At-Tawba 9:129 · Hasbiyallahu la ilaha illa huwa

At-Tawba · from ayah 129

9:129

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ ۖۗؗ— لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ؕ— عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ۟۠فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ حَسۡبِىَ اللّٰهُ ۖ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ‌ ؕ وَهُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ

پھر اگر یہ لوگ پھر جائیں (اور نہ مانیں) تو کہہ دو کہ خدا مجھے کفایت کرتا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But if they turn away, [O Muhammad], say, "Sufficient for me is Allah; there is no deity except Him. On Him I have relied, and He is the Lord of the Great Throne."

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 16 of surah · Ruku 5 of juzع

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:129

اب اگر یہ لوگ تم سے منہ پھیرتے ہیں تو اے نبیؐ، ان سے کہدو کہ "میرے لیے اللہ بس کرتا ہے، کوئی معبود نہیں مگر وہ، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ مالک ہے عرش عظیم کا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر اگر یہ لوگ پھر جائیں (اور نہ مانیں) تو کہہ دو کہ خدا مجھے کفایت کرتا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر اگر رو گردانی کریں تو آپ کہہ دیجیئے کہ میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وه بڑے عرش کا مالک ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر بھی اگر یہ لوگ منہ موڑیں تو (اے رسول ! ان سے) کہہ دو کہ : میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر اگر وہ منہ پھیریں تو تم فرمادو کہ مجھے اللہ کافی ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اگر (ان بے پناہ کرم نوازیوں کے باوجود) پھر (بھی) وہ روگردانی کریں تو فرما دیجئے: مجھے اللہ کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں اسی پر بھروسہ کئے ہوئے ہوں اور وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دے مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسا کیا اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر بھی اگر لوگ اعراض کریں تو ان سے کہہ دیجئے : مجھے میرا اللہ کافی ہے۔ جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ میں اس پر بھروسہ کرتا ہوں اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس اگر وہ روگردانی کرتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میرے لیے اللہ کافی ہے۔ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اس پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر بھی اگر یہ لوگ پھرے ہی رہیں (راہ حق و ہدایت سے) تو کہہ دیجیے کہ کافی ہے مجھے اللہ، کوئی معبود نہیں سوائے اس کے، میں نے اسی پر بھروسہ کر رکھا ہے۔ اور وہی ہے مالک عرش عظیم کا۔

— مولانا اسحاق مدنی

پھر اگر (وہ لوگ) روگردانی کرتے رہیں تو آپ کہہ دیجیے کہ میرے لئے تو اللہ کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی پر میں نے بھروسہ کرلیا اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

) پھر بھی اگر یہ لوگ روگردانی کریں تو (اے نبی ﷺ !) کہہ دیجیے کہ میرے لیے اللہ کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی پر میں نے توکل کیا اور وہ بہت بڑے عرش کا مالک ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر اگر یہ لوگ پھرجائیں اور نہ مانیں تو کہہ دو کہ اللہ مجھے کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Yet, if they should turn away, then tell them: "Allah is sufficient for me; there is no god but He. In Him I have put my trust. He is the Lord of the Mighty Throne."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, if they turn away, say (O Messenger,) :Enough for me is Allah. There is no god but He. In Him I have placed my trust, and He is the Lord of the Great Throne.

— Muhammad Taqi Usmani

So, if they turn away, say (O Messenger,) :Enough for me is Allah. There is no god but He. In Him I have placed my trust, and He is the Lord of the Great Throne.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But if they turn away, say: "Allah is sufficient for me. There is no God but He, in Him I put my trust and He is the Lord of the Mighty Throne."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Now, if they turn away (O Muhammad) say: Allah sufficeth me. There is no Allah save Him. In Him have I put my trust, and He is Lord of the Tremendous Throne.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But if they turn away, [O Muhammad], say, "Sufficient for me is Allah; there is no deity except Him. On Him I have relied, and He is the Lord of the Great Throne."

— Saheeh International

(Muhammad), if they turn away from you, say, "God is Sufficient (support) for me. There is no God but He. In Him do I trust and He is the Owner of the Great Throne."

— Muhammad Sarwar

But if they turn back, say: Allah is sufficient for me, there is no god but He; on Him do I rely, and He is the Lord of mighty power.

— Muhammad Habib Shakir

If, then, they turn away, say thou: sufficing unto me is Allah, there is no god but he, on Him I rely and He is the Lord of Mighty Throne.

