10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 10:1–2

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

الرا، یہ بڑی دانائی کی کتاب کی آیتیں ہیں۔

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک مرد کو حکم بھیجا کہ لوگوں کو ڈر سنا دو اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے پروردگار کے ہاں انکا سچا درجہ ہے (ایسے شخص کی نسبت) کافر کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگر ہے۔

تفسیر سورة یونس آیت : (1-2) (الر تلک ایت الکتب الحکیم) ” یہ آیتیں ہیں حکمت والی کتاب کی “ اور وہ کتاب یہ قرآن ہے جو تمام تر حکمت و احکام پر مشتمل ہے جس کی آیت کریمہ حقائق ایمانی اور شریعت کے او امر و نواہی پر دلالت کرتی ہیں جن کو برضا ورغبت قبول کرنا اور جن پر عمل کرنا تم امامت پر فرض ہے۔ بایں ہمہ اکثر لوگوں نے اس سے روگردانی کی۔ وہ اس کا علم نہیں رکھتے اس لئے انہیں سخت تعجب ہے۔ (ان اوحینا الی رجل منھم ان انذر الناس) ” کہ ہمنے ان میں سے ایکمرد پر وھی بھیجی کہ لوگوں کو ڈر سنائے “ یعنی لوگوں کو الہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائے اور انہیں اس کی تراضی کا خوف دلائے اور اللہ تعالیی کی آیت کے ذریعے سے ان کو نصیحت کرے۔ (وبشر الذین امنو) ” اور خوش خبری دیں ایمان والوں کو “ جو صدق دل سے ایمان لائے ہیں (ان لھم قدم صدق عند ربھم) ” کہ ان کے لئے مقام صدق ہے ان کے رب کے پاس “ یعنی ان کے لئے اپنے بر کے پاس وافر جزا اور جمع کیا ہوا ثواب ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے صدق پر مبنیٰ اعمال صالحہ پیش کئے تھے۔ کفار کو اس عظیم شخص پر سخت تعجب ہے اور اس تعجب نے ان کو اس کے انکار پر آمادہ کیا۔ (قال الکفرون) ” اور کفار (اس کے بارے میں) کہتے ہیں “ (ان ھذا لسحر مبین) ” یہ تو واضح طور پر جادو گر ہے۔ “ ان کے زعم کے مطابق اس کا جادو گر ہونا کسی پر مخفی نہیں اور یہ ان کی سفاہت اور عناد کی دلیل ہے۔ وہ ایسی بات پر تعجب کرتے ہیں جو ایسی انوکھی چیز نہیں جس پر تعجب کیا جائے۔ تعجب تو ان کی جہالت اور اس چیز پر ہونا چاہیے کہ انہیں اپنے مصالح کی معرفت حاصل نہیں۔ وہ اس رسول کریم ﷺ پر کیسے ایمان نہیں لائے۔ جس کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہی میں سے چن کر رسول مبعوث کیا ہے وہ اسے اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح پہچاننے کا حق ہے۔ پس انہوں نے اس کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور اس کے دین کے ابطال کے سخت ھریض ٹھہرے۔ مگر اللہ تعالیٰ انے نور کو مکمل کر کے رہتا ہے خواہ کفار کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔
Ayahs 10:3–4

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

تمہارا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش (تخت شاہی) پر قائم ہوا وہی ہر ایک کام کا انتظام کرتا ہے۔ کوئی (اس کے پاس) اس کا اذن حاصل کئے بغیر (کسی کی) سفارش نہیں کرسکتا۔ یہی خدا تمہارا پروردگار ہے تو تم اسی کی عبادت کرو۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

اسی کے پاس تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ خدا کا وعدہ سچا ہے۔ وہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے۔ اور جو کافر ہیں ان کے لئے پینے کو نہایت گرم پانی اور درد دینے والا عذاب ہوگا کیونکہ (خدا سے) انکار کرتے تھے۔

آیت : (3-4) اللہ تبارک و تعالیی اپنی ربوبیت ‘ الوہیت اور عظمت بیان کرتے وئے فرماتا ہے : (ان ربکم اللہ الذین خلق السموت والارض فی ستۃ ایام) “ بیشک تمہارا رب الہ ہے جس نے آسمانوں اور زمن کو چھ دنوں میں پیدا کیا “ اس کے باوجود کہ وہ زمین اور آسمان کو ایک لحظہ میں پیدا کرنے پر قادر ہے۔ مگر حکمت الٰہی انہیں اسی طرح تخلیق کرنے میں تھی وہ اپنے افعال میں بہت نرم اور مہربان ہے۔ یہ اس کی حکمت ہے کہ اس نے کائنات کو حق کے ساتھ اور حق کے لئے پیدا کیا ‘ تاکہ اس کے اسماء وصفات کے ذریعے سے اس کی معرفت حاصل ہو نیز یہ کہ وہ اکیلا عبادت کا مستحق ہے۔ (ثم) ” پھر “ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے بعد (استوی علی العرش) ” وہ مستوی ہوا عرش پر۔ “ وہ استواء ایسا ہے جو اس کی عظمت کے لائق ہے (یدبر الامر) ” وہمعاملے کا انتظام کرتا ہے۔ “ یعنی وہ عالم علوی اور عالم سفلی کے تمام معاملات کی تدبیر کرتا ہے۔ موت دینا ‘ زندہ کرنا ‘ رزق نازل کرنا ‘ لوگوں کے درمیان گردش ایام ‘ ضرر رسیدہ لوگوں سے تکلیف دور کرنا اور سوال کرنے والوں کی ضرورت پوری کرنا۔ پس مختلف انواع کی تمام تدابیر اسی کی طرف سے نازل ہوتی ہیں اور اسی کی طرف بلند ہوتی ہیں۔ تمام کائنات اس کے غلبہ کے سامنے مطیع اور اس کی عظمت اور طاقت کے سامنے سرافگندہ ہے۔ (ما من شفیع الا من بعد اذنہ) ” کوئی سفارش نہیں کرسکتا ‘ مگر اس کی اجازت کے بعد “ جب تک اللہ تعالیٰ اجازت نہ دے کوئی شخص۔۔۔۔ خواہ وہ مخلق میں سے افضل ہستی ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے حضور کسی کی سفارش کے لئے آگے نہیں بڑگے گا اور وہ صرف اسی کے لئے سفارش کرے گا جس کے لئے اللہ تعالیٰ خود پسند کرے گا اور وہ صرف انہی کو پسند کرے گا جو اہل اخلاص اور اہل توحید ہوں گے۔ (ذلکم) “ یہی “ وہ ہستی جس کی یہ شان ہے (اللہ ربکم) ” اللہ ہے ‘ تمہارا رب “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو اوصاف الوہیت اور صفات کمال کی جامع ‘ اوصاف ربوبیت اور صفات افعال کی جامع ہے۔ (فاعبدوہ) ” پو تم اسی کی بندگی کرو “ یعنی عبودیت کی وہ تمام اقسام جن کو بجا لانے پر تم قادر ہو ‘ صرف اس اکیلے کے لئے مخصوص کرو۔ (افلا تذکرون) ” کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے “ کیا تم ان دلائل سے نصیحت حاصل نہیں کرتے جو اس حقیقیت پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ واحد معبود حمد وثناء کا مستحق اور جلال و اکرام کا مالک ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حکم کنی و قدری ‘ یعنی تدبیر عام اور اپنے حکم دینی یعنی اپنی شریعت ‘ جس کا مضمون اور مقصود صرف اسی کی عبادت ہے جس کا کوئی شریک نہیں ‘ کا ذکر فرمایا تو اپنے حکم جھزائی کا ذکر بھی فرمایا۔ یعنی انسان کے مرنے کے بعد اس کے تمام اعمال کی جزا دینا ‘ چناچہ فرمایا : (الیہ مرجعکم جمیعا) ” اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے “ یعنی وہ تمہارے مرنے کے بعد ایک مقرر وقت پر تم سب کو جمع کرے گا (وعد اللہ حقا) ” اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ “ یعنی اس کا وعدہ سچا ہے اور اس کا پورا ہونا لازمی ہے۔ (انہ بیدو الخلق ثم بعیدہ) ” وہی پیدا کرتا ہے پہلی بار ‘ پھر دوبارہ پیدا کرے گا اس کو “ پس جو تخلیق کی ابتدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے وہ اس کے اعادے پر بھی قادر ہے۔ لہٰذا وہ شخص جو ابتدائے تخلیق کو تسلیم کرتا ہے پھر وہ اعادہ تخلیق کا انکار کردیتا ہے ‘ عقل سے عاری ہے جو دو مماثل اشیاء میں سے ایک کا انکار کرتا ہے حالانکہ وہ اس تخلیق کا اقرار کرچکا ہے جو زیادہ مشکل ہے۔۔۔۔ یہ زندگی بعد موت کی نہایت واضح عقلی دلیل ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے نقلی دلیل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (لیجزی الذین امنوا) ” تاکہ بدلہ دے ان کو جو ایمان لائے “ جو صدق دل سے ان تمام امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے (وعملو الصلحت) ” اور عمل کے نیک “ وہ اپنے جوارح کے ذریعے سے واجبات و مستحبات پر عمل کرتے ہیں۔ (بالقسط) ” انصاف کے ساتھ “ یعنی اللہ تعالیٰ عدل کے ساتھ ان کے ایمان و اعمال کی جزا دے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ جزا اپنے بندوں کے سامنے بیان کردی ہے اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ یہ ایسی جزا ہے کہ کوئی نفس یہ نہیں جانتا کہ اس جزا میں اس کے لئے کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔ (والذین کفرو) ” اور وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰکی آیتوں کا انکار کیا اور اس کے رسول کی تکذیب کی۔ (لھم شراب من حمیم) ” ان کے لئے پینے کو نہایت گرم پانی ہوگا۔ “ جو چہروں کو جھلسا کر رکھ دے گا اور انتڑیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ (وعذابالیم) ” اور دردناک عذاب “ انہیں درد ناک عذاب کی تمام اصناف میں مبتلا کیا جائے گا۔ (بما کانو یکفرون) ” اس لے کہ وہ کفر کرتے تھے “ یعنی یہ عذاب ان کے کفر اور ظلم کے سبب سے ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا ‘ بلکہ وہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔
Ayahs 10:5–6

