Explained with ayahs 13–15
ظالموں کو ان کے کیفر کردار کو پہنچاؤ
مسلمانوں کو پوری طرح جہاد پر آمادہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ یہ وعدہ شکن قسمیں توڑنے والے کفار وہی ہیں جنہوں نے رسول ﷺ کو جلا وطن کرنے کی پوری ٹھان لی تھی چاہتے تھے کہ قید کرلیں یا قتل کر ڈالیں یا دیس نکالا دے دیں ان کے مکر سے اللہ کا مکر کہیں بہتر تھا۔ صرف ایمان کی بناء پر دشمنی کر کے پیغمبر ﷺ کو اور مومنوں کو وطن سے خارج کرتے رھے بھڑ بھڑا کر اٹھ کھڑے ہوتے تھے تاکہ تجھے مکہ شریف سے نکال دیں۔ برائی کی ابتداء بھی انہیں کی طرف سے ہے بدر کے دن لشکر لے کر نکلے حالانکہ معلوم ہوچکا تھا کہ قافلہ بچ کر نکل گیا ہے لیکن تاہم غرور و فخر سے اللہ کے لشکر کو شکست دینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
سورة التَّوْبَة 16
اب تقریر کا رخ مسلمانوں کی طرف پھرتا ہے اور ان کو جنگ پر ابھارنے اور دین کے معاملہ میں کسی رشتہ و قرابت اور کسی دنیوی مصلحت کا لحاظ نہ کرنے کی پُر زور تلقین کی جاتی ہے۔ اس حصہ تقریر کی پوری روح سمجھنے کے لیے پھر ایک مرتبہ اس صورت حال کو سامنے رکھ لینا چاہیے جو اس وقت درپیش تھی۔ اس میں شک نہیں کہ اسلام اب ملک کے ایک بڑے حصہ پر چھا گیا تھا اور عرب میں کوئی ایسی بڑی طاقت نہ رہی تھی جو اس کو دعوت مبارزت دے سکتی ہو، لیکن پھر بھی جو فیصلہ کن قدم اور انتہائی انقلابی قدم اس موقع پر اٹھایا جا رہا تھا اس کے اندر بہت سے خطرناک پہلو ظاہر بین نگاہوں کو نظر آرہے تھے
اوّلاً تمام مشرک…
Read the full tafseer →اس کے بعد تیرہویں آیت میں مسلمانوں کو جہاد و قتال کی ترغیب کے لئے فرمایا کہ تم ایسی قوم کے ساتھ جنگ کے لئے کیوں تیار نہ ہوگے جس نے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ سے نکالنے کا منصوبہ بنایا تھا، اور کہا تھا (آیت) لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ ، یعنی ایسا ضرور ہوگا کہ عزت و قوت والا کمزور ذلیل کو مدینہ سے نکال دے گا۔ ان کے نزدیک عزت والے وہ لوگ تھے اور مسلمانوں کو کمزور و ذلیل سمجھتے تھے، جس کے جواب میں حق تعالیٰ نے ان کے ہی قول کو اس طرح پورا کر دکھایا کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے ان کو مدینہ سے نکال کر یہ ثابت کردیا کہ عزت والے مسلمان ہی ہیں اور کمزور ذلیل یہود تھے۔
دوسری وجہ ان سے جنگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
تفسیر آیات 12 تا 15: وَاِنْ نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ ۙ اِنَّهُمْ لَآ اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ۔ اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ اَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔ قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ۔ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ۭ وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
13۔ 1 اَ لَا حرف تحضیض ہے، جس سے رغبت دلائی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دے رہا ہے۔
13۔ 2 اس سے مراد دارالندوہ کی مشاورت ہے جس میں رؤسائے مکہ نے نبی ﷺ کے جلا وطن کرنے، قید کرنے یا قتل کرنے کی تجویزوں پر غور کیا۔
13۔ 3 اس سے مراد یا تو بدر کی جنگ میں مشرکین مکہ کا رویہ ہے کہ وہ اپنے تجارتی قافلے کی حفاظت کے لئے گئے، لیکن اس کے باوجود کہ انہوں دیکھ لیا کہ وہ قافلہ بچ کر نکل گیا ہے وہ بدر کے مقام پر مسلمانوں سے لڑنے کی تیاری کرتے اور چھیڑ خانی کرتے رہے، جس کے نتیجے میں بالآخر جنگ ہو کر رہی۔ یا اس سے مراد قبیلہ بنی بکر کی وہ امداد ہے جو قریش نے ان کی کی، جب کہ انہوں نے رسول اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
12: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے مکہ مکرمہ میں ظلم شروع کیا اور یہ بھی کہ انہوں نے صلح حدیبیہ کو توڑنے میں پہل کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
تفسیر آیات 13 تا 16:۔
