Yunus 10:2

Yunus · from ayah 2

10:2

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰی رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ؔؕ— قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ ۟اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنَّ لَهُمۡ قَدَمَ صِدۡقٍ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ؕ قَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيۡنٌ‏

کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے ان ہی میں سے ایک مرد کو حکم بھیجا کہ لوگوں کو ڈر سنا دو۔ اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے۔ (ایسے شخص کی نسبت) کافر کہتے ہیں کہ یہ صریح جادوگر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Have the people been amazed that We revealed [revelation] to a man from among them, [saying], "Warn mankind and give good tidings to those who believe that they will have a [firm] precedence of honor with their Lord"? [But] the disbelievers say, "Indeed, this is an obvious magician."

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:2

کیا لوگوں کے لیے یہ ایک عجیب بات ہو گئی کہ ہم نے خود اُنہی میں سے ایک آدمی کو اشارہ کیا کہ (غفلت میں پڑے ہوئے) لوگوں کو چونکا دے اور جو مان لیں ان کو خوشخبری دیدے کہ ان کے لیے اُن کے رب کے پاس سچی عزت و سرفرازی ہے؟ (کیا یہی وہ بات ہے جس پر) منکرین نے کہا کہ یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے ان ہی میں سے ایک مرد کو حکم بھیجا کہ لوگوں کو ڈر سنا دو۔ اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے۔ (ایسے شخص کی نسبت) کافر کہتے ہیں کہ یہ صریح جادوگر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا ان لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک شخص کے پاس وحی بھیج دی کہ سب آدمیوں کو ڈرائیے اور جو ایمان لے آئے ان کو یہ خوشخبری سنائیے کہ ان کے رب کے پاس ان کو پورا اجر ومرتبہ ملے گا۔ کافروں نے کہا کہ یہ شخص تو بلاشبہ صریح جادوگر ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا لوگوں کے لیے یہ تعجب کی بات ہے کہ ہم نے خود انہی میں کے ایک شخص پر وحی نازل کی ہے کہ :“ لوگوں کو (اللہ کی خلاف ورزی سے) ڈراؤ، اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، ان کو خوشخبری دو کہ ان کے رب کے نزدیک ان کا صحیح معنی میں بڑا پایہ ہے ”(مگر جب اس نے لوگوں کو یہ پیغام دیا تو) کافروں نے کہا کہ یہ تو کھلا جادو گر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا لوگوں کو اس کا اچنبا ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک مرد کو وحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈر سناؤ اور ایمان والوں کو خوشخبری دو کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس سچ کا مقام ہے، کافر بولے بیشک یہ تو کھلا جادوگر ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا یہ بات لوگوں کے لئے تعجب خیز ہے کہ ہم نے انہی میں سے ایک مردِ (کامل) کی طرف وحی بھیجی کہ آپ (بھولے بھٹکے ہوئے) لوگوں کو (عذابِ الٰہی کا) ڈر سنائیں اور ایمان والوں کو خوشخبری سنائیں کہ ان کے لئے ان کے رب کی بارگاہ میں بلند پایہ (یعنی اونچا مرتبہ) ہے، کافر کہنے لگے: بیشک یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا لوگوں کے لیے ایک عجیب بات ہوگئی کہ ہم نے ان میں سے ایک آدمی کی طرف وحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈرا اور جو لوگ ایمان لائے انھیں بشارت دے کہ یقینا ان کے لیے ان کے رب کے ہاں سچا مرتبہ ہے۔ کافروں نے کہا بیشک یہ تو کھلا جادوگر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ انہی میں سے ایک آدمی پر ہم نے وحی کی کہ وہ لوگوں کو ڈرائے اور ایمان لانے والوں کو یہ خوشخبری دے کہ ان کے پروردگار کے ہاں ان کے لئے حقیقی عزت اور مرتبہ ہے۔ (اس دعوت پر) کافروں نے کہہ دیا کہ : یہ تو صاف جادوگر ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا لوگوں کو اس بات پر حیرانی ہے کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص پر وحی کی کہ لوگوں کو ہوشیار کردو اور اہل ایمان کو بشارت پہنچا دو کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑا مرتبہ ہے۔ کافروں نے کہا، بیشک یہ ایک کھلا ہوا جادوگر ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہے کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص پر یہ وحی کردی کہ تم خبردار کرو لوگوں کو (ان کے انجام بد سے) اور خوشخبری سنا دو ان (خوش نصیبوں) کو جو مشرف ہوجائیں (دولتِ) ایمان سے، کہ ان کے لئے بڑا اونچا مرتبہ ہے، ان کے رب کے یہاں (تو کیا اسی بات پر) ان کافروں نے کہا کہ یہ شخص تو قطعی طور پر ایک کھلا جادوگر ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

کیا لوگوں کو اس پر حیرت ہے کہ ہم نے انہیں میں سے ایک شخص کے پاس وحی بھیج دی کہ لوگوں کو ڈرائیے اور جو ایمان لے آئیں ان کو خوشخبری سنائیے کہ انکے لئے ان کے پروردگار کے پاس اونچا مرتبہ ہے۔ کافر کہتے ہیں کہ یہ (شخص) تو کھلا ہوا جادوگر ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا لوگوں کو بہت تعجب ہوا ہے کہ ہم نے وحی بھیج دی ایک شخص پر انہی میں سے کہ آپ ﷺ لوگوں کو خبردار کردیجیے اور اہل ایمان کو بشارت دے دیجیے کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بہت اونچا مرتبہ ہے۔ (اس پر) کافروں نے کہا کہ یہ تو ایک کھلا جادوگر ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک آدی کو حکم بھیجا کہ لوگوں کو ڈر سنا دو اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے رب کے پاس ان کا سچا درجہ ہے۔ ایسے شخص کے لیے کافر کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو گر ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Does it seem strange to people that We should have revealed to a man from among themselves, directing him to warn the people (who lie engrossed in heedlessness); and to give good news to the believers that they shall enjoy true honour and an exalted status with their Lord? (Is this so strange that) the deniers of the truth should say: 'This man is indeed an evident sorcerer'?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Is it surprising for the people that We have sent the divine revelation to a man from among them to direct him that he should warn the people (who are heedless), and give happy news to those who believe that they will have a truly excellent footing at a place near their Lord? The disbelievers said, :Surely, he is an open sorcerer.

