At-Tawba 9:15

At-Tawba · from ayah 15

9:15

وَیُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ ؕ— وَیَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ ؕ— وَاللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ ۟وَيُذۡهِبۡ غَيۡظَ قُلُوۡبِهِمۡ‌ ؕ وَ يَتُوۡبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ

اور ان کے دلوں سے غصہ دور کرے گا اور جس پر چاہے گا رحمت کرے گا۔ اور خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And remove the fury in the believers' hearts. And Allah turns in forgiveness to whom He wills; and Allah is Knowing and Wise.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:15

اور ان کے قلوب کی جلن مٹا دے گا، اور جسے چاہے گا توبہ کی توفیق بھی دے گا اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کے دلوں سے غصہ دور کرے گا اور جس پر چاہے گا رحمت کرے گا۔ اور خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان کے دل کا غم وغصہ دور کرے گا، اور وه جس کی طرف چاہتا ہے رحمت سے توجہ فرماتا ہے۔ اللہ جانتا بوجھتا حکمت واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان کے دل کی کڑھن دور کردے، اور جس کی چاہے توبہ قبول کرلے اور اللہ کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان کے دلوں کی گھٹن دور فرمائے گا اور اللہ جس کی چاہے تو یہ قبول فرمائے اور اللہ علم و حکمت والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان کے دلوں کا غم و غصہ دور فرمائے گا اور جس کی چاہے گا توبہ قبول فرمائے گا، اور اللہ بڑے علم والا بڑی حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان کے دلوں کا غصہ دور کرے گا اور اللہ تو بہ کی توفیق دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ان کے دلوں کا غصہ دور کردے گا۔ اور اللہ جسے چاہے گا توبہ کی توفیق بھی دے دے گا۔ اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کے دلوں کا غم و غصہ دور فرمائے گا اور جن کو چاہے گا اللہ توبہ کی توفیق دے گا اللہ علم و حکمت والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور دور فرمادے گا ان کے دلوں کی جلن کو، اور وہ توبہ نصیب فرمائے گا جس کو چاہے گا، اور اللہ بڑا ہی جاننے والا، نہایت ہی حکمت والا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان کے دلوں سے جھنجلاہٹ کو دور کرے گا۔ اور اللہ جس پر وہ چاہے گا رحمت کے ساتھ توجہ کرے گا اور اللہ بڑا علم والا ہے بڑا حکمت والا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان کے دلوں کے غصہ کو نکال دے گا اور اللہ جس کو چاہے گا توبہ کی توفیق دے گا۔ اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کے دلوں سے غصہ دور کرے گا اور جس پر چاہے گا رجوع (توبہ کی توفیق عطا) کرے گا۔ اور اللہ سب کچھ جانتا ہے حکمت والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and will remove rage from their hearts, and will enable whomsoever He wills to repent. Allah is All-Knowing, All-Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and remove the rage of their hearts. And Allah relents to whomsoever He wills. Allah is (All-) Knowing, (All-) Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

and remove the rage of their hearts. And Allah relents to whomsoever He wills. Allah is (All-) Knowing, (All-) Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And remove the anger of their (believers') hearts. Allah accepts the repentance of whom He wills. Allah is All-Knowing, All-Wise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And He will remove the anger of their hearts. Allah relenteth toward whom He will. Allah is Knower, Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And remove the fury in the believers' hearts. And Allah turns in forgiveness to whom He wills; and Allah is Knowing and Wise.

— Saheeh International

and appease their anger. God forgives whomever He wants and He is All-knowing and All-wise.

— Muhammad Sarwar

And remove the rage of their hearts; and Allah turns (mercifully) to whom He pleases, and Allah is Knowing, Wise.

— Muhammad Habib Shakir

And He will take away the rage of their hearts. And Allah will relent toward whomsoever He liketh; and Allah is Knowing, Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

And still the indignation of their hearts. For Allah will turn (in mercy) to whom He will; and Allah is All-Knowing, All-Wise.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–15

