10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 10:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

الۤرٰ یہ آیات ہیں کتاب حکیم کی '

توحید و رسالت اور معاد کا اثبات یہ سورة یونس کی ابتدائی آیات ہیں۔ اس کی ابتدا ا ل ر سے ہے۔ جو حروف مقطعات میں سے ہے یہ بحث سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ اس کے بعد فرمایا (تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ ) (یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں) مفسرین کرام نے حکیم کے دو معنی لکھے ہیں اول ذو حکمۃ یعنی حکمت والی کتاب دوم بمعنی محکم ‘ پھر محکم کے دو معنی ہیں اول بمعنی مضبوط کہ اس کے الفاظ اور کلمات اور طریقہ بیان اور اسلوب کلام نہایت ہی درجہ پختہ ہے اور دوسرا معنی یہ ہے کہ غیر منسوخ ہے۔ جن مفسرین نے یہ معنی لئے ہیں ان کی بات کی بنیاد یہ ہے کہ سورة یونس میں کوئی آیت منسوخ نہیں لیکن چونکہ صفت مضاف الیہ یعنی الکتاب کی ہے اور کتاب سے قرآن مجید مراد ہے جو ان سورتوں پر بھی مشتمل ہے جن میں آیات منسوخ الحکم بھی موجود ہیں اس لئے یہاں یہ معنی لینا مناسب نہیں۔ صاحب معالم التنزیل (ص 342 ج 2) نے لکھا ہے کہ حکیم حاکم کے معنی میں ہے یعنی یہ اس کتاب کی آیات ہیں جو فیصلہ دینے والی ہیں۔ اس کے بعد لوگوں کے ایک تعجب کا تذکرہ فرمایا اور بطور استفہام انکاری یوں فرمایا (اَکَان للنَّاسِ عَجَبًا) (اآایۃ) کیا لوگوں کے لئے یہ تعجب کی بات ہے کہ ہم نے ایک آدمی کی طرف وحی بھیجی جو انہیں میں سے ہے ؟ یہاں الناس سے کفار عرب اور خاص کر اہل مکہ مراد ہیں انہوں نے اول تو اس بات پر تعجب کیا کہ آدمی کو رسول بنایا گیا اور دوسرے انہیں اس پر تعجب ہوا کہ ابو طالب کے یتیم کو رسول بنا دیا گیا ‘ ان کے تعجب کی استفہام انکاری کی صورت میں تردید فرمائی کہ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ انسانوں کی طرف انہیں کی جنس میں سے کسی انسان کو مبعوث فرمانا عقل اور سمجھ کے بالکل موافق ہے تاکہ اپنے جنس کے فرد اس سے مانوس ہوں اس سے قولی اور عملی طور پر احکام سیکھیں اور عمل کریں اس بارے میں مزید توضیح کے لئے سورة انعام کے پہلے رکوع کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ اور دوسرا جو تعجب تھا وہ بھی بےوقوفی پر مبنی تھا ‘ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ کوئی بڑا مالدار رئیس اور چودھری نبی ہونا چاہئے تھا۔ چونکہ اہل دنیا کو دنیا والوں ہی میں برائی نظر آتی ہے اور دنیا والوں ہی کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اس لئے انہوں نے ایسی جاہلانہ بات کی۔ مال و دولت کو اللہ کا محبوب بندہ ہونے میں کوئی بھی دخل نہیں ‘ اور خصوصاً نبوت جو اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور خاص عطیہ ہے اس میں یہ دیکھنا کہ جسے نبوت ملی ہے اس کے پاس دنیاوی مال ومتاع ہے یا نہیں سراپا حماقت اور جہالت ہے۔ نبی میں اخلاق عالیہ کا ہونا ضروری ہے جن کی دعوت الی الحق کے لئے ضرورت ہے ‘ اہل دنیا اخلاق عالیہ سے خالی اور عاری ہوتے ہیں ان کو کیسے نبوت دی جائے ‘ پھر جس کو اللہ نے نواز دیا اس سے کون آگے بڑھنے والا ہے۔ اللہ نے جس کو چاہا نبوت و رسالت کے مرتبہ سے سرفراز فرما دیا اس میں کسی کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔ یہی ابو طالب کا یتیم جس کی نبوت و رسالت پر عرب کے جاہل معترض ہو رہے تھے اللہ نے اسے اتنی بلندی دی کہ جس کے سامنے فرشتوں کی بلندی بھی نیچے رہ گئی۔ اس یتیم ابو طالب کی دعوت پورے عالم میں پھیلی ‘ اس کی امت کے قبضہ میں بڑے بڑے ممالک آئے عرب اور عجم نے اس کا دین قبول کیا ‘ قیصر وکسریٰ کے خزانے امت کے قدموں میں حاضر ہوگئے پرانی تمام آسمان کی کتابوں کو اس کتاب نے منسوخ کردیا جو ابو طالب کے یتیم پر نازل ہوئی اور تمام ادیان منسوخ ہوگئے۔ یتیمی کہ ناکردہ قرآن درست کتب خانہ چند ملت بشست
Ayah 10:2

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ہم نے انہیں میں سے ایک شخص کی طرف وحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈرائیے اور ان لوگوں کو بشارت دیجئے جو ایمان لائے یہ کہ ان کے لئے ان کے رب کے پاس بڑا مرتبہ ہے۔ کافروں نے کہا کہ بیشک یہ کھلا جادوگر ہے '

پھر نبی اکرم ﷺ کو ایسا کام بتایا جو بحیثیت نبی اور رسول ہونے کے آپ کے سپرد کیا گیا تھا اور فرمایا (اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّھِمْ ) کہ جس شخص کی رسالت اور نبوت پر تعجب کر رہے ہیں اسے ہم نے اس بات پر مامور کیا کہ لوگوں کو ڈرائیے (کہ جو نافرمان ہوں گے وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے) اور یہ کہ جو لوگ ایمان قبول کریں انہیں اس بات کی بشارت دیں کہ ان کے رب کے پاس ان کے لئے بڑا مرتبہ ہے ‘ لفظ قدم تو پاؤں کے لئے بولا جاتا ہے چونکہ انسان کی مسلسل سعی اور عمل پیہم میں قدم کا استعمال کیا جاتا ہے اس لئے بلند مرتبہ بتانے کیلئے لفظ قدم صدق استعمال فرمایا ‘ صدق سچائی کو کہتے ہیں ” قدم صدق “ سے سچائی کا قدم یعنی وہ مرتبہ مراد ہے جس کے ملنے میں کوئی شک نہیں۔ سورة قمر میں ارشاد فرمایا ہے۔ (اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّنَھَرٍ فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْکٍ مُّقْتَدِرٍ ) کہ بلاشبہ متقی لوگ باغیچوں اور نہروں میں ہوں گے سچائی کے مقام میں قدرت والے بادشاہ کے پاس ہوں گے۔ وہاں اہل تقویٰ کے مقام کو مقعد صدق سے تعبیر فرمایا ہے۔ سچے ایمان اور سچے اقوال والوں کے لئے قدم صدق اور مقعد صدق ہی ہونا چاہئے۔ پھر فرمایا (قَالَ الْکٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْن) (جس نبی کو انذار اور تبشیر کا کام سپرد کیا اس کے بارے میں منکرین نے کہہ دیا کہ یہ کھلا ہوا جادوگر ہے) یہ بات ان لوگوں نے قرآن کریم کے اعجاز سے متاثر ہو کر کہی جب قرآن کی فصاحت اور بلاغت سامنے آئی تو اس جیسا بنا کر تو نہ لاسکے لیکن اس کو جادو بتادیا اور نبی اکرم ﷺ کو جادوگر کہنے لگے قال صاحب الروح (ص 63 ج 11) ان ھذا ای ما اوحی الیہ من الکتاب المنطوی علی الانذار والتبشیر (الی ان قال) وفی ھذا اعتراف بان ماعاینوہ خارج عن طوق البشر نازل من حضرۃ خلاف القوی والقدر الخ۔ (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں بیشک یہ یعنی حضور اکرم ﷺ کی طرف ڈرانے اور خوشخبری پر مشتمل جو کتاب نازل کی گئی ہے اور اس میں اس بات کا اعتراف ہے کہ جو کتاب وہ دیکھ رہے ہیں انسان کی طاقت سے خارج ہے یہ تو اللہ تعالیٰ قوی اور قادر کی طرف سے نازل ہو رہی ہے) حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی قوموں کا یہ ہی معاملہ رہا ہے۔ سورة ذاریات میں فرمایا (کَذٰلِکَ مَا اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ) (اسی طرح سے بات ہے ‘ ان سے پہلے جو بھی کوئی رسول آیا لوگوں نے اس کے بارے میں یہ ضرور کہا کہ جادو گر ہے یا دیوانہ ہے) اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت کا تذکرہ فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ دن میں پیدا فرمایا ‘ سورة فرقان رکوع (4) میں اور سورة الم سجدہ رکوع (1) میں اور سورة ق رکوع (3) میں لفظ وما بینھما کا اضافہ بھی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا فرمایا اللہ تعالیٰ شانہ کو ذراسی دیر میں پلک جھپکنے سے کم مدت میں سارے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کرنے کی قدرت ہے لیکن پھر بھی چھ دن میں پیدا فرمایا۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ اس میں مخلوق کو تعلیم دی ہے کہ وہ اپنے احوال واطوار میں جلدی سے کام نہ لیں بلکہ تدریجی طور پر کام کریں۔ قال صاحب الروح (ص 64 ج 11) فی خلقھا مع القدرۃ التامۃ علی ابداعھا فی طرفۃ عین اعتبار للنظار وحث لھم علی التانی فی الاحوال والاطوار۔ (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں پلک جھپکنے کی دیر میں آسمان و زمین کو پیدا کرنے کی کامل قدرت رکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کا انہیں تدریجاً پیدا کرنے میں دیکھنے والوں کے لئے عبرت ہے اور ان کے لئے احوال واطوار میں غورو تدبر کی ترغیب ہے۔ )
Ayah 10:3

