At-Tawba 9:14

At-Tawba · from ayah 14

9:14

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَیُخْزِهِمْ وَیَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَیَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ ۟ۙقَاتِلُوۡهُمۡ يُعَذِّبۡهُمُ اللّٰهُ بِاَيۡدِيۡكُمۡ وَيُخۡزِهِمۡ وَيَنۡصُرۡكُمۡ عَلَيۡهِمۡ وَيَشۡفِ صُدُوۡرَ قَوۡمٍ مُّؤۡمِنِيۡنَۙ

ان سے (خوب) لڑو۔ خدا ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب میں ڈالے گا اور رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا بخشے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Fight them; Allah will punish them by your hands and will disgrace them and give you victory over them and satisfy the breasts of a believing people

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:14

ان سے لڑو، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے گا اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان سے (خوب) لڑو۔ خدا ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب میں ڈالے گا اور رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا بخشے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان سے تم جنگ کرو اللہ تعالیٰ انہیں تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا، انہیں ذلیل ورسوا کرے گا، تمہیں ان پر مدد دے گا اور مسلمانوں کے کلیجے ٹھنڈے کرے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان سے جنگ کرو تاکہ اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے، انہیں رسوا کرے، ان کے خلاف تمہاری مدد کرے، اور مومنوں کے دل ٹھنڈے کردے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو ان سے لڑو اللہ انہیں عذاب دیگا تمہارے ہاتھوں اور انہیں رسوا کرے گا اور تمہیں ان پر مدد دے گا اور ایمان والوں کا جی ٹھنڈا کرے گا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تم ان سے جنگ کرو، اللہ تمہارے ہاتھوں انہیں عذاب دے گا اور انہیں رسوا کرے گا اور ان (کے مقابلہ) پر تمہاری مدد فرمائے گا اور ایمان والوں کے سینوں کو شفا بخشے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان سے لڑو، اللہ انھیں تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور انھیں رسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمہاری مدد کرے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا دے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تم ان سے جنگ کرو۔ اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سزا دے گا، انہیں رسوا کرے گا، تمہیں ان پر مدد دے گا اور مسلمانوں کے سینوں (سے جلن مٹا کر ان) کو ٹھنڈا کر دے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم ان سے لڑو، اللہ تمہارے ہاتھوں ان کو سزا دے گا، ان کو رسوا کرے گا، تم کو ان پر غلبہ دے گا، اہل ایمان کے ایک گروہ کے کلیجے ٹھنڈے کرے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

لڑو تم ان سے، اللہ ان کو عذاب دے گا خود تمہارے ہاتھوں، وہ ان کو رسوا کرے گا اور ان کے مقابلے میں تمہاری مدد فرمائے گا، اور شفا بخشے گا ایمانداروں کے سینوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

ان سے لڑو اللہ انہیں تمہارے ہاتھ سے سزا دے گا اور انہیں رسوا کرے گا اور تمہیں ان پر غلبہ دے گا اور مسلمان لوگوں کے دلوں کو ٹھنڈا کرے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تم ان سے جنگ کرو اللہ انہیں عذاب دے گا تمہارے ہاتھوں اور ان کو رسوا کرے گا اور تمہاری مدد کرے گا ان کے مقابلے میں اور بہت سے اہل ایمان کے سینوں کو ٹھنڈک عطافرمائے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان سے خوب لڑو اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں عذاب میں ڈالے گا اور رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مومنین کے دلوں کو ٹھنڈا کرے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Make war on them. Allah will chastise them through you and will humiliate them. He will grant you victory over them, and will soothe the bosoms of those who believe,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Fight them, so that Allah should punish them at your hands and disgrace them, and help you win against them and bring relief to bosoms of the believing people,

— Muhammad Taqi Usmani

Fight them, so that Allah should punish them at your hands and disgrace them, and help you win against them and bring relief to bosoms of the believing people,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Fight against them so that Allah will punish them by your hands, and disgrace them and give you victory over them, and heal the breasts of a believing people,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Fight them! Allah will chastise them at your hands, and He will lay them low and give you victory over them, and He will heal the breasts of folk who are believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Fight them; Allah will punish them by your hands and will disgrace them and give you victory over them and satisfy the breasts of a believing people

— Saheeh International

Fight them. May God punish them by your hands, humiliate them, give you victory over them, delight the hearts of the believers

— Muhammad Sarwar

Fight them, Allah will punish them by your hands and bring them to disgrace, and assist you against them and heal the hearts of a believing people.

— Muhammad Habib Shakir

Fight them. Allah will torment them at your hands, and humiliate them and give you victory over them and heal the breasts of the believing people.

