Ayahs 10:1–21 ۔ بشریت پیغمبر عقل ونقل کا تقاضا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ لوگوں کو بشر کے ذریعے نور وحی سے نوازنا کرم بالائے کرم اور عقل ونقل کا تقاضا ہے۔ استفہام یہاں پر انکاری ہے کہ یہ بات تعجب کی نہیں، بلکہ عین حکمت اور عقل و فطرت کا تقاضا ہے۔ کہ استفہام یہاں پر انکاری ہے کہ یہ بات تعجب کی نہیں بلکہ عین حکمت اور عقل و فطرت کا تقاضا ہے کہ حضرت خالق۔ جل مجدہ۔ کی طرف سے اس کی مخلوق کی راہنمائی کا اس طرح انتظام فرمایا جائے۔ تاکہ وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرورہوسکیں۔ سو وحی و رسالت کا یہ سلسلہ تو ایک عظیم الشان رحمت و عنایت ہے جس سے اس واہب مطلق جل وعلا۔ کی طرف سے اس کے بندوں کو نوازا جارہا ہے اور مزیدکرم بالائے کرم اور رحمت پر رحمت یہ کہ یہ وحی بھیجی بھی انہی میں ایک شخص کے زریعے جارہی ہے تاکہ وہ ان کو انہی کی زبان وبیان اور انہی کے محاورہ و کلام میں پوری طرح سمجھا اور بت اس کے۔ اور زندگی کی ہر ضرورت سے متعلق ان کو عملی نمونہ دکھ اس کے۔ اور راہ حق و ہدایت کو پوری طرح ان کے سامنے واضح کرسکے۔ لوگوں کو نوروحی سے نوازنا اور وہ بھی ایک بشر اور انہی میں سے ایک انسان کے ذریعے نوازنا حضرت حق جل مجدہ کا وہ کرم اور احسان ہے جس کی دوسری کوئی نظیرومثال ممکن نہیں اور اس عظیم الشان نعمت کا حق اور اس کا تقاضا یہ تھا کہ لوگ سراپاسپاس بن کر اس کو دل وجان سے اپناتے اور دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح سے سرفراز ہوتے نہ کہ تعجب وانکار کرکے اپنی محرومی کا سامان کرتے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انسانوں کے لیے انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجا گیا تاکہ ان کے لیے زندگی کے ہر دائرے میں نمونہ عمل بھی مہیاہو اور ان پر حجت بھی قائم ہوسکے اور ان کے لیے اتباء پیغمبر کے سلسلے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ والحمدللہ جل وعلابکل حال من الاحوال۔
2 ۔ ایمان والوں کے لیے ایک عظیم الشان مرتبہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ پیغمبر لوگوں کو خبردار کرے اور ایمان والوں کو اس امر کی خوشخبری سنائے کہ ان کے لیے ان کے رب کے یہاں ایک عظیم الشان مرتبہ ہے۔ سو دولت ایمان سے سرفرازی سعادت دارین اور سب سے بڑا شرف واعزاز ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ایمان والوں کو خوشخبری سنادو اس بات کی کہ ان کے لیے ان کے رب کے یہاں ایک بڑا اونچامرتبہ ہے۔ یعنی قدم صدق کی اضافت، اضافۃ الموصوف الی الصفۃ کے قبیل سے ہے۔ اور چونکہ یہ مرتبہ ان لوگوں کو ان کے اپنے اعمال اور اپنی محنت کے سبب ہی سے حاصل ہوتا ہے اور محنت بنیادی طور پر قدم ہی سے ہوتی ہے۔ اس لئے اس کو اسی کی طرف منسوب فرما دیا گیا۔ یعنی سبب بول کر مسبب مرادلیا گیا (المحاسن، المنار الصفوۃ وغیرہ) اور یہ بلاغت کا ایک مشہور و معروف اسلوب ہے جو جابجاپایا جاتا ہے چناچہ " ید " بول کر نعمت مراد لی جاتی ہے کہ اس کے لینے دینے ذریعہ ہاتھ ہی ہوتا ہے۔ " عین " بول کر جاسوس مرادلیا جاتا ہے۔ اور اسی طرح " راس "، سربول کر اس کا ملزوم (یعنی سردار) مرادلیا جاتا ہے۔ اور یہ اسلوب ہر لغت وزبان میں مستعمل و موجود ہے۔ سو دولت ایمان سے سرفراز و فیضیاب ہونے والوں کا بڑا اونچامرتبہ ہوتا ہے ایسا اونچا کہ اس سے ان کو دارین کی سعادت و سرخروئی حاصل ہوگی کہ اس سے ان کو دنیا میں " حیات طیبہ " یعنی پاکیزہ زندگی نصیب ہوگی اور آخرت میں جنت کی نعیم مقیم سے سرفرازی۔ سو دولت ایمان سب سے بڑی دولت اور اس سے سرفرازی سب سے بڑی سرفرازی اور سب سے بڑاشرف واعزاز ہے۔ کیونکہ یہی وہ عظیم الشان اور بےمثال دولت ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرتی ہے۔ والحمدللہ رب العالمین۔
Ayah 10:33 ۔ تخلیق کائنات کے چھ دنوں سے مراد ؟: سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک تمہارا رب اے لوگو ! وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین (کی اس حکمتوں بھری کائنات) کو پیدا فرمایا چھ دنوں میں یعنی چھ مختلف زمانوں، میں کہ " یوم " کا اطلاق زمانے اور مطلق وقت پر بھی ہوتا ہے (المراغی، المنار وغیرہ) اور یہ اطلاق ہمارے محاوروں اور روزمرہ کی عام گفتگو میں بھی پایا جاتا ہے۔ چناچہ کہا جاتا ہے " خوشی کا دن "، " غمی کا دن " وغیرہ ظاہر ہے کہ ایسے اطلاق میں دن سے معروف معنوں میں میں نپاتلا دن مراد نہیں ہوتا بلکہ مطلق وقت مراد ہوتا ہے جو کہ معروف دن سے کم بھی ہوسکتا ہے اور زیادہ بھی۔ سو آیت کریمہ میں (ستۃ ایام) چھ دنوں سے مراد معروف معنوں میں چھ دن نہیں کہ یہ دن تو بنتے ہیں سورج کے طلوع و غروب سے۔ اور زمین و آسمان کی اور اس کائنات کی تخلیق سے پہلے تو طلوع و غروب کا یہ سلسلہ سرے سے تھا ہی نہیں تو پھر یہاں پر اس سے معروف معنوں میں چھ دن کیسے مرادلئے جاسکتے ہیں ؟ پھر قدرت تو اس کی (کن فیکون) کی ہے کہ جو چاہا اور جب چاہا ہوگیا مگر اپنی حکمت کی بناء پر اس نے آسمان و زمین کا یہ کارخانہ قدرت اتنی مدت میں پیدا فرمایا اور اس کی حکمتوں کا احاطہ وہی وحدہ لاشریک کرسکتا ہے البتہ ایک بڑا اور واضح فائدہ اس کا یہ ہے کہ اس میں تدریج وتانی کا درس ہے کہ جلدبازی صحیح چیز نہیں ہے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا،۔