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرو۔ یہ (سب کچھ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ سمجھنے والوں کے لئے وہ (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے۔

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

رات اور دن کے (ایک دوسرے کے) پیچھے آنے جانے میں اور جو چیزیں خدا نے آسمان اور زمین میں پیدا کی ہیں (سب میں) ڈرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

آیت : (5-6) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی ربوبیت اور الوہیتکومتحقق کرنے کے بعد اپنے اسماء وصفات کے کمال پر عقلی اور آفاقی دلائل بیان کرتا ہے جو تمام آفاق ‘ یعنی سورج ‘ چاند ‘ زمین و آسمان اور کائنات میں پھیلی ہوئی تمام مخلوقات پر محیط ہیں اور آگاہ فرماتا ہے کہ یہ نشانیاں ان لوگوں کے لئے ہیں (لقوم یعلمون) ” جو علم رکھتے ہیں “ اور ان کے لئے ہیں جو تقویٰ کا التزام کرتے ہیں ‘ کیونکہ علم دلالت کی معرفت اور انتہائی مناسب طریقے سے دلائل کے استنباط کی کیفیت کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ تقویٰقلب میں بھلائی کی طرف رغبت اور برائی سے خوف کو جنم دیتا ہے۔ یہ دونوں دلائل وبراہین اور علم و یقین سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس تمام بحث کا حاصل یہ ہے کہ ان مخلوقات کی ‘ اس وصف کے ساتھ مجرد تخلیق اس کی کامل قدرت ‘ اس کے علم ‘ اس کی حیات اور اس کی قیومیت پر دلالت کرتی ہے۔ اس کائنات میں جاری احکام ‘ اس کا اتقان اور اس کا حسن و ابداع اللہ تعالیٰ کی حکمت ‘ اس کے حسن تخلیق اور وسعت علم پر دلالت کرتے ہیں۔ اس کائنات میں پھیلے ہوئے منافع و مصالح۔۔۔۔ مثلاً سورج کی روشنی اور چاند کے نور سے جو ضروری فوائد حاصلہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت ‘ اپنے بندوں پر اس کی عنایت ‘ اس کی لامحدود نوازش اور اس کے احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ اس کائنات کی خصوصیات اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے ارادہ ناذہ پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ سب کچھ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ‘ محبوب محمود ‘ جلال و اکرام اور عظیم اوصاف مالک ہے ‘ رغبت و رہبت کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ تمام امور میں مخلوقات و مربوبات ‘ جو بذاتخود اللہ کی محتاج ہیں ‘ کی بجائے اپنی دعا میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارا جائے۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کرنے اور ان کو عبرت کی نگاہ سے دیکھنے کی ترغیب ہے۔ اس لئے کہ اس سے بصیرت بڑھتی ہے ‘ ایمان و عقل میں اضافہ ہوتا ہے اور ملکہ راسخ ہوتا ہے اور ان میں غور و فکر نہ کرنے سیا للہ کے احکام سے بےپروائی ‘ ایمان میں زیادتی کا راستہ بند اور قلب و ذہن میں جمود طاری ہوتا ہے۔
Ayahs 10:7–8

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں اور دنیا کی زندگی سے خوش اور اسی پر مطمئن ہو بیٹھے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو رہے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

ان کا ٹھکانا ان (اعمال) کے سبب جو وہ کرتے ہیں دوزخ ہے۔

آیت : (7-8) (ان الذین لا یرجونلقاء نا) ” جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے۔ “ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی خواہش نہیں رکھتے ہیں جو سب سے بڑی خواہش ور سب سے بڑی آرزو ہے ‘ بلکہ وہ اس سے اعراض اور روگردانی کرتے ہیں اور بسا اوقات اس کی تکذیب کرتے ہیں (ورضوا بالحیوۃ الدنیا) ” اور وہ دنیا کی زندگی سے خوش ہیں۔ “ یعنی وہ آخرت کی بجائے دنیا پر راضی ہو گے۔ (واطما لوابھا) ” اور اسی پر مطمئن ہوگئے “ یعنی دنیا کی طرف مائل ہوگئے اور اسی کو اپنی منزل اور اسی کو اپنا مقصد زندگی بنا لیا۔ دنیا کے حصول کے لئے کوشاں رہے اس کی لذات و شہوات پو ٹوٹ پڑے۔ دنیا انہیں جس طریقے سے بھی حاصل ہوئی ‘ انہوں نے اسے حاصل کرلیا۔ دنیا کی چمک انہیں جہاں کہیں بھی دکھائی دی یہ اس کی طرف لپکے۔ انہوں نے اپنے ارادوں اور نیتوں کو دنیا ہی میں مصروف رکھا ‘ ان کے افکار و اعمال دنیا ہی کے محور پر گھومتی رہے۔ گویا کہ وہ دنیا میں ہمیشہ رہنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور گویا کہ دنیا ایک گزر گاہ نہیں جہاں سے مسافر ادراہ اکٹھا کر کے ہمیشہ رہنے وال منزل کی طرف رواں دواں رہتے ہیں۔ اولین و آخرین اس منزل کی نعمتوں اور لذتوں کی طرف کوچ کرتے ہیں اور لپکنے والے انہی کی طرف لپکتے ہیں۔ (والذین ھم عن ایتناغفلون) ” اور وہہماری آیتوں سے غافل ہیں۔ “ پو یہ آیات قرآنی اور آیات نفس و آفاق سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور دلیل سے رو گردانی درحقیقت مدلوں مقصود سے روگردانی اور غفلتکومستلزم ہے۔ (اولئک) جنکایہ وصف ہے (ماولھم انصار) ” انکا ٹھکانا آگ ہے۔ “ یعنی ان کا ٹھکانا اور مسکن جہنم ہے جہاں سے کبھی کوچ نہیں کریں گے۔ (بما کانو ایکسبون) ” بہ سبب اس کے جو کماتے تھے “ جہنم کا یہ عذاب اس پاداش میں ہے کہ انہوں نے کفر ‘ شرک اور مختلف قسم کے دیگر گناہوں کا ارتکاب کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نافرمانوں کے عذاب کا ذخر کرنے کے بعد اطاعت کرنے والے اہل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے :
Ayahs 10:9–10