— Muhammad Taqi Usmani

Is it surprising for the people that We have sent the divine revelation to a man from among them to direct him that he should warn the people (who are heedless), and give happy news to those who believe that they will have a truly excellent footing at a place near their Lord? The disbelievers said, :Surely, he is an open sorcerer.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Is it a wonder for mankind that We have sent Our revelation to a man from among themselves (saying): "Warn mankind, and give good news to those who believe that they shall have with their Lord the rewards of their good deeds" (But) the disbelievers say: "This is indeed an evident sorcerer!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Is it a wonder for mankind that We have inspired a man among them, saying: Warn mankind and bring unto those who believe the good tidings that they have a sure footing with their Lord? The disbelievers say: Lo! this is a mere wizard.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Have the people been amazed that We revealed [revelation] to a man from among them, [saying], "Warn mankind and give good tidings to those who believe that they will have a [firm] precedence of honor with their Lord"? [But] the disbelievers say, "Indeed, this is an obvious magician."

— Saheeh International

Why should it seem strange to mankind that We sent revelations to a mortal among them, who would warn others and give to the believers the glad news of their high rank in the sight of God. The unbelievers have said, "He (Muhammad) is certainly a magician."

— Muhammad Sarwar

What! is it a wonder to the people that We revealed to a man from among themselves, saying: Warn the people and give good news to those who believe that theirs is a footing of firmness with their Lord. The unbelievers say: This is most surely a manifest enchanter.

— Muhammad Habib Shakir

It is a matter of wonderment to the mankind that we should reveal unto a man among them saying: warn thou the man kind, and bear those who have believed the glad tidings that theirs shall be a sure footing. with their Lord! The infidels say: verily this in a sorcerer manifest.

— Abdul Majid Daryabadi

Is it a matter of wonderment to men that We have sent Our inspiration to a man from among themselves?- that he should warn mankind (of their danger), and give the good news to the Believers that they have before their Lord the lofty rank of truth. (But) say the Unbelievers: "This is indeed an evident sorcerer!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–2

عقل زدہ کافر اور رسول اللہ ﷺ کافروں کو اس پر بڑا تعجب ہوتا تھا کہ ایک انسان اللہ کا رسول بن جائے۔ کہتے تھے کہ کیا بشر ہمارا ہادی ہوگا ؟ حضرت ہود اور حضرت صالح نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ کیا تمہیں یہ کوئی انوکھی بات لگتی ہے کہ تم میں سے ہی ایک شخص پر تمہارے رب کی وحی نازل ہوئی۔ کفار قریش نے بھی کہا تھا کہ کیا اس نے اتنے سارے معبودوں کے بجائے ایک ہی اللہ مقرر کردیا ؟ یہ تو بڑے ہی تعجب کی بات ہے۔ حضور ﷺ کی رسالت سے بھی انہوں نے صاف انکار کردیا اور انکار کی وجہ یہی پیش کی کہ محمد ﷺ جیسے ایک انسان پر اللہ کی وحی کا آنا ہی نہیں مان سکتے۔ اس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ سچے پائے سے مراد سعادت اور نیکی کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یُوْنُس 2 یعنی آخر اس میں تعجب کی بات کیا ہے ؟ انسانوں کو ہوشیار کرنے کے لیے انسان نہ مقرر کیا جاتا تو کیا فرشتہ یا جن یا حیوان مقرر کیا جاتا ؟ اور اگر انسان حقیقت سے غافل ہو کر غلط طریقے سے زندگی بسر کر رہے ہوں تو تعجب کی بات یہ ہے کہ ان کا خالق و پروردگار انہیں ان کے حال پر چھوڑ دے یا یہ کہ وہ ان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے کوئی انتظام کرے ؟ اور اگر خدا کی طرف سے کوئی ہدایت آئے تو عزت و سرفرازی ان کے لیے ہونی چاہیے جو اسے مان لیں یا ان کے جو اسے رد کردیں ؟ پس تعجب کرنے والوں کو سوچنا تو چاہیے کہ آخر وہ بات کیا ہے جس پر وہ تعجب کر رہے ہیں۔ سورة یُوْنُس 3 یعنی جادوگر کی پھبتی تو انہوں نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری آیت میں مشرکین کے ایک شبہ اور اعتراض کا جواب ہے، شبہ کا حاصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنی جہالت سے یہ قرار دے رکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو رسول یا پیغمبر آئے وہ بشر یعنی انسان نہیں ہونا چاہئے بلکہ کوئی فرشتہ ہونا چاہئے، قرآن کریم نے ان کے اس لغو خیال کا جواب کئی جگہ مختلف عنوانات سے دیا ہے، ایک آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰۗىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا، یعنی اگر زمین پر بسنے والے فرشتے ہوتے تو ہم ان کے لئے رسول بھی کسی فرشتہ ہی کو بناتے، جس کا حاصل یہ ہے کہ رسالت کا مقصد بغیر اس کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 1–2