تو یہ پیرا گراف اس لیے آیا ہے کہ اس وقت اسلامی سوسائٹی میں مختلف سطح لوگ تھے اور بعض لوگوں کے دلوں میں یہ کھٹک تھی کہ وہ اس قدر فیصلہ کن اور سخت اقدام کیوں کریں۔ اس نکتے کے بارے میں ہم اس سے قبل تفصیل سے بحث کر آئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں یہ خواہش تھی اور وہ یہ امید بھی رکھتے تھے کہ شاید بقیہ مشرکین بھی اسلام قبول کرلیں گے اور شاید یہ قتال اور سختی ضروری نہ ہو۔ اس کے علاوہ دوسری مصلحتیں بھی ان کے پیش نظر ہوں گی اور وہ یہ ہی سمجھتے ہیں کہ آسان راستہ کیوں اختیار نہ کیا جائے۔
ان آیات میں انہی تصورات ، اندیشوں اور وجوہات کو دفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ماضی قریب و…
Read the full tafseer →2 قریش نے قسمیں اور معاہدے توڑ دیے تھے، کیونکہ خلاف عہد خزاعہ کے مقابلہ میں بنو بکر کی مدد کی اور ہجرت سے پہلے پیغمبر ﷺ کو وطن مقدس (مکہ معظمہ) سے نکالنے کی تجاویز سوچیں۔ اور وہ ہی نکلنے کا سبب بنے۔ (اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِيَ اثْنَيْنِ ) 9 ۔ التوبہ :40) ۔ مکہ میں بےقصور مسلمانوں پر بیٹھے بٹھائے مظالم کی ابتداء کی۔ جب ابو سفیان کا تجارتی قافلہ بچ نکلا تو ازراہ نخوت و رعونت بدر کے میدان میں مسلمانوں سے جنگ کی چھیڑ کرنے کے لیے گئے اور " صلح حدیبیہ " کے بعد بھی اپنی جانب سے عہد شکنی کی ابتداء کی کہ مسلمانوں کے حلیف خزاعہ کے مقابلہ پر بنو بکر کی پیٹھ ٹھونکتے رہے اور اسلحہ وغیرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
آیت 13 اَلاَ تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّکَثُوْٓا اَیْمَانَہُمْ وَہَمُّوْا بِاِخْرَاج الرَّسُوْلِ
اے مسلمانو ! مشرکین مکہ نے صلح حدیبیہ کو خود توڑا ہے ‘ جبکہ تمہاری طرف سے اس معاہدے کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی تھی ‘ اور یہ وہی لوگ تو ہیں جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو مکہ سے جلاوطنی پر مجبور کیا تھا۔ تو آخر کیا وجہ ہے کہ اب جب ان سے جنگ کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے تو تم میں سے کچھ لوگ تذ بذب کا شکار ہو رہے ہیں۔
وَہُمْ بَدَءُ وْکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ط
یعنی مکہ کے اندر مسلمانوں کو ستانے اور تکلیفیں پہنچانے کی کار ستانیاں ہوں یا غزوۂ بدر میں جنگ چھیڑنے کا معاملہ ہو یا صلح حدیبیہ کے توڑنے کا واقعہ ‘ تمہارے…
Read the full tafseer →12 اعلان براءت کے بعد جہاد پر زور و ترغیب کی وجوہ :۔ اس سے پیشتر مسلمانوں کو جہاد کی متعدد بار ترغیب دی جا چکی تھی اور مسلمان کئی معرکے اور جنگیں بھی کرچکے تھے۔ اب اعلان برأت کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے پچھلے مظالم یاد دلا دلا کر کافروں سے جنگ کرنے کی جو پرزور ترغیب دی ہے تو اس کی چند وجوہ تھیں مثلاً اعلان برأت کے وقت بھی مشرکین کی تعداد جزیرۃ العرب میں مسلمانوں سے زیادہ تھی اس لیے انہیں یہ خیال آسکتا تھا کہ ایسی ذلت گوارا کرنے کے بجائے سب مل کر اسلام کا ہی نام و نشان مٹا دیں اور عرب جیسی جنگ جوا اور دلیرقوم سے ایسا خطرہ کچھ بعیداز عقل بھی نہ تھا۔ کیونکہ ایک تو ان کے تمام معاہدات…
Read the full tafseer →22 ۔ وہ یوں کہ تمہاری طرف سے وفاء عہد میں کوئی کمی نہیں ہوئی، اور انہوں نے خود ہی چھیڑ نکالی۔
23 ۔ ایمان والوں کو انہی کے ایمان کی غیرت اور واسطہ دلایا ہے کہ کافروں مردوں سے ڈرنا ہی کیا۔ (آیت) ” اتخشونھم “۔ کیا تم ان سے اس لیے ڈرتے ہو کہ یہ سامان اور جمعیت زیادہ رکھتے ہیں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
آیت نمبر 8 تا 16
