Explained with ayahs 1–2
عقل زدہ کافر اور رسول اللہ ﷺ
کافروں کو اس پر بڑا تعجب ہوتا تھا کہ ایک انسان اللہ کا رسول بن جائے۔ کہتے تھے کہ کیا بشر ہمارا ہادی ہوگا ؟ حضرت ہود اور حضرت صالح نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ کیا تمہیں یہ کوئی انوکھی بات لگتی ہے کہ تم میں سے ہی ایک شخص پر تمہارے رب کی وحی نازل ہوئی۔ کفار قریش نے بھی کہا تھا کہ کیا اس نے اتنے سارے معبودوں کے بجائے ایک ہی اللہ مقرر کردیا ؟ یہ تو بڑے ہی تعجب کی بات ہے۔ حضور ﷺ کی رسالت سے بھی انہوں نے صاف انکار کردیا اور انکار کی وجہ یہی پیش کی کہ محمد ﷺ جیسے ایک انسان پر اللہ کی وحی کا آنا ہی نہیں مان سکتے۔ اس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ سچے پائے سے مراد سعادت اور نیکی کا…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 1
اس تمہیدی فقرے میں ایک لطیف تنبیہ مضمر ہے، نادان لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ پیغمبر قرآن کے نام سے جو کلام ان کو سنا رہا ہے وہ محض زبان کی جادوگری ہے، شاعرانہ پرواز تخیل ہے اور کچھ کاہنوں کی طرح عالم بالا کی گفتگو ہے۔ اس پر انہیں متنبہ کیا جا رہا ہے کہ جو کچھ تم گمان کر رہے ہو یہ وہ چیز نہیں ہے۔ یہ تو کتاب حکیم کی آیات ہیں۔ ان کی طرف توجہ نہ کرو گے تو حکمت سے محروم ہوجاؤ گے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(الر کا مطلب تو اللہ کو معلوم ہے) یہ (جو آگے آتی ہیں) پر حکمت کتاب (یعنی قرآن) کی آیتیں ہیں (جو بوجہ حق ہونے کے قابل جاننے کے اور ماننے کے ہیں اور چونکہ جن پر اس کا نزول ہوا ہے ان کی نبوت کا کفار انکار کرتے تھے اس لئے جواب فرماتے ہیں کہ (کیا ان مکہ کے) لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک شخص کے پاس (جو کہ مثل ان کے بشر ہے) وحی بھیج دی (جس کا خلاصہ یہ ہے) کہ (عام طور پر) سب آدمیوں کو (احکام خداوندی کے خلاف کرنے پر) ڈرایئے اور جو ایمان لے آئے ان کو یہ خوشخبری سنایئے کہ ان کے رب کے پاس (پہنچ کر) ان کو پورا مرتبہ ملے گا (یعنی اگر ایسا مضمون کسی بشر پر وحی کے ذریعہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
تفسیر آیت 1۔ 2: الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْحَكِيمِ۔ أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ۔
الر۔ اس سورة کا قرآنی نام الر، ہے اور تلک، کا اشارہ اسی کی طرف ہے۔ یہ حروف مقطعات ہیں جن پر ایک جامع بحث ہم بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں کتاب کی صفت، حکیم، اس بات کی طرف اژارہ کر رہی ہے کہ یہ کتاب اپنے ہر دعوے پر دلیل و حجت سے اس طرح آراستہ ہے کہ اپنی صداقت کی کسوٹی خود اپنے ہی اندر رکھتی ہے، کسی خارجی شہادت کی محتاج نہیں…
Read the full tafseer →1۔ 1 اَلْحَکِیْمِ ، کتاب یعنی قرآن مجید کی صفت ہے۔ اس کے ایک تو وہی معنی ہیں جو ترجمے میں اختیار کئے گئے ہیں۔ اس کے اور بھی کئی معنی کئے گئے ہیں مثلاً اَلْمُحْکَمْ ، یعنی حلال و حرام اور حدود و احکام میں محکم (مضبوط) ہے۔ حکیم بمعنی حاکم۔ یعنی اختلافات میں لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے والی کتاب، یعنی اللہ تعالیٰ نے اس میں عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے ہیں۔
Read the full tafseer →1: الٓرٰ : جیسا کے سورة بقرہ کے شروع میں عرض کیا گیا، یہ الگ الگ حروف جو سورتوں کے شروع میں آئے ہیں“ حروف مقطعات ”کہلاتے ہیں، ان کا صحیح مطلب اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔
Read the full tafseer →درس نمبر 95 ایک نظر میں
جس طرح ہم نے اس سورة کے دیباچے میں کہا ہے یہ پوری سورة ایک ٹکڑا ہے۔ اس کو مختلف اسباق میں تقسیم کرنا بہت ہی مشکل ہے۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح پارہ ہفتم میں سورة انعام اور جس کے بارے میں یہی رائے ہم نے دی کہ ہر سورة کا اپنا مزاج اور اپنی شخصیت اور اپنی خصوصیات ہوتی ہیں۔ اسی طرح اس سورت کا بھی معاملہ ہے۔
اس سبق میں ان متعدد امور کا ذکر کیا گیا ہے جو حکیمانہ امور ہیں اور کتاب کی صفت حکمت کی تشریح کے طور پر ان امور کا ذکر کیا ہے۔ مثلا رسول اللہ کی طرف نزول وحی اور یہ کہ وحی ایک انسان پر کیوں اتاری ہے ؟ پھر یہ بتایا گیا ہے کہ تخلیق کائنات اور زمین و آسمان کے فزیکلل نظام میں کس…
Read the full tafseer →1 یہ آیتیں ایسی مضبوط و محکم کتاب کی ہیں جس کی ہر بات پکی ہے۔ الفاظ اس لیے کہ ہمیشہ تبدیل و تحریف سے محفوظ رہیں گے۔ علوم اس لیے کہ تمام تر عقل و حکمت کے موافق ہیں۔ احکام اس وجہ سے کہ آئندہ کوئی دوسری ناسخ کتاب آنے والی نہیں۔ اخبارو قصص اس طرح کہ ٹھیک ٹھیک واقعہ کے مطابق ہیں۔ اور ایسا کیوں نہ ہو، جب کہ خدائے علیم و حکیم نے اس کو اپنے علم کامل کے زور سے اتارا ہے۔
Read the full tafseer →یہ حروف مقطعات ہیں۔ یہاں پر ایک قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ اس سے پہلے سورة البقرۃ ‘ سورة آل عمران اور سورة الاعراف تین سورتوں کا آغاز حروف مقطعات اآآّ ‘ ا آمآآ سے ہوتا ہے اور ان تینوں مقامات پر حروف مقطعات پر آیت مکمل ہوجاتی ہے ‘ مگر یہاں ان حروف پر آیت مکمل نہیں ہورہی ہے ‘ بلکہ یہ پہلی آیت کا حصہ ہیں۔ بہر حال یہ توقیفی امور حضور ﷺ کے بتانے پر موقوف ہیں۔ گرائمر ‘ منطق ‘ نحو ‘ بیان وغیرہ کے کسی اصول یا قاعدے کو یہاں دخل نہیں ہے۔
تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ ”یہ بڑی حکمت بھری کتاب کی آیات ہیں۔“
Read the full tafseer →1 یہ سورة مکی ہے اور اس کے مخاطب وہ قریش مکہ ہیں جو اللہ کے متعلق بھی غلط قسم کا تصور رکھتے تھے اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور آپ کی دعوت قبول کرنے کی بجائے اسلام کی تعلیم اور قرآنی آیات پر طرح طرح کے اعتراضات وارد کر رہے تھے اور عملاً مسلمانوں پر اتنی سختیاں اور مظالم ڈھا رہے تھے کہ ان کا عرصہ حیات تنگ کر رکھا تھا۔
Read the full tafseer →1۔ (اور اس لیے ہر طرح واجب الاحترام ہیں) (آیت) ” ا آر “۔ حروف مقطعات پر حاشیہ آغاز پارہ (آیت) ” ا آآ “۔ میں گزر چکا۔ (آیت) ” ا آر “۔ کو یہاں ابن عباس صحابی ؓ اور ضحاک تابعی نے انا اللہ اری کا مخفف قرار دیا ہے۔ (ابن جریر) (آیت) ” الکتب الحکیم “۔ یعنی ایسی کتاب جو پختہ اور سچی اپنے الفاظ ومعانی، علوم و احکام، اخبار وقصص، ہر لحاظ اور ہر اعتبار سے ہے اور ہر طرح کلام الہی مانے جانے کے قابل ہے۔ حکیم محکم کے معنی میں ہے جیسے الیم مؤلم کے معنی میں آتا ہے۔ ومعنی الحکیم فی ھذا الموضع المحکم صرف مفعل الی فعیل کما قیل عذاب الیم بمعنی مؤلم (ابن جریر) تلک یہاں ھذا کے مرادف ہے اور ایات سے مراد آیات قرآنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ محکم کتاب (یعنی) قرآن کی آیتیں ہیں (آیت الکتاب) میں اضافت بمعنی من ہے کیا ان لوگوں کو یعنی اہل مکہ کو اس بات سے تعجب ہوا، استفہام انکاری ہے اور مجرور اس کے قول عَجَبًا نصب کے ساتھ کان کی خبر ہے اور رفع کے ساتھ کان کا اسم ہے اور خبر أن اَوْحَیْنَا الخ ہے اور اَوَحَیْنَا اسم ہے پہلی (یعنی نصب کی) صورت میں أن اَوْحینا، اِیحَاؤنا مصدر کے معنی میں ہے، کہ ہم نے ان میں کے ایک شخص محمد ﷺ کے پاس وحی بھیج دی کہ لوگوں یعنی کافروں کو عذاب سے…