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

(اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو پروردگار ان کے ایمان کی وجہ سے (ایسے محلوں کی) راہ دکھائے گا (کہ) ان کے نیچے نعمت کے باغوں میں نہریں بہ رہی ہوں گی۔

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

(جب وہ) ان میں (ان کی نعمتوں کو دیکھیں گے تو بےساختہ) کہیں گے سبحان اللہ اور آپس میں انکی دعا سلام علیکم ہوگی اور ان کا آخری قول (یہ ہوگا) کہ خدائے رب العالمین کی حمد (اور اس کا شکر) ہے۔

آیت : (9-10) (ان الذین امنوا وعملوا الصلحت) ” اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔ “ یعنی انہوں نے ایمان اور ایمان کے تقاضے کو جمع کیا یعنی ایمان لانے کے بعد اخلاص اور اتباع کے ساتھ اعمال صالحہ بجا لائے جو اعمال قلوب اور اعمال جو ارح پر مشتمل ہیں۔ (یھدیھم ربھم بایمانھم) ” ہدایت کرے گا انکو انکا رب ان کے ایمان کی وجہ سے “ یعنی اللہ تعالیٰ انکے سرمایہ ایمان کے سبب سے انہیں سب سے بڑا ثواب یعنی ہدایت عطا کرتا ہے۔ انہیں وہ علم عطا کرتا ہے جو ان کے لئے نفع مند ہے ‘ وہ انہیں ان اعمال سے نوازتا ہے جو ہدایت سے جنم لیتے ہیں۔ وہ اپنی آیات میں غور و فکر کرنے کے لئے ان کی راہ نمائی کرتا ہے ‘ اس دنیا میں انہیں راست دکھاتا ہے اور آخرت میں ان کو اس راستے پر گامزن کرتا ہے جو جنت کو جاتا ہے۔ بنا بریں فرمایا : (تجریمن تحتھمالانھر) ” انکے نیچے نہریں بہتی ہیں “ یعنی ہمشہ بہنے والی نہریں (فیجنت النعیم) ” نعمت والے باغوں میں “ اللہ تعالیٰ نے جنت کو (نعیم) ” نعمتوں والی “ کی طرف مضاف کیا ہے ‘ کیونکہ جنت ہر طرح سے کامل نعمتوں پر مشتمل ہوگی۔ قلب کو فرحت و سرور ‘ تروتازگی ‘ اللہ رحمن کا دیدار ‘ اس کے کلام کا سماع ‘ اس کی رضا اور قرب کے حصول کی خوشی ‘ دوستوں اور بھائیوں سے ملاقاتوں ‘ ان کے ساتھ اکٹحے ہونے ‘ طرب انگیز آوازوں ‘ مسحور کن نغمات اور خوش کن مناظر کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔ بدن کو مختلف انواع کے ماکولات و مشروبات اور بیویاں وغرہ عطا ہوں گی جو انسان کے علم سے باہر ہیں جن کے بارے میں انسان تصور تک نہیں کرسکتا اور نہ کوئی اس کا وصف بیان کرتا ہے۔ (دعولھم فیھا سبحنک اللھم) ” اس میں انکی پکار ہوگی ‘ اے اللہ تو پاک ہے “ یعنی جنت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اولین چیز تمام نقائص سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تنزیہ ہوگی اور آخر میں اس کے لئے حمد و ثنا۔ دارالجزا میں ان سے تمامتکالیف ساقط ہوجائیں گی۔ ان کے لئے سب سے بڑی لذت ‘ جو لذیز ترین ماکولات سے بھی زیادہ لذیز ہوگی اور وہ ہوگا اللہ تعالیٰ کا ذکر ‘ جس سے دل مطمئن اور روح خوش ہوگی اور ذخر الٰہی کی حیثیت ان کے لئے وہی ہوگی جو کسی متنفس کے لئے سانس کی ہوتی ہے ‘ مگر کسی کلفت اور مشقت کے بغیر۔ (وتحیتھم فیھا) ” اور اسمیں ان کی دعائے ملاقات “ یعنی ملاقات اور ایک دوسرے کی زیارت کے وقت ایک دسرے کو (سلم) ” سلام ہوگی “ یعنی وہ سلام کہہ کر ایک دسر کو خوش آمدید کہیں گے ‘ یعنی ان کی باہم گفتگو لغویا اور گناہ کی باتوں سے پاک ہوگی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد (دعولھم فیھا سبحنک۔۔۔۔ ) الایۃ کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ اہل جنت جب کھانے پینے کی حاجت محسوس کریں گے تو کہیں گے (سبحانک اللھم) اور ان کے سامنے اسی وقت کھانا حاضر ہوجائے گا۔ (واخر دعوھم ” اور ان کی آخری بات “ جب وہ کھانے سے فارغ ہوں گے تو کہیں گے (ان الحمد للہ رب العلمین) ” تمام تعریفیں صرف اللہ رب العالمین کے لئے ہیں۔ “
Ayah 10:11

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی۔ سو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کو توقع نہیں انہیں ہم چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں۔

آیت : (11) یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و احسان ہے کہ جب بندے برائی کے اسباب مہیا کرتے ہیں ‘ تو اگر اللہ تعالیٰ ان کو اس برائی میں عجلت سے پکڑنا اور انہیں فوراً عذاب میں مبتلا کرنا چاہے ‘ جس طرح وہ نیکی کرتے ہیں تو ان کے لئے جلدی سے ثواب لکھ لیا جاتا ہے ‘ (لقضی الیھم اجلھم) ” تو ختم کردی جائے ان کی عمر “ یعنی عذاب انکو ملیا میٹ کر دے۔۔۔۔ مگر اللہ تعالیں ان کو مہلت دیتا ہے اور اپنے بہت سے حقوق کے بارے میں ان کی کوتاہیوں کو معاف کردیتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے ظلم پر انکا مواخذہ کرے ‘ تو روئے زمین پر کسی جاندار کو نہ چھوڑے۔ اس آیت کریمہ میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ بسا اوقات انسان اپنے اہل و اولاد اور مال پر ناراض ہو کر بددعا کر بیٹھتا ہے اگر اس کی بددعا قبول ہوجائے تو سب ہلاک ہوجائیں اور اس سے اسے سخت نقصان پہنچے۔ مگر اللہ تعالیٰ نہایت حلیم اور حکمت والا ہے۔ (یعنی ایسی بددعاؤں کو قبول نہیں فرماتا) (فنذر الذین لا یرجون لقائنا) ” پس ہم چھوڑے رکھتے ہیں ان لوگوں کو جن کو ہماری ملاقات کی امید نہیں “ یعنی وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اسی لئے اس کے لئے کوئی تیاری نہیں کرتے اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ کون سی چیز انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دے گی۔ (فی طغیانھم) ” اپنی سرکشی میں۔ “ یعنی اپنے باطل میں ‘ جس کی بنا پر انہوں نے حق اور حدود سے تجاوز کیا۔ (یعمھون) ” وہ حیران اور سرگرداں پھرتے ہیں “ انہیں کوئی راستہ نہیں ملتا اور نہ وہ کسی مضبوط دلیل کی توفیق سے بہرہ ور ہوتے ہیں اور یہانکے ظلم اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار کی پاداش میں ان کے لئے سزا ہے۔
Ayah 10:12

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹا اور بیٹھا اور کھڑا (ہر حال میں) ہمیں پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دور کردیتے ہیں تو (بےلحاظ ہوجاتا اور) اس طرح گزر جاتا ہے کہ گویا کسی تکلیف پہنچنے پر ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کو ان کے اعمال آراستہ کر کے دکھائے گئے ہیں۔