ترجمہ : مشرکوں کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے ؟ یعنی نہیں ہوسکتا، مراد وہ مشرکین ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ (عہد شکنی کر کے) غداری کی، البتہ جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام (حرم) کے قریب حدیبیہ کے مقام پر معاہدہ کیا اور وہ قریش ہیں جن کا ماقبل میں استثنا ہوچکا ہے، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ عہد پر قائم رہیں اور معاہدہ کو نہ توڑیں، تو تم بھی ان کے ساتھ وفاء عہد پر قائم رہو، اور ما شرطیہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ متقیوں سے محبت رکھتا ہے، اور رسول ان کے ساتھ عہد پر قائم رہے یہاں تک کہ قریش نے خزاعہ کے خلاف بنی بکر کی مدد کر کے عہد کو توڑ دیا ان…
Read the full tafseer →الا تقاتلون قوما نکثوآ ایمانھم وھموا باخراج الرسول تم ایسے لوگوں سے کیوں نہیں لڑتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور رسول کے جلاوطن کرنے کی تجویز کی۔
بعض روایات میں آیا ہے کہ آیت میں قومًاسے مراد ہیں یہودی اور منافق اور کفار مدینہ جنہوں نے معاہدہ شکنی کی تھی اور رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کو لے کر جب تبوک تشریف لے گئے تھے تو مدینہ سے رسول اللہ ﷺ کو نکال دینے کا ارادہ کیا تھا اور کہا تھا : لَیُخَرِجَنَّ الاَ عَزّ مِنْھَا الْاَذَلٌ۔
وھم یدء وکم اول مرۃٍط اور انہوں نے تم سے پہلے چھیڑ نکالی ‘ یعنی تمہاری دشمنی کی ابتداء کی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے کوئی قتال نہیں کیا تھا مگر انہوں نے (خلاف معاہدہ) مشرکوں…
Read the full tafseer →(13) تم لوگ مکہ والوں سے کیوں نہیں لڑتے، جنہوں نے اپنے ان معاہدوں کو جو کہ تمارے اور ان کے درمیان تھے توڑ ڈالا ہے اور رسول اکرم ﷺ کے قتل کرنے کی تجویز کی، چناچہ وہ دارالندوہ میں مشورہ کے لیے جمع ہوئے انہوں نے پہلے عہد شکنی کی ہے کہ اپنے خلفاء بنی بکر کی رسول اکرم ﷺ کے خلفاء بنی خزاعہ کے خلاف مدد کی۔
Read the full tafseer →اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ : اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نہایت بلیغ طریقے سے کفار کے خلاف جنگ پر ابھارا ہے اور انھیں جوش اور غیرت دلائی ہے کہ جن لوگوں کے یہ جرائم ہیں کیا تم ان کے خلاف بھی نہیں لڑو گے ؟ پھر ان کے تین جرم بیان فرمائے، پہلا یہ کہ انھوں نے اپنے عہد توڑ ڈالے اور وہ قسمیں بھی جو عہد پختہ کرنے کے لیے کھائی تھیں، صلح حدیبیہ ہوجانے کے بعد بھی وہ بنو خزاعہ کے خلاف (جو مسلمانوں کے حلیف تھے) بنو بکر کی پیٹھ ٹھونکتے اور اسلحہ وغیرہ سے ان کی مدد کرتے رہے، حالانکہ ان کا ایسا کرنا صلح کے معاہدے کی صریح خلاف ورزی تھی۔ دوسرا یہ کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں تھے تو وہ آپ…
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰٰ : الا تقاتلون قوما نکثمو ایمانھم یہ زجر وتویخ ہے اور اس میں تحضیض کا معنی ہے۔ یہ آیت کفار مکہ کہ بارے میں نازل ہوئی جیسا کہ ابھی ہم نے ذکر کیا ہے۔ وھموا باخراج الرسول یعنی نکلنے کا سبب ان کی طرف سے تھا۔ پس بارے میں نازل ہوئی جیسا کہ ابھی ہم نے ذکر کیا ہے۔ وھموا باخراج الرسول پس نکالنے کی نسبت ان کی طرف کی گئی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ طیبہ سے اہل مکہ کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے نکالا اس معاہدہ کو توڑنے کی وجہ سے جسے انہوں نے توڑا۔ یہ حسن سے مروی ہے۔ وھم بدء و کم اور انہوں نے ہی تم سے لڑنے کا آغاز کیا۔ اول مرۃ یعنی انہوں نے معاہدہ توڑا اور بنو بکر نے چراعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
1:۔ ابن منذر وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الا تقاتلون قوما نکثوا ایمانہم “ کے بارے میں فرمایا کہ قریش نے نبی کریم ﷺ کے اتحادیوں سے قتال کی اور انکو اور رسول اللہ ﷺ کو نکال دینے کا ارادہ کیا اور انہوں نے یہ خیال کیا کہ یہ نبی کریم ﷺ کی عمر 55 سال ہے جو ہجرت کا ساتواں سال ہے اور انہوں نے اپنے دلوں میں یہ پروگرام بنایا کہ جب وہ لوگ مکہ میں داخل ہوں تو آپ کو اس میں سے نکال دیں گے پس یہ انکا آپ کو نکالنے کا ارادہ تھا لیکن قبیلہ خزاعہ نے اس بات پر ان کی تابعداری نہیں کی۔ جب نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ سے نکل گئے قریش نے خزیمہ سے کہا کہ تم نے ہم کو آپ کے نکالنے سے اندھا کردیا…
