At-Tawba 9:10

At-Tawba · from ayah 10

9:10

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً ؕ— وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ ۟لَا يَرۡقُبُوۡنَ فِىۡ مُؤۡمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً‌ ؕ وَاُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُعۡتَدُوۡنَ

یہ لوگ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔ اور یہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They do not observe toward a believer any pact of kinship or covenant of protection. And it is they who are the transgressors.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:10

کسی مومن کے معاملہ میں نہ یہ قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ کسی عہد کی ذمہ داری کا اور زیادتی ہمیشہ انہی کی طرف سے ہوئی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ لوگ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔ اور یہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ تو کسی مسلمان کے حق میں کسی رشتہداری کا یا عہد کا مطلق لحاظ نہیں کرتے، یہ ہیں ہی حد سے گزرنے والے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ کسی بھی مومن کے معاملے میں کسی رشتہ داری یا معاہدے کا پاس نہیں کرتے، اور یہی ہیں جو حدیں توڑنے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کسی مسلمان میں نہ قراب کا لحاظ کریں نہ عہد کا اور وہی سرکش ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

نہ وہ کسی مسلمان کے حق میں قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ عہد کا، اور وہی لوگ (سرکشی میں) حد سے بڑھنے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ کسی مومن کے بارے میں نہ کسی قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ کسی عہد کا اور یہی لوگ حد سے گزرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کسی مومن کے معاملہ میں نہ کسی قرابت کا لحاظ رکھتے ہیں اور نہ عہد کا۔ اور یہی لوگ (شرارتوں میں) حد سے بڑھے ہوئے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس طرح وہ اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، بیشک بہت ہی برا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں کسی صاحب ایان کے معاملے میں نہ ان کو کسی قرابت کا پاس ہے اور نہ کسی عہد کا اور یہی لوگ ہیں جو حدود کو توڑنے والے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ لحاظ نہیں کرتے کسی مومن کے بارے میں نہ کسی قرابت (رشتہ داری) کا، اور نہ کسی عہد (وپیمان) کا، اور یہی لوگ ہیں زیادتی کرنے والے، (اور حد سے بڑھنے والے)

— مولانا اسحاق مدنی

کسی مومن کے باب میں یہ لوگ نہ قرابت کا پاس کریں اور نہ قول وقرار کا اور یہ لوگ ہی ہیں زیادتی کرنے والے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

نہیں لحاظ کرتے کسی مؤمن کے حق میں نہ کسی قرابت کا اور نہ کسی معاہدے کا اور یہی لوگ ہیں جو حد سے تجاوز کرنے والے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ لوگ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا لحاظ رکھتے ہیں اور نہ عہد کا اور یہ لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They neither have any respect for kinship nor for agreement in respect of the believers. Such are indeed transgressors.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They do not observe any bond or treaty with a believer; and they are the transgressors.

— Muhammad Taqi Usmani

They do not observe any bond or treaty with a believer; and they are the transgressors.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

With regard to a believer, they respect not the ties, either of kinship or of covenant! It is they who are the transgressors.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they observe toward a believer neither pact nor honour. These are they who are transgressors.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They do not observe toward a believer any pact of kinship or covenant of protection. And it is they who are the transgressors.

— Saheeh International

They do not respect their promises nor their family ties with the believers. They are transgressors.

— Muhammad Sarwar

They do not pay regard to ties of relationship nor those of covenant in the case of a believer; and these are they who go beyond the limits.

— Muhammad Habib Shakir

They respect not either kinship or agreement in a believer: those! they are the transgressors!

— Abdul Majid Daryabadi

In a Believer they respect not the ties either of kinship or of covenant! It is they who have transgressed all bounds.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–11

جہاد ہی راہ اصلاح ہے مشرکوں کی مذمت کے ساتھ ہی مسلمانوں کو ترغیب جہاد دی جا رہی ہے کہ ان کافروں نے دنیائے خسیس کو آخرت نفیس کے بدلے پسند کرلیا ہے خود راہ رب سے ہٹ کر مومنوں کو بھی ایمان سے روک رہے ہیں ان کے اعمال بہت ہی بد ہیں یہ تو مومنوں کو نقصان پہنچانے کے ہی درپے ہیں نہ انہیں رشتے داری کا خیال نہ معاہدے کا پاس۔ ہے جو دنیا کو اس حال میں چھوڑے کہ اللہ کی عبادتیں خلوص کے ساتھ کر رہا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ہو نماز و زکوٰۃ کا پابند ہو تو اللہ اس سے خوش ہو کر ملے گا یہی اللہ کا وہ دین ہے جسے انبیاء (علیہم السلام) لاتے رہے اور اسی کی تبلیغ اللہ کی طرف سے وہ کرتے رہے اس سے پہلے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–10