— Abdul Majid Daryabadi

But if they turn away, Say: "Allah sufficeth me: there is no god but He: On Him is my trust,- He the Lord of the Throne (of Glory) Supreme!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:129

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 128–129

رسول اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہیں مسلمانوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا احسان عظیم یاد دلا رہا ہے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے خود انہیں میں سے ان کی ہی زبان میں اپنا رسول بھیجا۔ حضرت خلیل اللہ نے یہی دعا کی تھی۔ اسی کا بیان (آیت لقد من اللّٰہ الخ) میں ہے۔ یہی حضرت جعفر بن ابو طالب نے دربار نجاشی میں اور یہ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے دربار کسریٰ میں بیان فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم میں ہمیں میں سے ایک رسول بھیجا۔ جس کا نسب ہمیں معلوم، جس میں سے کوئی برائی اللہ نے آپ کی ذات میں پیدا نہیں ہونے دی۔ نسب نامہ بالکل کھرا تھا۔ خود آپ کا فرمان ہے کہ حضرت آدم سے لے کر مجھ تک بفضلہ کوئی برائی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 127–129

سورة التَّوْبَة 126 قاعدہ یہ تھا کہ جب کوئی سورة نازل ہوتی تھی تو نبی ﷺ مسلمانوں کے اجتماع کا اعلان کراتے اور پھر مجمع عام میں اس سورة کو خطبے کے طور پر سناتے تھے۔ اس محفل میں اہل ایمان کا حال تو یہ ہوتا تھا کہ ہمہ تن گوش ہو کر اس خطبے کو سنتے اور اس میں مستغرق ہوجاتے تھے، لیکن منافقین کا رنگ ڈھنگ کچھ اور تھا۔ وہ آ تو اس لیے جاتے تھے کہ حاضری کا حکم تھا اور اجتماع میں شریک نہ ہونے کے معنی اپنی منافقت کا راز خود فاش کردینے کے تھے۔ مگر اس خطبے سے ان کو کوئی دلچسپی نہ ہوتی تھی۔ نہایت بددلی کے ساتھ اکتائے ہوئے بیٹھے رہتے تھے اور اپنے آپ کو حاضرین میں شمار کرا لینے کے بعد انہیں بس یہ فکر لگی رہتی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

آخری دو آیتیں حضرت ابی بن کعب کے قول کے مطابق قرآن مجید کی آخری آیتیں ہیں ان کے بعد کوئی آیت نازل نہیں ہوئی اور آنحضرت ﷺ کی وفات ہوگئی، یہی قول حضرت ابن عباس کا ہے۔ (قرطبی) ان دو آیتوں کے بڑے فضائل حدیث میں مذکور ہیں، حضرت ابوالدرداء فرماتے ہیں کہ جو شخص صبح و شام یہ آیتیں سات مرتبہ پڑھ لیا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام کام آسان فرما دیتے ہیں (قرطبی) واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم ربنا تقبل منا انک انت السمیع العیلم، اللھم وفقنی لتکمیلہ کما تحب وترضی والطف بنا فی تیسیر کل عسیر فان تیسیر کل عسیر علیک یسیر (سورة توبہ تمام شد)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 128–129

128۔ 129: لَقَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللّٰهُ ڶ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۭعَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ۔ یہ دونوں آیتیں آخری تنبیہ کے طور پر نازل ہوئی ہیں۔ پہلے اس عظیم احسان کی طرف توجہ دلائی ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی بعثت کے ذریعہ سے تمام خلق پر عموماً اور اہل عرب پر خصوصاً فرمایا ہے۔ خطاب اگرچہ عام ہے لیکن سیاق کلام دلیل ہے کہ روئے سخن انہیں لوگوں کی طرف ہے جو اس عظیم نعمت کی قدر کرنے کے بجائے اس کو اپنے لیے ایک مصیبت سمجھ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

129۔ 1 یعنی آپ کی لائی ہوئی شریعت اور دین رحمت سے۔ 129۔ 2 جو کفر و اعراض کرنے والوں کے مکرو فریب سے مجھے بچا لے گا۔ 129۔ 3 حضرت ابو الدردا فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ آیت حَسْبِیَ اللّٰہُ (الآ یۃَ) صبح اور شام سات سات مرتبہ پڑھ لے گا، اللہ تعالیٰ اس کے ہموم (فکر و مشکلات) کو کافی ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 127–129

105: اصل بات یہ تھی کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے کلام سے چڑ تھی۔ ان کی خواہش اور کوشش یہ رہتی تھی کہ اللہ تعالیٰ کا کلام سننے کی نوبت نہ آئے۔ لہذا جب آنحضرت ﷺ اپنی مجلس میں کوئی نئی سورت تلاوت فرماتے تو یہ بھاگنے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن اگر سب کے سامنے اٹھ کر جائیں تو ان کا راز فاش ہوجائے۔ اس لیے یہ ایک دوسرے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کرتے کہ کوئی ایسا موقع تلاش کرو کہ کوئی مسلمان تمہیں دیکھ نہ رہا ہو، اور اس وقت چپکے سے اٹھ کر چلے جاؤ۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 127–129