— Abdul Majid Daryabadi

Fight them, and Allah will punish them by your hands, cover them with shame, help you (to victory) over them, heal the breasts of Believers,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–15

ظالموں کو ان کے کیفر کردار کو پہنچاؤ مسلمانوں کو پوری طرح جہاد پر آمادہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ یہ وعدہ شکن قسمیں توڑنے والے کفار وہی ہیں جنہوں نے رسول ﷺ کو جلا وطن کرنے کی پوری ٹھان لی تھی چاہتے تھے کہ قید کرلیں یا قتل کر ڈالیں یا دیس نکالا دے دیں ان کے مکر سے اللہ کا مکر کہیں بہتر تھا۔ صرف ایمان کی بناء پر دشمنی کر کے پیغمبر ﷺ کو اور مومنوں کو وطن سے خارج کرتے رھے بھڑ بھڑا کر اٹھ کھڑے ہوتے تھے تاکہ تجھے مکہ شریف سے نکال دیں۔ برائی کی ابتداء بھی انہیں کی طرف سے ہے بدر کے دن لشکر لے کر نکلے حالانکہ معلوم ہوچکا تھا کہ قافلہ بچ کر نکل گیا ہے لیکن تاہم غرور و فخر سے اللہ کے لشکر کو شکست دینے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 13–14

سورة التَّوْبَة 16 اب تقریر کا رخ مسلمانوں کی طرف پھرتا ہے اور ان کو جنگ پر ابھارنے اور دین کے معاملہ میں کسی رشتہ و قرابت اور کسی دنیوی مصلحت کا لحاظ نہ کرنے کی پُر زور تلقین کی جاتی ہے۔ اس حصہ تقریر کی پوری روح سمجھنے کے لیے پھر ایک مرتبہ اس صورت حال کو سامنے رکھ لینا چاہیے جو اس وقت درپیش تھی۔ اس میں شک نہیں کہ اسلام اب ملک کے ایک بڑے حصہ پر چھا گیا تھا اور عرب میں کوئی ایسی بڑی طاقت نہ رہی تھی جو اس کو دعوت مبارزت دے سکتی ہو، لیکن پھر بھی جو فیصلہ کن قدم اور انتہائی انقلابی قدم اس موقع پر اٹھایا جا رہا تھا اس کے اندر بہت سے خطرناک پہلو ظاہر بین نگاہوں کو نظر آرہے تھے اوّلاً تمام مشرک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

چودھویں اور پندرہویں آیت میں بھی مسلمانوں کو جنگ و جہاد کی ترغیب ایک دوسرے عنوان سے دی گئی ہے، جس میں چند چیزیں بتلائی گئیں۔ اول یہ کہ اگر تم ان سے جنگ کے لئے تیار ہوگئے تو اللہ تعالیٰ کی مدد تھمارے شامل حال ہوگی، اور یہ قوم اپنے اعمال بد کی وجہ سے اللہ کے عذاب کی مستحق تو ہو ہی چکی ہے، مگر ان پر اللہ کا عذاب پچھلی قوموں کی طرح آسمان یا زمین سے نہیں آئے گا، بلکہ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ یعنی ان کو اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں سے عذاب دیں گے۔ دوسری یہ کہ اس جنگ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دلوں کو اس رنج و غم سے شفا عطا فرمائیں گے جو کفار کی طرف سے ان کو مسلسل پہونچتا رہا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 12–15

تفسیر آیات 12 تا 15: وَاِنْ نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ ۙ اِنَّهُمْ لَآ اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ۔ اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ اَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔ قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ۔ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ۭ وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰي…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 13–14

13۔ 1 اَ لَا حرف تحضیض ہے، جس سے رغبت دلائی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دے رہا ہے۔ 13۔ 2 اس سے مراد دارالندوہ کی مشاورت ہے جس میں رؤسائے مکہ نے نبی ﷺ کے جلا وطن کرنے، قید کرنے یا قتل کرنے کی تجویزوں پر غور کیا۔ 13۔ 3 اس سے مراد یا تو بدر کی جنگ میں مشرکین مکہ کا رویہ ہے کہ وہ اپنے تجارتی قافلے کی حفاظت کے لئے گئے، لیکن اس کے باوجود کہ انہوں دیکھ لیا کہ وہ قافلہ بچ کر نکل گیا ہے وہ بدر کے مقام پر مسلمانوں سے لڑنے کی تیاری کرتے اور چھیڑ خانی کرتے رہے، جس کے نتیجے میں بالآخر جنگ ہو کر رہی۔ یا اس سے مراد قبیلہ بنی بکر کی وہ امداد ہے جو قریش نے ان کی کی، جب کہ انہوں نے رسول اللہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–14

12: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے مکہ مکرمہ میں ظلم شروع کیا اور یہ بھی کہ انہوں نے صلح حدیبیہ کو توڑنے میں پہل کی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 13–16

تفسیر آیات 13 تا 16:۔ تو یہ پیرا گراف اس لیے آیا ہے کہ اس وقت اسلامی سوسائٹی میں مختلف سطح لوگ تھے اور بعض لوگوں کے دلوں میں یہ کھٹک تھی کہ وہ اس قدر فیصلہ کن اور سخت اقدام کیوں کریں۔ اس نکتے کے بارے میں ہم اس سے قبل تفصیل سے بحث کر آئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں یہ خواہش تھی اور وہ یہ امید بھی رکھتے تھے کہ شاید بقیہ مشرکین بھی اسلام قبول کرلیں گے اور شاید یہ قتال اور سختی ضروری نہ ہو۔ اس کے علاوہ دوسری مصلحتیں بھی ان کے پیش نظر ہوں گی اور وہ یہ ہی سمجھتے ہیں کہ آسان راستہ کیوں اختیار نہ کیا جائے۔ ان آیات میں انہی تصورات ، اندیشوں اور وجوہات کو دفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ماضی قریب و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 14–15