Read the full tafseer →الۗرٰ سورة البقرہ کے شروع میں (حروف مقطعات کی) بحث گزر چکی ہے (یہ بھی دوسرے حروف مقطعات کی طرح ہے) ۔
تلک یہ۔ سورت یا قرآن کی آیات کی طرف اس لفظ سے اشارہ ہے۔ بعض نے کہا : ان آیات کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر اس سورت اس پہلے کردیا گیا۔
اٰیٰت الکتب الحکیم۔ پر حکمت قرآن کی آیات ہیں۔ الحکیم ‘ الکتاب کی صفت ہے : پر حکمت ‘ یا حکیم کا کلام ‘ یا محکم غیر منسوخ۔ مؤخر الذکر مطلب اس وقت ہوگا جب آیات سے مراد صرف اس سورت کی آیات ہیں (اس سورت میں کوئی آیت منسوخ نہیں لیکن پورا قرآن مراد ہو تو حکیم بمعنی غیر منسوخ ...... نہیں کہا جاسکتا (قرآن میں تو بعض آیات کے احکام منسوخ بھی ہیں) یا حکیم بمعنی محکم سے یہ مراد…
Read the full tafseer →(1) یعنی میں اللہ تعالیٰ ہوں سب کو دیکھ رہا ہوں یا یہ کہ یہ قسم ہے یہ سورت قرآن کریم کی محکم آیات ہیں جو حلال و حرام کو بیان کررہی ہیں۔
Read the full tafseer →الۗرٰ : یہ حروف مقطعات ہیں، تشریح کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت۔
تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ : ”تِلْكَ“ اسم اشارہ ہے، مشار الیہ ”اَلْآیَاتُ“ مقدر ہے۔ مراد قرآن مجید کی تمام آیات ہیں جن میں ہماری یہ سورت بھی شامل ہے، یعنی یہ عظیم الشان آیات کتاب حکیم کی آیات ہیں۔ ”الْحَكِيْمِ“ (کمال حکمت والی) کا ایک مطلب یہ ہے کہ یہ دانائی اور حکمت سے بھری ہوئی ہے، اس کی کوئی بات نہ خطا ہے، نہ عقل کے خلاف اور نہ کمتر درجہ کی، بلکہ ہر بات ہی کمال عقل و دانش پر مبنی ہے اور ایک معنی یہ ہے کہ یہ کتاب انتہائی محکم اور مضبوط ہے، اس کی آیات میں کوئی باہمی اختلاف نہیں، نہ ہی اس کے حلال و حرام اور حدود و…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 1۔
قولہ تعالیٰ : الر نحاس نے کہا ہے : اسے ابو جعفر احمد بن شعیب بن علی ابن حسین بن حریث پر پڑھا گیا تو انہوں نے کہا : ہمیں علی بن حسین نے اپنے باپ سے اور انہوں نے یزید سے یہ خبر دی ہے کہ عکرمہ نے اسے حضرت ابن عباس ؓ سے بیان کیا ہے : الر، حم، اور نون، یہ الرحمن کے حروف ہیں جو الگ الگ بیان کیے گئے ہیں، تو میں نے اس کا ذکر اعمش سے کیا تو انہوں نے : تیرے پاس اس کی مثل (اور) بھی ہیں اور تو مجھے اس کے بارے خبر نہ دے ؟ اور حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے : الر کا معنی ہے انا اللہ اری (2) (المحرر الوجیز، سورة یونس، جلد 3، صفحہ 102)
(میں اللہ ہوں دیکھ رہا ہوں) نحاس نے کہا ہے :…
Read the full tafseer →1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الٓر “ (جسے حروف مقطعات) سے مراد ہیں سورتوں کو کھولنے والے اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے یہ بھی ہیں۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں وابن النجار (رح) نے اپنی تاریخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا (آیت) ” الٓر “ سے مراد ہے کہ میں اللہ ہوں اور میں دیکھتا ہوں (ساری مخلوق کو ) ۔
3:۔ ابن منذر (رح) (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الٓر “ سے مراد ہے کہ میں اللہ دیکھ رہا ہوں۔
4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الٓر “ سے مراد ہے کہ میں اللہ دیکھ رہا ہوں۔
5:۔…
