احترام آدمیت کا منشور
مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول صادق و مصدوق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنے حج کے خطبے میں ارشاد فرمایا کہ زمانہ گھوم پھر کر اپنی اصلیت پر آگیا ہے سال کے بارہ مہینے ہوا کرتے ہیں جن میں سے چار حرمت و ادب والے ہیں۔ تین پے درپے ذوالقعدہ ذوالحجہ، محرم اور چوتھا رجب جو مضر کے ہاں ہے جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں ہے پھر پوچھا یہ کون سا دن ہے ؟ ہم نے کہا اللہ کو اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے۔ آپ نے سکوت فرمایا ہم سمجھے کہ شاید آپ اس دن کا کوئی اور ہی نام رکھیں گے پھر پوچھا کیا یہ یوم النحر یعنی قربانی کا دن نہیں ؟ ہم نے کہا ہاں پھر پوچھا یہ کونسا مہینہ ہے ؟ ہم نے…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 34
یعنی جب سے اللہ نے چاند، سورج اور زمین کو خلق کیا ہے اسی وقت سے یہ حساب بھی چلا آرہا ہے کہ مہینے میں ایک ہی دفعہ چاند ہلال بن کر طلوع ہوتا ہے اور اس حساب سے سال کے 12 ہی مہینے بنتے ہیں۔ یہ بات اس لیے فرمائی گئی ہے کہ عرب کے لوگ نَسِی کی خاطر مہینوں کی تعداد 13 یا 14 بنالیتے تھے، تاکہ جس ماہ حرام کو انہوں نے حلال کرلیا ہو اسے سال کی جنتری میں کھپا سکیں۔ اس مضمون کی تشریح آگے آتی ہے۔
سورة التَّوْبَة 35
یعنی جن مصالح کی بنا پر ان مہینوں میں جنگ کرنا حرام کیا گیا ہے ان کو ضائع نہ کرو اور ان ایام میں بد امنی پھیلا کر اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔ چار حرام مہینوں سے مراد ہیں ذی القعدہ،…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
یقینا شمار مہینوں کا (جو کہ) کتاب الٰہی (یعنی احکام شرعیہ) میں اللہ کے نزدیک (معتبر ہیں) بارہ مہینے (قمری) ہیں (اور کچھ آج سے نہیں بلکہ) جس روز اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین پیدا کئے تھے (اسی روز سے اور) ان میں چار خاص مہینے ادب کے ہیں (ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم، رجب) یہی (امر مذکورہ) دین مستقیم ہے (یعنی ان مہینوں کا بارہ ہونا اور چار کا بالتخصیص اشہر حرم ہونا اور بخلاف عادت جاہلیت کے کبھی سال کے مہینوں کا عدد بڑھا دیتے، اور کبھی اشہر حرم کی تخصیص چھوڑ دیتے کہ یہ بد دینی ہے) سو تم ان سب مہینوں کے بارے میں (دین کے خلاف کرکے جو کہ موجب گناہ ہے) اپنا نقصان مت کرنا (یعنی اس عادت جاہلیت…
Read the full tafseer →اوپر کی آیات میں میں مشرکین اور اہل کتاب دونوں گروہوں سے جنگ کا حکم دینے کے بعد آگے کی دو آیتوں میں چاروں محترم مہینوں کا احترام باقی رکھنے کی تاکید کردی۔ یہ اسی ہدایت کی تاکید مزید ہے جو آیت 5 میں گزر چکی ہے کہ جب محترم مہینے گزر جائیں تب ان سے جنگ شروع کرو۔ اس احترام کی تاکید کے ساتھ ان مہینوں کے باب میں نسئ کی اس بدعت کی اصلاح بھی فرما دی جو مشرکین عرب نے اہل کتاب سے اخذ کی تھی۔ پیچھے ہم ذکر کر آئے ہیں کہ عربوں نے اپنے تجارتی مقاصد کو پیش نظر رکھ کر کبیسہ کے قاعدے پر ایک ایسی جنتری بنا لی تھی کہ اشہر حرم برابر ایک ہی موسم میں پڑتے تھے۔ اس بدعت نے قمری مہینوں کو ان کی اصل جگہ سے ہٹا دیا…
Read the full tafseer →36۔ 1 فی کتاب اللہ سے مراد لوح محفوظ یعنی تقدیر الٰہی ہے۔ یعنی ابتداء آفرینش سے ہی اللہ تعالیٰ نے بارہ مہینے مقرر فرمائے ہیں، جن میں چار حرمت والے ہیں جن میں قتال وجدال کی بالخصوص ممانعت ہے۔ اسی بات کو نبی کریم ﷺ نے ایسے بیان فرمایا ہے کہ ' زمانہ گھوم گھما کر پھر اسی حالت پر آگیا ہے جس حالت پر اس وقت تھا جب اللہ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی۔ سال بارہ مہینوں کا ہے، جن میں چار حرمت والے ہیں، تین پے درپے ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم اور چوتھا رجب جو جمادی الاخری اور شعبان کے درمیان ہے۔ (صحیح بخاری) زمانہ اسی حالت پر آگیا ہے کا مطلب، مشرکین عرب مہینوں میں جو تاخیر و تقدیم کرتے تھے جس کی…