3 اس آیت میں مشروعیت " جہاد " کی اصل حکمت پر متنبہ فرمایا ہے۔ قرآن کریم میں اقوام ماضیہ کے جو قصے بیان فرمائے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب کوئی قوم کفر و شرارت اور انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب و عداوت میں حد سے بڑھ جاتی تھی تو قدرت کی طرف سے کوئی تباہ کن آسمانی عذاب ان پر نازل کیا جاتا تھا جس سے ان کے سارے مظالم اور کفریات کا دفعۃً خاتمہ ہوجاتا تھا۔ (فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا ۚوَمِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا ۚ وَمَا كَان اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلٰكِنْ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 13–14

آیت 13 اَلاَ تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّکَثُوْٓا اَیْمَانَہُمْ وَہَمُّوْا بِاِخْرَاج الرَّسُوْلِ اے مسلمانو ! مشرکین مکہ نے صلح حدیبیہ کو خود توڑا ہے ‘ جبکہ تمہاری طرف سے اس معاہدے کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی تھی ‘ اور یہ وہی لوگ تو ہیں جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو مکہ سے جلاوطنی پر مجبور کیا تھا۔ تو آخر کیا وجہ ہے کہ اب جب ان سے جنگ کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے تو تم میں سے کچھ لوگ تذ بذب کا شکار ہو رہے ہیں۔ وَہُمْ بَدَءُ وْکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ط یعنی مکہ کے اندر مسلمانوں کو ستانے اور تکلیفیں پہنچانے کی کار ستانیاں ہوں یا غزوۂ بدر میں جنگ چھیڑنے کا معاملہ ہو یا صلح حدیبیہ کے توڑنے کا واقعہ ‘ تمہارے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 14–15

13 اعلان براءت کے بعد مشرکوں کے وفود کی مدینہ میں آمد اور قبول اسلام :۔ مسلمان یہ سمجھ رہے تھے کہ اس اعلان برأت کے بعد نامعلوم انہیں کیسے تلخ حالات سے دوچار ہونا پڑے گا اور ان کے یہ اندیشے بےجا بھی نہ تھے۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے انہیں دو باتوں کی تلقین فرمائی ایک یہ کہ جہاد کے لیے پوری طرح مستعد رہیں، دوسرے لوگوں سے ڈرنے کے بجائے صرف اللہ سے ڈریں اور اسی پر بھروسہ کریں۔ چناچہ اللہ نے مشرکوں کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور بجائے اس کے کہ انہیں مقابلہ کی سوجھتی وہ وفود کی شکل میں مدینہ آئے اور اسلام قبول کرنے لگے اور ایسے وفود کی تعداد (70) ستر کے قریب شمار کی گئی ہے جیسا کہ سورة نصر میں اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

24 ۔ (کافروں کی ہزیمت اور تمہاری نصرت سے) (آیت) ” یعذبھم اللہ بایدیکم “۔ سنت الہی یہ ہے کہ اعداء دین کو دنیا میں سزا خادمان دین کے ہاتھوں سے دلائی جاتی ہے اور یہ انسان عذاب الہی کے واسطہ یا آلہ کا کام دیتے ہیں۔ (آیت) ’ ’ ویشف صدورقوم مومنین “۔ اس سے معلوم ہوا کہ اعدائے دین کی مغلوبیت سے خوش ہونا امر طبعی بلکہ امر محمود ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–16

آیت نمبر 8 تا 16 ترجمہ : مشرکوں کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے ؟ یعنی نہیں ہوسکتا، مراد وہ مشرکین ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ (عہد شکنی کر کے) غداری کی، البتہ جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام (حرم) کے قریب حدیبیہ کے مقام پر معاہدہ کیا اور وہ قریش ہیں جن کا ماقبل میں استثنا ہوچکا ہے، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ عہد پر قائم رہیں اور معاہدہ کو نہ توڑیں، تو تم بھی ان کے ساتھ وفاء عہد پر قائم رہو، اور ما شرطیہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ متقیوں سے محبت رکھتا ہے، اور رسول ان کے ساتھ عہد پر قائم رہے یہاں تک کہ قریش نے خزاعہ کے خلاف بنی بکر کی مدد کر کے عہد کو توڑ دیا ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قاتلوھم یعذبھم اللہ بایدیکم ویخزھم وینصرکم علیھم ویشف صدور قوم مؤمنین : ان سے لڑو ‘ اللہ تمہارے ہاتھوں سے (قتل کرا کے) ان کو عذاب دے گا اور (قید و بند کے ذریعہ سے) ان کو ذلیل کرے گا اور (اپنی مدد سے) اروں پر تم کو غلبہ دے گا اور اہل ایمان کے دلوں کو تسکین دے گا