Read the full tafseer →اَ [ کیا ] لَا تُقَاتِلُوْنَ [ تم لوگ جنگ نہیں کرو گے ] قَوْمًا [ ایسی قوم سے ] نَّكَثُوْٓا [ جس نے توڑا ] اَيْمَانَهُمْ [ اپنی قسموں کو ] وَهَمُّوْا [ اور ارادہ کیا ] بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ [ ان رسول کو نکالنے کا ] وَهُمْ [ اور انھوں نے ] بَدَءُوْكُمْ [ ابتدا کی تم سے (زیادتی کرنے کی ) ] اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ [ پہلی مرتبہ ] اَ [ کیا ] تَخْشَوْنَهُمْ ۚ [ تم لوگ ڈرتے ہو ان سے ] فَاللّٰهُ [ تو اللہ ] اَحَقُّ [ زیادہ حقدار ہے ] اَنْ [ کہ ] تَخْشَوْهُ [ تم لوگ ڈرو اس سے ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ہو ] مُّؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّکَثُوْٓا اَیْمَانَھُمْ وَ ھَمُّوْا بِاِخْرَاج الرَّسُوْلِ وَ ھُمْ بَدَءُ وْکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ) (کیا تم ان لوگوں سے قتال نہیں کرتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ دیا اور رسول اللہ ﷺ کو مکہ معظمہ سے نکال دینے کا ارادہ کیا اور پھر خود ہی قتال کی ابتداء کی) یعنی بنی خزاعہ کے مقابلہ میں (جو تمہارے حلیف تھے) بنی بکر کی مدد کی۔ (اَتَخْشَوْنَھُمْ فَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْہُ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ) کیا تم ان سے ڈرتے ہو اور ترک قتال کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو (اس کا حکم مانو اور قتال مت چھوڑو) اگر تم مومن ہو (تو…
Read the full tafseer →ترغیب قتال از ناقضین عہدہ ودعۂ فتح ونصرت
قال اللہ تعالی۔ الا تقاتلون قوما نکثوا ایمانھم۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ خبیر بما تعملون۔
(ربط): گزشتہ آیت میں ایمۃ الکفر سے قتال کا حکم تھا اب ان آیات میں مسلمان کو ناقضین عہد سے جہاد و قتال کی ترغیب دی جاتی ہے اور جہاد اور قتال کے فوائد کو بیان فرماتے ہیں جس میں ضمنا فتح اور نصرت کے وعدہ کی طرف اشارہ ہے۔ سب سے اول عجیب فائدہ یہ ہے کہ امم سابقہ پر کفر اور تکذیب کی بناء پر اللہ نے جو عذاب نازل کیا وہ براہ راست خود نازل کیا کسی پر آسمان سے پتھر برسائے اور کسی کو دریا میں غرق کیا اور کسی کو زمین دھنسایا وغیرہ اب اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ آل حضرت ﷺ کی تکذیب اور عداوت…
Read the full tafseer →12 یہ ترغیب الی القتال ہے اور استفہام انکاری ہے اور ساتھ تین وجوہ کا ذکر کردیا گیا جو ان سے قتال کی موجب ہیں۔ اول “ نَکَثُوْا اَیْمَانَھُمْ ” کہ انہوں نے عہد شکنی کی ہے۔ دوم “ ھَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ ” انہوں نے نبی کریم ﷺ کو مکہ مکرمہ سے نکالنے کی کوشش کی۔ سوم “ وَ ھُمْ بَدَءُوْکُمْ ” اور انہوں نے تمہارے ساتھ جنگ کی ابتداء کی لہذا ان سے ضرور قتال کرو۔ کیا تمہیں یہ ڈر ہے کہ جنگ کی صورت میں تمہیں مشرکین کے ہاتھوں نقصان پہنچے گا ؟ اس کی پرواہ مت کرو بلکہ اللہ سے ڈرو اور اس کے حکم کی خلاف ورزی مت کرو۔ خالص اور پختہ ایمان کا یہی تقاضا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو نافع و ضار نہ سمجھو۔ “ فان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ربطِ آیات :
اس سورة کی ابتداء میں کفر اور شرک کرنے والوں سے بیزاری کا اعلان کیا گیا پھر اعلان جنگ کے لیے چار ماہ کی مہلت کا ذکر ہوا ، البتہ عہدوپیمان کی وفا اور اہل ایمان کے خلاف کسی کی مدد نہ کرنے والوں کے ساتھ معاہد کے کی مدت کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر فرمایا کہ جب مقررہ مدت گزر جائے ، تو کفار ومشرکین جہاں بھی ملیں ان کو گھیرو قتل کرو اور کی گھات میں بیٹھو یہاں تک کہ ہو تائب ہو کر نماز پڑھنے لگیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں فرمایا اگر وہ ایسا کرنے لگیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو اور کوئی تعرض نہ کرو پھر فرمایا کہ یہ لوگ عہد و پیمان کے برے کچے ہیں ، اس لیے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ان کے…