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

بلاشبہ تمہارا رب اللہ تعالیٰ ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ دن میں پیدا فرمایا پھر وہ عرش پر مستوی ہوا ' وہ ہر کام کی تدبیر فرماتا ہے اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کرنے والا نہیں ' وہ اللہ تمہارا رب ہے سو تم اس کی عبادت کرو ' کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے '

(ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ) (پھر عرش پر مستوی ہوا) استواء علی العرش کے بارے میں سورة اعراف کی آیت (اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ ) (رکوع 7) میں ضروری مضمون لکھ دیا گیا ہے۔ وہاں ملاحظہ فرمالیں۔ (انوار البیان ص 440 ج 3) پھر فرمایا (یُدَبِّرُ الْاَمْرَ ) (اللہ تعالیٰ تمام امور کی تدبیر فرماتا ہے) سورة الم سجدہ میں فرمایا (یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَی الْاَرْضِ ) (وہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر امر کی تدبیر کرتا ہے) یعنی تمام امور اس کی تدبیر کے مطابق اور حکمت کے موافق اور اسی کی قضاء وقدر کے مطابق وجود میں آتے ہیں۔ قال صاحب الروح والمراد بہ ھاھنا التقدیر الجاری علی وفق الحکمۃ والوجہ الاتم الاکمل ‘ اخرج ابو الشیخ وغیرہ عن مجاھد ان المعنی یقضی الامر والمراد بالامر امر الکائنات علویھا وسفلیھا حتی العرش الی آخر قال (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں یہاں مراد وہ تقدیر الٰہی ہے جو کہ حکمت الٰہی کے موافق تمام و کامل طور پر جاری ہے۔ ابو الشیخ وغیرہ نے حضرت مجاہد (رح) سے نقل کیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ امور کا فیصلہ فرماتے ہیں اور امر سے مراد کائنات کا معاملہ ہے خواہ آسمانوں کے یا زمینوں کے معاملات حتیٰ کہ عرش بھی) (ص 65 ج 11) (مَا مِنْ شَفِیْعِ اِلَّا مِنْ م بَعْدِ اِذْنِہٖ ) (اس کی اجازت کے بغیر کوئی بھی سفارش کرنے والا نہیں ہے) اس کے حضور میں کسی کو سفارش کرنے کی جرأت وہمت نہیں ‘ ہاں وہ جسے اجازت دے دے وہی سفارش کرسکے گا اور یہ سفارش صرف اہل ایمان کے لئے ہوگی۔ سورة مومن میں فرمایا (مَا للظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّلَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُ ) (ظالموں کے لئے نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارش کرنے والا ہوگا جس کی بات مانی جائے) ۔ پھر فرمایا (ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ) (وہ اللہ تمہارا رب ہے سو تم اسی کی عبادت کرو۔ ) (اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ ) (کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے)
Ayah 10:4

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

اسی کی طرف تم سب کو لوٹ جانا ہے ' اس نے سچا وعدہ کر رکھا ہے بلاشبہ وہی مخلوق کو ابتدائً پیدا فرماتا ہے پھر وہ اسے دوبارہ لوٹا دے گا تاکہ وہ ان لوگوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ' اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کیلئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور درد ناک عذاب ہے اس وجہ سے کہ وہ کفر کرتے تھے۔

(اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا) (اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے) (وَعْدَ اللّٰہِ حَقًّا) (اللہ نے وعدہ فرمایا ہے اس کا وعدہ حق ہے) اس کے علم میں قیامت کا جو وقت مقرر ہے اس وقت آجائے گی سب زندہ ہوجائیں گے پھر پشیمانیاں ہوں گی۔ حساب دینا ہوگا۔ قیامت کے آنے میں جو دیر لگ رہی ہے اس دیر کی وجہ سے کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ وہ نہیں آئے گی ‘ اللہ کا وعدہ سچا ہے جو پورا ہو کر رہے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا (اِنَّ الْاٰخِرَۃَ وَعْدٌ صَادِقٌ یَحْکُمُ فِیْھَا مَلَکٌ عَادِلٌ قَادِرٌ) (بلاشبہ آخرت کا وعدہ سچا وعدہ ہے اس میں وہ بادشاہ فیصلے فرمائے گا جو عادل بھی ہے اور قادر بھی ہے۔ ) (مشکوٰۃ المصابیح ص 445) (اِنَّہٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ ) یعنی بلاشبہ وہ ابتداءً مخلوق کو پیدا فرماتا ہے۔ پھر (موت دے کر) دوبارہ زندہ فرما دے گا۔ اس میں منکرین قیامت کے اس اشکال کا جواب ہے کہ قبروں میں جا کر ریزہ ریزہ ہوجانے کے بعد کیسے زندہ ہوں گے۔ ان لوگوں کو بتادیا کہ جس نے ابتداءً پیدا فرمایا وہی دوبارہ زندگی عطا فرمائے گا سورة روم میں فرمایا (وَھُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ وَھُوَ اَھْوَنُ عَلَیْہِ ) (اور وہی اول بار پیدا فرماتا ہے پھر دوبارہ زندگی دے گا اور وہ اس کے لئے زیادہ آسان ہے) ۔ یہ اعتراض کرنے والوں کی سمجھ کے اعتبار سے فرمایا ہے کہ جس نے پہلی بار پیدا فرمایا ہے اسے تو تمہاری سمجھ کے مطابق دوبارہ پیدا کرنا آسان ہونا چاہئے حالانکہ اس کے لئے ابتداء اور اعادہ قدرت کا ملہ کی وجہ سے دونوں برابر ہیں۔ اس کے بعد اہل ایمان واہل کفر کی جزا کا تذکرہ فرمایا (لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بالْقِسْطِ ) (تاکہ اللہ ان لوگوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے) (وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَھُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّعَذَابٌ اَلِیْمٌ م بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ ) (اور جن لوگوں نے کفر کیا انہیں کھولتا ہوا گرم پانی پینے کے لئے ملے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے اس وجہ سے کہ وہ کفر کرتے تھے) سورة محمد میں اس کھولتے ہوئے گرم پانی کے بارے میں فرمایا ہے (وَسُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَ ھُمْ ) (اور ان کو گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا)
Ayahs 10:5–6

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے سورج کو روشن بنایا اور چاند کو نور بنایا ' اور اس کے لئے منزلیں مقرر فرما دیں تاکہ تم برسوں کی گنتی جان لو اور حساب کو معلوم کرلو ' یہ چیزیں اللہ نے حق ہی کے ساتھ پیدا فرمائی ہیں وہ جاننے والوں کیلئے تفصیل کے ساتھ نشانیاں بیان فرماتا ہے