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(14) اے مسلمانوں کی جماعت کیا ان سے لڑنے میں ڈرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ ان کے حکم کی خلاف ورزی میں ان سے ڈرا جائے ان سے تلواروں کے ساتھ لڑو، اللہ تعالیٰ ان کو شکست دے کر ذلیل کرے گا اور تمہیں غلبہ عطا فرمائے گا اور ان کے خلاف بنی خزاعہ کے دلوں کو خوشی عطا فرمائے گا کہ فتح مکہ کے دن تھوڑی سی دیر کے لیے حرم میں ان کے لیے قتال حلال ہوجائے گا۔ شان نزول : (آیت) ”قاتلوھم یعذبہم اللہ“۔ (الخ) ابوالشیخ ؒ نے حضرت قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ یہ آیت بنو خزاعہ کے قبیلے کے بارے میں اتری ہے جس وقت وہ بنو بکر کو مکہ مکرمہ میں قتل کررہے تھے اور حضرت عکرمہ ؓ سے روایت…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ : ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے عہد توڑنے والے کفار سے لڑنے کی صورت میں مسلمانوں کے ساتھ پانچ وعدے کیے ہیں جو سب کے سب پورے فرمائے، پہلا یہ کہ ”يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ“ یعنی پہلی قوموں پر اللہ کی طرف سے قدرتی آفات کے ذریعے سے عذاب آتا تھا، اب تم ان سے لڑو، اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں انھیں عذاب دے گا، جو کفار کے قتل، زخمی، قید ہونے اور ان سے مال غنیمت کے حصول کی صورت میں ہوگا۔ دوسرا یہ کہ ”يُخْزِهِمْ“ انھیں رسوا کرے گا، ان کی فوجی قوتوں کا گھمنڈ توڑ کر ان کی حکومت کی عزت خاک میں ملا کر انھیں ذلیل و رسوا کرے گا۔ تیسرا یہ کہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 14–15

قولہ تعالیٰ : قاتلوھم یہ امر ہے ( یعنی تم ان سے جنگ کرو) یعذ بھم اللہ یہ جواب امر ہے۔ اور اس کی جزم بمعنی مجازات ہے۔ اور تقدیرعبادت ہے : ان تقاتلوھم یعذبھم اللہ۔۔۔۔۔ الآیہ ( اگر تم ان سے جنگ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں سے انہیں عذاب دے گا اور انہیں رسوا کرے گا اور کے مقابلے میں تمہاری مدد کرے گا اور یوں صحت مند کردے گا اس جماعت کے سینوں کو جو اہل ایمان ہے۔ و یذ ھب غیظ قلوبھم یہ اس پر دلیل ہے کہ ان کا غصہ انتہائی شدید تھا۔ اور حضرت مجاہد رحمتہ اللہ نے کہا ہے : مراد خزاعہ قبیلے والے ہیں جو کہ رسول اللہ ﷺ کے حلیف تھے اور یہ سب معطوف ہے۔ اور اس میں یہ بھی جائز ہے کہ پہلی کلام سے منقطع…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 13–15

1:۔ ابن منذر وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الا تقاتلون قوما نکثوا ایمانہم “ کے بارے میں فرمایا کہ قریش نے نبی کریم ﷺ کے اتحادیوں سے قتال کی اور انکو اور رسول اللہ ﷺ کو نکال دینے کا ارادہ کیا اور انہوں نے یہ خیال کیا کہ یہ نبی کریم ﷺ کی عمر 55 سال ہے جو ہجرت کا ساتواں سال ہے اور انہوں نے اپنے دلوں میں یہ پروگرام بنایا کہ جب وہ لوگ مکہ میں داخل ہوں تو آپ کو اس میں سے نکال دیں گے پس یہ انکا آپ کو نکالنے کا ارادہ تھا لیکن قبیلہ خزاعہ نے اس بات پر ان کی تابعداری نہیں کی۔ جب نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ سے نکل گئے قریش نے خزیمہ سے کہا کہ تم نے ہم کو آپ کے نکالنے سے اندھا کردیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَاتِلُوْهُمْ [ جنگ کرو ان سے ] يُعَذِّبْهُمُ [ تو عذاب دے گا ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] بِاَيْدِيْكُمْ [ تمہارے ہاتھوں سے ] وَيُخْزِهِمْ [ اور وہ رسوا کرے گا ان کو ] وَيَنْصُرْكُمْ [ اور وہ مدد کرے گا تمہاری ] عَلَيْهِمْ [ ان کے خلاف ] وَيَشْفِ [ اور وہ شفادے گا ] صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے لوگوں کے سینوں کو ] شی : (ض) ۔ شفاء ۔ کوئی مرض دور کرکے صحت دینا ۔ شفادینا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 14 ۔ شفاء ۔ اسم ذات بھی ہے ۔ صحت یابی ۔ شفا، فِيْهِ شِفَاۗءٌ لِّلنَّاسِ [ اس میں شفا ہے لوگوں کے لیے ] 16:69 ۔ (آیت ۔ 14 ۔ 15) قاتلوہم فعل امر ہے ۔ اس کا جواب امر ہونے کی وجہ سے آگے یعذب ،…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد فرمایا (قَاتِلُوْھُمْ یُعَذِّبْھُمُ اللّٰہُ بِاَیْدِیْکُمْ وَ یُخْزِھِمْ وَ یَنْصُرْکُمْ عَلَیْھِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ ) اس آیت میں قتال کا حکم بھی ہے اور مدد کا وعدہ بھی فرمایا کہ تم ان سے جنگ کرو اللہ تعالیٰ ان کو تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا اور ذلیل کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد فرمائے گا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ کافروں کی طرف سے جو عہد شکنی ہوئی اور جو انہوں نے اسلام کو مٹانے کے لیے حرکتیں کیں اس سے جو مسلمانوں کے دلوں میں رنج و غم ہے اس جنگ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس کو بھی دور فرما دے گا۔ اہل ایمان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ شفا دے گا ان کے دل ٹھنڈے ہوجائیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–24