4 ۔ استواء علی العرش سے مقصودومراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہ مستوی ہواعرش پر یعنی ایسا استواء جو کہ اس کی شان اقدس واعلیٰ کے لائق ہے جیسا کہ اسلاف کرام سے مروی ہے کہ استواء کا مفہوم تو واضح اور معلوم ہے مگر اس کی کیفیت ہمارے علم سے باہر ہے اس لئے اس کی تحدیدو تعیین کی تکلیف مالایطاق میں پڑنے کی بجائے اس کی کیفیت کو اسی وحدہ لاشریک کے حوالے کردیا جائے کہ جو اس کی شان اقدس واعلیٰ کے لائق ہے۔ اور یہی سلامتی کی راہ ہے۔ سو اس میں بحث و تکرار اور کھود کرید کرنا بدعت اور اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ فنؤمن بہ کمایلیق بشانہ جل وعلا۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کائنات کو پیدا کرنے کے بعدوہ کہیں الگ اور خاموش ہو کر نہیں بیٹھ گیا کہ اس کائنات کا نظم وانصرام دوسروں کے حوالے کردیا ہو نہیں بلکہ وہ خود عرش حکومت پر متمکن ہوگیا اور اپنی پیدا کردہ اس کائنات میں حکم وارشادبھی اسی وحدہ لاشریک ہی کا چلتا ہے پس جس طرح اس کائنات کی تخلیق وتکوین میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں اسی طرح اس کے حکم وتصرف میں بھی کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں۔ اس سب کا خالق ومالک بھی وہی ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی۔ اس میں کوئی بھی اس کا شریک وسہیم نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
5 ۔ ہر کام کی تدبیر اللہ ہی کی طرف سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی تدبیر فرماتا ہے ہر کام کی اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق اور اپنی مخلوق کی بہتری اور بھلائی کے لئے۔ سو ایسا نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کی تخلیق کے بعدوہ کہیں الگ جاکر بیٹھ گیا ہوجیسا کہ بہت سے گمراہوں کا عقیدہ رہا ہے۔ پہلے بھی تھا اور آج بھی ہے بلکہ اپنی اس کائنات میں تصرف بھی وہ خود فرمارہا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک وہی وحدہ لاشریک ہے اور اس میں حکم وتصرف بھی اسی کا چلتا ہے اور جب اس کی اس کائنات کی تخلیق اور اس کے حکم وتصرف میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس شریک وسہیم آخرکس طرح ہوسکتا ہے ؟ سو اس کائنات کی تخلیق بھی اس وحدہ لاشریک نے تن تنہابذات خودبلاشرکت غیرے فرمائی اور اس میں حکم وتصرف بھی اسی کا چلتا ہے نہ اس کی تخلیق میں کوئی شریک وسہیم ہے اور نہ اس کی حکمرانی میں زبور میں اسی حقیقت کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے۔ تو نے تخت پر بیٹھ کر صداقت سے انصاف کیا "۔ (9: 4) جل وعلاشانہ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
6 ۔ مشرکانہ تصور شفاعت کی نفی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں کسی جبری اور قہری سفارش کا وہاں کوئی امکان نہیں سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کے یہاں کسی کو سفارش کا بھی یارا نہیں مگر اسی کے اذن سے سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس جبروقہر کی کسی سفارش کا وہاں کوئی امکان نہیں جیسا کہ مشرکین کا عقیدہ تھا کل بھی تھا اور آج بھی ہے کہ فلاں فلاں جو ہمارے سفارشی ہیں وہ وہاں اڑ کے بیٹھ جائیں گے اور منوا کے چھوڑیں گے اور ہم نے جب ان کا لڑپکڑلیاتو ہمیں اور کسی کی کیا پروا ؟ وغیرہ وغیرہ سو ایسے تمام مفروضے غلط اور بےبنیاد ہیں۔ اس طرح کی کسی سفارش کی وہاں گنجائش نہیں ہوگی۔ البتہ اس کے اذن اور منظوری کے بعدوہاں سفارش ہوسکے گی اور وہ کام بھی دے گی مگر وہ اذن ومنظوری جس کو اجازت ملے گی وہی سفارش کرسکے گا اور جس کے لئے ملے گی اسی کے لئے وہ سفارش کام آسکے گی جیسا کہ دوسرے کئی مقامات پر اس کی تصریح فرمادی گئی ہے۔ مثلا ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے (الامن اذن لہ الرحمن ورضی لہ قولا) (طہ : 109) پس کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ خدا کے عدل وانصاف سے وہ کسی کی سعی و سفارش کے زور سے اپنے آپ کو بچالے گا۔ نہیں اور ہرگز نہیں وہ ایسے تمام تصورات سے پاک ہے، اور اس کا ہر حکم و فیصلہ عدل وانصاف اور حق و صداقت ہی پر مبنی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
7 ۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت اس کی صفات کے ذریعے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ اللہ رب ہے تم سب کا اے لوگو یعنی جس کی یہ اور یہ صفات ہیں پس تم اسی کی بندگی کرو۔ کیا تم لوگ سبق نہیں لیتے کہ ان ٹھوس دلائل اور واضح حقائق کے باوجودتم نے طرح طرح کے دوسرے معبود بنارکھے ہیں۔ سو تم لوگوں نے اگر اللہ تعالیٰ کو پہنچاننا ہے تو اس کی انہی صفات کے ذریعے اور اس کے اپنے ارشادات کے مطابق اس کو پہچانو۔ اور صدق دل سے اس کے ارشادات کے مطابق اس کے آگے جھک جاؤتاکہ تم سعادت دارین سے سرفرازہوسکو۔ ورنہ اس کے بغیر اس کی ذات اقدس واعلیٰ کی حقیقت کو جاننا اور اس کہ کنہہ کا ادراک کرنا اور اس کے حقوق واختیارات کو پہنچاننا انسان ضعیف البینان کی طاقت سے باہر ہے۔ جل وعلاشانہ۔ اللہم زدنا ایمانابک ویقینا۔ سو خدا وندقدوس کی معرفت سے سرفرازی کا صحیح طریقہ اور ذریعہ وسیلہ یہ ہے کہ انسان کائنات کی اس کھلی کتاب کو دیکھے اور اس میں غور و فکر سے کام لے کہ جس نے اس حکمتوں بھری کائنات کو پیدا فرمایا ہے اور اس کو طرح طرح سے انسان کے لیے مسخر کردیاوہی ہے اللہ جو اس ساری کائنات کا خالق اور اس کا مالک ہے۔ وہی معبودبرحق ہے اور عبادت کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے اور اس کی عبادت و بندگی کا طریقہ وہی ہوسکتا ہے جو اس نے اپنی وحی کے ذریعہ اپنے بندوں کو سکھایا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس کے سوا اور کوئی صورت ممکن نہیں اور محض اپنی عقل وفکر کی بناء اس کے لئے جو بھی تصورقائم کیا جائے گا وہ بہرحال غلط ہوگا۔