Read the full tafseer →اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَہُمْ وَہَمُّوْا بِـاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَہُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ 0 ۭ اَتَخْشَوْنَہُمْ 0 ۚ فَاللہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْہُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ 13
قتل
أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144]
( ق ت ل ) القتل
( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
ترکیب : قوما موصوف نکثوا وھموا صفت مفعول تقاتلون وھم الخ جملہ حال ہے تقاتلون سے۔ اول مرۃ منصوب ہے بَدْئُوْکُمْ کا ظرف ہو کہ فاللّٰہ مبتداء احق الخ ان تخشوہ مبتداء سے پھر یہ جملہ خبر ہے مبتداء سے ‘ پھر یہ جملہ دال برجزا ان کنتم الخ سے۔ یعذب ویخز وینصر ویشف جواب امر ہیں جو قاتلو ہے ویتوب جملہ مستانفہ ہے ان تترکوا جملہ مفعول حسبتم۔
تفسیر : ان آیات میں کفار سے جنگ کرنے کی ترغیب ہے اور مسلمانوں کو ان سے نہ جنگ کرنے میں عار دلاتا ہے کہ تم ان مشرکوں سے کیوں نہیں لڑتے کہ جنہوں نے عہد توڑ ڈالے اور انہوں نے مکہ سے رسول کے نکالنے کا قصد کیا۔ دارالندوہ میں جمع ہو کر مشورہ کیا تھا جس کی تفصیل اوپر گذری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
ارشاد فرمایا :
اَلاَ تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّکَثُوْٓ ااَیْمَانَھُمْ وَھَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَھُمْ بَدَئُ وْکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ط اَتَخْشَوْنَھُمْ ج فَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْہُ اِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِیْنَ قَاتِلُوْھُمْ یُعَذِّبْھُمُ اللّٰہُ بِاَیْدِیْکُمْ وَیُخْزِھِمْ وَیَنْصُرْکُمْ عَلَیْھِمْ وَیَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ وَیُذْھِبْ غَیْظَ قُلُوْبِھِمْطوَیَتُوْبُ اللّٰہَ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُطوَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ (التوبۃ : 13 تا 15)
(کیا تم ایسے لوگوں سے نہ لڑو گے جنھوں نے اپنے قول وقرار توڑ دیئے اور انھوں نے رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا اور وہی ہیں جنھوں نے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
اب پھر قتال فی سبیل اللہ کی تاکید کی جارہی ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں قتال کیوں نہیں کرتے ؟ جب کہ بار بار عہد شکنی کرنے کے علاوہ انھوں نے آپ ﷺ کو مکہ سے نکالا اور پھر اس کے بعد مدینہ پر حملہ آور ہو کر جنگ میں پہل کی یہاں تک کہ منافقین کے ساتھ مل کر نبی اکرم ﷺ کو مدینہ سے بھی نکالنے کا منصوبہ بنایا ایسی صورت میں ان کے ساتھ قتال فی سبیل اللہ کا معرکہ ضرور ہونا چاہیے لیکن تمہاری کیفیت یہ ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی بجائے کفار سے زیادہ ڈرتے ہیں حالانکہ تمہیں اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنا چاہیے بشرطیکہ تم صدق دل کے ساتھ ایمان…
Read the full tafseer →لڑائی پر آمادگی :
آیت 13: پھر لڑائی پر آمادہ کیا۔ اَلاَ تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّکَثُوْٓا اَیْمَانَھُمْ (تم ایسے لوگوں سے کیوں نہیں لڑتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا) جو انہوں نے معاہدہ میں حلف اٹھایا۔ وَھَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ (اور رسول اللہ ﷺ کے جلاوطن کرنے کی تجویز کی) مکہ سے وَھُمْ بَدَئُ وْ کُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ (اور انہوں نے تم سے خود پہلے تمہاری دشمنی کی ابتداء کی) لڑائی میں۔ اور ابتداء کرنے والا بڑا ظالم ہوتا ہے پس ان کے ساتھ لڑائی سے تمہیں کونسی رکاوٹ ہے ؟ اس میں مسلمانوں کو ایسے لوگوں کے ساتھ ترک قتال پر توبیخ کی اور ساتھ ساتھ لڑائی پر آمادہ کیا۔ پھر لڑائی پر ابھارنے کے…