آیت : (12) اس میں انسان کی فطرت کے بارے میں خبر دی گئی ہے کہ جب اسے کسی مرض یا مصیبت کی وجہ سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے ‘ تو خوب دعائیں کرتا ہے اور وہ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے ہرحال میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہے ‘ اپنی دعاؤں میں گڑگڑاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف کو دور کر دے۔ (فلما کشفنا عنھ ضرہ مر کان لم یدعنا الی ضرمسہ) ” پو جب ہم اس سے اس کی تکلیف کو دور کردیتے ہیں تو وہ (یوں) چلا جاتا ہے گویا کہ اس نے ہمیں کسی تکلیف کے پہنچنے پر پکارا ہی نہیں “ یعنی اپنے رب سے رو گردانی کرتے ہوئے غفلت میں مستغرق رہتا ہے گویا کہ اسے کوئی تکلیف ہی نہیں آئی ‘ جسے اللہ تعالیٰ نے دور کیا ہو۔ اس سے بڑھ کر اور کون سا ظلم ہے کہ انسان اپنی غرض پوری کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے اور جب اللہ تعالیٰ اس کی یہ غرض پوری کر دے تو پھر وہ اپنے رب کے حقوق کے حقوق کی طرف نہ دیکھے ‘ گویا کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا کوئی حق ہی نہیں۔ یہ شیطان کا آراستہ کرنا ہے۔ شیطان ان تمام چیزوں کو مزین کرتا ہے جو انسانی عقل و فطرت کے مطابق انتہائی بری اور قبیح ہیں۔ (گذلک زین للمسرفین) ” اسی طرح خوش نمابنا دیے گئے ہیں بےباک لوگوں کے لئے “ یعنی ان لوگوں کے لئے جو حدود سے تجاوز کرتے ہیں (ما کانوا یعملون) ” جو عمل وہ کرتے تھے۔ “
Ayahs 10:13–14

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

اور تم سے پہلے ہم کئی امتوں کو جب انہوں نے ظلم اختیار کیا ہلاک کرچکے ہیں۔ اور ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے۔ ہم گنہگار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد تم لوگوں کو ملک میں خلیفہ بنایا تاکہ دیکھیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔

آیت : (13-14) اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے گزشتہ قوموں کو ان کے کفر و ظلم کی بنا پر تباہ کردیا۔ رسولوں کے توسط سے ان کے پاس واضح دلائل آئے اور ان کے سامنے حق واضح ہوگیا مگر انہوں نے حق کو تسلیم نہ کیا اور وہ ایمان نہ لائے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کردیا جو کسی مجرم اور اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والے سے ہٹایا نہیں جاسکتا۔ تمام قوموں میں اللہ تعالیٰ کی یہی سنت ہے۔ (ثم جعلنکم) ” پھر بنایا ہم نے تم کو “ یعنی اے مخاطبو ! (خلئف فی الارض من بعد ھم لنظر کیف تعملون) ” زمین میں جانشین ان کے بعد ‘ تاکہ ہم دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو “ اگر تم نے گزشتہ قوموں سے عبرت حاصل کی اور نصیحت پکڑی ‘ اللہ تعالیٰ کی آیات کی اتباع کی اور اس کے انبیاء و رسول کی تصدیق کی ‘ تو تم دنیا و آخرت میں نجات پاؤ گے۔ اور اگر تم نے بھی وہی کام کئے جو تم سے پہلے ظالم قوموں نے کئے تھے ‘ تو تم پر بھی وہی عذاب بھیج دیا جائے گا جو ان پر بھیجا گیا تھا۔ اور جس نے تنبیہ کردی اس نے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا۔
Ayahs 10:15–17

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی اور قرآن (بنا) لاؤ یا اسکو بدل دو ۔ کہہ دو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دوں۔ میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے (سخت) دن کے عذاب سے خوف آتا ہے۔

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر خدا چاہتا تو (نہ تو) میں ہی یہ (کتاب) تم کو پڑھ کر سناتا اور نہ وہی تمہیں اس سے واقف کرتا۔ میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر رہا ہوں (اور کبھی) ایک کلمہ بھی اس طرح کا نہیں کہا بھلا تم سمجھتے نہیں ؟

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر چھوٹ افترا کرے اور اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ بیشک گنہگار فلاح نہیں بائیں گے۔

آیت : (15-17) اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذٰب کرنے والے کفار کی ڈھٹائی اور تعصب کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب ان کے سامنے آیات قرآنی کی تلاوتی کی جاتی ہے جو حق کو بیان کرتی ہیں تو یہ ان سے منہ پھیر لیتے ہیں اور جب ان سے اس ڈھٹائی اور تعصب کی وجہ پوچھی جاتی ہے تو وہ ظلم اور جسارت کا ارتکاب کرتے ہوئے کہتے ہیں : (ائت بقران غیر ھذا اوبدلہ) ” اس قرآن کے علاوہ کوئی اور لا ‘ یا اس کو بدل دے۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کا برا کرے ! وہ اللہ تعالیٰ کی شان میں کتنی بڑی گستاخی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو ٹھکرا کر کتنا سخت ظلم کرتے ہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے عظیم رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان سے کہہ دیں : (قلمایکون لی) ” کہہ دیجئے ! کہ مجھے یہ زیبا ہے نہ میرے حق لائق “ (ان ابدلہ من تلقای نفسی) ” کہ میں اس کو اپنی طرف سے بدل دوں “ کیونکہ میں تو صرف رسول ہوں میرے اختیار میں کچھ نہیں۔ (ان اتبع الا مایوحی الی) ” میں تو اسی حکمکا تابع ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے۔ “ یعنی اتباع وحی کے علاوہ میرا کوئی اختیار نہیں ‘ کیونکہ میں تو مامور بندوں ہوں۔ (انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم) ” میں ڈرتا ہوں ‘ اگ میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی ‘ بڑے دن کے عذاب سے “ یہمخلوق میں بہترینہستی کا قول ہے اور اللہ تعالیٰ کے اوامر اور وحی کے بارے میں یہ ادب ہے ‘ تب یہ بیوقوف اور گمراہ لوگ ‘ جنہوں نے جہالت اور گمراہی ‘ ظلم اور عناد اور اللہ رب العالمین پر اعتراضات اور عجز کی طرف اس کینسبت کو جمع کر رکھا ہے ‘ کیوں کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے گریز کرسکتے ہیں ‘ کیا وہ ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتے نہیں ؟ اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ان آیات و معجزات کے ذریعے سے انکے سامنے حق واضح ہوجائے ‘ جن کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں ‘ تو وہ اس بارے میں جھوٹے ہیں ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسی آیات بیانکر دی ہیں جو انسان کے بس سے باہر ہیں ‘ اللہ تعالیٰ جیسے چاہتا ہے اپنی رحمت اور حکمت ربانی کے مطابق ان آیات میں تصرف کرتا ہے۔ (قل لوشاء اللہ ما تلو تہ علیکم ولا ادرکم بہ فقد لبثت فیکم عمرا) ” کہہ دیجئے ! اگر اللہ چاہتا تو میں پڑھتا اس کو تمہارے سامنے نہ وہ خبر کرتا تم کو اس کی ‘ پس تحقیق میں رہ چکا ہوں تم میں ایک طویل عرصہ اس سے پہلے “ یعنی بہت طویل عرصہ تک میں تمہارے اندر رہا ہوں۔ (من قبلہ) ” اس سے پہلے “ یعنی اس کی تلاوت اور تمہارے اس کو جان لینے سے قبل۔ اور میں نے کبھی اس کے بارے میں سچا ہی نہ تھا اور یہ چیز کبھی میرے خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔ (افلا تعقلون) ” کیا پھر تم نہیں سوچتے یعنی میں نے عمر بھر تمہارے سامنے اس کو تلاوت نہیں کیا اور مجھ سے کبھی کوئی ایسی چیز صادر نہیں ہوئی جو اس پر دلالت کرتی ہو ‘ پھر اس کے بعد میں کیوں کر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ سکتا ہوں۔ میں نے تمہارے اندر ایک لمبی عمر گزاری ہے ‘ تم میری حقیقت حال سے خوب واقف ہو ‘ میرے ماں باپ کو جانتے ہو ‘ تم یہ بھیجانتے ہو کہ میں پڑھ سکتا ہوں نہ لکھ سکتا ہوں اور میں کسی سے درس لیتا ہوں نہ کسی سے تعلیم حاصل کرتا ہوں ؟ پس میں تمہارے پاس ایک عظیم کتاب لے کر آیا ہوں جس نے بڑے علماء اور فصحاء کو عاجز اور لاچار کردیا ‘ کیا اسکے باوجود یہ ممکن ہے کہ اس کتاب کو میں نے اپنی طرف سے تصنیف کرلیا ہو یا یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ یہ حکمت والے اور ستائش کے لائق اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے ؟ اگر تم اپنی عقل و فکر کو استعمال کرو ‘ میرے احولا اور اس کتاب کے حال میں تدبر کرو تو تمہیں قطعی یقین آجائے گا جس میں شک کی گنجائش نہیں کہ یہ حق ہے جس کے بعد گمراہی کے سوا کچھ باقی نہیں۔ مگر جب تم نے عناد کی بناء پر اسے جھٹلادیا تو اس میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ تم سخت ظالم ہو اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھایا اس کی آیتوں کو جھٹلایا ؟ اگر میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑوں ‘ تو میں لوگوں میں سب سے ظالم شخص اور فلاح سے محروم ہوں۔ میرے حالات تم سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ میں تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات لے کر آیا ہوں ‘ تم نے ان کو جھٹلایا ‘ جس سے یہ بات متعین ہوگئی کہ تم ظالم ہو۔ تمہارا معاملہ عنقریب مضمحل ہوجائے گا اور جب تک تم اپنی اس ڈگر پر چلتے رہو گے ‘ ہرگز فلاح نہیں پا سکو گے۔ ٍ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (قال الذین لا یرجون لقاء نا) ” نلوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں۔ “ دلالت کرتا ہے کہ جس چیز نے ان کو اس تعنت (کٹ حجتی) پر آمادہ کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے پر عدم ایمان اور اس کے ساتھ ملاقات ہونے پر عدم یقین جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ملاقات پر ایمان رکھتا ہے وہ لازمی طور پر اس کتاب کی اتباع کرتا ہے اور اس پر ایمان رکھتا ہے ‘ کیونکہ وہ صحیح نیت والا ہے۔
Ayah 10:18