ظالموں کو ان کے کیفر کردار کو پہنچاؤ مسلمانوں کو پوری طرح جہاد پر آمادہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ یہ وعدہ شکن قسمیں توڑنے والے کفار وہی ہیں جنہوں نے رسول ﷺ کو جلا وطن کرنے کی پوری ٹھان لی تھی چاہتے تھے کہ قید کرلیں یا قتل کر ڈالیں یا دیس نکالا دے دیں ان کے مکر سے اللہ کا مکر کہیں بہتر تھا۔ صرف ایمان کی بناء پر دشمنی کر کے پیغمبر ﷺ کو اور مومنوں کو وطن سے خارج کرتے رھے بھڑ بھڑا کر اٹھ کھڑے ہوتے تھے تاکہ تجھے مکہ شریف سے نکال دیں۔ برائی کی ابتداء بھی انہیں کی طرف سے ہے بدر کے دن لشکر لے کر نکلے حالانکہ معلوم ہوچکا تھا کہ قافلہ بچ کر نکل گیا ہے لیکن تاہم غرور و فخر سے اللہ کے لشکر کو شکست دینے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّوْبَة 17 یہ ایک ہلکا سا اشارہ ہے اس امکان کی طرف جو آگے چل کر واقعہ کی صورت میں نمودار ہوا۔ مسلمان جو یہ سمجھ رہے تھے کہ بس اس اعلان کے ساتھ ہی ملک میں خون کی ندیاں بہ جائیں گی، ان کی اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے اشارۃ انہیں بتایا گیا ہے کہ یہ پالیسی اختیار کرنے میں جہاں اس کا امکان ہے کہ ہنگامہ جنگ برپا ہوگا وہاں اس کا بھی امکان ہے کہ لوگوں کو توبہ کی توفیق نصیب ہوجائے گی۔ لیکن اس اشارہ کو زیادہ نمایاں اس لیے نہیں کیا گیا کہ ایسا کرنے سے ایک طرف تو مسلمانوں کی تیاری جنگ ہلکی پڑجاتی اور دوسری طرف مشرکین کے لیے اس دھمکی کا پہلو بھی خفیف ہوجاتا جس نے انہیں پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–16

چوتھی چیز یہ ارشاد فرمائی (آیت) وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ، یعنی ان میں سے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا اس کی توبہ قبول فرمالیں گے“۔ جس سے معلوم ہوا کہ اس جہاد کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ دشمن کی جماعت میں سے بہت سے لوگوں کو اسلام کی توفیق ہوجائے گی، وہ مسلمان ہوجائیں گے، چناچہ فتح مکہ میں بہت سے سرکش ذلیل و خوار ہوئے اور بہت سے لوگ مشرف باسلام ہوگئے۔ ان آیات میں جن حالات و واقعات کی خبر بطور پشیگوئی دی گئی ہے تاریخ شاہد ہے کہ وہ سب ایک ایک کرکے اسی طرح مشاہدہ میں آئے جس طرح قرآن حکیم نے خبر دی تھی، اس لئے یہ آیات بہت سے معجزات پر مشتمل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 12–15

تفسیر آیات 12 تا 15: وَاِنْ نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ ۙ اِنَّهُمْ لَآ اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ۔ اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ اَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔ قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ۔ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ۭ وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰي…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

15۔ 1 یعنی جب مسلمان کمزور تھے تو یہ مشرکین ان پر ظلم و ستم کرتے تھے جس کی وجہ سے مسلمانوں کے دل ان کی طرف سے بڑے دکھی اور مجروح تھے، جب تمہارے ہاتھوں وہ قتل ہونگے اور ذلت و رسوائی ان کے حصے میں آئے گی تو فطری بات ہے کہ اس سے مظلوم اور ستم رسیدہ مسلمانوں کے کلیجے ٹھنڈے اور دلوں کا غصہ فرو ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

13: یعنی اس کا بھی امکان ہے کہ کفار توبہ کرکے مسلمان ہوجائیں، چنانچہ بہت سے لوگ اس کے بعد واقعی مسلمان ہوئے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 13–16

تفسیر آیات 13 تا 16:۔ تو یہ پیرا گراف اس لیے آیا ہے کہ اس وقت اسلامی سوسائٹی میں مختلف سطح لوگ تھے اور بعض لوگوں کے دلوں میں یہ کھٹک تھی کہ وہ اس قدر فیصلہ کن اور سخت اقدام کیوں کریں۔ اس نکتے کے بارے میں ہم اس سے قبل تفصیل سے بحث کر آئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں یہ خواہش تھی اور وہ یہ امید بھی رکھتے تھے کہ شاید بقیہ مشرکین بھی اسلام قبول کرلیں گے اور شاید یہ قتال اور سختی ضروری نہ ہو۔ اس کے علاوہ دوسری مصلحتیں بھی ان کے پیش نظر ہوں گی اور وہ یہ ہی سمجھتے ہیں کہ آسان راستہ کیوں اختیار نہ کیا جائے۔ ان آیات میں انہی تصورات ، اندیشوں اور وجوہات کو دفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ماضی قریب و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 14–15

3 اس آیت میں مشروعیت " جہاد " کی اصل حکمت پر متنبہ فرمایا ہے۔ قرآن کریم میں اقوام ماضیہ کے جو قصے بیان فرمائے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب کوئی قوم کفر و شرارت اور انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب و عداوت میں حد سے بڑھ جاتی تھی تو قدرت کی طرف سے کوئی تباہ کن آسمانی عذاب ان پر نازل کیا جاتا تھا جس سے ان کے سارے مظالم اور کفریات کا دفعۃً خاتمہ ہوجاتا تھا۔ (فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا ۚوَمِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا ۚ وَمَا كَان اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلٰكِنْ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 15 وَیُذْہِبْ غَیْظَ قُلُوْبِہِمْ ط اللہ تعالیٰ اس اقدام کے نتائج کے طور پر مسلمانوں کے سینوں کی جلن کو دور کرے گا اور انہیں ٹھنڈک عطا فرمائے گا۔ مکہ میں ابھی بھی ایسے لوگ موجود تھے جن کو قریش کی طرف سے تکالیف پہنچائی جا رہی تھیں۔ ابھی بھی مسلمان بچوں ‘ عورتوں اور ضعیفوں پر مظالم ڈھائے جا رہے تھے۔ چناچہ جب تمہارے حملے کے نتیجے میں ان ظالموں کی درگت بنے گی تو مظلوم مسلمانوں کے سینوں کی جلن بھی کچھ کم ہوگی۔ وَیَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ اب جو آیت اَمْ حَسِبْتُمْ کے الفاظ سے شروع ہو رہی ہے وہ اپنے خاص انداز اور لہجے کے ساتھ قرآن میں تین مرتبہ آئی ہے۔ دو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 14–15