Ayahs 10:4–511 ۔ چاند اور سورج قدرت کے دوعظیم الشان نشان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اللہ وہی ہے جس نے پیدا کیا سورج کو جگمگاتا اور چاند کو چمکتا ہوا۔ یعنی ضیاء اور نور کے درمیان یہی فرق ہے وضع اور استعمال دونوں کے اعتبار سے چونکہ ضیاء نور کے مقابلے میں زیادہ قوی ہوتی ہے کہ اس کی روشنی ذاتی ہے اور اس میں تپش و تمازت کی بجائے خنکی اور ٹھنڈک ہوتی ہے۔ اسی لئے ضیاء کی نسبت سورج کی طرف فرمائی گئی اور نور کی چاند کی طرف (جامع البیان وغیرہ) تو جس ذات اقدس واعلیٰ نے تمہارے لئے حسی روشنی اور جسمانی ضروریات کی تکمیل کے لئے اس قدر انتظامات فرمائے ہیں کیا وہ تمہاری روحانی ضروریات اور آخروی نجات کا کوئی انتظام نہیں فرمائے گی ؟ یہ کیونکر ممکن ہوسکتا ہے ؟ جب کہ روحانی ضروریات اور ان کے تقاضے ہی اصل اور جسمانی ضروریات سے کہیں بڑھ کر اور مقدم ہیں۔ سو انہی کی تکمیل کے لئے حضرت حق جل مجدہ نے وحی کا مقدس سلسلہ جاری فرمایا تاکہ تمہاری روحانی ضروریات کی تکمیل بھی ہوسکے اور آخروی نجات کا سامان بھی اور تم لوگ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرخرو و سرفراز ہوسکو۔ سو سورج اور چاند کے یہ دو عظیم الشان کرے قدرت کی رحمت و عنایت، وحدانیت ویکتائی اور قدرت وحکمت بےنہایت کے عظیم الشان نشان ہیں جو اپنی چمک دمک، آب وتاب، آمدورفت، طلوع و غروب اور گھٹتی بڑھتی اور ادلتی بدلتی کیفیات سے تمہیں ہر وقت اور ہر جگہ دعوت غور و فکر دیتے ہیں کہ ان کو دیکھ کر تم لوگ اپنے رب کی معرفت سے سرشار ہوجاؤ اور اس کی وحدانیت ویکتائی کا اقرار کرکے دل وجان سے اس کے حضور جھک جھک جاؤ۔ اور اس طرح تم لوگ خود اپنی سعادت و سرخروئی اور دارین کی فوزوفلاح سے سرفرازی کا سامان کرو۔ باللہ التوفیق لما یحب ویرید وھوالھادی الیٰ سوآ السبیل۔ جل جلالہ وعم نوالہ۔ بہرکیف سورج اور چاندقدرت کے دوعظیم الشان کرے ہیں۔ والحمد للہ جل وعلا۔
Ayah 10:612 ۔ دن رات کے ادل بدل میں دلائل قدرت وحکمت : سو دن رات کا ادلنا بدلنا قدرت کا ایک اور عظیم الشان مظہر اور نشان ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ دن رات کے ادلنے بدلنے میں بھی قدرت کی عظیم الشان نشانیاں ہیں کہ کبھی دن چھوٹے اور کبھی راتیں۔ اور کبھی اس کے برعکس اور کبھی سردی کبھی گرمی وغیرہ۔ سو کیسی عظیم الشان قدرت اور کس قدرکامل حکمت والی ہے وہ ذات اقدس واعلیٰ جو اس قدرمحکم نظام اور حیرت انگیز طریقے سے اس سلسلے کو چلا رہی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور جب اس کی ان صفات اور عنایات میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اور جب دن رات کے ادلنے بدلنے کا کہ سلسلہ مسلسل اور لگاتارجاری ہے اور ہمیشہ اور ہر جگہ جاری وساری ہے تو یہ اس بات کا واضح اور کھلا ثبوت ہے کہ اس خالق ومالک اور قادرمطلق رب ذوالجلال کی حکمرانی اور کارفرمائی اس کائنات میں ہر طرف اور ہر وقت جاری ساری ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو وہی اپنے بندوں کے کام بناتا، ان کی حاجتوں اور ضرورتوں کی تکمیل کا سامان کرتا اور ان کی حاجت روائی کرتا اور مشکل کشائی فرماتا ہے اور ہر وقت اور ہر حال میں ان پر رحمتیں فرماتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو دن رات کے اس ادلنے بدلنے میں قدرت کی عظمت وحکمت، اس کی رحمت و عنایت اور اس کی وحدانیت ویکتائی کے عظیم الشان دلائل ہیں غور کرنے والوں کے لیے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وھوالھادی الیٰ سوآ السبیل۔
13 ۔ تقوی وسیلہ نجات و سرفرازی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ نشانیاں انہی لوگوں کو کام دیتی ہیں جو ڈرتے ہیں اپنے رب کی ناراضگی اور اس کی نافرمانی سے کہ وہ ان آیات قدرت میں صحیح طور پر غور و فکر سے کام لے کر اپنے ایمان و یقین کے رسوخ اور پختگی کا سامان کرتے اور دارین کی سعادت سے بہرہ ورہوتے ہیں جبکہ دوسرے لوگ ان نعمتوں سے طرح طرح سے مستفید ہونے کے باوجودغفلت وبے خبری بلکہ معصیت و سرکشی کی زندگی گزارتے ہیں۔ اور حق سے دورونفوررہ وہ اپنی ہلاکت و تباہی کا سامان کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو تقوی و پرہیزگاری اور رب کی رضاء و خوشنودی فکروکوشش دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مندی کا اہم وسیلہ و ذریعہ ہیں کہ اسی کے ذریعے اور اسی کے نتیجے میں انسان اپنے رب کی رضا و خوشنودی سرفراز ہوتا اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مند ہوتا ہے۔۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وھوالھادی الیٰ سوآ السبیل۔
Ayah 10:714 ۔ دنیاوی زندگی ہی کو مقصد بنالینا باعث ہلاکت و محرومی۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ دنیاوی زندگی کو اصل مقصد بنالینا بڑا ہی ہولناک خسارہ اور ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سوابنائے دنیا اسی دنیا پر راضی اور مطمئن ہوگئے اور آخرت کے مقابلے میں وہ اسی دنیا کی چمک دمک پر فریفتہ ہوکررہ گئے اور وہ بھول گئے اپنے مآل وانجام کو اپنے خالقومالک کے حقوق کو۔ والعیاذ باللہ۔ اور اسی دنیاوی زندگی اور اس متاع فانی اور حطام زائل کے حصول کو انہوں نے اپنا مقصد اور نصب العین بنالیا۔ اور وہ اسی کے لیے جینے اور مرنے لگے۔ والعیاذ باللہ۔ تو وہ بڑے ہی ہولناک خسارے میں پڑگئے کہ ان سب کا آخری اور دائمی ٹھکانادوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ ہے کہ جو لوگ کائنات کی ان کھلی واضح اور چہارسو پھیلی بکھری عظیم الشان نشانیوں کے باوجود اندھے بہرے بنے ہوئے ہیں وہ نہ آنکھیں کھولنے کے لیے ہوتے ہیں اور نہ کوئی سبق لیتے ہیں۔ نہ ان کو خدا وندقدوس کے یہاں حاضری وپیشی کا پاس و احساس ہے اور نہ آخرت کا کوئی خوف اندیشہ۔ وہ دوزخ کی اسی دہکتی بھڑکتی آگ اور ایسے ہولناک انجام کے لائق ہیں۔ جس میں ان کو آخرکارداخل ہونا ہے اپنی زندگی بھر کے کئے کرائے کا خمیازہ بھگتنا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 10:815 ۔ دوزخ اپنی کمائی کا صلہ وبدلہ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے دنیاوی زندگی ہی کو اپنا مقصد بنالیا اور وہ اللہ کی آیتوں سے غافل وبے خبر ہیں ان سب کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ ان کی اپنی اس کمائی کی بنا پر جو یہ لوگ کرتے رہے تھے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ دوزخ اپنے کئے کرائے کا بدلہ ہے جبکہ جنت اس واہب مطلق جل وعلا کی بخشش وعطا اور اس کا فضل واحسان ہے اور اسی بناء پر حضرات علمائے کرام فرماتے ہیں کہ کفار کے چھوٹے بچے دوزخ میں نہیں جائیں گے۔ کیونکہ انہوں نے ایسے اعمال کے ارتکاب کی عمر ہی نہیں پائی جو کہ انسان کو دوزخ میں لے جاتے ہیں۔ سو رب رحمان۔ جل وعلاشانہ اپنی کرم واحسان سے اور اپنی رحمت بےپایاں کی بناء پر اپنے بندوں کو جنت کی دائمی وابدی نعمتوں سے سرفراز کرنا چاہتا ہے کہ اس کی شان ہی کرم واحسان عطاء وبخشش اور نوازناہی نوازنا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ مگر اس کا کیا کیا جائے کہ ناشکرے بندے خوددوڑ دوڑکردوزخ کے ہولناک گڑھے میں گرے جارہے ہوں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضاء کی راہوں پرچلنانصیب فرمائے آمین ثما آمین۔
Ayah 10:916 ۔ دولت ایمان و یقین سرفرازی دارین کا ذریعہ و وسیلہ : سو نور ایمان و یقین سے سرفرازی اصل حقیقی اور سب سے بڑی سرفرازی ہے کہ ایمان و یقین والوں کو ان کا رب ہدایت کے نور سے نوازتا ہے جس سے ان کو راہ حق وصواب کو سمجھنا اور پہچاننا بھی سہل اور آسان ہوجاتا ہے اور اس پرچلنا بھی اور ان کیلئے ان کی منزل حیات بھی واضح ہوجاتی ہے اور اس کے لئے صحیح راستہ اور طریق کار بھی۔ نیز ایسوں کو اس کے لئے ان کو محنت اور عمل کی توفیق بھی مل جاتی ہے۔ سبحانہ اللہ۔ کیسی عظیم الشان، پاکیزہ، ورح پرور اور انقلاب آفرین قوت ہے یہ ایمان و یقین کی قوت جو انسان کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی راہوں کو آسان کردیتی ہے۔ فالحمدللہ الذی شرفنا بنورالایمان۔ فزدنا اللہم ایمانا ویقینا بک وبوعدک ووعیدک وحبافیک وفیماتحب وترضی من القول والعمل۔ انک سمیع قریب مجیب للدعوات۔ سو یہ نور ایمان و یقین کے اہم اور پاکیزہ آثاروثمرات میں سے ہے کہ اس سے انسان کی زندگی اس طرح سہل پاکیزہ اور بابرکت بن جاتی ہے اور وہ اس راہ حق و ہدایت پر گامزن ہوجاتا ہے جو جنت اور اس کی نعیم مقیم سے سرفرازو بہرہ مند کرنے والی واحدراہ ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اس کے مطابق نیک عمل بھی کیے تو ان کو ان کا رب ان کے اس ایمان و یقین کی بناپرہدایت سے نوازے گا اور ان کو نعمتوں بھری ان جنتوں سے سرفراز فرمائے گا جن کے نیچے سے بہہ رہی ہونگی طرح طرح کی عظیم الشان نہریں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
Ayah 10:1017 ۔ جنتیوں کی صدائے دل نواز کہ پاک ہے تو اے اللہ : ہر نقص وعیب سے اور ہر قسم کے شرک اور اس کے شوائب سے۔ اور حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے کہ اہل جنت تسبیح وتحمید اس طرح کریں گے جس طرح کہ لوگ سانس لیتے ہیں۔ اور ان کے ہر کلام کا آغاز تسبیح وتحمید سے ہوگا اور خاتمہ حمد وثنا سے۔ اور جب کسی چیز کی خواہش کریں گے تو کہیں گے، سبحان اللہ۔ جس پر فرشتے فورا اس چیز کو لاکران کے سامنے پیش کردیں گے (صفوہ، کبیر، جامع، ابن کثیر اور المنار وغیرہ) سبحان اللہ۔ کیسی عظمت شان ہے ذکرویاد خداوندی اور تسبیح وتحمید کی، سو جب یہ خوش نصیب جنت کے اس بےمثال جہان میں پہنچیں گے اور وہاں پر موجود تصوروادراک سے بالانعمتوں اور وہاں کی نعیم مقیم کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اور یہ اس حقیقت کو اپنے سامنے موجودپائیں گے اور دیکھ لیں گے حق حق ہو کررہا اور باطل باطل تو بےساختہ ان کی زبانوں سے۔ سبحانک اللہم۔ کے یہ الفاظ نکلیں گے کہ آیات الہی کے مشاہدے سے ہمارا جو یہ گمان تھا کہ کارخانہ قدرت کا یہ سارا نظام بےکار اور بےمقصد نہیں ہوسکتا، لازما ایک دن اس کا حقیقی نتیجہ وانجام ظاہرہوکر رہے گا۔ تو ہمارا یہ گمان سچاثابت ہوا۔ فالحمدللہ۔
18 ۔ اہل جنت کی باہمی دعاء سلام ہوگی : جیسا کہ دنیا میں بھی ان کی آپس کی دعاء یہی تھی۔ پھر یہ سلام ان کو وہاں پر حضرت حق جل مجدہ۔ کی طرف سے بھی ہوگا جیسا کہ سورة احزاب میں فرمایا گیا (تحیتہم یوم یلقونہ سلام) (الاحزاب : 44) نیز سورة یسین میں فرمایا گیا (سلام قولامن رب رحیم) (یسین : 57) اور فرشتوں کی طرف سے بھی جیسا کہ سورة رعد میں فرمایا گیا (والملئکۃ یدخلون علیہم من کل باب سلام علیکم بماصبرتم فنعم عقبی الدار) (الرعد : 23۔ 24) اور آپس میں ایک دوسرے سے بھی ان کا سلام اسی طرح ہوگا جیسا کہ سورة مریم میں فرمایا گیا) (لایسمعون فیھا لغوا الا سلاما) (مریم : 26) غرضیکہ وہاں سلامتی ہی سلامتی کی صدائے دلنواز سننے کو ملے گی۔ کوئی بیکارو بےہودہ یا گناہ کی بات وہاں ان کے کانوں میں نہیں پڑیگی جیسا کہ فرمایا گیا۔ (لایسمعون فیھا لغوا ولاتاثیما الاقیلا سلاما سلاما) (الواقعۃ : 25: 26) اور جنت کا وہ گھر بھی امن و سلامتی والا گھر " دارالسلام " ہوگا۔ سبحان اللہ۔ کیسی عظمت شان ہے مسلمان کی کہ اس دین اور اس کے نام (اسلام) میں ہی سلامتی کا مژدہ و پیغام ہے اس کی نماز سے فراغت کا طریقہ بھی سلامتی کے پیغام کے ساتھ مربوط دائیں طرف بھی سلام۔ اس کی ملاقات کا پہلابول ہی سلامتی کا بول ہے۔ اس کی دنیاوآخرت میں سلامتی ہی کا اعلان و پیغام تو پھر کس قدرظالم اور بےانصاف ہیں وہ لوگ جو امن و سلامتی کے امین و پاسدار اور داعی و علمبردار اس مسلمان کو دہشت گرد اور ارہابی کہتے ہیں۔ جعل اللہ کیدہم فی نحورہم واعاذنامن مکرہم وشرورہم۔ بہرکیف دین حق سراسرامن و سلامتی کا دین ہے جس کے نام اس کے پیغام اور اس کے انجام اور اس کی مقدس تعلیمات سب میں سلامتی کا پیغام ہے اور یہ خصوصی اور امتیازی شان اس دین حنیف کے سوا پوری روئے زمین پر اور کسی بھی دین و مذہب کی پوری روئے زمین پر نہ آج تک کبھی کسی دین کی ہوئی اور نہ قیامت تک کبھی ایسا ہونا ممکن ہے۔ فالحمد للہ رب العالمین۔