Read the full tafseer →33: سورت کے شروع میں جو اعلان براءت کیا گیا ہے اس میں بت پرستوں کی ایک قسم کو حرمت والے مہینے ختم ہونے تک مہلت دی گئی تھی، اس مناسبت سے عرب کے بت پرستوں کی ایک معقول رسم کی تردید ضرور تھی جو آیت نمبر 36 اور 37 میں کی گئی ہے۔ اس رسم کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کے وقت سے چاند کے چار مہینوں کو حرمت والے مہینے سمجھا جاتا تھا۔ ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب۔ ان چار مہینوں میں جنگ کی ممانعت تھی۔ عرب کے بت پرستوں نے اگرچہ بت پرستی شروع کر کے حضرت ابراہیم ؑ کے دین کو بہت کچھ بدل ڈالا تھا، لیکن ان مہینوں کی حرمت کو سب تسلیم کرتے تھے، اور ان میں جنگ کو ناجائز سمجھتے تھے۔ رفتہ رفتہ یہ ممانعت ان کو…
Read the full tafseer →درس نمبر 89 ایک نظر میں
سیاق کلام اپنے منطقی انداز میں ، رومیوں اور شمالی عرب میں ان کے حلیف نصرانی قبائل کے خلاف جنگ کی تیاریوں کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ تیاریاں اور لشکر کشی بظاہر رجب کے مہینے میں ہو رہی تھی۔ لیکن در اصل یوں نہ تھا۔ اصل حقیقت یہ تھی کہ اس سال ماہ رجب اپنی حقیقی جگہ پر نہ تھا۔ اور یہ اس لیے کہ انہوں نے حساب و کتاب کے لیے النسی کا جو نظام رجاری کر رکھا تھا (تفصیلات آگے آرہی ہیں) تو اس کے مطابق ماہ ذوالحجہ اپنی جگہ پر نہ تھا۔ یہ ذوالقعدہ کی جگہ تھا اور رجب جمادی الاخری کی جگہ آ رہا تھا اور اس اضطراب کا اصل راز یہ تھا کہ جاہلیت کا نظام خود اپنے اصول…
Read the full tafseer →1 میرے نزدیک اوپر سے سلسلہ مضمون کا یوں ہے کہ گذشتہ رکوع میں مشرکین کے بعد اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) سے جہاد کرنے کا حکم دیا۔ پھر رکوع حاضر کے شروع میں بتلایا کہ ان کے عقائد اور طور و طریق بھی مشرکین سے ملتے جلتے ہیں۔ ان کا عزیر و مسیح کو خدا کا بیٹا کہنا ایسا ہی ہے جیسے مشرکین " ملائکۃ اللّٰہُ " کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے، بلکہ نصاریٰ میں " ابنیت مسیح " کا عقیدہ مشرکین کی تقلید سے آیا ہے۔ وہ بتوں کو خدائی کا درجہ دیتے ہیں انہوں نے مسیح کو روح القدس کو خدا ٹھہرا لیا۔ باوجود دعوائے کتاب کے احبارو رہبان کے احکام کو شریعت الٰہیہ کا بدل تجویز کرلیا یعنی احبارو رہبان رشوتیں لے کر اور حرام مال کھا…
Read the full tafseer →آیت 36 اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ
اللہ کے قائم کردہ تکوینی نظام اور تشریعی قانون کے تحت مہینوں کی تعداد بارہ مقرر کی گئی ہے۔
مِنْہَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ط
ان چار مہینوں ذو القعدہ ‘ ذو الحجہ ‘ محرم اور رجب کو اشہر حرم کہتے ہیں اور ان میں جنگ وغیرہ جائز نہیں۔
ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُج فَلاَ تَظْلِمُوْا فِیْہِنَّ اَنْفُسَکُمْ
قانون خداوندی کے مطابق یہ چار مہینے شروع سے محترم ہیں ‘ لہٰذا تم لوگ ان مہینوں کے بارے میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔ اس میں قریش کے اس رواج کی طرف اشارہ ہے جس کے تحت وہ محترم مہینوں…
Read the full tafseer →37 حرمت کے مہینوں میں تقدیم و تاخیر حرمت کے مہینے عرب کا رواج ہے جسے اسلام نے بحال رکھا :۔ جس طرح اہل کتاب اپنی اغراض اور دینی مفاد کی خاطر احکام الٰہی میں ہیرا پھیری کرلیتے تھے اسی طرح عرب کے مشرکین بھی کرلیا کرتے تھے اور اسی مناسبت سے یہاں ان کا ذکر آ رہا ہے۔ مشرکین عرب کے نزدیک چار ماہ حرمت والے تھے۔ ذیقعدہ، ذی الحجہ اور محرم حج کے لیے اور رجب عمرہ کے لیے۔ ان مہینوں میں لوٹ مار اور جدال و قتال حرام تھا اور اس دوران لوگ آزادی کے ساتھ سفر اور تجارت وغیرہ کرسکتے تھے۔ اگرچہ لوٹ مار اور لڑائی جھگڑا ہر وقت ہی ایک گناہ کا کام تھا تاہم ان مہینوں میں اسے شدید تر گناہ سمجھا جاتا تھا لیکن مشرک اپنی…
Read the full tafseer →65 ۔ یعنی شریعت الہی میں معتبر قمری سنہ کے بارہ ہی مہینہ ہیں، نہ اس سے زیادہ نہ اس سے کم، اور یہ کچھ آج سے نہیں، روز آفرنیش سے، (آیت) ” فی کتب اللہ “۔ یعنی شریعت خداوندی میں، اے فی ما اثبتہ واوجبہ من حکمہ (مدارک) یالوح محفوظ میں، فی اللوح (مدارک) (آیت) ’ یوم خلق السموت الارض “۔ اس تصریح سے مقصود زور وتاکید پیدا کرنا ہے۔ والمقصود بیان ان ھذا الحکم حکم محکوم بہ من اول خلق العالم وذلک یدل علی المبالغۃ والتاکید (کبیرا)
66 ۔ اور وہ بھی متعین ومعروف یعنی محرم، رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ، یہ نہیں کہ اہل جاہلیت کی طرح اپنی وقتی مصلحتیں دیکھ کر جس مہینہ کو چاہا ادب والا قرار دیدیا۔ اور سال کے مہینہ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