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

بیشک رات اور دن کے ایک دوسرے کے بعد آنے جانے میں اور جو کچھ اللہ نے آسمان اور زمین میں پیدا فرمایا ہے ان میں ان لوگوں کے لئے دلائل ہیں جو ڈرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو روشن بنایا ‘ منزلیں مقرر فرمائیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب جان لو ان آیات میں مزید مظاہر قدرت بیان فرمائے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرتے ہیں۔ اول آفتاب کی روشنی کا اور پھر چاند کی روشنی کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو سراپا روشنی بنایا۔ ان کی روشنی کا تذکرہ فرماتے ہوئے آفتاب کے لئے لفظ ضَیَاءً اور چاند کے لئے لفظ نُوْرًا استعمال فرمایا۔ علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ ضیاء بڑی اور قوی روشنی کو کہتے ہیں اور نور قوی اور ضعیف ہر روشنی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا آفتاب کے لئے لفظ ضیاء استعمال میں لایا گیا۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے آفتاب کو زیادہ قوی روشنی دی جب وہ طلوع ہوتا ہے تو رات چلی جاتی ہے اور دن آجاتا ہے دن میں چونکہ چلنے پھرنے اور کاروبار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے دن کو بہت زیادہ روشن بنایا اور رات کو سکون اور آرام کے لئے بنایا ہے۔ جیسا کہ سورة قصص میں فرمایا (وَمِنْ رَّحْمَتِہٖ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ ) (اور اس کی ایک یہ رحمت ہے کہ اس نے دن بنایا اور رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور تاکہ تم اللہ کے رزق کو تلاش کرو) چونکہ آرام و سکون کے لئے دھیمی روشنی کی ضرورت ہے اس لئے چاند کو ضعیف روشنی عطا فرمائی جس کے لئے لفظ نور استعمال فرمایا۔ پھر فرمایا (وَقَدَّرَہٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَالْحِسَابَ ) (اور اس کے لئے منزلیں مقرر کردیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلو) اس میں واحد کی ضمیر استعمال فرمائی ہے بظاہر قَدَّرَہٗ کی ضمیر مفرد قمر کی طرف راجع ہے کیونکہ وہ قریب ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ قَدَّرَہٗ میں مفعول کی ضمیر لفظوں میں تو مفرد ہی ہے لیکن شمس وقمر دونوں کی طرف راجع ہے۔ اور عربی محاورات بتاویل کل واحد اس طرح ضمیریں لوٹانا درست ہے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے شمس وقمر دونوں کی رفتار کے لیے منزلیں مقرر فرمائی انہیں منزلوں کو وہ طے کرتے ہیں اور ان کے لیے جو حدود مقرر فرمائی ہیں ان سے آگے نہیں نکل سکتے چاند اپنی منزلیں انتیس یا تیس دنوں میں قطع کرتا ہے اور جب وہ مغرب کی طرف سے بصورت ہلال طلوع ہوتا ہے تو مہینہ شروع ہوتا ہے۔ آفتاب کی بھی منزلیں مقرر ہیں۔ وہ مقررہ حدود کے اندر ہی سفر کرسکتا ہے۔ سورة یٰسین میں فرمایا۔ (وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّلَّھَا ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰہُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ لَا الشَّمْسُ یَنْبَغِیْ لَھَا اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّھَارِ وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ ) (اور آفتاب اپنے ٹھکانہ کی طرف چلتا رہتا ہے یہ مقرر کردینا ہے اس کا جو زبردست ہے علم والا ہے اور ہم نے چاند کے لئے منزلیں مقرر کیں یہاں تک کہ وہ ایسا رہ جاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی ٹہنی ‘ نہ آفتاب کی مجال ہے کہ چاند کو جا پکڑے ‘ اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے اور دونوں ایک ایک دائرہ میں تیر رہے ہیں) اللہ تعالیٰ نے شمس وقمر کو پیدا فرمایا ان کو روشنی دی ان کے لئے منزلیں مقرر فرمائیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ اور وحدانیت کے دلائل میں سے ہے ‘ پھر جو منزلیں مقرر فرمائیں اس سے بندوں کا یہ نفع بھی متعلق فرما دیا کہ وہ ان کے ذریعہ یہ معلوم کرلیتے ہیں کہ فلاں معاملہ یا معاہدہ کو کتنے برس گزر گئے اور میعاد پورا ہونے میں کتنے برس باقی ہیں۔ آفتاب کی منازل کا پتہ تو اہل رصد کو ہی ہوسکتا ہے لیکن چاند کے طلوع اور غروب اور گھٹنے بڑھنے سے عام طور سے تاریخ کا پتہ چل جاتا ہے ‘ پڑھا لکھا شہری دیہاتی ہر شخص آسانی سے مہینہ کی ابتداء اور انتہا سمجھ لیتا ہے اور شرعاً احکام شرعیہ میں چاند کے مہینوں ہی کا اعتبار کیا جاتا ہے زکوٰۃ کی ادائیگی بھی چاند ہی کے اعتبار سے بارہ مہینے گزرنے پر فرض ہوتی ہے ‘ اور رمضان کا مہینہ بھی چاند ہی کے حساب سے پہچانا جاتا ہے جو قمری سال کا نواں مہینہ ہے ‘ اور حج بھی چاند ہی کے حساب سے ذی الحجہ کی نویں تاریخ کو ہوتا ہے عدت کے مہینوں میں بھی چاند کا اعتبار ہوتا ہے۔ اسی لئے فقہاء نے لکھا ہے کہ چاند کا حساب باقی رکھنا فرض کفایہ ہے۔ (گود نیاوی معاملات میں شمسی سال سے حساب رکھا جائے تو یہ بھی جائز ہے) پھر فرمایا (مَا خَلَقَ اللّٰہ ذٰلِکَ اِلَّا بالْحَقِّ ) (اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں یوں ہی بےفائدہ پیدا نہیں فرمائی ہیں) ان کی تخلیق میں بڑی بڑی حکمتیں ہیں۔ (یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ) (اللہ تعالیٰ دانش مندوں کے لئے خوب واضح طریقہ پر دلائل بیان فرماتا ہے) کیونکہ جو بےعلم ہیں یا بےعلموں کا طریقہ اختیار کئے ہوئے ہیں وہ ان دلائل سے مستفید نہیں ہوتے پھر فرمایا (اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَمَا خَلَقَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ ) (بلاشبہ رات دن کے آگے پیچھے آنے میں اور ان سب چیزوں میں جو اللہ نے آسمانوں اور زمینوں میں پیدا فرمائی ہیں ان لوگوں کے لئے دلائل ہیں جو ڈرتے ہیں) رات کے بعد دن کا آنا، دن کے بعد رات کا آنا اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ کی واضح دلیل موجود ہے۔ ان کا الٹ پھیر اللہ تعالیٰ کی قدرت سے اور اس کے اختیار سے ہے وہ چاہے تو دن سرمدی ہوجائے یعنی ہمیشہ دن ہی دن رہے اور وہ چاہے تو ہمیشہ رات ہی رات رہے۔ لیکن اس نے بندوں کی مصلحت کے لئے ایسا نہیں کیا ‘ آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ پیدا فرمایا ہے اس کا ایک ایک ذرہ اپنے پیدا کرنے والے کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اس کی وحدانیت کی اور تدبیر محکم کی گواہی دیتا ہے ان چیزوں کو دیکھ کر وہ لوگ نصیحت و عبرت حاصل کرتے ہیں جو خالق ومالک جل مجدہ سے ڈرتے ہیں جو منکرین ہیں نہ ان میں تقویٰ ہے ‘ نہ ایمان ہے نہ یقین ہے یہ لوگ دلائل سے متاثر اور مستفید نہیں ہوتے۔
Ayahs 10:7–9

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ ہمارے پاس آنے کی امید نہیں رکھتے اور وہ دنیا والی زندگی پر راضی ہوگئے اور اس پر مطمئن ہوگئے اور وہ لوگ جو ہماری آیات سے غافل ہیں

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

ایسے لوگوں کا ٹھکانہ ان کے اعمال کی وجہ سے دوزخ ہے '

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کا رب ان کے ایمان کی وجہ سے انہیں راہ بتادے گا ' ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ نعمت کے باغوں میں ہوں گے '