Ayah 10:1119 ۔ عذاب الہی کے لئے کفار کی جلدبازی کا جواب : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سنت الہٰی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رحمت کرنے میں تو جلدی کرتا ہے لیکن عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں کرتا ورنہ اگر اللہ لوگوں کی جلدبازی پر معاملہ فرماتا تو ان کی مدت مہلت کبھی کی ختم کردی گئی ہوتی کہ ان پر وہ عذاب واقع کردیا جاتا جس کا مطالبہ یہ لوگ کرتے ہیں اور جو ان کی جڑکاٹ کر رکھ دیتا مگر وہ چونکہ ارحم الراحمین ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اتنابڑا مہربان کہ وہ انسان پر خود اس کی اپنی جان سے بھی کہیں بڑھ کر مہربان ہے۔ اس لئے وہ ان لوگوں پر فورا عذاب نہیں نازل فرماتا بلکہ ان کو ڈھیل پر ڈھیل دیئے جارہا ہے۔ یہاں تک کہ یہ اپنی فرصت حیات پوری کرلیں اور اپنے آخری انجام اور مصیر محتوم کو پہنچ کررہیں۔ مگر یہ چونکہ اپنے خبث باطن کی بناء پر اس کی شان کرم و عنایت اور لطف و رحمت کر سمجھتے نہیں، اس لئے نورہدایت سے محرومی کے باعث سرکشی وبے راہ روی کے اندھیروں میں ڈوبے پڑے ہیں اور اس طرح اپنی دائمی ہلاکت و تباہی کا سامان کررہے ہیں جس سے نکلنے اور سنبھلنے بچنے کی پھر کوئی صورت ان کے لیے ممکن نہ ہوگی، والعیاذباللہ۔ اور عذاب الہٰی سے بچنے کی فکر و کوشش کرنے کی بجائے یہ لوگ الٹا اس کا مطالبہ کررہے ہیں اور ان کے اس مطالبے کا ذکر قرآن حکیم میں کئی جگہ فرمایا گیا ہے مثلا (وقالواربناعجل لناقطناقبل یوم الحساب) (ص : 16) اور (ویستعجلونک بالعذاب) الایۃ (الحج : 47) نیز (العنکبوت : 53۔ 54) (واذقالوا اللہم ان کان ہذا ہوالحق) الآیۃ (الانفال : 32) وغیرذالک۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا چونکہ اپنی رحمت ہی کے لیے پیدا فرمائی ہے اس لیے وہ لوگوں پر اپنی رحمت ہی نازل فرماتا ہے اور ان سے چاہتابھی یہی ہے کہ وہ اس کی رحمت کے قدرداں اور شکر گزاربنیں تاکہ اس کے نتیجے میں لوگ نیکی اور سعادت کی راہ کو اپنا کردارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازہوں۔ سو اس سنت الہٰی کی بناء پر وہ ان لوگوں پر عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں کرتاجو اس کے آگے اکڑتے اور اس کے رسول کی تکذیب کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 10:1220 ۔ انسان کی تنگ ظرفی کا ایک مظہر و نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب اس کو کوئی تکلیف چھوجاتی ہے تو یہ لیٹے بیٹھے اور کھڑے یعنی ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے کیونکہ انسان ان تینوں حالتوں میں سے کسی ایک حالت پر ہی ہوتا ہے، بیٹھا، کھڑا، یا لیٹا۔ تو مطلب یہ ہوا کہ ایسے میں تو یہ تنگ ظرف اور مادہ پرست انسان ہر حال میں اللہ کو پکارتا ہے مگر جونہی اس سے وہ تکلیف دور ہوئی اور اس کو اس سے راحت و رہائی ملی یہ اور ہوگیا اور اس کے انداز واطوار بدل گئے۔ اور یہاں تک کہ وہ گویا ہماری گرفت اور پکڑکے دائرے سے ہی ہمیشہ کیلئے نکل گیا۔ والعیاذ باللہ۔ سو مومن صادق کو پاہئے کہ وہ ہر حال میں اور خاص کر اپنی خوش حالی میں اللہ کو پکارے اور اسی کی طرف رجوع کرے کہ تنگی اور مصیبت میں تو کافرو مشرک بھی اس کو پکارنے پر مجبورہوتے ہیں۔ اسی لئے صحیح حدیث میں فرمایا گیا کہ تم اپنی خوشحالی میں اللہ کو یاد کرو وہ تمہیں تمہاری تنگی اور تکلیف میں یادرکھے گا۔ " تعرف الی اللہ فی الرخآء بعرفک فی الشدۃ " مگر افسوس کہ آج کے کلمہ گو مشرک کا حال اس سے مختلف ہے۔ وہ تنگی اور مصیبت کے اس وقت میں بھی اللہ کو چھوڑ کر اس کی عاجز اور بےبس مخلوق میں سے ہی کسی کو پکارتا ہے کہیں وہ کہتا ہے " یا علی مدد " اور کہیں " یاغوث امدادکن " اور کہیں " یاپیردستگیر " اور کہیں " یاخواجہ اجمیر پار لگا کشتی میری " وغیرہ وغیرہ (فاناللہ وانآالیہ راجعون) بہرکیف یہ تنگ ظرف انسان کی نفسیات کا ایک مظہر ہے جسکو یہاں ذکر فرمایا گیا ہے کہ یہ تنگی اور مصیبت میں اور ہوتا ہے اور خوشحالی میں اور۔ والعیاذ باللہ۔ جبکہ اللہ کی یاد ہر حال میں مطلوب ہے۔
21 ۔ حاجت رواومشکل کشاسب کا اللہ ہی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم دور کردیتے ہیں اس کی تکلیف کو کہ تکلیف دور کرنا ہمارا ہی کام ہے کہ حاجت رواومشکل کشا ہر کسی کے اور ہر حال میں ہم ہی ہیں پس اللہ جل شانہ کے سوا اور کسی کو حاجت روا اور مشکل کشاجاننا شرک ہوگا۔ خواہ وہ کوئی بھی ہو کہیں کا بھی ہو کہ حاجت رواومشکل کشاسب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے سبحانہ وتعالیٰ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اس طرح کے متمردوسرکش انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو یہ لیٹے، بیٹھے اور کھڑے ہر حال میں ہم ہی کو پکارتا ہے۔ اور اس تکلیف و مصیبت کو دور کرنے کے لیے دعاء و درخواست کرتا ہے۔ لیکن جب ہم اس کی اس تکلیف اور مصیبت کو اس سے دور کردیتے ہیں تو اس کے طور طریقے بدل جاتے ہیں اور اس میں وہی سابقہ سرکشی اور تمردو خرمستی پھر عود کر آتی ہے اور وہ ایسا ہوجاتا ہے کہ گویا اس نے ہمیں کسی ایسی تکلیف کے لیے کبھی بلایا پکارا ہی نہیں تھا جو اس کو پہنچ چکی تھی۔ اور انسان کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن اس طرح کے موقع پر اس سے بالعموم وہی انسان مراد ہوتا ہے جو لذت ایمان و یقین سے محروم ہوتا ہے۔ جس کا اولین مصداق کفارقریش کے وہ سرکش لوگ تھے جو نزول وحی کے زمانے میں اس کے اولین مخاطب تھے۔ اور پھر قیامت تک آنے والاہرباغی وسرکش انسان اس میں شریک وشامل ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ کفروانکار اور تمردوسرکشی کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین۔
