وعدہ خلاف قوم کو دندان شکن جواب دو
اگر یہ مشرک اپنی قسموں کو توڑ کر وعدہ خلافی اور عہد شکنی کریں اور تمہارے دین پر اعتراض کرنے لگیں تو تم ان کے کفر کے سروں کو توڑ مروڑ دو۔ اسی لیے علماء نے کہا ہے کہ جو حضور ﷺ کو گالیاں دے، دین میں عیب جوئی کرے، اس کا ذکر اہانت کے ساتھ کرے اسے قتل کردیا جائے۔ ان کی قسمیں محض بےاعتبار ہیں۔ یہی طریقہ ان کے کفر وعناد سے روکنے کا ہے۔ ابو جہل، عتبہ، شیبہ امیہ وغیرہ یہ سب سردارن کفر تھے۔ ایک خارجی نے حضرت سعد بن وقاص کو کہا کہ یہ کفر کے پیشواؤں میں سے ایک ہے آپ نے فرمایا تو جھوٹا ہے میں تو ان میں سے ہوں جنہوں نے کفر کے پیشواؤں کو قتل کیا تھا۔ حضرت حذیفہ ؓ فرماتے…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 15
اس جگہ سیاق وسباق خود بتارہا ہے کہ قسم اور عہد و پیمان سے مراد کفر چھوڑ کر اسلام قبول کرلینے کا عہد ہے۔ اس لیے کہ ان لوگوں سے اب کوئی اور معاہدہ کرنے کا تو کوئی سوال باقی ہی نہ رہا تھا۔ پچھلے سارے معاہدے وہ توڑ چکے تھے۔ ان کی عہد شکنیوں کی بنا پر ہی اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے برأت کا اعلان انہیں صاف صاف سنایا جا چکا تھا۔ یہ بھی فرما دیا گیا تھا کہ آخر ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی معاہدہ کیسے ہوسکتا ہے۔ اور یہ فرمان بھی صادر ہوچکا تھا کہ اب انہیں صرف اسی صورت میں چھوڑا جاسکتا ہے کہ یہ کفر و شرک سے توبہ کر کے اقامت صلوٰۃ اور ایتائے زکوٰۃ کی پابندی قبول کرلیں اس لیے یہ آیت…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور اگر وہ لوگ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں (عہدوں) کو توڑ ڈالیں (جیسا کہ انکی حالت سے غالب ہے اور (عہد توڑ کر ایمان بھی نہ لائیں بلکہ اپنے کفر پر قائم رہیں جسکا ایک اثر یہ ہے کہ) تمہارے دین (اسلام) پر طعن (و اعتراض) کریں تو (اس حالت میں) تم لوگ اس قصد سے کہ یہ (اپنے کفر سے) باز آجائیں، ان پیشوایان کفر سے (خوب) لڑو (کیونکہ اس صوت میں) انکی قسمیں (باقی) نہیں رہیں (یہاں تک قبل نقض پیشینگوئی ہوچکی، آگے بعد وقوع نقض کے قتال کی ترغیب ہے کہ) تم ایسے لوگوں سے کیوں نہیں لڑتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا (اور بنی بکر کی بمقابلہ خزاعہ کے مدد کی) اور رسول ﷺ کے جلا وطن کردینے کی تجویز کی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
تفسیر آیات 12 تا 15: وَاِنْ نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ ۙ اِنَّهُمْ لَآ اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ۔ اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ اَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔ قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ۔ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ۭ وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰي…
Read the full tafseer →12۔ 1 ایمان، یمین کی جمع ہے جس کے معنی قسم کے ہیں۔ ائمہ امام کی جمع ہے۔ مراد پیشوا اور لیڈر ہیں مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ عہد توڑ دیں اور دین میں طعن کریں، تو ظاہری طور پر یہ قسمیں بھی کھائیں تو ان قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ کفر کے ان پیشواؤں سے لڑائی کرو، ممکن ہے اس طرح اپنے کفر سے باز آجائیں۔ اس سے احناف نے استدلال کیا ہے کہ ذمی (اسلامی مملکت میں رہائش پذیر غیر مسلم) اگر نقض عہد نہیں کرتا۔ البتہ دین اسلام میں طعن کرتا ہے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ قرآن نے اس سے قتال کے لیے دو چیزیں ذکر کی ہیں اس لیے جب تک دونوں چیزوں کا صدور نہیں ہوگا وہ قتال کا مستحق نہیں ہوگا۔ لیکن امام مالک، امام…