مشرکین عرب کے فخر اور ناز کا جواب اور اعمال فاضلہ کا بیان قال اللہ تعالیٰ ۔ ماکان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ عندہ اجر عظیم۔ (ربط): سورت کا آغاز مشرکین کی براءت اور بیزاری سے فرمایا بعد ازاں ان کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ اسی قابل ہیں کہ ان سے براءت اور بیزار اختیار کی جائے ان لوگوں کا خدا تعالیٰ کے یہاں کوئی مرتبہ نہیں۔ چونکہ یہ اعلان براءت ان کی اہانت اور تحقیر پر مبنی تھا اس لیے مشرکین مکہ نے اپنی فضیلت ثابت کرنے کے لیے بڑے فخر اور ناز سے یہ کہا کہ ہم بہت سی خاص حمیدہ اور افعال پسندیدہ کے حامل ہیں ہم سے براءت اور بیزاری کی کوئی وجہ نہیں ہم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 14–15

13 مذکورہ بالا تین وجوہ قتال مٰن سے ایک بھی ان سے قتال کا باعث بننے کے لیے کافی ہے چہ جائیکہ تینوں وجوہ موجود ہوں لہذا ان مشرکین سے قتال کرو اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں سے ان کو رسوا کرے گا اور ان کے مقابلے میں تمہاری مدد فرمائے گا۔ اس طرح جن مومنوں کو ان کے ہاتھوں تکلیفیں پہنچیں تھیں وہ خوش ہوں گے اور ان کے دلوں کی جلن دور ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–15

ربطِ آیات : اس سورة کی ابتداء میں کفر اور شرک کرنے والوں سے بیزاری کا اعلان کیا گیا پھر اعلان جنگ کے لیے چار ماہ کی مہلت کا ذکر ہوا ، البتہ عہدوپیمان کی وفا اور اہل ایمان کے خلاف کسی کی مدد نہ کرنے والوں کے ساتھ معاہد کے کی مدت کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر فرمایا کہ جب مقررہ مدت گزر جائے ، تو کفار ومشرکین جہاں بھی ملیں ان کو گھیرو قتل کرو اور کی گھات میں بیٹھو یہاں تک کہ ہو تائب ہو کر نماز پڑھنے لگیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں فرمایا اگر وہ ایسا کرنے لگیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو اور کوئی تعرض نہ کرو پھر فرمایا کہ یہ لوگ عہد و پیمان کے برے کچے ہیں ، اس لیے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ان کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَاتِلُوْہُمْ يُعَذِّبْہُمُ اللہُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِہِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْہِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ۝ 14 ۙ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–16

ترکیب : قوما موصوف نکثوا وھموا صفت مفعول تقاتلون وھم الخ جملہ حال ہے تقاتلون سے۔ اول مرۃ منصوب ہے بَدْئُوْکُمْ کا ظرف ہو کہ فاللّٰہ مبتداء احق الخ ان تخشوہ مبتداء سے پھر یہ جملہ خبر ہے مبتداء سے ‘ پھر یہ جملہ دال برجزا ان کنتم الخ سے۔ یعذب ویخز وینصر ویشف جواب امر ہیں جو قاتلو ہے ویتوب جملہ مستانفہ ہے ان تترکوا جملہ مفعول حسبتم۔ تفسیر : ان آیات میں کفار سے جنگ کرنے کی ترغیب ہے اور مسلمانوں کو ان سے نہ جنگ کرنے میں عار دلاتا ہے کہ تم ان مشرکوں سے کیوں نہیں لڑتے کہ جنہوں نے عہد توڑ ڈالے اور انہوں نے مکہ سے رسول کے نکالنے کا قصد کیا۔ دارالندوہ میں جمع ہو کر مشورہ کیا تھا جس کی تفصیل اوپر گذری…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 13–15

ارشاد فرمایا : اَلاَ تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّکَثُوْٓ ااَیْمَانَھُمْ وَھَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَھُمْ بَدَئُ وْکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ط اَتَخْشَوْنَھُمْ ج فَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْہُ اِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِیْنَ قَاتِلُوْھُمْ یُعَذِّبْھُمُ اللّٰہُ بِاَیْدِیْکُمْ وَیُخْزِھِمْ وَیَنْصُرْکُمْ عَلَیْھِمْ وَیَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ وَیُذْھِبْ غَیْظَ قُلُوْبِھِمْطوَیَتُوْبُ اللّٰہَ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُطوَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ (التوبۃ : 13 تا 15) (کیا تم ایسے لوگوں سے نہ لڑو گے جنھوں نے اپنے قول وقرار توڑ دیئے اور انھوں نے رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا اور وہی ہیں جنھوں نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 14–15