واذا ما انزلت سورة نظر بعضھم الی بعض اور جب کوئی سورة اتاری جاتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے۔ یعنی آنکھوں آنکھوں میں انکاریہ یا استہزائیہ اشارہ کرتا ہے ‘ یا آنکھوں کے اشارے سے غصہ کا اظہار کرتا ہے کہ اس سورة میں ان کے عیوب کو بیان کیا گیا ہے اور ان کی رسوائی کی گئی ہے اور مجلس سے اٹھ کر بھاگ جانے کا ارادہ کرتے ہوئے آنکھوں کے اشارہ سے ایک دوسرے سے کہتا ہے۔ ھل یراں کم من احد کیا تمہیں کوئی (مسلمان) دیکھ رہا ہے ؟ اگر اس مجلس سے اٹھ جاؤ گے تو کیا کسی کی نظر پڑجائے گی۔ پھر اگر کوئی مسلمان نہیں دیکھتا ہوتا تو وہ مسجد سے سرک جاتے ‘ اگر دیکھنے کا یقین ہوتا تو جمے بیٹھے رہتے۔ ثم انصرفوا پھر (یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 اگر آپ کی عظیم الشان شفقت، خیر خواہی اور دل سوزی کی لوگ قدر نہ کریں تو کچھ پروا نہیں۔ اگر فرض کیجئے ساری دنیا آپ سے منہ پھیر لے تو تنہا خدا آپ کو کافی ہے جس کے سوا نہ کسی کی بندگی ہے نہ کسی پر بھروسہ ہوسکتا ہے۔ کیونکہ زمین و آسمان کی سلطنت اور " عرش عظیم " (تخت شہنشاہی) کا مالک وہی ہے۔ سب نفع و ضرر، ہدایت و ضلالت اس کے ہاتھ میں ہے۔ فائدہ ابو داؤد میں ابو الدرداء سے روایت کی ہے کہ جو شخص صبح و شام سات سات مرتبہ (حَسْبِيَ اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۭعَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ ) 9 ۔ التوبہ :129) پڑھا کرے، خدا اس کے تمام ہموم و غموم کو کافی ہوجائے گا۔ باقی عرش…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 129 فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُز لَآ اِلٰہَ الاَّ ہُوَط اللہ تعالیٰ کے عرش کی کیفیت اور عظمت ہمارے تصور میں نہیں آسکتی۔ بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایاکم بالآیات والذکر الحکیم۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

152 یعنی اگر یہ لوگ آپ کی شخصیت، حدر درجہ شفقت، خیر خواہی اور دلسوزی کی کچھ بھی قدر نہیں کرتے تو جانے دیجئے۔ اگر یہ سب لوگ آپ سے منہ پھیر لیں تو یقیناً اللہ تعالیٰ ہی آپ کی مدد کے لیے کافی ہے اور اسی پر بھروسہ کیجئے جو کائنات کی ایک ایک چیز حتیٰ کہ عرش عظیم کا بھی مالک ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

242۔ (اور عرش عظیم موجودات میں سب سے اعظم ہے تو جو اس کا مالک ہے، اس کی تحت اور ملک کامل میں اور سارے موجودات عالم کا ہونا بالکل ظاہر ہے) فیدخل فیہ مادونہ اذا ذکرہ (قرطبی) خص العرش لانہ اعظم المخلوقات (بحر) (آیت) ” فان تولوا “۔ یعنی یہ لوگ یہ سب کچھ جاننے، سمجھنے اور سننے کے بعد بھی اگر انکار پر قائم رہیں۔ (آیت) ” حسبی اللہ “۔ یعنی میرا حافظ وناصر تو وہی مولی حقیقی ہے مجھے تمہارے اعراض و انکار سے ضرر کیا ؟ (آیت) ” علیہ توکلت “۔ یعنی میرا تکیہ اسی ذات عظیم پر ہے نہ کہ اپنے نفس پر یا کسی اور ذات کے اوپر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 123–129

آیت نمبر 123 تا 129 ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اپنے آس پاس والے منکرین (کفار) سے قتال کرو یعنی ان سے الاقرب فالاقرب کے قاعدہ کے مطابق بالترتیب، اور چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی پائیں یعنی تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو، اور یقین رکھو اللہ مدد اور نصرت کے ذریعہ متقیوں کے ساتھ ہے، اور جب (نئی) سورت قرآن کی نازل ہوتی ہے تو ان منافقین میں سے کچھ لوگ آپ ﷺ کے اصحاب سے استہزاء کرتے ہیں (بتائو) اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان میں تصدیق کا اضافہ کیا سو (سنو) جو لوگ اہل ایمان ہیں (اس سورت نے) ان کے ایمان میں ان کے اس کی تصدیق کرنے کی وجہ سے اضافہ کردیا ہے اور وہ خوش ہو رہے ہیں یعنی اس سورت کے نزول سے خوش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فان تولوا پھر اگر یہ روگردانی کریں۔ یعنی ایمان سے منہ موڑ لیں اور آپ سے لڑنے کیلئے تیار ہوجائیں۔ فقل حسبی اللہ تو آپ کہہ دیجئے کہ میرے لئے اللہ کافی ہے۔ یعنی اللہ کافروں کے خلاف تمہاری مدد کرے گا اور تمہارا کام پورا کرے گا۔ لا الہ الا ھو (کیونکہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ علیہ توکلت اسی پر میں نے بھروسہ کرلیا۔ مجھے اس کے سوا نہ کسی سے امید ہے نہ خوف۔ وھو رب العرش العظیم۔ اور وہ بڑی عظمت والے عرش کا مالک ہے۔ عرش چونکہ مخلوقات میں سب سے بڑی مخلوق ہے ‘ اسلئے خصوصیت کے ساتھ اس جگہ عرش عظیم کا ذکر کیا۔ عبد اللہ بن احمد نے حضرت ابی بن کعب کا قول نقل کیا ہے کہ سب سے آخر میں یعنی قرآنی آیات میں سب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 128–129