13 اعلان براءت کے بعد مشرکوں کے وفود کی مدینہ میں آمد اور قبول اسلام :۔ مسلمان یہ سمجھ رہے تھے کہ اس اعلان برأت کے بعد نامعلوم انہیں کیسے تلخ حالات سے دوچار ہونا پڑے گا اور ان کے یہ اندیشے بےجا بھی نہ تھے۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے انہیں دو باتوں کی تلقین فرمائی ایک یہ کہ جہاد کے لیے پوری طرح مستعد رہیں، دوسرے لوگوں سے ڈرنے کے بجائے صرف اللہ سے ڈریں اور اسی پر بھروسہ کریں۔ چناچہ اللہ نے مشرکوں کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور بجائے اس کے کہ انہیں مقابلہ کی سوجھتی وہ وفود کی شکل میں مدینہ آئے اور اسلام قبول کرنے لگے اور ایسے وفود کی تعداد (70) ستر کے قریب شمار کی گئی ہے جیسا کہ سورة نصر میں اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

25 ۔ یہ ذکر ایسے مسلمانوں کا ہے جو خود مقابلہ کی تاب نہیں رکھتے اور کافروں کے غلبہ پر دل ہی دل میں کڑھا کرتے ہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ امور طبعی کاملین میں بھی رہتے ہیں۔ چناچہ بیان صحابہ میں غلیظ کا ذکر موجود ہے۔ 26 ۔ (چنانچہ اپنے علم کامل سے سب کا حال جان کر اپنی حکمت کاملہ سے سب کے مناسب حال احکام جاری فرمائے) (آیت) ” یتوب اللہ علی من یشآء “۔ یعنی اپنی مشیت تکوینی کے ماتحت جس کو چاہے گا، ایمان کی توفیق دے دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–16

آیت نمبر 8 تا 16 ترجمہ : مشرکوں کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے ؟ یعنی نہیں ہوسکتا، مراد وہ مشرکین ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ (عہد شکنی کر کے) غداری کی، البتہ جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام (حرم) کے قریب حدیبیہ کے مقام پر معاہدہ کیا اور وہ قریش ہیں جن کا ماقبل میں استثنا ہوچکا ہے، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ عہد پر قائم رہیں اور معاہدہ کو نہ توڑیں، تو تم بھی ان کے ساتھ وفاء عہد پر قائم رہو، اور ما شرطیہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ متقیوں سے محبت رکھتا ہے، اور رسول ان کے ساتھ عہد پر قائم رہے یہاں تک کہ قریش نے خزاعہ کے خلاف بنی بکر کی مدد کر کے عہد کو توڑ دیا ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویذھب غیظ قلوبھم : اور ان کے دلوں کی بےچینی کو دور کرے گا۔ یعنی قریش نے بنی بکر کی مدد کر کے جو ان کے دلوں میں غصہ کی آگ بھڑکا دی ہے ‘ اس کو (قریش کی ذلت و قتل کے ذریعہ سے) ٹھنڈا کرے گا۔ ابو الشیخ نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول بنی خزاعہ کی بابت ہوا جنہوں نے مکہ میں بنی بکر کو قتل کیا تھا۔ عکرمہ نے بھی یہی کہا ہے کہ یہ آیت بنی خزاعہ کے متعلق نازل ہوئی۔ سدی کا بھی یہی قول ہے کہ قوم مؤمنین سے مراد بنی خزاعہ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے حلیف تھے ‘ بنی بکر کے قتل سے ان کے دلوں کو تسکین حاصل ہوئی تھی۔ ویتوب اللہ لی من یشاء وا اللہ علیم حکیم۔ اور جس کو چاہے گا اللہ توبہ کی توفیق دے دے گا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(15) اور ان کے دلوں کی جلن کو دور کرے گا اور ان میں سے جو توبہ کرے گا، اس پر توجہ فرمائیں گے اور جس نے توبہ کی اور جس نے توبہ نہیں کی سب سے اللہ تعالیٰ باخبر ہیں اور جو ان کے خلاف فیصلہ فرمایا ہے اس میں حکم والے ہیں، یا یہ کہ ان کے قتل اور ان کی شکست کا فیصلہ فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ : اس سے پہلے پانچ الفاظ ”يُعَذِّبْهُمُ“ ”يُخْزِهِمْ“ ”يَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ“ ”يَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ“ اور ”يُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ“ فعل مضارع مجزوم تھے، کیونکہ وہ ”قَاتِلُوْهُمْ“ امر کا جواب تھے کہ لڑنے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ تمہیں یہ پانچ انعام عطا فرمائے گا۔ اب ”وَيَتُوْبُ اللّٰهُ“ مجزوم نہیں بلکہ مرفوع ہے۔ معلوم ہوا یہاں سے نئی بات شروع ہو رہی ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے : ”اور اللہ توبہ کی توفیق دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔“ یہاں اس جملے کے لانے کا مقصد یہ ہے کہ تمہارے جہاد کی صورت میں جب بڑے بڑے سرکشوں کی گردنیں خم ہوں گی، تو وہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 14–15