Read the full tafseer →الۗرٰ ۣ تِلْكَ [یہ ] اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ [حکمت والی کتاب کی آیات ہیں ]
Read the full tafseer →توحید و رسالت اور معاد کا اثبات
یہ سورة یونس کی ابتدائی آیات ہیں۔ اس کی ابتدا ا ل ر سے ہے۔ جو حروف مقطعات میں سے ہے یہ بحث سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ اس کے بعد فرمایا (تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ ) (یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں) مفسرین کرام نے حکیم کے دو معنی لکھے ہیں اول ذو حکمۃ یعنی حکمت والی کتاب دوم بمعنی محکم ‘ پھر محکم کے دو معنی ہیں اول بمعنی مضبوط کہ اس کے الفاظ اور کلمات اور طریقہ بیان اور اسلوب کلام نہایت ہی درجہ پختہ ہے اور دوسرا معنی یہ ہے کہ غیر منسوخ ہے۔ جن مفسرین نے یہ معنی لئے ہیں ان کی بات کی بنیاد یہ ہے کہ سورة یونس میں کوئی آیت منسوخ نہیں لیکن چونکہ صفت مضاف الیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اظہار عظمت قرآن و اثبات رسالت محمدیہ ﷺ
قال اللہ تعالیٰ الر۔ تلک ایت الکتب الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔ لسحرم مبین
(ربط): گزشتہ سورت کی آخری آیتوں میں دو باتوں کا ذکر تھا۔ اول : نزول وحی کے وقت مضامین قرآن پر ہنسنا اور ازراہ حقارت ایک کا دوسرے کی طرف آنکھوں سے اشارہ کرنا جس سے ان کا مقصود وحی کے ساتھ استہزاء کرنا ہوتا تھا۔ واذا ما انزلت سورة نظر بعضھم الی بعض میں اسی امر کا ذکر تھا۔ دوسری بات یہ تھی کہ ان لوگوں کو آپ کی نبوت و رسالت پر تعجب تھا کہ یہ شخص ہم جیسا ایک بشر اور انسان ہے یہ کیسے نبی ہوسکتا ہے لقد جاء کم رسول من انفسکم میں اس کا جواب دیا گیا۔ یہ شخص اگرچہ تمہاری ہی جنس سے ہے مگر فضائل و کمالات…
Read the full tafseer →2:“ الٓم ” یہ حروف مقطعات میں سے ہے اس کی صحیح مراد صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔
3:“ تِلْکَ الخ ” یہ تمہید مع ترغیب ہے اس سورت میں مسئلہ توحید پر زیادہ تر دلائل عقلیہ ذکر کیے گئے ہیں۔ اس لیے ابتداء سورت میں بطو رتمہید “ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ ” سے اس طرف اشارہ فرمایا۔ قرآن مجید کی جن سورتوں کی ابتداء میں کتاب کی صفت حکیم آئی ہے ان سورتوں میں زیادہ زور دلائل عقلیہ کے بیان پر دیا گیا ہے اور جن کی ابتداء کتاب کی صفت مبین وارد ہوئی ہے۔ ان سورتوں میں زیادہ تر دلائل نقلیہ مذکور ہیں۔ سورة لقمان کے شروع میں فرمایا “ الٓم تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ ” سورة لقمان میں اگرچہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
نام اور کوائف :
اس سورة کا نام سورة یونس ہے۔ اس کے آخری سے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانی اور ایمان لانے کا مختصر تذکرہ کیا ہے ، اسی نسبت سے اس کا نام سورة یونس ہے۔ اس سورة کا ایک نام الربھی ہے جو کہ سورة کے پہلے لفظ سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی ، لہٰذا مکی سورة کہلاتی ہے۔ اس کی ایک سو نو آیات اور گیارہ رکوع ہیں۔ یہ سورة 1082 الفاظ اور 6567 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة :
اس سورة کے مضامین پہلی سورة توبہ کے مضامین سے خاصی مناسب رکھتے ہیں۔ گذشتہ سورة کے آخر میں توحیدورسالت کا ذکر تھا تو اس سورة میں یہی مضمون ابتداء میں…
Read the full tafseer →الۗرٰ 0 ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ 1
الآية
والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع .
