At-Tawba 9:11

At-Tawba · from ayah 11

9:11

فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ ؕ— وَنُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ۟فَاِنۡ تَابُوۡا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخۡوَانُكُمۡ فِى الدِّيۡنِ‌ؕ وَنُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ‏

اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے لگیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں۔ اور سمجھنے والے لوگوں کے لیے ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

But if they repent, establish prayer, and give zakah, then they are your brothers in religion; and We detail the verses for a people who know.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:11

پس اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور جاننے والوں کے لیے ہم اپنے احکام واضح کیے دیتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے لگیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں۔ اور سمجھنے والے لوگوں کے لیے ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اب بھی اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز کے پابند ہو جائیں اور زکوٰة دیتے رہیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں۔ ہم تو جاننے والوں کے لئے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا اگر یہ توبہ کرلیں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو یہ تمہارے دینی بھائی بن جائیں گے۔ اور ہم احکام کی یہ تفصیل ان لوگوں کے لیے بیان کر رہے ہیں جو جاننا چاہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰة دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم آیتیں مفصل بیان کرتے ہیں جاننے والوں کے لیے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر (بھی) اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو (وہ) دین میں تمہارے بھائی ہیں، اور ہم (اپنی) آیتیں ان لوگوں کے لئے تفصیل سے بیان کرتے ہیں جو علم و دانش رکھتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں، اور ہم ان لوگوں کے لیے آیات کھول کر بیان کرتے ہیں جو جانتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہاں اگر یہ توبہ کرلیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم اپنے احکام ان لوگوں کے لئے تفصیل سے بیان کرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس اگر وہ توبہ کریں، نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم آیات کی تفصیل کیے دے رہے ہیں ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو اگر یہ لوگ توبہ کرلیں (اپنے کفر وباطل سے) اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو یہ تمہارے دینی بھائی ہیں، اور ہم کھول کر بیان کرتے ہیں اپنے احکام ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

لیکن اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز کے پابند ہوجائیں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو وہ تمہارے بھائی ہوجائیں گے دین میں۔ اور ہم آیتوں کو علم والوں کے لئے تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر بھی اگر وہ توبہ کرلیں نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم اپنی آیات کی تفصیل بیان کر رہے ہیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر یہ توبہ کرلیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور سمجھنے والے لوگوں کے لیے ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But if they repent and establish Prayer and give Zakah they are your brothers in faith. Thus do We expound Our revelations to those who know.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then, if they repent and establish Salah and pay Zakah, they are your brothers in faith. We elaborate the verses for a people who understand.

— Muhammad Taqi Usmani

Then, if they repent and establish Salah and pay Zakah, they are your brothers in faith. We elaborate the verses for a people who understand.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But if they repent, perform the Salah and give the Zakah, then they are your brethren in religion. (In this way) We explain the Ayat in detail for a people who know.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But if they repent and establish worship and pay the poor-due, then are they your brethren in religion. We detail Our revelations for a people who have knowledge.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But if they repent, establish prayer, and give zakah, then they are your brothers in religion; and We detail the verses for a people who know.

— Saheeh International

If they repent, perform their prayers, pay religious tax, they would be your brothers in the religion. We explain Our revelations to people of knowledge.

— Muhammad Sarwar

But if they repent and keep up prayer and pay the poor-rate, they are your brethren in faith; and We make the communications clear for a people who know.

— Muhammad Habib Shakir

If they repent and establish prayer and give the poor- rate, then they are your brethren-in-faith. And we detail the revelations unto a people who know.

— Abdul Majid Daryabadi

But (even so), if they repent, establish regular prayers, and practise regular charity,- they are your brethren in Faith: (thus) do We explain the Signs in detail, for those who understand.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–11

جہاد ہی راہ اصلاح ہے مشرکوں کی مذمت کے ساتھ ہی مسلمانوں کو ترغیب جہاد دی جا رہی ہے کہ ان کافروں نے دنیائے خسیس کو آخرت نفیس کے بدلے پسند کرلیا ہے خود راہ رب سے ہٹ کر مومنوں کو بھی ایمان سے روک رہے ہیں ان کے اعمال بہت ہی بد ہیں یہ تو مومنوں کو نقصان پہنچانے کے ہی درپے ہیں نہ انہیں رشتے داری کا خیال نہ معاہدے کا پاس۔ ہے جو دنیا کو اس حال میں چھوڑے کہ اللہ کی عبادتیں خلوص کے ساتھ کر رہا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ہو نماز و زکوٰۃ کا پابند ہو تو اللہ اس سے خوش ہو کر ملے گا یہی اللہ کا وہ دین ہے جسے انبیاء (علیہم السلام) لاتے رہے اور اسی کی تبلیغ اللہ کی طرف سے وہ کرتے رہے اس سے پہلے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّوْبَة 14 یہاں پھر یہ تصریح کی گئی ہے کہ نماز اور زکوٰۃ کے بغیر محض توبہ کرلینے سے وہ تمہارے دینی بھائی نہیں بن جائیں گے۔ اور یہ جو فرمایا گیا کہ اگر ایسا کریں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ شرائط پوری کرنے کا نتیجہ صرف یہی نہ ہوگا کہ تمہارے لیے ان پر ہاتھ اٹھانا اور ان کے جان و مال سے تعرض کرنا حرام ہوجائے گا۔ بلکہ مزید برآں اس کا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اسلامی سوسائٹی میں ان کو برابر کے حقوق حاصل ہوجائیں گے۔ معاشرتی، تمدنی اور قانونی حیثیت سے وہ تمام دوسرے مسلمانوں کی طرح ہوں گے۔ کوئی فرق و امتیاز ان کی ترقی کی راہ میں حائل نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