Read the full tafseer →11۔ پچھلی آیت کی روشنی میں قسمیں توڑنے سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ایمان لانے کے بعد مرتد ہوجائیں، جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد بعض قبائل مرتد ہوئے، اور حضرت صدیق اکبر ؓ نے ان سے جہاد کیا اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ جن لوگوں سے تمہارا معاہدہ تھا اور وہ پہلے ہی عہد توڑ چکے یا جن سے معاہدہ نو مہینے تک باقی ہے وہ اس دوران معاہدہ توڑیں، ان سے جہاد کرو اور یہ جو فرمایا گیا ہے کہ اس نیت سے جنگ کرو کہ وہ باز آجائیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری طرف سے جنگ کا مقصد ملک گیری کے بجائے یہ ہونا چاہیے کہ تمہارا دشمن اپنے کفر اور ظلم سے باز آجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
11 ۔ 12:۔ اب تفصیلاً بتایا جاتا ہے کہ ان حالات میں اہل ایمان مشرین کے حوالے سے کیا طرز عمل اختیار کریں۔
۔۔۔
مسلمانوں کا مقابلہ ایسے دشمنوں سے ہے جو ہر وقت تاک میں بیٹھا ہے اور وہ مسلمانوں پر بےرحم وار کرنے کے لیے محض اس لیے رکے ہوئے ہوتے ہیں کہ اندر وار کرنے کی سکت نہیں ہوتی۔ یہ وجہ نہیں ہوتی کہ وہ کسی عہد و پیمان کا لحاظ کرنے والے ہوتے ہیں یا کسی ذمہ داری کا احساس کرنے والے ہوتے ہیں یا ان پر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت و مذمت کا کوئی اثر ہوتا ہے ، نہ وہ کسی رشتہ داری یا تعلق کا خیال رکھتے ہیں۔ دین اور لادینی کی کشمکش کی یہ ایک طویل تاریخ ہے اور یہ تاریخ اسی راہ پر چلتی رہی ہے۔ اس شاہراہ سے…
Read the full tafseer →1 یعنی اگر عہد و پیمان توڑ ڈالا (جیسے بنی بکر نے خلاف عہد خزاعہ پر حملہ کردیا اور قریش نے حملہ آوروں کی مدد کی) اور کفر سے باز نہ آئے بلکہ دین حق کے متعلق طعنہ زنی اور گستاخانہ عیب جوئی کرتے رہے تو سمجھ لو کہ اس طرح کے لوگ " ائمۃ الکفر " (کفر کے سردار اور امام) ہیں۔ کیونکہ ان کی حرکات دیکھ کر اور باتیں سن کر بہت سے کجرو اور بیوقوف پیچھے ہو لیتے ہیں۔ ایسے سرغنوں سے پورا مقابلہ کرو۔ کیونکہ ان کا کوئی قول و قسم اور عہد و پیمان باقی نہیں رہا۔ ممکن ہے تمہارے ہاتھوں سے کچھ سزا پا کر اپنی شرارت و سرکشی سے باز آجائیں۔
Read the full tafseer →آیت 12 وَاِنْ نَّکَثُوْٓا اَیْمَانَہُمْ مِّنْم بَعْدِ عَہْدِہِمْ وَطَعَنُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَءِمَّۃَ الْکُفْرِلا اِنَّہُمْ لَآ اَیْمَانَ لَہُمْ
یہ بہت اہم اور قابل توجہ نکتہ ہے۔ جزیرہ نمائے عرب کے اندر کافر اور مشرک تو بہت تھے مگر یہاں خصوصی طور پر کفر اور شرک کے پیشواؤں سے جنگ کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ یہ ائمّۃ الکفر کفر کے امام قریش تھے۔ وہ کعبہ کے متولی اور تمام قبائل کے بتوں کے مجاور تھے۔ دوسری طرف سیاسی ‘ معاشرتی اور معاشی لحاظ سے مکہ کو اُمّ القریٰ کی حیثیت حاصل تھی اور وہ ان کے زیر تسلط تھا۔ اس وقت اگرچہ جزیرہ نمائے عرب میں نہ کوئی مرکزی حکومت تھی اور نہ ہی کوئی…
Read the full tafseer →11 ذمیوں کی معاندانہ سرگرمیاں :۔ اس آیت کے مفہوم میں وہ کافر و مشرک قبائل بھی شامل ہیں جو اعلان برأت سے پیشتر اپنے عہد توڑتے اور دین میں طعنہ زنی کرتے رہے اور وہ بھی شامل ہیں جو اعلان برأت کے بعد بظاہر اسلام لے آئے لیکن ان کے دل اسلام کی طرف ہرگز مائل نہیں تھے بلکہ وہ محض وقتی مصلحت اور مسلمانوں کے غلبہ کے دباؤ کے تحت اسلام لائے تھے اور کسی مناسب موقع کے منتظر تھے کہ کب وہ اسلام میں کوئی کمزوری دیکھیں تو اپنے اسلام لانے کے عہد کو توڑ دیں۔ رسول اللہ کی زندگی میں تو انہیں ایسا موقع میسر نہ آیا لیکن آپ کی وفات کے بعد فوراً انہوں نے اس عہد کو توڑ ڈال اور پھر سے مرتد ہوگئے کیونکہ وہ یہ سمجھ رہے…
Read the full tafseer →21 ۔ (اپنے عقاید کفریہ سے) (آیت) ” وان نکثوا ایمانھم من بعد عھدھم “۔ یعنی یہ عہد شکنی کرکے کے بجائے ایمان لانے کے کفر پر قائم رہیں۔ (آیت) ” وطعنوا فی دینکم “۔ یہ علامت مزید ان کے کفر وعناد کی ملی۔ طعن کے لغوی معنی نیزہ مارنے کے ہیں۔ طعن، کا اطلاق سنجیدہ، علمی، عقلی اختلاف رائے و عقیدہ پر نہیں ہوتا۔ طعن کہتے ہی ایسی بات کو ہیں جو دل کو چھید دے زخمی کردے، طعن فی الدین سے مقصود تحقیق کسی درجہ میں بھی نہیں ہوتی، بلکہ دین کی توہین اور اہل دین کی دلآزاری۔ ایسی زبان درازی اس ” روشن خیال “ بیسویں صدی میں بھی ہر قانون میں جرم ہے۔ ذمی جس وقت دین اسلام پر زبان طعن دراز کرتا ہے، معاہدہ امن سے نکل جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