الایۃ ۔
اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : للناس کان سے متعلق ان اوحینا اسم عجبًا خبر ان انذر تفسیر ہے اوحینا کی وعد اللّٰہ اور اسی طرح حقًا منصوب ہیں فعل محذوف کے مصدر ہو کر لآیات اسم ان فی اختلاف اللیل خبر اور والنہار اللیل پر معطوف وما الخ بھی یہ سب مجرور ہیں فی کے جو خبر میں شامل ہیں۔ الذین اسم ان اسم والذین ھم اس پر معطوف اولئک خبر دعواھم مبتدا سبحانک اللہم خبر استعجالہم منصوب ہے بنزع خافض ای کا ستعجالہم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
الٓرٰ قف تِلٗکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْم۔ اَکَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَآ اِلٰی رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِالنَّاسَ وَبَشِّرِالِّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَرَبِّھِمْ ط قَالَ الْکٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ۔ (یونس : 2۔ 1)
(” ا لف۔ لام۔ ر ا “ یہ حکمت والی کتاب کی آیات ہیں۔ کیا لوگوں کو اس بات پر حیرانی ہے کہ ہم نے وحی بھیجی انھیں میں سے ایک آدمی کی طرف کہ ڈرائو لوگوں کو اور اہل ایمان کو بشارت پہنچا دو کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس مرتبہ بلند ہے۔ کافروں نے کہا بلا شبہ یہ ایک کھلا ہوا جادوگر ہے۔ )
” الر “ یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ مختلف سورتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
فہم القرآن
اآرٰ ۔ حروف مقطعات میں سے ہیں۔ حروف مقطعات کا معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور نہ اس کا عملی زندگی سے تعلق ہے۔ جس بنا پر نبی اکرم ﷺ نے ان کا معنی نہیں بتلایا اور نہ ہی صحابہ ؓ نے آپ سے استفسار کیا۔ جن بزرگوں نے ان کے معنیٰ کیے ہیں۔ یہ ان کی ذہنی کاوش ہے۔ جس کی کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہے۔ اس لیے آخر میں وہ بھی یہ لکھنے پر مجبور ہیں۔ کہ اللہ ہی حروف مقطعات کے معنی جانتا ہے۔ لیکن افسوس ہمارے دور کے ایک مفسر نے ایسا دعویٰ کیا ہے جس سے علم کے نام پر جہالت اور حروف مقطعات کے بہانے شرک پھیلانے کا دروازہ کھولا ہے چناچہ لکھتے ہیں : کہ یہ حروف خود بول کر اپنا مفہوم اولیاء کرام سے بیان…
Read the full tafseer →آپ کی نبوت قابل تعجب کیوں ہے ؟
1، 2: الٓرٰ اور ان کی مثل ایمالہ ہے حمزہ، علی اور ابوعمرو رحہم اللہ کے نزدیک۔ یہ حروف تحدّی کیلئے شروع سورة میں لائے گئے ہیں۔ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ (جو اس کتاب کی آیتیں ہیں) تلک سے اشارہ ان آیات کی طرف ہے جو سورت میں پائی جاتی ہیں الکتاب سے یہ سورة مراد ہے۔ الْحَکِیْمِ (جو پر حکمت ہے) نمبر 1۔ حکمتوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے کتاب کی صفت حکیم لائی گئی ہے۔ نمبر 2۔ کذب اور من گھڑت ہونے سے محفوظ ہے۔ اَکَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا (کیا ان لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا) اس میں ہمزہ استفہام انکاری تعجبی ہے۔ لوگوں کے اس کے متعلق تعجب کرنے پر انکار و تعجب کا اظہار کیا گیا…