قولہ تعالیٰ : قاتلوھم یہ امر ہے ( یعنی تم ان سے جنگ کرو) یعذ بھم اللہ یہ جواب امر ہے۔ اور اس کی جزم بمعنی مجازات ہے۔ اور تقدیرعبادت ہے : ان تقاتلوھم یعذبھم اللہ۔۔۔۔۔ الآیہ ( اگر تم ان سے جنگ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں سے انہیں عذاب دے گا اور انہیں رسوا کرے گا اور کے مقابلے میں تمہاری مدد کرے گا اور یوں صحت مند کردے گا اس جماعت کے سینوں کو جو اہل ایمان ہے۔ و یذ ھب غیظ قلوبھم یہ اس پر دلیل ہے کہ ان کا غصہ انتہائی شدید تھا۔ اور حضرت مجاہد رحمتہ اللہ نے کہا ہے : مراد خزاعہ قبیلے والے ہیں جو کہ رسول اللہ ﷺ کے حلیف تھے اور یہ سب معطوف ہے۔ اور اس میں یہ بھی جائز ہے کہ پہلی کلام سے منقطع…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 13–15

1:۔ ابن منذر وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الا تقاتلون قوما نکثوا ایمانہم “ کے بارے میں فرمایا کہ قریش نے نبی کریم ﷺ کے اتحادیوں سے قتال کی اور انکو اور رسول اللہ ﷺ کو نکال دینے کا ارادہ کیا اور انہوں نے یہ خیال کیا کہ یہ نبی کریم ﷺ کی عمر 55 سال ہے جو ہجرت کا ساتواں سال ہے اور انہوں نے اپنے دلوں میں یہ پروگرام بنایا کہ جب وہ لوگ مکہ میں داخل ہوں تو آپ کو اس میں سے نکال دیں گے پس یہ انکا آپ کو نکالنے کا ارادہ تھا لیکن قبیلہ خزاعہ نے اس بات پر ان کی تابعداری نہیں کی۔ جب نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ سے نکل گئے قریش نے خزیمہ سے کہا کہ تم نے ہم کو آپ کے نکالنے سے اندھا کردیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَيُذْهِبْ [ اور وہ لے جائے گا ] غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ۭ [ انے دلوں کے غیظ وغضب کو ] وَيَتُوْبُ [ اور توبہ قبول کرے گا ] اللّٰهُ [ اللہ ] عَلٰي مَنْ [ اس کی جس کی ] يَّشَاۗءُ ۭ [ وہ چاہے گا ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مزید فرمایا (وَ یُذْھِبْ غَیْظَ قُلُوْبِھِمْ ) اور اللہ ان کے دلوں کی جلن کو دور فرما دے گا۔ یہ جملہ اولیٰ پر عطف ہے اور اس کے مفہوم کی تاکید ہے اور اس میں اہل ایمان کی خوشی کو دوسرے الفاظ میں بیان فرما دیا ہے۔ جس سے مبالغہ مقصود ہے، مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان خوب زیادہ خوش ہوں گے۔ صاحب روح المعانی یہ بات لکھنے کے بعد لکھتے ہیں کہ اذہاب الغیظ شفاء صدور سے زیادہ ابلغ ہے اور یہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ترقی ہے۔ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ بعض علماء نے یوں بھی فرمایا ہے کہ شفاء الصدور فتح مکہ کے وعدہ سے ہوگیا اذھاب الغیظ فتح مکہ سے ہوگیا لیکن صاحب روح المعانی اس قول سے راضی نہیں۔ اس کے بعد فرمایا (وَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–24

مشرکین عرب کے فخر اور ناز کا جواب اور اعمال فاضلہ کا بیان قال اللہ تعالیٰ ۔ ماکان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ عندہ اجر عظیم۔ (ربط): سورت کا آغاز مشرکین کی براءت اور بیزاری سے فرمایا بعد ازاں ان کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ اسی قابل ہیں کہ ان سے براءت اور بیزار اختیار کی جائے ان لوگوں کا خدا تعالیٰ کے یہاں کوئی مرتبہ نہیں۔ چونکہ یہ اعلان براءت ان کی اہانت اور تحقیر پر مبنی تھا اس لیے مشرکین مکہ نے اپنی فضیلت ثابت کرنے کے لیے بڑے فخر اور ناز سے یہ کہا کہ ہم بہت سی خاص حمیدہ اور افعال پسندیدہ کے حامل ہیں ہم سے براءت اور بیزاری کی کوئی وجہ نہیں ہم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 14–15