آیت نمبر 8 تا 16
ترجمہ : مشرکوں کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے ؟ یعنی نہیں ہوسکتا، مراد وہ مشرکین ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ (عہد شکنی کر کے) غداری کی، البتہ جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام (حرم) کے قریب حدیبیہ کے مقام پر معاہدہ کیا اور وہ قریش ہیں جن کا ماقبل میں استثنا ہوچکا ہے، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ عہد پر قائم رہیں اور معاہدہ کو نہ توڑیں، تو تم بھی ان کے ساتھ وفاء عہد پر قائم رہو، اور ما شرطیہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ متقیوں سے محبت رکھتا ہے، اور رسول ان کے ساتھ عہد پر قائم رہے یہاں تک کہ قریش نے خزاعہ کے خلاف بنی بکر کی مدد کر کے عہد کو توڑ دیا ان…
Read the full tafseer →وان نکثوآ ایمانھم من بعد عھدھم وطعنوا فی دینکم اور اگر وہ معاہدہ کرنے کے بعد پیمان شکنی کریں اور تمہارے دین پر طنز کریں۔ یعنی تمہارے دین کی تکذیب وتشنیع کریں۔
بغوی نے لکھا ہے : اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جو دین اسلام پر کھلم کھلا طنز کرے ‘ اس کا معاہدہ (مسلمانوں سے) قائم نہیں رہتا (یعنی یہ فعل خلاف معاہدہ ہے) میں کہتا ہوں : بغوی کا یہ استدلال کمزور ہے کیونکہ معاہدۂ امن کی شکست کا حکم تو دو شرطوں کے مجموعہ پر مبنی ہے : ایک یہ کہ کفار پیمان شکنی کریں ‘ دوسرا یہ کہ وہ دین اسلام پر طنز کریں۔ اگر ایک شرط موجود ہو تو تنہا اس پر حکم مرتب نہیں ہوسکتا۔
فقاتلوا ائمۃ الکفر انھم لآ ایمانن لھم پس تم ان…
Read the full tafseer →(12) اور اگر یہ مکہ والے بعدعہدی کریں اور دین اسلام پر طعن وتشنیع کریں تو آئمۃ الکفر یعنی ابوسفیان وغیرہ سے خوب لڑو کیوں کہ ان کی قسمیں باقی نہیں رہیں ممکن ہے کہ یہ بدعہدی سے باز آجائیں۔
Read the full tafseer →وَاِنْ نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ : یعنی جن لوگوں کی حالت یہ ہو کہ وہ نہ صرف تم سے معاہدہ کر کے اسے توڑتے ہوں بلکہ تمہارے دین کا مذاق اڑاتے، اس میں طعن کرتے اور عیب نکالتے ہوں تو سمجھ لو کہ یہی ”اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ“ (کفر کے سردار) ہیں۔ ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں، لہٰذا تم ان لوگوں کو کسی قسم کا موقع دیے بغیر ان سے جنگ کرو، تاکہ تمہاری تلواروں کی کاٹ سے وہ اپنے کرتوتوں سے باز آجائیں۔ معلوم ہوا کہ دین اسلام پر طعن کرنے والا اور رسول اللہ ﷺ کی اہانت کرنے والا واجب القتل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اگرچہ تمام کفار سے جنگ کی، مگر دین میں طعن، اسلام اور مسلمانوں کی توہین اور آپ ﷺ کی توہین کرنے والوں کے…
Read the full tafseer →اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ وان نکثوا، النکث کا معنی توڑنا ہے اور اصل میں یہ ہر اس شے کے لیے ہے جسے پہلے بٹاجائے اور پھر کھول دیا جائے ل اور یہ قسم اور معاہدوں میں مجاز استعمال ہوتا ہے۔ شاعر کا قول ہے :
وان حلفت لا ینقض النای عھد ھا فلیس لمخضوب البنان یمین
اس میں یمین بمعنی عھد (معاہدہ) ہے اور قولہ : وطعنو افی دینکم اور تمہارے دین میں طعن کریں معاہدے توڑ کر، جنگ کے ساتھ اور دیگر ایسے امور کے ساتھ جو مشرک کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے : طعنہ بالرمح (اس نیز کے ساتھ کچوکا لگایا) اور طعن بالقول اسیء فیہ، یطعن ( اس نے برے قول کے ساتھ طعنہ دیا) اس میں وہ طعنہ زنی کرتا ہے، دونوں مثالوں…
Read the full tafseer →1:۔ عبدبن حمید وابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان نکثوا ایمانہم “ یعنی اپنے عہد کو (اگر وہ توڑ دیں)
2:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وان نکثوا ایمانہم من بعد عہدہم “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا کہ اگر وہ اس عہد کو توڑ دیں جو آپ کے اور ان کے درمیان ہے تو پھر آپ ان سے قتال کریں کیونکہ یہ کافروں کے پیشوا ہیں۔
3:۔ عبدالرزاق وابن جریرابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ( آیت) ” ایمۃ الکفر “ سے مراد ہیں ابو سفیان بن حرب بن امیۃ بن حرب عقبہ بن ربیعہ ابوجہل بن ہشام سہیل اور یہ وہ لوگ…
Read the full tafseer →وَاِنْ [ اور اگر ] نَّكَثُوْٓا [ وہ توڑ دیں ] اَيْمَانَهُمْ [ اپنی قسموں کو ] مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ [ اپنے عہد کے بعد سے ] وَطَعَنُوْا [ اور طعنہ دیں ] فِيْ دِيْنِكُمْ [ تمہارے دین میں ] فَقَاتِلُوْٓا [ تو تم لوگ جنگ کرو ] اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ ۙ [ کفر کے سرداروں سے ] اِنَّهُمْ [ بیشک وہ لوگ (ایسے ) ہیں ] لَآ اَيْمَانَ [ کہ کسی طرح کی کوئی بھی قسم نہیں ہے ] لَهُمْ [ ان کے لیے ] لَعَلَّهُمْ [ شاید وہ لوگ ] يَنْتَهُوْنَ [ باز آجائیں ]
نوٹ۔ 1: جنگ (War) کے لیے قرآن مجید کی اصطلاح ” قتال “ ہے اور آیات ۔ 12، 13، 14، میں اسی لفظ کے مختلف صیغے استعمال ہوئے ہیں ۔ کیونکہ وہاں جنگ کا حکم دینا مقصود…
Read the full tafseer →کفر کے سرغنوں سے جنگ کرو، ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں
ان آیات میں قریش مکہ کی بد عہدی اور عہد شکنی کا تذکرہ ہے اور ان سے جنگ کرنے کی ترغیب ہے۔ ان لوگوں سے 6 ھ میں حدیبیہ کے مقام پر معاہدہ ہوا تھا۔ جس کی دس شرطوں میں سے ایک یہ شرط بھی تھی کہ دس سال تک ایک فریق دوسرے فریق پر حملہ آور نہ ہوگا اور نہ کوئی فریق کے حلیف پر حملہ کرے گا اور نہ کسی حملہ آور کی مدد کرے گا لیکن قریش مکہ نے معاہدہ توڑ دیا اور قبیلہ بنی خزاعہ (جو رسول اللہ ﷺ کا حلیف تھا) کے خلاف قریش مکہ نے قبیلہ بنی بکر کی ہتھیاروں سے اور جوانوں سے مدد کی۔ اب جبکہ انہوں نے اپنا عہد توڑ ڈالا، اور نہ صرف یہ کہ عہد توڑا بلکہ تمہارے دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
اعلان براءت کی علت اور حکمت
قال اللہ تعالیٰ ۔ کیف یکون للمشرکین عھد۔۔۔ الی۔۔۔ لعلھم ینتھون
(ربط): گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی براءت کا اعلان فرمایا۔ اب یہاں سے ان کے عہد کے تمام اور ختم کردینے کی علت اور حکمت بیان فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کا عہد اور ان اور ان کی صلح قابل اعتبار نہیں صلح کے وقت ہی ان کے دل میں دغا ہوتی ہے جو بعد میں ظاہر ہوتی ہے اور ان کی بار بار عہد شکنیوں کے تجربہ سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ یہ لوگ وفا کرنے کے لیے عہد نہیں کرتے بلکہ توڑنے کے لیے کرتے ہیں کہ اس وقت عہد کر کے مہلت حاصل کرلیں پھر موقعہ پا کر عہد کو توڑیں۔ جن لوگوں نے اب تک عہد نہیں توڑا نیت ان کی بھی یہی…
Read the full tafseer →11:“ نَکَثُوْا ” کی ضمیر سے اگر بنو کنانہ اور بنو ضمرہ مراد ہوں جو عہد پر قائم تھے تو “ اِنْ ” اپنے معنی موضوع لہ پر ہوگا اور اگر اس سے عہد توڑنے والے مشرکین مراد ہوں تو “ اِن ” بمعنی “ اِذَا ” ہوگا کیونکہ اس صورت میں نقض عہد مشکوک نہیں تھا بلکہ یقیناً واقع ہوچکا تھا۔ “ اَ لَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّکَثُوْا الخ ” دوسری توجیہ کا مؤید ہے۔ “ اَئِمَّةَ الْکُفْرِ ” اس سے مراد رؤساء کفر اور پیشوایان شرک ہیں جو اطراف مکہ کے باشندے تھے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ کے نکالنے میں مشرکین مکہ کو مدد دی تھی یعنی قبل از فتح مکہ اس سے مدینہ کے یہود مراد لینا صحیح نہیں۔ “ لَا اَیْمَانَ لَھُمْ اي لا عھد لھم ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ربطِ آیات :