آخر آیت میں معاہدین اور تائبین سے متعلقہ احکام مذکورہ کی پابندی کی تاکید کرنے کیلئے ارشاد فرمایا (آیت) وَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ ، یعنی ہم سمجہدار لوگوں کے لئے احکام کو خوب تفصیل سے بیان کرتے ہیں“۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 9–11

تفسیر آیات 9 تا 11:۔ اِشْتَرَوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَـمَنًا قَلِيْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭاِنَّهُمْ سَاۗءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔ لَا يَرْقُبُوْنَ فِيْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ۔ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ ۭوَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۔ اعلان براءت کے وجوہ کی مزید وضاحت : یہ اعلان براءت کے وجوہ کی مزید وضاحت ہے کہ ان مشرکین کا معاملہ خالق اور خلق کسی کے ساتھ بھی درست نہیں۔ ان کے لیے اللہ کی ہدایت اتری تو انہوں نے اس کے مقابل میں اس دنیا کی متاع حقیر کو ترجیح دی،…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11۔ 1 نماز، توحید و رسالت کے اقرار کے بعد، اسلام کا سب سے اہم رکن ہے اللہ کا حق ہے، اس میں اللہ کی عبادت کے مختلف پہلو ہیں۔ اس میں دست بستہ قیام ہے، رکوع و سجود ہے، دعا و مناجات ہے، اللہ کی عظمت و جلالت کا اور اپنی عاجزی و بےکسی کا اظہار ہے۔ عبادت کی یہ ساری صورتیں اور قسمیں صرف اللہ کے لئے خاص ہیں، نماز کے بعد دوسرا اہم فریضہ زکٰوۃ ہے، جس میں عبادتی پہلو کے ساتھ ساتھ خقوق العباد بھی شامل ہیں، زکٰوۃ سے معاشرے کے اور زکٰوہ دینے والے کے قبیلے کے ضرورت مند، مفلس نادار اور معذور و محتاج لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں، اسی لئے حدیث میں بھی شہادت کے بعد ان ہی دو چیزوں کو نمایاں کر کے بیان کیا گیا ہے۔ نبی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

10: یہاں یہ واضح کردیا گیا کہ اگر کوئی شخص سچے دل سے توبہ کرلے تو مسلمانوں کو چاہیے کہ اس سے بھائیوں کا سا سلوک کریں اور جو تکلیفیں اس نے اسلام لانے سے پہلے پہنچائی ہیں۔ ان کو بھلا دیں، کیونکہ اسلام اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں اور زیادتیوں کو مٹا دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–12

11 ۔ 12:۔ اب تفصیلاً بتایا جاتا ہے کہ ان حالات میں اہل ایمان مشرین کے حوالے سے کیا طرز عمل اختیار کریں۔ ۔۔۔ مسلمانوں کا مقابلہ ایسے دشمنوں سے ہے جو ہر وقت تاک میں بیٹھا ہے اور وہ مسلمانوں پر بےرحم وار کرنے کے لیے محض اس لیے رکے ہوئے ہوتے ہیں کہ اندر وار کرنے کی سکت نہیں ہوتی۔ یہ وجہ نہیں ہوتی کہ وہ کسی عہد و پیمان کا لحاظ کرنے والے ہوتے ہیں یا کسی ذمہ داری کا احساس کرنے والے ہوتے ہیں یا ان پر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت و مذمت کا کوئی اثر ہوتا ہے ، نہ وہ کسی رشتہ داری یا تعلق کا خیال رکھتے ہیں۔ دین اور لادینی کی کشمکش کی یہ ایک طویل تاریخ ہے اور یہ تاریخ اسی راہ پر چلتی رہی ہے۔ اس شاہراہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی اب بھی اگر کفر سے توبہ کر کے احکام دینیہ (نماز زکوٰۃ وغیرہ) پر عمل پیرا ہوں تو نہ صرف یہ کہ آئندہ کے لیے محفوظ و مامون ہوجائیں گے بلکہ اسلامی برادری میں شامل ہو کر ان حقوق کے مستحق ہوں گے۔ جن کے دوسرے مسلمان مستحق ہیں۔ جو کچھ بدعہدیاں اور شرارتیں پہلے کرچکے ہیں سب معاف کردی جائیں گی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " یہ جو فرمایا کہ بھائی ہیں حکم شریعت میں۔ اس سے سمجھ لیں کہ جو شخص قرآئن سے معلوم ہو کہ ظاہر میں مسلمان ہے اور دل سے یقین نہیں رکھتا اس کو حکم ظاہری میں مسلمان گنیں، مگر معتمد اور دوست نہ بنائیں۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 11 فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ ط اللہ نے ان کے لیے اب بھی توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہوا ہے۔ اب بھی اگر وہ اسلام قبول کرلیں اور شعار دینی کو اپنا لیں تو وہ تمہاری دینی برادری میں شامل ہوسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