تفسیر آیت 1۔ 2: الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْحَكِيمِ۔ أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ۔ الر۔ اس سورة کا قرآنی نام الر، ہے اور تلک، کا اشارہ اسی کی طرف ہے۔ یہ حروف مقطعات ہیں جن پر ایک جامع بحث ہم بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں کتاب کی صفت، حکیم، اس بات کی طرف اژارہ کر رہی ہے کہ یہ کتاب اپنے ہر دعوے پر دلیل و حجت سے اس طرح آراستہ ہے کہ اپنی صداقت کی کسوٹی خود اپنے ہی اندر رکھتی ہے، کسی خارجی شہادت کی محتاج نہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 استفہام انکار تعجب کے لئے ہے، جس میں توبیخ کا پہلو بھی شامل ہے یعنی اس بات پر تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں سے ہی ایک آدمی کو وحی و رسالت کے لئے چن لیا، کیونکہ ان کے ہم جنس ہونے کی وجہ سے وہ صحیح معنوں میں انسان کی رہنمائی کرسکتا ہے۔ اگر وہ کسی اور جنس سے ہوتا تو فرشتہ یا جن ہوتا اور وہ دونوں ہی صورتوں میں رسالت کا اصل مقصد فوت ہوجاتا، اس لئے کہ انسان اس سے مانوس ہونے کی بجائے وحشت محسوس کرتا دوسرے، ان کے لئے اس کو دیکھنا بھی ممکن نہ ہوتا اور اگر ہم کسی جن یا فرشتے کا انسانی قالب میں بھیجتے تو پھر وہی اعتراض آتا کہ یہ تو ہماری طرح کا ہی انسان ہے۔ اس لئے ان کے اس تعجب…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اکان للناس عجبًا ان اوحینآ کیا لوگوں کیلئے عجیب ہے یہ بات کہ ہم نے وحی بھیجی۔ یہ استفہام تعجبی انکاری ہے (یعنی تعجب ہے کہ لوگ اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ اللہ نے انسان کے پاس وحی بھیجی ‘ ان کو اس بات پر تعجب نہ کرنا چاہئے) لِلنَّاسِمیں لازم بتا رہا ہے کہ انسان کا پیغمبر ہونا ان کی نظر میں ایک اعجوبہ تھا ‘ قابل انکار و استہزاء۔ کسی نادر واقعہ کو دیکھ کر اور معمول و عادت کے خلاف کوئی بات مشاہدہ کرنے سے جو حالت پیدا ہوتی ہے ‘ اس کو عجب کہتے ہیں۔ لوگوں کے تعجب کو آیت میں جو تعجب آفریں قرار دیا گیا ہے اور ان کے تعجب کو واجب الانکار بتایا ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کا پیغمبر بنایا جانا کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی اس میں تعجب کی کیا بات ہے کہ انسانوں کی اصلاح و ہدایت کے لیے حق تعالیٰ ایک انسان ہی کو مامور فرما دے اور اس کی طرف وہ پیغام بھیجے جس کی دوسروں کو بلاواسطہ خبر نہ ہو۔ وہ تمام لوگوں کو خدا کی نافرمانی کے مہلک نتائج و عواقب سے آگاہ کرے۔ اور خدا کی بات ماننے والوں کو بشارت پہنچائے کہ رب العزت کے یہاں اعمال صالحہ کی بدولت ان کا کتنا اونچا مرتبہ اور کیسا بلند پایہ ہے۔ اور کیسی سعادت و فلاح ازل سے ان کے لیے لکھی جاچکی ہے۔ 3 یعنی وحی قرآنی کو فوق العادت موثر وبلیغ ہونے کی وجہ سے جادو اور اس کے لانے والے کو جادوگر کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2 اَکَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَآ اِلٰی رَجُلٍ مِّنْہُمْ ”کیا لوگوں کو بہت تعجب ہوا ہے کہ ہم نے وحی بھیج دی ایک شخص پر انہی میں سے“ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَہُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّہِمْ ”کہ آپ ﷺ لوگوں کو ‘ خبردار کردیجیے اور اہل ایمان کو بشارت دے دیجیے کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بہت اونچا مرتبہ ہے۔“ قَالَ الْکٰفِرُوْنَ اِنَّ ہٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ ”اس پر کافروں نے کہا کہ یہ تو ایک کھلا جادوگر ہے۔“ یعنی یہ تو اللہ کی مرضی پر منحصر ہے۔ اس کا فیصلہ ہے کہ وہ اس منصب کے لیے انسانوں میں سے جس کو چاہے پسند فرما کر منتخب کرلے۔ اگر اس نے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 لوگوں کی ہدایت کے لئے رسول انسان ہی ہوسکتا ہے :۔ ان کا پہلا اعتراض یہ تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ شخص جو ہم جیسا ہی ایک آدمی ہے۔ ہماری طرح ہی پوری زندگی بسر کرتا ہے، کھاتا ہے، پیتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ وہ اللہ کا رسول ہو، اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر دیا ہے کہ انسانوں کی رہنمائی کے لیے صرف انسان ہی رسول ہوسکتا ہے جو انہی کی زبان بولتا اور سمجھتا ہو اس کے علاوہ کوئی صورت ممکن ہی نہ تھی نہ کسی فرشتہ کو رسول بنایا جاسکتا تھا اور نہ کسی جن یا دوسری مخلوق کو اور اگر ایسا کیا بھی جاتا تو وہ لوگوں کے لیے حجت کیسے بن سکتا تھا ؟ 3 اس رسول کو بھیجنے سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ دنیا، شرک پسند دنیا دیوی ودیوتاؤں کو تو مان لیتی ہے، اوتار اور مظہر ربانی کے عقیدہ کو بھی بہ آسانی قبول کرلیتی ہے لیکن بشر کا بشر رہ کر رسول ہوجانا یہ کسی طرح اس کی سمجھ میں نہیں آتا۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ ان کا اس عقیدہ پر حیرت کرنا یہ خود بڑی حیرت کی بات ہے۔ (آیت) ” للناس “۔ الناس سے مراد دنیا کی اکثریت ہے جو ادہام مشرکانہ میں گرفتا رہے۔ مفسرین نے کفار عرب مراد لی ہے۔ المراد بالناس کفار العرب (روح) (آیت) ” الی رجل منھم “۔ یعنی محمد ﷺ کے پاس۔ محض ایک شخص کے پاس، ایک مرد کے پاس ! جاہلی دماغ انسان کو خدا مان لے گا، خدا کا بیٹا مان لے گا، خدا کا اوتار مان لے گا لیکن نہ مانے گا تو انسان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ محکم کتاب (یعنی) قرآن کی آیتیں ہیں (آیت الکتاب) میں اضافت بمعنی من ہے کیا ان لوگوں کو یعنی اہل مکہ کو اس بات سے تعجب ہوا، استفہام انکاری ہے اور مجرور اس کے قول عَجَبًا نصب کے ساتھ کان کی خبر ہے اور رفع کے ساتھ کان کا اسم ہے اور خبر أن اَوْحَیْنَا الخ ہے اور اَوَحَیْنَا اسم ہے پہلی (یعنی نصب کی) صورت میں أن اَوْحینا، اِیحَاؤنا مصدر کے معنی میں ہے، کہ ہم نے ان میں کے ایک شخص محمد ﷺ کے پاس وحی بھیج دی کہ لوگوں یعنی کافروں کو عذاب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اکان للناس عجبًا ان اوحینآ کیا لوگوں کیلئے عجیب ہے یہ بات کہ ہم نے وحی بھیجی۔ یہ استفہام تعجبی انکاری ہے (یعنی تعجب ہے کہ لوگ اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ اللہ نے انسان کے پاس وحی بھیجی ‘ ان کو اس بات پر تعجب نہ کرنا چاہئے) لِلنَّاسِمیں لازم بتارہا ہے کہ انسان کا پیغمبر ہونا ان کی نظر میں ایک اعجوبہ تھا ‘ قابل انکار و استہزاء۔ کسی نادر واقعہ کو دیکھ کر اور معمول و عادت کے خلاف کوئی بات مشاہدہ کرنے سے جو حالت پیدا ہوتی ہے ‘ اس کو عجب کہتے ہیں۔ لوگوں کے تعجب کو آیت میں جو تعجب آفریں قرار دیا گیا ہے اور ان کے تعجب کو واجب الانکار بتایا ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کا پیغمبر بنایا جانا کوئی انوکھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(2) کیا مکہ والوں کو اس بات حیرانی ہوئی کہ ہم نے ان ہی جیسے ایک انسان کے پاس وحی بھیجی تاکہ مکہ والوں کو بھی قرآن کریم کے ذریعے ڈرائے، اور مومنوں کو بہترین ثواب کی خوشخبری سنائیے یا یہ کہ ان کو دنیا میں ایمان لانے کے صلہ میں آخرت میں اے پروردگار کے پاس پہنچ کر پورا مرتبہ ملے گا یا یہ کہ ان کے لیے شرافت و بزرگی والے نبی ہیں یا یہ کہ بلند مرتبہ والے شفیع ہیں مگر کفار مکہ کہنے لگے کہ (نعوذ باللہ) یہ قرآن کریم تو جھوٹا جادو ہے۔ شان نزول : (آیت) ”اکان للناس عجبا“۔ (الخ) ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ضحاک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ذریعہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا۔۔ : یعنی آخر اس میں تعجب اور حیرت کی کون سی بات ہے کہ انسانوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے اور فلاح و سعادت کی راہ دکھانے کے لیے خود انھی میں سے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیج دیا گیا ؟ تعجب کی بات تو تب ہوتی کہ ان کا پروردگار ان کی ہدایت کا کوئی سامان نہ کرتا، یا ان میں کسی جن یا فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیتا، کیونکہ فرشتہ یا جن انسانوں کے لیے نمونۂ عمل بن ہی نہیں سکتا۔ مزید دیکھیے سورة توبہ (128) اور آل عمران (164) کی تفسیر۔ اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ۔۔ : ”قَدَم“ کا معنی تو ظاہر ہے، دوسروں سے آگے وہی نکلتا ہے جس کا قدم دوڑ میں سب سے آگے نکل جائے، اس لیے ”قَدم“ کا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 2۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” اکان للناس عجبا “۔ یہ استفہام برائے تقریروتوبیخ ہے۔ اور (آیت) ” عجبا “۔ کان کی خبر ہے اور اس کا اسم (آیت) ” ان اوحینا “۔ ہے اور یہ محل رفع میں ہے : ای کان ایحاؤنا عجبا للناس “۔ (یعنی کیا ہمارا وحی کرنا لوگوں کے لیے باعث تعجب ہے) اور حضرت عبداللہ ؓ کی قرات میں عجب ہے اس بنا پر یہ کان کا اسم ہوگا۔ اور خبر (آیت) ” ان اوحینا “۔ ہوگی۔ (آیت) ” الی رجل منھم “۔ اس کو رجل جیم کے سکون کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ اور اس کے سبب نزول کے بارے جو حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ کفار نے اس وقت کہا جب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا گیا : بیشک اللہ تعالیٰ اس سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