سورة التَّوْبَة 12 یعنی ایک طرف اللہ کی آیات ان کو بھلائی اور راستی اور قانون حق کی پابندی کا بلاوا دے رہی ہے دوسری طرف دنیوی زندگی کے وہ چند روزہ فائدے تھے جو خواہش نفس کی بےلگام پیروی سے حاصل ہوتے تھے ان لوگوں نے ان دونوں چیزوں کا موازنہ کیا اور پھر پہلی کو چھوڑ کر دوسری چیز کو اپنے لئے چن لیا۔ سورة التَّوْبَة 13 یعنی ان ظالموں نے اتنے ہی پر اکتفا نہ کیا کہ ہدایت کے بجائے گمراہی کو خود اپنے لیے پسند کرلیا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر انہوں نے کوشش یہ کی کہ دعوت حق کا کام کسی طرح چلنے نہ پائے، خیر وہ صلاح کی اس پکار کو کوئی سننے نہ پائے، بلکہ وہ منہ ہی بند کردیے جائیں جن سے یہ پکار بلند ہوتی ہے۔ جس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ۔ یعنی اگر یہ لوگ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں تو اب یہ بھی تمہارے دینی بھائی ہیں۔ اس میں بتلا دیا کہ کوئی کیسا ہی دشمن ہو اور کتنی ہی ایذاء اس نے پہنچائی ہو جب وہ مسلمان ہوگیا تو جس طرح اللہ تعالیٰ اس کے سب پچھلے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں، مسلمانوں پر بھی لازم ہے کہ پچھلے سب معاملات کو دل سے بھلا دیں اور آج سے ان کو اپنا دینی بھائی سمجھیں اور برادرانہ تعلق کے حقوق ادا کریں۔ اسلام برادری میں داخل ہونے کی تین شرطیں اس آیت نے واضح کردیا کہ اسلامی برادری میں داخل ہونے کے لئے تین…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 9–11

تفسیر آیات 9 تا 11:۔ اِشْتَرَوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَـمَنًا قَلِيْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭاِنَّهُمْ سَاۗءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔ لَا يَرْقُبُوْنَ فِيْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ۔ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ ۭوَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۔ اعلان براءت کے وجوہ کی مزید وضاحت : یہ اعلان براءت کے وجوہ کی مزید وضاحت ہے کہ ان مشرکین کا معاملہ خالق اور خلق کسی کے ساتھ بھی درست نہیں۔ ان کے لیے اللہ کی ہدایت اتری تو انہوں نے اس کے مقابل میں اس دنیا کی متاع حقیر کو ترجیح دی،…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10۔ 1 بار بار وضاحت سے مقصود مشرکین اور یہود کی اسلام دشمنی اور ان کے سینوں میں مخفی عداوت کے جذبات کو بےنقاب کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 9–10

9: یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل کرنے کے بجائے دنیا کے حقیر فوائد حاصل کرنے کو ترجیح دی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لا یرقبون فی مومن الا ولا ذمۃ و لا ذمۃ والئک ھم المعتدون " یہ لوگ تمہارے بارے میں کسی قرابت داری اور کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا کو یئ لحاظ نہیں رکھتے اور یہی لوگ زیادتی کرنے والے ہیں۔ ان کے اندر زیادتی کرنے کی صفت رچی بسی ہے۔ اور اس کا اظہار اس سے ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایمان کو ناپسند کرتے ہیں۔ ایمان سے لوگوں کو روکتے ہیں اور ایمان کی تحریک کے سامنے دیوار بن رہے ہیں۔ اور وہ ہر وقت اس تاک میں لگے رہتے ہیں کہ مومنین پر وار کرنے کا موقعہ مل جائے۔ اور وہ اہل ایمان سے نہ رشتہ داری کا تعلق رکھتے ہیں اور نہ معاہدے کی پروا کرتے ہیں بشرطیکہ ان کو غلبہ نصیب ہوجائے اور موقع مل جائے اور ان کو یہ خطرہ نہ ہو کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی کچھ تمہارے ہی ساتھ نہیں بلکہ مسلمان نام سے ان کو بیر ہے۔ کوئی مسلمان ہو موقع پانے پر اس کو نقصان پہنچانے کے لیے سب تعلقات قرابت اور قول وقرار اٹھا کر رکھ دیتے ہیں۔ اس بارے میں ان کی ظلم و زیادتی حد سے بڑھی ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 9–10

آیت 9 اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیْلاً انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی قدر نہیں کی اور ان کے بدلے میں حقیر سادنیوی فائدہ حاصل کرلیا۔ انہوں نے محمد ﷺ کو اللہ کا رسول جانتے ہوئے اور حق کو پہچانتے ہوئے صرف اس لیے رد کردیا ہے کہ ان کی چودھراہٹیں قائم رہیں ‘ لیکن انہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے بہت گھاٹے کا سودا کیا ہے۔ فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِہٖط اِنَّہُمْ سَآءَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنََ صَدَّ یَصُدُّ صَدًّا ‘ اس فعل کے اندر رکنے اور روکنے ‘ دونوں کے معنی پائے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 9–10

