانفہ ہے ان تترکوا جملہ مفعول حسبتم۔
تفسیر : ان آیات میں کفار سے جنگ کرنے کی ترغیب ہے اور مسلمانوں کو ان سے نہ جنگ کرنے میں عار دلاتا ہے کہ تم ان مشرکوں سے کیوں نہیں لڑتے کہ جنہوں نے عہد توڑ ڈالے اور انہوں نے مکہ سے رسول کے نکالنے کا قصد کیا۔ دارالندوہ میں جمع ہو کر مشورہ کیا تھا جس کی تفصیل اوپر گذری…
Read the full tafseer →اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَکُوْا وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جٰھَدُوْا مِنْکُمْ وَلَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلَا رَسُوْلِہٖ وَلَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَۃً ط وَاللّٰہُ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ ع ( التوبۃ : 16)
(کیا تم نے یہ گمان کررکھا ہے کہ یونہی چھوڑ دیئے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو چھانٹا ہی نہیں جنھوں نے جہاد کیے اور اللہ اور رسول اور مومنین کے سوا کسی کو دوست نہیں بنایا اور جو کچھ تم کررہے ہو اللہ اس سے خوب باخبر ہے۔ )
ایمان کی آزمائش سنت اللہ ہے
اس آیت میں خطاب اگرچہ عام ہے لیکن روئے سخن نئے ایمان لانے والوں کی طرف معلوم ہوتا ہے۔ جو لوگ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قتال فی سبیل اللہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دلوں کو سکون اور سینوں کو ٹھنڈا کرنے کے ساتھ یہ بھی آزمانا چاہتا ہے کہ مسلمان کس حد تک کفار کے بارے میں اپنے دلوں میں نفرت رکھتے ہیں۔
دنیا کی زندگی ہر شخص کے لیے آزمائش اور امتحان گاہ کی حیثیت رکھتی ہے بالخصوص جب کوئی شخص حلقہ اسلام میں داخل ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کئی قسم کی آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے تاکہ دنیا والوں پر ظاہر کیا جائے کہ اللہ اور اس کے رسول کا کلمہ پڑھنے والا کس حد تک ایمان میں پکا اور اپنے مشن میں سچا ہے جس طرح مسلمان کی انفرادی طور پر آزمائش کی جاتی ہے۔ اسی طرح ہی ان کو اجتماعی آزمائشوں کے ذریعے…
Read the full tafseer →مجاہدین کی پہچان کی جائیگی :
آیت 16: اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَکُوْا وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جٰھَدُوْا مِنْکُمْ (کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ تم یوں ہی چھوڑ دیئے جائو گے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ابھی ان لوگوں کو تمہارے اندر سے چھانٹا ہی نہیں جنہوں نے جہاد کیا) : اَم منقطعہ ہے ہمزہ تو بیخ کیلئے ہے کیونکہ حسبان کا معنی پایا جاتا ہے تقدیر یہ ہے لا تترکون علی ما انتم علیہ حتی یتبین المخلص منکم وھم الذین جاہدوا فی سبیل اللّٰہ لوجہ اللّٰہ۔ تم جس حالت میں ہو اس پر چھوڑا نہ جائے گا یہاں تک کہ تم میں سے مخلصوں کو ظاہر نہ کردیا جائے۔ اور وہ وہی ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا صرف…
Read the full tafseer →16” ام حسبتم ان تترکوا “ بعض نے کہا یہ خطاب منافقین کو ہے اور بعض نے کہا ان مئومنین کو خطاب ہے جن پر قتال بھاری تھا تو فرمایا کہ کیا تمہارا خیال ہے کہ تم کو چھوڑ دیا جائے گا اور جہاد کا حکم دے کر تمہارا امتحان نہیں لیا جائے گا تاکہ جھوٹا سچے سے ظاہر ہوجائے۔” ولما یعلم اللہ الذین جھدوا منکم ولم یتخذوا من دون اللہ ولا رسولہ ولا المومنین ولیجۃ “ اندرونی دوست کہ ان کو اپنے راز بیان کریں۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ” ولیجۃ “ بمعنی خیانت ہے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں دھوکہ اور عطاء (رح) فرماتے ہیں اولیاء اور ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں ہر وہ چیز جس کو تو دوسری چیز میں داخل کر دے اور وہ اس میں سے نہ ہو تو یہ…