رسول اللہ ﷺ بن آدم میں سے تھے۔ 1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا تو عرب نے اس کو ماننے سے انکار کردیا ان میں سے جنہوں نے انکار کیا انہوں نے کہا کہ اللہ اس سے اعظم اور بلند تر ہیں اس بات سے کہ ان کا رسول محمد ﷺ کی طرح ایک بشر ہو، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” اکان للناس عجبا ان اوحینا الی رجل منہم “ (اور فرمایا) ” وما ارسلنا من قبلک من رسول الانوحی الیہ “ (الانبیاء آیات) جب اللہ تعالیٰ نے ان پر دلائل کو باربار ذکر فرمایا تو انہوں نے کہا جب (رسول) ایک بشر ہے تو محمد ﷺ کے علاوہ (دوسرے بڑے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَ [کیا ] كَانَ [ یہ ہوا ] لِلنَّاسِ [ لوگوں کے لیے ] عَجَبًا [ عجب ] اَنْ [ کہ ] اَوْحَيْنَآ [ وحی کیا ہم نے ] اِلٰى رَجُلٍ [ ایک شخص کی طرف ] مِّنْھُمْ [ ان میں سے ] اَنْ [کہ ] اَنْذِرِ [ تو خبردار کر ] النَّاسَ [ لوگوں کو ] وَبَشِّرِ [اور خوشخبری دے ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کو جو ] اٰمَنُوْٓا [ ایمان لائے ] اَنَّ [ کہ ] لَھُمْ [ ان کے لیے ہے ] قَدَمَ صِدْقٍ [ سچائی کا رتبہ ] عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ [ ان کے رب کے پاس ] قَالَ [ تو کہا ] الْكٰفِرُوْنَ [ کافروں نے ] اِنَّ [ بیشک ] ھٰذَا [یہ (تو) ] لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ [ یقینا ایک کھلا جادوگر ہے ] ترکیب : (آیت ۔ 2) کان کا اسم اس میں شامل ھو کی ضمیر ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر نبی اکرم ﷺ کو ایسا کام بتایا جو بحیثیت نبی اور رسول ہونے کے آپ کے سپرد کیا گیا تھا اور فرمایا (اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّھِمْ ) کہ جس شخص کی رسالت اور نبوت پر تعجب کر رہے ہیں اسے ہم نے اس بات پر مامور کیا کہ لوگوں کو ڈرائیے (کہ جو نافرمان ہوں گے وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے) اور یہ کہ جو لوگ ایمان قبول کریں انہیں اس بات کی بشارت دیں کہ ان کے رب کے پاس ان کے لئے بڑا مرتبہ ہے ‘ لفظ قدم تو پاؤں کے لئے بولا جاتا ہے چونکہ انسان کی مسلسل سعی اور عمل پیہم میں قدم کا استعمال کیا جاتا ہے اس لئے بلند مرتبہ بتانے کیلئے لفظ قدم صدق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–2