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

اور یہ (لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ انکا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کرسکتی ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کہ کیا تم خدا کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں ؟ وہ پاک ہے اور (اسکی شان) انکے شرک کرنے سے بہت بلند ہے۔

آیت : (18) اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (ویعبدون) ” اور پرستش کرتے ہیں “ یعنی رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین۔ (من دون اللہ ما لا یضروھم ولا ینفعھم) ” اللہ کے سوا ‘ اس چیز کی جو ان کو نقصان پہنچا سکے نہ نفع “ یعنی ان کے معبودان باطل ان کو ذرہ بھر فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور نہ ان سے کسی ضرر کو دور کرسکتے ہیں۔ (ویقولون) ” اور وہ کہتے ہیں۔ “ ایسی بات جو دلیل سے بالکل خالی ہے۔ (ھولاء شفعاؤنا عند اللہ) ” یہ اللہ کے ہاں ہمار سفارشی ہیں “ یعنی وہ ان معبودان باطل کی عبادت محض اس لئے کرتے ہیں ‘ تاکہ وہ انہیں اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں اور اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں۔ ایہ ان کی اپنی طرف سے گھڑی ہوئی بات ہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اس عقیدے کا ابطال کرتے ہوئے فرمایا : (قل اتنبؤن اللہ بما لا یعلم فی السموت ولا فی الارض) ” کہہ دیجئے ! کیا تم اللہ کو بتلاتے ہو جو اس کو معلوم نہیں ‘ آسمانوں میں اور زمین میں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے جس نے اپنے علم کے ذریعے سے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے اس نے تمہیں آگاہ کیا ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کے ساتھ کوئی معبود نہیں۔ پس اے مشرکو ! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ مزین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں ؟ کیا تم اللہ تعالیٰ کو ایسے معاملے کی خبر دے رہے ہو جو اللہ تعالیٰ سے مخفی ہے اور تم اسے جانتے ہو ؟ کیا تم اللہ تعالیٰ سے زیادہ جانتے ہو ؟ کیا اس عقیدے سے زیادہ باطل عقیدہ پایا جاسکتا ہے جو اس امر کا متضمن ہے کہ یہ گمراہ ‘ جہال اور بیوقوف لوگ ‘ اللہ رب العالمین سے زیادہ علم رکھتے ہیں ؟ عقل مند شخص کے لئے اس عقیدے کا مجرد تصور ہی یہ جاننے کے لئے کافی ہے کہ یہ قطعی طور پر فاسد اور باطل عقیدہ ہے۔ (سبحنہ وتعلیٰ عما یشرکون) ” وہ پاک ہے اور ان کے شرک سے بہت زیادہ ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ اس اس بات سے پاک اور منزہ ہے کہ کوئی اس کا شریک یا نظیر ہو ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ واحد ‘ فرد اور بےنیاز ہے ‘ آسمانوں اور زمین میں اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس عالم علوی اور سفلی میں اللہ تعالیٰ کے سوا ہر معبود عقل ‘ شرع اور فطرت کے اعتبار سے باطل ہے۔ (ذلک بان اللہ ھو الحق وان ما یدعون من دونہ ھوالباطل و ان اللہ ھو العلی الکبیر) (الحج : 62/22) ” اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ ہی کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں اور اللہ ہی بلند اور بڑا ہے۔ “
Ayahs 10:19–20

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:19 in the Quran reader

اور (سب) لوگ پہلے ایک ہی امت (یعنی ایک ہی ملت پر) تھے۔ پھر جدا جدا ہوگئے اور اگر ایک بات جو تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے ہوچکی ہے نہ ہوتی تو جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ Open ayah 10:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی ؟ کہہ دو کہ غیب (کا علم) تو خدا ہی کو ہے۔ سو تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

آیت : (19-20) (وما کان الناس الا امۃ واحد) ” اور نہیں تھے لوگ مگر ایک ہی امت “ یعنی تمام لوگ صحیح دین پر متفق تھے ‘ پھر ان میں اختلاف واقع ہوگیا ‘ تب اللہ تعالیٰ نے رسول مبعوث فرمائے جو خوشخبری سنانے والے اور برے انجام سے ڈرانے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ‘ تاکہ وہ لوگوں کے درمیان اس بارے میں فیصلہ کرے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ (ولو لا کلمۃ سبقت من ربک) ” اور ار نہ ہوتی ایک بات جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے سے طے ہوچکی ہے “ کہ نافرمانوں کو مہلت دینی ہے اور ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کا فوری مواخذہ نہیں کرنا۔ (لقضی بینھم) ” تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا ہے “ بایں طور پر کہ ہم اہل ایمان کو بچا لیتے اور جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کردیتے اور یہ چیز ان کے درمیان امتیاز اور تفریق کی علامت بن جاتی۔ (فیما فیہ یختلفون) ” ان چیزوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے تھے “ مگر اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ انکو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزمائے اور آزمائش میں مبتلا کرے ‘ تاکہ سچے اور جھوٹے کے درمیان فرق واضھ ہوجائے۔ (ویقولون) ” اور یہ کہتے ہیں۔ “ یعنی لغزشیں تلاش کرنے اور جھٹلانے والے کہتے ہیں : (لو لا انزل علیہ ایۃ من ربہ) ” کیوں نہیں اتاری گئی اس پر کوئی آیت اس کے رب کی طرف سے “ یعنی وہ آیات جن کا وہ مطالبہ کرتے ہیں ‘ مثلاً وہ کہا کرتے تھے : (لو لا انزل الیہ ملک فیکون معہ نذیرا) (الفرقان : 8/28) ” اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں نازل کیا گیا جو ڈرانے کو اس کے ساتھ رہتا “ اور جیسے ان کا یہ قول ہے (وقالو الن نومن لک حتیٰ تفجر لنا من الارض ینبوعا) (بنی سسرائیل : 90/18) ” اور انہوں نے کہا : ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تم ہمارے لئے زمین میں سے چشمہ جاری نہ کردو۔ “ (فقل) جب وہ آُ سے کسی آیت کا مطلبہ کریں تو آپ کہہ دیجئے ! (انما الغیب للہ) ” غیب کی بات تو اللہ ہی جانے “ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم کے ذریعے سے اپنے بندوں کے احوال کا احاطہ کئے ہوئے ہے ‘ وہ اپنے علم اور انوکھی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان کی تدبیر کرتا ہے کسی حکم ‘ کسی دلیل ‘ کسی غایت و انتہا اور کسی تعلیل کی تدبیر میں کسی کا کوئی اختیار نہیں۔ (فانتظروا انی معکم من المنتظرین) ” پس انتظار کرو ‘ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں “ یعنی ہر ایک دوسرے کے بارے میں منتظر رہے جس کا وہ اہل ہے اور دیکھے کہ کس کا انجام اچھا ہوتا ہے ؟
Ayah 10:21