22 ۔ مسرفین کے لیے ایک نقدسزا۔ والعیاذ باللہ : کہ ان کے لیے برے اعمال اور سیاہ کرتوتوں کو خوشمنا بنادیا جاتا ہے جس کے باعث وہ ان کو چھوڑنے اور ترک کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے۔ اور وہ ہلاکت و تباہی کے اسی راستے پرچلتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ ہلاکت و تباہی کہ ہولناک گڑھے میں جاگرتے ہیں اور فی النار والسقر ہو کر اپنے آخری انجام کو جا پہنچتے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ مسرفین یعنی حد سے بڑھنے والوں کے لیے ان کے برے کرتوت ان کی نظروں میں خوشنما بنادیئے جاتے ہیں۔ جس کے نیتجے میں ان کو اپنی برائیاں بھی اچھائیاں نظرآنے لگتی ہیں اور اس طرح یہ لوگ اپنی دنیا اور اس کی عارضی اور فانی لذتوں میں منہمک ہو کر اپنے خالق ومالک کی اطاعت و بندگی سے منہ موڑ کر غفلت اور لاپرواہی کی زندگی گزارتے ہیں۔ اور اپنے خالق ومالک سے بغاوت و سرکشی اور راہ حق وصواب سے انحراف کی اس ہولناک اور تباہ کن روش کو وہ اچھاسمجھ رہے ہوتے ہیں اور ان کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا کہ اس طرح وہ دائمی ہلاکت و تباہی کے کس ہاوے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ سو برائیوں کو اچھائیاں سمجھنا ایک نقد اور فوری سزا ہے جو ایسے لوگوں کو قدرت کے تانون فطرت کے مطابق دی جاتی ہے۔ جس کے باعث یہ برائی سے بچنے کی بجائے اس میں اور آگے بڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ اپنے آخری ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں۔
Ayah 10:1323 ۔ تاریخ سے درس عبرت حاصل کرنے کی تحریک و ترغیب : سو اس سے سابقہ قوموں کے انجام سے درس عبرت لینے کی دعوت وتحریک فرمائی گئی ہے اور اس سے واضح فرمایا گیا کہ گزشتہ قوموں کے انبیائے کرام کی بعثت و تشریف آوری ایسے کھلے اور روشن دلائل حق کے ساتھ ہوئی جن سے حق وباطل کا فرق پوری طرح واضح ہوجاتا ہے اور جن کے ذریعے انسان کو اپنی منزل حیات اور طریق نجات سے آگہی نصیب ہوجاتی ہے۔ مگر اس کے باوجود کوتاہ بین، عاقبت نا اندیش اور ناشکرے انسان نے اس سے ہمیشہ منہ ہی موڑا اور اس طرح نورحق اور صراط مستقیم سے محروم ہوکروہ اپنے لیے حرمان نصیبی کا سامان کرتا ہے اور نورحق کے مقابلے میں ظلمات جہل اور کفرو شرک کو اپناتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ماضی کی یہ قومیں جب کفروانکار اور بغاوت و سرکشی کی روش ہی پرچلتی رہیں تو اس کے نتیجے میں بالآخروہ اپنے اس ہولناک انجام کو پہنچ کر رہیں جو ان کے کفروانکار کی بناپران کا مقدربن چکا تھا سو اس میں ہر دور کے کفار و منکرین کے لیے درس عبرت و بصیرت اور گزشتہ قوموں کی تاریخ اور ان کے انجام سے سبق لینے کے لیے دعوت وتحریک ہے۔ تاکہ اس طرح وہ اپنی روش کی اصلاح کرسکیں اور راۃ حق و ہدایت کو اپنا کر اپنی بہتری کا سامان کرسکیں، قبل اس سے کہ عمررواں کی فرصت ان سے نکل جائے۔ باللہ التوفیق لما یحب ویرید،
Ayah 10:1424 ۔ دنیاوی زندگی کی مہلت ابتلاء و آزمائش کا پیڑیڈ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ہم نے تم لوگوں کو ان کا جانشین بنایا اس زمین میں تاکہ ہم دیکھیں کہ تم لوگ کیسا عمل کرتے ہو، نیک یا بد، اچھا یا برا اپنے خالق ومالک کی رضاء و خوشنودی کا یا اس سے بغاوت و سرکشی کا۔ والعیاذ باللہ۔ تاکہ اسی کے مطابق تم سے معاملہ کیا جائے۔ پس عمررواں کی یہ فرصت محدود، تمہیں آزادی اور عیش پرستی کے لیے نہیں دی گئی بلکہ یہ دراصل ابتلاء و آزمائش کا ایک پیریڈ ہے، جس پر تمہاری آئندہ کی حقیقی اور دائمی وابدی زندگی کا مدارو انحصار ہے۔ سو اپنا نفع و نقصان اور بھلا برا تم لوگ خود سوچ لو۔ فوفقنا اللہم لماتحب وترضی من قول وعمل واخذوردبکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ آمین ثم آمین یارب العالمین ویا ارحم الراحمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان گزشتہ قوموں کی ہلاکت کے بعد تم کو ان کو وارث اور جانشین بنایا۔ اے دورحاضر کے لوگو تاکہ ہم دیکھیں کہ تم لوگ کیا کرتے اور کیا بناتے ہو اور اس کے مطابق تم کس انجام اور کس طرح کی جزاء وسزا کے مستحق ہو۔ سو ہمارا جو قانون ان کے لیے تھا وہی اب تمہارے لیے ہے اور جب تم لوگ انہی کے جانشین ہو تو آخرتمہارے ساتھ ہمارا معاملہ ان سے مختلف کیوں ہوگا ؟ پس تم لوگ آنکھیں کھولو اور ان کے انجام سے سبق لو اور اپنی اصلاح کرلو اور اپنے مستقبل اور انجام کے بارے میں سوچ لوقبل اس سے کہ دنیاوی زندگی کی یہ فرصت محدود تمہارے ہاتھوں سے نکل جائے جو آج تمہیں میسر ہے۔ اور اس سے پہلے کہ تم لوگ اپنے اس انجام کو پہنچ کر رہو جس کو وہ لوگ پہنچے تھے پھر تمہارے لیے اس سے گلوخلاصی کی کوئی صورت ممکن نہ ہو۔ والعیاز باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضاء کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین۔
Ayahs 10:15–1628 ۔ قرآن حکیم ایک عظیم الشان اور بےمثال معجزہ : سو پیغمبر کو ہدایت فرمائی کہ آپ ان سے کہو کہ اگر اللہ چاہتا تو میں تم لوگوں کو یہ قرآن کبھی پڑھ کر نہ سناتا اور نہ ہی اللہ تم کو اس کی خبر کرتا۔ کیونکہ میں تو جیسا کہ تم خودجانتے ہو ایک امی محض ہوں، جس نے نہ کبھی کسی کے آگے زانوئے تلمذطے کئے ہیں اور نہ کسی سے کوئی حرف تک کبھی سیکھا پڑھا ہے۔ پھر بھی ایسی عظیم الشان اور بےمثال کتاب جو تمہارے سامنے پیش کررہا ہوں جس کی نظیرومثال لانے سے ساری دنیا عاجزو بےبس ہے جو کہ ایک کھلا ثبوت اور واضح دلیل ہے میری صداقت و حقانیت کی۔ تو اگر اللہ کی مشیت ومنظوری نہ ہوتی تو یہ کیسے اور کیونکرممکن ہوسکتا تھا ؟ سو اللہ نے چاہا کہ وہ تم لوگوں کو نورہدایت سے منور و سرفراز فرمائے۔ تو اس نے یہ کتاب عظیم مجھ پر نازل فرمائی۔ سو اللہ کو اگر ایسا منظور نہ ہوتا تو نہ میں تم لوگوں کو یہ کتاب پڑھ کر سناتا اور نہ ہی اللہ تم کو اس کی خبر کرتا۔ پس تم لوگوں کا یہ کہنا اور سمجھنا کہ میں تم لوگوں کو یہ کتاب ازخود اور اپنے طور پر سناتا ہوں اور اسی طرح تم پر اپنی سیادت قائم کرنا چاہتا ہوں قطعا غلط اور افترا ہے۔ میں تو محض اللہ تعالیٰ کے حکم وارشاد کی تعمیل میں اور اس کی مشیت ومرضی کے مطابق تم لوگوں کو یہ سناتا ہوں تاکہ تمہارا بھلاہو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور تمہیں راہ راست نصیب ہوجائے پس اس پر ایمان لانے سے خود تمہارا بھلا ہے۔ ورنہ تمہارا اپنا نقصان۔ والعیاذ باللہ والعظیم۔ سو اس کتاب حکیم سے چڑنے اور اس کی وجہ سے غصہ کرنے کی بجائے تم لوگ اگر غور وفکر سے کام لو تو تمہارے سامنے میری صداقت و حقانیت اور قرآن حکیم کی شان اعجازواضح ہوجائے کہ یہ کتاب حکیم دین حق کی صداقت و حقانیت کا قطعی ثبوت اور ایک ایسا معجزہ ہے جو قیامت تک پوری آب وتاب سے چمکتادمکتا اور دنیا کو دعوت غور و فکر دیتارہیگا۔