Read the full tafseer →تفسیر :(1)” الر “ اور ” المر “ اہل حجاز، اہل شام اور حفص نے راء کے فتحہ کے ساتھ اور باقی حضرات نے راء کے امالہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن عباس ؓ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ ” آلر “ میں اللہ دیکھ رہا ہے اور ” المر “ بمعنی میں اللہ جانتا اور دیکھتا ہوں اور سعید جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ ” آلر “ اور ” حم “ اور ” ن “ یہ حرف رحمن کے اسم ہیں اور مکمل کلام حروف تہجی کی بحث میں گزر چکی ہے۔ ” تلک ایت الکتب الحکیم “ یعنی یہ اور کتاب حکیم سے مراد قرآن ہے اور بعض نے کہا آیات سے وہ آیات مراد ہیں جو اس سے پہلے نازل کردی تھیں۔ اسی لیے تو تلک فرمایا ہے کیونکہ تلک غائب مؤنث کے لیے اشارہ کرنے کے لیے آتا ہے اور حکیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ 2۔ تفسیر ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو نبی کیا تو اہل عرب پہلے تو یہ تعجب کرتے تھے کہ خدا کی طرف سے انسان نبی کیوں کر ہوسکتا ہے کوئی فرشتہ نبی ہو کر کیوں نہیں آیا جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اور اسی قسم کی آیتیں نازل فرمائیں 1 ؎ اور ان مشرکوں کی تسکین اہل کتاب کے بیان سے بھی ہوگئی کہ پہلے انبیاء بھی سب انسان ہی تھے تو پھر یہ کہنے لگے کہ { لو لآ انزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم (43، 2)} جس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ مکہ میں جیسا ولید بن مغیرہ اور طائف میں مسعود بن عمرو ثقفی ہیں اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
تفسیر سورة یونس
آیت : (1-2)
(الر تلک ایت الکتب الحکیم) ” یہ آیتیں ہیں حکمت والی کتاب کی “ اور وہ کتاب یہ قرآن ہے جو تمام تر حکمت و احکام پر مشتمل ہے جس کی آیت کریمہ حقائق ایمانی اور شریعت کے او امر و نواہی پر دلالت کرتی ہیں جن کو برضا ورغبت قبول کرنا اور جن پر عمل کرنا تم امامت پر فرض ہے۔ بایں ہمہ اکثر لوگوں نے اس سے روگردانی کی۔ وہ اس کا علم نہیں رکھتے اس لئے انہیں سخت تعجب ہے۔ (ان اوحینا الی رجل منھم ان انذر الناس) ” کہ ہمنے ان میں سے ایکمرد پر وھی بھیجی کہ لوگوں کو ڈر سنائے “ یعنی لوگوں کو الہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائے اور انہیں اس کی تراضی کا خوف دلائے اور اللہ تعالیی کی آیت کے ذریعے سے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 ۔ بشریت پیغمبر عقل ونقل کا تقاضا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ لوگوں کو بشر کے ذریعے نور وحی سے نوازنا کرم بالائے کرم اور عقل ونقل کا تقاضا ہے۔ استفہام یہاں پر انکاری ہے کہ یہ بات تعجب کی نہیں، بلکہ عین حکمت اور عقل و فطرت کا تقاضا ہے۔ کہ استفہام یہاں پر انکاری ہے کہ یہ بات تعجب کی نہیں بلکہ عین حکمت اور عقل و فطرت کا تقاضا ہے کہ حضرت خالق۔ جل مجدہ۔ کی طرف سے اس کی مخلوق کی راہنمائی کا اس طرح انتظام فرمایا جائے۔ تاکہ وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرورہوسکیں۔ سو وحی و رسالت کا یہ سلسلہ تو ایک عظیم الشان رحمت و عنایت ہے جس سے اس واہب مطلق جل وعلا۔ کی طرف سے اس کے بندوں کو نوازا جارہا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
رسول اللہ ﷺ کی شان اور قرآن کی حکمت