اِنَّ عِدَّةَ الشُّھُوْرِ عِنْدَ اللہ اِثْنَا عَشَرَ شَھْرًا فِیْ کِتَابِ اللہ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے چاند سورج اور زمین پیدا کئے ہیں اسی وقت سے یہ حساب چلا آتا ہے کہ سال کے بارہ مہینے ہی ہوتے ہیں اور چاند ایک ماہ میں ایک مرتبہ ہی طلوع ہوتا ہے یہ بات اس لئے فرمائی گئی ہے کہ عرب اپنی ضرورتوں اور مصلحتوں کی خاطر مہینوں کی تعداد 13 یا 14 کرلیتے تھے۔ اپنے اوپر ظلم نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جن مہینوں میں جنگ کرنا حرام کیا گیا ہے ان کو ضائع نہ کرو اور ان ایام میں بدامنی پھیلا کر اپنے اوپر ظلم نہ کرو محترم مہینوں کو مقدم ومؤخر کردینا یہ کافرانہ دستوروں میں ایک اور دستور کا اضافہ ہے، ہندوستان میں…
Read the full tafseer →ان عدۃ الشھور عند اللہ اثنا عشر یقیناً (ایک سال کے) مہینوں کی (انتہائی) گنتی بارہ مہینے ہے۔
شھرًا فی کتب اللہ اللہ کی کتاب میں۔ یعنی لوح محفوظ میں یا اللہ کے حکم میں۔
یوم خلق السموت والارض (اسی وقت سے) جبکہ اللہ نے آسمان و زمین کو بنایا تھا۔ یعنی حج ‘ زکوٰۃ اور روزوں کیلئے اللہ کے نزدیک چاند کے مہینے معتبر ہیں اور ایک سال کے بارہ مہینے ہوتے ہیں۔ یعنی ایک سال کا دور اللہ کے نزدیک بارہ مہینے کا ہوتا ہے جن میں سے ایک مہینہ روزوں کیلئے اور چند ماہ حج (کو جانے) کے اور سال کے خاتمہ ادائے زکوٰۃ کے وجوب کیلئے ہے۔
منھا اربعۃ حرم جن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ یعنی ان میں لڑائی کا آغاز حرام ہے…
Read the full tafseer →(36) یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوح محفوظ میں سال کا شمار مہینوں کے ساتھ ہوتا ہے، یعنی سال کے بارہ مہینے جن میں زکوٰۃ ادا کی جاتی ہے، ابتدا آفرینش ہی سے ان مہینوں میں سے چار خاص مہینے یعنی رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم احترام کے مہینے ہیں یہ حساب اس طریقہ پر مستقیم ہے، جس میں کسی قسم کی کمی زیادتی نہیں ہوتی، لہٰذا تم ان مہینوں یا ان خاص احترام کے مہینوں میں نافرمانی کرکے اپنا نقصان نہ کرنا۔
اور ان تمام مشرکین سے حل وحرم میں ہر جگہ لڑو، جیسے وہ تم سے لڑے اور اے مسلمانو ! اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے ساتھ ہے جو کفر وشرک اور فواحش اور بدعہدی اور اشہر حرام میں قتال کرنے سے بچتے ہیں۔
Read the full tafseer →اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا : سورة توبہ میں مشرکین سے براءت اور ان سے جہاد کے درمیان (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ) آیت (29) سے لے کر (فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ) آیت (35) تک سات آیات میں اہل کتاب سے قتال اور ان کے تینوں سربرآور دہ طبقات احبار، رہبان اور مال دار لوگوں کے بگاڑ کا ذکر اور مذمت کرنے کے بعد آگے ان دو آیات میں مشرکین کی کچھ مزید خرابیوں کا ذکر فرمایا۔
یہود و نصاریٰ کی طرح مشرکین عرب بھی اللہ کے احکام بدلنے کے لیے حیلہ سازی سے کام لیتے تھے، مثلاً آسمان و زمین کی پیدائش کے دن سے تمام ادیان میں یہ طریقہ چلا آ رہا تھا کہ…
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : ان عدۃ الشھور عند اللہ اثنا عشر شھرا فی کتب اللہ یوم خلق السموت والارض منھآ اربعۃ حرم ط ذلک الدین القیم فلاتظلموا فیھن انفسکم اس میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : ان عدۃ الشھور ‘ شھور ‘ شھر کی کی جمع ہے۔ پس جب کوئی آدمی اپنے بھائی سے کہے : لا اکلمک الشھور ( میں تیرے ساتھ مہینے کلام کروں گا) اور وہ اس پر ہر قسم کھائے تو وہ ایک سال تک اس کے ساتھ کلام نہیں کرسکے گا۔ یہ بعض علماء نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے اس کے ساتھ کلام نہیں کرسکے گا۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : میرا خیال یہ ہے کہ اگر اس کی کوئی نیت نہ ہو تو یہ قول تین مہینوں کا تقاضا…
Read the full tafseer →سال کے بارہ مہینے :