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے کفار اور مشرکین سے قتال کرنے کے اسباب بیان کیے اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ تمہیں اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے لہٰذا تم اللہ کے راستے میں لڑو۔ اللہ تعالیٰ ضرور کفار اور مشرکوں کو تمہارے ہاتھوں ذلیل کرے گا۔ مسلمانوں کو قتال فی سبیل اللہ کا حکم دیتے ہوئے چار خوشخبریاں سنائی گئی ہیں جس میں پہلی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ تم دشمن کے مقابلے میں میدان کا رزار میں اترو اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں انھیں عبرت ناک سزا دے کر دنیا میں ہی ان کو ذلیل و خوار کرے گا تمہاری ان کے مقابلے میں اس قدر مدد فرمائے گا جس سے تمہارے سینے ٹھنڈے ہوجائیں گے۔ ماضی کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفار سے لڑو اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں سزا دیں گے : آیت 14: جب ان کو ترک قتال پر توبیخ کردی تو کھل کر ان کو حکم دیا۔ قَاتِلُوْھُمْ (ان سے لڑو) ایمان والوں سے نصرت کا وعدہ کیا تاکہ ان کے دل مضبوط رہیں اور ان کی نیتوں میں بھی خرابی نہ آئے۔ یُعَذِّبْھُمُ اللّٰہُ بِاَیْدِیْکُمْ (اللہ تعالیٰ ان کو تمہارے ہاتھوں سزا دے گا) قتل کروا کر وَیُخْزِھِمْ (اور ان کو ذلیل کرے گا) قیدی بناکر وَیَنْصُرْکُمْ عَلَیْھِمْ (اور تم کو ان پر غالب کرے گا) تمہیں ان پر غلبہ دیکر وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْ مِنِیْنَ (اور مسلمانوں کے دلوں کو شفا دے گا) ان میں سے ایک جماعت کو۔ اس سے مراد بنو خزاعہ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 14” قاتلوھم یعذبھم اللہ بایدیکم “ ان کو اللہ تمہارے ہاتھوں سے قتل کروائے گا۔” ویخزھم “ قید اور مغلوبیت سے ان کو ذلیل کرے گا۔ ” ویخزھم وینصرکم علیھم ویشف صدور قوم مومنین “ ان تکالیف سے جو مسلمانوں کو ان کے ہاتھوں پہنچیں۔ مجاہد اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے حلیف خزاعہ کے سینے مراد ہیں کہ قریش نے ان کے خلاف بنوبکر کی مدد کی تو اللہ تعالیٰ نے بنوبکر کے سنیوں کو نبی کریم ﷺ اور مئومنین سے شفاد دی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–15

14۔ 15۔ اوپر ذکر تھا کہ ان مشرکوں نے اپنا عہد توڑا اور یہ بھی ارادہ کیا کہ رسول خدا کو مکہ سے نکال دینا چاہئے اور پھر باوجود ان باتوں کے چھیڑ انہیں کی طرف سے شروع ہوئی کہ بنوبکر سے اور بنوخزاعہ سے جب لڑائی ہوئی تو بنی بکر کی مدد کو یہ لوگ آمادہ ہوگئے اور خود بھی بنی خزاعہ کو قتل کرنے لگے تو اب ان سے لڑنا بلاشک ضروری ہے اور اگرچہ اللہ ان کے نیست ونا بود کرنے کو کافی ہے لیکن علم الٰہی میں یہ بات ٹھہر چکی ہے کہ تم ان سے لڑو اور اللہ اپنی مدد سے تمہیں ان پر غالب کرے جس سے مسلمانوں کے خیر خواہ بنی خزاعہ کا بدلہ لینے سے مسلمانوں کے دل کی بھڑاس نکلے اور ان کے دل ذرا ٹھنڈے ہوں پھر اللہ پاک نے پیشین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–15

آیت 12 اس بات کا ذکر کرنے کے بعد اگر مشرک معاہدین اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں تو تم بھی اپنے عہد پر قائم رہتے ہوئے ان سے اپنے عہد کو پورا کرو۔۔۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں “ یعنی انہوں نے اپنے حلف کو توڑ دیا اور جنگ میں تمہارے خلاف دشمن کی مدد کی یا تمہیں نقصان پہنچایا (وطعنوا فی دینکم) ” اور تمہارے دین میں طعن کرنے لگیں “ یعنی تمہارے دین میں عیب چینی کی یا اس کا تمسخر اڑایا۔ یہ دین اور قرآن میں ہر قسم کے طعن و تشتیع کو شامل ہے۔ (فقاتلوا ائمۃ الکفر) تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔ “ یعنی قائدین کفر اور ان سرداروں سے لڑو جو اللہ رحمٰن…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 12–15

دین پر زبان درازی ناقابل برداشت ہے قول باری ہے (ان نکثوا ایمانھم من بعد عھدھم و طعنوا فی دینکم فقاتلوا ائمۃ الکفر اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ پھر اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے اوپر حملے شروع کردیں تو کفر کے علمبرداروں سے جنگ کرو) اس میں دلالت موجود ہے کہ معاہدہ ج کرنے والے اگر معاہد کی کسی شق کی خلاف ورزی کے مترکب پاے جائیں اور ہمارے دین کے متعلق زبان درازی پر اترائیں تو وہ معاہدہ توڑنے کے مرتکب قرار پائیں گے۔ اس لئے کہ قسموں کو توڑنے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جن چیزوں کے بارے میں قسمیں کھائی گئی ہوں ان میں سے بعض کی خلاف ورز یکر لی جائے۔ اگر قسم نفی کی صورت میں کھائی گئی ہو، مثلاً کسی نے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