اس سورة کی ابتداء میں کفر اور شرک کرنے والوں سے بیزاری کا اعلان کیا گیا پھر اعلان جنگ کے لیے چار ماہ کی مہلت کا ذکر ہوا ، البتہ عہدوپیمان کی وفا اور اہل ایمان کے خلاف کسی کی مدد نہ کرنے والوں کے ساتھ معاہد کے کی مدت کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر فرمایا کہ جب مقررہ مدت گزر جائے ، تو کفار ومشرکین جہاں بھی ملیں ان کو گھیرو قتل کرو اور کی گھات میں بیٹھو یہاں تک کہ ہو تائب ہو کر نماز پڑھنے لگیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں فرمایا اگر وہ ایسا کرنے لگیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو اور کوئی تعرض نہ کرو پھر فرمایا کہ یہ لوگ عہد و پیمان کے برے کچے ہیں ، اس لیے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ان کے…
Read the full tafseer →وَاِنْ نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَہْدِہِمْ وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَىِٕمَّۃَ الْكُفْرِ 0 ۙ اِنَّہُمْ لَآ اَيْمَانَ لَہُمْ لَعَلَّہُمْ يَنْتَہُوْنَ 12
نكث
النَّكْثُ : نَكْثُ الأَكْسِيَةِ والغَزْلِ قَرِيبٌ مِنَ النَّقْضِ ، واستُعِيرَ لِنَقْضِ العَهْدِ قال تعالی:
وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمانَهُمْ [ التوبة/ 12] ، إِذا هُمْ يَنْكُثُونَ [ الأعراف/ 135] والنِّكْثُ
کالنِّقْضِ والنَّكِيثَةُ کالنَّقِيضَةُ ، وكلُّ خَصْلة يَنْكُثُ فيها القومُ يقال لها : نَكِيثَةٌ. قال الشاعر
مَتَى يَكُ أَمْرٌ لِلنَّكِيثَةِ أَشْهَد
( ن ک ث ) النکث
کے معنی کمبل یا سوت ادھیڑ نے کے ہیں اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
ترکیب : عہد اسم یکون اور خبر یا کیف ہے جو استفہام کے لئے مقدم کردیا گیا ہے یا للمشرکین ہے اور عند دونوں صورتوں عہدا یا یکون کا ظرف ہے یا عند اللّٰہ ہے فما زمانیہ یا شرطیہ ای فاستقیموا لھم مدۃ استقامتھم وان استقاموا فاستقیموا۔ یرضونکم حال ہے یا جملہ مستانفہ فان تابوا شرط فاخوانکم جواب۔
تفسیر : اس مقام پر ان کے عہد کو تمام کرنے کا سبب بیان فرماتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک مشرکین کا عہد کیونکر باقی رہ سکتا ہے ؟ بجز ان شخصوں کے کہ جن سے تم نے مسجد الحرام یعنی خانہ کعبہ کے پاس سال حدیبیہ میں عہد کیا تھا یعنی قریش کا ایک گروہ سب کو لوگوں نے بنو حمزہ بنو کنانہ کہا ہے جن کا پہلی آیات میں…
Read the full tafseer →وَاِنْ نَّکَثُوْ ٓااَیْمَانَھُمْ مِنْم بَعْدِعَھْدِھِمْ وَطَعَنُوْافِیْ دِیْنِکُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَئِمَّۃَ الْکُفْرِلااِنَّھُمْ لَآ اَیْمَانَ لَھُمْ لَعَلَّھُمْ یَنْتَھُوْنَ (التوبۃ : 12)
(اگر یہ توڑ دیں اپنے قول وقرار کو عہد کرچکنے کے بعد اور تمہارے دین کے بارے میں طعن کریں تو تم کفر کے ان سرخیلوں سے لڑو ان کے کسی قول وقرار کا کوئی وزن نہیں تاکہ یہ اپنی حرکتوں سے رک جائیں۔ )
آیت کے دو مصداق اور قتال کا حکم
اہلِ علم کی ایک رائے کے مطابق یہ آیت کریمہ پچھلی آیت کا تسلسل ہے۔ جیسا میں عرض کرچکا ہوں ان کے خیال میں مسجد حرام کے پاس جس معاہدے کا ذکر کیا گیا ہے وہ معاہدہ حدیبیہ ہے اور اس کے بارے میں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : دین دار لوگوں کی آپس میں محبت ہونی چاہیے جو لوگ عہد شکنی کریں اور دین اسلام کو طعن و تضحیک کا نشانہ بنائیں ان سے نہ صرف نفرت ہونی چاہیے بلکہ جنگ کے دوران انھیں خاص طور پر نشانہ بنانا چاہیے۔
کفار اور منافقین تائب ہونے کی بجائے عہد شکنی اور دین میں طعن وتشنیع کا سلسلہ جاری رکھیں۔ تو ان کی قسموں پر اعتماد کرنے کی بجائے کفر کے سرداروں کو قتل کر دو ۔ شاید اس طرح باقی ماندہ لوگ کفر و شرک کی کھلم کھلا مخالفت سے باز آجائیں۔ دین میں طعن سے مراد اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کرنا اور دین کے بارے میں غلط پروپیگنڈہ کرنا ہے۔ اس آیت میں دو باتیں بالخصوص کہی گئی ہیں۔ ائمۃ…
Read the full tafseer →اگر معاہدہ توڑیں اور طعنہ زنی کریں تو قابل گردن زدنی ہیں :