اہل کفر کی سزا اور اہل ایمان کی جزا ان آیات میں اول تو ان لوگوں کے لئے وعید ذکر فرمائی جنہیں قیامت کا اور وہاں کی پیشی کا کوئی کھٹکا نہیں وہ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور پوری طرح دنیا میں جی لگا رکھا ہے۔ اور اس دنیا والی زندگی سے خوش ہیں ایسے لوگ اور وہ لوگ دوزخ میں داخل ہوں گے ‘ دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے انہوں نے اعمال ہی ایسے کئے جو انہیں دوزخ میں لے جائیں۔ پھر اہل ایمان کو بشارت دی اور فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کی وجہ سے انہیں جنت کی راہ بتائے گا ‘ یعنی جس طرح انہیں دنیا میں ہدایت دی ایمان کی دولت سے مالا مال فرمایا اسی طرح آخرت میں ان کو جنت میں جانے کا راستہ بتادے گا وہ اپنی اپنی راہ پر چل کر اپنے اپنے منازل ومساکن میں پہنچ جائیں گے۔ حدیث شریف میں فرمایا ہے کہ جنتی وہاں اپنے اپنے گھروں کا راستہ اس سے زیادہ پہچاننے والے ہوں گے جیسا کہ دنیا میں اپنے اپنے گھروں کا راستہ پہچانتے تھے۔ یہ حضرات باغوں میں ہوں گے جو چین اور آرام کے باغ ہوں گے ان کا تحیہ سلام ہوگا اور آخری بات (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) ہوگی ملاقات کے وقت جو دعائیہ کلمات ادا کئے جاتے ہیں انہیں تحیہ کہا جاتا ہے۔ بیٹھے ہوئے باتیں کرتے رہیں گے اور اللہ کی پاکی بیان کریں گے یعنی (سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ ) کہتے رہیں گے اور آخر میں ایک دوسرے سے رخصت ہوں گے تو یوں کہیں گے (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) (سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہاں کا پروردگار ہے) اہل جنت اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید میں ہمیشہ اور ہر وقت مشغول رہیں گے اور وہاں کی زندگی کی بقاء کا ذریعہ تسبیح اور تحمید ہی ہوگا۔ صحیح مسلم (ص 379 ج 2) میں ہے۔ یلھمون التسبیح والتحمید کما تلھمون النفس ان کی تسبیح اور تحمید ایسے جاری ہوگی جیسے (دنیا میں) تمہارا سانس جاری رہتا ہے ‘ یعنی تسبیح وتحمید سے نہ تھکیں گے نہ اکتائیں گے ‘ نہ نعمتوں کی مشغولیت انہیں تسبیح اور تحمید سے غافل کرے گی ‘ جیسے فرشتے تسبیح وتحمید میں لگے ہوئے تمام کام انجام دیتے ہیں جن کا انہیں حکم ہوتا ہے اسی طرح اہل جنت ہر وقت ہی اللہ کی تسبیح میں مشغول ہوں گے وہاں کی نعمتیں اور عجیب چیزوں کا معائنہ کریں گے تو ان کے منہ سے سبحان اللہ نکلے گا۔ تفسیر ابن کثیر (ص 408 ج 2) میں حضرت ابن جریج سے نقل کیا ہے کہ جب کوئی پرندہ گزر رہا ہوگا اہل جنت کو اس کے کھانے کی خواہش ہوگی تو وہ (سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ ) کہہ دیں گے ان کی خواہش کے مطابق فرشتہ اسے حاضر کر دے گا اور جب فرشتہ آئے گا تو سلام کے الفاظ ادا کرے گا جس کا وہ حضرات جواب دیں گے ‘ جب وہ اپنی خواہش کی چیزیں کھا لیں گے تو اخیر میں (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) کہیں گے۔ لفظ دعویٰ کا ترجمہ مطلق کلام بھی کیا گیا ہے ‘ اور بعض مفسرین نے کسی چیز کے طلب کرنے کا معنی بھی لیا ہے اور بعض حضرات نے دعاء کا ترجمہ بھی کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے دعاء کریں گے تو اللہ کی تسبیح بیان کریں گے اور دعاء کے ختم پر (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) کہیں گے یہ تینوں معنی لغت عربی کے اعتبار سے درست ہیں اگر دعاء کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ ان کے لئے کسی چیز کی کمی تو نہ ہوگی جو اپنی ضرورت کے لئے دعاء مانگیں لیکن تلذذ کے طور پر اور آداب بندگی بجالانے کے لئے وہ حضرات دعاء مانگا کریں گے۔
Ayah 10:10

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

ان میں ان کی یہ بات ہوگی کہ اے اللہ ! تو پاک ہے ' اور اس میں ان کا تحیہ سلام ہوگا اور ان کی آخری بات اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ہوگی۔

یہ جو فرمایا (وَتَحِیَّتُھُمْ فِیْھَا سَلَامٌ) اس کے عموم الفاظ میں ہر سلام آگیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ان پر سلام آئے گا جیسا کہ سورة یٰسین میں فرمایا (سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ ) اور فرشتے بھی ان پر سلام کرتے ہوئے داخل ہوں گے جیسا کہ سورة رعد میں فرمایا (وَالْمَلآءِکَۃُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْھِمْ مِّنْ کُلِّ بَابٍ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ) اور آپس میں بھی ایک دوسرے کو سلام کریں گے ‘ جنت دارالسلام ہے وہاں سلام ہی سلام ہے سورة واقعہ میں فرمایا (لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْھَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِیْمًا اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا) (وہ اس میں کوئی لغوبات نہ سنیں گے وہ سلام ہی سلام سنیں گے) ۔ جب جنت میں داخل ہوں گے تو یوں کہیں گے (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنَّا الْحَزَنَ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَکُوْرُ نِ الَّذِیْ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَۃِ مِنْ فَضْلِہٖ لَا یَمَسُّنَا فِیْھَا نَصَبٌ وَّلَا یَمَسُّنَا فِیْھَا لُغُوْبٌ) (سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے سختی کو ہم سے دور فرما دیا ‘ بیشک ہمارا رب مغفرت فرمانے والا ہے قدر دان ہے جس نے ہمیں رہنے کی جگہ میں اتارا ہمیں اس میں نہ کوئی تکلیف ہوگی اور نہ تھکن) ۔ (سورۂ فاطر)
Ayah 10:11

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

اور اگر اللہ لوگوں پر نقصان واقع کرنے میں جلدی کرتا جیسے کہ وہ بھلائی کیلئے جلدی مچاتے ہیں تو ان کا وعدہ پورا ہوچکا ہوتا ' سو جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے ہم ان کی سرکشی میں انہیں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں '

انسان جلد باز ہے ‘ مصیبت میں اللہ کو پکارتا ہے اور عافیت کے وقت بھول جاتا ہے انسان کے مزاج میں جلد بازی ہے سورة انبیاء میں فرمایا ہے۔ (خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِن عَجَلٍ ) (انسان جلدی سے پیدا کیا گیا ہے) اس کی جلد بازی کا مزاج ہر جگہ کام کرتا ہے جب رسول اللہ ﷺ نے منکرین کو عذاب کی وعیدیں سنائیں تو بجائے ایمان قبول کرنے کے یوں کہتے تھے کہ عذاب آ کیوں نہیں جاتا ‘ سورة رعد میں فرمایا (وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بالسَّیِّءَۃِ قَبْلَ الْحَسَنَۃِ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِھِمُ الْمَثُلٰتُ ) (اور یہ لوگ عافیت سے پہلے آپ سے مصیبت کا تقاضا کرتے ہیں حالانکہ ان سے پہلے واقعات عقوبت گزر چکے ہیں) ان لوگوں کا عذاب آنے کے لئے جلدی کرنا تکذیب اور استہزاء کے طور پر تھا وعدہ عذاب کو سچا نہیں جانتے تھے اس لئے ایسی باتیں کرتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ شانہ حکیم ہے وہ اپنی حکمت کے مطابق جب چاہے عذاب بھیجے۔ لوگوں کے جلدی مچانے سے وہ عذاب جلدی نہیں بھیجتا ‘ ارشاد فرمایا : (وَلَوْ یُعَجِّلُ اللّٰہُ للنَّاس الشَّرَّ اسْتِعْجَالَھُمْ بالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْھِمْ اَجَلُھُمْ ) اور اگر ان لوگوں پر ان کے جلدی مچانے کے موافق اللہ تعالیٰ جلدی عذاب بھیج دیتا جیسا کہ وہ خیر کے لئے جلدی مچاتے ہیں ( اور ان کے جلدی مچانے پر اللہ تعالیٰ خیر بھیج دیتا ہے) تو عذاب کا وعدہ کبھی کا پورا ہوچکا ہوتا۔ 1 ؂ لیکن اللہ تعالیٰ ان کے جلدی کرنے پر اسی وقت عذاب نہیں بھیجتا اسی وقت عذاب نہ بھیجنے میں ایک حکمت یہ ہے کہ سرکشوں کو اللہ تعالیٰ ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے تاکہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں اور یہ بطور استدراج ہوتا ہے تاکہ سرکشی میں بڑھتے جائیں ‘ اور زیادہ عذاب کے مستحق ہوتے چلے جائیں۔ اس میں واضح طور پر بتادیا کہ عذاب کا مؤخر ہونا اور عذاب کی جلدی مچانے کے باوجود جلدی نہ آنا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ عذاب کی وعید سچی نہیں ‘ بلکہ وعید سچی ہے لیکن عذاب اس وقت واقع ہوگا جب اللہ تعالیٰ کی حکمت متقاضی ہوگی۔ سورة عنکبوت میں فرمایا (وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بالْعَذَابِ وَلَوْ لَا اَجَلٌ مُّسَمًّی لَّجَآءَ ھُمُ الْعَذَابُ وَلَیَاْتِیَنَّھُمْ بَغْتَۃً وَّھُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ) (اور وہ آپ سے جلد عذاب آنے کا تقاضا کرتے ہیں اور اگر میعاد معین نہ ہوتی تو ان پر عذاب آچکا ہوتا اور البتہ وہ ان پر اچانک آجائے گا اور ان کو خبر بھی نہ ہوگی) اور سورة صٓ میں فرمایا (وَقَالُوْا رَبَّنَاعَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ ) (اور انہوں نے کہا کہ اے ہمارے رب حساب کے دن سے پہلے ہمارا حصہ ہم کو دے دے) ان لوگوں کا مطلب یہ تھا کہ اگر قیامت آنی ہی ہے تو اس کے آنے کے انتظار کی ضرورت نہیں اس وقت جو عذاب دیا جائے گا وہ ہمیں ابھی مطلوب ہے جنہیں ایمان لانا نہیں ہوتا وہ ایسی ہی جاہلانہ باتیں کرتے ہیں۔
Ayah 10:12