13 مذکورہ بالا تین وجوہ قتال مٰن سے ایک بھی ان سے قتال کا باعث بننے کے لیے کافی ہے چہ جائیکہ تینوں وجوہ موجود ہوں لہذا ان مشرکین سے قتال کرو اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں سے ان کو رسوا کرے گا اور ان کے مقابلے میں تمہاری مدد فرمائے گا۔ اس طرح جن مومنوں کو ان کے ہاتھوں تکلیفیں پہنچیں تھیں وہ خوش ہوں گے اور ان کے دلوں کی جلن دور ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–15

ربطِ آیات : اس سورة کی ابتداء میں کفر اور شرک کرنے والوں سے بیزاری کا اعلان کیا گیا پھر اعلان جنگ کے لیے چار ماہ کی مہلت کا ذکر ہوا ، البتہ عہدوپیمان کی وفا اور اہل ایمان کے خلاف کسی کی مدد نہ کرنے والوں کے ساتھ معاہد کے کی مدت کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر فرمایا کہ جب مقررہ مدت گزر جائے ، تو کفار ومشرکین جہاں بھی ملیں ان کو گھیرو قتل کرو اور کی گھات میں بیٹھو یہاں تک کہ ہو تائب ہو کر نماز پڑھنے لگیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں فرمایا اگر وہ ایسا کرنے لگیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو اور کوئی تعرض نہ کرو پھر فرمایا کہ یہ لوگ عہد و پیمان کے برے کچے ہیں ، اس لیے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ان کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيُذْہِبْ غَيْظَ قُلُوْبِہِمْ۝ 0 ۭ وَيَتُوْبُ اللہُ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ۝ 0 ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۝ 15 ذهب الذَّهَبُ معروف، وربما قيل ذَهَبَةٌ ، ويستعمل ذلک في الأعيان والمعاني، قال اللہ تعالی: وَقالَ إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] ، ( ذ ھ ب ) الذھب ذھب ( ف) بالشیء واذھبتہ لے جانا ۔ یہ اعیان ومعانی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں ۔ غيظ الغَيْظُ : أشدّ غضب، وهو الحرارة التي يجدها الإنسان من فوران دم قلبه، قال : قُلْ مُوتُوا بِغَيْظِكُمْ [ آل عمران/ 119] ، لِيَغِيظَ بِهِمُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–16

ترکیب : قوما موصوف نکثوا وھموا صفت مفعول تقاتلون وھم الخ جملہ حال ہے تقاتلون سے۔ اول مرۃ منصوب ہے بَدْئُوْکُمْ کا ظرف ہو کہ فاللّٰہ مبتداء احق الخ ان تخشوہ مبتداء سے پھر یہ جملہ خبر ہے مبتداء سے ‘ پھر یہ جملہ دال برجزا ان کنتم الخ سے۔ یعذب ویخز وینصر ویشف جواب امر ہیں جو قاتلو ہے ویتوب جملہ مستانفہ ہے ان تترکوا جملہ مفعول حسبتم۔ تفسیر : ان آیات میں کفار سے جنگ کرنے کی ترغیب ہے اور مسلمانوں کو ان سے نہ جنگ کرنے میں عار دلاتا ہے کہ تم ان مشرکوں سے کیوں نہیں لڑتے کہ جنہوں نے عہد توڑ ڈالے اور انہوں نے مکہ سے رسول کے نکالنے کا قصد کیا۔ دارالندوہ میں جمع ہو کر مشورہ کیا تھا جس کی تفصیل اوپر گذری…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 13–15

ارشاد فرمایا : اَلاَ تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّکَثُوْٓ ااَیْمَانَھُمْ وَھَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَھُمْ بَدَئُ وْکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ط اَتَخْشَوْنَھُمْ ج فَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْہُ اِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِیْنَ قَاتِلُوْھُمْ یُعَذِّبْھُمُ اللّٰہُ بِاَیْدِیْکُمْ وَیُخْزِھِمْ وَیَنْصُرْکُمْ عَلَیْھِمْ وَیَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ وَیُذْھِبْ غَیْظَ قُلُوْبِھِمْطوَیَتُوْبُ اللّٰہَ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُطوَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ (التوبۃ : 13 تا 15) (کیا تم ایسے لوگوں سے نہ لڑو گے جنھوں نے اپنے قول وقرار توڑ دیئے اور انھوں نے رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا اور وہی ہیں جنھوں نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 14–15