Read the full tafseer →13” الا تقاتلون فومانکثوآ ایمانھم “ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حدیبیہ کی صلح کا عہد توڑا اور خزاعہ کے خلاف بنوبکر کی مدد کی۔” وھموا باخراج الرسول “ مکہ سے جب وہ دارالندوہ میں جمع ہوئے ” وھم بدء وکم “ قتال کے ساتھ ” اول مرۃ “ یعنی بدر کے دن کیونکہ جب قافلہ محفوظ ہوگیا تو وہ کہنے لگے ہم محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے اور مفسرین رحمہما اللہ کی ایک جماعت نے فرمایا کہ مراد یہ ہے کہ جن لوگوں نے خزاعہ کے قتال پر ابتداء کی ” اتخشونھم “ کیا تم ان سے ڈر کر ان سے قتال چھوڑ رہے ہو ؟” فاللہ احق ان تخشوہ “ ان سے قتال چھوڑنے میں ” ان کنتم مئومنین “
Read the full tafseer →13۔ 6 ھ میں جو صلح حدیبیہ ہوئی اسی صلح میں آنحضرت سے اور قریش سے یہ معاہدہ تھا کہ دس برس تک لڑائی موقوف رکھنی چاہئے اور اس دس برس کے امن میں خزاعہ قبیلہ حضرت کی امان میں تھا اور بنوبکر قبیلہ قریش کے امن میں تھا بنوبکر قبیلہ نے خزاعہ پر چڑھائی کی اور قریش نے خلاف معاہدہ بنوبکر کو مدد دی اس بدعہدی کہ ذکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور مسلمانوں کو ترغب دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں قریش کی دوسری شرارت مشرکین مکہ نے اپنے دل میں یہ بات ٹھان لی تھی کہ اگر آنحضرت ﷺ اور صحابہ عمرہ کی نیت سے مکہ میں داخل ہو تو ان کو زبردستی مکہ سے نکال دیویں قبیلہ خزاعہ کے لوگ اس مشورہ میں شریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
آیت 12
اس بات کا ذکر کرنے کے بعد اگر مشرک معاہدین اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں تو تم بھی اپنے عہد پر قائم رہتے ہوئے ان سے اپنے عہد کو پورا کرو۔۔۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں “ یعنی انہوں نے اپنے حلف کو توڑ دیا اور جنگ میں تمہارے خلاف دشمن کی مدد کی یا تمہیں نقصان پہنچایا (وطعنوا فی دینکم) ” اور تمہارے دین میں طعن کرنے لگیں “ یعنی تمہارے دین میں عیب چینی کی یا اس کا تمسخر اڑایا۔ یہ دین اور قرآن میں ہر قسم کے طعن و تشتیع کو شامل ہے۔ (فقاتلوا ائمۃ الکفر) تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔ “ یعنی قائدین کفر اور ان سرداروں سے لڑو جو اللہ رحمٰن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
دین پر زبان درازی ناقابل برداشت ہے
قول باری ہے (ان نکثوا ایمانھم من بعد عھدھم و طعنوا فی دینکم فقاتلوا ائمۃ الکفر اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ پھر اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے اوپر حملے شروع کردیں تو کفر کے علمبرداروں سے جنگ کرو) اس میں دلالت موجود ہے کہ معاہدہ ج کرنے والے اگر معاہد کی کسی شق کی خلاف ورزی کے مترکب پاے جائیں اور ہمارے دین کے متعلق زبان درازی پر اترائیں تو وہ معاہدہ توڑنے کے مرتکب قرار پائیں گے۔ اس لئے کہ قسموں کو توڑنے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جن چیزوں کے بارے میں قسمیں کھائی گئی ہوں ان میں سے بعض کی خلاف ورز یکر لی جائے۔ اگر قسم نفی کی صورت میں کھائی گئی ہو، مثلاً کسی نے یہ…
Read the full tafseer →28 جہاد فی سبیل اللہ کیلئے ترغیب وتحریض : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ لڑو گے نہیں ایسے لوگوں سے جنہوں نے توڑ دیا اپنی قسموں کو اور انہوں نے ٹھان لی اللہ کے رسول کو ان کے گھر سے نکالنے کی۔ یہ استفہام تحریض و ترغیب کے لئے ہے۔ یعنی ایسوں سے تم کو ضرور لڑنا چاہیئے جن کے یہ اور یہ کرتوت اور ایسے اور ایسے جرائم اور سیاہ کارنامے ہوں کہ ان میں سے ہر ایک بات اس کا تقاضا کرتی ہے کہ تم ان سے جنگ کرو۔ چہ جائے کہ جب یہ سب ہی اسباب فساد و بگاڑ یکجا طور پر موجود ہوں۔ (الکبیر للرازی وغیرہ) ۔ سو ایسے میں تم لوگوں کو ان کفار و مشرکین سے ضرور جنگ و جہاد کرنا چاہیئے۔ یہ تمہارے دین و ایمان اور تمہاری دینی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