32 ایمانداری کا تقاضا کہ انسان ہمیشہ اللہ ہی سے ڈرے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی اصل حق دار ہے اس بات کا کہ تم لوگ ہمیشہ اسی سے ڈرو اگر تم واقعی ایماندار ہو کہ ایماندای کا تقاضا یہی ہے کہ اللہ ہی سے ڈرا جائے اور اس کے سوا کسی سے بھی نہ ڈرا جائے۔ مگر افسوس کہ آج کا مسلمان اوہام و خرافات تک سے ڈرتا ہے۔ وہ قبروں سے ڈرتا، مردوں سے ڈرتا اور ننگ دھڑنگ ملنگوں اور پاگلوں سے ڈرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بڑے بڑے درختوں اور پتھروں تک سے ڈرتا ہے اور ان کو " مقدس درخت " اور " بھاری پتھر " قرار دے کر طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتا ہے۔ چناچہ وہ وہاں پر یہ نذریں مانتا، نیازیں دیتا، چڑھاوے چڑھاتا اور جھنڈیاں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–15

کفر کے سرداروں کا علاج تشریح : یہاں ان لوگوں کا ذکر کیا جارہا ہے جو قسمیں کھا کر عہد کر چلے مگر پھر مسلمانوں اور دین کے خلاف کام کرنے لگے اور اپنے عہد کا کوئی پاس نہ کیا۔ تو یقیناً یہ تمہارے خلاف اسلام کے خلاف منظم ہونے کی کوشش میں معلوم ہوتے ہیں تو ایسے کفر کے سرداروں یا لیڈروں کو کچل دو تاکہ فتنہ کھڑا ہونے سے پہلے ہی دبا دیا جائے۔ یہ لوگ تو ہمیشہ سے بےایمان لوگ ہیں۔ انہوں نے پہلے بھی عہد شکنی کی تھی جب آنحضرت ﷺ غزوئہ تبوک کے لیے روانہ ہوئے تو یہود، منافقین اور کفار مدینہ نے مل کر عہد شکنی کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ سے نکال دینے کی سازش کی تھی۔ بھلا یہ ہمیشہ کے عہد شکن لوگ اعتبار کے قابل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 7–16

آیات 7 تا 16 اسرار و معارف مشرکین کے وعدوں کا کیا بھر وسہ اور وہ بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک کہ جب انھیں عظمت باری کا احساس ہے نہ عظمت رسالت کا پاس مزاج میں کفر وشرک رچابسا ہوا ہے تو ایسے لوگوں سے خیر کی کیا تو قع کی جاسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ انھوں نے خود بد عہدی کی اور نقصان بھی اٹھایا مسلمانوں نے عہد نبھایا تو فتح دکامرانی سے سرفراز ہوئے سوائے اس جماعت یا ان لوگوں کے جنہوں نے حرم کے نزدیک معاہدہ کیا تھا اگرچہ وہ بھی ابھی تک اسلام کی برکات سے محروم تھے مگر ان سے بھلے تھے کہ انھوں نے عہد نبھایا۔ اچھی بات کی تعریف گویا اچھے عمل کی تعریف کی جانی چاہیئے خواہ وہ کافر سے ظاہر ہوبھلائی بہرحال…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 14–15

ف 6 ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے پانچ وعدے فرمائے جو سب کے سب پورے ہوئے۔ فاللہ الحمد۔ ( وحیدی)7 چناچہ قریش کے سراداروں اور عام لوگوں میں کتنے ہی ایسے ہیں جنہیں فتح مکہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے توبہ کی تو فیق دی اور وہ مسلمان ہوئے جیسے عکرمہ بن ابی جہل م ابو سفیان اور سہیل بن عمرو وغیر ھم۔ ( وحیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 13–14

(9:13) الا تقاتلون۔ کیا تم جنگ نہیں کروگے۔ کیا تم نہیں لڑو گے۔ بدء وکم۔ انہوں نے پہلے تم سے شروع کیا۔ (یعنی زیادتی میں پہل انہوں نے کی) بذء سے ماضی جمع مذکر غائب۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–16

آیات : 13 تا 16 لغات القرآن۔ ھموا۔ انہوں نے ارادہ کیا۔ اخراج۔ نکالنا۔ بدء وا۔ انہوں نے ابتدا کی۔ اول مرۃ۔ پہلی مرتبہ۔ اتخشون۔ کیا تم ڈرتے ہو۔ احق۔ زیادہ حق دار ہے۔ ان تخشوہ۔ یہ کہ تم اسے ڈرو۔ یخزی۔ وہ رسوا کرے گا۔ یشف۔ شفا دے گا۔ صدور۔ (صدر) ۔ سینے۔ یذھب۔ دور کردے گا۔ غیظ۔ غصہ ۔ ام حسبتم۔ کیا تم نے سمجھ لیا۔ ان تترکوا۔ یہ کہ چھوڑ دئیے جائو گے۔ لما یعلم۔ ابھی تو معلوم ہی نہیں ہوا۔ لم یتخذوا۔ نہیں بنایا۔ ولیجۃ۔ گہرا دوست۔ جگری دوست۔ تشریح : فتح مکہ کے بعد اگر چہ مشرکین کا زور اور جنگی طاقت دم توڑ چکی تھی لیکن سانپ ابھی تک سانس لے رہا تھا دین اسلام کی پالیس یہ ہے کہ اللہ و رسول کے دشمنوں سے جس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–15