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے کفار اور مشرکین سے قتال کرنے کے اسباب بیان کیے اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ تمہیں اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے لہٰذا تم اللہ کے راستے میں لڑو۔ اللہ تعالیٰ ضرور کفار اور مشرکوں کو تمہارے ہاتھوں ذلیل کرے گا۔ مسلمانوں کو قتال فی سبیل اللہ کا حکم دیتے ہوئے چار خوشخبریاں سنائی گئی ہیں جس میں پہلی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ تم دشمن کے مقابلے میں میدان کا رزار میں اترو اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں انھیں عبرت ناک سزا دے کر دنیا میں ہی ان کو ذلیل و خوار کرے گا تمہاری ان کے مقابلے میں اس قدر مدد فرمائے گا جس سے تمہارے سینے ٹھنڈے ہوجائیں گے۔ ماضی کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مسلمانوں کی بےچینی کا ازالہ : آیت 15: وَیُذْھِبْ غَیْظَ قُلُوْبِھِمْ (اور ان کے دلوں کی بےچینی دور کرے گا) جو کفار کی طرف سے ان کو تکلیف پہنچی اللہ تعالیٰ نے یہ تمام وعدے پورے کردیئے یہ آپکی نبوت کی دلیل و ثبوت ہے۔ وَیَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ یَّشَآ ئُ (اور جس کو چاہے گا اللہ تعالیٰ توبہ کی توفیق دیگا) یہ ابتدائے کلام ہے اور اس بات کی اطلاع ہے کہ بعض اہل مکہ اپنے کفر سے توبہ کریں گے اور یہ واقعہ ہوا ان میں بہت سے لوگ اسلام لائے جیسے ابو سفیان، عکرمہ بن ابی جہل، سہیل بن عمرو۔ ردِمعتزلہ : اس میں معتزلہ کے اس قول کا رد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ تمام کافروں کی توبہ قبول کرے لیکن وہ اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15” ویذھب غیظ قلوبھم دلوں کا قرب اور یہ بنو بکر نے قریش کی مدد کی مسلمانوں کے خلاف اس وجہ سے محسوس کیا ویتوب اللہ علی من یشآئ “ پس اس کو اسلام کی طرف ہدایت کر دے۔ جیسا کہ ابوسفیان اور عکرمہ بن ابوجہل اور سہیل بن عمرو کے ساتھ کیا ” واللہ حکیم علیم “ روایت کیا گیا ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم خزاعہ کے بنو بکر کے علاوہ سب سے تلوار اٹھا لو عصر تک۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–15

14۔ 15۔ اوپر ذکر تھا کہ ان مشرکوں نے اپنا عہد توڑا اور یہ بھی ارادہ کیا کہ رسول خدا کو مکہ سے نکال دینا چاہئے اور پھر باوجود ان باتوں کے چھیڑ انہیں کی طرف سے شروع ہوئی کہ بنوبکر سے اور بنوخزاعہ سے جب لڑائی ہوئی تو بنی بکر کی مدد کو یہ لوگ آمادہ ہوگئے اور خود بھی بنی خزاعہ کو قتل کرنے لگے تو اب ان سے لڑنا بلاشک ضروری ہے اور اگرچہ اللہ ان کے نیست ونا بود کرنے کو کافی ہے لیکن علم الٰہی میں یہ بات ٹھہر چکی ہے کہ تم ان سے لڑو اور اللہ اپنی مدد سے تمہیں ان پر غالب کرے جس سے مسلمانوں کے خیر خواہ بنی خزاعہ کا بدلہ لینے سے مسلمانوں کے دل کی بھڑاس نکلے اور ان کے دل ذرا ٹھنڈے ہوں پھر اللہ پاک نے پیشین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–15

آیت 12 اس بات کا ذکر کرنے کے بعد اگر مشرک معاہدین اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں تو تم بھی اپنے عہد پر قائم رہتے ہوئے ان سے اپنے عہد کو پورا کرو۔۔۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں “ یعنی انہوں نے اپنے حلف کو توڑ دیا اور جنگ میں تمہارے خلاف دشمن کی مدد کی یا تمہیں نقصان پہنچایا (وطعنوا فی دینکم) ” اور تمہارے دین میں طعن کرنے لگیں “ یعنی تمہارے دین میں عیب چینی کی یا اس کا تمسخر اڑایا۔ یہ دین اور قرآن میں ہر قسم کے طعن و تشتیع کو شامل ہے۔ (فقاتلوا ائمۃ الکفر) تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔ “ یعنی قائدین کفر اور ان سرداروں سے لڑو جو اللہ رحمٰن…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 12–15

دین پر زبان درازی ناقابل برداشت ہے قول باری ہے (ان نکثوا ایمانھم من بعد عھدھم و طعنوا فی دینکم فقاتلوا ائمۃ الکفر اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ پھر اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے اوپر حملے شروع کردیں تو کفر کے علمبرداروں سے جنگ کرو) اس میں دلالت موجود ہے کہ معاہدہ ج کرنے والے اگر معاہد کی کسی شق کی خلاف ورزی کے مترکب پاے جائیں اور ہمارے دین کے متعلق زبان درازی پر اترائیں تو وہ معاہدہ توڑنے کے مرتکب قرار پائیں گے۔ اس لئے کہ قسموں کو توڑنے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جن چیزوں کے بارے میں قسمیں کھائی گئی ہوں ان میں سے بعض کی خلاف ورز یکر لی جائے۔ اگر قسم نفی کی صورت میں کھائی گئی ہو، مثلاً کسی نے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