1:۔ احمد والبخاری ومسلم ابو داود ابن منذر ابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں ابوبکر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے حج میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا خبردار ! بلاشبہ زمانہ گھوم کر اپنی اس اصلی حالت پر آگیا، جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو بنایا تھا سال بارہ مہینوں کا ہے اس میں چار مہینے عزت والے ہیں تین مہینے متواتر ہیں ذوالقعدہ ذوالحجہ اور محرم اور رجب مضر (قبیلہ کے نزدیک) جو دونوں جمادی اور شعبان کے درمیان ہے۔
2:۔ بزاروابن جریر وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زمانہ گھوم کر اپنی اصلی حالت پر آگیا (مطلب یہ ہے…
Read the full tafseer →اِنَّ [ بیشک ] عِدَّةَ الشُّهُوْرِ [ مہینوں کی گنتی ] عِنْدَ اللّٰهِ [ اللہ کے پاس ] اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا [ بارہ مہینے ہے ] فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ [ اللہ کے لکھے ہوئے میں ] يَوْمَ [ (اس دن سے ) جس دن ] خَلَقَ [ اس نے پیدا کیا ] السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں کو ] وَالْاَرْضَ [ اور زمین کو ] مِنْهَآ [ ان میں سے ] اَرْبَعَةٌ [ چار ] حُرُمٌ ۭ [ محترم ہیں ] ذٰلِكَ [ یہ ] الدِّيْنُ الْقَيِّمُ ڏ [ پکا ضابطہ ہے ] فَلَا تَظْلِمُوْا [ پس تم لوگ ظلم مت کرو ] فِيْهِنَّ [ ان میں ] اَنْفُسَكُمْ [ اپنی جانوں پر ] وَقَاتِلُوا [ اور جنگ کرو ] الْمُشْرِكِيْنَ [ مشرکوں سے ] كَاۗفَّةً [ اکٹھا ہوکر ] كَمَا [ جیسے ]…
Read the full tafseer →مہینوں کی حلت و حرمت میں ہیرا پھیری اور تقدیم و تاخیر کرنا کفر میں ترقی کرنا ہے
اوپر دو آیتوں کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس دن آسمانوں کو اور زمین کو پیدا فرمایا تھا اسی دن سے اس نے مہینوں کی تعداد بارہ عدد مقرر فرمائی ہے۔ ان میں سے چار مہینوں کو حرام قرار دے دیا جن میں قتال کرنے کی ممانعت فرما دی (یہ چار مہینے ذی القعدہ ذی الحجہ محرم اور رجب تھے) جمہور علماء کا فرمانا ہے کہ ان کی حرمت منسوخ ہے اور اب ان مہینوں میں بھی قتال کرنا جائز ہے۔ جیسا کہ ہم سورة بقرہ کی آیت (یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الشَّھْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ ) کی تفسیر میں بیان کر آئے۔ (دیکھو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
عود بذکر بعض جہالات مشرکین عرب
قال اللہ تعالیٰ ۔ ان عدۃ الشہور۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ لا یہدی القوم الکافرین
(ربط): گزشتہ آیات میں اہل کتاب سے قتال کا حکم دیا اور پھر ان سے جہاد و قتال کے وجوہ بیان کیے اور کلام کو ان کی حرص اور طمع کے بیان پر ختم کیا کہ اس حرص اور طمع نے ان کے دین اور دنیا کو خراب کیا۔ اب پھر مشرکین عرب کی بعض جہالتوں کو بیان کرتے ہیں تحقیق مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں جو قمری میں کتاب الٰہی یعنی لوح محفوظ یا حکم خداوندی میں اسی طرح لکا جا چکا ہے جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ ان بارہ مہینوں میں سے چار مہینے ادب اور احترام کے ہیں تین مہینے متصل ہیں ذی…
Read the full tafseer →30: یہ قتال کی چھٹی وجہ ہے۔ یعنی یہ مشرکین اللہ کی تحریمات کو قائم نہیں رکھتے۔ محرم کی حرمت کو صفر پر ڈال دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ابتدائے آفرینش سے آسمانوں کی حرکت اور شمس و قمر کے دورے اس انداز سے مقرر فرمائے ہیں کہ ایک سال کے بارہ مہینے بنتے ہیں۔ ان میں سے چار ماہ عزت و حرمت والے ہیں جن میں جنگ و قتال کرنا ممنوع ہے۔ یعنی رجب، ذی القعدہ ذی الحجہ اور محرم۔ “ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ ” یعنی ان چاروں مہینوں کی حرمت کو قائم رکھنا یہ دین قیم ہے۔ حضرت ابراہیم اور اسمعیل کا دین ہے۔ (روح) مگر مشرکین سال میں اشہر حرم کی تعداد تو پوری کرتے تھے مگر ان کی تعیین کو برقرار نہیں رکھتے تھے۔ جب دشمن کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
ربط آیات :