آیت 12: وَاِنْ نَّکَثُوْٓا اَیْمَانَہُمْ مِّنْم بَعْدِ عَھْدِہُمْ (اگر وہ لوگ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں) یعنی انہوں نے قسموں کے ذریعہ کئے جانے والے معاہدے توڑ دیے۔ وَطَعَنُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَپمَّۃَ الْکُفْرِ (اور تمہارے دین میں طعنہ کریں۔ تو تم ان کفر کے راہنمائوں سے لڑو) قراءت : دونوں ہمزہ کے ساتھ کوفی شامی نے پڑھا ہے۔ بقیہ قراء نے ایک ہمزہ سے پڑھا جو کہ غیر ممدودہ اور اس کے بعد یائے مک سورة ہے۔ اس کی اصل أأممۃ یہ جمع امام ہے جیسے عماد جمع اعمدۃ۔ پہلی میم کی حرکت نقل کرکے ہمزہ ساکنہ کو دی اور میم کو…
Read the full tafseer →تفسیر 12” وان نکثوآ ایمانھم “ اپنے عہد کو توڑیں ” من م بعد عھدھم “ یعنی قریش کے مشرکین ” وطعنوا فی دینکم “ اور اس میں عیب نکالیں۔ پس یہ دلیل ہے اس بات پر کہ جو ذمی دین اسلام میں عیب نکالے اور اعلانیہ تو اس کا کوئی معاہدہ باقی نہ رہے گا۔” فقاتلوآ ائمۃ الکفر “ اہل کوفہ اور اہل شام نے (ائمہ) دو ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے جہاں بھی ہو اور باقی حضرات نے دوسرے ہمزہ کو لین کے ساتھ پڑھا ہے اور ائمتہ الکفر ۔ مکہ کے مشرکین کے سرداروں اور قائدین کو ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ابوسفیان بن حرب اور ابوجہل بن ہشام اور سہیل بن عمرو اور عکرمہ بن ابی جہل اور قریش کے تمام سرداروں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ان…
Read the full tafseer →12۔ اس آیت میں اللہ جل شانہ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ یہ مشرک لوگ اگر اپنا عہد توڑ دیں اور تمہارے سچے دین میں نقص نکالیں اور عیب لگائیں تو ان کے سرداروں کو چن چن کر مارو اور قتل کرو کہ یہ سب فساد ان ہی کی وجہ سے ہے کیونکہ بچارے غریب لوگ کیا سر اٹھا دیں گے جب تک انہیں بڑے بڑے لوگ کچھ مدد نہ دیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ابوسفیان وغیرہ قریش کے ریئسوں کے باب میں اتری ہے کیونکہ یہ لوگ اپنی قوم میں منتخب لوگوں میں شمار کئے جاتے تھے اور اپنے اپنے قبیلہ کے سردار مانے جاتے تھے اور انہیں لوگوں نے صلح کر کے پھر اپنے عہد کو توڑا اور آنحضرت ﷺ کو مکہ سے نکا لا پھر فرمایا کہ ان لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
آیت 12
اس بات کا ذکر کرنے کے بعد اگر مشرک معاہدین اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں تو تم بھی اپنے عہد پر قائم رہتے ہوئے ان سے اپنے عہد کو پورا کرو۔۔۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں “ یعنی انہوں نے اپنے حلف کو توڑ دیا اور جنگ میں تمہارے خلاف دشمن کی مدد کی یا تمہیں نقصان پہنچایا (وطعنوا فی دینکم) ” اور تمہارے دین میں طعن کرنے لگیں “ یعنی تمہارے دین میں عیب چینی کی یا اس کا تمسخر اڑایا۔ یہ دین اور قرآن میں ہر قسم کے طعن و تشتیع کو شامل ہے۔ (فقاتلوا ائمۃ الکفر) تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔ “ یعنی قائدین کفر اور ان سرداروں سے لڑو جو اللہ رحمٰن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
دین پر زبان درازی ناقابل برداشت ہے
قول باری ہے (ان نکثوا ایمانھم من بعد عھدھم و طعنوا فی دینکم فقاتلوا ائمۃ الکفر اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ پھر اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے اوپر حملے شروع کردیں تو کفر کے علمبرداروں سے جنگ کرو) اس میں دلالت موجود ہے کہ معاہدہ ج کرنے والے اگر معاہد کی کسی شق کی خلاف ورزی کے مترکب پاے جائیں اور ہمارے دین کے متعلق زبان درازی پر اترائیں تو وہ معاہدہ توڑنے کے مرتکب قرار پائیں گے۔ اس لئے کہ قسموں کو توڑنے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جن چیزوں کے بارے میں قسمیں کھائی گئی ہوں ان میں سے بعض کی خلاف ورز یکر لی جائے۔ اگر قسم نفی کی صورت میں کھائی گئی ہو، مثلاً کسی نے یہ…