35 اللہ تعالیٰ کی صفت علم وحکمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بڑا ہی جاننے والا نہایت ہی حکمت والا ہے۔ اس لئے وہی جانتا ہے کہ کون توبہ کے لائق اور ایمان کے قابل ہے اور کس کو توبہ کی توفیق ملنی چاہیئے اور کب اور کیسے ؟ کہ وہ ہی سب کچھ جاننے والا، علیم وخبیر اور حکیم مطلق ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور وہ اپنے بندوں سے جو بھی معاملہ فرماتا ہے وہ کامل علم اور نہایت حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کا علم بھی کامل اور اس کی حکمت بھی کامل ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لیے بندئہ مومن کا کام یہ ہے اور یہی ہونا چاہیے کہ وہ اس خدائے علیم و حکیم سے اپنا معاملہ درست رکھے۔ اپنے ظاہر کے اعتبار سے بھی اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–15

کفر کے سرداروں کا علاج تشریح : یہاں ان لوگوں کا ذکر کیا جارہا ہے جو قسمیں کھا کر عہد کر چلے مگر پھر مسلمانوں اور دین کے خلاف کام کرنے لگے اور اپنے عہد کا کوئی پاس نہ کیا۔ تو یقیناً یہ تمہارے خلاف اسلام کے خلاف منظم ہونے کی کوشش میں معلوم ہوتے ہیں تو ایسے کفر کے سرداروں یا لیڈروں کو کچل دو تاکہ فتنہ کھڑا ہونے سے پہلے ہی دبا دیا جائے۔ یہ لوگ تو ہمیشہ سے بےایمان لوگ ہیں۔ انہوں نے پہلے بھی عہد شکنی کی تھی جب آنحضرت ﷺ غزوئہ تبوک کے لیے روانہ ہوئے تو یہود، منافقین اور کفار مدینہ نے مل کر عہد شکنی کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ سے نکال دینے کی سازش کی تھی۔ بھلا یہ ہمیشہ کے عہد شکن لوگ اعتبار کے قابل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 7–16

آیات 7 تا 16 اسرار و معارف مشرکین کے وعدوں کا کیا بھر وسہ اور وہ بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک کہ جب انھیں عظمت باری کا احساس ہے نہ عظمت رسالت کا پاس مزاج میں کفر وشرک رچابسا ہوا ہے تو ایسے لوگوں سے خیر کی کیا تو قع کی جاسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ انھوں نے خود بد عہدی کی اور نقصان بھی اٹھایا مسلمانوں نے عہد نبھایا تو فتح دکامرانی سے سرفراز ہوئے سوائے اس جماعت یا ان لوگوں کے جنہوں نے حرم کے نزدیک معاہدہ کیا تھا اگرچہ وہ بھی ابھی تک اسلام کی برکات سے محروم تھے مگر ان سے بھلے تھے کہ انھوں نے عہد نبھایا۔ اچھی بات کی تعریف گویا اچھے عمل کی تعریف کی جانی چاہیئے خواہ وہ کافر سے ظاہر ہوبھلائی بہرحال…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 14–15

ف 6 ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے پانچ وعدے فرمائے جو سب کے سب پورے ہوئے۔ فاللہ الحمد۔ ( وحیدی)7 چناچہ قریش کے سراداروں اور عام لوگوں میں کتنے ہی ایسے ہیں جنہیں فتح مکہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے توبہ کی تو فیق دی اور وہ مسلمان ہوئے جیسے عکرمہ بن ابی جہل م ابو سفیان اور سہیل بن عمرو وغیر ھم۔ ( وحیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:15) ویذھب غیظ قلوبھم۔ ان کے دلوں کا غصہ دور کر دیگا۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب مؤمنین کی طرف راجع ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–16

آیات : 13 تا 16 لغات القرآن۔ ھموا۔ انہوں نے ارادہ کیا۔ اخراج۔ نکالنا۔ بدء وا۔ انہوں نے ابتدا کی۔ اول مرۃ۔ پہلی مرتبہ۔ اتخشون۔ کیا تم ڈرتے ہو۔ احق۔ زیادہ حق دار ہے۔ ان تخشوہ۔ یہ کہ تم اسے ڈرو۔ یخزی۔ وہ رسوا کرے گا۔ یشف۔ شفا دے گا۔ صدور۔ (صدر) ۔ سینے۔ یذھب۔ دور کردے گا۔ غیظ۔ غصہ ۔ ام حسبتم۔ کیا تم نے سمجھ لیا۔ ان تترکوا۔ یہ کہ چھوڑ دئیے جائو گے۔ لما یعلم۔ ابھی تو معلوم ہی نہیں ہوا۔ لم یتخذوا۔ نہیں بنایا۔ ولیجۃ۔ گہرا دوست۔ جگری دوست۔ تشریح : فتح مکہ کے بعد اگر چہ مشرکین کا زور اور جنگی طاقت دم توڑ چکی تھی لیکن سانپ ابھی تک سانس لے رہا تھا دین اسلام کی پالیس یہ ہے کہ اللہ و رسول کے دشمنوں سے جس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–15