10 اسلامی ریاست میں حقوق شہریت کی شرائط :۔ اسی سورة کی آیت نمبر 5 میں فرمایا تھا کہ اگر مشرک لوگ توبہ کرلیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کی راہ چھوڑ دو ۔ یعنی اب ان کے اموال اور ان کی جانیں تمہارے ہاتھوں سے محفوظ ہوگئیں اور اس آیت میں فرمایا کہ اگر وہ تینوں شرائط پوری کرلیں تو صرف یہی نہیں کہ ان کے جان و مال محفوظ ہوجائیں گے بلکہ وہ اسلامی برادری کا ایک فرد بن جائیں گے اور انہیں وہ تمام تمدنی، معاشرتی، قانونی اور معاشی حقوق اسی طرح حاصل ہوجائیں گے جس طرح دوسرے مسلمانوں کو حاصل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

19 ۔ یعنی اگر یہ لوگ عقاید کفر وشرک سے اپنی، تبری، کا اظہار کردیں، اور مسلمانوں کے سے کام کرنے لگیں تو اعتبار ان کے ظاہر کا کرلیا جائے اور دل میں ان کے جو کچھ بھی ہو، بہرحال یہ اسلامی برادری کے جزء سمجھے جائیں گے اور معاملہ ان کے ساتھ مسلمانوں ہی کا سا کیا جائے گا۔ اور اب ان کے پچھلے جرائم عہد شکنی وغیرہ پر نظر نہیں کی جائے گی۔ یدل علی من اظھرلنا الایمان واقام الصلوۃ واتی الزکوۃ فعلینا موالاتہ فی الدین علی ظاھر امرہ مع وجودان یکون اعتقادہ فی المغیب علی خلافہ (جصاص) (آیت) ” فان تابوا “۔ یعنی اپنے کفر سے توبہ کریں اور احکام اسلام پر قائم ہوجائیں۔ اے عن الکفر (مدارک) عماھم علیہ من الکفر وسائر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–16