(128۔ 129) اے لوگو ! اور خصوصیت سے مکہ والو ! تمہارے پاس عربی پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہارے نقصان کی بات نہایت گراں گزرتی ہے، تمہاری منفعت اور ایمان کے بڑے خواہشمند رہتے ہیں پھر خاص کر تمام اہل ایمان کے ساتھ تو بہت ہی شفیق اور مہربانی فرمانے والے ہیں۔ پھر اس کے بعد بھی اگر یہ لوگ ایمان لانے، توبہ کرنے اور آپ کی پیروی کرنے سے اعراض کریں تو آپ کہہ دیجئے میرا کوئی نقصان نہیں میرے لیے تو اللہ تعالیٰ حافظ وناصر کافی ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کرلیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاِنْ تَوَلَّوْا : یعنی ایسے مہربان نبی، اس کی مومنوں پر شفقت و رحمت و حرص اور اس قدر سہل دین کے باوجود اگر وہ منہ موڑیں، تو آپ یہ کہیں : (حَسْبِيَ اللّٰهُ ڶ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۭعَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ) صرف یہ عقیدہ ہی نہ رکھیں، بلکہ برملا اعلان کریں اور اللہ کے کافی ہونے پر اپنی خوشی اور فخر کا اظہار کریں ؂ توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے حَسْبِيَ اللّٰهُ : ”حَسْبِيَ“ پہلے آنے کی وجہ سے معنی میں حصر پیدا ہوگیا، یعنی مجھے صرف اللہ کافی ہے، خواہ سب لوگ مجھے چھوڑ جائیں۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؂ کیا ڈر ہے اگر ساری خدائی ہو مخالف کافی ہے اگر ایک خدا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 128–129

آیت نمبر : 128 تا 129۔ حضرت ابی ؓ کے قول کے مطابق یہ دونوں آیتیں از روئے عہد کے آسمان سے زیادہ قریب ہیں۔ اور حضرت سعید بن جبیر ؓ کے قول کے مطابق یہ دونوں آیتیں از روئے عہد کے آسمان سے زیادہ قریب ہیں۔ اور حضرت سعید بن جبیر کے قول میں ہے : قرآن کریم میں سے جو آیت آخر میں نازل ہوئی وہ (آیت) ” واتقوا یوما ترجعون فیہ الی اللہ “ (البقرہ : 281) ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، پس حضرت ابی ؓ کے قول میں یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ اس ارشاد : (آیت) ” واتقوا یوما ترجعون فیہ الی اللہ “ کے بعد یہ دونوں آیتیں عہد کے اعتبار سے آسمان سے زیادہ قریب ہیں۔ واللہ اعلم۔ جمہور کے نزدیک یہ خطاب عربوں کو ہے اور یہ ان پر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن جریر وابن منذروابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فان تولوا فقل حسبی اللہ “ یعنی کفار اگر نبی کریم ﷺ سے منہ پھیر لیں (تو آپ فرما دیں مجھے اللہ کافی ہے) اور یہ مومنین میں سے۔ 2:۔ ابو الشیخ (رح) نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ ایک لشکر روم کی زمین کی طرف نکلا ان میں سے ایک آدمی گرپڑ اس کی ران کی ٹوٹ گئی لوگ اس کو سوار نہ کرا سکے تو انہوں نے اس کے گھوڑے کو اس کے پاس باندھ دیا اور اس کے پاس (کچھ لوگ پینے کی چیزیں) پانی اور توشہ رکھ دیا۔ جب یہ لوگ چلے گئے تو ایک آنے والاآدمی ان کے پاس آیا اس نے کہا یہاں تجھے کیا ہوا ؟ اس نے کہا میری ران ٹوٹ گئی تو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاِنْ [ پھر (بھی) اگر ] تَوَلَّوْا [ وہ لوگ منھ موڑیں ] فَقُلْ [ تو آپ کہہ دیں ] حَسْبِيَ اللّٰهُ [ مجھے کافی ہے اللہ ] لَآ اِلٰهَ [ کوئی الہ نہیں ہے ] اِلَّا [ مگر ] ھُوَ ۭ [وہ (ہی) ] عَلَيْهِ [ اس پر ہی ] تَوَكَّلْتُ [ میں نے بھروسہ کیا ] وَھُوَ [ اور وہ ] رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ [عظیم عرش کا مالک ہے ] نوٹ ۔ 1: آخری دو آیتیں یعنی آیت نمبر 128 حضرت ابی بن کعب اور حضرت ابن عباس کے قول کے مطابق ، قرآن کی آخری آیتیں ہیں ۔ ان کے بعد کوئی آیت نازل نہیں ہوئی اور رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی ۔ حضرت ابوالدرداء فرماتے ہیں کہ جو شخص صبح وشام یہ آیتیں سات مرتبہ پڑھ لیا کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے کام…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا کہ اگر لوگ رو گردانی کریں حق کو قبول نہ کریں۔ محبت، شفقت اور رافت و رحمت والے رسول کی تصدیق نہ کریں تو آپ ان کی طرف سے ایذاء پہنچنے کے بارے میں متفکر نہ ہوں آپ یوں اعلان کردیں (حَسْبِیَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ) (کہ اللہ مجھے کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں) (عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَ ھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ) (میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے) توکل علی اللہ نبیوں کا اور ان کے امتیوں کا سب سے بڑا ہتھیار ہے اس سے مشکل ترین کام آسان ہوجاتے ہیں۔ حضرت ابو درداء ؓ نے فرمایا کہ جو شخص صبح شام سات مرتبہ (حَسْبِیَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 128–129