پہلی آیات میں اہل کتاب کے ساتھ جہاد کا ذکر تھا۔ اللہ نے کافروں اور مشرکوں کے ساتھ جہاد کرنے کے بعد اہل کتاب کے ساتھ جہاد کا حکم دیا۔ نیز فرمایا کہ اگر وہ مغلوبھ ہو کر جزیہ دینا قبول کرلیں تو ان کو امن حاصل ہوگا۔ اللہ نے ان کے عقائد فاسدہ کا ذکر بھی کیا کہ یہودی عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں جب کہ نصاریٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ابن اللہ کہتے ہیں پھر اللہ نے فرمایا کہ کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہرانا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے مگر اہل کتاب کی بدنصیبی کہ انہوں نے یہ صفت اپنے عالموں اور درویشوں کے لیے ثابت کی۔ اہل کتاب کی ایک خرابی یہ بھی بیان فرمائی کہ وہ دین حق کو مٹانے کے یے…
Read the full tafseer →اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِيْ كِتٰبِ اللہِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْہَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ 0 ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ 0ۥۙ فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْہِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَاۗفَّۃً كَـمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَاۗفَّۃً 0 ۭ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ 36
عدۃ
وعد بروزن فعلۃ بمعنی معدود ہے جیسے کہ طحن بمعنی مطحون۔ اور اسی بناء پر انسانوں کی گنی ہوئی جماعت کو عدۃ کہتے ہیں اور عورت کی عدت بھی اسی معنی میں ہے یعنی اس کے گنے ہوئے دن ۔ عورت کی عدت سے مراد وہ ایام کہ جن کے گزر جانے پر اس سے نکاح کرنا حلال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
ترکیب : اثنا عشر ممیز شہرا تمیزیہ خبر ہے ان کی۔ عدۃ ای عدد الشہور اسم ان فی کتاب اللّٰہ صفت ہے اثنا عشر کی۔ یوم کتاب کا معمول ہے کیونکہ یہ مصدر ہے منہا الخ جملہ صفت ہے اثنا عشر کی اور یہ جملہ مستانفہ اور حال بھی ہوسکتا ہے۔ النسیء کی خبر زیادۃ فی الکفر اس کی صفت یضل صفت ثانی یحلونہ جملہ صفت ہے فاعل کفروا کی لیواطو ای لیوا فقوا عدۃ اے عددا۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ یہود و نصاریٰ نے اپنے احبارو رہبان کو خدا بنا لیا یعنی حرام و حلال کرنے کا مجاز سمجھا۔ یہاں مشرکین عرب کی طرف خطاب ہوتا ہے کہ وہ کیا اس بات سے خالی ہیں ؟ پھر ان باتوں میں سے ایک بات بیان فرماتا ہے جو جہادو قتال سے مناسب تھی۔
وہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
اِنَّ عِدَّۃَ الشُّھُوْرِ عِنْدَا للّٰہِ اثْنَا عَشَرَ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْھَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ طذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ 5 لا فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْھِنَّ اَنْفُسَکُمْ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ کَآفَّۃًطوَاعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ اِنَّمَا النَّسِیْٓئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ یُضَلُّ بِہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُحِلُّوْنَہٗ عَامًا وَّیُحَرِّمُوْنَہٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّۃَ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ فَیُحِلُّوا مَا حَرَّمَ اللّٰہُ طزُیِّنَ لَھُمْ سُوْٓئُ اَعْمَالِھِمْط وَاللّٰہُ لَایَھْدِی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حرمت والے مہینے میں قتال ممنوع ہے۔ یہود و نصاریٰ اور ان کے علماء کا کردار اور انجام ذکر کرنے کے بعد خطاب کا رخ مشرکین مکہ کی طرف ہوچکا ہے۔
اسلامی سال کی تقویم اور تقسیم کسی انسان کے حساب و کتاب کا نتیجہ نہیں یہ تو اللہ تعالیٰ نے اس دن سے ہی ماہ، سنین اور ایام متعین فرما دیے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا تھا۔ گویا کہ زمین و آسمان کی پیدائش کے ساتھ ہی لیل و نہار اور سال کی تقویم شروع کردی گئی اور اسی وقت سے ہی اللہ تعالیٰ نے سال کے بارہ مہینے مقرر فرمائے ہیں جن میں چار مہینے محترم قرار دیے گئے۔ جن کے ناموں کی تصریح کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یہ…
Read the full tafseer →تخلیق ارض و سماء کے وقت سے مہینے بارہ ہیں :