آیت نمبر 8 تا 16 ترجمہ : مشرکوں کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے ؟ یعنی نہیں ہوسکتا، مراد وہ مشرکین ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ (عہد شکنی کر کے) غداری کی، البتہ جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام (حرم) کے قریب حدیبیہ کے مقام پر معاہدہ کیا اور وہ قریش ہیں جن کا ماقبل میں استثنا ہوچکا ہے، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ عہد پر قائم رہیں اور معاہدہ کو نہ توڑیں، تو تم بھی ان کے ساتھ وفاء عہد پر قائم رہو، اور ما شرطیہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ متقیوں سے محبت رکھتا ہے، اور رسول ان کے ساتھ عہد پر قائم رہے یہاں تک کہ قریش نے خزاعہ کے خلاف بنی بکر کی مدد کر کے عہد کو توڑ دیا ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فان تابوا واقاموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ فاخوا لکم فی الدین ط پھر اگر یہ (شرک) سے توبہ کرلیں اور ٹھیک ٹھیک نماز پڑھیں اور زکوٰۃ ادا کریں تو تمہارے دینی بھائی ہیں۔ یعنی ان کا نفع و ضرر تمہارا نفع و ضرر ہے۔ ونفصل الایت لقوم یعلمون اور جاننے والے لوگوں کی تنبیہ کیلئے ہم آیات (احکام) الگ الگ بیان کر رہے ہیں۔ معاہدہ کرنے والوں اور توبہ کرنے والوں کے احکام کی تفصیل پر غور کرنے کی ترغیب دینے کیلئے یہ جملہ الگ مستقل طور پر ذکر کیا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس آیت نے اہل قبلہ کے خون کو حرام کردیا (کسی شخص یا فرقہ کی خوں ریزی بشرطیکہ وہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا ہو ‘ جائز نہیں۔ حضرت ابن مسعود نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(11) اگر یہ لوگ کفر سے باز آئیں اور توبہ کرکے ایمان باللہ کے قائل ہوجائیں اور پانچویں نمازوں اور ادائیگی زکوٰۃ کے پابند ہوجائیں تو پھر یہ لوگ تمہارے دینی بھائی ہوں گے۔ ہم سمجھدار اور یقین رکھنے والوں کے لیے قرآن حکیم میں اوامرو نواہی کا تفصیلی ذکر کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ : یعنی ایمانی اخوت، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة حجرات (10) میں کیا ہے : (اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ)”مومن تو سب بھائی ہی ہیں“ وہ ان تین چیزوں کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ ان تین چیزوں سے انھیں اسلامی معاشرے میں وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو دوسرے مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یہ جو فرمایا بھائی ہیں حکم شرع میں، اس میں سمجھ لیں کہ جو شخص قرائن سے معلوم ہو کہ ظاہر میں مسلمان ہے اور دل سے یقین نہیں رکھتا تو چاہے اسے حکم ظاہری میں مسلمان گنیں، مگر معتمد اور دوست نہ پکڑیں۔“ (موضح) یہ بات پہلے بھی گزری ہے یہاں مزید تاکید ہوگئی کہ نماز…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قولہ تعالیٰ : فان تابوا یعنی اگر وہ شرک سے توبہ کرلیں اور احکام اسلام کو لازم پکڑ لیں۔ فاخوانکم توہ تہارے بھائی ہیں۔ فی الدین (دین میں) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس آیت نے اہل قبلہ کے خون حرام کردیئے ہیں۔ اور یہ معنہ پلے گزر چکا ہے۔ اور ابن زید نے کہا ہے :ـ اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکوٰۃ دونوں فرض کی ہیں اور اس سے منع کیا ہے کہ کوئی ان دونوں کے درمیان فرق کرے اور اس کا بھی انکار کیا ہے کہ وہ زکوٰۃ کے بغیر نماز کو قبول کرے۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ نے بیان کیا ہے : تمہیں نماز اور زکوٰۃ کے بارے میں حکم دیا گیا ہے پس جس نے زکوٰۃ نہ کی تو اس کی نماز بھی نہیں۔ اور حدیث میں ہے کہ حضور بنی مکرم ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فان تابوا واقاموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ فاخوانکم فی الدین “ سے مراد ہے کہ اگر لات اور عزی (دو بتوں کے نام ہیں) کو چھوڑدیں اور ” لا الہ الا اللہ وان محمد رسول اللہ “ کی گواہی دیں تو وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاِنْ [ پھر اگر ] تَابُوْا [ وہ توبہ کریں ] وَاَقَامُوا [ اور قائم کریں ] الصَّلٰوةَ [ نماز ] وَاٰتَوُا [ اور اداکریں ] الزَّكٰوةَ [ زکوۃ ] فَاِخْوَانُكُمْ [ تو (وہ ) تمہارے بھائی ہیں ] فِي الدِّيْنِ ۭ [ دین میں ] وَنُفَصِّلُ [ اور ہم کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ] الْاٰيٰتِ [ آیات کو ] لِقَوْمٍ [ ایسے لوگوں کے لیے جو ] يَّعْلَمُوْنَ [ علم رکھتے ہیں ] (آیت ۔ 11) فَاِخْوَانُكُمْ ، خبر ہے اور اس کا مبتدا ہم محذوف ہے ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آخر میں فرمایا (فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ ) کہ لوگ اگر کفر سے توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو پھر تمہارے دینی بھائی ہوں گے (ان سے لڑنے کا کوئی موقع نہیں) (وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ) (اور ہم ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں اپنی آیات تفصیل سے بیان کرتے ہیں) تاکہ فکر سے کام لیں اور ہر بات کو سمجھیں اور احکام خداوندی کے پابند رہیں۔ فائدہ : آیات بالا میں جو کافروں اور مشرکوں کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ ” اگر تم پر غالب ہوجائیں تو کسی رشتہ داری کا معاہدہ کا لحاظ نہ کریں گے وہ تمہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–12

اعلان براءت کی علت اور حکمت قال اللہ تعالیٰ ۔ کیف یکون للمشرکین عھد۔۔۔ الی۔۔۔ لعلھم ینتھون (ربط): گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی براءت کا اعلان فرمایا۔ اب یہاں سے ان کے عہد کے تمام اور ختم کردینے کی علت اور حکمت بیان فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کا عہد اور ان اور ان کی صلح قابل اعتبار نہیں صلح کے وقت ہی ان کے دل میں دغا ہوتی ہے جو بعد میں ظاہر ہوتی ہے اور ان کی بار بار عہد شکنیوں کے تجربہ سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ یہ لوگ وفا کرنے کے لیے عہد نہیں کرتے بلکہ توڑنے کے لیے کرتے ہیں کہ اس وقت عہد کر کے مہلت حاصل کرلیں پھر موقعہ پا کر عہد کو توڑیں۔ جن لوگوں نے اب تک عہد نہیں توڑا نیت ان کی بھی یہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 10–11

10: خواہشات و شہوات کے اتباع میں ایسے اندھے ہیں کہ کسی مؤمن سے تعلق قرابت اور عہد کا پاس نہیں کرتے “ فَاِنْ تَابوُا الخ ” ہاں اگر وہ صدق دل سے اسلام قبول کرلیں اور اسلامی احکام کے پابند ہوجائیں تو پھر وہ تمہارے بھائی بند ہیں اور ان کے حقوق تمہارے برابر ہیں۔ اب ان کا مال و جان محفوظ ہے۔ ان سے کسی قسم کا تعرض مت کرو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–11