9 بدعہد قوم کے اوصاف :۔ یعنی ایک طرف تو اللہ کی آیات ان کو بھلائی، راستی، عہد کی پابندی کی دعوت دیتی ہیں۔ دوسری طرف ان کے کچھ ذاتی مفادات وابستہ ہوتے ہیں اور وہ چند روزہ دنیوی فائدے کے حصول کی خاطر اپنی خواہش نفس کی پیروی کو ترجیح دیتے ہیں اور سب اخلاقی اقدار اور اللہ کے احکام کو اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ پھر وہ اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ دوسروں کو بھی مسلمانوں سے بدعہدی پر اکساتے اور اسی راہ پر چلنے کی دعوت دیتے ہیں جس پر خود چل رہے ہوتے ہیں۔ ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس جملہ کا یہی مفہوم ہے تاہم اس کے الفاظ عام ہیں اور ان الفاظ سے کافروں کی ہر معاندانہ کوشش مراد لی جاسکتی ہے جس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

18 ۔ (اور اس لیے ہرگز قابل اعتماد نہیں) (آیت) ’ لایرقبون “۔۔۔ الخ کی تکرار تاکید کے لئے ہے۔ مؤاخذہ اخروی اور دینی ذمہ داری سے اتر کر ایک چیز شرافت بھی ہے جس کے جر ہر بلاقید ملت ہر قوم میں پائے جاتے ہیں، اور اس کا تقاضہ ہے کہ انسان قرابت اور اپنے قول وقرار کا پاس بہرحال کرتا ہے۔ یہ ننگ انسانیت معاندین اسلام اس جو ہر سے بھی محروم تھے یہ بھی کہا گیا ہے کہ سرے سے تکرار ہی نہیں۔ اس لیے کہ پہلی بار اس کا ذکر سارے مشرکوں کے سلسلہ میں آیا ہے۔ اور دوبارہ یہود کے سلسلہ میں، قال النحاس لیس ھذا تکریرا ولکن الاول لجمیع المشرکین والثانی للیھود خاصۃ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–16

آیت نمبر 8 تا 16 ترجمہ : مشرکوں کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے ؟ یعنی نہیں ہوسکتا، مراد وہ مشرکین ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ (عہد شکنی کر کے) غداری کی، البتہ جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام (حرم) کے قریب حدیبیہ کے مقام پر معاہدہ کیا اور وہ قریش ہیں جن کا ماقبل میں استثنا ہوچکا ہے، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ عہد پر قائم رہیں اور معاہدہ کو نہ توڑیں، تو تم بھی ان کے ساتھ وفاء عہد پر قائم رہو، اور ما شرطیہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ متقیوں سے محبت رکھتا ہے، اور رسول ان کے ساتھ عہد پر قائم رہے یہاں تک کہ قریش نے خزاعہ کے خلاف بنی بکر کی مدد کر کے عہد کو توڑ دیا ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا یرقبون فی مؤمن الا ولا ذمۃ ط مؤمن کے معاملہ میں وہ نہ کسی قرابت کا لحاظ کرتے ہیں نہ دوستی اور قول وقرار کا۔ یہ سابق آیات کی تکرار نہیں ہے بلکہ ما کانوا یعملون کی تشریح ہے۔ بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ پہلی آیت لاَ یَرْقُبُوْنَسے مراد تو عام منافق ہیں اور اس جگہ لا یرقبون سے مراد یہودی اور وہ عرب مراد ہیں جن کو ابوسفیان نے جمع کر کے کھانا کھلایا تھا (اور مسلمانوں کے مقابلہ میں لایا تھا) ۔ واولئک ھم المعتدون۔ اور یہ ہی بلاشبہ (شرارت اور بدی میں) حد سے بڑھ جانے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(10) یہ لوگ کسی مسلمان کے بارے میں نہ کسی قرابت کا خیال کرتے ہیں اور نہ ہی قول وقرار کا اور اللہ سے ڈرتے نہیں ہیں۔ یہی لوگ بعدعہدی وغیرہ کے ذریعہ حرام کاموں کے مرتکب ہورہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَا يَرْقُبُوْنَ فِيْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً : ان کی مذمت کی تاکید کے لیے دوبارہ ان کے اس فعل بد کا تذکرہ فرمایا۔ بعض مفسرین نے پہلی آیات سے مراد تمام مشرکین اور ان آیات سے مراد یہود مدینہ لیے ہیں، کیونکہ اللہ کی کتاب انھی کے پاس تھی جس کی آیات پر عمل کر کے مسلمان ہونے کے بجائے وہ دنیا کے مفاد کو ترجیح دیتے تھے، اگرچہ اللہ کے احکام کو رد کر کے دنیا کے مفاد کو ترجیح دینا مشرکین و یہود سب کا وتیرہ ہے۔ اس صورت میں ”بِاٰيٰتِ اللّٰهِ“ سے مراد نبی کریم ﷺ کی لائی ہوئی آیات ہوں گی۔ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ : یعنی عہد شکنی اور زیادتی جب بھی ہوئی انھی کی طرف سے ہوئی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