اظہار عظمت قرآن و اثبات رسالت محمدیہ ﷺ قال اللہ تعالیٰ الر۔ تلک ایت الکتب الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔ لسحرم مبین (ربط): گزشتہ سورت کی آخری آیتوں میں دو باتوں کا ذکر تھا۔ اول : نزول وحی کے وقت مضامین قرآن پر ہنسنا اور ازراہ حقارت ایک کا دوسرے کی طرف آنکھوں سے اشارہ کرنا جس سے ان کا مقصود وحی کے ساتھ استہزاء کرنا ہوتا تھا۔ واذا ما انزلت سورة نظر بعضھم الی بعض میں اسی امر کا ذکر تھا۔ دوسری بات یہ تھی کہ ان لوگوں کو آپ کی نبوت و رسالت پر تعجب تھا کہ یہ شخص ہم جیسا ایک بشر اور انسان ہے یہ کیسے نبی ہوسکتا ہے لقد جاء کم رسول من انفسکم میں اس کا جواب دیا گیا۔ یہ شخص اگرچہ تمہاری ہی جنس سے ہے مگر فضائل و کمالات…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4:“ اَکَانَ لِلنَّاسِ الخ ” یہ زجر ہے اور ہمزہ استفہام انکاری کے لیے ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو رسالت و نبوت سے سرفراز فرمایا تو مشرکین عرب نے اس پر تعجب کیا کہ اللہ تعالیٰ تو بڑی بلند وبالا شان کا ملک ہے اس لیے اس کا رسول بشر کیونکر ہوسکتا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ “ قَالوا اللہ اعظم من ان یکون رسوله بشرا فانزل اللہ تعالیٰ (اَکَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا) استفہام انکار للتعجب ” (خازن و معالم ج 3 ص 173 و مظھری ج 5 ص 4) ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے اس تعجب پر انکار فرمایا کیونکہ تمام انبیاء سابقین بھی بشر ہی تھے اس لیے آخری رسول کا بشر ہونا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–2

نام اور کوائف : اس سورة کا نام سورة یونس ہے۔ اس کے آخری سے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانی اور ایمان لانے کا مختصر تذکرہ کیا ہے ، اسی نسبت سے اس کا نام سورة یونس ہے۔ اس سورة کا ایک نام الربھی ہے جو کہ سورة کے پہلے لفظ سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی ، لہٰذا مکی سورة کہلاتی ہے۔ اس کی ایک سو نو آیات اور گیارہ رکوع ہیں۔ یہ سورة 1082 الفاظ اور 6567 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة : اس سورة کے مضامین پہلی سورة توبہ کے مضامین سے خاصی مناسب رکھتے ہیں۔ گذشتہ سورة کے آخر میں توحیدورسالت کا ذکر تھا تو اس سورة میں یہی مضمون ابتداء میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَــبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّہِمْ۝ 0 ۭ ؔ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ۝ 2 نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

ترکیب : للناس کان سے متعلق ان اوحینا اسم عجبًا خبر ان انذر تفسیر ہے اوحینا کی وعد اللّٰہ اور اسی طرح حقًا منصوب ہیں فعل محذوف کے مصدر ہو کر لآیات اسم ان فی اختلاف اللیل خبر اور والنہار اللیل پر معطوف وما الخ بھی یہ سب مجرور ہیں فی کے جو خبر میں شامل ہیں۔ الذین اسم ان اسم والذین ھم اس پر معطوف اولئک خبر دعواھم مبتدا سبحانک اللہم خبر استعجالہم منصوب ہے بنزع خافض ای کا ستعجالہم۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–2