ربط آیات : اس سورة کی ابتداء میں پہلے کفار ومشرکین سے برائت کا اعلان ہوا ، پھر انہیں سوچ وبچار کرنے کے لیے چار ماہ کی مہلت دیے جانے کا ذکر ہوا کہ یہ مدت گزرنے کے بعد حالت جنگ قائم ہو جائیگی بشرطیکہ کفار ومشرکین نے ایمان نہ قبول کرلیا ہو یا وہ ملک سے چلے نہ گئے ہوں پھر یہ بیان ہوا کہ اس مہلت کے باوجود اگر کوئی غیر مسلم دین اسلام کے متعلق آگاہی حاصل کرنا چاہے ، قرآنی پروگرام کو سننے پر آمادہ ہوا وہ اہل ایمان سے اس مقصد کے لیے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے دی جائے بلکہ اسلام کی وضاحت کرنے کے بعد اسے مزید مہلت دی جائے اور اسے اس کی جائے امن تک پہنچا دیا جائے تا کہ وہ ہر قسم کے دبائو سے آزاد ہو کر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ۝ 0 ۭ وَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۝ 11 توب التَّوْبُ : ترک الذنب علی أجمل الوجوه وهو أبلغ وجوه الاعتذار، فإنّ الاعتذار علی ثلاثة أوجه : إمّا أن يقول المعتذر : لم أفعل، أو يقول : فعلت لأجل کذا، أو فعلت وأسأت وقد أقلعت، ولا رابع لذلک، وهذا الأخير هو التوبة، والتَّوْبَةُ في الشرع : ترک الذنب لقبحه والندم علی ما فرط منه، والعزیمة علی ترک المعاودة، وتدارک ما أمكنه أن يتدارک من الأعمال بالأعمال بالإعادة، فمتی اجتمعت هذه الأربع فقد کملت شرائط التوبة . وتاب إلى الله، فذکر «إلى الله» يقتضي الإنابة،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–12

ترکیب : عہد اسم یکون اور خبر یا کیف ہے جو استفہام کے لئے مقدم کردیا گیا ہے یا للمشرکین ہے اور عند دونوں صورتوں عہدا یا یکون کا ظرف ہے یا عند اللّٰہ ہے فما زمانیہ یا شرطیہ ای فاستقیموا لھم مدۃ استقامتھم وان استقاموا فاستقیموا۔ یرضونکم حال ہے یا جملہ مستانفہ فان تابوا شرط فاخوانکم جواب۔ تفسیر : اس مقام پر ان کے عہد کو تمام کرنے کا سبب بیان فرماتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک مشرکین کا عہد کیونکر باقی رہ سکتا ہے ؟ بجز ان شخصوں کے کہ جن سے تم نے مسجد الحرام یعنی خانہ کعبہ کے پاس سال حدیبیہ میں عہد کیا تھا یعنی قریش کا ایک گروہ سب کو لوگوں نے بنو حمزہ بنو کنانہ کہا ہے جن کا پہلی آیات میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 10–11

لَایَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّاوَّلَاذِمَّۃً ط وَاُولٰٓئِکَ ھُمَ الْمُعْتَدُوْنَ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوْا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُاالزَّکٰوۃَ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِط وَنُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ( التوبۃ : 10، 11) (وہ لحاظ نہیں کرتے کسی مومن کے بارے میں کسی قرابت کا اور نہ کسی عہد کا، یہی لوگ ہیں جو حدود کو توڑنے والے ہیں۔ پس اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم آیات کی تفصیل بیان کررہے ہیں ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں۔ ) انفرادی زندگی میں بھی مسلمان دشمنی گزشتہ آیت کریمہ میں ان کی اجتماعی زندگی کی تصویر کشی کی گئی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اسلام کی وسعت ظرفی اور عفو درگزر کی بےمثال پالیسی۔ اسلام ہی ایسا دین ہے جس نے انسانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر بار بار توبہ کا موقع فراہم فرمایا ہے اور یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ کوئی فرد یا قوم جب بھی اپنے جرائم سے سچی توبہ کرلے تو انھیں صرف اللہ تعالیٰ ہی معاف نہیں کرتا ہے بلکہ حکم ہے کہ مسلمان بھی اسے معاف کردیں۔ مکہ میں نبی اکرم ﷺ کی ذات آپ کے اعزاء و اقرباء اور صحابہ کرام ؓ پر مشرکین نے مظالم کی انتہا کی مگر جب بھی ان میں سے کوئی تائب ہو کر حلقہ اسلام میں داخل ہوا تو نہ صرف اسے معاف کردیا گیا بلکہ مسلمانوں کی طرف سے ایسی محبت کا اظہار ہوا کہ جس سے کل کا ظالم آج…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