جنگ کا حکم مشرکین نے اپنا عہد توڑا اور یہ بھی ارادہ کیا کہ رسول خدا کو مکہ سے نکال دینا چاہیے اور چھیڑ ان کی طرف سے شروع ہوئی تو اب ان سے لڑنا بلاشک ضرور ہے۔ اللہ اپنی مدد سے تمہیں ان پر غالب کرے جس سے مسلمانوں کے خیر خواہ بنی خزاعہ کا بدلہ لینے سے مسلمانوں کے دل کی بھڑاس نکلے اور ان کے دل ذرا ٹھنڈے ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پیشین گوئی کے طور پر فرمایا کہ ان کفار میں سے بعضے بعضے اپنے کفر سے توبہ بھی کریں گے وہ لوگ خدا کے علم میں ہیں وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے اور جس کی چاہتا ہے توبہ قبول کرتا ہے وہ بڑا جاننے والا ہے۔ اسے اگلی پھلی باتوں کی خبر ہے اور بڑا ہی حکمت والا ہے۔ جتنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–15

[8] یعنی مسلمان ہونے کا عہد کرنے اور اسلام سے اپنی وفاداری کی قسمیں کھانے کے بعد عہد شکنی کریں اور اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں۔ بالفاظ دیگر مسلمان ہونے کے بعد کفر کی طرف پلٹ جائیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–15

اسباب جنگ : (ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ جب مشرکین کی ذہنیت یہ ہے کہ وہ تمہیں نقصان پہنچانے سے باز نہیں آتے جب کہ وہ کسی عہد کی رعایت نہیں رکھتے ، حدیبیہ کے عہد مصالحت کی انہوں نے مخالفت کی جگہ انہوں نے دارالندوہ میں بیٹھ کر حضور ﷺ کو مکہ سے نکال دینے کی سازش کی ، اور جب کہ بدر میں انہوں نے چھیڑ کا آغاز کیا ، کرزبن جابر الفہری کو بھیجدیا ، کہ جا کر مدینے مسلمانوں کے اونٹ چرا لائے ، گویا تین سو میل کے فاصلہ پر بھی وہ مسلمانوں کو چین سے نہیں رہنے دیتے تھے ۔ اور جبکہ وقتا فوقتا انہوں نے اپنے طرز عمل سے دعوت دی ہے تو پھر اب تمہیں ان سے لڑنے میں تامل کیا ہے ۔ ؟ یعنی اب پیمانہ صبر لبریز ہوچکا ہے ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

15 اور مسلمانوں کے دلوں کا غیظ و غضب دور کردے اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہے اسے توبہ کی توفیق بخشے اور اس کی حالت پر توجہ فرمائے اور اللہ تعالیٰ بڑے علم اور بڑی حکمت کا مالک ہے۔ جب دشمن پر غلبہ حاصل ہوجاتا ہے اور دشمن محکوم ہوجاتا ہے تو قدرتی طور پر غم و غصہ میں کمی ہوجاتی ہے اور دل کو جو صدمے پہنچے تھے اس سے شفا میسر ہوتی ہے ان آیتوں میں اسی کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ یعنی مسلمان ہونے کی توفیق دے گا چناچہ فتح مکہ میں بعض لڑے اور ذلیل و مقتول ہوئے اور بعض مسلمان ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مسلمانوں کی ساری جلن دور ہوجائے گی اور وہ رحمت الٰہی میں ہوں گے : 20: مطلب یہ ہے کہ آج تک مسلمانوں کو جو دکھ دیئے گئے اور تکلیفیں پہنچائی گئی ان کا مداوا ہوجائے گا یہ فطرت انسانی کے اس باب کا ذکر ہے جس میں انتقام کی نظر سے جھانکا جاسکتا ہے کہ دکھ پہنچانے والے کو جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو فطرتاً اس کے ہاتھوں جس کو دکھ پہنچا ہو اس کا انتقام اس کی نوک زبان پر آجاتا ہے اور اس کے دل کو تسلی و اطمینان محسوس ہوتا ہے یہاں اس بات کا ذکر ہے کہ آج تک مشرکوں نے مسلمانوں کو بہت دکھ پہنچائے تھے لیکن بدر میں اللہ نے اس صورت حال کا سارا رخ بدل دیا اور میدان بدر میں کم تعداد نہتوں سے زیادہ تعداد ہتوں کو خوب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

1. Finally, it was said: وَيَتُوبُ اللَّـهُ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ (And Allah relents to whomsoever He wills -15). This tells us that there will be an added gain as a result of this Jihad. There will be many from among the enemies who will have the taufiq of Islam. They will become Muslims. So, there were many arrogant ones at the time of the Conquest of Makkah who were put to disgrace while there were many others who embraced Islam. History proves that the circumstances and events predicted in these verses were witnessed one by one as pointed out by the Holy Qur'an. Therefore, these verses…

Read the full tafseer →