جنگ کا حکم مشرکین نے اپنا عہد توڑا اور یہ بھی ارادہ کیا کہ رسول خدا کو مکہ سے نکال دینا چاہیے اور چھیڑ ان کی طرف سے شروع ہوئی تو اب ان سے لڑنا بلاشک ضرور ہے۔ اللہ اپنی مدد سے تمہیں ان پر غالب کرے جس سے مسلمانوں کے خیر خواہ بنی خزاعہ کا بدلہ لینے سے مسلمانوں کے دل کی بھڑاس نکلے اور ان کے دل ذرا ٹھنڈے ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پیشین گوئی کے طور پر فرمایا کہ ان کفار میں سے بعضے بعضے اپنے کفر سے توبہ بھی کریں گے وہ لوگ خدا کے علم میں ہیں وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے اور جس کی چاہتا ہے توبہ قبول کرتا ہے وہ بڑا جاننے والا ہے۔ اسے اگلی پھلی باتوں کی خبر ہے اور بڑا ہی حکمت والا ہے۔ جتنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–15

[8] یعنی مسلمان ہونے کا عہد کرنے اور اسلام سے اپنی وفاداری کی قسمیں کھانے کے بعد عہد شکنی کریں اور اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں۔ بالفاظ دیگر مسلمان ہونے کے بعد کفر کی طرف پلٹ جائیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–15

اسباب جنگ : (ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ جب مشرکین کی ذہنیت یہ ہے کہ وہ تمہیں نقصان پہنچانے سے باز نہیں آتے جب کہ وہ کسی عہد کی رعایت نہیں رکھتے ، حدیبیہ کے عہد مصالحت کی انہوں نے مخالفت کی جگہ انہوں نے دارالندوہ میں بیٹھ کر حضور ﷺ کو مکہ سے نکال دینے کی سازش کی ، اور جب کہ بدر میں انہوں نے چھیڑ کا آغاز کیا ، کرزبن جابر الفہری کو بھیجدیا ، کہ جا کر مدینے مسلمانوں کے اونٹ چرا لائے ، گویا تین سو میل کے فاصلہ پر بھی وہ مسلمانوں کو چین سے نہیں رہنے دیتے تھے ۔ اور جبکہ وقتا فوقتا انہوں نے اپنے طرز عمل سے دعوت دی ہے تو پھر اب تمہیں ان سے لڑنے میں تامل کیا ہے ۔ ؟ یعنی اب پیمانہ صبر لبریز ہوچکا ہے ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

14 ان عہد شکن کافروں سے خوب جنگ کرو کہ اللہ تعالیٰ ان کو تمہارے ہاتھوں سے سزا دے اور خدا ان کو رسوا کردے اور تم کو ان پر غالب کردے اور بہت سے مسلمانوں کے سینوں کو ٹھنڈا کردے اور مسلمانوں کے قلوب کو شفا بخشے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 13–14

ف 2۔ یعنی تمہاری طرف سے وفائے عہد میں کوئی کمی نہیں ہوئی انہوں نے بیٹھے بٹھائے خود ایک شوشہ چھوڑا پس ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وعدہ الٰہی کا ذکر کہ مسلمانوں کے ہاتھوں مشرکین کو عذاب دیا جائے گا : 19: شروع سورت سے لے کر اس وقت تک جو کچھ آپ نے اس سورت میں پڑھا اس کا ماحصل اس آیت میں بیان کردیا گیا جس کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ : 1 ۔ تمہارے ہاتھوں انہیں عذاب دے گا یعنی مسلمانوں کے ہاتھوں سے مشرکوں کو عذاب دیا گیا۔ 2 ۔ مشرکین ہی رسوا ہونے کے قابل ہیں اور وہ یقیناً رسوا ہو کر رہیں گے اور یہی کچھ ہوا۔ 3 ۔ مسلمانوں کو خوشخبری سنا دی گئی کہ تم فتح مند ہوگے اور یہی ہوا۔ 4 ۔ مسلمانوں کے دلوں میں اس وقت تک جتنے دکھ اور اندوہ ہیں سب دور ہوجائیں گے۔ بدر نے فی الواقع سارے غم دور کردیئے۔ 5 ۔ آئندہ مسلمانوں کی حالت دن بدن بدلتی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

For Muslims, the same exhortation to fight in Jihad appears in verses 14 and 15 as well, though from a different angle. They were told: 1. If you get ready to fight them, the help and support from Allah will be with you. As for their enemies, they have already become deserving of Divine punishment because of their evil deeds but this punishment will not come down upon them from the heavens or up from beneath the Earth. Instead of that, says the verse: يُعَذِّبْهُمُ اللَّـهُ بِأَيْدِيكُمْ 'hat is, ` Allah shall punish them at their hands.' 2. As a result of this fighting, Allah Ta` ala will…

Read the full tafseer →