تشریح : الٓر، یہ حروف مقطعات کہلاتے ہیں، ان کی وضاحت نبی اکرم ﷺ نے نہیں کی۔ اس لیے اس کی بحث میں پڑنا ضروری نہیں۔ البتہ ان آیات کا سمجھنا ضروری ہے جو دانائی سے بھری ہوئی بہترین مکمل و محکم کتاب سے لی گئی ہیں جس کا خالق الہ العلمین ہے۔ ” الِٰہُ العٰلمین “ جس نے تخلیق کائنات کی، اور اس کے بارے میں جو انسان حیران و پریشان رہتا تھا، بتایا کہ یہ کائنات کیسے بنی ؟ انسان کی تخلیق کیسے ہوئی اور انجام کیا ہوگا۔ یعنی ازل، حاضر اور غائب، یہ بہت بڑے راز ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس کتاب قرآن مجید میں بڑی ہی آسان اور مکمل زبان میں بیان کیا ہے۔ اس کتاب کا خالق کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10
اسرار و معارف
الٓرٰ ۔ حروف مقطعات ہیں جن کے متعلق پہلے لکھا جاچکا ہے کہ ان کا علم اللہ کو یا اس کے رسول ﷺ کو ہے یا پھر ان اللہ کے بندوں کو جو راسخین فی المعلم کے درجہ کو پالیتے ہیں کسی قدرعطا فرمایا جاتا ہے ۔ عامتہ المسلمین کے لئے تلاوت ہی کافی ہے اور معانی میں اندازے اور قیاس سے رائے قائم کرنا مناسب نہیں ۔
فرمایا ، یہ آیات ایسی عالیشان کتاب کی ہیں جو حکمت سے بھر اخزانہ ہے اور اس قدرعام فہم ہیں کسی ان پڑھ گڈریا اور چرواہاکو بھی بتانے پر انکے مفہوم کو سمجھ سکتا ہے بشرطیکہ اس کی عقل سلامت ہو کہ بات عقلمندی کی ہومگرسننے والا عقل سے محروم ہو تو سمجھ نہیں پاتا ۔ یہی دیکھ لیں کہ لوگوں…
Read the full tafseer →ف 11۔ یہ حروف مقطعات ہیں۔ تشریح کے لئے دیکھئے سورة بقرہ آیت ا۔ اقرطبی) ۔
12۔ محکم کتاب (قرآن پاک) یعنی جس کے حلال و حرام اور حدود و احکام کبھی منسوخ نہ ہوں گے یا جس میں حکمت و دانش بھری ہے یا جو غلطیوں اور اختلاف سے پاک ہے۔ لفظ ” حلیم “ کے یہ سب ہی معنی کئے جاسکتے ہیں۔ (قرطبی) ۔
Read the full tafseer →(10:1) الٓرٓا۔ الف۔ لام۔ را۔ حروف مقطعات ہیں۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو (2:1)
تلک ایت الکتب الحکیم۔ تلک اسم اشارہ بعید۔ مفرد۔ مؤنث ایتٍ مضاف الکتب الحکیم موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ۔ مضاف مجاف الیہ مل کر مشار الیہ۔ یہ براز حکمت کتاب کی آیاتیں ہیں۔ آیات سے مراد وہ آیات بھی ہوسکتی ہیں جو اس سورة میں ہیں اس سورة میں الکتاب سے مراد السورۃ یعنی سورة ہذا ہے۔ یا آیات سے مراد آیات قرآنی ہیں اور الکتاب سے مراد القرآن ہے۔ یعنی یہ آیات قرآن کی آیات ہیں جو حکمت سے پر ہیں۔ اسم اشارہ بعید آیات کی عظمت شان کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 2
الحکیم (وہ پکی چیز جس کے اندر ایسی پختگی ہو جس میں کبھی بدل جانے کا خوف نہ ہو یعنی علم، عقل اور سمجھ ۔ عجب (تعجب، حیرت) ۔ اوحینا (ہم نے وحی کی، وحی کے معنی اشارے کے بھی آتے ہیں) ۔ انذر (ڈرادے۔ کسی برے انجام سے ڈرانا) بشر (خوش خبری دے دیجیے) قدم صدق۔ صدق یعنی ٹھوس سچائی، قدم صدق، مرتبہ، کامیابی اور ترقی سحر (جادو کرنے والا، جادوگر) مبین (کھلی ہوئی واضح بات)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 2
سورئہ یونس قرآن کریم کی دسویں سورت ہے۔ مکہ مکرمہ میں اس زمانہ میں نازل ہوئی جب نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت و تبلیغ کی مخالفتا ور دشمنی میں کفار و مشرکین شرافت اور انسانیت کی حدود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
خواص سورة یونس : جو شخص اکیس بار سورة یونس کو پڑھے، دشمن پر فتح پاوے، اس سورة کو زعفران اور مشک سے ہرن کی جھلی پر بطور تعویذ لکھ کر بازو پر باندھنا آسیب اور جن اور پری اور ہر رنج وملال سے محفوظ رکھتا ہے۔