Read the full tafseer →16۔ اوپر کی آیتوں میں بدعہد لوگوں سے لڑنے کی ترغیب دے کر اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانون کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا کہ کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ دین کی لڑائی سے تمہاری آزمائش نہ ہوگی یوں ہی چھوڑ دئے جاؤ گے مطلب یہ ہے کہ جہاد اسی واسطے فرض کیا گیا ہے کہ خدا مسلمانوں کا امتحان لے اور جانچ لے کہ کون اس کے حکم کا مطیع ہے اور کون اس کی نافرمانی کرتا ہے حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کو نیک وبد سب کا حال معلوم ہے لیکن اس دنیا عالم اسباب میں ابھی تک ہر ایک مسلمان کے ظاہر و باطن کا پورا پورا حال نہیں کھلا ہے اس جہاد کی غرض یہی ہے کہ اصل حال معلوم ہوجائے کہ کون مشرکوں کی طرف داری کرتا ہے اور کون ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
آیت 16
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو جہاد کا حکم دینے کے بعد ان سے فرماتا ہے : (آیت) ” کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم چھوٹ جاؤ گے “ یعنی تمہیں کسی آزمئاش اور امتحان میں مبتلا کئے بغیر اور تمہیں کوئی ایسا حکم دیئے بغیر چھوڑ دیا جائے گا جس سے سچے اور جھوٹے کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ (ولما
حا لان کہ ابھی معلوم نہیں کیا اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جنہوں نے جہاد کیا ہے “ یعنی ایسا علم جو اس چیز کو خارج میں ظاہر کردے جو قوت میں موجود ہے، تاکہ اس پر ثواب و عقاب مرتب ہو۔ پس ان لوگوں کو جان لے جو اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے اس کے راستے میں جہاد کرتے ہیں۔” اور نہیں بنایا انہوں نے اللہ اس…
Read the full tafseer →راہ حق میں آزمائش شرط لازم ہے
قول باری ہے (ام حسبتم ان تترکوا ولما یعلم اللہ الذین جاھدوا منکم ولم یتخذوا من دون اللہ ولا رسولہ ولا المومنین ولیجۃ۔ کیا تم وگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی چھوڑ دیئے جائو گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون وہ لوگ ہیں جنہوں نے ص اس راہ میں) جانفشانی کی اور اللہ اور رسول اور مومنین کے سوا کسی کو دلی دوست نہ بنایا) اس کے معنی یہ ہیں ” کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی چھوڑ دیئے جائو گے حالانکہ ابھی تم نے جہاد نہیں کیا۔ “ اس لئے کہ جب وہ جہاد کریں گے تو اللہ کو ان کی یہ بات معلوم وہ گی۔ علم کے اسم کا اطلاق کر کے اس سے فریضہ جہاد کی…
Read the full tafseer →36 ابتلاء و آزمائش تقاضائے عدل وحکمت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم لوگوں کو یونہی چھوڑ دیا جائے گا۔ استفہام انکار کے لئے ہے۔ یعنی ایسے نہیں ہوسکتا اور ان لوگوں کو ایسے نہیں سمجھنا چاہیئے کہ ان کو آزمائش و امتحان کے بغیر یونہی چھوڑ دیا جائے گا اور یہ یونہی جنت کے وارث بن جائیں گے۔ نہیں ایسے نہیں ہوگا بلکہ کھرے کھوٹے کی تمیز کے لئے ابتلاء و آزمائش ضرور ہونی ہے کہ اسی سے ظاہر اور واضح ہوسکتا ہے کہ کون اپنے دعوائے ایمان میں سچا ہے اور کون جھوٹا ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو تم لوگوں نے اگر یہ سمجھ رکھا تھا کہ تمہیں یونہی چھوڑ دیا جائے گا اور تمہاری کوئی آزمائش…
Read the full tafseer →نومسلموں کے لیے ہدایات
تشریح : اسلام کی ترقیوں، کامیابیوں، فتوحات اور اللہ کی خاص مدد کو دیکھ کر اہل عرب اور آس پاس کے لوگ بہت زیادہ مرعوب ہوئے اور فوج در فوج مسلمان ہونے لگے یا ان کی اطاعت قبول کرنے لگے جیسا کہ پچھلی آیات میں تفصیلاً بتایا جا چکا ہے۔ اب اس آیت میں رب العالمین ان نو مسلموں کو خطاب کر رہے ہیں کہ تم یہ نہ سمجھو کہ کلمہ پڑھا، نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی تو مسلمان ہوگئے۔ بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کی اصلیت اور تمہارے دل کی کیفیات کو خوب اچھی طرح جانتا ہے مگر تمہارے ایمان کی پختگی کا امتحان جہاد سے لیا جائے گا تاکہ تمہارے سچے اور جھوٹے ہونے کا ثبوت تمام لوگوں کو مل جائے۔ جہاد ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–16