الٓرٰ قف تِلٗکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْم۔ اَکَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَآ اِلٰی رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِالنَّاسَ وَبَشِّرِالِّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَرَبِّھِمْ ط قَالَ الْکٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ۔ (یونس : 2۔ 1) (” ا لف۔ لام۔ ر ا “ یہ حکمت والی کتاب کی آیات ہیں۔ کیا لوگوں کو اس بات پر حیرانی ہے کہ ہم نے وحی بھیجی انھیں میں سے ایک آدمی کی طرف کہ ڈرائو لوگوں کو اور اہل ایمان کو بشارت پہنچا دو کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس مرتبہ بلند ہے۔ کافروں نے کہا بلا شبہ یہ ایک کھلا ہوا جادوگر ہے۔ ) ” الر “ یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ مختلف سورتوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–2

فہم القرآن اآرٰ ۔ حروف مقطعات میں سے ہیں۔ حروف مقطعات کا معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور نہ اس کا عملی زندگی سے تعلق ہے۔ جس بنا پر نبی اکرم ﷺ نے ان کا معنی نہیں بتلایا اور نہ ہی صحابہ ؓ نے آپ سے استفسار کیا۔ جن بزرگوں نے ان کے معنیٰ کیے ہیں۔ یہ ان کی ذہنی کاوش ہے۔ جس کی کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہے۔ اس لیے آخر میں وہ بھی یہ لکھنے پر مجبور ہیں۔ کہ اللہ ہی حروف مقطعات کے معنی جانتا ہے۔ لیکن افسوس ہمارے دور کے ایک مفسر نے ایسا دعویٰ کیا ہے جس سے علم کے نام پر جہالت اور حروف مقطعات کے بہانے شرک پھیلانے کا دروازہ کھولا ہے چناچہ لکھتے ہیں : کہ یہ حروف خود بول کر اپنا مفہوم اولیاء کرام سے بیان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قدم صدق کی مراد : قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّھِمْ (پورا مرتبہ ملے گا ان کے رب کے ہاں) نمبر 1۔ قدمؔ کا معنی سابقیت اور فضیلت اور بلند مرتبہ و مقام ہے۔ کیونکہ تگ و دو اور سبقت قدم سے حاصل ہوتی ہے اس لئے اچھی کوشش اور اس کے مقام اور اس میں سابقیت کو قدمؔ سے تعبیر فرمایا گیا۔ جیسا کہ نعمت ؔ کو ید، باع کہتے ہیں کیونکہ وہ مال ہاتھ سے ادا کیا جاتا ہے اور دینے والا اپنے بازو اس کے لئے دراز کرتا ہے محاورہ میں کہتے ہیں۔ لفلان قدم فی الخیر۔ قدمؔ کی نسبت صدق کی طرف کر کے زیادت فضل کی طرف اشارہ کردیا۔ اور یہ بتلا دیا کہ یہ عظیم انعامات سے ہے۔ نمبر 2۔ قدم کا معنی مقام صدق ہے۔ نمبر 3۔ سعادت میں سبقت کا میسر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (2)” اکان للناس عجبا “ عجب وہ حالت جو خلاف عادت چیز دیکھنے کی وجہ سے بندہ پر طاری ہوتی ہے۔ اس آیت کا سبب ناول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا تو مشرکین کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ اس سے بہت بڑے ہیں کہ اس کا رسول کوئی انسان ہو تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” اکان للناس “ یعنی مکہ والوں کو یہاں الف ڈانٹ کے لیے ہے۔ ” عجبا ان اوحینا الیٰ رجل منھم “ یعنی محمد ﷺ ” ان انذر الناس “ ان کو خوف دلانے کے ساتھ بتادیں۔ ” وبشر الذین امنوا ان لھم قدم صدق عند ربھم “ اس کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جو اعمال آگے بھیجے ان کے بدلے اچھا بدلہ ہے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ سچا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–2

1۔ 2۔ تفسیر ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو نبی کیا تو اہل عرب پہلے تو یہ تعجب کرتے تھے کہ خدا کی طرف سے انسان نبی کیوں کر ہوسکتا ہے کوئی فرشتہ نبی ہو کر کیوں نہیں آیا جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اور اسی قسم کی آیتیں نازل فرمائیں 1 ؎ اور ان مشرکوں کی تسکین اہل کتاب کے بیان سے بھی ہوگئی کہ پہلے انبیاء بھی سب انسان ہی تھے تو پھر یہ کہنے لگے کہ { لو لآ انزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم (43، 2)} جس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ مکہ میں جیسا ولید بن مغیرہ اور طائف میں مسعود بن عمرو ثقفی ہیں اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–2

تفسیر سورة یونس آیت : (1-2) (الر تلک ایت الکتب الحکیم) ” یہ آیتیں ہیں حکمت والی کتاب کی “ اور وہ کتاب یہ قرآن ہے جو تمام تر حکمت و احکام پر مشتمل ہے جس کی آیت کریمہ حقائق ایمانی اور شریعت کے او امر و نواہی پر دلالت کرتی ہیں جن کو برضا ورغبت قبول کرنا اور جن پر عمل کرنا تم امامت پر فرض ہے۔ بایں ہمہ اکثر لوگوں نے اس سے روگردانی کی۔ وہ اس کا علم نہیں رکھتے اس لئے انہیں سخت تعجب ہے۔ (ان اوحینا الی رجل منھم ان انذر الناس) ” کہ ہمنے ان میں سے ایکمرد پر وھی بھیجی کہ لوگوں کو ڈر سنائے “ یعنی لوگوں کو الہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائے اور انہیں اس کی تراضی کا خوف دلائے اور اللہ تعالیی کی آیت کے ذریعے سے ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