29 ۔ پیغمبر کی زندگی کی معجزانہ شان : کہ آپ اپنی زندگی کو منکروں کے سامنے بطورچیلنج پیش کرتے ہیں سو ارشاد فرمایا گیا کہ میں اس سے پہلے ایک عمرتمہارے درمیان گزارچکا ہوں۔ تو کیا لوگ عقل سے کام نہیں لیتے اور اتنا بھی نہیں سوچتے کہ جس شخص کی زندگی کھلی کتاب کی طرح تمہارے سامنے ہے، جس نے خود تمہاری اپنی گواہی کے مطابق آج تک نہ کبھی جھوٹ بولا، اور نہ کبھی کسی سے کوئی خیانت کی۔ جس کو تم لوگ خوداب تک صادق وامین مانتے رہے ہو۔ آخر کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ اتنی عمر کے بعد اب جا کر جھوٹ بولنے لگے اور وہ بھی اپنے خالق ومالک پر ؟ اگر تم لوگ اپنی عقلوں سے کام لیتے اور ان ان باتوں پر غور کرتے تو تم کبھی اس طرح حق کے جھٹلانے کی جرات نہ کرتے۔ سو یہ پیغمبر کی زندگی کا ایک اعجازی پہلو ہے کہ اپنی زندگی کی طہارت و پاکیزگی کو اپنے دشمنوں کے سامنے چیلنج کے طور پر پیش فرمایا تو کیا ہوسکتی ہے اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال ؟ کہ کوئی شخص اپنے دشمنوں کے سامنے اپنے زندگی کو اس طرح چیلنج کے طورپیش کرے ؟ جب نہیں اور یقینا نہیں تو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ پیغمبر کی زندگی کیسی پاکیزہ اور کس قدر معجزانہ ہوتی ہے۔ صلوات اللہ وسلامہ، علیہ وعلیٰ من تبعہ الیٰ یوم الدین۔
Ayah 10:1730 ۔ اللہ پر جھوٹ باندھناسب سے بڑا ظلم۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ سب سے بڑا ظالم شخص وہ ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ اور کہے کہ میری طرف وحی آئی ہے حالانکہ اس کی طرف وحی نہیں آئی یاک ہے کہ فلاں بات اللہ کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں۔ اور استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی ایسے شخص سے بڑھ کر ظالم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ تو ایسے میں میں اس طرح کے کسی ظلم کا ارتکاب کس طرح کرسکتا تھا ؟ پس ظالم دراصل وہ لوگ ہیں جو اللہ کے پیغمبر کی وحی کو جھٹلاتے اور اللہ کی طرف بےبنیاد باتیں منسوب کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ والعظیم۔ سو میں اگر نبوت و رسالت میں سچاہوں جیسا کہ حقیقت اور واقعہ ہے تو پھر تم سے بڑھ کر ظالم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ لہذاتم لوگ اپنے انجام کے بارے میں سوچ لو اور غور کرلو اور یہ حقیقت ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھو اور یقین جان لو کہ مجرم لوگ کبھی فلاح نہیں پاسکیں گے۔ والعیاذ باللہ والعظیم۔ اور جو ڈھیل ان کو قدرت کی طرف سے ملتی ہے اس سے کبھی دھوکے میں نہ پڑیں۔ کہ وہ بہرحال ایک ڈھیل ہے اور بس !
31 ۔ اللہ کی آیتوں کی تکذیب بھی سب سے بڑاظلم۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد میں مزید فرمایا گیا کہ اسی طرح سب سے بڑا ظالم انسان وہ ہے جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے۔ جیسا کہ تم لوگ کررہے ہو اے منکرو۔ اور استفہام دونوں جگہوں میں انکاری ہے۔ یعنی اس سے بڑھ کر ظالم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ پس منکرین حق کو اپنے بارے میں سوچنا اور غور کرنا چاہئے کہ حق کا انکار کرکے وہ کس قدر سنگین اور ہولناک جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ ایک اہم اور اٹل بنیادی حقیقت ہے کہ انسان کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی منحصر ہے اور اس کی ہدایت وتعلیم ارشاد فرمودہ راہ پر چلے۔ اسی میں اس کے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی منحصر ہے اس کی ہدایت وتعلیم سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ اس کی وحی ہے جو اس کے پیغمبروں کے ذریعے دنیا کے لیے بھیجی جاتی ہے۔ اور جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنا یا سچے نبی کی تعلیمات کو جھٹلانا دونوں باتیں انسانوں کو نوروحی سے محروم کرنے کا باعث ہیں اس لیے یہ دونوں بہت بڑے ظلم اور ان مرتکب سب سے بڑے ظالم اور مجرم لوگ ہیں کہ انہوں نے خلق خدا کو نورحق و ہدایت سے محروم کرکے طرح طرح کے گھمبیر، ہولناک اور تباہ کن اندھیروں میں دھکیل دیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین۔
Ayah 10:1832 ۔ غیر اللہ کی پرستش وپوجاعقل کا ماتم۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کے سوا کسی بھی اور چیز کی پوجاعقل کا ماتم ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ ایسے ایسے کھلے دلائل اور واضح حقائق کے باوجود اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پوجا کرتے ہیں جو نہ ان کو کوئی نفع دے سکے نہ نقصان۔ تو جو چیز نہ نفع دے سکے اور نہ نقصان سے بچا سکے وہ معبود برحق کیسے ہوسکتی ہے ؟ اور اس کی پوجا کس طرح کی جاسکتی ہے ؟ پس ایسوں کو معبود ماننا دراصل اپنی عقلوں کا ماتم کرنا ہے۔ اور تم جو ان کو از خود اپنے طور پر حاجت روا ومشکل کشا سمجھتے ہو یہ محض تمہارے اپنے مونہوں کی باتیں اور خودساختہ وبے حقیقت اختراعات ہیں۔ (ذالکم قولکم بافواھکم) ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ سو ایسی بےحقیقت چیزوں کو معبود قرار دینا عقل کا ماتم انسانیت کی تحقیر و تذلیل اور دارین کی ہلاکت و تباہی ہے۔ مگر مت کے ماروں کی ایک دنیا کی دنیا ہے جو اس جرم کا ارتکاب کیے جارہی ہے۔ اور وہ حق بات کو سننے اور ماننے کے لئے تیارہی نہیں ہوتی۔ الاماشاء اللہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