کفر کے سرداروں کا علاج
تشریح : یہاں ان لوگوں کا ذکر کیا جارہا ہے جو قسمیں کھا کر عہد کر چلے مگر پھر مسلمانوں اور دین کے خلاف کام کرنے لگے اور اپنے عہد کا کوئی پاس نہ کیا۔ تو یقیناً یہ تمہارے خلاف اسلام کے خلاف منظم ہونے کی کوشش میں معلوم ہوتے ہیں تو ایسے کفر کے سرداروں یا لیڈروں کو کچل دو تاکہ فتنہ کھڑا ہونے سے پہلے ہی دبا دیا جائے۔ یہ لوگ تو ہمیشہ سے بےایمان لوگ ہیں۔ انہوں نے پہلے بھی عہد شکنی کی تھی جب آنحضرت ﷺ غزوئہ تبوک کے لیے روانہ ہوئے تو یہود، منافقین اور کفار مدینہ نے مل کر عہد شکنی کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ سے نکال دینے کی سازش کی تھی۔ بھلا یہ ہمیشہ کے عہد شکن لوگ اعتبار کے قابل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–16
آیات 7 تا 16
اسرار و معارف
مشرکین کے وعدوں کا کیا بھر وسہ اور وہ بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک کہ جب انھیں عظمت باری کا احساس ہے نہ عظمت رسالت کا پاس مزاج میں کفر وشرک رچابسا ہوا ہے تو ایسے لوگوں سے خیر کی کیا تو قع کی جاسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ انھوں نے خود بد عہدی کی اور نقصان بھی اٹھایا مسلمانوں نے عہد نبھایا تو فتح دکامرانی سے سرفراز ہوئے سوائے اس جماعت یا ان لوگوں کے جنہوں نے حرم کے نزدیک معاہدہ کیا تھا اگرچہ وہ بھی ابھی تک اسلام کی برکات سے محروم تھے مگر ان سے بھلے تھے کہ انھوں نے عہد نبھایا۔
اچھی بات کی تعریف
گویا اچھے عمل کی تعریف کی جانی چاہیئے خواہ وہ کافر سے ظاہر ہوبھلائی بہرحال…
Read the full tafseer →ف 4 اوپر کی آیت میں ائمہ کفر کے ساتھ مقاتلہ کا حکم تھا۔ اب اس آیت میں اس مقاتلہ کے وجوہ واسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوتے تین اسباب بیان فرمائے ہیں۔ نقض عہد کی صلح حدیبہ ہوجا نے کے بعد بھی ہو بنو خزاعہ کے خلاف ( جو مسلمانوں کے حلیف تھے) بن بکر کی پیٹھ ٹھو نکتے اور اسلحہ وغیر سے ان کی مدد کرتے رہے حلا ن کہ ان کا ایسا کرنا صلح کے معاہدہ کی صریح خلاف ورزی تھی اور جب آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے تو ملک سے نکال دینے کے لیے آپ ﷺ کے خلاف منصوبے سوچتے رہے جیسا کہ سورة انفعال آیت 30) میں گزر چکا ہے اور پھر بدر کے موقع پر جب ان کا تجارتی قافلہ گیا بچ گیا تھا تو انیں واپس چلاجا چاہیے تھا لیکن یہ نہیں گئے اور انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
(9:13) الا تقاتلون۔ کیا تم جنگ نہیں کروگے۔ کیا تم نہیں لڑو گے۔
بدء وکم۔ انہوں نے پہلے تم سے شروع کیا۔ (یعنی زیادتی میں پہل انہوں نے کی) بذء سے ماضی جمع مذکر غائب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
آیات : 13 تا 16
لغات القرآن۔
ھموا۔ انہوں نے ارادہ کیا۔ اخراج۔ نکالنا۔ بدء وا۔ انہوں نے ابتدا کی۔ اول مرۃ۔ پہلی مرتبہ۔ اتخشون۔ کیا تم ڈرتے ہو۔ احق۔ زیادہ حق دار ہے۔ ان تخشوہ۔ یہ کہ تم اسے ڈرو۔ یخزی۔ وہ رسوا کرے گا۔ یشف۔ شفا دے گا۔ صدور۔ (صدر) ۔ سینے۔ یذھب۔ دور کردے گا۔ غیظ۔ غصہ ۔ ام حسبتم۔ کیا تم نے سمجھ لیا۔ ان تترکوا۔ یہ کہ چھوڑ دئیے جائو گے۔ لما یعلم۔ ابھی تو معلوم ہی نہیں ہوا۔ لم یتخذوا۔ نہیں بنایا۔ ولیجۃ۔ گہرا دوست۔ جگری دوست۔
تشریح :
فتح مکہ کے بعد اگر چہ مشرکین کا زور اور جنگی طاقت دم توڑ چکی تھی لیکن سانپ ابھی تک سانس لے رہا تھا دین اسلام کی پالیس یہ ہے کہ اللہ و رسول کے دشمنوں سے جس…