آیات 7 تا 16
اسرار و معارف
مشرکین کے وعدوں کا کیا بھر وسہ اور وہ بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک کہ جب انھیں عظمت باری کا احساس ہے نہ عظمت رسالت کا پاس مزاج میں کفر وشرک رچابسا ہوا ہے تو ایسے لوگوں سے خیر کی کیا تو قع کی جاسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ انھوں نے خود بد عہدی کی اور نقصان بھی اٹھایا مسلمانوں نے عہد نبھایا تو فتح دکامرانی سے سرفراز ہوئے سوائے اس جماعت یا ان لوگوں کے جنہوں نے حرم کے نزدیک معاہدہ کیا تھا اگرچہ وہ بھی ابھی تک اسلام کی برکات سے محروم تھے مگر ان سے بھلے تھے کہ انھوں نے عہد نبھایا۔
اچھی بات کی تعریف
گویا اچھے عمل کی تعریف کی جانی چاہیئے خواہ وہ کافر سے ظاہر ہوبھلائی بہرحال…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی انتائی محبوب اور دوست، اس شرط کے ذکر سے مقصد یہ ہے کہ جہاد تو منافق بھی شریک ہوجاتے ہیں مگر یہ جہاد مقبول نہیں ہوتا تا وقتیکہ ظاہر وہ باطن میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی خیر خواہی نہ ہو۔ ( ابن کثیر)9 مطلب یہ ہے کہ تمہیں یقینا آزمائش کی بھٹی سے گزار کر رہے گا تاکہ پتہ چل جائے کہ تم میں وقعہ کون سچا اور مخلص تھا اور کون جھوٹا اور منا فق اشارہ ہے اس طرف کہ جہاد کی مشرو عیت کی ایک حکمت مومنین ثابت قدمی کو جا نچنا بھی ہے، یہ معنی نہیں ہیں کے بغیر کوئی جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا، ( نیز دیکھئے سوہ عنکبوت آیت 1 ۔ 3 و آل عمران آیت 179)
Read the full tafseer →(9:16) حسبتم۔ تم نے گمان کیا۔ تم نے خیال کیا۔ ماضی بمعنی مضارع ۔ تم گمان کر رہے ہو۔ تم خیال کر رہے ہو۔ حسبان مصدر۔ صیغہ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تترکوا۔ تم چھوڑ دئیے جاؤ گے۔ ترک سے مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ ان کے عمل سے نون اعرابی گرگیا۔
لما۔ حرف جازم ہے مضارع پر داخل ہوکر اس کو جزم دیتا ہے اور ماضی منفی کے معنی میں کردیتا ہے۔ مثال کے لئے ملاحظہ ہو (2:214 اور 49:14) ۔ لما پر تفصیلی بحث کے لئے ملاحظہ ہو (2:214)
یعلم۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل لما۔ اس نے نہیں جانا۔ اس نے معلوم نہیں کیا۔ لما یعلم اللہ اللہ تعالیٰ نے ابھی تک معلوم نہیں کیا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا علم کسی امر کے وقوع ہونے پر موقوف نہیں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
آیات : 13 تا 16
لغات القرآن۔
ھموا۔ انہوں نے ارادہ کیا۔ اخراج۔ نکالنا۔ بدء وا۔ انہوں نے ابتدا کی۔ اول مرۃ۔ پہلی مرتبہ۔ اتخشون۔ کیا تم ڈرتے ہو۔ احق۔ زیادہ حق دار ہے۔ ان تخشوہ۔ یہ کہ تم اسے ڈرو۔ یخزی۔ وہ رسوا کرے گا۔ یشف۔ شفا دے گا۔ صدور۔ (صدر) ۔ سینے۔ یذھب۔ دور کردے گا۔ غیظ۔ غصہ ۔ ام حسبتم۔ کیا تم نے سمجھ لیا۔ ان تترکوا۔ یہ کہ چھوڑ دئیے جائو گے۔ لما یعلم۔ ابھی تو معلوم ہی نہیں ہوا۔ لم یتخذوا۔ نہیں بنایا۔ ولیجۃ۔ گہرا دوست۔ جگری دوست۔
تشریح :
فتح مکہ کے بعد اگر چہ مشرکین کا زور اور جنگی طاقت دم توڑ چکی تھی لیکن سانپ ابھی تک سانس لے رہا تھا دین اسلام کی پالیس یہ ہے کہ اللہ و رسول کے دشمنوں سے جس…
Read the full tafseer →مسلمانوں کی جانچ
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مخاطب ٹھراکر فرمایا کہ کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ دین کی لڑائی سے تمہاری آزمائش نہ ہوگی، یونہی چھوڑ دیئے جاؤگے۔ یعنی جہاد اسی واسطے فرض کیا گیا ہے کہ خدا مسلمانوں کا امتحان لے اور جانچ لے کہ کون اس کے حکم کا مطیع ہے اور کون اس کی نافرمانی کرتا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کو نیک و بد سب کا حال معلوم ہے مگر اللہ تعالیٰ نے سزا وجزا کا دارومدار اپنے علم ازلی پر نہیں رکھا ہے اس لئے اس نے اس جہاد کیا حکم دیا ہے تاکہ ہر ایک شخص کے اصلی حال سے لوگوں کو واقفیت ہوجاوے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