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے لیٹے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور کھڑے ہوئے ' پھر جب ہم اس کی تکلیف ہٹا دیتے ہیں تو وہ اس حال میں گزر جاتا ہے کہ گویا اس نے ہمیں کسی تکلیف کے پہنچ جانے پر پکارا ہی نہ تھا ' اسی طرح حد سے بڑھ جانے والوں کیلئے ان کے اعمال مزین کر دئیے گئے ہیں

اس کے بعد انسان کی ایک اور بےراہی بیان فرمائی جو اس کی طبیعت بنی ہوئی ہے۔ ارشاد فرمایا (وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَان الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِہٖ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآءِمًا) اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں لیٹے ہوئے ‘ بیٹھے ہوئے اور کھڑے ہوئے پکارتا ہے۔ (فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُ ضُرَّہٗ مَرَّکَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَآ اِلٰی ضُرٍّمَّسَّہٗ ) پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو ایسے گزر جاتا ہے کہ گویا اس نے تکلیف پہنچ جانے پر ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔ یہ مضمون قرآن مجید کی دیگر آیات میں بھی وارد ہوا ہے۔ سورة زمر میں فرمایا (وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّدَعَا رَبَّہٗ مُنِیْبًا اِلَیْہِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَہٗ نِعْمَۃً مِّنْہُ نَسِیَ مَا کَانَ یَدْعُوْآ اِلَیْہِ مِنْ قَبْلُ وَجَعَلَ لِلّٰہِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ ) (اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو اپنے رب کو پکارنے لگتا ہے اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پھر جب وہ اسے اپنے پاس سے نعمت عطا فرما دیتا ہے تو اس سے پہلے جس کے لئے پکار رہا تھا اسے بھول جاتا ہے اور اللہ کے لئے شریک بنانے لگتا ہے تاکہ اس کی راہ سے دوسروں کو گمراہ کرے) پھر انسان کا یہ بھی مزاج ہے کہ حدود سے آگے بڑھتا چلا جاتا ہے گناہ کے کام کرتا ہے اور گناہ کے کاموں کو اچھا بھی سمجھتا ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا (کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) (اسی طرح حد سے بڑھ جانے والوں کے لئے وہ کام مزین کر دئیے گئے جو وہ کرتے ہیں) ۔ 1 ؂ قال البغوی فی معالم التنزیل (ص 345 ج 2) معناہ لو یعجل اللّٰہ الناس اجابۃ دعاءھم فی الشر والمکروہ استعجالھم بالخیر ای کما یحبون استعجالھم بالخیر لقضی الیھم اجلھم ای لاھلک من دعا علیہ واماتہ ‘ وفی روح المعانی (ص 78 ج 11) والاصل علی ما قال ابوالبقاء تعجیلا مثل تعجیلھم ‘ فحذف تعجیلا وصفتہ المضافۃ واقیم المضاف الیہ مقاھما۔ اہ۔ (علامہ بغوی معالم میں لکھتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ شر اور تکلیف دہ معاملہ میں بھی ان کی دعاء اسی طرح قبول کرتا جیسا کہ یہ بھلائی میں جلدی ملنے کو پسند کرتے ہیں تو ان کی میعاد پوری ہوچکی ہوتی یعنی جس کے خلاف یہ دعا کرتے اللہ تعالیٰ اس کو ہلاک کردیتا اور موت دے دیتا۔ اور روح المعانی میں ہے اور ابو البقا کے قول کے مطابق اصل میں یہ عبارت تھی تعجیلاً مثلَ تَعْجِیْلِھِمْ پھر تعجیلاً اور اس کی صف جو کہ مضاف ہے اسے حذف کردیا گیا اور مضاف الیہ کو اس جگہ رکھا گیا) فائدہ : آیت شریفہ کے مضمون سے دو باتیں معلوم ہوئیں اول یہ کہ شر کی دعا نہیں مانگنی چاہئے ‘ انسان شر کی بھی دعا کرتا ہے اور خیر کی بھی دعا کرتا ہے۔ اور دونوں کی قبولیت کے لئے جلدی مچاتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق دعائیں قبول فرماتا ہے ‘ شر کی دعا جلد قبولیت نہیں پاتی ‘ اور خیر کی دعاء عموماً جلدی قبول فرما لیتا ہے مؤمن بندوں کو چاہئے کہ شرعی نقصان مرض و تکلیف کی دعا نہ کریں۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی جانوں کے لئے اور اپنی اولاد کے لئے اور اپنے اموال کے لئے بد دعا نہ کیا کرو ایسا نہ ہو کہ یہ بد دعا قبولیت کی گھڑی میں کر بیٹھو اور تمہاری یہ بد دعا قبول ہوجائے۔ (رواہ مسلم) دعا ہمیشہ خیر کی کرے اور جلدی نہ مچائے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بندہ کی دعاء قبول ہوتی ہے بشرطیکہ گناہ کی یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے جب تک کہ جلدی نہ مچائے ‘ عرض کیا گیا یا رسول اللہ جلدی مچانا کیا ہے ؟ فرمایا جلدی مچانایہ ہے کہ یوں کہنے لگے کہ میں نے تو دعا کی پھر دعا کی مجھے تو قبول ہوتی نظر نہیں آتی پھر دعا سے تنگ دل ہوجائے اور دعا کرنا چھوڑ دے (رواہ مسلم ص 352 ج 2) مطلب یہ ہے کہ دعاء خیر میں برابر لگا رہے تنگ دل ہو کر دعا نہ چھوڑے۔ آیت شریفہ سے دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ دکھ ‘ تکلیف میں مبتلا ہو یا کوئی مصیبت آئی ہوئی ہو یا آرام و راحت اور خیر و خوبی سے مالا مال ہو ہر حال میں دعا کرتے رہنا چاہئے ‘ یہ جو بندوں کا طریقہ ہے کہ مصیبت کے وقت بڑی بڑی دعائیں کرتے ہیں وظیفے پڑھتے ہیں، تسبیحیں گھس دیتے ہیں اور پھر جب مصیبت ٹل جاتی ہے تو دعاؤں کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں اور بالکل ہی بھول جاتے ہیں گویا کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگا ہی نہ تھا ‘ مصیبت آئی تو اللہ کے سامنے گڑ گڑائے اور جب اللہ تعالیٰ نے مصیبت دور فرما دی تو اب سارا بھروسہ اسباب پر کرلیا اور ساری خیر و خوبی کو اپنی ہنر مندی اور سمجھداری کی طرف منسوب کردیا یہ سب آداب عبودیت کے خلاف ہے سورة زمر میں فرمایا (فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰہُ نِعْمَۃً مِّنَّا قَالَ اِنَّمَا اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ بَلْ ھِیَ فِتْنَۃٌ وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَایَعْلَمُوْنَ ) (پھر جس وقت آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارتا ہے پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرما دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھ کو میری تدبیر سے ملی ہے بلکہ وہ ایک آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ سمجھتے نہیں) ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جسے اس بات کی خوشی ہو کہ اللہ تعالیٰ سختیوں میں اس کی دعا قبول فرمائے اسے چاہئے کہ آسائش کے زمانے میں زیادہ دعا کیا کرے۔ (رواہ الترمذی)
Ayah 10:13

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی جماعتوں کو ہلاک کیا جبکہ انہوں نے ظلم کیا اور ان کے پاس ان کے رسول کھلی ہوئی دلیلیں لے کر آئے ' اور وہ لوگ ایمان لانے والے نہ تھے ہم اسی طرح مجرموں کو سزا دیا کرتے ہیں '

اس کے بعد فرمایا (وَلَقَدْ اَھْلَکْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ ) (الآیتین) یعنی ہم نے تم سے پہلے بہت سی جماعتوں کو ہلاک کیا۔ جبکہ انہوں نے ظلم کیا اور ان لوگوں کے پاس ان کے رسول کھلے ہوئے دلائل لے کر آئے۔ وہ ایمان لانے والے نہ تھے لہٰذا وہ ایمان نہ لائے (جب وہ ایمان نہ لائے تو انہیں ہلاک فرما دیا) ہم مجرمین کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔ اس آیت میں منکرین کو تنبیہ ہے کہ ہمارے ڈھیل دینے سے یہ نہ سمجھ لو کہ عذاب نہ آئے گا گزشتہ اقوام کی تاریخ اور ان کی سرکشی اور نافرمانی اور پھر ان پر عذاب آنے کے واقعات سے عبرت حاصل کرلو۔ عذاب الٰہی سے بےفکر ہوجانا بہت بڑی ناسمجھی ہے مختلف ممالک میں وقفہ وقہو سے عذاب آتا رہتا ہے پھر بھی آنکھ نہیں کھولتے۔
Ayah 10:14