آیت 36: اِنَّ عِدَّۃَ الشُّھُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَشَھْرًا (یقینا مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہے) بغیر اضافہ کے۔ اس سے یہ وضاحت کی گئی ہے کہ احکام شرع کا دار و مدار قمری مہینوں پر ہے۔ جو چاند سے گنے جاتے ہیں۔ شمسیہ سے نہیں۔ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ (کتاب الٰہی میں) نمبر 1: جو اپنی حکمت سے واجب کردیا اور اس میں قائم و ثابت کردیا۔ نمبر 2۔ یا اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْھَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ (جس روز اللہ نے آسمان و زمین پیدا کئے تھے ان میں چار مہینے خاص ادب کے ہیں) تین مسلسل ذوالقعدہ لڑائی سے باز…
Read the full tafseer →36۔” ان عدۃ الشھور “ یعنی مہینوں کی تعداد ” عند اللہ ا الثنا عشر شھرا فی کتب اللہ “ محرم ، صفر ، ربیع الاول ، ربیع الثانی ، جمادی الاول ، جمادی الاخری ، رجب ، شعبان ، رمضان ، شوال ، ذولقعدہ ، ذوالحجہ ، ” فی کتاب اللہ “ یعنی اللہ کے حکم میں اور بعض نے کہا لوح محفوظ میں ” یوم خلق السموات والارض “ ان سے چاند والے مہینے مراد ہیں انہی مہینوں کا مسلمان اپنے روزوں اور حج اور عید اور تمام معاملات میں اعتبار کرتے ہیں ۔ شمسی مہینوں کے اعتبار سے سال تین سو پینسٹھ دن اور ایک دن کا چوتھا حصہ ہوتا ہے اور قمر ی مہینوں کا سال تین سو ساٹھ دن سے کچھ کم ہوتا ہے جتنے دن چاند کم ہو ۔ اکثر تین سو چون دن کا ہوتا…
Read the full tafseer →36۔ اس آیت کی شان نزول یہ ہے کہ مشرکین مکہ ایام جاہلیت میں ادب کے مہینوں کی کچھ خصوصیت باقی نہیں رکھتے تھے بلکہ لڑائی کے زمانہ میں اگر محرم کا مہینہ آتا تھا تو جنگ کرتے تھے اور اس کے عوض میں مثلا صفر کے مہینہ کو محرم قرار دے لیتے تھے اسی کو نسی بھی کہتے ہیں جس کا ذکر آگے آویگا غرض کہ اسی امر کا اللہ پاک نے ذکر فرمایا کہ خدا کے نزدیک مہینے گنتی میں بارہ ہیں محرم۔ صفر ربیع الادل ربیع الثانی جمادی الاول جمادی الثانی رجب شعبان رمضان شوال ذی قعدہ ذی الحجہ ان مہینوں کو قمری مہینہ کہتے ہیں کیونکہ ان کا حساب چاند کی گردش سے واقع ہوتا ہے ان بارہ مہینوں کے دن سال میں تین سو بچپن 355 ہوتے ہیں اور یہی…
Read the full tafseer →آیت 36
(ان عدۃ الشھور عند اللہ) ” اللہ کے ہاں مہینوں کی گنتی “ یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر میں۔ (اثنا عشر شھرا) ” بارہ مہینے ہے “ یہ وہی معروف مہینے ہیں۔ (فی کتب اللہ) ” اللہ کی کتاب میں “ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم قدری میں (یوم خلق السموت ولارض) ” جس دن اس نے پیدا کئے تھے آسمان اور زمین “ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیل و نہار جاری کئے، اس کے اوقات کی مقدار مقرر کی اور اس کو ان بارہ مہینوں میں تقسیم کیا۔ (منھا اربعۃ حرم) ” ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں “ اور یہ ہیں رجب، ذیقعد، ذوالحج اور محرم۔۔۔ اور ان کے احترام کی وجہ سے ان کو حرام مہینوں سے موسوم کیا گیا ہے۔ نیز ان کو اس وجہ سے بھی حرام مہینے…
Read the full tafseer →قول باری ہے (فلا تقلموا فیھن انفسکم۔ پس ان مہینوں میں تم اپنے نفسوں پر ظلم نہ کرو) حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک قول باری (فیھن) کی ضمیر مہینوں کی طرف راجع ہے جبکہ قتادہ کا قول ہے کہ چار مہینوں کی طرف راجع ہے۔
سب مسلمان مل کر مشرکین کا مقابلہ کریں
قول باری ہے (وقاتلوا المشرکین کافۃ اور مشرکین سے سب مل کر لڑو) اس میں دو احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ ہر قسم کے مشرکین سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس حکم سے صرف وہی مشرک خارج ہیں جن کے ساتھ عقد ذمہ ہوچکا ہو جس کے تحت انہوں نے جزیہ ادا کرنا قبول کرلیا ہے۔ اس بات کی وضاحت دوسری آیتوں میں کردی گئی ہے دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم مل کر…
Read the full tafseer →80 حرمت والے مہینے چار ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ مہینوں کی تعداد اللہ تعالیٰ کے نزدیک بارہ مہینے ہے اللہ کی کتاب میں (اس دن سے کہ) جس دن اللہ نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو۔ ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ جن میں سے تین پے درپے ہیں یعنی ذوالعقدہ، ذوالحجہ اور محرم۔ اور ایک الگ ہے یعنی رجب۔ ان چاروں کی حرمت زمانہ جاہلیت میں بھی مسلم تھی، مگر ان کے یہاں طریقہ یہ تھا کہ اگر لڑتے لڑتے کبھی حرمت والا کوئی مہینہ آگیا، تو اس کو حلال قرار دے دیا، اور اس کے بدلے میں دوسرے حلال مہینے کو حرام قرار دے دیا۔ مثلاً محرم کو صفر اور صفر کو محرم قرار دے…