نحاس نے کہا ہے : یہ تکرار نہیں ہے، بلکہ پہلا ارشاد تمام مشرکوں کے لیے اور یہ دوسرا یہودیوں کے لیے خاص ہے اور اس پر اشتروا بایت اللہ ثمنا قلیلا ہے یعنی یہودیوں نے اللہ عزوجل کے دلائل اور اس کے بیان کو طلب ریاست اور دیگر چیزوں کے طمع اور حرص کے عوض بیچ دیا۔ اولئک ھم المعتدون یعنیوہ معاہدہ توڑنے کے ساتھ حلال سے حرام کر طرف تجاوز کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–10

1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اشتروا بایت اللہ ثمنا قلیلا “ سے مراد ہے کہ ابو سفیان بن حرب نے کہا کہ اپنے حلیفوں کو کھلایا پلایا کرو اور محمد ﷺ کے حلیفوں کو چھوڑ دو ۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَا يَرْقُبُوْنَ [ وہ لوگ لحاظ نہیں کرتے ] فِيْ مُؤْمِنٍ [ کسی مومن (کے بارے ) میں ] اِلًّا [ کسی رشتہ داری کا ] وَّلَا ذِمَّةً ۭ [ اور نہ کسی عہد کا ] وَاُولٰۗىِٕكَ [ اور وہ لوگ ] هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ [ ہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–10

مشرکین کو کسی قرابت داری اور معاہدہ کی پاسداری نہیں ان آیات میں اول تو مشرکین کی بد عہدی کے مزاج کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کہ ان کا عہد اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے پہلے بھی عہد توڑا ہے اور آئندہ بھی توڑتے رہیں گے۔ ان کا حال یہ ہے کہ ظاہر میں زبانوں سے عہد ہے اور دلوں میں بغض کی آگ ہے اگر مسلمانوں پر غلبہ پاجائیں تو نہ کسی رشتہ داری کا لحاظ کریں اور نہ کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا۔ بس یہ مسلمانوں کو اپنی زبانی باتوں سے راضی رکھنا چاہتے ہیں۔ (وفائے عہد اور اطاعت کا زبانی وعدہ کرتے ہیں) اور ان کے دل ان کی اپنی زبانی باتوں سے راضی نہیں ہیں۔ اور ان میں اکثر فاسق ہیں۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–12

اعلان براءت کی علت اور حکمت قال اللہ تعالیٰ ۔ کیف یکون للمشرکین عھد۔۔۔ الی۔۔۔ لعلھم ینتھون (ربط): گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی براءت کا اعلان فرمایا۔ اب یہاں سے ان کے عہد کے تمام اور ختم کردینے کی علت اور حکمت بیان فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کا عہد اور ان اور ان کی صلح قابل اعتبار نہیں صلح کے وقت ہی ان کے دل میں دغا ہوتی ہے جو بعد میں ظاہر ہوتی ہے اور ان کی بار بار عہد شکنیوں کے تجربہ سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ یہ لوگ وفا کرنے کے لیے عہد نہیں کرتے بلکہ توڑنے کے لیے کرتے ہیں کہ اس وقت عہد کر کے مہلت حاصل کرلیں پھر موقعہ پا کر عہد کو توڑیں۔ جن لوگوں نے اب تک عہد نہیں توڑا نیت ان کی بھی یہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 10–11

10: خواہشات و شہوات کے اتباع میں ایسے اندھے ہیں کہ کسی مؤمن سے تعلق قرابت اور عہد کا پاس نہیں کرتے “ فَاِنْ تَابوُا الخ ” ہاں اگر وہ صدق دل سے اسلام قبول کرلیں اور اسلامی احکام کے پابند ہوجائیں تو پھر وہ تمہارے بھائی بند ہیں اور ان کے حقوق تمہارے برابر ہیں۔ اب ان کا مال و جان محفوظ ہے۔ ان سے کسی قسم کا تعرض مت کرو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–11