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

پھر ہم نے تمہیں زمین میں ان کے بعد خلیفہ بنا دیا تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ؟

پھر فرمایا (ثُمَّ جَعَلْنٰکُمْ خَلآءِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْ م بَعْدِھِمْ ) ( پھر ہم نے تمہیں ان لوگوں کے بعد زمین میں خلیفہ بنایا) ۔ گزشتہ قومیں ہلاک ہوگئیں ان لوگوں کی حکومتیں ‘ سلطنتیں خاک میں مل گئیں تعمیرات برباد ہوئیں ‘ منصوبے خاک میں ملے جو دنیاوی ترقیاں کی تھیں وہ سب ختم ہوئیں ان کی جگہ اب موجودہ اقوام دنیا میں آباد ہیں۔ حکومتیں ہیں دولتیں ہیں یہ لوگ پرانی قوموں کے خلیفہ ہیں۔ یعنی ان کے بعدزمین میں بسے ہیں اور زمین میں انہیں اقتدار ملا ہے۔ یہ خلافت اس لئے نہیں ہے کہ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھیں اور دنیا ہی کیلئے مریں اور جیئیں اور دنیا میں فساد کریں ‘ یہ خلافت آزمائش کے لئے دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (لِنَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ ) تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔ اگر گزشتہ امتوں کی طرح فساد کیا اللہ کی کتاب کو اللہ کے رسول ﷺ کو جھٹلایا کفر میں اور بد اعمالیوں میں لگے تو آزمائش میں فیل ہوں گے اور عذاب کے مستحق ہوں گے۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دنیا میٹھی ہے۔ ہری بھری ہے ‘ اور بلاشبہ اللہ اس میں تمہیں پہلے لوگوں کے بعد بسانے والا ہے سو وہ دیکھے گا کہ تم (دنیا میں) کیا کرتے ہو سو تم دنیا سے بچو اور عورتوں (کے فتنہ) سے بچو ‘ کیونکہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ جو ظاہر ہوا وہ عورتوں کا فتنہ تھا۔ (رواہ مسلم)
Ayah 10:15

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

اور جب ان پر ہماری واضح آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے یوں کہتے ہیں کہ آپ اس قرآن کے علاوہ دوسرا قرآن لے آئیے یا اس کو بدل دیجئے ' آپ فرما دیجئے کہ مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ میں اسے اپنے پاس سے بدل دوں ' میں تو بس اسی کا اتباع کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے ' بیشک میں اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں '

منکرین کی اس بات کا جواب کہ دوسرا قرآن لے آئیے یا اس کو بدل دیجئے معالم التنزیل (ص 347 ج 2) میں حضرت قتادہ سے نقل کیا ہے کہ وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ سے مشرکین مکہ مراد ہیں اور یہ بھی نقل کیا ہے کہ اہل مکہ میں سے پانچ آدمیوں نے آنحضرت سرور عالم ﷺ سے یوں کہا تھا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں تو آپ اس قرآن کے علاوہ دوسرا قرآن لے آئیں جس میں لات اور عزیٰ اور منات کی عبادت چھوڑنے کا حکم نہ ہو اور ان بتوں کا برائی کے ساتھ ذکر بھی نہ ہو ‘ اگر اللہ تعالیٰ نے ایسی آیات نازل نہیں کی ہیں تو آپ اپنے پاس سے بنا دیں یا اس قرآن کو بدل ہی دیں۔ آیت عذاب کی جگہ آیت رحمت لکھ دیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی جن پانچ آدموں نے یہ بات کہی تھی ان کے نام یہ ہیں (1) عبد اللہ بن امیہ (2) ولید بن مغیرہ (3) مکرز بن حفص (4) عمرو بن عبید اللہ بن ابی قیس (5) عاص بن عامر بن ہشام ‘ ان لوگوں کی اس بات پر آیت بالا نازل ہوئی کہ جب ان پر ہماری واضح آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے (یعنی آخرت کو نہیں مانتے) یوں کہتے ہیں کہ آپ اس قرآن کے علاوہ دوسرا قرآن لے آئیے یا اس کو بدل دیجئے آپ فرما دیجئے کہ میں یہ نہیں کرسکتا کہ اپنے پاس سے بدل دوں ‘ میں تو صرف وحی کا پابند ہوں ‘ میری طرف جو وحی آتی ہے اس کا اتباع کرتا ہوں نہ اپنے پاس سے کچھ کہہ سکتا ہوں نہ اسے بدل سکتا ہوں۔ وحی کو بدلنا بہت بڑا گناہ ہے میں تمہیں جیسے اللہ کے عذاب سے ڈراتا ہوں ایسے ہی اپنے بارے میں ڈرتا ہوں کہ اگر اپنے رب کے حکم کی خلاف ورزی کی تو بڑے دن کا عذاب پہنچ جائے گا۔ میرا کام صرف پہنچانے کا ہے اپنے پاس سے قرآن بنانے کا نہیں ہے ‘ میں تو اللہ کا بندہ ہوں ‘ نافرمانی کروں تو عذاب میں مبتلا ہونے کا اندیشہ رکھتا ہوں میں اللہ کا مامور ہوں اللہ کے حکم دینے پر تم کو اس کی کتاب سناتا ہوں وہ نہ چاہتا تو میں تم پر اس کی تلاوت نہ کرتا اور نہ تمہیں بتاتا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ مخاطبین کو یہ دیکھنا اور سوچنا چاہئے کہ میں عرصہ دراز تک تمہارے اندر رہا ہوں یعنی اسی سر زمین پر چالیس سال تک زندگی گزاری ہے اس دوران میں نے کبھی نہیں کہا کہ میں اللہ کا نبی ہوں اور مجھ پر اللہ نے کتاب نازل فرمائی ہے۔ اگر میں اپنے پاس سے بنا کر کوئی بات اللہ کی طرف منسوب کر کے تمہارے اندر اپنا کوئی مقام بنانا چاہتا تو اس سے بہت پہلے ایسا کرچکا ہوتا ‘ جب یہ میرا کلام نہیں ہے تو اس میں کیسے ترمیم کر دوں ؟ تم مجھ سے کیسے کہتے ہو کہ میں اپنے پاس سے بنا کرلے آؤں ‘ کیا تم سمجھ نہیں رکھتے۔ آخر میں فرمایا اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ پر بہتان باندھے یا اس کی آیات کو جھٹلائے ‘ اللہ کا رسول جھوٹ نہیں بول سکتا اور اپنی بنائی ہوئی بات کو اللہ کی طرف منسوب نہیں کرسکتا۔ ہاں تم لوگ جو اللہ کی آیات کو جھٹلا رہے ہو یہ ظلم تمہاری اپنی جانوں پر ہے اور سراپا جرم ہے (اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ ) ” بلاشبہ جرم کرنے والے کامیاب نہیں ہوتے “۔
Ayahs 10:16–17

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ اگر اللہ چاہتا تو میں تم لوگوں پر اس کی تلاوت نہ کرتا اور نہ تمہیں اللہ اس کی اطلاع دیتا ' سو میں تمہارے درمیان اس سے پہلے عمر کے ایک بڑے حصہ تک رہ چکا ہوں ' کیا تم سمجھ نہیں رکھتے '

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

سو اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر بہتان باندھے یا اس کی آیات کو جھٹلائے ' بیشک بات یہ ہے کہ مجرم کامیاب نہیں ہوتے۔

فائدہ : یہ جو فرمایا (فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ ) (کہ میں اپنی عمر کے بڑے حصہ تک تمہارے اندر رہا ہوں) اس میں تحدی ہے یعنی مخاطبین کو چیلنج ہے کہ میں نے عمر کا بہت بڑا حصہ تمہارے اندر گزارا ہے اس حصہ میں میں نے تم سے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور اس کے تم گواہ ہو تو پھر میں اللہ پر کیسے جھوٹ باندھ سکتا ہوں سوال جواب تو قرآن مجید کو بدلنے یا اپنے پاس سے بنانے سے متعلق تھا لیکن الفاظ کے عموم میں آنحضرت سرور عالم ﷺ کی حیات طیبہ کے اخلاق عالیہ اور افعال جمیلہ اور اعمال صالحہ کی طرف بھی اشارہ کردیا اور بتادیا کہ مجھے دیکھ چکے ہو ہر طرح سے پرکھ چکے ہو۔ ہمیشہ سے صادق اور امین کہتے آئے ہو اب جب اللہ کا پیغام پہنچاتا ہوں تو کیوں دور بھاگتے ہو ؟ اس سے معلوم ہوا کہ جب کسی کو کوئی عہدہ سپرد کیا جائے تو اس کا ماضی دیکھ لیا جائے اب تک اس کا کیا کردار تھا اس کے اعمال کیا تھے ‘ اس میں تقویٰ اور رجوع الی اللہ کتنا تھا ان چیزوں کو سامنے رکھ کر کسی عہدہ کا اہل ہونے نہ ہونے کا فیصلہ کرلیا جائے۔
Ayah 10:18