Read the full tafseer →مہینوں کی تعداد اور زمانے کی تقسیم
تشریح : اس آیت میں وقت اور زمانہ کا تعین کرنے کا ذریعہ بتایا گیا ہے قرآن پاک عرب کے باشندوں کی طرف نازل ہوا۔ اس وقت نہ تو گھڑیاں تھیں اور نہ ہی کیلنڈر وغیرہ، یعنی اس وقت لوگ چاند کے گھٹنے بڑھنے اور چھپ جانے سے ہی وقت، تاریخ، مہینہ اور سال کا حساب لگاتے تھے، ، لہٰذا انہی کی سمجھ اور عقل کے مطابق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب سے کائنات وجود میں آئی، زمین اور آسمان، چاند اور سورج ستارے بنائے گئے اس وقت سے وقت اور جگہ بھی وجود میں آگئی تو اس کو تقسیم کرنے کے لیے اللہ رب العزت نے ایک سال کی مدت پھر اسی میں بارہ مہینے مقرر کردیے پھر کیونکہ لوگ بدامنی، لڑائی جھگڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–37
اسرار و معارف
چونکہ ایمان باللہ بھی وہی قابل قبول ہے جو ان اوصاف کے ساتھ ہو جو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمائی ہیں ۔ ان سے ہٹ کر اگر کسی نے اللہ کو مانا بھی تو وہ نہ ماننے کے برابر ہے جیسے اہل کتاب کہ اللہ پر اور آخرت پر ایمان تو رکھتے تھے مگر ظالموں نے اللہ کے لئے اولاد تجویز کردی یہود نے کہا حضرت عزیز (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے تھے اسی طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دے دیا اور بغیر کسی دلیل کے محض اپنی رائے سے گپ ہان کی ہے اللہ انھیں تباہ کرے کیسی غلط بات پر جم گئے ہیں ۔ اور یوں اپنے طور پر تو اللہ کا کوئی نہ کوئی تصور ہر قوم کے پاس ہے مگر یہ کوئی ماننا نہ ہوا۔…
Read the full tafseer →ف 7 یہود و نصاری ٰ کی طرح مشرکین عرب بھی تغییر احکام کے لیے حیلہ سازی سے کام لیتے تھے مثلا دین ابراہیم ( علیہ السلام) میں یہ سنت چلی آرہی تھی کہ حرمت کے مہینوں میں لڑائی اور ظلم و زیادتی ممنوع تھی حتی ٰ کہ ان مہینوں میں کوئی شخص اپنے باپ کے قاتل سے بھی تعرض نہ کرتا تھا۔ مگر عرب کے بعض قبائل نے ان مہینوں میں لڑائی اور لوٹ ما کرلیتے تھے۔ قرآن نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ سال کے بارہ مہینے ہیں اور ان میں چار مہینے حرمت کے ہیں۔ سال میں بارہ مہینے ہیں اور ان میں چار مہینے حرمت کے ہیں۔ سا میں بارہ مہینے کی تصریح کی وجہ بیان کرتے ہوئے بعض نے لکھا ہے کہ عرب میں قمری مہینے رائج تھے جن کے حساب سے…
Read the full tafseer →(9:36) عدۃ گنتی ۔ شمار۔ عدت یعنی وہ گنتی کے دن جن کے گزر جانے پر مطلقہ یا بیوہ سے نکاح حلال ہوجاتا ہے۔
حرم۔ ادب والے۔ عزت والے۔ حرام کی جمع ۔ بمعنی حرمت والا۔ حرام۔ ممنوع ۔ جس چیز سے منع کردیا جائے وہ حرام ہے۔ حرمت کے ماہ کو بھی شہر حرام اس واسطے کہا جاتا ہے کہ ایسے ماہ میں اللہ تعالیٰ نے بعض ان چیزوں کو حرام کردیا ہے جو دوسرے اوقات میں حلال ہیں۔ اربعۃ حرم۔ چار حرمت والے مہینے یعنی ذوالقعدہ، ذوالحجہ، المحرم، الرجب۔
القیم۔ صیغہ صفت۔ مفرد۔ مذکر۔ درست۔ ٹھیک۔ سیدھا۔ الدین القیم (موصوف و صفت) ایسا دین معاش و معاد اور دنیا و آخرت کو درست کرنے والا ہے۔
فیہن۔ میں ھن ضمیر جمع مؤنث غائب کا مرجع اربعۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
لغات القرآن آیت نمبر 36 تا 37
عدۃ الشھور (مہینوں کی گنتی) اثنا عشر (بارہ) اربعۃ حرم (چار احترام والے) الدین القیم (سیدھا سچا دین) کافۃ (مکمل، پورے طور پر) النسیء (مہینہ کو بدل دینا) یضل (بہکائے گئے) یحلون (وہ حلال کرتے ہیں) یحرمون (وہ حرام کرتے ہیں) زین (خوبصورت بنا دیا گیا ) سوئٓ اعمال (برے عمل)
تشریح آیت نمبر 36 تا 37
اللہ تعالیٰ نے جب سے موجودہ نظام فطرت کو قائم فرمایا ہے اسی دن سے اللہ کے نزدیک چاند جو موجودہ تحقیق کے مطابق زمین کے گرد گھومتا ہے۔ اس کی گردش 29 یا 30 دنوں میں مکمل ہوتی ہے ہر گردش ایک ماہ ہے اس طرح ایک سال بارہ مہینوں کا ہے لیکن ان میں چار مہینے یعنی ذی قعدہ ذی الحجہ محرم…
Read the full tafseer →ذیقعدہ، ذوالحجہ، محرم، رجب ان چار مہینوں کی خاص فضیلت