توبہ اور اس کی علامات : آیت 11: فَاِنْ تَابُوْا (اگر یہ لوگ توبہ کرلیں) کفر سے وَاَقَامُوالصَّلٰوۃَ وَٰاتَوُا الزَّکٰوۃَ فَاِخْوَانُکُمْ (اور نماز پڑھنے لگیں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو وہ تمہارے بھائی ہوجائیں گے) پس وہ تمہارے بھائی ہیں۔ نحو : مبتداء محذوف ہے۔ فِی الدِّیْنِ (دینی) نسب میں نہیں وَنُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ (اور ہم تفصیل سے احکام بیان کرتے ہیں) ہم کھول کر بیان کرتے ہیں۔ لِقَومٍ یَّعْلَمُوْنَ (سمجھ دار لوگوں کیلئے) سمجھتے اور اس میں سوچ و بچار کرتے ہیں۔ یہ جملہ معترضہ ہے گویا اس طرح کہا : ان من تامل تفصیلھا فھو العالم تحریضًا علی تامل مافصل من احکام المشرکین المعاہدین و علی المحافظۃ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11 ” فان تابوا “ شرک سے ” واقاموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ فاخوانکم “ پس وہ تمہارے بھائی ہیں ” فی الدین “ ان کو وہ فوائد ملیں گے جو تمہیں ملتے ہیں اور ان پر وہ ذمہ داریاں ہوں گی جو تم پر ہیں۔” ونفصل الایت لقوم یعلمون “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت نے اہل قبلہ کے خون حرام کردیئے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ تم کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیا گیا ہے۔ پس جو زکوۃ نہیں دیتا تو اس کی نماز بھی نہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی اور آپ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو خلیفہ بنایا گیا اور عرب میں سے جس نے کافر ہونا تھا ہوگیا تو حضرت عمر بن خطاب ؓ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو کہا آپ لوگوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–11

9۔ 11۔ ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں نے عہد کے پورا کرنے کے احکام الٰہی کو بہت ہی تھوڑی قیمت پر فروخت کر ڈالا یہ اس واسطے فرمایا کہ جن لوگوں نے حضرت ﷺ سے عہد و پیمان کیا تھا کہ کچھ مدت تک آپ لڑائی موقوف کریں اور ہم کو مہلت دیں ان لوگوں کو ابوسفیان نے کچھ لالچ دے کر اس بات پر آمادہ کیا کہ عہد توڑ ڈالا اسی طرح طائف کے باشندوں نے بھی مال سے ان بدعہدوں کی مدد کی تھی۔ اس لئے فرمایا یہ لوگ آپ تو عہد توڑتے ہی ہیں مگر دوسرویں کو بھی راہ حق سے روکتے ہیں کہ دین اسلام قبول نہ کرو پھر فرمایا کہ یہ کام انکا بہت ہی برا ہے اپنے قرابت کے لوگوں کا بھی خیال نہیں کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں ان کے کنبے کے آدمی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 8–11

آیت 8 (کیف) ” کیسے “ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں مشرکین کے لئے کیسے عہد و میثاق ہوسکتا ہے۔ (وان یظھروا علیکم) ” کہ اگر وہ تم پر غلبہ پالیں ‘ ان کا حال تو یہ ہے کہ اگر ان کو تم پر قدرت اور غلبہ حاصل ہو تو تم پر کوئی نہیں کریں گے۔ : (آیت) ” تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا۔ “ یعنی وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں رکھیں گے، وہ تمہارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈریں گے، بلکہ وہ تمہیں بدترین عذاب دیں گے۔ اگر وہ غالب آجائیں تو ان کا تمہارے ساتھ یہ حال ہوگا لیکن اگر وہ تم سے ڈر کر تمہارے ساتھ کوئی معاملہ کرتے ہیں تو تمہیں ان کے بارے میں دھوکے میں نہیں آنا چاہیے، کیونکہ (یرضونکم باقواھھم وتابی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

ظاہری اعمال کی بنا پر برتائو ہوگا دل میں چاہے کچھ ہو قول باری ہے (فان تابوا و اقاموا الصلوۃ و اتوالزکوۃ فاخوانکم فی الدین) پس اگر اب یہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں) یہ قول باری اس پر دلالت کرتا ہے ک جو شخص ہمارے سامنے ایمان کا اظہار کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے ہم پر دین کے اندر اس کے ساتھ دوستی اور موالات کا برتائو لازم ہے۔ ہم اس کے ظاہر پر انحصار کریں گے خواہ وہ دل میں دین کے خلاف اعتقاد کیوں نہ رکھتا ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

23 نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا ایمان کا نشان و ثبوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ توبہ کرلیں اپنے کفر و باطل سے اور نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کرین تو یہ تمہارے دینی بھائی ہیں جو تمہارے حقوق وہی ان کے حقوق اور جو تمہارے فرائض وہی ان کے فرائض۔ اور تمہار باہمی معاملہ بھائیوں کا سا ہوگا ۔ سبحان اللہ ۔ کیسی عظیم الشان اور انقلاب آفرین ہے ایمان و یقین کی یہ دولت کہ اس کے اثر اور اس کی برکت سے کفر و شرک کی ظلمات سے نکلتے ہی ایک انسان دوسرے تمام مسلمانوں کے برابر کا درجہ پا لیتا ہے، خواہ وہ نسلاً بعد نسل ہی مسلمان کیوں نہ چلے آتے ہوں۔ اور یہ ابھی اسلام لانے والا نومسلم ان سب کا دینی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–11