ربط آیات : اس سورة کی ابتداء میں پہلے کفار ومشرکین سے برائت کا اعلان ہوا ، پھر انہیں سوچ وبچار کرنے کے لیے چار ماہ کی مہلت دیے جانے کا ذکر ہوا کہ یہ مدت گزرنے کے بعد حالت جنگ قائم ہو جائیگی بشرطیکہ کفار ومشرکین نے ایمان نہ قبول کرلیا ہو یا وہ ملک سے چلے نہ گئے ہوں پھر یہ بیان ہوا کہ اس مہلت کے باوجود اگر کوئی غیر مسلم دین اسلام کے متعلق آگاہی حاصل کرنا چاہے ، قرآنی پروگرام کو سننے پر آمادہ ہوا وہ اہل ایمان سے اس مقصد کے لیے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے دی جائے بلکہ اسلام کی وضاحت کرنے کے بعد اسے مزید مہلت دی جائے اور اسے اس کی جائے امن تک پہنچا دیا جائے تا کہ وہ ہر قسم کے دبائو سے آزاد ہو کر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَا يَرْقُبُوْنَ فِيْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّۃً۝ 0 ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُعْتَدُوْنَ۝ 10 رقب الرَّقَبَةُ : اسم للعضو المعروف، ثمّ يعبّر بها عن الجملة، وجعل في التّعارف اسما للمماليك، كما عبّر بالرّأس وبالظّهر عنالمرکوب ، فقیل : فلان يربط کذا رأسا، وکذا ظهرا، قال تعالی: وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ [ النساء/ 92] ، وقال : وَفِي الرِّقابِ [ البقرة/ 177] ، أي : المکاتبین منهم، فهم الذین تصرف إليهم الزکاة . ورَقَبْتُهُ : أصبت رقبته، ورَقَبْتُهُ : حفظته . ( ر ق ب ) الرقبۃ اصل میں گردن کو کہتے ہیں پھر رقبۃ کا لفظ بول کر مجازا انسان مراد لیا جاتا ہے اور عرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–12

ترکیب : عہد اسم یکون اور خبر یا کیف ہے جو استفہام کے لئے مقدم کردیا گیا ہے یا للمشرکین ہے اور عند دونوں صورتوں عہدا یا یکون کا ظرف ہے یا عند اللّٰہ ہے فما زمانیہ یا شرطیہ ای فاستقیموا لھم مدۃ استقامتھم وان استقاموا فاستقیموا۔ یرضونکم حال ہے یا جملہ مستانفہ فان تابوا شرط فاخوانکم جواب۔ تفسیر : اس مقام پر ان کے عہد کو تمام کرنے کا سبب بیان فرماتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک مشرکین کا عہد کیونکر باقی رہ سکتا ہے ؟ بجز ان شخصوں کے کہ جن سے تم نے مسجد الحرام یعنی خانہ کعبہ کے پاس سال حدیبیہ میں عہد کیا تھا یعنی قریش کا ایک گروہ سب کو لوگوں نے بنو حمزہ بنو کنانہ کہا ہے جن کا پہلی آیات میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 10–11

لَایَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّاوَّلَاذِمَّۃً ط وَاُولٰٓئِکَ ھُمَ الْمُعْتَدُوْنَ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوْا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُاالزَّکٰوۃَ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِط وَنُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ( التوبۃ : 10، 11) (وہ لحاظ نہیں کرتے کسی مومن کے بارے میں کسی قرابت کا اور نہ کسی عہد کا، یہی لوگ ہیں جو حدود کو توڑنے والے ہیں۔ پس اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم آیات کی تفصیل بیان کررہے ہیں ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں۔ ) انفرادی زندگی میں بھی مسلمان دشمنی گزشتہ آیت کریمہ میں ان کی اجتماعی زندگی کی تصویر کشی کی گئی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–10

فہم القرآن ربط کلام : عہد اور رشتہ داری کے بارے میں کفار اور مشرکین کا رویہ۔ مشرکین اور اسلام دشمن طاقتوں کا ہمیشہ سے رویہ رہا ہے کہ جب مسلمانوں کے مقابلے میں اپنے آپ کو کمزور پاتے ہیں تو صلح اور اتحاد کا پرچم اٹھاکر مسلمانوں کو زبانی کلامی راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس کے لیے، بقائے باہمی، انسانی ہمدردی اور مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کے نعرے لگاتے ہیں۔ حالانکہ ان باتوں کی ان کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں ہوتی اور دل ہی دل میں یہ انکار کررہے ہوتے ہیں۔ جونہی مشکل وقت گزر جائے اور اپنے آپ کو طاقت ورمحسوس کریں تو کسی معاہدے اور تعلق داری کا پاس نہیں کرتے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کے سامنے ہمیشہ مالی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کسی مومن سے تو رشتہ کا بھی پاس نہیں : آیت 10: لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَاذِمَّۃً (یہ لوگ کسی مومن کے متعلق نہ قرابت کا لحاظ کریں اور نہ قول وقرار کا) یہ سابق کی تکرار نہیں بلکہ ما کانوا یعملون کی تشریح ہے اول آیت سے مراد خاص ہے اس لئے کہ فیکم کا لفظ ہے۔ اور دوسری آیت عام ہے کیونکہ اس میں فی مومن ہے۔ وَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْمُعْتَدُوْنَ (یہ لوگ بہت ہی زیادتی کر رہے ہیں) جو ظلم و شرارت میں انتہاء سے تجاوز کرنے والے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10” لایرقبون فی مومن الاولا ذمۃ “ فرماتے ہیں اے مومنوں تم ان پر شفقت نہ کرو جیسا کہ اگر وہ غالب آجاتے تو تم پر شفقت نہ کرتے و اولئک ھم المعتدون “ عہد توڑ کر۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–11