ذکر کمال شفقت ورافت نبی اکرمؤ برحال امت واتمام حجت بر اہل شقاوت قال اللہ تعالیٰ ۔ لقد جاء کم رسول من انفسکم۔۔۔ الی۔۔۔ وھو رب العرش العظیم۔ (ربط ): اس سورت کی آخری آیت ہے جس میں حق تعالینے نبی اکرم ﷺ کی کمال شفقت ورافت کو بیان کیا۔ اور بتلا دیا کہ ایسے عظیم الشان اور شفیق ومہربان رسول کی آمد سے تم پر اللہ کی حجت پوری ہوگئی اور جہاد جیسے حکم سے جو نفس پر شاق اور گراں ہوتا ہے اس سے گھبرانا نہیں چاہئے اس لیے کہ جس طرح طبیب حاذق اور مشفق ومہربان کسی وقت مریض کو تلخ دوا کے استعمال کا حکم دیتا ہے اور مہربان باپ اولاد کو بغرض تادیب وتربیت بعض ناگوار خاطر چیزوں کا حکم دیتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کار…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

122:“ فَاِنْ تَوَلَّوْا الخ ” آخر میں مسئلہ توحید کا اعادہ ہے جس کی خاطر جہاد کا حکم دیا گیا۔ سورة توبہ میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات “ بَرَاءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ اِلَی الَّذِیْنَ عَاھَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ ” (رکوع 1) ۔ مشرکین سے بیزاری کا اعلان۔ “ مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ ” تا “ فَعَسیٰ اُولٓئِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ ” (رکوع 3) ۔ تعمیر مسجد اور اس کے علاوہ کوئی نیک عمل مشرکین سے قبول نہیں “ اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَاجِّ وَ عِمَارةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ” تا “ وَاللّٰه لَا یَھْدِيْ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 128–129

ربط آیات : سورۃ توبہ میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے کفر اور شرک کرنے والوں سے بیزاری کا اظہار فرمایا اور پھر جہاد کا حکم دے کر اس سے متعلقہ قوانین بھی نازل فرمائے اللہ نے اس بات کو وضاحت فرما دی کہ فریضہ جہاد سے کوئی ذاتی اغراض مقصود نہیں بلکہ یہ سارا سلسلہ اقامت دین کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ اور اگر یہ لوگ کفر اور شرک کو چھوڑ کر دین کو اختیار کرلیں تو مقصد پورا ہوجاتا ہے چناچہ سورة ہذا کے دوسرے رکوع میں گزر چکا ہے (آیت) ” فان تابوا واقامو الصلوۃ واتوا ا لزکوۃ فاخوانکم فی الدین “ یعنی اگر وہ تائب ہوجائیں ، نماز قائم کرنے لگیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں ، اب ان سے کوئی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللہُ۝ 0 ۤۡ ۖ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ۝ 0 ۭ عَلَيْہِ تَوَكَّلْتُ وَھُوَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ۝ 129 ۧ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 128–129

لَقَدْجَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَاعَنِتُّمْ حَرِیْضٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُ وْفٌ رَّ حِیْمٌ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ ق زصلے لَآ اِلٰـہَ اِلَّاھُوَ ط عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ (التوبہ : 129) (آچکا ہے تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول جس پر تمہارا ہلاکت میں پڑنا بہت شاق ہے وہ تمہارے ایمان کا حریص اور ایمان والوں کے لیے نہایت شفیق مہربان ہے۔ پس اگر وہ رو گردانی کریں۔ تو ان سے کہہ دو کہ مجھ کو اللہ کافی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی مالک ہے عرش عظیم کا۔ ) ربطِ آیات سورة…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اے نبی کریم ﷺ ! آپ کے اخلاص، بےمثال جدوجہد، ہمدردی اور خیر خواہی کے باوجودلوگ انحراف کرتے ہیں تو آپ کو ان کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ آپ کو ہر حال میں اپنے اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے جو عرش عظیم کا مالک ہے۔ اس سورة مبارکہ کے آخر میں نبی پاک کو تسلی دینے کے ساتھ یہ تعلیم دی جارہی ہے کہ مشرکین اور کفار کی طرف سے اعراض ہو یا ان کی طرف سے آپ کے بارے میں عدم توجہ اور انحراف۔ آپ کو کسی صورت میں بھی دل چھوٹا اور حوصلہ نہیں ہارنا کیونکہ آپ عرش عظیم کے مالک کے نمائندہ ہیں اس لیے آپ کو لوگوں کی مخالفت اور ان کی عدم توجہ سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ بلکہ آپ کی دعا، عقیدہ اور عمل یہ ہونا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 129: فَاِنْ تَوَلَّوْا (پھر اگر یہ روگردانی کریں) اگر آپ پر ایمان لانے سے اعراض کریں اور علیحدگی اختیار کریں۔ فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ (تو آپ کہہ دیں کہ میرے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے) پس اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو اور اپنے امور اس کے سپرد کرو اس کی ذات ان کے تمام حملوں کی طرف سے کافی ہے وہ ذات ان کے خلاف تمہاری مدد فرمانے والی ہے۔ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ (اس کے سوا کوئی معبود ہونے کے لائق نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کرلیا) میں نے اپنامعاملہ اس کے سپرد کیا وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ (اور وہ مالک ہے عرش کا) مخلوقات میں سب سے بڑی مخلوق عرش الٰہی ہے۔ اہل سماء کے طواف کیلئے اس کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 129:” فان تولوا “ یعنی اگر وہ ایمان سے اعراض کریں۔ ” فقل حسبی اللہ لا الہ الا ھو ط علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم “ ابی بن کعب ؓ سے مروی ہے کہ قرآن مجید میں آخر میں یہ دو آیتیں نازل ہوئیں۔ ” لقد جاء کم رسول “ سے آخر سورت تک اور فرمایا کہ اللہ کے پاس سے آنے والی آیت میں قریب ترین زمانہ والی یہی دو آیات ہیں۔ الحمد للہ تفسیر بغوی کی دوسری جلد مکمل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

129۔ اس آیت اور اس کے اوپر کی آیت کے متعلق ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن میں سب آیتوں سے پیچھے یہ دونوں آیتیں اتری میں 1 ؎ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت کے زمانہ میں جس وقت قرآن مجید اکٹھا کیا جا رہا تھا تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا اگر اس کے ساتھ اور ایک آیت بھی ہوتی یعنے تین آیتیں ہوتیں تو میں ان کو علیحدہ ایک سورت کردیتا بہرحال یہ سورة توبہ بڑی مبارک سورة ہے 2 ؎ معتبر سند سے ابوداؤد میں حضرت ابودرداء ؓ سے روایت ہے کہ جو شخص ہر روز صبح وشام حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم سات مرتبہ پڑھ لیا کرے تو خدا اس کی ساری مشکلیں آسان کریگا 3 ؎ اگرچہ ابوداؤد ؓ کی یہ روایت موقوف ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 128–129

آیت : (128-129) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں پر انے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے ان کے اندر نبی امی ﷺ کو مبعوث فرمایا جو خود ان میں سے ہیں وہ آپ کا حال جانتے ہیں ‘ وہ آپ سے اخذ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور آپ کی اطاعت کرنے کو ناپسند نہیں کرتے اور خود رسول اللہ ﷺ ان کے بےانتہا خیر خواہ اور ان کے مصالح کے لئے کوشش کرنے والے ہیں۔ (عیز علیہ ماعنھم) ” تمہاری تکلیف ان پر گراں گزرتی ہے۔ “ یعنی آپ ﷺ پر ہر وہ معاملہ بہت شاق گزرتا ہے جو تم پر شاق گزرتا ہے اور تمہیں تکلیف میں مبتلا کرتا ہے۔ (حریض علیکم) ” حریض ہیں تمہاری بھلائی پر “ پس آپ ﷺ تمہارے لئے بھلائی پسند کرتے ہیں اور تمہیں بھلائی تک…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 122–129

دینی علم حاصل کرنا ضروری ہے قول باری ہے وما کان المومنون لینفروا گا فۃ فلولا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھوا فی الدین اور کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے ، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصے میں سے کچھ لوگ نکل کر آئے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس آیت نے قول باری انفروا اثبات او انفروا جمعیا ً پھر الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلویا اکٹھے ہو کر کو منسوخ کردیا ہے نیز قول باری انفروا اخفا فاً و ثقا لا ً نکل پڑو ہلکے اور بوجھل بھی اس آیت کی بنا پر منسوخ ہوگیا ۔ اللہ تعالیٰ نے زیر بحث آیت میں فرمادیا کہ اہل ایمان کے لیے ضروری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

230 اللہ تعالیٰ کی کفایت کے اعلان کا حکم وارشاد : سو پیغمبر کو خطاب کرکے حکم ارشاد فرمایا گیا کہ کہو کافی ہے مجھ کو اللہ اعانت ونصرت کے لئے کسی اور کی نہ مجھے کوئی ضرورت ہے نہ پرواہ۔ لہذا تمہارا راستہ الگ میرا الگ۔ (لکم دینکم ولی دین) سبحان اللہ نبیوں کے امام و پیشوا کو بھی اللہ ہی پر بھروسہ رکھنے کی تعلیم دی جارہی ہے اور آپ بھی فرما رہے ہیں کہ مجھے اللہ ہی کافی ہے اور میرا بھروسہ اسی پر ہے۔ مگر افسوس کہ اس کے باوجودآج آپ کی امت کا کلمہ گو مشرک اللہ پاک کو چھوڑ کر اس کی عاجزمخلوق پر تکیہ کرتا اور اسی کو مدد کے لیے پکارتا ہے اور وہ دھڑلے سے کہتا ہے " یا علی مدد " یاغوث۔ بلکہ غوث الاعظم۔ دستگیر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 128–129