Read the full tafseer →25 کفر کے پیشواؤں کیخلاف جنگ کرنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ توڑ دیں اپنی قسموں کو اپنے عہد کے بعد تو لڑو تم کفر کے ان پیشواؤں سے جو کہ نور ایمان کے مقابلے میں ظلمت کفر کو پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اور دنیا کو نور حق و ہدایت سے محروم کرنے کے درپے ہیں۔ سو تم لڑو ان سے تاکہ کمر ٹوٹے کفر و باطل کی اور راستہ صاف ہوجائے حق اور اہل حق کا۔ سو یہاں پر کفر کے پیشواؤں سے لڑنے کا حکم دیا گیا۔ کیونکہ ایسے ہی لوگ حق اور اہل حق کیخلاف جنگ کی پیشوائی کرتے ہیں۔ اور ان کا زور توڑنے سے ان کی جنگ کا بھی خاتمہ ہوجائے گا اور ائمہ کفر کا لفظ اگرچہ عام ہے اور یہ سب ہی پیشوایان کفر کو شامل ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
کفر کے سرداروں کا علاج
تشریح : یہاں ان لوگوں کا ذکر کیا جارہا ہے جو قسمیں کھا کر عہد کر چلے مگر پھر مسلمانوں اور دین کے خلاف کام کرنے لگے اور اپنے عہد کا کوئی پاس نہ کیا۔ تو یقیناً یہ تمہارے خلاف اسلام کے خلاف منظم ہونے کی کوشش میں معلوم ہوتے ہیں تو ایسے کفر کے سرداروں یا لیڈروں کو کچل دو تاکہ فتنہ کھڑا ہونے سے پہلے ہی دبا دیا جائے۔ یہ لوگ تو ہمیشہ سے بےایمان لوگ ہیں۔ انہوں نے پہلے بھی عہد شکنی کی تھی جب آنحضرت ﷺ غزوئہ تبوک کے لیے روانہ ہوئے تو یہود، منافقین اور کفار مدینہ نے مل کر عہد شکنی کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ سے نکال دینے کی سازش کی تھی۔ بھلا یہ ہمیشہ کے عہد شکن لوگ اعتبار کے قابل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–16
آیات 7 تا 16
اسرار و معارف
مشرکین کے وعدوں کا کیا بھر وسہ اور وہ بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک کہ جب انھیں عظمت باری کا احساس ہے نہ عظمت رسالت کا پاس مزاج میں کفر وشرک رچابسا ہوا ہے تو ایسے لوگوں سے خیر کی کیا تو قع کی جاسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ انھوں نے خود بد عہدی کی اور نقصان بھی اٹھایا مسلمانوں نے عہد نبھایا تو فتح دکامرانی سے سرفراز ہوئے سوائے اس جماعت یا ان لوگوں کے جنہوں نے حرم کے نزدیک معاہدہ کیا تھا اگرچہ وہ بھی ابھی تک اسلام کی برکات سے محروم تھے مگر ان سے بھلے تھے کہ انھوں نے عہد نبھایا۔
اچھی بات کی تعریف
گویا اچھے عمل کی تعریف کی جانی چاہیئے خواہ وہ کافر سے ظاہر ہوبھلائی بہرحال…
Read the full tafseer →ف 3 یعن جن لوگوں کی حالت یہ ہو کہ وہ صرف تم سے معاہدہ کر کے اسے توڑ تے ہوں بلکہ تمہارے دین کا مذاق بھی اڑاتے ہوں تو سمجھ لو کہ ایسے ہی لوگ ائمتہ الکفر، ( کفر کے سردار) ہیں ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں لہذا تم ایسے لوگوں کو کسی قسم کو موقع دیئے بغیر پر سر پیکار ہوجاؤ شاید تمہاری تلواریں ہی انہیں ان کے کرتوتوں سے باز رکھ سکیں۔ معلوم ہوا کہ دین اسلام پر طعن کرنے والا اور پیغمبر ( علیہ السلام) کی اہا نت کرنے والا واجب القتل ہے۔ ( ابن کثیر )
Read the full tafseer →(9:12) نکثوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ نکث مصدر۔ (باب ضرب و نصر) انہوں نے عہد کو توڑا۔ نکثیۃ۔ عہد شکنی۔ جھوٹ۔ ایسا دشوار کام جس میں لوگ عہد و پیمان کو توڑ ڈالیں۔
طعنوا۔ انہوں نے ثعن کیا۔ انہوں نے عیب نکالا۔ طعن سے جس کا اصل معنی نیزہ مارنا ہے (باب ضرب۔ نصر۔ فتح) ہر وہ چیز جو دل کو دکھ پہنچانے والی ہو اس کو بھی طعن کہتے ہیں۔ مثلاً عیب جوئی۔ طعنہ زنی۔ طعن۔ بمعنی نیزہ زنی اکثر باب نصر سے آتا ہے۔ اور جب اس کا تعلق طعن بالقول سے ہو تو باب فتح سے۔ یہاں مراد عیب جوئی۔ نقص بینی کے ہیں۔
ائمۃ الکفر۔ رؤس المشرکین۔ کفر کے پیشوا۔ کافروں کے لیڈر۔ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق اس سے مراد ابوسفیان بن حرب۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
آیات : 7 تا 12
لغات القرآن۔
استقاموا۔ سیدھے ہیں۔ ان یظھروا۔ اگر وہ غالب آجائیں۔ لا یرقبوا۔ لحاظ نہ کریں گے۔ الا ۔ قریبی دوستی۔ رشتہ داری۔ ذمۃ۔ عہد۔ معاہدہ۔ یرضون۔ وہ راضی کرتے ہیں۔ افواہ۔ (فوہ) ۔ منہ۔ اشتروا۔ خرید لیا۔ لے لیا۔ ثمنا قلیلا۔ گھٹا ا قیمت۔ تھوڑی قیمت۔ المتعدون۔ حد سے نکل جانے والے۔ اخوان۔ (اخ) ۔ بھائی۔ نکثوا۔ توڑ دیں۔ ایمانھم۔ اپنی قسمیں۔ طعنوا۔ طعنے دیں۔ برائیاں نکالیں۔ ائمۃ الکفر۔ کفر کے سردار ۔ سرغنے۔
تشریح :