1 ۔ بشریت پیغمبر عقل ونقل کا تقاضا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ لوگوں کو بشر کے ذریعے نور وحی سے نوازنا کرم بالائے کرم اور عقل ونقل کا تقاضا ہے۔ استفہام یہاں پر انکاری ہے کہ یہ بات تعجب کی نہیں، بلکہ عین حکمت اور عقل و فطرت کا تقاضا ہے۔ کہ استفہام یہاں پر انکاری ہے کہ یہ بات تعجب کی نہیں بلکہ عین حکمت اور عقل و فطرت کا تقاضا ہے کہ حضرت خالق۔ جل مجدہ۔ کی طرف سے اس کی مخلوق کی راہنمائی کا اس طرح انتظام فرمایا جائے۔ تاکہ وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرورہوسکیں۔ سو وحی و رسالت کا یہ سلسلہ تو ایک عظیم الشان رحمت و عنایت ہے جس سے اس واہب مطلق جل وعلا۔ کی طرف سے اس کے بندوں کو نوازا جارہا ہے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–2

رسول اللہ ﷺ کی شان اور قرآن کی حکمت تشریح : الٓر، یہ حروف مقطعات کہلاتے ہیں، ان کی وضاحت نبی اکرم ﷺ نے نہیں کی۔ اس لیے اس کی بحث میں پڑنا ضروری نہیں۔ البتہ ان آیات کا سمجھنا ضروری ہے جو دانائی سے بھری ہوئی بہترین مکمل و محکم کتاب سے لی گئی ہیں جس کا خالق الہ العلمین ہے۔ ” الِٰہُ العٰلمین “ جس نے تخلیق کائنات کی، اور اس کے بارے میں جو انسان حیران و پریشان رہتا تھا، بتایا کہ یہ کائنات کیسے بنی ؟ انسان کی تخلیق کیسے ہوئی اور انجام کیا ہوگا۔ یعنی ازل، حاضر اور غائب، یہ بہت بڑے راز ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس کتاب قرآن مجید میں بڑی ہی آسان اور مکمل زبان میں بیان کیا ہے۔ اس کتاب کا خالق کیونکہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

آیات 1 تا 10 اسرار و معارف الٓرٰ ۔ حروف مقطعات ہیں جن کے متعلق پہلے لکھا جاچکا ہے کہ ان کا علم اللہ کو یا اس کے رسول ﷺ کو ہے یا پھر ان اللہ کے بندوں کو جو راسخین فی المعلم کے درجہ کو پالیتے ہیں کسی قدرعطا فرمایا جاتا ہے ۔ عامتہ المسلمین کے لئے تلاوت ہی کافی ہے اور معانی میں اندازے اور قیاس سے رائے قائم کرنا مناسب نہیں ۔ فرمایا ، یہ آیات ایسی عالیشان کتاب کی ہیں جو حکمت سے بھر اخزانہ ہے اور اس قدرعام فہم ہیں کسی ان پڑھ گڈریا اور چرواہاکو بھی بتانے پر انکے مفہوم کو سمجھ سکتا ہے بشرطیکہ اس کی عقل سلامت ہو کہ بات عقلمندی کی ہومگرسننے والا عقل سے محروم ہو تو سمجھ نہیں پاتا ۔ یہی دیکھ لیں کہ لوگوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 13۔ یعنی آخر اس میں تعجب اور حیرت کی کون سی بات ہے کہ انسانوں کو خدا کے عذاب سے ڈرانے اور فلاح وسعادت کی راہ دکھانے کے لئے خود انہی میں سے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجا دیا گیا ؟ تعجب کی بات تو جب ہوتی کہ ان کا پروردگار ہدایت کا کوئی سامان نہ کرتا اور یا ان میں کسی جن یا فرشتے کو رسول بنا کر بھیجا دیتا کیونکہ فرشتہ یا جن انسانوں کے لئے ” اسوہ حسنہ “ نہیں بن سکتا۔ (از قرطبی وابن کثیر) ۔ 14۔ یا سچائی کا مقام یعنی جنت۔ علما نے لکھا ہے کہ ” قدم “ کا لفظ سعی و عمل سے کنایہ ہوتا ہے لہذا ” قدم صدق “ سے مراد نیک اعمال ہیں اور مطلب یہ ہے کہ انہیں ان کے نیک اعمال کا اللہ تعالیٰ کے ہاں سے بدلہ ملے گا۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

اکان للناس عجبا۔ میں ا استفہام انکاری کے لئے ہے۔ کیا لوگوں کو یہ بات بہت ہی عجیب نظر آتی ہے (حالانکہ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے) الناس سے مراد کفار عرب ہیں۔ رجل۔ سے مراد محمد ﷺ ہیں ۔ الی رجل منہم ای الیٰ بشر من جنسہم۔ انہیں کی جنس سے ایک فرد۔ انذر۔ انذار سے امر واحد مذکر حاضر۔ تو ڈرا۔ انذر الناس میں الناس سے مراد جمیع الناس ہیں۔ قدم صدق۔ مضاف مضاف الیہ ان کا اسم ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ قدم بمعنی پاؤں اور صدق کے معنی ہیں سچائی۔ قوت۔ خیر۔ خلوص۔ شرف۔ فضیلت۔ قدم صدق کے مختلف معانی کئے گئے ہیں :۔ (1) القدم ۔ السابقۃ۔ والمعنی انھم قد سبق لہم عند اللہ خیر (رازی) یعنی القدم کے معنی السابقۃ ہیں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–2