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ Open ayah 10:21 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد (اپنی) رحمت (سے آسائش) کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں میں حیلے کرنے لگتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے۔ اور جو حیلے تم کرتے ہو ہمارے فرشتے ان کو لکھتے جاتے ہیں۔

آیت : (21) اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (واذ اذقنا الناس رحمۃ من بعد ضراء مستھم) ” اور جب چکھائیں ہم لوگوں کو مزا اپنی رحمت کا ‘ ایک تکلیف کے بعد جو ان کو پہنچی تھی “ مثلاً مرض کے بعد صحت ‘ تنگ دستی کے بعد فراخی اور خوف کے بعد امن ‘ تو وہ بھول جاتے ہیں کہ انہیں کیا تکلیف پہنچی تھی اور وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ فراخی اور اس کی رحمت کا اس کا شکر ادا نہیں کرتے ‘ بلکہ وہ اپنی سازشوں اور سرکشی پر جمے رہتے ہیں۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ فرمایا : (اذالھم مکر فی ایاتنا) ’‘’ اسی وقت بنانے لگیں وہ حیلے ہماری آیتوں میں “ یعنی وہ باطل میں کوشاں رہتے ہیں ‘ تاکہ اس کے ذریعے سے حق کو باطل ثابت کریں (قل اللہ اسرع مکرا) ” کہہ دیجئے ! اللہ حیلے بنانے (تدبیر کرنے) میں زیادہ تیز ہے “ کیونکہ بری چالوں کا وبال چال چلنے والے ہی پر پڑتا ہ۔ ان کے برے مقاصد انہی پر پلٹ جاتے ہیں اور وہ برے انجام سے محفوظ نہیں رہتے ‘ بلکہ فرشتے ان کے اعمال لکھتے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو محفوظ کرلیتا ہے پھر وہ ان کو ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
Ayahs 10:22–23

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے ہو اور کشتیاں پاکیزہ ہوا (کے نرم نرم جھونکوں سے) سواروں کو لے کر چلنے لگتی ہیں اور وہ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے اور لہریں ہر طرف سے ان پر (جوش مارتی ہوئی) آنے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ (اب تو) لہروں میں گھر گئے تو اس وقت خالص خدا ہی کی عبادت کر کے اس سے دعا مانگتے ہیں کہ (اے خدا) اگر تو ہم کو اس سے نجات بخشے تو ہم (تیرے) بہت ہی شکر گزار ہوں۔

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

لیکن جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں لوگو ! تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا۔ (تم) دنیا کی زندگی کے فائدے (اُٹھالو) پھر تم کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

آیت : (22-23) جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانون کے بارے میں ایک عام قاعدہ بیان فرمایا کہ تکلیف کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نزول اور تنگ دستی کے بعد فراخی کے وقت ان کا کیا حال ہوتا ہے ‘ تو اب ان کی اس حالت کا ذکر فرماتا ہے جو اس کی تائید کرتی ہے۔ یہ ان کی وہ حالت ہے جب وہ سمندر کے اندر سفر کرتے ہیں اور سمندر سخت جوش میں ہوتا ہے اور ان کو اس کے انجام کا خوف ہوتا ہے ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ھو الذی یسیر کم فی البر والبحر) ” وہی ہے جو تمہیں چلاتا ہے خشکی اور سمند میں “ یعنی ان اسباب کے ذریعے سے جو اس نے تمہیں مہیا کئے ہیں اور ان کی طرف تمہاری رہنمائی فرمائی ہے (حتیٰ ان کنتم فی الفلک) ” یہوں تک کہ جب تم کشتیوں میں بیٹھتے ہو “ یعنی بحری جہازوں میں (وجرین بھم بریح طیبۃ) ’‘’ اور لے کر چلیں وہ ان کو اچھی ہوا سے “ یعنی کے ہوا جو ان کی خواہش کے موافق بغیر کسی مشقت اور گھبراہٹ کے ان جہازوں کو چلاتی ہے (وفرحوابھ ” اور وہ خوش ہوں ساتھ ان کے “ اور ان ہواؤں پر نہایت مطمئن ہوتے ہیں اور وہ اسی حال میں ہوتے (جاء تھا ریح عاصف) ” اچانک زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے “ یعنی کشتیوں پر سخت ہوا آئی الموج من کل مکان وظنوا انھم احیط بھم) ” اور آئی ان پر موج ہر جگہ سے اور انہوں نے جا وہ گھر گئے “ یعنی انہیں یقین ہوجاتا ہے کہ اب ان کی ہلاکت یقینی ہے ‘ تب اس وقت مخلوق سے ان کے تمام تعلق منقطع ہوجاتے ہیں اور انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ اس مصیبت اور سختی سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا ‘ تب اس وقت (دعوا اللہ مخلصین لہ الدین) ” وہ دین کو اللہ کیلئے خالص کر کے اسی کو پکارتے ہیں “ اور الزامی طور پر اپنے آپ سے وعدہ کرتے ہیں ‘ چناچہ کہتے ہیں (لئن انجیتنا من ہذہ لنکونن من الشکرین) ” اگر تو ہمیں اس مصیبت سے بچا لے تو ہم تیرے شکر گزار ہوجائیں گے۔ “ (فلما انجھم اذا ھم یبغون فی الارض بغیر الحق) ” پس جب اللہ نے ان کو نجات دے دی ‘ تو اسی وقت شرارت کرنے لگے زمین میں ناحق۔ “ یعنی وہ اس سختی کو جس میں وہ مبتلا تھے ‘ ان دعاؤں کو جو وہ مانگتے رہے تھے اور ان وعدوں کو جو انہوں نے اپنے اوپر لازم کئے تھے ‘ فراموش کردیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں جس کے بارے میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ اس کے سوا کوئی ہستی انہیں ان سختیوں سے نجاد دے سکتی ہے نہ ان کی تنگی دور کرسکتی ہے۔ پس انہوں نے اپنی فراخی اور کشادگی میں عبادت کو اللہ کے لئے خالص کیوں نہ کیا جس طرح انہوں نے سختی میں اپنی عبادت کو اللہ کے لئے خالص کیا تھا مگر اس بغاوت اور سرکشی کا وبال انہیں پر پڑے گا۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (یایھا الناس انما بغیکم علی انفسکم متاع الحیوۃ الدنیا) ” اے لوگو ! تمہاری شرارت تمہی پر پڑے گی ‘ نفع اٹھا لو دنیا کی زندگی کا “ یعنی اللہ تعالیٰ سے سرکشی و بغاوت اور اس کے لئے اخلاص سے دور بھاگنے میں ان کی غرض وغایت ان کی غرض وغایت یہ ہے کہ وہ دنیا کے چند ٹکڑے اور اس کا مال و جاہ اور معمولی سے فوائد حاصل ہوں جو بہت جلد ختم ہوجائیں گے ‘ سب کچھ ہاتھوں سے نکل جائے گا اور تم اسے چھوڑ کر یہاں سے کوچ کر جاؤ گے۔ (ثم الینا مرجعکم) ” پھر ہمارے پاس ہی تمہیں لوٹ کر آنا ہے “ یعنی قیامت کے روز (فننبئکم بما کنتھم تعملون) ” پھر ہم تمہیں بتلا دیں گے جو کچھ کہ تم کرتے تھے “ اس آیت کریمہ میں ان لوگون کو ان کے اپنے ان اعمال پر جمے رہنے سے ڈرایا گیا ہے۔
Ayah 10:24

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 10:24 in the Quran reader

دنیا کی زندگی کی مثال مینہ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا۔ پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں مل کر نکلا یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی۔ اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر پوری دسترس رکھتے ہیں۔ ناگہاں رات کو یا دن کو ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے اس کو کاٹ (کر ایسا کر) ڈالا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لئے ہم (اپنی قدرت کی) نشانیاں اسی طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں

آیت : (24) یہ بہترین مثال ہے اور یہ مثال دنیا کی حالت سے مطابقت رکھتی ہے کیونکہ دنیا کی لذات و شہوات اور اس کا مال و جاہ دنیا کے حریض بندے کے لئے بہت پرکشش ہے اگرچہ اس کی چمک دمک بہت تھوڑے وقت کے لئے ہے۔ جب دنیا مکمل ہوجاتی ہے تو مضحمل ہو کر اپنے چاہنے والے سے زائل ہوجاتی ہے یا چاہنے والا دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔ پس بندہ بنیا سے خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور اس کا دل حزن و ٹم اور حسرت سے لبریز ہوجاتا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے (کماء انزلنہ من السماء فاخطلط بہ نبات الارض) ” مانند اس پانی کے جیسے ہم نے آسمان سے اتارا ‘ پھر مل جل گیا اس سے سبزہ زمین کا “ یعنی زمین کے اندر ہر قسم کی نباتات اور خوبصورت چوڑے اگ آئے (مما یا کل الناس) ” جو کہ کھائیں آدمی “ مثلاً غلہ جات اور پھل وغیرہ (والانعام) ” اور مویشی “ یعنی اور وہ چیزیں جو مویشی کھاتے ہیں ‘ مثلاً مختلف اقسام کی کھ اس پات ‘ وغیرہ (حتیٰ اذا اخذت الارض زخرفھا واذینت) ” یہاں تک کہ جب پکڑٰ زمین نے اپنی رونق اور خوش مزین ہوگئی “ یعنی جب اس کا منظر خوبصورت ہوجاتا ہے اور زمین خوبصورت لباس پہن لیتی ہے ‘ تو دیکھنے والوں کے لئے خوش منظر ‘ غلم ہلکا کرنے والوں کے لئے ذریعہ تفریح اور بصیرت حاصل کرنے والوں کے لئے ایک نشانی بن جاتی ہے۔ تب تو عجیب نظارہ دیکھے گا جس میں سبز ‘ زرد اور سفید رنگ دکھائی دیں گے۔ (وظن اھلھا انھم قدرون علیھا) ” اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ (فصل) ان کے ہاتھ لگے گی “ یعنی وہ سمجھنے لگتے ہیں یہ دنیا ان کے پاس ہمیشہ رہے گی ‘ کیونکہ ان کا ارادہ اسی پر ٹھہرا ہوا ہے اور ان کی طلب کی انتہا یہی ہے۔ پس وہ اسی حالت میں ہوتے ہیں کہ (اتھا امرنا لیلا اونھارا فجعلنھا حصیدا کان لم تغن بالامس) ” ناگہاں پہنچا اس پر ہمارا حکم ‘ رات کو یا دن کو ‘ پھر کردیا اس کو کاٹ کر ڈھیر ‘ گویا کہ کل یہاں آباد ہی نہ تھی “ یعنی دنیا کی یہ خوبصورتی کبھی تھی ہی نہیں۔ پس یہی حالت دنیا کی ہے ‘ بال کہ اس جیسی ہی۔ (کذلک نفصل الایت) ” ہم اسی طرح کھول کھول کر نشانیاں بیان کرتے ہیں “ یعنی ہم ان آیات کو ‘ ان کے معانی کو قریب لا کر اور مثالیں بیان کر کے واضح کرتے ہیں (لقوم یتفکرون) ” ان لوگوں کے سامنے جو غور و فکر کرتے ہیں “ یعنی اپنی فکر کو ان کاموں میں استعمال کرتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتے ہیں۔ رہا غفلت میں ڈوبا ہوا اور روگردانی کرنے والا شخص ‘ تو یہ آیت اسے کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ ان کا بیان اس کے شک کو کم کرسکتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کا حال اور اس کی نعمتوں کے حاصل کا ذکر کیا ‘ تو اب ہمیشہ ‘ باقی رہنے والے گھر کا شوق دلایا ہے ‘ چناچہ فرمایا :
Ayahs 10:25–26

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 10:25 in the Quran reader

اور خدا سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

جن لوگوں نے نیکو کاری کی انکے لئے بھلائی ہے اور (مزید برآں) اور بھی اور انکے مونہوں پر نہ تو سیاہی چھائے گی اور نہ رسوائی۔ یہی جنتی ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

آیت : (25-26) اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سلامتی کے گھر کی طرف عام دعوت اور اس اس کو حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ وہ جس کو اپنے لئے خالص کر کے چن لینا چاہتا ہے اس کیلئے ہدایت کو مخصوص کردیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اس کے لئے اپنی رحمت کو مختص کردیتا ہے ‘ یہ اس کا عدل و حکمت ہے اور حق و باطل کو بیان کردینے اور رسولوں کو مبعوث کرنے کے بعد کسی کے لئے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کو ” دارالسلام “ کے نام سے اس لئے موسوم کیا ہے کہ یہ تمام آفات اور نقائص سے محفوظ اور سلامت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی نعمتیں کامل ‘ ہمیشہ رہنے والی اور ہر طرح سے خوبصورت ہیں۔ اور جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سلامتی کے گھر کی طرف بلایا تو گویا ان نفوس کو ان اعمال کا اشتیاق پیدا ہوا جو ان کو اس گھر میں پہنچانے کے موجب ہیں۔ فرمایا : (للذین احسنو الحسنی و زیادۃ) ” ان لوگوں کے واسطے جنہوں نے بھلائی کی ‘ بھلائی اور مزید ہے “ یعنی ان لوگون کے لئے جنہوں نے خالق کی عبادت میں احسان سے کام لیا یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں مراقبہ اور خیر خواہی کے ساتھ اسک کی عبادت کی اور مقدور بھر اس عبودیت کو قائم رکھا اور اپنی استطاعت کے مطابق اللہ تعالیٰ کے بندوں سے احسان قولی اور احسان فعلی کے ساتھ پیش آئے اور ان کے ساتھ مالی اور بدنی احسانات سے کام لیا ‘ نیکی کا حکم دیا ‘ برائی سے روکا ‘ جہلا کو تعلیم دی ‘ روگردانی کرنے والوں کی خیر خواہی کی ‘ نیکی اور احسان کے دیگر تمام پہلوؤں پر عمل کیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو احسان کے مرتبہ پر فائز ہوئے اور انہی کے لئے (الحسنی) ہے یعنی ایسی جنت جو اپنے حسن و جمال میں کامل ہے۔ مزید برآن ان کے لئے اور بھی انعام ہے۔ یہاں (زیادۃ) ” مزید “ سے مراد اللہ تعالیٰ کے چہرہ انور کا دیدار ‘ اس کلام مبارک کا سماع ‘ اس کی رضا کا فیضان اور اس کے قرب کا سرور ہے۔ اس ذریعے سے انہیں وہ بلند مقامات حاصل ہوں گے کہ تمنا کرنے والے ان کی تمنا کرتے ہیں اور سوال کرنے والے اللہ تعالیٰ سے انہیں مقامات کا سوال کرتے ہیں۔ اسے پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے محذورات کے دور ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (ولا یرھق وجوھھم قتر ولا ذلۃ) ” اور نہ چڑھے گی ان کے چہروں پر سیاہی اور نہ رسوائی “ یعنی انہیں کسی لحاظ سے بھی کسی ناگوار صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ‘ کیونکہ جب کوئی نگوار امر واقع ہوتا ہے تو یہ ناگوار امر اس کے چہرے پر ظاہر ہوجاتا ہے اور چہرہ تغیر اور تکدر کا شکار ہوجاتا ہے۔ رہے یہ لوگ تو ان کی حالت ایسے ہوگی جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (تعرف فی وجوھھم نضرۃ النعیم) (المطففین : 24/83) ” تو ان کے چہروں میں نعمتوں کی تازی معلوم کرلے گا “۔ (اولئک اصحب الجنۃ) ” یہی ہیں جنت میں رہنے والے “ (ھم فیھا خالدون) ” وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ “ یعنی وہ جنت سے منتقل ہوں گے نہ اس سے دور ہوں گے اور نہ وہ تبدیل ہوں گے۔
Ayah 10:27

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

اور جنہوں نے برے کام کئے تو برائی کا بدلہ ویسا ہی ہوگا۔ اور ان کے مونہوں پر ذلّت چھا جائے گی اور کوئی انکو خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ ان کے مونہوں (کی سیاہی کا یہ عالم ہوگا کہ ان) پر گویا اندھیری رات کے ٹکڑے اوڑھا دئیے گئے ہیں۔ یہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