9۔ 11۔ ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں نے عہد کے پورا کرنے کے احکام الٰہی کو بہت ہی تھوڑی قیمت پر فروخت کر ڈالا یہ اس واسطے فرمایا کہ جن لوگوں نے حضرت ﷺ سے عہد و پیمان کیا تھا کہ کچھ مدت تک آپ لڑائی موقوف کریں اور ہم کو مہلت دیں ان لوگوں کو ابوسفیان نے کچھ لالچ دے کر اس بات پر آمادہ کیا کہ عہد توڑ ڈالا اسی طرح طائف کے باشندوں نے بھی مال سے ان بدعہدوں کی مدد کی تھی۔ اس لئے فرمایا یہ لوگ آپ تو عہد توڑتے ہی ہیں مگر دوسرویں کو بھی راہ حق سے روکتے ہیں کہ دین اسلام قبول نہ کرو پھر فرمایا کہ یہ کام انکا بہت ہی برا ہے اپنے قرابت کے لوگوں کا بھی خیال نہیں کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں ان کے کنبے کے آدمی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 8–11

آیت 8 (کیف) ” کیسے “ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں مشرکین کے لئے کیسے عہد و میثاق ہوسکتا ہے۔ (وان یظھروا علیکم) ” کہ اگر وہ تم پر غلبہ پالیں ‘ ان کا حال تو یہ ہے کہ اگر ان کو تم پر قدرت اور غلبہ حاصل ہو تو تم پر کوئی نہیں کریں گے۔ : (آیت) ” تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا۔ “ یعنی وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں رکھیں گے، وہ تمہارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈریں گے، بلکہ وہ تمہیں بدترین عذاب دیں گے۔ اگر وہ غالب آجائیں تو ان کا تمہارے ساتھ یہ حال ہوگا لیکن اگر وہ تم سے ڈر کر تمہارے ساتھ کوئی معاملہ کرتے ہیں تو تمہیں ان کے بارے میں دھوکے میں نہیں آنا چاہیے، کیونکہ (یرضونکم باقواھھم وتابی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–10

مشرک حربی اگر اسلام فہمی کے لئے امان طلب کرے تو امان دی جائے قول باری ہے (و ان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلام اللہ اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاہے (تاکہ اللہ کا کلام سنے) تو اسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے) آیت حربی کو امان دینے کے جواز کی مقتضی ہے جب وہ ہم سے اسلام کی صداقت کو ثابت کرنے والے دلائل سننے کی خاطر پناہ مانگ کر ہمارے پاس آنا چاہے تو اسے پناہ دینا ہمارے لئے جائز ہوگا اس لئے کہ قول باری (استجارک) کے معنی ہیں تم سے امان طلب کرے “ اور قول باری (فاجرہ) کے معنی ہیں ” اسے امان دے دو “ تاکہ دلائل موجود ہیں یہ امر اس پر بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 9–10

21 حق فروشی کے عوض میں دنیا ساری کی دولت بھی ہیچ ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے اللہ کی آیتوں کے بدلے میں دنیائے دوں کے تھوڑے سے اور گھٹیا مول کو اپنا لیا اور اس طرح یہ سب سے بڑے مجرم اور خسارے کے مرتکب ہوئے کہ حق فروشی اور نور ایمان سے محرومی جڑ بنیاد ہے ہر فتنہ و فساد اور سب سے بڑے نقصان اور حقیقی خسارے کی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور راہ حق سے روکنا اور اس ضمن میں سدِّ راہ بننا اور بھی زیادہ ہلاکت و تباہی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حق فروشی اور نور ایمان و یقین سے محرومی کے بدلے میں اگر دنیا ساری کی دولت بھی مل جائے تو بھی ہیچ ہے۔ تو ایسے میں ان چند ٹکوں کی حیثیت ہی کیا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–11