[9] اللہ کو علم تو پہلے ہی سے ہے لیکن ازروئے عدل و انصاف ایک شخص نہ تو کسی جزاء کا مستحق ہوسکتا ہے نہ سزا کا جب تک اس کی صلاحیت اور استعداد کا عملاً ظہور نہیں ہوجاتا۔
Read the full tafseer →(ف 1) غرض ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو امتحان میں ڈالتا ہے اور جب تک مجاہدین اور وہ لوگ جو صرف مسلمانوں کے دوست ہیں ، عام منافقین سے الگ اور ممتاز نہ ہوجائیں ، اللہ برابر ابتلاء آزمائش کے مواقع پیدا کرتا رہتا ہے ۔
(آیت) ” ولما یعلم اللہ “ سے مقصود یہ ہے کہ وہ جب تک ان سے جہاد اور اسلام دوستی کو محسوس طور پر خدا کے علم میں نہ لے آئیں کیونکہ خدا تو بہرحال عالم ہے ۔
Read the full tafseer →16 کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم بلا کسی امتحان و آزمائش کے یوں ہی چھوڑ دیئے جائوگے حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو معلوم نہیں کیا اور ان کو بھی ظاہر نہیں کیا جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا ہو اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے سوا کسی کو اپنا بھیدی اور خصوصی راز دار نہ بنایا ہو اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب کاموں کی پوری پوری خبر ہے۔ یعنی جہاد اور جہاد میں جو باتیں پیش آتی ہیں مثلاً رازداری وغیرہ ان سب باتوں کی آزمائش نہ ہوجائے تو تم کو یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا اس کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے۔ اگر امتحان میں کمزور ثابت ہوگے تو سزا ملے گی اور اگر کامیاب ثابت ہوگے تو اجر وثواب سے نوازے…
Read the full tafseer →ف 4۔ جس کے ظاہر ہونے کا اچھاذریعہ ایسے موقع کا جہاد ہے جہاں مقابلہ اپنے اعزہ و اقارب سے ہو پورا امتحان ہوجاتا ہے کہ کون اللہ کو چاہتا ہے اور کون برادری کو۔
5۔ اور مشرکین کے شنائع مذکور تھے چونکہ ان کو اپنے بعض اعمال پر جیسے مسجد حرام کی خدمت اور حجاج کا پانی پلانا وغیرہ افتخار تھا اس لیے آگے مضمون سابق کی تمیم کے لیے ان کے افتخار کا ان چند آیتوں میں جواب دیتے ہیں اور اسی کے ضمن میں مسلمانوں کے ایک اختلافی مسئلہ کا جس میں اس وقت کلام ہوا تھا کہ ایمان کے بعض افضل اعمال عمارت مسجد حرام ہے یا سقایہ حاج یا جہاد آیت اجعلتم الخ۔ میں جواب دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →نئے مسلمانوں سے خطاب کہ تم کو بھی اب بغیر آزمائش نہیں چھوڑا جائے گا :
21: اس سنت اللہ کا بیان کہ یہاں جو بھی آتا ہے اس کی ہر طرح سے آزمائش کی جاتی ہے۔ پہلے ایمان لانے والوں کی آزمائش دکھ اور مصیبت میں مبتلا کر کے کی گئی جس امتحان میں کامیابی کے ناطے سے تم کو حکومت و سرداری مل گئی اور مشرکین کو تہس نہس کردیا گیا اب تمہارا امتحان سابقون الاولون کی قربانیوں کے نتیجہ میں حکومت و سرداری دے کر کیا جا رہا ہے اس لئے جب تک تم بھی اس آزمائش سے گزر کر یہ ثابت نہ کردو گے کہ واقعی تم اللہ اور اس کے رسول اور دین اسلام کو اپنی جان و مال اور اپنے بھائی بندوں سے جو ابھی تک مکہ میں ہیں اور ہجرت کر کے مدینہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
Commentary
Mentioned in the previous verses was how crooked the Mushrikin of Makkah were, how they broke their pledges and what they did to defend their false ways in religion. With this in view, Muslims were also brought around to stand up against them. In the last previous verse (16), Muslims have been told that Jihad is a test for them. This test is necessary because it helps in marking out a sincere Muslim from hypocrites and the weak-in-faith. Says the verse: ` Do you think that you will be left alone while Allah has not seen those of you who struggle in jihad and never take anyone,…
Read the full tafseer →