بد عہد قوم کے اوصاف تشریح : اب ان آیات میں تقریباً پچھلی آیات کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اور مسلمانوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ مومن اور کافر کی فطرت میں بہت فرق ہے مومن عہد کا پاس سختی سے کرتا ہے جبکہ کافر و مشرک فطرتاً بدعہد، منافق اور بدخصلت ہوتا ہے اس سے مخلص ہونے کی توقع ہرگز نہیں کرنی چاہیے، وہ تو موقع پاتے ہی مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے اور نقصان پہنچانے کی پوری کوشش کرتے ہیں اور ہرگز کوئی لحاظ نہیں کرتے نہ تو اپنے رشتہ دار ہونے کا خیال کرتے ہیں اور نہ ہی عہد و پیماں کا ہی خیال کرتے ہیں، اس لیے ان لوگوں پر اعتبار کرتے ہوئے بڑے ہوشیار اور محتاط رہو۔ جب معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان ہوا تو ان لوگوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 7–16

آیات 7 تا 16 اسرار و معارف مشرکین کے وعدوں کا کیا بھر وسہ اور وہ بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک کہ جب انھیں عظمت باری کا احساس ہے نہ عظمت رسالت کا پاس مزاج میں کفر وشرک رچابسا ہوا ہے تو ایسے لوگوں سے خیر کی کیا تو قع کی جاسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ انھوں نے خود بد عہدی کی اور نقصان بھی اٹھایا مسلمانوں نے عہد نبھایا تو فتح دکامرانی سے سرفراز ہوئے سوائے اس جماعت یا ان لوگوں کے جنہوں نے حرم کے نزدیک معاہدہ کیا تھا اگرچہ وہ بھی ابھی تک اسلام کی برکات سے محروم تھے مگر ان سے بھلے تھے کہ انھوں نے عہد نبھایا۔ اچھی بات کی تعریف گویا اچھے عمل کی تعریف کی جانی چاہیئے خواہ وہ کافر سے ظاہر ہوبھلائی بہرحال…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 انہیں اسلامی معاشرہ میں وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو دوسرے مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ حضرت شاہ صا حب لکھتے ہیں یہ جو فرمایا کہ بھائی ہیں حکم شرع ہیں۔ اس میں سمجھ لیں کہ جو شخص قرائم سے معلوم ہو کہ ظاہر میں ج مسلمان ہے اور سل سے یقین نہیں رکھتا تو چاہے اسے حکم سے ظاہری میں مسلمان گنیں مگر معتمد اور دوست نہ پکڑیں، ) مو ضح)2 سمجھ دار لوگوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا انجام سمجھتے اور اپنے دلوں میں اللہ کا خوف رکھتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو اس کی بیان کردہ آیات سے صحیح فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ( وحیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 9–11

(9:9) اشتروا۔ انہوں نے مول لیا۔ انہوں نے بیچا۔ اشتری یشتری اشتراء (افتعال) سے جس کے معنی خریدنا اور بیچنا دونوں آتے ہیں۔ اشتروا بایت اللہ ثمنا قلیلا۔ انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کرلی۔ (یعنی ہوائے نفس کے تابع ہوگئے اور اللہ کی آیات پر یقین نہ کیا) صدواعن۔ وہ پھرگئے۔ انہوں نے ترک کردیا۔ انہوں نے (دوسروں) کو روکا۔ باز رکھا۔ سائ۔ یسوء (نصر) ماضی واحد مذکر غائب سوء سے ۔ برا ہے۔ معتدون۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ مرفوع۔ المعتدی۔ واحد۔ حق سے تجاوز کرنے والے۔ اعتداء (افتعال) مصدر۔ یہ لفظ زیادتی کے ہر پہلو کو جامع ہے۔ یہاں مراد عہد شکنی ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–12

آیات : 7 تا 12 لغات القرآن۔ استقاموا۔ سیدھے ہیں۔ ان یظھروا۔ اگر وہ غالب آجائیں۔ لا یرقبوا۔ لحاظ نہ کریں گے۔ الا ۔ قریبی دوستی۔ رشتہ داری۔ ذمۃ۔ عہد۔ معاہدہ۔ یرضون۔ وہ راضی کرتے ہیں۔ افواہ۔ (فوہ) ۔ منہ۔ اشتروا۔ خرید لیا۔ لے لیا۔ ثمنا قلیلا۔ گھٹا ا قیمت۔ تھوڑی قیمت۔ المتعدون۔ حد سے نکل جانے والے۔ اخوان۔ (اخ) ۔ بھائی۔ نکثوا۔ توڑ دیں۔ ایمانھم۔ اپنی قسمیں۔ طعنوا۔ طعنے دیں۔ برائیاں نکالیں۔ ائمۃ الکفر۔ کفر کے سردار ۔ سرغنے۔ تشریح : قرآن کریم کی ان آیات سے جو ہدایات ربانی فراہم ہوتی ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔ (1) وہ معاہدے جو رسول اللہ ﷺ نے مسجد حرام کے پاس اور اس کے آس پاس کے قبیلوں یعنی بنو کنانہ، بنو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–11

ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں نے عہد کے پورا کرنے کے احکام الہی بہت ہی تھوڑی قیمت پر فروخت کرڈالے، یہ اس واسطے فرمایا کہ جن لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے عہدو پیمان کیا تھا کہ کچھ مدت تک آپ لڑائی موقوف کریں اور ہم کو مہلت دیں۔ ان لوگوں کو ابوسفیان نے لالچ دے کر اس بات پر آمادہ کیا کہ عہد توڑ ڈالو۔ اسی طرح طائف کے باشندوں نے بھی مال سے ان بد عہدوں کی مدد کی تھی۔ اس لئے فرمایا کہ یہ لوگ آپ تو عہد توڑتے ہیں مگر دوسروں کو بھی راہ حق سے روکتے ہیں کہ دین اسلام قبول نہ کرو۔ پھر فرمایا کہ یہ کام ان کا بہت ہی برا ہے۔ اپنے قرابت کے لوگوں کا بھی خیال نہیں کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں ان کے کنبے کے بھی آدمی ہیں،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–11

[6] یعنی بظاہر تو وہ صلح کا معاہدہ کرتے ہیں مگر دل میں بدعہدی کا ارادہ ہوتا ہے۔ چناچہ جب کبھی معاہدہ کیا تو توڑنے ہی کے لئے کیا۔ ایسے لوگوں کا عہد کیونکر عہد سمجھا جاسکتا ہے۔ [7] یعنی بنی کنانہ اور بنی ضمرہ کے ساتھ

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 7–12

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ معاہدہ کیوں کر قائم رہ سکتا ہے جب ان کے دلوں میں مسلمان کے خلاف سخت جذبات غیظ وغضب مشتعل ہیں اور موقع آنے پر یہ ذرا بھی نہیں چوکتے ، مسلمان چاہے عزیز ہو ، چاہے قریبی ، یہ لوگ وقت پر وار کرنے سے باز نہیں آتے ۔ زبان سے ضرور کہتے ہیں ہم تمہارے دوست ہیں ، مگر دل میں بدستور خبث پنہاں ہے ۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ آج بھی مشرک کی یہی ذہنیت ہے مسلمان سے جب ملے گا تو نہایت عجز و انکسار کے ساتھ زبان سے نہایت میٹھا ہے ، مگر دل کا کڑوا اور ناپاک ہے ۔ حل لغات : الا : قرابت ، رشتہ داری ۔ ذمۃ : عہد ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

1 1 لہٰذا اب اگر یہ لوگ اپنے اس کافرانہ رویہ سے توبہ کرلیں اور نماز کے پابند ہوجائیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو یہ لوگ دین کے اعتبار سے تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم سمجھ دار لوگوں کیلئے اپنے احکام خوف مفصل بیان کرتے ہیں۔ یعنی پہلی خطائیں معاف ہوجائیں گی اور اسلامی برادری میں شامل ہوجائیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ جو فرمایا بھائی ہیں حکم شریعت میں اس سے سمجھ لیں کہ جو شخص قرائن سے معلوم ہو کہ ظاہری مسلمان سے دل سے یقین نہیں رکھتا اس کو حکم ظاہری میں مسلمان گنیں اور معتمد اور دوست نہ پکڑیں۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 11–12

ف 1۔ یعنی ان کی عہد شکنی پر اصلا نظر نہ ہوگی خواہ انہوں نے کچھ ہی کیا اسلام لانے سے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر وہ توبہ کرلیں تو آج بھی وہ تمہارے بھائی ہیں : 15: مثل ہے کہ ” صبح کا بھولا اگر شام کو گھر واپس آجائے تو اس کو بھولا ہوا ہی نہ سمجھو۔ “ فرمایا جو ہوا اگر آج بھی وہ سچے دل سے توجہ کرلیں اور اپنی حرکتوں سے مکمل طور پر باز آجائیں ، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں جو ظاہری طور پر ایمان لانے کی نشانیاں ہیں تو آج بھی وہ تمہارے بھائی ہیں۔ زیر نظر آیت نے یہ بات مزید وضاحر کردی کہ اسلامی برادری میں داخل ہونے کے لئے سب سے پہلی بیک وقت تین شرطیں ضروری ہیں۔ 1 ۔ کفر و شرک سے توجہ جو ایک لحاظ سے مخفی بات ہے کیونکہ اس کا تعلق دل کے ساتھ ہے دوسروں کو اس کا علم کم ہی ہو سکتا ہے۔ 2 ۔ قیام صلوٰۃ جس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

At the end of verse 11, the text stresses upon the need to abide by given injunctions, regarding those covered under a treaty and those who have repented, by saying: وَنُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (And We elaborate the verses for people who understand).

Read the full tafseer →