حضور ﷺ کی رسالت پر منافقوں کا اعتراض
شان نزول : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے سید عالم ﷺ کو رسالت سے مشرف فرمایا اور آپ نے اس کا اظہار کیا تو عرب منکر ہوگئے۔ اور ان میں سے بعضوں نے کہ کہا کہ اللہ تعالیٰ اس سے برتر ہے کہ کسی بشر کو رسول بنائے اس پر یہ آیت نازل فرمائی، اور فرمایا کہ پہلے انبیاء بھی سب انسان ہی تھے اور نبوت ایک رحمت الٰہی ہے۔ اللہ نے اپنی مصلحت میں جس کسی کو اس…
Read the full tafseer →سورة یونس (علیہ السلام) مکہ معظمہ میں نازل ہوئی ہے اس میں ایک سو نو آیتیں ہیں اور گیارہ رکوع ہیں۔
1 الٓرٰ قف یہ ایسی کتاب کی آیتیں ہیں جو حکمت و دانش کی باتوں سے لبریز اور پر ہے۔
یعنی قرآن مجید کی آیتیں ہیں۔ حکیم سے مراد ہے حکمت والی یا محکم یا و مضبوط یا حاکم یعنی حکم دینے والی کتاب یا محکوم یعنی جس میں احکام دیئے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 1۔ یعنی زمین و آسمان میں احکام جاری کرنے لگا۔
Read the full tafseer →الر حروف مقطعات سے ہے :
1: الف ۔ لا ۔۔۔۔ م را۔۔۔۔ حروف مقطعات کے متعلق پوری تفصیل اس سے پہلے عروۃ الوثقیٰ جلد اول تفسیر سورة البقرہ 2 کی آیت اول میں کردی گئی ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں۔ مخاطب کو متنبہ اور آگاہ کرنے کے لئے ہر زبان میں ایک آواز نکالی جاتی ہے اور یہ بھی کہ اگر مخاطب کچھ فاضلہ پر ہو یا بات زیادہ ہی اہم ہو تو آواز میں شدت اور زور کے ساتھ ساتھ کچھ لمبی آواز نکالنا بھی فطری بات ہے۔ بس اس طرح کے یہ حروف ہیں جن کو کہنے والا بھی سمجھتا ہے اور سننے والا بھی۔ بلاشبہ علماء مفسرین نے ان کے مختلف معانی بیان کئے ہیں اور بہت طویل بحثیں بھی کی ہیں لیکن چونکہ یہ سب کی سب ذہنی اختراعات ہیں ، کتاب…
Read the full tafseer →Commentary
Surah Yunus is among the Makki Surahs. Three of its verses revealed after the Hijrah to Madinah have been called Madani.
In this Surah too, the proof of the basic objectives of Qur'an, and Islam, such as the Oneness of Allah, the mission of His Messenger and the inevitability of the Hereafter, has been provided. Since it has been presented in the background of the universe of our experience and observation, it becomes easy to comprehend. Along with it, some lesson-oriented historical accounts and stories have been introduced to warn people who do not pay heed to the open signs of…
Read the full tafseer →1. This introductory statement carries a subtle note of warning. For the unbelievers, out of their sheer stupidity looked upon the Qur'an which was presented to them by the Prophet (peace be on him) as merely a literary masterpiece, an embodiment of spellbinding poetic imagination, a fascinating discourse on a very sublime, illusive plane in the manner of soothsayers. The unbelievers are told that such notions are pure misconceptions. On the contrary, the Qur'anic verses are part of a Book which abounds in wisdom. Hence, if they disregard the Qur'an, they are merely depriving themselves of a…
Read the full tafseer →