33 ۔ لازم کی نفی سے ملزوم کی نفی پر استدلال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ اللہ کو ایسی چیز کی خبردینا چاہتے ہو جس کو وہ نہیں جانتانہ آسمانوں میں نہ زمین میں کہ ان کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔ ورنہ یہ اللہ پاک کے علم سے باہر کیسے ہوتیں ؟ کہ اس کا علم تو کامل اور محیط ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو یہاں پر لازم کی نفی سے ملزوم کی نفی مرادلی گئی ہے جو کہ بلاغت کا ایک معروف اسلوب ہے۔ یعنی ایسی کوئی چیز اگر فی الواقع موجودہوتی تو وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ضرورہوتی۔ سو تمہارے ان خودساختہ اور فرضی سفارشیوں کا کوئی وجود سرے سے ہے ہی نہیں۔ یہ سب تم لوگوں کی بےسند اور فرضی اور وہمی باتیں ہیں جن کی نہ اصل ہے نہ اساس۔ اور جن کے معبود ایسے فرضی اور واہمی ہوں گے وہ خود کیا ہوں گے ؟ (ضعف الطالب والمطلوب) یعنی طالب بھی ضعیف اور مطلوب بھی ضعیف۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 10:19–2036 کفار کی طرف سے فرمائشی معجزے کا مطالبہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ منکر لوگ کہتے ہیں کہ کیوں نہیں اتاردی گئی ان کے رب کی طرف سے یعنی ان کی اقتراح و فرمائش کے مطابق۔ ورنہ مطلق نشانیاں تو آپ کو بیشمار عطا فرمادی گئی تھیں۔ اور اتنی کہ کسی اور کو نہیں عطا فرمائی گئیں۔ اور آپ کا سب سے بڑا معجزہ تو قرآن حکیم کا یہ معجزہ خالدہ ہے جو قیامت تک باقی رہے گا۔ مگر ان ضدی و عنادی ہٹ دھرم کافروں کی خاص فرمائشیں تھیں کہ یہ اور یہ نشانیاں ہمیں دکھاؤ۔ مثلا " ناقہ صالح " " عصائے موسیٰ " اور یہ کہ کوہ صفاکوسونے کا پہاڑ بنادیا جائے وغیرہ وغیرہ۔ (جامع البیان، محاسن التاویل، قرطبی، بیضاوی وغٰیرہ وغیرہ) سو یہ بھی ان لوگوں کے عناد اور ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ تھا کہ پیغمبر کے اتنے معجزات دیکھنے کے باوجودوہ لوگ ایسے خاص معجزوں کی فرمائش کرتے تھے۔ ورنہ جو عظیم الشان معجزات آنحضرت ﷺ کو عطا فرمائے گئے تھے، وہ آنجاب کی صداقت و حقانیت کے ثبوت کے لیے کافی ووافی تھے۔ سو اصل چیز معجزات نہیں بلکہ اصل چیز ہے طلب صادق۔ اور اس سے یہ لوگ محروم ہیں اس لیے یہ نورحق و ہدایت سے محروم ہیں اور اس کے نتیجے میں یہ ہٹ دھرمی میں مبتلاہوکر ایسے مطالبات کرتے اور فرمائشی معجزے مانگتے ہیں ورنہ ایمان لانا ان کا مقصدہی نہیں۔ یہ محض ان کی حیلہ سازیاں اور بہانے بازیاں ہیں جن سے یہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے دے رہے ہیں مگر ان کو اس کا شعورواحساس نہیں۔
37 علم غیب خاصہ خداوندی : سو پیغمبر کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ فرمائشی معجزوں کا مطالبہ کرنے والے ان معاندین سے کہو کہ غیب تو اللہ ہی کے اختیار میں اور اسی کے ساتھ مختص ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور " انما " کے کلمہ حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ غیب اللہ تعالیٰ ہی کا خاصہ ہے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ غیب سب کا سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ پس تم لوگوں کی ان فرمائشوں کا معاملہ بھی اسی کے حوالے ہے کہ یہ بھی غیب سے تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں، اور غیب سب کا سب اسی وحدہ لاشریک کے ساتھ مختص ہے، اور پھر اس حقیقت کے بیان میں جس قدر تاکید سے کام لیا گیا وہ بھی ملاحظہ ہو کہ ایک تو (انما) کا کلمہ استعمال فرمایا گیا ہے کہ جو کہ حصر و تاکید کا فائدہ دیتا ہے۔ پھر " لام اختصاص " اور پھر جملہ اسمیہ جو کہ دوام واستمرار پر دلالت کرتا ہے سو اس طرح تاکیددر تاکید کے ساتھ اس حقیقت کو آشکار اور واضح فرما دیا گیا کہ غیب کا علم اللہ کی مخلوق میں سے مختلف ہستیوں کے لیے علم غیب کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو قرآن وسنت کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق یہ ایک قطعی حقیقت ہے اور یہاں پر بھی ان لوگوں کے جواب میں پیغمبران کو ارشادفرما رہے ہیں کہ غیب کی تمام خبریں اسی وحدہ لاشریک کے علم اور قبضہ قدرت واختیار میں ہیں۔ وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ کس چیز کا انجام کیسا ہے اور آئندہ کیا ہونے والا ہے۔ مجھے نہ تو یہ معلوم ہے کہ میرے ہاتھ پر کون سا معجزہ ظاہر ہوگا اور نہ یہ کہ کب اور کس شکل میں ظاہر ہوگا کہ ان سب امور کا تعلق غیب سے ہے۔ اور غیب اللہ کا خاصہ ہے سبحانہ وتعالیٰ تو پھر تم لوگ مجھ سے ایسے مطالبے کیوں کرتے اور اس طرح کی فرمائش کیوں کرتے ہو ؟ جن کا میرے منصب سے کوئی تعلق ہی نہیں اور نہ ہی میں نے ایسا کوئی دعوی ہی کبھی کیا ہے (روح، قرطبی، مدارک، ابوالسعود، المراغی، ابن کثیر وغیرہ) بہرکیف کفار و مشرکین کے جواب میں نبی اکرم ﷺ کی زبان سے کہلوایا گیا کہ عذاب لانا اور فرمائشی معجزے دکھانا میرا کام نہیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کے قبصہ قدرت واختیار میں ہے اور اس کا علم بھی اسی کے پاس ہے کہ غیبی امور سب کے سب اسی کے ساتھ مختص ہیں میرا کام تو صرف خبردار کرنا ہے آنے والے عذاب اور خطرات سے اور بس۔ تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے آگے معاملہ اللہ کے حوالے پس تم لوگ انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں جب نتیجہ وانجام سامنے آئیگاتوتم لوگوں کو خودپتہ چل جائے گا۔