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

اور وہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو نہ نقصان دے سکیں اور نہ نفع پہنچا سکیں ' اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں ' آپ فرما دیجئے کیا تم اللہ کو وہ بات بتاتے ہو جسے وہ نہیں جانتا آسمانوں اور زمینوں میں ' وہ ان لوگوں کے شرک سے پاک ہے ' اور برتر ہے '

مشرکین کی گمراہی ‘ اور ان کے قول وعمل کی تردید ان آیات میں اول تو مشرکین کی گمراہی کا تذکرہ فرمایا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ شانہ ‘ کی توحید کو چھوڑ کر غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت کرتے ہیں ان میں بعض جاندار بھی ہیں جیسے بعض حیوانات اور بےجان بھی ہیں جیسے اصنام واوثان یعنی بت اور یہ ان کے معبود ان باطل نفع اور ضرر پہنچانے سے بالکل ہی عاجز ہیں ‘ جو نفع ضرر کچھ بھی نہ پہنچا سکے اس کی عبادت کرنا اور اپنے خالق کو چھوڑنا بہت بڑی حماقت ہے اور بہت دور کی گمراہی ہے۔ جب مشرکین کو ان کی گمراہی پر متنبہ کیا گیا تو انہوں نے اپنی جہالت سے یہ نکتہ نکالا کہ ہمارا اصل مقصود تو اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرنا ہے۔ ہم ان چیزوں کی عبادت اس لئے کرتے ہیں کہ یہ اللہ کی بارگاہ میں ہماری سفارش کردیں گے ‘ گمراہی پر جمنے اور شرک پر باقی رہنے کے لئے شیطان نے مشرکین کو یہ نکتہ سمجھایا تاکہ مشرکین یوں سمجھتے رہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کو بھی مانتے ہیں اور شرک کرنے سے اس لئے گناہگار نہیں کہ ان معبود ان باطلہ کو اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے ہی پوجتے ہیں۔ حالانکہ سمجھداری کا تقاضا یہ ہے کہ جسے راضی کیا جائے اسے ان اعمال کے ذریعہ راضی کریں جن سے وہ راضی ہوتا ہو اور جن کے کرنے کا اس نے حکم دیا ہو ‘ اللہ تعالیٰ شانہ ‘ شرک سے بیزار ہے اس نے اپنے رسولوں کے ذریعہ شرک سے منع فرمایا ہے اور اسے سب سے بڑی نافرمانی قرار دیا ہے اور جن لوگوں کے بارے میں مشرکین نے سفارشی ہونے کا عقیدہ بنایا ہے یہ عقیدہ انہوں نے اپنے پاس سے تجویز کیا ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کو مانتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ ہر عقیدہ اور ہر عمل اسی سے معلوم کرے جو اس کی کتابوں اور رسولوں کے واسطہ سے معلوم ہوگا ‘ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اس کی مخلوق کو شریک بھی کردیا پھر ان کے بارے میں سفارشی ہونے کا عقیدہ بھی تراشا ‘ یہ سب سراسر گمراہی ہے۔ جن لوگوں نے باطل معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے یہاں سفارش کرنے والا مانا اور اپنے پاس سے اس عقیدہ کو تجویز کیا ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا (قُلْ اَتُنَبِّءُوْنَ اللّٰہَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضْ ) (آپ فرما دیجئے کیا تم اللہ کو وہ بات بتا رہے ہو جسے وہ آسمانوں میں اور زمین میں نہیں جانتا) اللہ تعالیٰ نے تو تمہارے تجویز کردہ معبودوں کو سفارشی نہیں بنایا اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے اسے اس سب کا علم ہے اس کے علم میں تو ان چیزوں کا سفارشی ہونا نہیں اور تم کہہ رہے ہو کہ یہ سفارشی ہیں۔ جو چیز اس کے علم میں نہ آسمانوں میں ہے نہ زمین میں ہے اور جس کا وجود اس کے علم میں نہیں ہے تم اس کے وجود کے کیسے قائل ہوئے۔ کوئی چیز وجود میں ہو اور اسے اس کا علم نہ ہو یہ تو محال ہے تم محال کے پیچھے لگے ہو۔ مطلب یہ کہ تم جن لوگوں کو اللہ کے یہاں سفارشی مانتے ہو اللہ تعالیٰ نے تو ان کو سفارشی نہیں بنایا ان کے سفارشی ہونے کا عقیدہ تمہاری اپنی اپج اور اپنی تجویز ہے کسی عقیدہ کسی عمل کو خود سے تجویز کرلینا اور اسے اللہ کی رضا مندی کا سبب سمجھ لینا یہ جرم ہے اور گناہ ہے جو عذاب کا سبب ہے یہ چیز نجات دینے والی نہیں دوزخ میں داخل کرانے والی ہے۔ پھر فرمایا (سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ) (وہ ذات پاک ہے اور اس سے برتر ہے جو وہ شرک کرتے ہیں)
Ayah 10:19

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:19 in the Quran reader

اور لوگ پہلے ایک ہی امت تھے پھر انہوں نے آپس میں اختلاف کرلیا ' اور اگر آپ کے رب کی طرف سے پہلے سے بات طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے درمیان اس چیز میں فیصلہ ہوچکا ہوتا جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں

پھر فرمایا (وَمَا کَان النَّاسُ اِلَّا اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَاخْتَلَفُوْا) یعنی سب لوگ ایک ہی جماعت تھے سو انہوں نے اختلاف کرلیا یعنی بنی آدم کا ایک ہی دین تھا سب موحد تھے اور دین اسلام پر تھے پھر لوگوں میں اختلاف ہوگیا اور بہت سے لوگ ایمان کو چھوڑ کر کافر ہوگئے اور بہت سے لوگ کافر ہی نہیں مشرک بھی ہوگئے۔ حضرت قتادہ سے تفسیر در منثور (ص 243 ج 1) میں نقل کیا ہے کہ حضرت آدم اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان جو قرنیں تھیں یہ سب ہدایت پر حق شریعت پر تھیں ‘ پھر لوگوں نے اختلاف کی راہیں نکالیں۔ بہت سے لوگوں نے دین حق کو چھوڑ دیا اور مؤمن و کافر دو جماعتیں ہوگئیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بھیجا وہ جن لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے ان کی بت پرستی اور بتوں کے ناموں کا تذکرہ سورة مذکور ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے تشریف لانے سے کچھ عرصہ پہلے لوگ مشرک ہوگئے تھے مشرک عذاب کے مستحق ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقررہ اجل سے پہلے مشرکین پر عذاب نہیں بھیجا جاتا ‘ اس کے بارے میں فرمایا (وَلَوْ لَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ فِیْمَا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ) (اور اگر آپ کے رب کی طرف سے پہلے سے یہ بات طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے درمیان اس چیز میں فیصلہ ہوچکا ہوتا جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں) اور وہ کون سی بات ہے جو پہلے سے طے ہوچکی ہے اس کے بارے میں متعدد اقوال ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر امت کے لئے جو ایک اجل مقرر فرما دی ہے اس اجل سے پہلے ہلاک نہیں فرمائے گا اور مطلب یہ ہے کہ اگر اجل مقرر نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما دیتا اور مکذبین (جھٹلانے والوں) پر عذاب بھیج دیتا اور یہیں حق اور باطل کا فیصلہ ہوتا یعنی اہل کفر ہلاک ہوجاتے اور اہل ایمان باقی رہ جاتے اور حضرت حسن نے آیت کا مطلب بتاتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سے یہ بات طے فرما دی ہے کہ قیامت کے دن سے پہلے ثواب اور عقاب کا فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ یہ فیصلہ قیامت کے دن ہوگا اس لئے دنیا میں ایسا فیصلہ نہیں کیا جاتا کہ ثواب والوں کو یہیں بدلہ مل جائے اور مستحقین عذاب پر یہیں عذاب آجائے ‘ تیسرا قول مفسر کلبی سے نقل کیا گیا ہے جو دل کو نہیں لگا لہٰذا ہم نے اس کا ذکر چھوڑ دیا۔ یہ مضمون سورة بقرہ کی آیت کان النَّاسُ اِلَّا اُمَّۃً وَّاحِدَۃً کے ذیل میں بھی گزر چکا ہے مراجعت کرلی جائے۔ (دیکھو انوار البیان جلد اول)
Ayah 10:20

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ Open ayah 10:20 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے کیوں نہیں نازل کی گئی ' سو آپ فرما دیجئے کہ غیب کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ سو تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔