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 2 الحکیم (وہ پکی چیز جس کے اندر ایسی پختگی ہو جس میں کبھی بدل جانے کا خوف نہ ہو یعنی علم، عقل اور سمجھ ۔ عجب (تعجب، حیرت) ۔ اوحینا (ہم نے وحی کی، وحی کے معنی اشارے کے بھی آتے ہیں) ۔ انذر (ڈرادے۔ کسی برے انجام سے ڈرانا) بشر (خوش خبری دے دیجیے) قدم صدق۔ صدق یعنی ٹھوس سچائی، قدم صدق، مرتبہ، کامیابی اور ترقی سحر (جادو کرنے والا، جادوگر) مبین (کھلی ہوئی واضح بات) تشریح : آیت نمبر 1 تا 2 سورئہ یونس قرآن کریم کی دسویں سورت ہے۔ مکہ مکرمہ میں اس زمانہ میں نازل ہوئی جب نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت و تبلیغ کی مخالفتا ور دشمنی میں کفار و مشرکین شرافت اور انسانیت کی حدود…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–2

خواص سورة یونس : جو شخص اکیس بار سورة یونس کو پڑھے، دشمن پر فتح پاوے، اس سورة کو زعفران اور مشک سے ہرن کی جھلی پر بطور تعویذ لکھ کر بازو پر باندھنا آسیب اور جن اور پری اور ہر رنج وملال سے محفوظ رکھتا ہے۔ حضور ﷺ کی رسالت پر منافقوں کا اعتراض شان نزول : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے سید عالم ﷺ کو رسالت سے مشرف فرمایا اور آپ نے اس کا اظہار کیا تو عرب منکر ہوگئے۔ اور ان میں سے بعضوں نے کہ کہا کہ اللہ تعالیٰ اس سے برتر ہے کہ کسی بشر کو رسول بنائے اس پر یہ آیت نازل فرمائی، اور فرمایا کہ پہلے انبیاء بھی سب انسان ہی تھے اور نبوت ایک رحمت الٰہی ہے۔ اللہ نے اپنی مصلحت میں جس کسی کو اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[1] مشرکین کا یہ قول قرآن کی حیرت انگیز تاثیر کی سب سے بڑی شہادت ہے۔ قرآن کا اثر اس درجہ نمایاں تھا کہ باوجود عناد و سرکشی کے وہ اس سے انکار نہیں کرسکتے تھے اور جب اس کی کوئی توجیہہ نہ بنتی تو اسے جادوگری سے تعبیر کرنے پر مجبور ہوجاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

جادو اثری : (ف 1) (آیت) ” ان ھذا لسحر مبین “۔ کے معنے یہ ہیں کہ منکرین کو بھی حضور کی قوت تاثیر اور طاقت جذب وکشش کا اندازہ تھا وہ جانتے تھے کہ یہ شخص اپنے اندر ایک خاص نوع کا مقناطیسی اثر رکھتا ہے ، جو اس کی باتیں سنے گا وہ ضرور متاثر ہوگا اور حضور ﷺ کی جانب کھینچا ہوا چلا آئے گا ۔ چناچہ کتب سیر میں بیشمار ایسے واقعات موجود ہیں کہ لوگوں نے انتہائی دشمنی کے باوجود بالاخر حضور ﷺ کے قدموں میں آجانے کی سعادت حاصل کی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

2 کیا ان لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں کے ایک آدمی پر یہ وحی بھیجی اور اس مضمون کا حکم بھیجا کہ آپ سب لوگوں کو ڈرا دیجئے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کرتا ہے اس کو ڈرائیے اور جو جو لوگ ایمان لے آئے ہیں ان کو یہ بشارت اور خوشخبری دے دیجئے کہ ان کے لئے ان کے رب کے پاس بہت بلند مرتبہ ہے ایک آدمی پر وحی بھیجنا جو انہی جیسا بشر ہے کوئی اچنبھے کی بات نہ تھی مگر ان کو اس پر بڑا تعجب ہوا اور کافہ کہنے لگے کہ یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے۔ یعنی اول تو بشریت کو نبوت کے منافی سمجھتے تھے اور علیٰ سبیل التنزل مانتے بھی تھے تو کہتے محمد ﷺ بن عبداللہ پر یہ قرآن کریم کیوں نازل ہوا۔ طائف یا…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مشرکین یک ایک شبہ اور اعتراض کا صاف صاف جواب 2 ؎ مشرکین مکہ کا ایک شبہ یا اعتراض تھا کہ کوئی ” بشر “ رسول نہیں ہو سکتا اس لئے جس کو وہ ” بشر “ یعنی انسان دیکھتے تھے یا سنتے تھے اس کو رسول ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتے تھے یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد جتنے رسول آئے کسی ایک کی نبوت و رسالت کو بھی تسلیم نہ کیا ۔ ان کے خیال میں کوئی فرشتہ ہی رسول ہو سکتا تھا۔ چناچہ ان کے اس لغو خیال کا جواب قرآن کریم نے مختلف عنوانات سے دیا ہے اور ہر ممکن ان کی تفہیم کرانے کی پوری پوری کوشش کی ہے ۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ : وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْٓا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The second verse refers to a doubt expressed by the Mushriks, and provides its answer. In a nutshell, these people had, out of their ignorance, somehow decided that a Messenger or Prophet who comes from Allah Ta ala should not be a human being (al-bashar), instead, he should be an angel. The Qur'an has refuted this absurd idea of theirs on several occasions from different angles. In one such verse, it was قُل لَّوْ كَانَ فِي الْأَرْ‌ضِ مَلَائِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَّ‌سُولًا ﴿95﴾ said: (Say, Had there been angels walking in peace on the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2. The unbelievers are asked why they are astonished that a human being has been designated to warn other human beings. Would it have been reasonable to designate some angel Jinn or animal rather than a human being to warn other human beings? Similarly, is there anything weird or exotic about the appointment of a Prophet? For if people are found engrossed in error and are oblivious to the truth, what then is truly strange: that their Creator and Lord should make arrangements to guide them or let them continue stumbling in their error? And if Divine Guidance is made available to human beings,…

Read the full tafseer →