رسول اللہ ﷺ کے اوصاف اور اللہ کے کافی ہونے کی دلیل تشریح : سورة توبہ میں جہاد کے احکامات، مشرکین اور اہل کتاب کے متعلق بیشمار احکامات دیے گئے ہیں مگر آخر میں شان رسول ﷺ بیان کی گئی ہے۔ سب سے پہلے تو منافقین کا شک دور کیا گیا ہے جو وہ اکثر اعتراض کے طور پر کہتے کہ یہ تو ہماری طرح انسان ہیں یہ پیغمبر کیسے ہوسکتے ہیں ؟ اگر یہ ہمارے درمیان سے نہ چنے جاتے تو یہ انسانوں کو تربیت کیسے دے سکتے تھے مگر وہ اخلاق کردار کی صورت میں عام انسانوں سے بہت بلند تھے ان کی چار صفات کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ (i) اللہ نے آپ ﷺ کو بہترین انسان بنایا تاکہ لوگوں کے لیے نمونہ اور مثال بن سکیں۔ (ii) انسانی ہمدردی ان میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 123–129

آیات 123 تا 127 اسرار و معارف کسی عمل کے نیک ہونے کی شرط اور جہاں تک کفار سے معاملات کا تعلق ہے تو ان سے جہاد کرو کہ مومنین کو جس قدر محبت و خلوص سے اہل اللہ کی صحبت اختیار کرنے کی ضرورت ہے اس قدرشدت اور سختی سے جہاد بھی کریں کہ کسی عمل کے درست یا نیک ہونے کی شرط اس کی صورت نہیں بلکہ اس کا اللہ کے حکم کے تابع ہونا ہے ایک طرف محبت و خلوص نیکی ہے تو دوسری جانب شدت و سختی نیکی ہے لہٰذاکفار سے محبت جائز نہیں ۔ شدت اور جہاد میں پوری قوت سے ٹکرانا ضروری ہے اور جہاد اپنے قریب والوں سے شروع ہوگا بلحاظ مقام اور فاصلہ کے بھی اور رشتہ اور نسب کے اعتبار سے بھی ۔ ظاہر ا یہ جنگ کی صحیح صورت نہیں کہ کفار کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8۔ یعنی اس سہولت اور حرص کے باوجود جو شریعت آپ ﷺ لے کر آئے ہیں اس کے ماننے سے انکار کردیں۔ 9۔ حضرت ابو الدردا فرماتے ہیں کہ جو شخص صبح اور شام سات مرتبہ یہ وظیفہ (حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم) پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی تمام فکروں کیلئے کافی ہوجاتا ہے۔ (ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:129) تولوا۔ انہوں نے منہ موڑا۔ انہوں نے پشت پھیری۔ تولی سے ۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ حسبی۔ حسب۔ مضاف ی ضمیر واحد متکلم۔ مضاف الیہ حسب اسم فعل بمعنی کافی۔ مجھ کو کافی ہے۔ مجھ کو بس ہے۔ حسب یحسب کا مصدر بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 128–129

لغات القرآن آیت نمبر 128 تا 129 من انفسکم (تمہارے اندر سے، تم میں سے) عزیز (بھاری ہے) عنتم (جو تمہیں نقصان پہنچے) حریص (زیادہ خواہشمند) رء وف (مہربان) رحیم (بہت رحم کرنے والا) حسبی اللہ (مجھے اللہ کافی ہے) توکلت (میں نے بھروسہ کرلیا) ھو (وہ) رب العرش العظیم (عرش عظیم کا پروردگار) تشریح : آیت نمبر 128 تا 129 سورئہ توبہ کو حق تعالیٰ شانہ نے ان دو آیات پر ختم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ تمہارے پاس اللہ کے وہ رسول ﷺ آ چکے ہیں جو تمہارے انتہائی مخلص و مہربان ہیں جو ہر وقت اہل ایمان کی بھلائی کے خواہشمند رہتے ہیں شفقت و محبت اور کرم کرنا جن کا مزاج ہے۔ ان تمام سچائیوں کے باوجود اگر وہ کفار و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

سورة توبہ کے فضائل (تمام مسائل کا حل) ارشاد ہوتا ہے کہ اگر منافق آپ کی فرمانبرداری سے منہ پھیریں، پس ان سے فرمادیجئے کہ میرا اللہ مجھے کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ غرضیکہ یہ سورة توبہ بڑی مبارک سورة ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص ہر روز صبح وشام حسبی اللہ لآ الٰہ الا ہو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم سات مرتبہ پڑھ لیا کرے تو خدا اس کی ساری مشکلیں آسان کرے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 126–129