پھر فرمایا (وَیَقُوْلُوْنَ لَوْ لَا اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ) ( اور وہ کہتے ہیں کہ ان پر کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے کیوں نازل نہ ہوئی) یعنی ہم جو معجزہ دیکھنا چاہتے ہیں اس کا ظہور کیوں نہیں ہوا ؟ چونکہ ایمان لانا نہیں چاہتے تھے۔ اس لئے ایسی باتیں کرتے تھے ‘ طالب حق کے لئے ایک ہی معجزہ کافی ہے۔ معجزے بہت دیکھے لیکن فرمائشی معجزہ چاہتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ کسی کا پابند نہیں ہے جو لوگوں کی مرضی کے مطابق معجزے ظاہر فرمائے ‘ پھر یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ سابقہ امتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ رہا ہے کہ فرمائشی معجزہ ظاہر ہونے پر ایمان نہ لائے تو ہلاک کر دئیے گئے۔ لہٰذا فرمائش کے مطابق معجزہ نہ بھیجنے میں بھی اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے ‘ پھر فرمایا (فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰہِ فَانْتَظِرُوْا اِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ ) (آپ فرما یجئے کہ غیب کا علم صرف اللہ ہی کو ہے سو تم منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں) اللہ ہی کو معلوم ہے کہ تمہاری فرمائش پوری ہوتی ہے یا نہیں ؟ اور بعض مفسرین نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ تم نے موجودہ معجزات کی قدر نہ کی اور ایمان نہ لائے بلکہ عناد اور ضد کی وجہ سے فرمائشی معجزات کے درپے ہوگئے۔ تمہارا یہ کفر اور عناد نزول عذاب کا باعث ہے غیب کا علم اللہ ہی کو ہے میں نہیں کہہ سکتا کہ تم پر کب عذاب آجائے لہٰذا تم بھی انتظار کروں میں بھی انتظار کرتا ہوں۔
Ayah 10:21

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ Open ayah 10:21 in the Quran reader

اور لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد جب ہم انہیں اپنی رحمت چکھا دیں تو اچانک ہماری آیتوں کے بارے میں مکر کرنے لگتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ بلاشبہ اللہ مکر کی سزا جلد ہی دینے والا ہے ' بلاشبہ ہمارے فرشتے تمہارے مکر کے کاموں کو لکھ لیتے ہیں '

صاحب روح المعانی (ص 93 ج 11) لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ پر سات سال تک قحط بھیج دیا تھا ‘ قریب تھا کہ اس کی وجہ سے ہلاک ہوجائیں ‘ انہیں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ آپ خوشحالی کے لئے دعا فرمائیں اگر یہ قحط کی مصیبت دور ہوجائے اور ہمیں خوشحالی مل جائے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ آپ نے دعا کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالی اور اہل مکہ پر رحم فرمایا تو ایمان لانے کی بجائے وہی پرانا ڈھنگ اختیار کرلیا اور اللہ کی آیات میں طعن کرنے لگے اور رسول اللہ ﷺ سے وہی معاندانہ سلوک کرنے لگے جو پہلے کرتے تھے اور ایسی شرارتیں اور حیلہ بازیاں کرنے لگے جن کو انہوں نے قرآن پر ایمان نہ لانے کا بہانہ بنا لیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو فوراً ہی وہ ہماری آیات کے بارے میں مکر کرنے لگتے ہیں۔ یعنی آیات کو نہ ماننے کے بہانے تراش لیتے ہیں اور طعن وتشنیع سے پیش آتے ہیں قُلِ اللّٰہُ اَسْرَعُ مَکْرًا آپ فرما دیجئے کہ مکر کی سزا اللہ تعالیٰ جلد ہی دینے والا ہے ‘ جب شرارت و بغاوت پر اتر آئیں تو اطمینان سے نہ بیٹھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جلد ہی اس کا بدلہ مل جائے گا۔ (اِنَّ رُسُلَنَا یَکْتُبُوْنَ مَا تَمْکُرُوْنَ ) (بےشک ہمارے فرشتے لکھ لیتے ہیں جو تم حیلہ سازیاں کرتے ہو) اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتے ہوئے تمہاری حرکتیں اور شرارتیں اور حیلہ سازیاں دفتروں میں بھی محفوظ ہیں ‘ آیت کریمہ کا سبب نزول خواہ وہی ہو جو صاحب روح نے لکھا ہے لیکن قرآن کریم میں انسانوں کا ایک عام طریقہ کار بیان فرما دیا کہ جب انسان کو دکھ تکلیف کے بعد کوئی نعمت مل جاتی ہے تو وہ اللہ کی آیات کو جھٹلانے لگتا ہے اور حیلہ سازی اور کٹ حجتی پر اتر آتا ہے وہ یہ نہیں سمجھتا کہ پھر بھی مجھے تکلیف پہنچ سکتی ہے ‘ بعض مرتبہ دنیا ہی میں مصیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے اور موت بھی تو جلدی ہی آنی ہے ہر کافر کا موت کے وقت سے ہی عذاب شروع ہوجاتا ہے پھر آخرت میں پیشی ہوگی ‘ اعمال نامے سامنے آئیں گے جن میں فرشتوں نے ان لوگوں کی کجروی اور حیلہ سازی کو لکھ لیا تھا ‘ یہ اعمال نامے ان پر حجت ہوں گے اور دوزخ میں دائمی آگ میں جلنے کی سزا پائیں گے۔
Ayah 10:22

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جو تمہیں سمندر اور خشکی میں چلاتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتی میں موجود ہو اور وہ کشتی اچھی ہوا کے ساتھ چلنے لگے اور جو لوگ اس میں سوار ہوں وہ اس پر خوش ہوجائیں تو اس کشتی پر ایک سخت ہوا آجائے اور ہر جگہ سے ان پر موجیں آنے لگیں اور وہ یقین کرلیں کہ انہیں گھیر لیا گیا ہے تو اللہ کو پکارنے لگتے ہیں اس کیلئے خالص اعتقاد کر کے ' اگر تو نے ہمیں اس سے نجات دے دی تو ہم ضرور ضرور شکر گزاروں میں سے ہوں گے '

اس کے بعد اللہ جل شانہ ‘ نے اپنے بہت بڑے انعام کا تذکرہ فرمایا (ھُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُکُمْ فِی الْبَّرِ وَالْبَحْرِ ) (الایۃ) (اللہ تعالیٰ تمہیں خشکی میں اور سمندر میں چلاتا ہے) خشکی میں تو پاؤں سے اور جانوروں پر اور دوسری سواریوں پر سوار ہو کر چلتے پھرتے ہیں۔ دور دراز کا سفر کر کے اپنی حاجت کی چیزیں فراہم کرتے ہیں اور سمندر کا سفر چھوٹی بڑی کشتیوں میں کرتے ہیں یہ کشتیاں بھی انسان کی حاجت پوری کرنے کا ذریعہ ہیں اس کنارہ سے اس کنارہ اس شہر سے دوسرے شہر ‘ اور اس براعظم سے دوسرے براعظم تک پانی کے جہاز آتے جاتے ہیں اور انسان کی ضروریات فراہم کرتے ہیں۔ زمانہ نزول قرآن میں باد بانی کشتیاں ہوتی تھیں۔ ہوا موافق ہوئی تو کشتیاں چلنے لگیں۔ ہوا بند ہوگئی تو کھڑی ہوگئیں (فَیَظْلَلْنَ رَوَاکِدَ عَلٰی ظَھْرِہٖ ) ہوا موافق ہے اور نرم ہے خوشگوار ہے تو خوش ہو رہے ہیں اور اگر تیز ہوا چلنے لگی اور ہر طرف سے موجیں اٹھ اٹھ کر آنے لگیں تو میاں ڈرنے لگے اور یقین کرلیا کہ اب تو گھیرے میں آگئے اس وقت سوچتے ہیں کہ جان کیسے بچے ؟ ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی پر نظر نہیں جاتی جو اس مصیبت سے بچائے اور بھنور کو ہٹائے ‘ لہٰذا اللہ کے حضور میں خالص اعتقاد کے ساتھ دعا کرنے لگتے ہیں کہ اے اللہ اگر آپ نے ہمیں اس مصیبت سے نجات دے دی تو ضرور ضرور آپ کے شکر گزار بندوں میں ہوں گے۔ جب اللہ تعالیٰ مصیبت سے بچا دیتا ہے تو پھر وہی اللہ کی زمین میں بغاوت ‘ شرارت اور سرکشی کرنے لگتے ہیں جس کا انہیں کوئی حق نہیں۔ اول تو خالق ومالک کی بغاوت ہی ناحق ہے پھر اوپر سے وعدہ کر کے بھول بھلیاں کردینا اور شکر کے بجائے کفر ان نعمت میں لگ جانا اور توحید کی بجائے شرک کو اپنا لینا یہ سب بغاوت در بغاوت ہے اور کفر ہی کفر ہے۔