آیت : (27) اصحاب جنت کا ذخر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کا ذکر فرمایا کہ ان کی کل کمائی جس کا انہوں نے دنیا میں اکتساب کیا ‘ برے اعمال ہیں جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے ‘ مثلاً کفر کی مختلف انواع ‘ انبیاء کی تکذیب اور گناہ کی مختلف اقسام۔ (جزاء سیءۃ بمثلھا) ” تو برائی کا بدلہ بھی ویسا ہی ہوگا۔ “ یعنی ان کو ایسی جزا دی جائے گی جو ان کے مختلف احوال اور ان کے برے اعمال کے مطابق بری ہوگی۔ (وتر ھقھم) ” اور ان کو ڈھانک لے گی۔ “ (ذلۃ) ” رسوائی “ یعنی ان کے دلوں میں ذلت اور اللہ کے عذاب کا خوب ہوگا۔ کوئی ان سے اس خوف کو دور نہیں کرس کے گا اور نہ کوئی بچانے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے گا۔ یہ باطنی ذلت ان کے ظاہر میں بھی سرایت کر جائے گی اور ان کے چہرے کی سیاہی بن جائے گی۔ (کانما اغشیت وجوھھم قطعا من الیل مظلما اولئک اصحب النار ھم فیھا خلدون) ” گویا کہ ڈھانک دئے گئے ان کے چہرے اندھیری رات کے ٹکڑوں سے ‘ یعنی لوگ ہی جہنمی ‘ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے “ ان دو گروہوں کے احوال میں کتنا فرق ہے اور دونوں کے درمیان کتنا بعد اور تفاوت ہے ! (وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربھا ناظرۃ۔ ووجوہ یومئذ باسرۃ۔ ٹظن ان یفعل بھا فاقرۃ) (القیامۃ : 25-22/75) ” اس روز بہت سے چہرے ترو تازہ ہوں گے ‘ اپنے رب کا دیدار کر رہے ہوں گے اور بہت سے چہرے اداس ہوں گے اور سمجھ رہے ہوں گے کہ ان پر مصیبت نازل ہونے والی ہے۔ “ (وجوہ یومئذ مسفرۃ ضاحکۃ مستبشرۃ ووجوہ یومئذ علیھا غبرۃ ترھقھا قترۃ اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ) (عبس : 37-42/80) ” بہت سے چہرے اس روز روشن اور خنداں و شاداں ہوں گے اور کتنے ہی چہرے ہوں گے جو گرد سے اٹے ہوئے ہوں گے سیاہی نے ان کو ڈھانک رکھا ہوگا۔ یہ فجار اور کفار ہیں۔ “
Ayahs 10:28–30

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 10:28 in the Quran reader

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ تو ہم ان میں تفرقہ ڈال دیں گے اور انکے شریک (ان سے) کہیں گے کہ تم ہم کو تو نہیں پوجا کرتے تھے۔

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ Open ayah 10:29 in the Quran reader

ہمارے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے۔ ہم تمہاری پرستش سے بالکل بیخبر تھے۔

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

وہاں ہر شخص (اپنے اعمال کی) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا اور وہ اپنے سچے مالک کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ وہ بہتان باندھا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہے گا۔

آیت : (28-30) (ویوم نحشرھم جمیعا) ” اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے۔ “ یعنی ایک مقرر دن میں ہم تمام مخلوقات کو جمع کریں گے ‘ ہم مشرکین اور ان کے ان معبودان باطل کو بھی اکٹھا کریں گے جن کی یہ مشرکین عبادت کیا کرتے تھے۔ (ثم نقول للذین اشرکوا مکانکم انتم وشرکاء کم) ” پھر ہم کہیں گے شرک کرنے والوں کو کھڑے ہو اپنی اپنی جگہ ‘ تم اور تمہارے شریک “ یعنی اپنی جگہ پر کھڑے رہو ‘ تاکہ تمہارے اور تمہارے معبودوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے۔ (فزیلنا بینھم) ” پھر ہم ان کے درمیان تفرقہ ڈال دیں ہے۔ “ یعنی ہم بعد بدنی اور بعد قلبی کے ذریعے سے ان کے درمیان جدائی ڈال دیں گے ‘ دنیا میں وہ ایک دوسرے کے لئے خالص محبت و مودت رکھتے تھے ‘ اب ان کے درمیان سخت عداوت ہوگی۔ یہ محبت اور دوستی سخت عداوت اور بغض میں بدل جائے گی۔ (وقال شرکاؤھم) ” اور ان کے شریک کہیں گے “ یعنی ان کے ٹھہرائے ہوئے شریک ان سے بیزار کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے۔ (ما کنتم ایانا تعبدون) ” تم ہماری عبادت تو نہ کرتے تھے “ کیونکہ ہم تو اللہ تبارک و تعالیٰ کو اس سے پاک اور منزہ گردانتے ہیں کہ اس کا کوئی شریک اور ہمسر ہو۔ (فکفی باللہ شھیدا بیننا وبینکم ان کنا عن عبادتکم لغفلین) ” پس اللہ کافی ہے گواہ ‘ ہمارے اور تمہارے درمیان ‘ یقیناً ہم تمہاری عبادت سے بیخبر تھے “ ہم نے تمہیں عبادت کا حکم دیا تھا نہ ہم نے تمہیں اس کی طرف بلایا تھا ‘ بلکہ درحقیقت تم نے تو اس کی عبادت کی ہے جس نے تمہیں اس شرک کی طرف دعوت دی اور وہ ہے شیطان مردود ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے متنبہ فرمایا تھا : (الم اعھد الیکم یبنی ادم ان لاتعبدوا الشیطن انہ لکم عدو مبین) (یسین : 60/36) ” اے اولاد آدم ! کیا میں نے تمہیں کہہ نہ دیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا ‘ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ویوم یحشر ھم جمیعا ثم یقول للملئکۃ اھو لاء ایاکم کانو یعبدون۔ قالوا سبحنک انت ولینا من دونھم بل کانوا یعبدون الجن اکثرھم بھم مومنون) (سبا : 40-41/34) ” اور جس روز وہ ان سب کو اکٹھا کرے گا ‘ پھر فرشتوں سے کہے گا کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے ؟ وہ عرض کریں گے ‘ تو پاک ہے ‘ ان کی بجائے تو ہمارا دوست ہے ‘ بلکہ یہ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے اور ان میں سے اکثر لوگ انہی کی بات مانتے تھے۔ “ اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتے ‘ انبیائے کرام علی السلام اور اولیائے عظام و غیر ہم قیامت کے روز ان لوگوں سے برات کا اظہار کریں گے جو ان کی عبادت کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے آپ کو (اس الزام سے) بری کریں گے کہ وہ ان لوگوں کو اپنی عبادت کی دعوت دیتے تھے اور وہ اپنی اس براءت میں سچے ہوں گے۔ تب اس وقت مشرکین کو اتنی زیادہ حسرت ہوگی کہ اس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ انہیں انے اعمال کی مقدار کا علم ہوجائے گا اور انہیں یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ ان سے کیا ردی خصائل صادر ہوتے رہے ہیں۔ اس روز ان پر عیاں ہوجائے گا کہ وہ جھوٹے تھے اور اللہ تالیٰ پر بہتان طرازی کیا کرتے تھے۔ ان کی عبادتیں گم اور ان کے معبود نا بود ہوجائیں گے اور ان کے تمام اسباب و وسائل منقطع ہوجائیں گے۔ بنا بریں فرمایا : (ھنالک) ” وہاں “ یعنی اس روز (تبلوا کل نفس ما اسلفت) ” جانچ لے گا ہر کوئی جو اس نے پہلے کیا “ یعنی ان کے اعمال کی پڑتال کی جائے گی اور ان کی نوعیت کے مطابق ان کو جزا دی جائے گی۔ اگر اعمال اچھے ہوں گے ‘ تو اچھی جزا ہوگی ‘ اگر اعمال برے ہوں گے ‘ تو جزا بھی بری ہوگی۔ (وردوا الی اللہ مولھم الحق وضل عنھم ما کانوا یفترون) ” اور وہ اللہ کی طرف لوٹا دیئے جائیں گے ‘ جو ان کا سچا مالک ہے اور جاتا رہے گا ان سے جو جھوٹ باندھتے تھے “ یعنی اپنے شرک کے بارے میں انہوں نے بہتان طرازی کی تھی کہ یہ معبود ان باطل جن کی یہ عبادت کرتے تھے ‘ ان کو فائدہ دے سکتے ہیں اور عذاب کو ان سے دور کرسکتے ہیں۔ (اس روز ان بہتانوں کی حقیقت واضح ہوجائے گی) ۔