شان نزول : مشرکین مکہ ایام جاہلیت میں ادب کے مہینوں کی کچھ خصوصیت باقی نہیں رکھتے تھے بلکہ لڑائی کے زمانہ میں اگر محرم کا مہینہ آتا تھا بےوسواس جنگ کرتے تھے اور اس کے عوض میں مثلا صفر کے مہینے کو محرم قرار دے لیتے تھے اسی کو نسئ بھی کہتے ہیں۔ جس کا ذکر آگے آوے گا غرضیکہ اسی امر کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر فرمایا کہ خدا کے نزدیک مہینے گنتی میں بارہ ہیں : محرم، صفر، ربیع الاول، ربیع الثانی، جمادی الاول، جمادی الثانی، رجب، شعبان، رمضان، شوال، ذیقعدہ، ذی الحجہ۔ ان مہینوں کو قمری مہینہ کہتے ہیں کیونکہ ان کا حساب چاند کی گردش سے واقع ہوتا…
Read the full tafseer →[20] یعنی لوح محفوظ میں۔
[21] یعنی رجب، ذیقعدہ، ذی الحجہ اور محرم۔ یہ مہینے حرمت والے اس لئے کہلاتے ہیں کہ ان میں جنگ وجدال ممنوع ہے۔
[22] مطلب یہ ہے کہ اگر مشرکین حرمت کے مہینوں میں تم سے لڑیں تو تم بھی ان سے لڑو۔
Read the full tafseer →(ف 1) مقصد یہ ہے کہ مسلمان اشہر حرم میں جدال و قتال کو درست نہیں سمجھتا ، البتہ اگر اسے مجبور کردیا جائے ، تو پھر وہ دریغ نہ کرے ۔ اپنی تمام قوتوں کو کفر کے مقابلہ کے لئے جمع کرے ۔
Read the full tafseer →36 بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے جس دن سے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اسی دن سے مہینوں کی گنتی اس کے پاس کتاب الٰہی میں بارہ مہینے مقرر ہیں ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں یہی امرمذکور دین مستقیم ہے اور سیدھا سادھا ضابطہ ہے لہٰذا ان چار مہینوں میں معاصی کے مرتکب ہوکر اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور مسلمانوں تم سب مشرکوں سے اسی طرح لڑو جس طرح وہ تم سب سے لڑنے کو تیار رہتے ہیں اور یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ اہل تقویٰ کے ساتھ ہے۔ یعنی ابتدائے آفرینش سے مہینوں کا شمار اللہ تعالیٰ کے نزدیک کتاب الٰہی یعنی لوح محفوظ میں یا احکام شرعیہ میں قمری بارہ 12 مہینے ہیں۔
محترم، صفر، ربیع الاول، ربیع الثانی، جمادی…
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی ذیقعدہ۔ ذی الحجہ محرم اور رجب۔
7۔ یعنی ان مہینوں کا بارہ ہونا اور چار کا بالتخصیص اشہر حرم ہونا۔
8۔ مقصود آیت میں اس حساب کا ابطال ہے جس سے احکام شرعیہ میں اختلال یا غلطی ہونے لگے البتہ چونکہ احکام شرعیہ کا مدار حساب قمری پر ہے اس لیے اس کی حفاظت فرض علی الکفایہ ہے پس اگر ساری امت دوسری اصطلاح کو اپنا معمول بنالے جس سے قمری حساب ضائع ہوجائے تو سب گناہ گار ہوں گے اور اگر وہ محفوظ رہے تو دوسرے حساب کا استعمال بھی مباح ہے۔ لیکن خلاف سنت سلف ضرور ہے اور حساب قمری کا برتنا بوجہ اس کے فرج کفایہ ہونے کے لابد افضل واحسن ہے۔
Read the full tafseer →جب سے زمین و آسمان پیدا ہوئے عنداللہ بارہ مہینوں ہی کی تقدیم جاری ہے :
51: اس آیت میں قمری مہینوں کی عظمت و اہمیت واضح کی گئی ہے یعنی خالق کائنات نے جب سے یہ کائنات تخلیق کی ہے اس وقت ہی سے اس کائنات کے خالقن نے ایک محکم اور پکا نظام قائم کردیا ہے جو پوری زندگی سے سال اور مہینوں کا حساب ایک عامی سے عامی آدمی کے لئے بھی واضح کرتا رہتا ہے اس لئے یہ نظام کائناتی اور آفاقی ہے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ : وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ 1ؕ (یونس 10 : 5) ” (وہی ہے جس نے) چاند کو چمک دی اور چاند کے گھٹنے بڑھنے کی منزلیں ٹھیک…
Read the full tafseer →Commentary
Mentioned in the previous verses were the errors and misdeeds of disbelievers and Mushriks who persisted with their disbelief and kept associating others in the pristine divinity of Allah. In the present two verses, mentioned there is another bad custom prevailing in Arabia since its age of ignorance - which Muslims have been instructed to ab-stain from. That bad custom relates to a chain of happenings. Details go back to the distant past since when a year was accepted as having twelve months by the religious codes of all past prophets. Out of these twelve months, four were…
Read the full tafseer →