[73] اوپر ذکر منافقین کے تمسخر کا تھا جو وہ اپنی مجلسوں میں کرتے تھے۔ یہاں ذکر ان کی اس نفرت و بیزاری سے ہے جو انہیں مجلس نبوی سے تھا۔ جب کوئی نئی سورت نبی ﷺ مسلمانوں کو سناتے تو جو منافقین مجلس نبوی میں موجود ہوتے تھے نہایت بددلی کے ساتھ سنتے اور اس فکر میں رہتے کہ کسی طرح جلد وہاں سے بھاگ چلیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 128–129

مقام محمدی : (ف 1) رسول کی تنکیر تعظیم شان کے لئے ہے یعنی تمہارے پاس اللہ نے ذی وقار پیغمبر بھیجا ہے ، جو تم میں سے ہے ، لوازم بشری کا حامل ہے ، انسان ہے ، انسانوں کی سی ضرورتیں ، اور حاجتیں رکھتا ہے ، بالکل تمہاری طرح اللہ کا ایک بندہ ہے مگر رتبہ ومقام کا یہ عالم ہے کہ تم میں سے بڑے سے بڑا انسان اس کی خاک پاکی برابری نہیں کرسکتا ، وہ انسان ہے ، مگر انسانیت کو اس بےنظیر ہستی پر فخر ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ اسی آیت کو یوں پڑھا کرتے تھے ” من انفسکم “۔ سین کے زبر کے ساتھ یعنی تم سے بہترین ، اعلی وارفع انسان کو بھیجا ہے ، عین تقاضائے رسالت ہے کہ جو پیغمبر ہو کر آئے ، وہ تمام انسانوں سے دل و دماغ ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

129 پھر اگر اس پر بھی یہ لوگ روگردانی کریں تو آپ ان سے کہہ دیجئے مجھ کو اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہی مجھ کو بس ہے اس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں نہ اس کے سوا کوئی معبود ہونے کے لائق ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے یعنی اگر مخلوق نہیں مانتی اور اپنے ہاتھوں خود عذاب مول لیتی ہے تو آپ کہہ دیجئے میرا کیا نقصان ہے میرا حامی اور مددگار تو اللہ تعالیٰ ہے اور وہ ایسا ہے کہ عرش عظیم بھی اس کی مملوک ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 128–129

ف 6۔ یعنی چاہتے ہیں کہ تم کو کوئی ضرور نہ پہنچے۔ 7۔ اس تمام تر سورت کا حاصل چندمضامین ہیں اول اثبات توحید ثانی اثبات رسالت ثالث قرآن۔ رابع اثبات معاد۔ خامس تہدید بذریعہ بعض قصص۔ اور اول کے ضمن میں ابطال شرک اور ثانی کے ضمن میں اس کے متعلق بعض شہادت کا جواب اور آپ کی تسلی اور یہ سب مضامین محاجہ میں کفار کے ساتھ اور پہلی سورت میں بھی ان سے محاجہ تھا گو وہاں باسنان تھا اور یہاں باللسان اور وہاں کفار کے مختلف فرقوں سے تھا اور یہاں صرف مشرکین سے چناچہ آیات میں غور کرنے سے یہ سب امور ظاہر ہوسکتے ہیں اس تقریر سے دونوں سورتوں میں بھی اور اس سورت کے اجزاء میں باہمد گر بھی تناسب وارتباط ظاہر ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

16۔ سریہ قطن یا سریہ ابی سلمہ محرم 3 ہجری : قطن ۔ ایک پہاڑ کا نام ہے جو قید کی طرف واقع ہے اور قید ایک پانی کا چشمہ ہے۔ بنی عمرو بن کلاب کے متعلق ابی سلمہ ڈیڑھ سو آدمی لے کر جس میں مہاجرین اور انصار دونوں شامل تھے۔ طلحہ اور سلمہ پسران خویلد کی تلاش میں نکلے اور قطن پہاڑ تک تلاش کی مگر ان میں سے کوئی دستیاب نہیں ہوا اور نہ کسی سے کچھ لڑائی ہوئی۔ 16۔ سریہ الرجیع صفر 3 ہجری : قطن۔ ایک پہاڑ کا نام ہے جو قید کی طرف واقع ہے اور قید ایک پانی کا چشمہ ہے۔ بنی عمرو بن کلاب کے متعلق ابی سلمہ ڈیڑھ سو آدمی لے کر جس میں مہاجرین اور انصار دونوں شامل ت تھے۔ طلحہ اور سلمہ پسران خویلد کی تلاش میں نکلے اور قطن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The last two verses, according to Sayyidna ` Ubaiyy ibn Ka'b ؓ ، are the last verses of the Qur'an. After these no other verse was revealed and the Holy Prophet ﷺ left the mortal world. This is also the statement of Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ . (Qurtubi) Great merits of these two verses appear in Hadith. Sayyidna Abu-d-Darda' ؓ says, ` One who recites these verses three times, morning and evening, shall find that Allah Ta` ala makes things easy for him (Qurtubi) ' Allah knows best.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 87–129

89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.

Read the full tafseer →