قرآن کریم کی ان آیات سے جو ہدایات ربانی فراہم ہوتی ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔
(1) وہ معاہدے جو رسول اللہ ﷺ نے مسجد حرام کے پاس اور اس کے آس پاس کے قبیلوں یعنی بنو کنانہ، بنو…
Read the full tafseer →اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ یہ مشرک لوگ اگر اپنا عہد توڑیں اور تمہارے سچے دین میں نقص نکالیں، اور عیب لگائیں تو ان کے سرداروں کو چن چن کر مارو اور قتل کرو کہ یہ سب فساد ان ہی کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ بیچارے غریب لوگ کیا سر اٹھاویں گے جب تک انہیں بڑے بڑے لوگ کچھ مدد نہ دیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
[8] یعنی مسلمان ہونے کا عہد کرنے اور اسلام سے اپنی وفاداری کی قسمیں کھانے کے بعد عہد شکنی کریں اور اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں۔ بالفاظ دیگر مسلمان ہونے کے بعد کفر کی طرف پلٹ جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
(ف 1) مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ معاہدہ کیوں کر قائم رہ سکتا ہے جب ان کے دلوں میں مسلمان کے خلاف سخت جذبات غیظ وغضب مشتعل ہیں اور موقع آنے پر یہ ذرا بھی نہیں چوکتے ، مسلمان چاہے عزیز ہو ، چاہے قریبی ، یہ لوگ وقت پر وار کرنے سے باز نہیں آتے ۔
زبان سے ضرور کہتے ہیں ہم تمہارے دوست ہیں ، مگر دل میں بدستور خبث پنہاں ہے ۔
اور یہ عجیب بات ہے کہ آج بھی مشرک کی یہی ذہنیت ہے مسلمان سے جب ملے گا تو نہایت عجز و انکسار کے ساتھ زبان سے نہایت میٹھا ہے ، مگر دل کا کڑوا اور ناپاک ہے ۔
حل لغات :
الا : قرابت ، رشتہ داری ۔
ذمۃ : عہد ۔
Read the full tafseer →12 اور اگر وہ لوگ اپنے عہد کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر طعن وتشنیع کریں اور تمہارے دین میں عیب لگائیں تو تم اس ارادے اور اس مقصد سے ان کفر کے سرداروں سے جنگ کرو اور لڑو کہ شاید وہ اپنی ناشائستہ حرکات سے باز آجائیں کیونکہ اس حالت میں ان کی قسمیں باقی نہیں ہیں، جیسا کہ بنی بکر نے قریش کی امداد سے خزاء پر حملہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ ان لوگوں نے اپنا عہد توڑ دیا اس لئے مسلمانوں کو حکم ہوا جہاد کا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اگر ثابت ہوا ہو ایک کافر عیب دیتا ہے ہمارے دین کو وہ ذمی نہ رہا۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ف 1۔ یعنی ان کی عہد شکنی پر اصلا نظر نہ ہوگی خواہ انہوں نے کچھ ہی کیا اسلام لانے سے۔
Read the full tafseer →عہد و پیمان کو توڑ کر کفر کی طرف گامزن ہونے والوں کا علاج کیا ہے ؟
16: کسی بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرانے کے لئے بار بار اور مختلف پیرائیوں سے بیان کیا جاتا ہے۔ یہی طریقہ اس جگہ استعمال کیا گیا ہے اور یہ بھی کہ جتنی اہم بات ہوتی ہے اس کی احمیت کے پیش نظر بھی یہی طریقہ بیان اختیار کیا جاتا ہے اور فریق مخالف پر اثر ڈالنے کے لئے بھی کہ اس طرح وہ سوچ سمجھ کر جو کچھ کرنا چاہتا ہے کرے ممکن ہے کہ اس کے ذہن میں اصلاح کا پہلو ہی آجائے جو فریقین کے لئے مفید ہو۔ شروع سورة سے اس مضمون کو مختلف طریقوں سے بیان شروع کیا اور اسی طرح کیا جا رہا ہے اب بھی اگر وہ بار بار یاد دہانی کرانے کے باوجود اپنی ضد پر…
Read the full tafseer →Commentary
It will be recalled that a cease-fire agreement with the Quraysh of Makkah was concluded at Hudaibiyah in the Hijrah year 6. That the Quraysh will not stick to the agreement was foretold in verse 7 of Su-rah At-Taubah: كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ (how can the Mushriks have a treaty...). Then, came verses 8, 9 and 10 with the causes of their pledge breaking. And in the 11th verse it was announced that, despite having broken their solemn covenant, if these Mushriks become Muslims and start expressing their faith in Islam through prayers and fasting, then, Muslims are…
Read the full tafseer →