بد عہد قوم کے اوصاف تشریح : اب ان آیات میں تقریباً پچھلی آیات کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اور مسلمانوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ مومن اور کافر کی فطرت میں بہت فرق ہے مومن عہد کا پاس سختی سے کرتا ہے جبکہ کافر و مشرک فطرتاً بدعہد، منافق اور بدخصلت ہوتا ہے اس سے مخلص ہونے کی توقع ہرگز نہیں کرنی چاہیے، وہ تو موقع پاتے ہی مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے اور نقصان پہنچانے کی پوری کوشش کرتے ہیں اور ہرگز کوئی لحاظ نہیں کرتے نہ تو اپنے رشتہ دار ہونے کا خیال کرتے ہیں اور نہ ہی عہد و پیماں کا ہی خیال کرتے ہیں، اس لیے ان لوگوں پر اعتبار کرتے ہوئے بڑے ہوشیار اور محتاط رہو۔ جب معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان ہوا تو ان لوگوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 7–16

آیات 7 تا 16 اسرار و معارف مشرکین کے وعدوں کا کیا بھر وسہ اور وہ بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک کہ جب انھیں عظمت باری کا احساس ہے نہ عظمت رسالت کا پاس مزاج میں کفر وشرک رچابسا ہوا ہے تو ایسے لوگوں سے خیر کی کیا تو قع کی جاسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ انھوں نے خود بد عہدی کی اور نقصان بھی اٹھایا مسلمانوں نے عہد نبھایا تو فتح دکامرانی سے سرفراز ہوئے سوائے اس جماعت یا ان لوگوں کے جنہوں نے حرم کے نزدیک معاہدہ کیا تھا اگرچہ وہ بھی ابھی تک اسلام کی برکات سے محروم تھے مگر ان سے بھلے تھے کہ انھوں نے عہد نبھایا۔ اچھی بات کی تعریف گویا اچھے عمل کی تعریف کی جانی چاہیئے خواہ وہ کافر سے ظاہر ہوبھلائی بہرحال…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 یعنی عہد شکنی اور زیادتی جب بھی ہوئی ہے انہیں کی طرف سے ہوئی ہے۔ کہتے ہیں کہ اوپر کی آیات تمام مشرکین کے بارے میں تھی اور یہ آیت خاص یہود کے حق میں ہے۔ ( وحیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 9–11

(9:9) اشتروا۔ انہوں نے مول لیا۔ انہوں نے بیچا۔ اشتری یشتری اشتراء (افتعال) سے جس کے معنی خریدنا اور بیچنا دونوں آتے ہیں۔ اشتروا بایت اللہ ثمنا قلیلا۔ انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کرلی۔ (یعنی ہوائے نفس کے تابع ہوگئے اور اللہ کی آیات پر یقین نہ کیا) صدواعن۔ وہ پھرگئے۔ انہوں نے ترک کردیا۔ انہوں نے (دوسروں) کو روکا۔ باز رکھا۔ سائ۔ یسوء (نصر) ماضی واحد مذکر غائب سوء سے ۔ برا ہے۔ معتدون۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ مرفوع۔ المعتدی۔ واحد۔ حق سے تجاوز کرنے والے۔ اعتداء (افتعال) مصدر۔ یہ لفظ زیادتی کے ہر پہلو کو جامع ہے۔ یہاں مراد عہد شکنی ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–12

آیات : 7 تا 12 لغات القرآن۔ استقاموا۔ سیدھے ہیں۔ ان یظھروا۔ اگر وہ غالب آجائیں۔ لا یرقبوا۔ لحاظ نہ کریں گے۔ الا ۔ قریبی دوستی۔ رشتہ داری۔ ذمۃ۔ عہد۔ معاہدہ۔ یرضون۔ وہ راضی کرتے ہیں۔ افواہ۔ (فوہ) ۔ منہ۔ اشتروا۔ خرید لیا۔ لے لیا۔ ثمنا قلیلا۔ گھٹا ا قیمت۔ تھوڑی قیمت۔ المتعدون۔ حد سے نکل جانے والے۔ اخوان۔ (اخ) ۔ بھائی۔ نکثوا۔ توڑ دیں۔ ایمانھم۔ اپنی قسمیں۔ طعنوا۔ طعنے دیں۔ برائیاں نکالیں۔ ائمۃ الکفر۔ کفر کے سردار ۔ سرغنے۔ تشریح : قرآن کریم کی ان آیات سے جو ہدایات ربانی فراہم ہوتی ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔ (1) وہ معاہدے جو رسول اللہ ﷺ نے مسجد حرام کے پاس اور اس کے آس پاس کے قبیلوں یعنی بنو کنانہ، بنو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–11

ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں نے عہد کے پورا کرنے کے احکام الہی بہت ہی تھوڑی قیمت پر فروخت کرڈالے، یہ اس واسطے فرمایا کہ جن لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے عہدو پیمان کیا تھا کہ کچھ مدت تک آپ لڑائی موقوف کریں اور ہم کو مہلت دیں۔ ان لوگوں کو ابوسفیان نے لالچ دے کر اس بات پر آمادہ کیا کہ عہد توڑ ڈالو۔ اسی طرح طائف کے باشندوں نے بھی مال سے ان بد عہدوں کی مدد کی تھی۔ اس لئے فرمایا کہ یہ لوگ آپ تو عہد توڑتے ہیں مگر دوسروں کو بھی راہ حق سے روکتے ہیں کہ دین اسلام قبول نہ کرو۔ پھر فرمایا کہ یہ کام ان کا بہت ہی برا ہے۔ اپنے قرابت کے لوگوں کا بھی خیال نہیں کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں ان کے کنبے کے بھی آدمی ہیں،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–11

[6] یعنی بظاہر تو وہ صلح کا معاہدہ کرتے ہیں مگر دل میں بدعہدی کا ارادہ ہوتا ہے۔ چناچہ جب کبھی معاہدہ کیا تو توڑنے ہی کے لئے کیا۔ ایسے لوگوں کا عہد کیونکر عہد سمجھا جاسکتا ہے۔ [7] یعنی بنی کنانہ اور بنی ضمرہ کے ساتھ

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 7–12

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ معاہدہ کیوں کر قائم رہ سکتا ہے جب ان کے دلوں میں مسلمان کے خلاف سخت جذبات غیظ وغضب مشتعل ہیں اور موقع آنے پر یہ ذرا بھی نہیں چوکتے ، مسلمان چاہے عزیز ہو ، چاہے قریبی ، یہ لوگ وقت پر وار کرنے سے باز نہیں آتے ۔ زبان سے ضرور کہتے ہیں ہم تمہارے دوست ہیں ، مگر دل میں بدستور خبث پنہاں ہے ۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ آج بھی مشرک کی یہی ذہنیت ہے مسلمان سے جب ملے گا تو نہایت عجز و انکسار کے ساتھ زبان سے نہایت میٹھا ہے ، مگر دل کا کڑوا اور ناپاک ہے ۔ حل لغات : الا : قرابت ، رشتہ داری ۔ ذمۃ : عہد ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

10 یہ لوگ کسی مسلمان کے بارے میں نہ قرابت کا پاس اور لحا ظ کرتے ہیں اور نہ کسی قول وقرار اور عہدو پیمان کا اور یہ لوگ اس بارے میں بڑی زیادتی کرنے والے ہیں۔ یعنی مسلمانوں کے بارے میں ان کا جارحانہ رویہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–10

ف 5۔ کیونکہ رعایت تو اس عہد کی ہوتی ہے جس کو دوسراشخص خود نہ توڑے ورنہ رعایت نہیں باقی رہتی مطلب یہ کہ یہ لوگ عہد کو توڑیں گے اس وقت اس طرف سے بھی رعایت نہ ہوگی۔ 6۔ یعنی ان سے امید ہے کہ یہ عہد قائم رکھیں گے۔ 7۔ یعنی جب تک یہ لوگ عہد نہ توڑیں تم بھی مدت عہد کی ان سے پوری کرو چناچہ زمانہ نزول برات میں اس مدت میں نوماہ باقی رہے تھے اور بوجہ ان کی عہد شکنی نہ کرنے کے ان کی یہ مدت پوری کی گئی۔ 8۔ پس تم بھی احتیاط رکھنے سے پسندیدہ حق ہوجاو گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان لوگوں کو نہ قرابت کا احساس ہے اور نہ ذمہ داری کا : 14: ان کی اس بےحسی کو دبارہ بیان کیا گیا کہ جاہل قوموں میں بھی قرابت داری اور اپنی ذمہ داری کا ایک حد تک ضرور احساس ہوتا ہے لیکن ان لوگوں کی غیرت کا اس طرح جنازہ نکل چکا ہے کہ ان کو ان حقوق کا بھی ذرا احساس نہیں رہا اور وہ محض ان کے رسم و رواج نے نہیں رہنے دیا حالانکہ عربوں میں اس کا بہت احساس کیا جاتا تھا اور وہ رشتہ داری کی خاطر جان تک قربان کردینے کو فخر سمجھتے تھے بلکہ اس سے بڑھ کر مزید دیکھا جائے تو آخر بنوبکر ان کے حلیف ہی تو تھے اور ان کی خاطر انہوں نے عہد و پیمان کو پس پشت ڈالا اور جان کی بازی لگا دی اسکے نتتیجہ میں فتح مکہ کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ (Then, if they repent and establish salah and pay zakah, they are your brothers in faith). Here we are being told that once an enemy - no matter how deadly and no matter how hurtful he has been - becomes a Muslim, things change dramatically. Allah Ta` ala forgives his past sins, all of them. So, it becomes obligatory on Muslims too that they should forget the past, start afresh, take them as their brothers in faith and do whatever it takes to fulfill the rights enjoined under such relationship. Three Conditions of Entry…

Read the full tafseer →