Read the full tafseer →قریش کے خلاف معاہدہ اور بد عہدی کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اور مسلمانوں کو ترغیب دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں قریش کی دوسری شرارت نبی وقت کو جو مکہ سے نکال دینے کی جو ذکر فرمائی ہے۔ صحابہ کے قول کے موافق اس قصہ کا حال یہ ہے کہ حدیبیہ کی صلح کے وقت مشرکین مکہ نے اپنے دل میں یہ بات ٹھان لی تھی کہ اگر آنحضرت ﷺ اور صحابہ عمرہ کی نیت سے مکہ میں داخل ہوں تو ان کو زبردستی مکہ سے نکال دیویں۔ قبیلہ خزاعہ کے لوگ اس مشورہ میں شریک نہیں ہوئے اور صلح نے زمانہ میں انہوں نے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کی حمایت اپنے حق میں بہتر خیال کی۔ اس عداوت کے سبب سے مشرکین مکہ نے قبیلہ بنی بکر کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
[8] یعنی مسلمان ہونے کا عہد کرنے اور اسلام سے اپنی وفاداری کی قسمیں کھانے کے بعد عہد شکنی کریں اور اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں۔ بالفاظ دیگر مسلمان ہونے کے بعد کفر کی طرف پلٹ جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
اسباب جنگ :
(ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ جب مشرکین کی ذہنیت یہ ہے کہ وہ تمہیں نقصان پہنچانے سے باز نہیں آتے جب کہ وہ کسی عہد کی رعایت نہیں رکھتے ، حدیبیہ کے عہد مصالحت کی انہوں نے مخالفت کی جگہ انہوں نے دارالندوہ میں بیٹھ کر حضور ﷺ کو مکہ سے نکال دینے کی سازش کی ، اور جب کہ بدر میں انہوں نے چھیڑ کا آغاز کیا ، کرزبن جابر الفہری کو بھیجدیا ، کہ جا کر مدینے مسلمانوں کے اونٹ چرا لائے ، گویا تین سو میل کے فاصلہ پر بھی وہ مسلمانوں کو چین سے نہیں رہنے دیتے تھے ۔
اور جبکہ وقتا فوقتا انہوں نے اپنے طرز عمل سے دعوت دی ہے تو پھر اب تمہیں ان سے لڑنے میں تامل کیا ہے ۔ ؟
یعنی اب پیمانہ صبر لبریز ہوچکا ہے ،…
Read the full tafseer →13 تم ایسے لوگوں سے جنگ کیوں نہیں کرتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور پیغمبر (علیہ السلام) کو جلا وطن کرنے اور نکالنے کی تجویز کی اور انہوں نے ہی پہلی مرتبہ تم سے عہد شکنی کی ابتداء کی کیا تم ان عہد شکنی کافروں سے لڑنے میں ڈرتے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو بشرطیکہ تم ایمان رکھتے ہو۔ یعنی جب قریش کی جانب سے نقض عہد ہوگیا اور ابتداء ان کی طرف سے ہوچکی پھر جنگ سے کیا چیز مانع ہے۔ رہا خوف اور ڈر تو اللہ تعالیٰ ہی اس کا مستحق ہے کہ اس کی پکڑ سے ڈرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ف 2۔ یعنی تمہاری طرف سے وفائے عہد میں کوئی کمی نہیں ہوئی انہوں نے بیٹھے بٹھائے خود ایک شوشہ چھوڑا پس ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو۔
Read the full tafseer →لڑائی لڑنے میں پہل کرنے والوں سے بھی تم نہیں لڑو گے تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا ؟
17: مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا جارہا ہے کہ اگر تم ان لوگوں سے بھی جنگ کرنے سے گریز کرو گر جنہوں نے نبی کریم ﷺ اور دوسرے سارے مہاجرین کو ہجرت کرنے پر مجبور کردیا۔ پھر ایک سے زیادہ بار عہد کر کے اس کی خلاف ورزی کی اور مسلمانوں کو بار بار دھوکہ دینے کی کوشش کی اور بالاخر لڑائی پر اتر آئے اور مکمل تیاری کر کے مدینہ پر چڑھ آئے اگر اب بھی تم ان کی مدافعت کے لئے تیار نہ ہوئے تو پھر تمہارا انجام کیا ہوگا ؟ یہی کہ وہ تمہارا جینا دارال ہجرت میں دو بھر کردیں گے۔
غیر اللہ سے اس قدر ڈرنے والا انسان مومن نہیں ہو سکتا :
18: کیا…
Read the full tafseer →After that, to persuade Muslims to fight, they were told in verse 13 that there was no reason why they would not be ready to fight against the kind of people who had conspired to expel the Messenger of Allah. This refers to the Jews of Madinah who had hatched a plan to expel the Holy Prophet ﷺ from the city of Madinah. They had said: لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ (the one having more honor and power will certainly expel the one being humble and weak from there - 63:8). In their self-view, they were the people of honor and power while Muslims were weak and lowly. The answer they…
Read the full tafseer →